RSS

Tag Archives: گیلانی

ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔


ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔نہائت ظالم بادشاہ تھا۔ جسکی رعایا کسان پیشہ تھی ۔ چھوٹی موٹی کھیتی باڑی اور مویشی پال کر گزارہ کرتی تھی۔ اس راجدھانی کے بادشاہ نے رعایا پہ بے حد لگان اور محصولات لگا رکھے تھے ۔جن کو حاصل کرنے کے لئیے نہائیت ظالم اور سفاک اعمال مقرر کر رکھے تھے ۔ اعمال گھر گھر کی تلاشی لیتے ۔ جس گھر میں انکو کچھ تھوڑا سا بھی فالتو اناج نظر آتا ۔ اسے بحق سرکارضبط کر لیتے ۔ اور کبھی کبھار تو اگلی فصل آنے تک زندہ رہنے کی خاطر کھانے کے کے لئیے جوغلہ و اناج کسان اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے۔ بادشاہ کے بدنیت اعمال وہ غلہ بھی اٹھا لے جاتے اور نوبت یہاں تک آجاتی کہ لوگ بھوکوں مرنے لگتے یا مانگ تانگ کر گزارہ کرنے پہ مجبور ہوجاتے۔اسکے علاوہ کسانوں کے تندرست اور قیمتی جانور جو کسانوں نے بڑی محنت سے اس امید پالے پوسے ہوتے کہ مشکل وقت میں بیچ کر اپنا مشکل وقت ٹال لیں گے۔ بادشاہ کے بدقماش اعمال ان قیمتی جانوروں پہ بھی قبضہ جمالیتے۔بس چلتا تو کسانوں کی جوان بہو بیٹیوں کو بھی اٹھا لے جاتے۔ اور کسان خوف سے اپنی جوان بہو بیٹیوں کو بادشاہ کے بدقماش اعمال سے چھپا کر رکھتے۔ الغرض اس بادشاہ کے دور میں کوئی ایسا ظلم نہیں تھا جو رعایا پہ نہ ڈھایا جاتا رہا ہو۔ زندہ تو زندہ بادشاہ تو اپنی رعایا کے مُردوں کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ اسکی ریاست میں رعایا میں سے جو کوئی بھی مرے اسے دفنانے سے سے پہلے مُردے کو بادشاہ کے محلوں کے ارد گرد متواتر رات دن گھما کر دفن کیا جائے ۔ ایسا کرنے کومردہ خراب کرنا کہا جاتا تھا۔ مرنے والے کے بے چارے لواحقین سارا دن اور ساری رات میت کو سر پہ اٹھائے بادشاہ کے محلوں کے گرد خوار ہوتے اور تب کہیں جا کر بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہونے پہ میت دفنانے کی اجازت ملتی ۔
مخلوق خدا ا س بادشاہ سے بہت تنگ تھی ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ بیمار ہوا اور مرگ الموت نے اسے آن گھیرا۔ اِس ظالم بادشاہ کو ہر ظالم بادشاہ کی طرح یہ فکر دامن گیر ہوئی۔ کہ اُس نے ساری عمر کوئی ایسا کام نہیں کیا۔ جس پہ اسکے مرنے کے  بعد اسکی رعایا سے اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ جبکہ اس نے ایسے بہت سے اقدام البتہ ضرور کر رکھے ہیں۔ کہ اسکے مرنے کے بعد رعایا اسے ہمیشہ برے الفاظ میں یاد کرے ۔اسی فکر میں پریشاں ہو کر بادشاہ نے اپنےولیعہد شہزادے کو طلب کیا ۔اور اسے اپنا مدعا بیان کیا ۔
"کہ دیکھو میں نے اس بادشاہت کی حفاظت کے لئیے۔ جو اب تمہیں ملے گی ۔ بہت سے ایسے اقدام کئیے ہیں جن پہ رعایا مجھ سے ناخوش ہے ۔ اور اب میرا مرنے کا وقت قریب آگیا ہے ۔اسلئیے تُم پہ لازم ہے کہ میرے مرنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات اٹھانا کہ رعایا مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرے۔”
شہزادے نے جواب دیا ” بادشاہ سلامت ہماری جاں بھی آپ پہ قرباں ۔اللہ آپ کا اقبال سلامت رکھے اور آپکا سایہ ہمارے سروں پہ ہمیشہ کے لئیے سلامت رکھے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ضرور ایسے قدامات کریں گے جس سے رعایا آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرے”
اُسی رات بادشاہ مر گیا۔ ولیعہد بادشاہ بن بیٹھا ۔ ولیعہد نے بادشاہ بنتے ہی فرمان جاری کیا کہ
"آج سے ہماری ریاست کی عملداری میں جو بھی فرد مرے ۔ اسکی میت کو ننگا کرکے ۔ ایک لٹھ کے ساتھ الٹا لٹکا کر متواتر تین دن تک میرے محلات کے گرد گھُما نے کے بعد دفنایا جائے”۔
رعایا بے اختیار چیخ اُٹھی ” اس خبیث سے تو اسکا باپ ہی اچھا تھا جو مردوں کو ننگا نہیں کرتا تھا اور صرف ایک رات دن میں انکی جان چھوٹ جاتی تھی ”
راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کانام ۲۰۰۹ء میں اکتیس دسمبر تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں پہ اس لئیے دیا گیا کہ موصوف پہ الزام ہے ۔جب یہ وزیر بجلی تھے تو انہوں نے قوم کے خزانے سے سے کرایے کے بجلی گھروں کی مد میں اربوں روپے نکلوائے اور ان اربوں روپے کی کرپشن میں ہاتھ رنگنے کے لئیے قوم کو دو ہزار نو کی اکتیس دسمبر تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مژدہ جان افزاء سنایا اور جھوٹے وعدوں کی آڑ میں اربوں روپے پار لگا دیے اور انہی کے ہم عصر ایک وزیر نے یہ معاملہ سپریم کوٹ میں اٹھا رکھا ہے ۔
پاکستان میں اگر عام انتخابات کچھ ماہ قبل کروا دئیے جاتے تو ملک کو درپیش کئی ایک بحرانوں سے نمٹنے کی صورت نکل آتی ۔ دنیا میں کئی ایک مثالیں ملتی ہے کہ پاکستان کے حکومتی بحران سے سے بھی کہیں کم تر حکومتی بحران پہ حکومت نے نئے الیکشن کا اعلان کردیا جبکہ نئے الیکشن میں ابھی دو سال رہتے تھے۔ زرداری اور حکومتی کرتا دھرتاؤں کو بھی علم تھا کہ گیلانی کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کوئی ناگہانی یا اچانک رُونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ اس بارے حکومت بھی آگاہ تھی ۔ جبکہ اگر زرادری ملک سے خیر خواہ ہوتے تو تبھی سے انھیں ملک میں عبوری حکومت تیار رکھنی چائیے تھی اور نئے عام انتخابات کا اعلان کر دینا چاہئیے تھا ۔ مگر پاکستان کی ایسی قسمت کہاں۔ یوں ہونا ابھی  پاکستان کے نصیبوں میں نہیں۔ بجلی کے کرائے گھروں کی مد میں اربوں کی مبینہ رشوت کے الزمات کا سامنا کرنے پہ راجہ رینٹل کا نام پانے والے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنائے جانے پہ زرداری کے اس مقولے پہ قربان ہو جانے پہ دل کرتا ہے کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے” خدایا ! قوم بجلی اور توانائی کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے ۔ ہر فرد بجلی کی آرزو میں جاں بلب ہورہا ہے۔قریب ہے کہ ملک انارکی اور خانہ جنگی کا شکار ہوجائے اور ایسے میں ایک ایسے سابقہ وزیر کو وزیر اعظم بنا دینا۔جو اس سارے ڈرامے کا مرکزی مبینہ ملزم گردانا جاتا ہے۔ایسا کرنے سے تو محض یہی ثابت ہوتا ہےکہ یہ قوم سے واقعی” بہترین انتقام ” ہے ۔کہ ان سے تو شاہ گیلانی ہی اچھےتھے۔ کم ازکم گریجویٹ وزیر اعظم تو تھے۔بادشاہوں کے دور اور تاریخ میں درج "ایک دفعہ کا ذکر ہے” پاکستان کے بادشاہوں کے بارے ” کئی دفعہ کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر روز کا ذکر ہے "کہ رعایا بار بار کہتی ہے کہ زرداری سے مشرف ہی بہتر تھا۔ اور کچھ دن جاتے ہیں کہ رعایا یہ کہنے پہ مجبور ہوگی راجہ رینٹل کی بجائے شاہ گیلانی ہی اچھا وزیر اعظم تھا۔ کیونکہ بادشاہ کے ولیعہد کی طرح راجہ صاحب نے آتے ہی وزارت پانی بجلی اور اسی وساطت سے کرایے کے بجلی گھرو ں پہ نظر عنائت کی ابتداء کر دی ہے ۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق” ۔۔۔وزير اعظم کي ہدايت پر وزارت پاني و بجلي فعال” اب عنقریب قوم چیخ چیخ کر گیلانی کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔

Javed Gondal Barcelona Spain جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔اسپین ۲۴ جون دو ہزار بارہ ۲۰۱۲ء
Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اگر اس نوٹس

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

آج ایک اخبار نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کسطرح عمرِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیت المال سے دوائی کے طور شہد کی چند چمچ پرابر تھوڑی سی مقدار کے حصول کیلئے مسجد میں درخواست کی تھی۔ اگر اس واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا جائے اور غالب گمان یہ ہے کہ گیلانی و زرداری سے استفسار کیا جائے تو انکےکسی بانکے چھبیلے وزیر کی طرف سے ڈھٹائی سے یہ بیان آئے گا کہ گیلانی اور موجودہ صدر بھی اپنے شاہانہ اخراجات کے لئیے کابینہ اور اسمبلی سے اجازت لیتے ہیں۔ وہ خود سے تو کروڑوں کے شاہی اخراجات نہیں کرتے ۔ جیسےموجودہ بجٹ میں پاکستان کے سابق صدور اور وزرائے اعظم کو تاحیات مراعات دینے کی رعایت شامل ہے جس سے نہ صرف زرداری ،گیلانی ،نواز شریف ، رفیق تارڑ ا بلکہ آئی ایم ایف کا چھیل چھبیلا اورتین ارب کا مالک امپورٹیڈ وزیر اعظم شوکت عزیز اور بردہ فروش سابق صدر مشرف کے لئیے بھی عمر بھر مراعات شامل ہیں۔اور یہ سلسہ ہائے داراز صرف یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ بہت سی جائز اورنا جائز صورتوں میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔.

ایسی نااہل حکومتوں کے ہاتھوں پاکستان کا کوئی ایک المیہ ہو جو بیان کیا جا سکے۔ یہاں تو ہر لمحے ہر آن ایک المیہ ہوتا ہے ۔جس سے پاکستان دوچار ہے۔ مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق اوباش اور نااہل لوگوں میں ریاست کے اہم اور حساس عہدوں کی بندر بانٹ کی جاتی ہے ۔ جس سےایسے عہدیدار ملک قوم کے ساتھ اپنی وفاداری نبھانے کی بجائے سیاسی پارٹیوں اور اپنے آقا و مربی سے وفاداری نباہتے ہیں۔ اور بجائے اس کے اپنے عہدے سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے کے الٹا ساری عمر اپنی نااہلی اور چور دروازے سے عہدہ حاصل کرنے کی چوری کی وجہ سے حکومتوں کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں ۔اور اس پہ طرف تماشہ راشی اور بد عنوان حکومت کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کے تن سے خون کا آخری قطرہ تک کشید کرنے کے جتن کئیے جاتے ہیں ۔جس طرح پاکستان کے وزیر اعظم گیلانی نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ملک قوم کے مفاد میں سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل بجا لانے کی بجائے ۔وزیر اعظم نامزد کرنے والے زرداری کے ساتھ اپنی وفاداری نباہ کر پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے حکم کی واضح نافرمانی کرتے ہوئے ڈھٹائی اور سینہ زوری کی ایک غلط روایت قائم کی ہے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پورا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔

جسطرح مشہور ہے کہ گر بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگاَ ۔کے مطابق پیپلز پارٹی نے شروع دن سے ہر وہ قدم اٹھایا کہ کوئی آئے اور انھیں حکومت سے باہر کر دے۔ تانکہ پیپلز پارٹی کو حسب عادت سیاسی شہادت کا ایک اور موقع مل جاتا ۔مگر پیپلز پارٹی کے نصیبوں یوں ہونا سکا اور بجائے اسکے کہ وہ خدا کے دئیے اقتدار کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے مکمل طریقے سے نباہنے کی کوشش کرتی ۔الٹا انھوں نے اسے نام نہاد جمہوریت کا نام دے کر سینہ زوری شروع کر دی۔ حالانکہ اگر جتنی توانائی پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے طاقت اور نام نہاد جمہوریت کے نام پہ مستی اور سینہ زوری پہ صرف کی اگر یہ اس سے نصف توانائی عوام کے مسائل حل کرنے پہ خرچ کرتے۔ تو آج ملک و قوم اور خدا کے حضور سرخرو ہوتے۔ لیکن ایسا کرنا پیپلز پارٹی کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہی ایجی ٹیشن سے شروع ہو کر ایجی ٹیشن پہ ختم ہوتی ہے۔ خواہ یہ پانچ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک حکمران ہی کیوں نہ رہے ہوں ۔الیکشن ہونے دیں ۔جیتنے یا ہارنے کے بعد یعنی ہر دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی پاکستان کے اداروں کا رونا رو کر اپنے آپ کو سیاسی مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری طرف ماضی میں وفاق میں دو دفعہ حکمران رہنے والی اور پنجاب میں اس وقت حکمران ۔اور پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی۔ اور اپنے آپ کو مستقبل میں پاکستان کے حکمران سمجھنے والی نون لیگ ۔سے کیا امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں؟۔ جو اخباری اطلاعات کے مطابق مینار ِپاکستان کے نیچے اپنا حکومتی کیمپ لگائے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا مبینہ غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا ریکارڈاحتجاج کروارہے ہیں ۔ مانا کہ بجلی پیدا کرنا اور اسے سب صوبوں میں برابر تقسیم کرنا وفاق کے ذمے ہوگا ۔اورایسا کرنے میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ناکام رہی ہے۔ مگر کیا پنجاب پولیس کے ہاتھوں ستائے ہوئے پنجاب کے عوام اور تھانہ کلچر کی من مانیا ں اور پنجاب پولیس میں غنڈہ گرد عناصر کے ہاتھوں مظلوم لوگوں کو نجات دلانا۔ اور ایک منصفانہ تھانہ کلچر قائم کرنا ۔کیا پنجاب حکومت کے فرائض میں نہیں آتا؟۔ آج بھی پنجاب پولیس کے زیر سرپرستی اور پنجاب کے اکثر و بیشتر تھانوں میں بھینس کی چوری سے لیکر قتل جیسے سنگین معاملات پہ باہمی فریقوں سے مُک مکا کے بعد پرچے رپوٹیں اور ایف آئی آر لکھی جاتی ہیں۔ اور عدالتوں سے بالا کمزور فریق کو راضی نامے پہ زبردستی مجبور کیا جاتا ہے۔ جس کے پیچھے طاقتور کا پیسہ اور اثر و رسوخ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اور عام شریف آدمی کی یہ حالت ہے کہ وہ بھرے بازار میں لٹ جانا برداشت کر لیتا ہے۔ مگرپولیس کے خوف اور رشوت خوری کی وجہ سے تھانے میں رپورٹ کرانے سے ڈرتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت یا دوسرے لفظوں میں ن لیگ اپنی حکومت میں اپنی پولیس کو درست نہیں کرسکی تو اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔ کہ ایسا نہ کرنے میں پنجاب حکومت کی نیت میں اخلاص کی کمی ہےیا پنجاب حکومت میں اہلیت کی کمی ہے ۔کوئی ایک وجہ ضرور ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں کے بلند بانگ دعوؤں کے باجود پولیس کا محکمہ بجائے سیدھا ہونے کے مزید بگڑ چکا ہے۔جس سے ہر دو صورتوں نقصان سادہ لوح عوام کو پہنچ رہا ہے۔ پولیس کا محکمہ تو محض ایک مثال ہے۔ ایسی کئی مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں۔ جبکہ مینار پاکستان کے سائے میں پنجاب حکومت کے کیمپ لگانےسے ،خدا جانے عوام کے کتنے ضروری کام رہ گئے ہونگے ۔پنجاب کے وزیر اعلٰی کے بس میں سفر کرنے سے نہ جانے کیوں ضیاءالحق کا سائیکل چلانا یاد آگیا ۔ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ اسطرح کے پروپگنڈا ہ اور چونکا دینے والے اقدامات سے وی آئی پیز کی سیکورٹی اور تشہیر کے متعلقہ اقدامات پہ کس قدر خرچ آتا ہے ۔ اور جب حکمران اس طرح کے غیر ضروری کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ تو قوم کے کس قدر ضروری کام حکمرانوں کی توجہ اور وقت نہ ملنے سے ادہورے رہ جاتے ہیں۔ یہ ماننے کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ اس بات کا ادراک پنجاب حکومت کے حکمرانوں کو نہیں ہوگا ۔اگر انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے تو یہ نااہلی ہے ۔اور اگر ادراک ہوتے ہوئے انہوں نے یوں کیا ہے ۔تو عام آدمی کو بے وقوف بناتے ہوئے محض پیپلز پارٹی کی نااہلی کے مقابلے پہ اپنا سیاسی گول کرنے کی تگ دور میں اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا ارتکاب ہے۔

پاکستان کی ایک اور سیاسی جماعت عمران خان کی تحریک انصاف ہے ۔ جسے پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تسلیم کروانے کا پراپگنڈہ صبح شام کیا جاتا ہے۔ وہ کن ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور اسکے باہمی اجزائے ترکیبی کی دم پخت کیسی ہے ۔اس کے بارے ہر واقف حال جانتا ہے۔ عمران خان کے دل میں پاکستان کے لئیے خلوص بدرجہ اُتم موجود ہوگا ۔مگر چونکہ سیاسی جماعت کسی ایک رہنما کانام نہیں ہوتا ۔ اسمیں شامل سبھی چہرے مل کر ایک خاص تصویر بناتے ہیں اور تحریک انصاف میں شامل چہروں سے تحریک انصاف کی جو تصویر بن کر سامنے آتی ہے ۔و ہ سب کے سامنے ہے ۔ اور اقتدار مل جانے کی صورت میں صرف اسکا کوئی ایک رہنماء نہیں بلکہ اسمیں شامل چہرے ملکر ملک و قوم کی نیا کو پار لگانے یکا جتن کرتے ہیں اور جب بکل میں چور بٹھا رکھے ہوں تو قوم کی نیا پار لگنے کی بجائے ڈوب جانے کے خدشات و امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انقلابی تبدیلی کے لئیے صرف عمران خان کے وعدے اور دعوے ہی کافی نہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف کے علمبردار ابھی تک اس انقلابی تبدیلی ۔۔جس کے وہ دعویدار ہیں اس کے لئیے ٹھوس تجاویز ۔ بہتر طریقہ کار اور متبادل نظام واضح کرنے میں ناکام ہیں۔

اسکے بعد پاکستان کی وہ علاقائی ، لسانی اور گروہی پارٹیاں یا پریشر گروپ ہیں۔ جنکے وجود کے ہونے کا مقصد ہی اپنے وزن کو اقتدار نامی ترازو میں ڈال کر ۔بلیک میلنگ اور آنے بہانوں سے اقتدار میں اپنے جثے سے کہیں زیادہ حصہ وصول کرنا ہے۔

مذہبی جماعتیں اپنے ممکنہ اتحاد و نفاق اور پاکستان میں متواتر عالمی دخل در معقولات نے انھیں اس قابل نہیں چھوڑا ۔کہ انکی کسی معقول بات بھی عوام کان رکھنے کو تیار ہوں۔

فوجی حکومتوں نے جس بری طرح پاکستان کا حلیہ بگاڑا ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے ۔ فوج سرحدوں کی بہتر نگہبانی صرف اسی صورت میں کر سکتی ہے۔ جب وہ خود اقتدار کی دیگ پہ قابض نہ ہو ۔ پاکستان کی بڑی جنگیں فوجی سربراہوں کے دور میں ہوئیں ۔ مشرقی پاکستان کے سابقہ ہونے۔اور بنگلہ دیش کے قیام کا واقعہ بھی فوجی حکومت میں ہوا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں کہ بغیر کسی تامل اور حیل حجت کے امریکہ کے سامنے پاکستان کو چارے کے طور پہ پھینکنے والا بھی ایک فوجی حکمران مشرف تھا ۔ جس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہیں ۔اور خدا جانے کب تک پاکستان اس جنگ کے بداثرات سمیٹتا رہے گا۔

یہ مندرجہ بالا فریق ہیں جو پاکستان کے اقتدار اعلٰی میں رہنے۔ یا ریاست پاکستان کے اقتدار اعلٰی حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اور ممکنہ طور پہ پاکستان کے مستقبل کے حکمران ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں ان سے کسی تبدیلی اور اسکے نتیجے میں پاکستان کے وفاقی بجٹ میں کسی عمدہ پیش رفت کا ہونا ۔ یا ملک و قوم اور خود پاکستان کے لئیے نتیجہ خیز انقلابی تبدیلی لانا ناممکن ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ایسے حالات میں پچھلے تریسنٹھ سالوں کی طرح اگلا بجٹ اس سے بھی ظالم اور خود فریب ہوگا ۔جس کی قیمت پاکستان اور پاکستان کے زندہ درگو عوام کو اپنی بھوک اور بے چارگی سے اٹھانی ہوگی۔ خاموشی سے ظلم سہنا اور اپنے پہ ظلم کرنے والے ظالم کا ہاتھ نہ پکڑنے سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوتا ۔جب تک پاکستان کے عوام خود ایسے ظلم کا راستہ روکنے کی جدو جہد نہیں کرتے ۔اسطرح کے اعداو شمار کے گورکھ دھندے بجٹ کے نام پہ آتے رہیں گے۔ جس میں اربوں کے حساب سے غبن اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے نااہل حکمرانوں کے لئیے تاحیات مراعات تو ہونگی ۔مگر عوام کے بھوکے بچوں کے کے لئیے دو باعزت روٹیوں کے لئیے محض جھوٹے وعدے اور روٹی کپڑا اور مکان جیسے خوشنما نعرے ہونگے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین تین جون دو ہزار بارہ ء

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: