RSS

Tag Archives: یاد

انقلاب کا ڈول اور پاکستان۔


انقلاب کا ڈول اور پاکستان۔


ہیں کواکب کچھ ۔نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ۔ یہ بازی گر کھلا
حکومت چھوڑ دو؟۔
اسملبیاں توڑ دی جائیں؟۔ورنہ ۔
یہ وہ مطالبات تھے جو اسلام آباد پہنچتے ہیں انقلاب کا ڈول ڈالنے والوں نے پہلے دن ہی داغنے شروع کئیے اور ان کی گھن گرج میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
یہ غیر آئینی مطالبات کس کی ایماء پہ ؟ اور کونسی طاقت کے بل بُوتے پہ کئیے جارہے تھے اور کئیے جارہےہیں ؟
وہ کون سی طاقتیں ہیں ۔ جو عمران اور طاہر القادری کو اشارہ دے چکی ہیں ۔ کہ ماحول کچھ اس طرح کا بناؤ ۔۔ کہ ہم کہنے والے ہوں کہ وزیر اعظم نواز شریف استعفی دےدیں۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لئیے علمِ سیاسیات میں ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ نواز حکومت کیوں اس مغالطے میں رہی۔ کہ یہ ایک دودن کا شور شرابہ ہے ۔اور جونہی یہ شو ختم ہوا ۔تو دیکھیں گے ان سے کیا مذاکرات کئیے جاسکتے ہیں؟۔
انبیاء علیة والسلام نے جب لوگوں کو دعوتِ دین دی۔ تو لوگ اس لئیے بھی ان پہ ایمان لے آئے کہ انبیاء علیة والسلام کا ماضی بے داغ ۔ کردار مثالی۔ فطرت میں حق گوئی وبیباکی اور اخلاق اعلیٰ ترین تھا۔ بہت سے لوگ فوراً ان کی نبوت پہ ایمان لے آتے ۔ اور دین میں شامل ہوتے چلےجاتے۔ کیونکہ لوگوں کو علم تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ۔ انکا ماضی بے داغ ہے۔ انکا کردار مثالی ہے ۔ وہ حق گوئی اور بیباکی پہ کوئی مفاہمت نہیں کرتے ۔ اور انکے اخلاق اعلٰی ترین ہیں اور ایسے لوگ (انبیاء علیة والسلام) اگر نبوت کا دعواہ کر رہے ہیں ۔تو یقناً وہ اللہ کے نبی ہونگے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کسی کی زبان پہ یقین کرنے کے لئیے اسکا کردار۔ اس کا ماضی دیکھتا ہے ۔اسکی حق گوئی و بیباکی کو پرکھتا ہے اور اسکے اخلاق کو جانچتا ہے ۔ عام طور پہ فوری یقین لانے کے لئیے ان چند صفات کو بنیاد بنا کر صاحب ِ بیان کی سچائی کو پرکھتا ہے اور اگر صاحب بیاں اس کی کسوٹی پہ اترے تووہ اس پہ یقین کر لیتا ہے کہ جو یہ کہہ رہا ہے وہ درست ہوگا۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شیخ السلام اور کپتان کا ماضی ۔ حق گوئی ۔ کردار اور اخلاق کے بارے کسی کو شائبہ ہے کہ وہ کب کب اور کیوں اپنے بیان بدلتے رہے ۔ اور انہوں نے یوٹرن لئیے ۔ اور کس کس کے سر پہ مغربی طاقتوں کا دستِ شفقت کیوں کررہا۔تو پھر ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ عوام کی ایک بڑی تعداد میں ان شیخ السلام اور ماضی میں اسکینڈلز سے آلودہ سابقہ کرکٹ کپتان پہ آنکھیں بند کر کے۔ یقین کرتے ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد کی طرف رُخ کرتی؟ ۔اور شیخ السلام کے انقلاب پہ یقین رکھتے ہوئے ان کے ہاتھ بعیت کرتی؟ ۔ اور کپتان کی فرما روا آزادی کو اپنا منشاء بناتی؟ جب کہ دونوں کا ماضی عوام کے سامنے ہے ۔ کہ ایک محدود تعداد کو تو کئی سالوں کی محنت سے اپنی حمایت میں کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔مگر لاکھوں کڑووں انسانوں کو یک دم لبیک کہنے پہ آمادہ کرنا فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اور انسانی فطرت ہے کہ وہ ایسے جانے پہچانے لوگوں پہ خُوب سوچ سمجھ کر اعتبار کرتا ہے ۔اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑہاتا ہے ۔ تو پھر انقلاب لانے کا دعواہ کرنے والوں اور انہیں اسکرپٹ تیار کر کے دینے والوں نے۔ اسکرپٹ لکھتے ہوئے یہ اہم نکتہ کیوں نہ ذہن میں رکھا؟۔تو اسکی ایک سادہ سی وضاحت ہے ۔کہ اسکرپٹ رائٹر ز کو معلوم تھا کہ اسکرپٹ میں رنگ بھرنے کے لئے چند ہزار لوگ ھی کافی ہیں ۔ کہ پچیس تیس ہزار لوگ کبھی کسی بھی دو تہائی سے زائد اکثریت رکھنے والی حکومت کے لئیے اس حد تک خطرہ نہیں ہوتے کہ وہ حکومت کو چلتا کردیں ۔لاکھوں کی تعداد کی نسبت پچیس تیس ہزار لوگوں کو رام کرنا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانا بہت آسان ہوتا ہے۔اور یوں حکومت کو بلیک میل کرتے ہوئے پس پردہ اپنے مطالبات منوانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ کہ بہ نسبت لاکھوں کے بے قابو ہجوم کے ذریعئے حکومت گرا کر اپنے مطالبات منوانے کے۔
ان دونوں مارچوں کے اسکرپٹس جس نے بھی لکھے ہیں۔ خُوب سوچ سمجھ کر لکھے ہیں۔ اور نواز شریف کی معاملہ فہمی کو مد نظر رکھ کر لکھے ہیں ۔
اور اس سارے پلان کا اسکرپٹ رائٹر یہ جانتا ہے کہ میاں نواز شریف اپنی معروف ضدی طبعیت کی وجہ ایک ہی جگہ جمیں کھڑے رہیں گے۔ اور انھیں دباؤ میں لانا آسان ہوگا۔کہ سیاست میں جم جا جانا اور ایک ہی جگہ کھڑے ہوجانا ۔ جمود کا دوسرا نام ہے ۔ اور پاکستانی سیاست میں جمود لے ڈوبتا ہے۔اور یہی اسکرپٹ رائٹر نے تاثر دینا چاہا کہ نواز شریف ۔ حکومت اور نون لیگ کے بزرجمہر اسی دھوکے اور تفاخر میں رہیں کہ یہ چند ہزار لوگ ان کا اور انکی دوتہائی اکثریتی حکومت کاکیا بگاڑ لیں گے ۔ اور وہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے اس دہوکے میں آگئے ۔ اور ترپ کے پتوں سے چالیں یوں چلی گئیں کہ شریف بردران ۔ پنجاب حکومت اور نواز شریف حکومت یکے بعد دیگرے اپنی پوزیشنیں چھوڑتی ہوئی۔ پیچھے ہٹتی چلی گئی ۔ اتنی بڑی پارٹی کی دو تہائی اکثریتی حکومت ہوتے ہوئے نہ تو وہ اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کر پائی اور نہ ہی جلد بازی میں ان سے کروائے گئے فیصلوں کے ما بعد نقصانات کو ہی سمجھ پائی ۔
کسی حکومت کی یہ ناکامی تصور کی جاتی ہے ۔ کہ لوگ اس کے خلاف سڑکوں پہ نکل آئیں۔کامیاب حکومت اسے گردانا جاتا ہے جو عوام کو سڑکوں پہ آنے سے پہلے ہی۔ انہیں راضی کرنے کا کوئی جتن کر لے۔ اس وقت پاکستانی عوام کی سب سے اولین مشکلات میں سے چند ایک مشکلات ۔ مہنگائی کا عفریت۔ توانائی کا بحران۔ بے روزگاری یا دوسرے لفظوں میں جسم اور جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لئیے ہر روز جتن کرنا ہے۔ ملک کی آدہی سے زائد آبادی کو محض دو وقت کی روٹی پوری کرنی مشکل ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کو یہ سارے مسائل زرداری حکومت سے وراثت میں ملے ہیں ۔ مگر اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ۔ کہ نون لیگ کے بلند بانگ انتخابی دعوؤں کے برعکس نون لیگ کی حکومت کے ان پندرہ سولہ ماہ میں عوام کی زندگی پہلے سے زیادہ اجیرن ثابت ھوئی ہے۔

جس ملک میں توانائی کا خوفناک بحران ہو ۔ لوگوں کے کاروبار اور روزگار ٹھپ ہوں۔ ملک کے شہری بجلی پانی گیس نہ ہونے کی وجہ سے چڑچڑے ہو رہے ہوں ۔بجلی کی عدم فراہمی پورے خاندان کی نفسیاتی ساخت و پرواخت پہ اثر اندازہو رہی ہو۔ اس ملک میں نون لیگ کے وزیر توانائی۔خواجہ آصف ۔پندرہ ماہ بر سر اقتدار آنے کے بعد۔اپنی قوم کو کسی قسم کا ریلیف دینے کی بجائے گرمی میں جلتے عوام سے یہ کہیں ۔کہ اللہ سے دعا مانگیں کہ بارش ہو اور آپ کی تکالیف میں کچھ کمی ہو۔ تو ایسی گڈ گورنس پہ کون قربان جائے؟ ۔وزیر موصوف سے یہ سوال کیا جانا چاہئیے تھا کہ اگر آپ میں اتنی اہلیت نہیں کہ آپ عوام کو کوئی ریلیف دے سکیں تو کم از کم انکے زخموں پہ نمک تو نہ چھڑکیں۔ اور اگر عوام کی تکالیف میں کمی کا انحصار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے میں ہی ہے۔ تو آپ کس خوشی میں اتنی بڑی وزات کی موجیں لُوٹ رہے ہیں۔ کسی بھی مہذب سیاستدان کی طرح استعفٰی دیں اور گھر کی راہ لیں۔ کہ ممکن ہے جو آپ کے بعد اس وزارت کو سنبھالے اس میں کچھ خداد صلاحیت آپ سے زیادہ ہو ںاور وہ عوام کو کچھ ریلیف دے سکے۔یہ تو ایک مثال ہے جو کسی لطیفہ سے کم نہیں ۔مگر پاکستان کے بے بس اور لاچار عوام کی ستم ظریفی دیکھئیے کہ ایسی مثالیں عام ہیں۔


شہباز شریف بڑے فخر سے دعواہ کرتے ہیں۔ کہ ان کا کوئی ایک بھی کرپشن کا کیس سامنے نہیں لایا جاسکتا ۔کیونکہ وہ کسی طور پہ کرپشن میں ملوث نہیں۔ مگر عوام نے پنجاب حکومت کے ایک وزیر کی ویڈیو دیکھی ہے ۔جس میں وہ ایک ایسے انسانی اسمگلر سے معاملات طے کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ جس پہ میڈیا کے مطابق ایک سو اسی سے زائد لوگوں نے دھوکہ بازی سے ۔رقم ہتیانے کے کیس کر رکھے ہیں ۔جو انٹر پول اور پتہ نہیں کس کس کو مطلوب ہے۔اور میاں صاحب نے اس ویڈیو کی حقیقت جانچنے کے لئیے ایک تین رکنی کمیٹی بنادی اور بس۔ سنا ہے بعد میں وزیر موصوف کے حمایتی یہ کہتے پائے گئے ہیں ۔کہ یہ لاکھوں روپے کی وہ رقم تھی۔ جو انہوں نے مذکورہ انسانی اسمگلر کو ادہار دے رکھی تھی ۔اور وہ انہوں نے واپس لی۔ ایک ایسا وزیر جو ایک معروف انسانی اسمگلر کے ساتھ معاملات کرتا ہے ۔ اسے رقم ادہار دیتا اور واپس لیتا ہے۔ ایسے جرم پیشہ فرد کے ساتھ معاملات کرنا تو کُجا اس کے ساتھ اگر کسی دعوت میں کسی وزیر کا کھانا کھایا جانا ثابت ہو جائے تو مہذب ممالک میں وزراء اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ جبکہ وزیر موصوف کو ایک جرائم پیشہ کے ساتھ معاملات کرنے کے باوجود بجائے اس کے وزیر موصوف سے جواب طلبی کی جاتی اور تادیبی کاروائی کی جاتی ۔ انہیں اتنی اہم وزارت دے دی؟۔ اپنی ٹیم کے بارے خبر نہ رکھنی یا لاعلم رہنا۔ یا خبر ہوتے ہوئے اس پہ کاروائی نہ کرنا ۔یہ بھی اپنے فرائض سے غفلت برتنے کے برابر ہے۔


جہاں یہ عالم ہو کہ سرکاری ملازموں کو ذاتی ملازم سمجھا جائے ۔ نوکریاں بیچی جائیں۔ سرکار دربار میں اپنے من پسند لوگوں کو لانے کے لئیے ۔پرانے ملازمین حتٰی کے چھٹی یا ساتویں گریڈ کی خواتین ملازموں کو انکے گھر بار سے دور۔ بیس بائیس کلومیٹرز دورافتادہ جگہ پہ اچانک تبادلہ کر دیا جائے ۔ بہانے بہانے سے سرکاری ملازموں کو تنگ کیا جائے ۔تانکہ وہ بددل ہو کر اپنی ملازمت چھوڑ دیں ۔اور انکی جگہ اپنے منظور نظر لوگوں کو بھرتی کیا جاسکے۔ تعینات کیا جاسکے۔ وہاں عام عوام ہی نہیں بلکہ یہ سرکاری ملازمین کو ہی اگر اجازت دے دی جائے۔ اور انہیں اپنی نوکری کے جانے کا اندیشہ نہ ہو تا۔تو ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی سرکاری ملازم ایسا ہوگا جو احتجاج میں شامل نہ ہواور سرکاری ملازمین کے احتجاج کی تعداد لاکھوں تک نہ ہو ۔ یعنی لوگ تنگ آگئے ہیں۔ انکے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ ممکن ہے نواز شریف حکومت کی ترجیجات میں لمبی ٹرم کے منصوبے ہوں ۔جن سے چند سالوں میں نتیجہ عوام کے حق میں بہتر آئے ، مگر عوام کا فی الحال مسئلہ زندہ رہنے کی جستجو کرنا ہے ۔ اور وہ موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات لگائے بیٹھے تھے ۔ اور حکومت فی الفور عوام کو کچھ دینے کی بجائے۔ مہنگائی کے سیلاب سے انکے مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بنی ہے۔


حکومت کے بارے یہ عام طور پہ کہا جاتا ہے ۔کہ میاں نواز شریف نے اندیشہ ہائے دور است کے تحت حفظِ ماتقدم کے طور پہ ۔اپنے اقتدار و اختیار کو اپنے ارد گرد کچھ معدوئے چند لوگوں میں بانٹ رکھا ہے ۔ ممکن ہے اس میں انکے کچھ اندیشے درست ہوں۔ لیکن یہ امر واقع ہے کہ اقتدار اللہ کی دی ہوئی امانت ہوتی ہے۔ اور جن حکمرانوں نے اپنا اقتدار ۔نیچے تک عام شہری تک تقسیم کیا ۔ انھیں کسی اندیشے کا ڈر نہ رہا ۔اور اور یوں کرنے سے جہاں عوام کو ریلیف ملا ۔وہیں اللہ نے ایسے حکمرانوں کے اقتدار میں برکت دی ۔

یہ حد سے بڑھی خود اعتمادی تھی یا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے نواز حکومت اخلاقی طور پہ ایسا کرنے پہ مجبور تھی کہ طاہر القادری ایک غیر سیاسی تحریک کے سربراہ اور پاکستان میں کسی بھی لیول پہ ان کا کوئی سیاسی عہدہ نہیں۔ تو پھر کس خوشی میں حکومت نے انہیں پہلے روکا تو عین آخری وقت میں ایک سیاسی اور منتخب حکومت کو غیر آئینی طور پہ حکومت گرانے کی دہمکیوں کے باوجود انہیں ملک کے دارالحکومت کی طرف ہزاروں لوگوں کے ساتھ بڑھنے دیا؟

یہ سیاسی ناعاقبت اندیشی نہیں تو کیا ہے کہ جنہیں چند ہزار افراد کہا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ لاکھوں کا دعواٰہ کرنے والے ان بیس پچیس ہزار لوگوں سے کیا تبدیلی لے آئیں گے؟ اور من پسند خوشامدی تجزئیہ نگاروں سے اپنی حکمت عملی کی داد وصول کی جاتی رہی ۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پچیس تیس ہزار افراد کے ہجوم نے اسلام آباد میں آج ریڈ زون بھی کراس کر لیا ہے۔ اور عین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے۔ ملک کے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں۔ آن ڈیرے جمائے ہیں ۔جس سے ملک اور حکومت کی کی جگ ہنسائی ہور رہی ہے۔ اور ساری دنیا کو ریاستِ پاکستان کا ایک غلط پیغام جارہا ہے ۔ اور نواز شریف ابھی تک اپنے معدودے چند ایسے افراد کی مشاورت پہ بھروسہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر بند گلی میں کھڑے ہیں ۔

کچھ لوگوں کو یاد ہوگا کہ انقلاب کا ڈول ڈالتے ہی مشرف نے اپنے کارکنوں کو اس انقلاب اور آزادی مارچ کا ساتھ دینے کا ارشاد فرمایا۔اور نواز شریف نےایک بار پھر ایک تاریخی غلطی کی ہے۔فوج کو اس معاملے میں ملوث کرکے کے اپنے ۔ مسلم لیگ ن۔ اور جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے ہیں۔اور مستقبل میں کئی مخصوص اور حساس معاملوں میں آزادی سے فیصلے کرنے کا اختیار کھو دیا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے ۔اس سے بہتر تھا وزیر اعظم استعفٰی دے دیتے۔اور اپنی پارٹی میں سے کسی کو ویزر اعظم نامزد کر دیتے ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہوتی۔ کہ بات بات پہ اپنی زبان سے پھر جانے والے۔ آزادی و انقلابی ڈول ڈالنے والے ۔اس کے بعد کوئی نیا مطالبہ نہ کر دیتے ؟۔

تاریخ گواہ ہے۔ کہ اس طرح کے پلانٹڈ اور پلانیڈ انقلاب۔ کبھی کامیاب نہیں ہوئے ۔ان سے تبدیلی تو ہوتی ہے۔ مگر تبدیلی نہیں آتی۔ کسی حقیقی انقلاب کے لئیے عام آدمی یعنی عوام کی تربیت لازمی ہوتی ہے کہ وہ انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکے۔جو اس سارے انقلابی عمل میں کہیں نظر نہیں آتی ۔ کہ پاکستان کے عام آدمی یعنی عوام کو اس طرح لاچار کر دیا گیا ہے کہ وہ سوتے میں بھی دو وقت کی باعزت روٹی کمانے کی خاطر اور زندہ رہنے کی جستجو کے ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے اور اس قدر منتشر ہے کہ اسے سوائے اپنے حالات کے کسی اور طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ۔ تو پھر عام آدمی کی تربیت اور شمولیت کے بغیر یہ کیسا انقلاب برپا ہونے جارہا ہے؟ ۔

ایک تبدیلی وہ ہے جس کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ ”انقلاب“۔ اور ایک تبدیلی وہ ہے جو اسکرپٹ رائٹر نے اپنے من پسند طریقے سے لانی چاہی ہے۔ یعنی پہلی تبدیلی ”انقلاب “ کا جھانسہ دیکر دوسری تبدیلی ہی اصل گوہر مقصود ہے۔۔

جہاں ضامن حضرات جائز طور پہ برہم ہیں۔ وہیں لوگ اس بات پہ حیران ہیں کہ شیخ السلام اور کپتان نے مختلف سیاسی حکومتی شخصیات کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ کوئی غیر آئنی مطالبہ یا اقدام نہیں کریں گے ۔ تو پھر یہ کیوں بار بار اپنا بیان بدل رہے ہیں ۔ اور اتنی یقین دہانیوں کے باوجود غیر آئینی مطالبوں پہ اڑے ہوئے ہیں۔لیکن ان کو (عوام کو)یہ پتہ نہیں کہ جو کسی کے بھروسے پہ پہلی بار ہر حد پھلانگ جائیں ۔پھر انھیں اس کے اشارے پہ بار بار ہر حد پھلانگنی پڑتی ہے۔اتنے سالوں سے اس ملک میں کوڑھ کی فصل بیجی جارہی ہے ۔ اب یہ فصل پک چکی ہے۔کچھ طاقتیں ایسی ہیں جنہوں نے اس ملک کے تمام ستونوں کو بے بس کر رکھا ہے اور جب انھیں پاکستان کی ترقی یا استحکام کا پہیہ روکنا مقصود ہوتا ہے تو وہ اشارہ کر دیتی ہیں اور پہلے سے بنے بنائے بچے جمہورے طے شدہ پروگرام کے تحت حرکت میں آجاتے ہیں ۔اور حد یہ ہے کہ انھیں رسپانس بھی ملنا شروع ہو جاتا ہے ۔

چند ہفتے قبل کوئی سوچ سکتا تھا کہ۔ وہ لوگ جن کا پاکستان کی سیاست اور پارلیمینٹ میں وجود ہی نہیں۔ وہ آج کس زورو شور سے پورے ملک۔ کو اسکے عوام کو ۔بے یقینی کی ٹکٹکی پہ چڑہا کر تماشہ بنادیں گے؟یہ سیاسی بصیرت سے بڑھ کر کسی تیسری قوت کی اپروچ ھے۔اور جو لوگ ایک بار کسی کے ہاتھوں پہ کھیلیں ۔۔ پھر انھیں ہمیشہ انھی کے ہاتھوں کھیلنا پڑتا ہے۔

لمحہ بہ لحمہ بدلتی اس ساری صورتحال میں موجودہ حکومت کو دیوار کے ساتھ لگا کر پس پردہ اس سے وہ مطالبات منائے جائیں گے ۔ جس پہ ابھی تک ہماری حکومت بظا ہر اسٹینڈ لئیے کھڑی ہے ۔ اسمیں مشرف کی پاکستان سے غداری اور امریکہ سے وفاداری کے انعام کے طور پہ اس کی رہائی ۔ تانکہ امریکہ کے لئیے کام کرنے والے غداروں کو یہ پیغام جائے کہ وہ امریکہ کے لئیے اپنی قوم سے غداری کرنے والوں کو امریکہ تنہا نہیں چھوڑتا۔ دوسری بڑی وجہ ۔ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی ۔ اور تیسری بڑی وجہ ۔ پاکستانی عوام کو آمنے سامنے لا کر تصادم میں بدلنا ہے۔”عرب بہار“ جیسا فار مولہ بہت شاطر دماغوں نے اپنی پوری طاغوتی طاقت سے سارے وسائل بروئے کار لا کر بنا یا ہے ۔زرہ تصور کریں یہ دھرنا پروگرام کچھ طویل ہوتا ہے۔ تو دیگر جماعتیں بھی اپنے ہونے کا ثبوت دینے کے لئیے ۔اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنے پہ نکل آئیں۔ تو کارکنوں کا ملک گیر پیمانے پہ یہ تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟۔ یہ وہ کچھ پس پردہ عزائم ہیں جو عالمی طاقتیں دنیا کی واحد اسلامی نیوکلئیر ریاست کے بارے رکھتی ہیں۔ جس کے بارے میں عالمی میڈیا میں یہ تاثر دیا جائے گا ۔کہ اس ملک میں کبھی بھی۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو ایسے میں نیوکلئیر ہتیار اگر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے۔ تو دنیا کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔ اور اس تصور کو دنیا میں بڑہا چڑھا کر پیش کیا جائے گا ۔ اور ہماری بدقسمتی سے پاکستان مخالف عالمی طاقتیں پروپگنڈاہ اور دہمکی دھونس کے زور پہ ۔ایسے بے وجود سایوں کو وجود دینا جانتی ہیں۔ایسے میں پاکستان کا کیس عالمی برادری میں کمزور ہو جائیگا۔

اس بار شاید ہمیشہ کی طرح ”عزیز ہموطنو“ نہ ہو ۔کہ اب یہ فیشن بدلتا جارہا ۔ اورکچھ لوگ پہلے سے تیار کر لئیے جاتے ہیں ۔کہ جنہیں اگر نوبت آئی ۔تو انہیں آگے کر دیا جائے گا ۔ اور پس پشت”میرے ہموطنو“ پروگرام ہی ہوگا۔اس امر کا انحصار نواز شریف کی بارگینگ پاور پہ ہوگا۔ اور مارچ میں شامل کارکنوں کی تعداد اور استقلال کی بنیاد پہ ہوگا۔ کہ پس پردہ اپنی شرائط کس طرح منوائی جاسکتی ہیں۔ اگر دھرنے کے قائدین اسکرپٹ پلیئر کے اشارے پہ دھرنا اور احتجاج ختم بھی کر دیں ۔تو بہر حال ایک بات طے ہے کہ ان دھرنوں سے پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ پاکستان کی بنیادیں بھی ہل کر رہ جائیں گی ۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غمِ یار و غمِ روزگار۔


جو لوگ یورپ، امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک میں معاشی مجبوریوں کی وجہ سے پھنس چکے ہیں۔ ان میں سے ننانوے فیصد کے بچے بلکہ نسلیں اب کبھی بھی دوبارہ لوٹ کر پاکستان میں آباد نہیں ہونگی۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔

جس طرح ، جن لوگوں نے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھائے۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لیا۔ کبھی گنے توڑ کر چوس لیے۔ نہر پہ نہا لیا۔ دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مکئ کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔

الغرض ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو ہر ایک اپنے ماحول کے لحاظ سے اپنے اپنے دور میں بچپن اور لڑکپن میں ملیں۔ جن سے انھوں نے بھرپور لطف اٹھایا ۔ بس نمبر اچھے آئے۔ یا شریک برادری میں کسی کا لڑکا کسی فارن کنٹری کیا گیا، باپ یا بڑے بھائی نے اپنے بیٹے کو بھی جیسے تیسے کر کے یورپ بجھوا دیا ۔ امریکہ کا ویزا لے دیا۔ اس ویزے کی خاطر ، بسا اوقات ماں نے اپنے زیور بیچے، باپ نے کچھ زمیں گروی رکھ کر ادھار لیا۔ آبائی زمین اونے پونے بیچ ڈالی۔ بس پھر کیا تھا بیٹا باہر چلا گیا، تعلیم مکمل کی۔ پاکستان اسے بہت چھوٹا نظر آیا۔ وہاں مواقع نہیں۔ معقول جابز نہیں۔ ہر شاخ پہ ایک ایک الؤ بیٹھا نظر آیا اور گلستان کے انجام سے زیادہ اپنے انجام کی فکر دامن گیر ہوئی۔ باہر ہی اچھی جاب کی آفر آگئی ۔ بعضوں کو آفر کے ساتھ ساتھ نینسی نے بھی اپنے آپ کو پیش کردیا۔ بس پھر کیا تھا مزے ہی مزے، اچھی جاب، گرم خون، چڑھتی جوانی، بھری جیب، نینسی کا ساتھ یا پاکستان میں گھر والوں کا دیا گیا وی آئی پی پروٹوکول، نشہ ہی نشہ۔ کہاں تو بچہ پاکستان میں کسی پھٹے والے کے پاس تین ہزار روپے میں سارا دن ویلڈنگ سے آنکھیں خراب کرتا تھا اور کہاں یورپ امریکہ وغیرہ میں ہر مہینہ پاکستانی ایک لاکھ کی بچت پاکستان جانے لگی۔ کچے مکانوں سے جان چھوٹی۔ مکان پکے اور پھر کوٹھی میں تبدیل ہوگئے۔ پہلے پہل پچاس سی سی کا نیا ھنڈا آیا۔ پھر سارے گاؤں میں واحد سکینڈ ہینڈ کار گھومتی نظر آنے لگی۔ شریک جل کر زیر لب دو تین ننگی گالیاں دیتے اور ملنے پہ بظاہر مسکرا دیتے ۔اس دوران ماں کو چاند سی بہو لانے کا شوق اٹھا بس پھر کیا تھا۔ لڑکا جی باہر ہے ۔ کوئی ایسی ویسی بات ہے ۔ میرا بیٹا ایک لاکھ پاکستانی گھر بھیجتا ہے ۔ خیر بہو بھی مل گئی اور شادی پہ بگھیوں پہ بارات گئی۔ پورا گاؤں کئی ماہ بعد بھی تزکرے کرتا رہا کہ خیر سے جی ولیمے پہ پچاس پچاس کاریں آئیں تھیں۔ شہر کا مشہور میرج ہال ( گاؤں والوں کے نزدیک شادی حال) بُک کروا لیا گیا نو قسم کے کھانے سولہ مصالحوں کے ساتھ کھلائے گئے ۔ پورے گاؤں میں ڈولی(دلہن کو بیاہ کر لائے جانے کی) کی ایک کلو مٹھائی فی گھرانہ بانٹی گئی۔ بے بے ہر آتی جاتی ملنے والی سے بات کرتے ہوئے نوٹوں کی ایک دتھی (گڈی)ہاتھ میں لے کر قسم قسم کے مانگنے والیوں میں کمال نخوت سے باٹنے لگی۔

شادی ہوگئی ، بہو رہ گئی، بیٹا عازمِ سفر ہوا۔ پہلے بے بے کی مدھانی بجلی کی آئی تھی اور باپ کے کلف لگے کپڑے پریس کرنے کے لئیے استری آئی تھی۔ اب بہو کے لئے ہئیر ڈرائیر، ڈیجیٹل کیمرہ ، سیمی کمپیوٹر موبائل ٹیلی فون۔ مووی کیمرہ اور برانڈنڈ پرفیوم اور کاسمیٹکس آنے لگا ۔ بہور ہر روز روز اول کی طرح سجنے دھجنے لگی۔

بے بے اپنے لاڈلے کی کمائی میں اچانک ایک نئی حصے دار کو دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گی ۔ یہ تو ماں کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ لاڈلے کی کمائی میں کوئی اچانک دعویدار بھی پیدا ہوجائے گا اور دعویدار بھی خود سے تلاش کی ہوئی چاند سی بہو۔ بیٹے کی فضول خرچیاں اور بہو کے انداز دیکھ کر ماں سر پیٹ کر رہ گئی۔ پہلے پہل بیٹے کو فوں پہ دبے لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔ بات بہو پہ بھی آشکارہ ہونے لگی ۔ بیٹا دو کشتیوں کا مسافر پھنس کر رہ گیا۔ بیوی کو اپنا درد بتایا، بیوی ساس سے لڑ کر روٹھ کر میکے جابیٹھی۔ بیچ بچاؤ کرنے والوں نے پوری کوشش کی مگر لڑکی والے اڑ گئے کہ بیٹی اب یہاں سے تبھی جائے گی جب اس کا خاوند اس کا باہر کا ویزاہ بیھج دے گا۔ ورنہ ہمیں کوئی بوجھ تھوڑا ہے ۔ نہ ہمیں اپنی بیٹی بھاری ہے۔ بیچ بچاؤ کرانے والوں نے بہت کوشش کی، بات نہ بنی۔ آخر کار چاند سی بہو باہر ہی گئی۔

لڑکے کے ماں باپ کو کبھی کبھار کچھ رقم ملنے لگی۔ پہلا پوتا کوئی سال بھر باہر ہی ہوا ۔ اسکا نام شازل رکھا ۔ دوسرے سال نازل رکھا چوتھے سال بہو بیٹا پاکستان ملنے آئے تو شازل نازل کے علاوہ گودی میں کچھ ماہ کی نازلی بھی تھی۔ پاکستان اور گاؤں کی فضا، مکھیاں، مچھر، گرمی، حبس، ماحول کی گھُٹن، بجلی کی آنکھ مچولی، نوٹوں سے بھرا پرس (بٹوا) مگر اشیاء ندادر، شہر دور، بہو بیٹے کا تین ماہ کا پاکستان پروگرام بڑی مشکل سے پچیس دن چل سکا اور وہ واپس لوٹ گئے ۔ شازل نازل کا اسکول نازلی کی لگاتار مزید دو بہنوں کی آمد اپنا مکان خریدنے کی فکر نے اگلے پانچ سال صرف فون پہ ماں کی ٹھنڈی آہیں سنوائیں۔ بوڑھا باپ مزید بوڑھا ہوگیا۔ بہو نے بھی باہر کے رنگ ڈھنگ اپنا لیے واک، پارک، مارکیٹس، ذاتی گاڑی، ذاتی مکان، بچوں کی پڑھائی، اتنے اخراجات، اُف ہر ماہ یہ رسید وہ رسید یہ بل وہ مکان کی قسط۔ بوڑھے ماں باپ کا ملنے کا اصرار، بہن کی شادی، جیسے تیسے بہو بیٹا بمع اپنے پانچوں بچوں کے باہر سے آئے (یہ باہر امریکہ یورپ وغیرہ کا کوئی بھی ملک یا کوئی بھی صارف ملک یعنی کنزیوم سوسائٹی ہو سکتی ہے)۔ پانچوں باہر کے اچھے ماحول اچھی خوراک کے پروردہ نازک سے پھولوں کو پھپھو کی شادی پہ رلتے دیکھ کر بہو کا کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ بڑی مشکل سے شادی کی رسومات ختم ہوئیں۔ ہفتے دس دن بعد بچوں کی تعلیم کا بہانہ کر کے بہو واپس لوٹ گئی۔ بیٹے نے کمر خمیدہ بوڑھے ماں باپ کو اپنے ساتھ لے جانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے ۔ آخر کار بڑی منت سماجت سے وہ بیٹے کے ساتھ محض اس لئے باہر چلے گئے کہ اب انھیں سنبھالنے والا کوئی خاص نہیں تھا۔ بیٹا بار بار آ نہیں سکتا۔ باہر بوڑے ماں باپ ہر وقت اپنے گاؤں اور رشتے داروں کو یاد کر کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ، بہو کا غصہ بھی ہر وقت ناک پہ اڑا رہتا اور بہو تنی رہتی۔ ماں باپ نے منت سماجت کر کے بیٹے کے مامے کے پاس واپس جانے کی ٹکٹیں کروا لیں۔ وہ پاکستان چلے گئے ۔ ایک دن مامے کا فوں آیا تمہاری ماں سخت بیمار ہے اگر منہ دیکھنا ہے تو فوراً آجاؤ۔ بڑی مشکل سے ٹکٹ لیکر بیٹا روتا پیٹتا رستے میں تھا کہ فون آیا ماں قضائے الہٰی سے مر گئی ۔ برف لگا دی گئی ہے منہ دیکھنا ہے تو پہنچ جاؤ۔ دوسال گزرے پھر باپ بھی لقمہِ اجل ہوگیا۔

اب شازل نازل گریجوئیشن کر رہے ہیں۔ انکے دوست ڈیوڈ ، اسمتھ، لزا۔ روزی ہیں۔ وہ باہر ہی پلے بڑھے ہیں ۔انکے ہیرو مکی ماؤس سے ہوتے ہوئے انتونیو بندیرا ہیں۔ وہ برگر کنگ اور مکڈولنڈ جیسی فاسٹ فوڈ پہ اپنے دوستوں سے ملتے ہیں۔ کوک پیتے اور جمعہ کے جمعہ اور کسی کسی ویک اینڈ پہ باپ کے ساتھ مسجد اور اسلامک سنٹر جاتے ہیں ۔ شام کے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ اور عربی میں خطبہ سنتے ہیں۔ چھ میں سے چار کلمے اور پوری نماز بڑی مشکل سے جانتے ہیں۔ اپنی بہنوں نازلی شازلی وغیرہ کو گھر پہنچ کر انگریزی میں روز کے نئے نئے تجربے بیان کرتے ہیں۔

ابا بوڑھا ہو چکا ہے اسے اپنے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھانا۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لینا، کبھی گنے توڑ کر چوس لیے، نہر پہ نہا لیا، دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مک کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔ سب بہت شدت سے یاد آتا ہے۔ مگر شازل نازل کا بچپن ویڈیو گیمز اور سپائیڈرمین کے اسٹیکر چینج کرتے، اسکول کالج کے لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیتے گزرا ہے۔ وہ باپ کی پاکستان، پاکستان کی گردان پہ باپ کو عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ باپ کے بہت اصرار پہ بیزارگی سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا گھستے ہیں۔

اب ان بچوں کے ماں یا باب کے دارِ فانی ہونے پہ زیادہ سے زیادہ انکی میت(ڈیڈ باڈی) لکڑی اور لوہے کے ٹھنڈے تابوت میں، جس کے اوپر چہرے کے سامنے چوکور شیشہ لگا ہوگا اور تابوت کو کسی بھی صورت نہ کھولنے کی ہدایت ہوگی، اس تابوت میں بند کروا کے ماں باپ کے جاننے والے انہی جیسے دوست یا علاقے کے لوگ چندہ اکھٹا کر کے انکے آخری سفر پہ پاکستان بیجھیں گے۔ گاؤں کی مسجد میں اعلان کیا جائے گا۔ جہاں گاؤں والے ایک ٹھنڈی قبر کے پاس آدھی رات کو باہر سے آنے والی میت (ڈیڈ باڈی) جسے چند بڑے بوڑھوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہوگا ۔ اس کی قبر پہ آدھی رات کو گاؤں کے لوگ بیزارگی سے انتظار کر رہے ہوں گے کہ صبح صادق جنازہ پڑھا کر اس ناخوشگوار فرض کو پورا کر سکیں۔

اس ماں اور باپ کے بعد (اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد) ان بچوں کو، انکے بچوں، بچوں کے بچوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ انکی کوئی یاد پاکستان یا اپنے آبائی گاؤں سے وابستہ نہیں ہوگی۔ انکے بیر، بانٹے، ٹھنڈے تربوز کی یادیں سب باہر ہی ہونگی۔ وہ باہر جس کا سفر شریک برادری کو نیچا دکھانے کے لئے یا بچے کے اچھے نمبر آنے سے شروع ہوا تھا ۔ وہ باہر اپنے ساتھ ایک نسل ہی نہیں بلکہ آئیندہ پوری نسلیں ہی ساتھ لے گیا۔

جس بستی کے مان سنوارنے نکلا تھا
لوٹا ، تو وہ بستی ہی نہیں تھی

نوٹ۔: میری یہ تحریر افضل جاوید صاحب نے اپنے بلاگ "میرا پاکستان” پہ چھاپی ہے اور انگلینڈ میں اردو کے ایک پرنٹ میڈیا اخبار پہ بھی چھپی ہے۔ میں کبھی کبھار کوشش کرونگا کہ ادہر ادہر بکھری ہوئی اپنی تحریریں یہاں چھاپ دیا کروں۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: