RSS

جیو یا جیتا جاگتا پاکستان!۔

25 جولائی

جیو گروپ ۔ آج یہ گروپ جو کچھ ہے۔ پاکستان کی بدولت ہے۔ اس نیٹ ورک اور اسکی ترقی پاکستان کی دین ہے۔ ایک کاروباری گروپ۔ جو کسی بھی قیمت پہ اپنی منڈی بڑھانا چاہتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ انہوں اور انکے بڑوں نے ہمیشہ صحافت کا بازو مروڑتے ہوئے اور زرد صحافت کرتے ہوئے۔ پاکستانی جائز ناجائز حکومتوں کی مدح سرائی اور کاسہ لیسی کرتے ہوئے سرکاری اشتہارات کے نام پہ زر کثیر اور سرمایہ کمایا ہے۔ اور انہی پالیسیوں سے یہ لوگ تین اورق کے اخبارات سے پاکستان اور خطے کے اتنے بڑے نیٹ ورک کے مالک بن گئے ہیں۔ اس ملک میں ابھی لاکھوں افراد اس بات کی گواہی دیں گے ۔ کہ اس گروپ نے صحافت کے نام پہ صحافت کو بیچا۔ اور اس میڈیا گروپ کو قائم کرے سے پہلے تک یہ لوگ ہمیشہ حکومت وقت کے مدح سرا رہے ہیں۔ اور ہر دور کی حکومت کی مدح سرائی کی ہے۔

اخبارات سے ٹی وی چینلز اور اب میڈیا کے ایک اور منفعت بخش میڈیم اور عوامی رائے بنانے کے ذریعے یعنی فلم بندی کے ذریعے پاکستانی فلم بینوں کو اپنی فلمز بنا کر سرمایہ کمانا اور معاشرے کی رائے عامہ تیار کرنے میں رسوخ حاصل کرنا ہے۔

اپنے کاروباری مفادات سے بڑھ کر پاکستان سے دلچسپی انھیں نہ تب تھی اور نہ اب ہے۔ اپنی مارکیٹ بڑھانے اور اپنی پراڈکٹس وسیع پیمانے پہ بیچنے کے لئیے۔ یہ گروپ چند سالوں سے بھارتی مارکیٹ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دہائیوں قبل جب انھوں نے دیگر پاکستانی اخبارات کے مقابلے پہ اپنے اخبارات کی سرکولیشن پاکستان کے اندر بڑھانا چاہی تھی اور ہر دور کی حکومتوں سے اشتہارات کے نام پہ زر خطیر اور مراعات حاصل کرنے کی خاطر ۔ تب اس گروپ کے اخبارات نے وطن پرستی اور حکومتوں کی کاسہ لیسی کو ایک پالیسی کے تحت معیار بنائے رکھا۔ مگر اب جبکہ ٹی وی چینلز جو سرحدوں کی ہر بندش سے آر پار صوتی و بصری لہروں کی صورت گزر جاتے ہیں۔ سیٹلائٹس کے ذریعیے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اور کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑتی۔ اس گروپ کو اب پاکستان کی مارکیٹ چھوٹی نظر آتی ہے۔ اور محض اپنے کاروبار ۔۔ کاروبار جس میں انکے مطمع نظر کے سامنے پاکستان کے مفادات سے وفاداری کبھی بھی مقصود نظر نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ اس کاروبار کو وسیع اور اپنی مارکیٹ پرادکٹس کو بھارت میں بیچنے کے لئیے "امن کی آشا” جیسے بے ہودہ طریقے کا خیال سوجھا ہے۔

کیونکہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملات خراب ہوتے ہیں۔ تو یہ گروپ اپنے پراڈکٹس بھارتی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرواپائے گا۔ اور اخلاقی طور پہ ہر وہ جواز کھو دے گا۔ جس سے یہ بھارتی مارکیٹ میں تجارت کر سکے۔ اور ایسی صورت میں پاکستانی کزیومرز بھی اس گروپ پہ دو لفظ بیھج دیں گے۔ بھارتی ناظر جو پاکستان اور عام پاکستانی سے حد درجہ بغض رکھتا ہے۔ اور انتہائی تنگ نظر ہے ۔ وہ اس گروپ کا نام لینا بھی گواراہ نہیں کرے گا ۔ایسے میں اس گروپ نے اس صورت کا بہترین حل جو سوچا ہے ۔۔ وہ ہے "امن کی آشا” خواہ اس کی قیمت یکطرفہ طور پہ پاکستان اور پاکستانی موقف کو قربان کر کے چکائی جائے۔ لیکن اس گروپ کے بڑوں کو شاید یہ علم نہیں کہ انہیں پھر بھی بھارتی مارکیٹ میں پزیرائی نہیں ملے گی کیونکہ بھارتی میڈیا اور عوام۔ مسلمانوں اور خاصکر پاکستان سے انتہائی درجے کا بغض رکھتے ہیں۔ جس سے اس گروپ کو نہ خدا ہی ملے گا نہ وصال صنم کے مصداق ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

مگر آنے بہانے۔ نام نہاد روشن خیالی، بھارتی فلم انڈسٹری کی بے ہودہ خبروں اور گانوں کو اسقدر پرکشش انداز میں صرف چمکنے والی بے ہودگی کو پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرکے پاکستانی عوام کو دہوکہ دینے۔ اور "امن کی آشا” کے نام پہ پاکستانی عوام کی خواہشات کے برعکس، بھارتی برتری کا ڈول ڈالنے سے۔ جو نقصانات "پاکستان” نامی کاز کو اس گروپ نے پہنچائے ہیں۔ ان نقصانات کا مداواہ کون کرے گا؟ جہاں تک امریکی آشیرباد سے دن گزارنے والے حکمرانوں کی بصیرت کا ذکر ہے کہ وہ قانون سازی یا پہلے سے موجودہ قوانین سے۔ ایسے شتر بے مہار قسم کے میڈیا کو جو اپنے مفاد کو ریاست پاکستان کے مفاد پہ ترجیج دیتا ہے ۔ وہ حکمران ایسے میڈیا اور مذکورہ گروپ کو لگام دینے کی کوشش کریں گے؟۔ ایسا سوچنا اپنے آپ کو دہوکہ دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اپنے غیر اخلاقی اقدامات کو جائز ثابت کرنے والے حکمران ایسی کسی اخلاقی جرائت سے سرے سے محروم ہیں۔ اور ایسا میڈیا ، یہ گروپ اور حکمران اس معاملے میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

یہ بات واضع ہے کہ جیو گروپ نے اپنی کاروباری ترجیجات پہ پاکستانی ترجیجات کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ ہم الزام تراشی نہیں کرتے مگر ایک خبر یہ بھی گردش میں ہے۔ کہ امریکہ ملینز ڈالر پاکستانی کے ان اداروں اور صحافیوں کو رشوت دے رہا ہے۔ جو پاکستانی رائے عامہ پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور پاکستانی موقف پہ ڈٹے رہنے کی بجائے اور امریکی مفادات کے حق میں پاکستانی رائے عامہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہماری بد قسمتی ہے۔ حکومت پہ وہ لوگ قابض ہیں۔ جو جہمور کی ۔ عوام کی جائز خواہشات کو سمجھنے اور پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ فوج جو اپنے عوام کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ جسے پاکستان کے اتحادی امریکہ کی افواج نے ایبٹ آباد حملے میں ملکی سالمیت اور سرحدوں کو روندتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ انہیں پاکستان یا پاکستانی افواج کی نہیں بلکہ صرف اپنے مفادات کی فکر ہے۔ خواہ اسکے لئیے پاکستان کی سالمیت، پاکستان کی سرحدوں کا تقدس اور ریاست پاکستان کے وقار کو ہی کیوں نہ روندنا پڑے۔ مگر بدستور افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس ننگ انسانیت نام نہاد جنگ میں اپنے آپ کو جھونک رہی ہے۔ جس سے پاکستانی فوج کے اہلکار اور عوام کی زندگیاں داؤ پہ لگ گئی ہیں۔۔ اسکے باوجود امریکی ڈراون طیارے جنہیں مار گرانا ہماری فوج کےلئیے کچھ خا ص مشکل نہیں ۔اس سے نہ صرف پاکستانی سر زمین کو آئے روز بے آبرو کیا جاتا ہے۔ بلکہ پاکستانی شہری اس میں شہید کئیے جاتے ہیں۔ اور فوج اور حکومت اسے پاکستانی سر زمین کی آبرو فاختگی تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اور میڈیا اور اسکا سب سے طاقتور گروپ ۔ جمہور یعنی عوام کی خواہشات اور رہن سہن اور اسلامی روایات کے بر عکس ہندؤ کلچر کو ہم پہ تھوپنے کی بھونڈی کوشش کرنے کی متواتر کاروائی جاری کئیے ہوئے ہے۔ اور عوام ہیں کہ کسی نشئی کی طرح بوٹی پیئے مدھوش ہیں۔ ہر تھپڑ پہ چہرے کا دوسرا رخ مزید تھپڑ کھانے کے لئیے سامنے کردیتے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے اسقدر پر امن اور مسکین عوام کو مغربی میڈیا دنیا میں کیسے "دہشت گرد” مشہور کئیے ہوئے ہے؟۔

حکومت ۔ فوج، میڈیا، ان سب شتر بے مہاروں کو صرف دیانتدار قیادت سے قابو کیا جاسکتا ہے۔

آئیں ملکر دعا کریں۔ کہ اس "اوتر نکھتر” یعنی بانجھ قوم میں اللہ اپنے ایسے نیک بندے پیدا کرے۔ مسکین عوام کو انھیں درہافت کرنے کی بصیرت عطا کرے ۔ جو اس قوم کو منجدھاروں سے نکال کر پار لگا دیں اور قوم کی آنکھیں عقل و علم، فہم و ادراک۔ ہمت و محنت کے عمل سے وا کر دیں۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

18 responses to “جیو یا جیتا جاگتا پاکستان!۔

  1. بنیاد پرست

    جولائی 25, 2011 at 14:58

    آپ نے صحیح فرمایا یہ جنگ اور جیو گروپ حقیقت میں ایک مافیا ہے۔ آپ نے جو باتیں لکھیں اور مزید جو انکے بارے شواہد موجود ہین، ان کے علاوہ علاوہ جیو کے لوگو میں بنی دجال کی آنکھ سے مجھے تو یہ بات یقینی لگتی ہے کہ یہ فری میسن ہیں۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 13:04

      محترم بھائی! بنیاد پرست صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      بعض اوقات کچھ لوگوں کی حماقتیں اور خود غرضی ایک ایسا تسلسل اور آہنگ پیش کرتی ہیں جسکے تناظر میں فری میسن جیسی تنظیموں کا انتہائی منظم ڈھانچہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یعنی بہتی گننگا میں ہاتھ دھونے سے لیکر اشنان کرنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مواقع کی چکا چوند کے سامنے باقی ہر اخلاقی ضابطے کو رد کردیتے ہیں۔

       
  2. جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    جولائی 25, 2011 at 15:47

    خدا کرے کے آپکی دعا قبول ہو ۔ ساتھ میں ایسی دعا کے قبول نہ ہونے کی بھی امید ہے ۔
    ایک بات تو یہ کہ گزرے ہوئے نیک انسانوں سے ذیادہ نیک انسان نہ بھیج سکنے والے دیوتا نے گزرے ہوئے برے انسانوں سے مزید برے انسان ہی اس دنیا میں بھیجنے ہیں ۔
    دوسری بات یہ کہ ٹھگوں نے کسی ٹھگ کو ہی گزرے ہوئے نیک انسانوں سے زرا کم نیک انسان مشہور کرکے اپنی ٹھگی کا تسلسل قائم رکھنا ہوتا ہے ۔
    ایسے دیوتا اور اسکے پیدا کیئے ہوئے ٹھگوں سے ایسی امید رکھنا ہے تو عجیب سی بات ۔ پر کیا کریں ہو سکتا ہے کے ہمارا قیاس ہی غلط ہو ۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 13:27

      محترم! بھائی صاحب!!

      آئین مل کر دعا کریں کہ بونوں کو اپنے پورے قد کا احساس ہوجائے اور وہ پورے قد سے اٹھیں اور ٹھگوں کو انکی اوقات و حدود میں کردیں۔ جسمیں وہ ہر قسم کی ہیرا پھیری سے ہمیشہ کے لئیے باز آجائیں اور اگر نہ باز ائیں تو قانون اپنے پورے وزن سے انکی گوشمالی کرسکے۔

      تاریخ یہ بات بتاتی ہے کہ ہم سے بھی گئی گزری بہت سی قومیں جب سنبھل گئیں تو دنیا میں باوقار قوموں میں شامل ہوگئیں۔ جب کہ پاکستان کے حالات اس نہج تک نہیں بگڑے کہ درست نہ ہو سکیں۔۔

       
  3. Dr Jawwad Khan

    جولائی 25, 2011 at 16:00

    بہت عمدہ تحریر ہے …ضرورت اس وقت اس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بلاگرز اس دجالی میڈیا کو ایکسپوز کریں.
    جزاک الله

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 13:34

      محترم! بھائی!! ڈاکٹر جواد خان صاحب!!!

      تحریر کی تعریف کرنے پہ آپکا شکریہ۔ امید ہے کہ بلاگرز اور پاکستان میں دیگر مکاتب زندگی سے تعلق رکھنے والے باقی لوگ جوں جوں اپنے ارد گرد اور پاکستان میں میڈیا کے کردار پہ غور کریں گے تو انکے اعتراضات اور مثبت تنقید سے میڈیا بھی بے لگام ہونے سے احتراز کرے گا۔ میری ذاتی رائے میں۔ پاکستان میں مختلف مکاتب زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ میڈیا کو اسکی حدود میں رکھنے کے لئیے۔ میڈیا کی اندھی طاقت کے سامنے اس سے چھیڑ چھاڑ سے ڈرتے ہیں مگر جوں جوں شعور عام ہوگا لوگوں میں اخلاقی جرائت بھی خود سے پیدا ہوجائے گی کہ وہ ایسے میڈیا کو مجبور کر دیں کے کہ وہ ملک وقوم کے مفاد کے خلاف ہر قسم کے اقدام سے باز رہے۔

       
  4. عمران اقبال

    جولائی 25, 2011 at 20:44

    "عوام ہیں کہ کسی نشئی کی طرح بوٹی پیئے مدھوش ہیں۔ ہر تھپڑ پہ چہرے کا دوسرا رخ مزید تھپڑ کھانے کے لئیے سامنے کردیتے ہیں۔ ”

    جاوید بھائی اسے ہی تو بےغیرتی کہا جاتا ہے۔۔۔ ہماری قوم کو ایک سازش کے تحت تھپک تھپک کر سلایا جا رہا ہے۔۔۔ بڑے بڑے سانحات گزر گئے لیکن ہماری قوم کو کوئی ہوش نہیں آ رہی۔۔۔۔ ہم یا تو عادی ہو گئے ہیں اور یا واقعی حد درجے کے بےغیرت۔۔۔

    جیو نیوز اور اسی طرح کے کچھ اور پرائیویٹ چینل پاکستانی ثقافت کے نام پر عریانی، لچر پن اور بے شرمی کو بڑھاوا دیں رہیں۔۔۔ اور عوام اب ان کو دیکھ کار محظوظ ہوتی ہے۔۔۔ اس کی تازہ مثال کچھ دن پہلے فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں اعصام الحق کی منگنی کے کچھ مناظر تھے۔۔۔ بلکہ آپ نے تو اس پر تبصرے بھی کیے تھے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں پاکستان میں، چلیں پاکستان کو تو بھول ہی جائیں، کیا مسلمانوں میں منگنیاں ایسی ہوتی ہیں؟؟؟

    اب عوام کا مائنڈ سیٹ اور لائف سٹائل بدلنے کا زمہ دار یہی چینل ہی تو ہیں۔۔۔ جو بیرونی عناصر کی پے رول پر ہیں۔۔۔ اور یا پھر اپنا کاروبار چلانے کے چکر میں کسی حد تک بھی گرنے کو برا نہیں سمجھتے۔۔۔

    اللہ ہی ہمارا حافظ۔۔۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 13:59

      عمران بھائی!

      آپ نے فیس بک پہ جس ویڈیو کی بات کی ہے۔ تو اس بارے پھر سے عرض ہے کہ جب ملک و قوم کے حقیقی ہیروز کو پس منظر میں دھکیل دیا جائے تو انکی جگہ جعلی ہیروز لے لیتے ہیں۔ اور ثقافت کا معاملہ بھی یہ ہی ہے۔ کہ جب اپنی ثقافت کا گلا گھونٹ دیا جائے تو ڈسکو ڈانس کلچر اسکی جگہ لے گا یا بھارتی تہذیب کی یلغار ۔۔ اسلئیے ملک و قوم میں پائے جانے والے حقیقی ہیروز اور اپنے کلچر کو رواج دیا جائے۔

      آپکے مندرہ بالا تبصرے میں ملک کی صورتحال کے بارے میں قومی دردر چھلکتا ہے۔ مگر میری ذاتی رائے میں عوام کے ساتھ ۔ تواتر سے اسقدر سنگین مذاق کئے گئے ہیں۔ کہ اب وہ کسی مسحیا پہ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ پے در پے عوامی تحریکوں۔ انکی قربانیوں۔ اور شہادتوں کا فائدہ صرف ٹھگ قسم کے سیاہ ست دانوں اور مفاد پرست طبقے کو ہوا ہے جو پہلے ہی سے نوازے گئے لوگ ہوتے ہیں اور پاکستان کے کرپٹ نظام میں مزید اثر رسوخ کے مالک ہوجاتے ہیں جبکہ غریب عوام ان تحریکوں کی وجہ سے اس دوران اور بعد میں مزید غریب اور کمزور ہوتے گئے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پاکستان کی اسی فیصد آبادی جو انتہائی غریب ہے ۔ یہ غریب لوگ ہی پاکستان کی اکثریت اور عوام یعنی عام آدمی ہیں۔ اور عوام اسقدر مشق کے بعد اور اسقدر مشقتیں جھیلنے کے بعد اب اس نتیجے پہ پہنچ چکے ہیں ۔ پاکستان کے نجات دہندوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اور یہ فیصلہ کئیے بیٹھے کہ کہ نہ تو انکی تقدیر بدلنے والی ہے اور نہ انکی تقدیر بدلنے کئ لئیے کوئی مسیحا آئے گا۔ اور یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ ایسے میں قومیں تاریخ کے قبرستان میں اپنا نام و نشان گم کر دیتی ہیں۔ اور خدانخواستہ پاکستان اور قوم کے ساتھ یوں ہو۔ باقی بیس فیصد آبادی میں سے چند فیصد وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے تمام وسائل پہ بلا شرکت عوام قابض ہیں۔ اور یہی لوگ ہیر پھیر سے میڈیا اور پاکستان کے ہر فورم پہ جگہ پاتے ہیں۔ جس سے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ شاید پورا پاکستان ہی ننگا اور عریاں ہے اور فحاشی کا دلدادہ جب کہ میری رائے میں یوں نہیں ہے۔

      اسلئیے اب گیند۔ سیاستدانوں، حکمرانوں اور پاکستان کے بارسوخ طبقے کی کورٹ میں ہے۔ کہ وہ کیسے عوام کو جینے کے لئیے نئی امنگ پیدا کرتے ہیں اور انکی خواہشات پہ اترتے ہیں۔

       
  5. Wafa Anjum

    جولائی 25, 2011 at 23:52

    Javed Gondal g yahan tabsara krne main problem ho re hi

     
  6. khalidhameed

    جولائی 26, 2011 at 07:46

    محترم ۔۔۔ ایک اور بات۔۔۔
    آج کل کپڑوں کی نمائش کی آڑ میں جو فحاشی پھیلائی جارہی ہے۔۔ اس کے پیچھے بھی ان ہی جیسے کرتا دھرتا ہیں۔
    سڑک کنارے لگنے والی بڑے بڑے بورڈز اور سڑک کے بیچ میں ہر کھمبے پر لگا ہوا اشتہار ۔۔۔۔۔ بالکل واہیات قسم کے ہوتے ہیں۔۔
    آہستہ آہستہ یہ روشن خیالی نام کا زہر کپڑوں کے نئے فیشن کے طور پر ہمارے معاشرے میں اتارا جارہا ہے۔
    اللہ ہم سب کو بچائے۔۔۔ اور دیانتدار قیادت عطا فرمائے۔۔۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 14:18

      آمین

      محترم! خالد حمید صاحب!

      آپکی بات درست ہے۔ اسکے علاوہ بھی کئی ایک طریقوں سے پاکستان پہ ایسی قوتوں نے یلغار کر رکھی ہے جو ہم سے سب کچھ چھین لینا چاہتی ہیں۔ ایمان سے لیکر رہن سہن اور جینے کا انداز تک۔ مذکورہ گروپ کے اخبارات پہ فیشن کے نام پہ اسقدر بے ہودہ ۔ لعغو اور واہیات قسم کے ملبوسات میں پیشہ ور ماڈلز کی تصاویر لگائی جاتی ہے ۔ کہ یوروپ امریکہ میں بھی بہت سئ خواتین ایسا لباس زیب تن کرنے سے انکار کر دیں۔ حکومت شتر بے مہار اور کرپٹ ہے ۔ ایسے میں ہر ابن الوقت کی بن آئی ہے۔ جو لوگ اور مذھبی سیاسی جماعتیں ایسے معاملات پہ حکومت پہ دباؤ ڈالتی تھیں انکے خلاف پے در پے سازشون سے انہیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پہ مجبور کر دیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عام آدمی ایسی تنظیموں اور جماعتوں کے ہاتھ مضبوط کریں تانکہ وہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے لئیے اپنے آپ کو توانا محسوس کریں

       
  7. وقاراعظم

    جولائی 26, 2011 at 08:40

    حقائق پر مبنی تحریر ہے، یقینا، جنگ گروپ پاکستانی مفادات کا خیرخواہ نہیں بلکہ حرص و حوص کے پجاری ہیں۔ جو ماضی میں ہر حکومت کے گن گاتے تھے اب آزادی صحافت کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 30, 2011 at 14:32

      وقار بھائی!

      آپکی بات درست ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ عام ادمی اپنے مفاد کی خاطر ہی سہی ان مذھبی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے ہاتھ مظبوط کرے جو ایسی لچر فحاشی کے سامنے دیوار بنے کھڑے ہیں۔ اور اس دور میں انکے خلاف بھونڈی سازشوں کے زریعے انھیں دفاعی پوزیشن پہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے پہلے کہ پاکستان پہ یلغار کرنے والی طاقتیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوں۔ عوام کو کھل کر پاکستان کی مدافعانہ قوتوں جن میں وہ اسلامی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں شامل ہیں جنہوں نے اس بارے پاکستان میں ہمیشہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ عوام انکے ہاتھ مظبوط کریں تانکہ وہ حکومتی و غیر حکومتی اندرونی و خارجی ۔ اپنوں اور اغیار کی سازشوں کے مقابلے پہ اپنے آپ کو عوام کی پشت پناہی سے توانا محسوس کریں۔

       
  8. Ahmed Ali

    اکتوبر 5, 2013 at 16:58

    امن کی آشا ایک تھپڑ ہے ان لوگوں کے منہ پر جو امن کا نعرہ لگا کر بے غیرت ہونے اور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.

     
  9. Ahmed Ali

    اکتوبر 5, 2013 at 16:59

    جیو کا نعرہ ۔۔۔ امن کی آشا۔۔۔جیو تو بے غیرت بن کر جیو

     
  10. Ahmed Ali

    اکتوبر 7, 2013 at 19:58

    امن کی آشا کا قاعدہ پڑھنے والو:اپنی آنکھیں کھولو اور غور سے ہندو بنئے کو پہنچانو اگر آپ کو امن کے دئےے جلانے کا شوق ہے تو قبائلی علاقہ جات میں جاﺅ، بلوچستان میں جاﺅ، روٹھے ہوئے بلوچوں کو مناﺅ،اگر آپ نے امن کے دئےے جلانے ہی ہیں تو پاکستان کی شہ رگ کشمیرمیں جا کر جلاﺅ۔

     
  11. Ahmed Ali

    اکتوبر 9, 2013 at 18:09

    ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ منافقت
    اے دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: