RSS

Tag Archives: ہوشیار

اردو بلاگران ۔۔ ہوشیار باشد


اردو بلاگران ۔۔ ہوشیار باشد

فوج میں انگریزوں نے سپاہی کے بعد ”لانس نائیک“ نامی عہدہ اسلئیے قائم کیا تھا کہ جو فوجی ”سپاہی “ باقی ساتھیوں کو تنگ رکھیں۔ اور سرکشی پہ باآسانی آمادہ رہیں ۔ انھیں مفت میں ایک ”پھیتڑی“ (Insignia) لگا کر ”لانس نائیک “ بنا دیا جاتا ۔ جبکہ اصل عہدہ جسے دو”پھیتڑیاں“ لگائی جاتیں اسے نائیک کہا جاتا ۔ کہ نائیک کی ماتحتی میں ”لانس نائیک “ سمیت کچھ چند ایک سپاہی ہوتے اور نائیک کے بعد حوالدار اور حوالدار میجر وغیرہ جیسے عہدیدار آتے ۔یوں ”اوکھا “اور سرکشی پہ باآسانی آمادہ رہنے والا جوان ۔جب اسے ایک” پھیتڑی “لگ جاتی۔ اور ”لانس نائیک “کا نمائشی عہدہ مل جاتا۔ تو وہ مشقت باقی سب سپاہیوں کے برابر کرتا۔ اسے کوئی اضافی سہولت بھی نہ ملتی ۔ مگر وہ اپنی سرکشی اور شرارت بھول کر وہ ہر وقت عام سپاہیوں سے بھی زیادہ دلچسپی سے اپنے فرائض محض اسلئیے تندہی سے بجا لاتا کہ مباداہ اسکی کسی حرکت سے اسکی ”“ پھیتڑی “ نہ اتر جائے اور وہ پھر سے ایک عام سپاہی نہ بن جائے ۔
اس مندرجہ بالا مثال کے مصداق پاکستان کے تجارتی میڈیا کی طرف سے سوشل میڈیا کو لگام دینے کی وقتا فوقتا کوششیں جاری ہیں ۔ جن میں حکومت پاکستان بھی (حکومت کوئی بھی ہو سوشل میڈیا سے تنگ ہے) شامل ہے کہ سوشل میڈیا میں سے کچھ لوگوں کو گھیر گھار اپنے مرضی کے اصطبل پہ لایا جائے ۔ انکی اہمیت کسی طور کچھ بڑھا دی جائے ۔ پھر وہ” لانس نائیک“کی طرح اپنی” پھیتڑی “ یعنی اپنی بے معنی اہمیت بچانے کے چکر میں خود ہی سے تجارتی میڈیا کی اہمیت کے گُن گائیں گے۔
بلاگرانِ چمن۔ آجکل ہر طرف اس بات کا بہت چرچا ہے۔ کہ اردو روزنامے نامی ”دنیا“ میں  بلال بھائی ۔۔ ایم بلال ایم ڈاٹ کوم والے اور یاسر خواہ مخواہ بھائی ۔ کے بلاگ کی تحریریں چھپ رہی ہیں۔
ہماری رائے میں یوں ہونا۔اچھا نہیں ۔ کیونکہ بلاگرز!۔ آزاد منش لوگ ہوتے ہیں ۔ وہی لکھتے ہیں جس لکھنے کو انکا من چاہے۔ اور بہت سی پابندیوں اور خاص کر کمرشل پابندیوں سے نہ صرف آزاد ہو کر۔ بلکہ بہت بار انکی ضد پہ لکھتے ہیں۔ اور اب بلاگرز کو کمرشلائیز کیا جارہا ہے۔ اور یہ اچھی بات نہیں کہ کمرشلائز ہونے سے یارانَ بلاگرز بھی کمرشل اونچ نیچ کو مد نظر رکھ کے لکھا کریں گے۔ اور یوں وہ آزادی۔ جو سوشل میڈیا میں لکھنے والوں کا خاصہ ہے۔ وہ نہائت بُری طرح متاثر ہوگی اور نئے لکھنے والے شروع دن سے تجارتی میڈیا کے لئیے۔ براستہ سوشل میڈیا تگ دور کیا کریں گے۔یوں ابھی آپ سوشل میڈیا میں لکھنے والوں کا جو امتیاز ہے ۔ وہ ختم ہو کر رہ جائے گا اور پاکستانی عوام کو۔ سوشل میڈیا کے نام پہ جو ایک نیا آزاد زریعہ میسر ہے۔ جس سے ایک نئی آزاد سوچ تعمیر ہوتی ہے۔ وہ زریعیہ ختم ہو جائے گا۔ اور آزاد سوچ بننے بنانے کا عمل پھر سے۔ بنے بنائے سانچوں میں مقید ہو کر رہ جائے گا۔
اس طرح تحریریں چھپنے سے دو رائے بن رہی ہیں۔
1):۔ عام لوگوں کو اردو بلاگنگ اور اردو بلاگران کے بارے علم ہوگا ۔
2):۔ بلاگرز کی تحریروں کی وقعت بڑھے گی اور ممکن ہے کمرشل میڈیا۔ بدلے میں انہیں کچھ معاوضہ دے یا کسی درجے میں مستقل لکھنے والوں کے طور بھرتی کر لے۔
پہلی رائے کے بدلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا آیا ہم محض اس لئیے لکھتے ہیں ۔کہ ہمیں یا ہماری تحریروں کو اہمیت ملے؟ ۔
دوسری رائے اہم ہے ۔کہ اگر کسی میں خوبی ہے اور کمرشل میڈیا اس کی تحریر یا مواد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ صاحب تحریر کو اپنے تجارتی ادارے میں ایک مستقل کردار دینا چاہتا ہے۔ تو یہ ایک اہم بات ہے ۔کہ جسے معاشی ضرورت ہو وہ تجارتی میڈیا کے لئیے لکھنے کو ذریعیہ معاش کے طور پہ اپنائے ۔ لیکن ۔یہاں ایک اور بات ۔ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ۔ کہ کیا آیا تجارتی میڈیا خواہ وہ کوئی سا بھی ہو ۔ آپ کی ہماری۔ یعنی اردو بلاگران کی تحریریں اس وقت بھی چھاپے گا ۔جب انکا مواد ۔ ادارے کے مزکورہ معیار یا کمرشل لائن پہ پورا نہ اترتا ہوا ۔اور خاص کر اس وقت جب بلاگران کی کوئی تحریر۔ میڈیا کے مبینہ ادارے کے تجارتی اور سیاسی مفادات سے ٹکراتی ہو؟
کہیں یوں تو نہیں کہ مفت کی تحریروں کا ایک بڑا اسٹاک ۔یار لوگوں کو دستیاب ہو گیا ہے۔ جو آپ کی برسوں کی محنت میں سے ۔اپنے مطلب کی چیزیں چن کر اپنی سرکولیشن بڑھا رہے ہوں ۔ اردو بلاگران کے ذرئعیے اپنے اخبار یا میڈیا کو سوشل میڈیا میں ناصرف متعارف کروا رہے ہوں بلکہ اپنے لئیے سافٹ امیج بھی بنا رہے ہوں۔ یا آپ کو۔اپنے تجارتی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر۔ اچھا لکھنے والوں کو۔ محض اور صرف تجارتی بنیادوں کو مد نظر رکھ کر لکھنے کے لئیے آمادہ کر رہے ہوں؟۔جس کا چھوٹا سا مطالبہ سامنے آ بھی چکا ہے کہ آپ کی تحاریر کن کن موضوعات پہ کس طرز کی ہونی چاہئیں۔
ایک بات کا میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ میں دونوں طرف کے کچھ اہم ناموں کو جانتا ہوں کہ اردو بلاگز اور اردو سائٹس پہ لکھنے والوں کی اکثریت کی تعلیم ۔ مطالعہ ۔ موضوعات کا تنوع۔ اپنے موضوع کو نباہنا ۔ موضوع سے انصاف کی کوشش ۔ ریاضت ۔ اور خدادا صلاحیتیں ۔ پرنٹ میڈیا اور کمرشل میڈیاکے بہت سے لکھنے والے جغادریوں سے کہیں زیادہ اور دیانتدارانہ ہیں ۔
اردو بلاگران کی طرف سے کچھ ایسی نیاز مندی سے ۔ خاکساری سے تحسین بھرے جذبات کااور ہدیہِ عقیدت کےاظہار کا۔ شکرانہ و شکریہ ہیش کیا جارہا ہے کہ یا حیرت العجائب ۔ اور یہ تاثر ابھرتا کہ اردو بلاگران! خدانخواستہ۔ پرنٹ میڈیا یا تجارتی میڈیا کے بارے ایک طرح کے احساسِ کمتری میں مبتلاء ہوں یا متاثر ہوں جب کہ حقیقت میں معاملہ اسکے بر عکس ہے ۔ میں کئی ایک مثالیں ایسی گنوا سکتا ہوں جن میں تجارتی میڈیا میں لکھنے والے۔ پیشہ ور نام نہاد دانشور۔ سوشل میڈیا میں لکھے گئے مضامین اور تحاریر سے متاثر ہو کر انسپائر ہوئے اور انہوں نے پھر اپنے نام سے مواد کو توڑ موڑ کر تجاری میڈیا میں پیش کیا ۔
سوشل میڈیا بمقابلہ پرنٹ میڈیا ۔اگر اس ترکیب کو ذہن میں رکھا جائے ۔ تو مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اردو بلاگران! کسی نئی نویلی دلہن کی طرح شرما رہے ہیں ۔اور لجا لجا کر کہتے پائے جاتے ہیں کہ ”اوئی اللہ ۔آخر سوتن نے مجھے گلے لگا ہی لیا ۔“
تو؟

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: