RSS

Tag Archives: ۲۳

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جمہوری مرغی، طوطی اور نقار خانہ۔


جمہوری مرغی، طوطی اور نقار خانہ۔

طوطی کی نقار خانے میں کون سنتا ہے۔ ویسے اس بات کی بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ طوطی کون تھا اور نقار خانے میں کیا کر رہا تھا ۔ کیونکہ یہ نفیس فطرت ، اصول پرست طوطی لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اس چوں چوں کے مربے نقار خانے کا باسی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طوطی رہتا ہی طوطیوں کے دیس میں ہو۔ جیسے طوطی خانہ ہوتا ہے۔ اور کسی دل جلے نے اسے "نقار خانہ ” کا نام دے دیا ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے یا یوں ہوا کہ طوطی نے نقار خانے میں جا گھونسلا بنایا ہو ۔اور اہل نقار خانہ کو اپنی سی سنانے پہ بضد ہواہو۔ ویسے طوطی کے اطوار نیک ۔ بال و پر اور پوشاک عمدہ اور سب سے بڑھ کر دل پاک اور زبان پاکیزہ تھی ۔واقعہ کچھ بھی رہا ہو مگر ایک دنیا کو یہ خبر ہوگئی کہ طوطی نقار خانے میں "اپنی سی "سناتا پھرتا تھا ۔مگر کوئی اس کی سننے پہ تیار نہ تھا ۔بات یہاں تک رہتی تو شاید طوطی بھی برادشت کر لیتا مگر نقار خانے میں دیگر قسم قسم کے چیل کوؤں اور چرخ چمگاڈروں یعنی اہل نقار خانہ نے طوطی کے وجود کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا ۔اور نہ صرف طوطی کے وجود کو براداشت کرنے سے انکار کر دیا بلکہ طوطی نام کی جنس کے تمام طوطیوں کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا جس پہ طوطی نے مجبور ہو کر اپنے ہم جنسوں کو نقار خانے کے ایک دوسرے حصے استھان میں جا بسنے کا مشورہ دیا اور خود بھی ان کے ساتھ جا بسا۔ طوطیوں کے حصے میں آنے والا استھان گھوڑوں گدھوں کے روایتی اصطبل یا استھان کی طرح نہایت درہم برہم اور بکھرا بسرا تھا ۔ہر طرف سے بے ترتیبی منتشر تھی ۔ اور گندگی کے ڈھیر تھے ۔ طوطیوں نے نیک صفت ۔دیانتدار طوطی کی رہنمائی میں نہائت محنت صبر اور شکر سے استھان یا استان کو رہنے سہنے کے قابل بنا لیا اور گندے استھان کو پاک استان میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی ۔ اب اللہ کی حکمت کہ نیک اطوار ، پاک دل اور پاکیزہ اور یک زبان طوطی اللہ کو پیارا ہوگیا ۔ اور استھان کو باقی طوطیوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ گیا ۔اسکے مرنے کے بعد کسی راہبر قسم کے طوطی کی عدم موجودگی میں طوطی بھی اپنی اپنی بولیوں کو لوٹ آئے ۔
اب طوطیوں کو نت نئی بولی بولنے کے علاوہ کوئی کام نہیں رہ گیا تھا۔بظاہر تو دانشور قسم کے طوطی مگر درحقیقت خبثِ باطن سے کُوٹ کُوٹ بھرے نمائیندوں اور رہنماؤں کے نام پہ ہر روز سر جوڑ کر بیٹھتے کہ استان کا نظام کس طور چلایا جائے ۔جبکہ بگلا بھگت اور بنگلہ بھگت قسم کےطوطی نت نئی بولیاں بولتے ۔اور اپنی بولی کو بزور زعم دوسروں کو سنانے اور انکی بولی پہ مسلط کرنے کی پوری کوشش کرتے۔ ۔ معصوم فطرت طوطی سارا سارا دن دانشور طوطیوں کی طرف منہ اٹھا کر بیٹھے رہتے ۔دن گزر جاتا ۔ رات آجاتی مگر طوطیوں کے بارے کوئی ایسا فیصلہ۔ کوئی ایسا حل سامنے نہ آتا ۔ جس سے بے چارے طوطی اپنے استان کو باقی دنیا کی مانند مستحکم رکھتے اور اس میں کوئی ایسا طریقہ جاری کرسکتے ۔ جس سے طوطیوں کی روز مرہ کی مشکل زندگی بہر طور گزر بسر سکتی۔
طوطیوں کے استان سے کچھ طویلے ۔اصطبلوں ۔ نقار خانوں اور دیگر چمن آرائیوں سے بھی آگے اور دور جو عام طوطیوں کے لئیے اتنی دور تھا کہ اسکا نام یا پتا ٹھکانہ کسی طوطی نے نہیں سنا تھا ۔اور دیکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ایک بہت بڑے جزیرے پہ ایک خوفناک قسم کا اژدھا رہتا تھا۔جس کی عمر سو سال سے کہیں زائد تھی اور اسی بناء پہ وہ کوئی سا روپ اپنانے پہ قادر تھا۔ اور جسکا باطن ہر روپ میں خبث سے بہر طور لبیریز ہوتا ۔ اور اسکی اسی خوبی کی بناء پہ اس پہ شیطان تب سے مہربان تھا ۔ جب وہ اژدھا ابھی چھوٹا سا تھا جب اسکی عمر چند سال ہوگی کہ شیطانی قوتوں نے اسے اپنی گود لے لیا تھا اور جب سوسال سے زائد عمر ہوئی تو روپ بدلنے کی قدرتی خوبی کے ساتھ شیطان نے اسے ہر قسم کی شعبدہ بازی میں تاک کر دیا ۔ اور وہ اژدھا ایسے ایسے شعبدے دکھانے لگا کہ جن پہ اچھے اچھوں کو اصلی ہونے کا دہوکا ہوجاتا اور یہ دہوکہ تاحیات رہتا۔ جبکہ شعبدے صرف اور صرف دہوکہ ہوتے اور جن کی حقیقت محض فریب نظر کے سوا کچھ نہ ہوتی ۔ وہ اژدھا شعبدوں ۔دہوکے اور دھونس سے اپنے زہر سے آلودہ کرنے کے بعد اپنے زیر اثر دوسری چمن شاہیوں اور نقار خانوں کے ساتھ اتحاد کرلیتا ۔اور انہیں اپنا اتحادی بنا لیتا۔ اور جو چرند پرند ۔ یا چمن آرائیاں اور نقار خانے یا استان اسکے شعبدوں کو سمجھ جاتے اور اس کے دھوکے میں نہ آتے ۔ انھیں اپنے اتحادیوں اور شیطانی قوتوں کے بل بوتے پہ نہس تہس کردیتا۔ اور ایسا کئیے بغیر اسکا اپنا وجود خطرے میں پڑ جانے کا خطرہ تھا ۔کیونکہ شیطان کے ہاتھ بعیت ہوتے وقت شیطان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب تک وہ دہوکے باز اژدھا دوسروں کو دہوکے دھونس سے زیر کر کے شیطانی ٹولے میں شامل کرتا رہے گا تب تک اژدھا اور اسکے جزیرے پہ اسکی شاہی قائم رہے گی اور باقی چمن آرئیوں ، نقار خانوں۔ طویلوں۔ اصطبلوں اور استھانوں پہ بھی اسکا دبدبہ قائم رہے گا۔
ادہر معصوم فطرت طوطیوں کے استان میں بنگلہ بھگت اور بگلا بھگت قسم کے رہنمائی کے دعویدار طوطیوں میں سے ایک بگلا بھگت طوطی۔ جو دیگر رہنماء اور دانشور قسم کے طوطیوں سے دوچار ہاتھ زیادہ چالاک چتر تھا ۔کو کسی طور اس خوفناک اور نہائت طاقتور اژدھے کی بھنک پڑی اور اس بگلہ بھگت نے اپنی بولی اور ٹیں ٹیں کو سب کو سنانے اور دیگر طوطیوں کی بولتی بند کرنے کے لئیے ۔ اژدھے کے پاس جانے اور امداد طلب کرنے کا ارداہِ خبث کیا۔ اژدھے کی تو باچھیں کھل گئیں اور رال معصوم طوطیوں کے نئے نئے استان پہ ٹپکنے لگی۔ بگلا بھگت طوطی اور اژدھا اور اژدھے کی شیطانی منڈلی سر جوڑ کر بیٹھے کہ کس طرح معصوم طوطیوں کو اپنے فریب اور شعبدوں کے زیر اثر کیا جائے۔ کیونکہ اگر اژدھا اپنی اصلی اور مکروہ شکل میں طوطیوں کے استان وارد ہوتا تو لازم تھا کہ طوطی لاکھ معصوم سہی مگر اپنے استان کی خاطر مرنے مارنے پہ اتر آتے ۔ اور اژدھے کی طوطیوں کو ایک ہی نوالے میں تر کرنے کی دال نہ گلتی۔ ایسے میں بگلہ بھگت طوطی نے ایک تجویز اژدھے اور اس کی منڈلی کو بتائی اور اژدھے سے گزارش کی کہ
"مائی باپ آپ کو تو ہر روپ بدلنے پہ قدرت ہے۔ طوطیوں کو اپنے ہمسائے میں نقار خانے کی چیل کوؤں سے سے ہمیشہ دھمکیاں وغیرہ ملتی رہتی ہیں اور بے سروسامان طوطی بے چارے سہم کر رہ جاتے ہیں ۔ ایسے میں آپ اژدھے کی بجائے ایک جسیم اور طوطیوں کے ہمدرد بلے کی صورت ہمارے استان آئیں اور بے وقوف سادہ دل طوطیوں کو انکے ہمسائے نقارخانے کی چیل کؤؤں کے مقابلے پہ اپنی ہیبت اور طاقت طوطیوں کے پلڑے میں ڈالنے کا تاثر دیں۔ اور اگر ہوسکے تو کچھ سامان حرب بھی بے سروسامان طوطیوں کے لئیے لائیں۔اور کچھ سامان ِ عیش نشاط خرانٹ قسم کے رہنما دانشور طوطیوں کے لئیے ساتھ لے آئیں ۔ اور میرے لئیے بس اور کچھ ہو یا نہ ہو آپ کا میرے لئیے اس بندوبست کا اہتمام اور سامان ہی کافی ہوگا کہ مجھے میری بولی ۔ بنگلہ بھگت طوطیوں اور دیگر بولیاں بولنے والے طوطیوں کو سنانے اور انکی بولتی بند کرنے کا کلی اختیار ہوگا۔ ”
بگلہ بھگت کی یہ تجویز سن کر اژدھے کی پہلے سے کھلی باچھیں اور کھل اٹھیں۔ (یہ الگ بات ہے کہ طوطیوں کے استان پہ اپنا شیطانی اثر رسوخ جمانے کے بعد بگلہ بھگت طوطی کچھ سال دو سال بعد اژدھے کے ایک ہی نوالے میں پہلاشکار ہوگیا۔ اور استان کے ہمسائے نقار خانے کی چیل کوؤں نے اژدھے کی مکاری سے شہ پاتے ہوئے بنگلہ بھگت طوطیوں کا گھونٹ ایک ہی بار بھرتے ہوئے آدھے استان پہ قبضہ جما لیا) ۔آناََ فاناََ بگلا بھگت طوطی کی تجویز پہ عمل کیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن طوطیوں کا بے ضرر وجود ہے اور دہوکے باز اژدھے کا منہ جس کے ذریعئے معصوم طوطی اپنا وجود برقرار رکھنے کی خاطر جدو جہد میں ظالم اژدھے کی شیطان ہوس کا شکار ہورہے ہیں۔
اژدھے نے نہائت شاطر طریقے سے محافظ بلے کا روپ دھارا اور طوطیوں کو زندہ رہنے کے نت نئے گُر سکھانے کے نام پہ شیطانی مطالبات کے لئیے راہ ہموار کرنے لگا ۔ خرانٹ اور رہنماء قسم کے تقریبا ََ سبھی طوطی پہلے ہی ہلے میں اژدھے کے سامان عیش عشرت اور کام و دہن کے ساتھ ساتھ دیگر طوطیوں پہ ظلم و ستم روا رکھنے کے اختیار پہ اژدھے اور اسکی شیطانی قوتوں کے اسیر ہوگئے۔ چند ایک ہی رہنماء قسم کے طوطی اژدھے کے شعبدوں کا شکار نہیں ہوئے ہونگے ۔ جن کے بارے بھی وسوخ سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں بھی ان طوطیوں کی نیت کا اثر ہے یا اژدھے کی کوئی چال ہے ۔جبکہ طوطیوں کی اصل طاقت جو معصوم اور لاتعداد اور انگنت طوطیوں کی صورت میں تھی۔ اسے قابو کرنے کے لئیے اژدھے نے جو طوطیوں کے ہمدرد اور دوست بلے کا روپ دھارے ہوئے تھا۔ اس مکار بلے نے اپنی شیطانی رسوخ سے طوطیوں کے وجود سے ایسے ایسے اصیل مرغے کشید کئیے۔ جو در حقیقت اژدھے کے تخم کی وجہ سے اس کی نسل کے مطابق خود چھوٹے موٹے سانپ تھے۔ مگر اصیل مرغوں کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ اور انکا روپ و رنگت طوطیوں سے مشابہ تھی ۔جنھیں رہنماء اور حقیقی طوطی سمجھ کر طوطی اپنا سب کچھ ان پہ نچھاور کرتے رہے ۔ اور اپنا پورا اختیار انھیں سونپ دیتے ۔ اور جہاں کہیں طوطی اڑی کرتے ۔ نسلی سنپولئیے جو اصیل مرغوں کی ماند ہر وقت اپنی قلغی پھولائے رہتے اور چھاتی تان کر چلتے۔ وہ آگے بڑھ کر طوطیوں کا اختیار بجائے خود سنبھال لیتے۔ اور طوطیوں کو مار مار کر انکی درگت بنا دیتے۔ جب بلے نے نے دیکھا کہ طوطی اصیل مرغوں کو بھی آنکھیں دکھانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ تو اس نے اختیار کا کام کچھ مرغیوں کو سونپا ۔ مرغیاں جو روپ رنگ میں طوطیوں سے مشہابت رکھتیں تھیں ۔ مگر درحقیت اژدھا زادیاں تھیں ۔ اژدھا جس نے طوطیوں کے دیس میں محافظ بلے کے طور اپنا سر گھسیڑ رکھا تھا اور من پسند طوطیوں کو تر نوالہ بنانے کے ساتھ ساتھ شیطان کی شرطوں کے عین مطابق ہر اس رواج اور رسم کو پروان چڑھا رہا تھا جس سے طوطیوں کے معصوم جسموں میں تن حرامی ، منافقت۔ جھوٹ۔ ہیراپھیری۔ ریاکاری۔ دہوکہ دہی۔ فریب۔ جہالت۔ الغرض ہر شیطانی عادت عام ہو۔اژدھے نے کچھ سال قبل جمہوریت نامی مرغی طوطیوں کے سر منڈھ رکھی ہے ۔جس کے بطن سے اژدھے کے شیطانی انڈے پیدا ہورہے ہیں۔ بھولے طوطی جمہوریت نامی مرغی کو روز ادہر ادہر کر دیکھتے ہیں کہ شاید جمہوری انڈوں کوئی اصلی قسم کا اصلی ۔ نسلی اور حلالی طوطی برآمد ہوا ہو مگر جمہوریت نامی مرغی کے انڈوں سے ایک سے بڑھ کر ایک شاہ ناگ اور راجا ناگ جنم لے رہاہے۔جو شکل صورت میں تو طوطیوں سے ملتے جلتے ہیں ۔ مگر ان کے باطن میں شیطان نے اژدھے کی وساطت سے اپنا تخم داخل کر رکھا ہے۔ اب طوطیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر قسم کی منافقت ۔ جھوٹ ۔ ہیراپھیری ۔ دہوکہ دہی ۔ اور تمام لعنتوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے انکھیں بند کئیے ۔کانوں میں انگلیاں ٹھونسے ۔ سانس روکے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اصیل مرغوں اور جمہوریت نامی مرغی کے گندے انڈوں کے غلیظ چھلکے اور شیطانی تخم سے جنم لینے والے سنپولئیے انکے استان کو غلیظ نہیں کر رہے ۔ یہ انکے استان کی داستان نہیں جیسے شاید کسی دور دیس کا کوئی واقعہ ہو۔
ویسے تو اس نقار خانے یا استان میں سبھی طوطی اپنی اپنی بولی سے وہ شور مچاتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی مگر طوطیوں کو پھر بھی گلہ ہے کہ نقار خانے میں انکی کوئی نہیں سنتا۔طوطی سارا سارا دن دانہ روزی کے لئیے سب لعنتیں برداشت کرتے ہیں ۔ ہر ذلت سہتے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑھ شاہ اور راجا قسم کے سنپولئیوں کو بھگتتےہیں ۔ مگر مجال ہے اپنے پہ ہونے والے ظلم پہ آواز اٹھاتے ہوں ۔ اگر اسمیں بلے کا روپ دھارے اژدھے اور شیطان کا قصور ہے تو ظلم برداشت کرنے اور اس پہ احتجاج نہ کرنے پہ طوطیوں کا قصور اژدھے۔ بلے اور شیطان کے ظلم سے بڑھ کر ہے۔
۔ بے چارے بھولے طوطی!!!

Javed Gondal Barcelona Spain جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔اسپین ۲۳ جون دو ہزار بارہ ۲۰۱۲ء

 
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: