RSS

Tag Archives: گویا

نُورا ملاح اور جے آئی ٹی


نُورا ملاح اور جے آئی ٹی ۔

نورا ملاح کشتی ”کھیہ“ رہا تھا ۔اس نے ”ونج“ کو آخری بار دریا کی تہہ میں گاڑا اور کشتی کوپتن سے لگادیا ۔ چھوٹی سی رسی سے کشتی کو دریا کنارے باندھنے کی دیر تھی کہ اس پار بکھرے دس بارہ دیہات کے اِکا دُکا مسافر جو دیر سے کشتی کا اِس پار آنے کا انتظار کررہے تھے اُچک اُچک کر جلدی جلدی کشتی میں چڑھنے لگے ۔نُورے کا گھر بھی دریا کے اِسی پار کے کچھ دُورواقع گاؤں ”وسن والا“ میں تھا،گرمیوں کی دوپہر سر پہ تھی ۔


نورے نے کشتی کا ”پُور“ (پھیرا)بھرتے سوچا یہ پچھے چار سالوں سے اسکے نصیب چمک اٹھے تھے ۔ بارہ اِس پار کے گاؤں اور بارہ چودہ اُس پار کے دیہاتوں کے لوگ بھی جوق در جوق اسکی کشتی سے اپنے ضروری کاموں سے اس یا اس پار آتے جاتے تھے ۔ اور ان سالوں میں گو ”ہاڑ“ (سیلاب) تو سر چڑھ کر آتا رہا مگر ہر بار کی مناسب پیش بندی سے اسکی کشتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ ورنہ تو پچھلے سالوں میں دو دو بار اسکے کشتی دریا کے سیلاب میں بہہ کر گُم گُما گئی تھی اور اگلے سالوں میں نُورے اور اور اسکے خاندان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر اب کی بار اللہ نے اس پہ اور اسکے خاندان پہ خاص کرم کیا تھا ۔


نُورا انہی سوچوں میں غرق اور دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوا کشتی ”کھیتا“ دریا کے درمیان پہنچ چکا تھا کہ اُس کے گاؤں ”وسن والا“ کے ”مانے“ کو پتہ نہیں کیا سُوجھی کہ اس نے کہا کہ
”نُورے میں ابھی گاؤں سے آیا ہوں اور تمہارے لئیے ایک بری خبر ہے “
نورے کی ساری خوشی کافُور ہوگئی اور وہ مانے کی طرف متوجہ ہوگیا جو بتارہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”نُورے ۔ تمہاری بیوی اپنے کسی آشناء کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے“


نورے کا رنگ فوراََ فق ہوگیا ۔ کشتی میں سوار بار ہ گاؤں کے دیہاتیوں نے چونک کر اپنی باتیں چھوڑ چھاڑ کر نظریں نُورے پہ گاڑ دیں ۔ اور نورے کو یوں لگا جیسے کسی نے اسے بھرے بازار میں ننگا کر دیا ہو۔ایک لمحے کے لئیے ”ونج“ پہ اسکی گرفت کمزور ہوئی اور کشتی لہراکر رہ گئی ۔ مگر نُورے نے دوبارہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ”ونج “ پہ اپنی گرفت مضبوط کی مگر اُسے یوں لگا جیسے کسی نے اسکے بازؤں کی طاقت سلب کر لی ہو ۔ نورا ملاح جیسے تیسے کشتی ”کھیہ“ کہ دریا کے دوسرے کنارے لگانے میں کامیاب ہوگیا ۔ کشتی کے مسافر اسے عجیب نظروں سے دیکھتے اپنے اپنے رستوں کو ہو لئیے صرف ”مانا“ رک گیا تھا اور مسافروں کے جاتے ہی نُورااپنی بربادی پہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اور اچانک ”مانا “ بے اختیار قہقے لگا کر ہنسے لگا ۔ نورے نے غم اور صدمے سے مانے کو دیکھا ۔ مانے نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
” اوئے جھلیا۔ میں تو تمہارے ساتھ دل لگی (مذاق) کر رہا تھا ۔ تمہیں پتہ تو ہے دل لگی کرنے والی میری اس پُرانی عادت کا۔ تمہاری بیوی کسی اپنے آشناء کے ساتھ بھاگ کر کہیں نہیں گئی اور وہ تمہارے گھر پہ ہی ہے۔ میں تو ایسے ہی تمہارے ساتھ دل لگی کر رہا تھا“

نُورے نے مایوسی اور غم کے ملے جُلے جذبات اور رندھے ہوئے گلے سے دور دراز راستوں پہ جانے والے کشتی کے مسافروں کو دیکھا اور ”مانے“ سے گویا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”مانے! تم نے تو دل لگی کی مگر میرا ستیا ناس کردیا۔اب یہ سمجھو کہ کہ میری بیوی واقعی گھر سے بھاگ ہی گئی ہے۔یہ بارہ گاؤں کے لوگ بارہ چودہ مختلف گاؤں کو جائیں گے اور اتنے ہی لوگوں کو بتائیں گے کہ نورے ملاح کی بیوی آج گھر سے بھاگ گئی ہے۔ نہ یہ سارا ”پُور“ دوبارہ اکھٹا ہوگا ۔ اور نہ ہی وہ تم سے یہ جاننا چاہیں گے کہ تم نے مجھ سے دل لگی کی تھی جبکہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ گھر سے نہیں بھاگی تھی۔ اور اگر اتفاق سے وہ اکھٹے ہو بھی جائیں اور تم انہیں حقیقت بتا بھی دو تو اتنے سارے دیہاتوں میں جہاں ان کے بتانے سے میری نیک نامی تار تار ہوگی وہ کیسے نیک نامی میں بدل پائے گی؟ بس ”مانے“ اب یوں سمجھوں کہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ بھاگ ہی گئی ہے اورمیری نیک نامی تواب واپس آنے سے رہی“


نواز شریف نے اگر کرپشن نہیں بھی کی تو بھی اب نواز شریف جس قدر متنازع شخصیت بن چکے ہیں اور ثابت اور غیر ثابت شدہ الزام تراشیوں میں گھر چکے ہیں ۔توانہیں چاہئیے کہ ملک و قوم کے وسیع ترمفاد میں اپنے عہدے سے استعفی دے کر بچی کچھی کچھ نیک نامی سمیٹنے اور جمہوریت کو بچانے کی کوشش کرنی چائیے۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پھر بجٹ۔


پھر بجٹ۔

Budget (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)
دور روز قبل پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے پاکستان کا سالانہ (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)بجٹ پیش کیا ہے ۔
یہاں حالیہ پیش کردہ بجٹ کے گورکھ دہندے پہ بحث کرنا مقصود نہیں ۔ کیونکہ یہ لچھے دار اور گنجلک بجٹ ہمیشہ سے عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر رہے ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ انہیں بابو لوگ پاکستان کے دیگر سرکاری نظام کی طرح جان بوجھ کر بھی کچھ اسطرح پیچیدہ اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز بنا دیتے ہیں تانکہ عام عوام حسبِ معمول ہمیشہ کی طرح محض سر ہلا کر ”قبول ہے“ کہنے میں ہی عافیت سمجھے ۔
بجٹ کی ایک سادہ تعریف تو یہ ہے کہ کسی بھی ذاتی یا مشترکہ نظام کو چلانے کے لئیے اس نظام پہ اٹھنے والے اخراجات اور اسکی ترجیجات کے لئیے کسی ایک خاص مدت کے لئیے دستیاب میسر وسائل کی منصوبہ بندی کرناہے۔ اسے عام طور پہ بجٹ کہا جاتا ہے ۔ بجٹ ذاتی یا گھریلو بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ جاتی یا ملکی بھی ہوتا ہے ۔ گھریلو ہو تو عام طور پہ اسے ماہانہ بنیادوں پہ سوچا جاتا ہے اور اگر ادارہ جاتی اور ملکی ہو تو اسے سالانہ بنیادوں پہ بنایا جاتا ہے ۔ جسے ملک و قوم کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پہ تیار کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پہ تقریبا سارے دنیا کے ممالک کسی نہ کسی طور سالانہ بجٹ کے تحت اپنے معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس میں مختلف مقاصد کے لئیے مخصوص رقم مقرر کی جاتی ہے اور رقم اور وسائل کی دستیابی کے لئیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔قومی ترقی۔ دفاع ۔ صحت ۔ تعلیم اور دیگر اہداف مقرر کئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں بجٹ کے آغاز سے بجٹ کے مالی سال کے اختتام تک بندر بانٹ ۔ وقتی ضرورت ۔ بد دیانتی اور دیگر کئی قسم کے جوازوں کے تحت قومی خزانے کے صندوق کا ڈھکن اٹھا دیا جاتا ہے اور بڑھے ہوئے ہاتھ ۔ قوم کی امانت رقم کو قومی ضروت سے کہیں زیادہ اپنی ذاتی اغراض کے لئیے اپنی طرف منتقل کر لیتے ہیں اور منتقلی کا یہ عمل ایسی سائنسی طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ کہ قومی خزانے کو بے دردی سے لُوٹنے والے چور بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر ”چور“ چور“ کا شور مچاتے ہیں ۔اور مجال ہے کہ چشم دید گواہوں اور شہادتوں کے باوجود ایسی طریقہ واردات پہ کسی کو سزا دی گئی ہو۔ اور پاکستان کے نصیب میں ہمیشہ سے یوں ہی رہا ہے ۔
قوم کی امانت ۔ قومی خزانے کو خُرد بُرد ہر اور ہیرا پھیری سے اپنی جیب میں بھر لینا ۔شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں کم وسائل اور عالمی مہاجنوں کے مہنگے قرضوں۔ امداد و خیرات سے تصور کئیے گے وسائل سے (خسارے کا بجٹ) خسارے کے بجٹ پہ حکومتوں اور اداروں کے سربراہوں ، مشیروں وزیروں کے شاہی اخراجات اور ایک عام چپڑاسی سے لیکر عام اہلکاروں اور اعلٰی عہدیداروں کے حصے بقدر جثے اور دیگر اللوں تللوں سے یہ تصور محض تصور ہی رہتا ہے کہ کہ پاکستان سے غربت اور ناخواندگی ختم ہو اور قومی ترقی کی شرح میں قابل قدر اضافہ ہو۔اور مالی سال کے آخر میں وہی نتیجہ سامنے آتا ہے جو پاکستان میں پچھلی چھ دہائیوں سے متواتر آرہا ہے کہ نہ صرف غریب ۔ غریب سے غریب تر ہوتا گیا بلکہ ہر سال غریبوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ عالمی اداروں کی حالیہ حد بندیوں میں پاکستان کئی درجے نیچے کو لڑھک رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی Low povertyگزارنے والی آبادی نصف سے زائد ہے ۔ خود اسحق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غریبی کی آخری حد سے نیچے ۔ یعنی دو ڈالر یومیہ آمدن سے کم کماتی ہے۔ یعنی ایسے غریب جو مستقبل کے بارے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے محض اس لئیے قاصر ہیں کہ وہ اپنے یومیہ بنیادی اخراجات پورے کرنے کی جستجو میں محض زندہ رہنے کا جتن کر پاتے ہیں۔ایسے حالات میں ایک لگے بندھے بجٹ کے طریقہ کار سے حکومت اور ذمہ دار اداروں کا اپنے آپ کوقومی ذمہ داریوں سے سبک دوش سمجھ لینا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کی انتہائی غریب آبادی کی غربت اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بجٹ اجلاسوں پہ اعدو شمار پیش کئیے جاتے ہیں ۔ اور ان پہ کئی کئی دن لگاتار یوانوں میں اجلاس ہوتے ہیں ۔ جہاں حکوت بجٹ کے حق میں دلائل دیتی ہے وہیں حب اختلاف اور دیگر جماعتیں بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ حزب اختلاف کئی ایک تجاویز دیتی ہے ۔ حزب اختلاف اور حکومت سے باہر سیاسی جماعتیں حکومت کے متوازی۔ اپنے طور پہ بجٹ کے لئیے باقاعدہ تیاری کرتی ہیں ۔اور متبادل تجاویز کو کئی بار حکومت تسلیم کر لیتی ہے۔ اور ایک بار بجٹ طے پا جانے پہ اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئیے حکومت تہہ دل سےمقر ر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لئیے مطلوب وسائل مہیاء کرتی ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اور اور قومی اسمبلی کے معزز اراکین کا یہ عالم ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق قومی خزانے سے کرڑوں روپے خرچ کر کے قومی اسملی کے ارکان کے لئیے بجٹ کی دستاویز چھپوائی گئی ۔ جسے ستر فیصد سے زائد قومی اسمبلی کے معزز ارکان بغیر کھولے ہی قومی اسمبلی ہال کے ہال میں اپنی سیٹوں پہ چھوڑ گئے ۔ اس میں حکومتی ارکان بھی شامل ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار کی تقریر کے دوران بھی قومی اسمبلی کی اکثریت ۔ بیزار ۔ بور اور آپس میں بات چیت کرتی نظر آئی ۔ ہماری رائے میں پاکستان سے متعلق اتنے اہم مسئلے پہ عدم دلچسپی کے اس مظاہرے کی وجہ اراکین اسمبلی کو بھی پاکستان کی سابقہ بجٹوں کی طرح اس بجٹ پہ بے یقینی اور بجٹ پیش کرنے کی کاروائی محض ایک رسم اور ایک قومی تقاضا پورا کرنے کے مترادف لینا ہے اور دوسری بڑی وجہ معزز اراکین کی بڑی تعداد کی تعلیمی استعداد اور سوجھ بوجھ کی کمی ہوسکتی ہے ۔ تو ایسے حالات میں پاکستان جیسے غریب سے غریب تر ہوتے معاشرے کے لئیے ایک قابل عمل اور نتیجہ خیز بجٹ کے لئیے مفید اصلاحات کون پیش کرےگا؟، حکومت کے بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کون کرے گا؟۔اسحق ڈار کے لبوں پہ ایک فاتح کی سی معنی خیز مسکراہٹ بھی اس امر کی غمازی کر رہی تھی ۔کہ کوئی تنقید نہیں کرے گا۔ اور بجٹ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا۔ تو ایسے حالات میں پاکستانی عوام کس کا پلُو تھام کر اسطرح کے بجٹوں پہ فریاد کریں ؟۔
آجکل پاکستان میں ٹیکس گزاروں کا نیٹ ورک بڑہانے کے لئیے بہٹ شور مچا ہوا ہے ۔ بہت سے ترقی یافتہ اور ٹیکس سے چلنے والے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اور پاکستان میں ٹیکس گزاروں کی ٹیکس چور ی کو تنقید کا نشانہ بنانا عام ہے ۔ لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ اُن ممالک میں حکومتی ادارے کس طرح عوام کے ٹیکسوں سے ملکی آمدن کو سوچ سمجھ کر انتہائی ذمہ داری اور دیانتداری سے ایک مکمل منصوبہ بندی سے استعمال میں لاتےہیں جس کے نتیجے میں عام آدمی کو ہر قسم کی بنیادی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور عوام کی فلاح بہبود اور ترقی پہ ٹیکسوں کو خرچ کیا جاتا ہے ۔ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور انہیں نہ صرف کریمنل یعنی سنگین مجرم بلکہ اخلاقی مجرم بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے نام سے عام آدمی گھن کھاتا ہے اور انکا ذکر انتہائی ناگواری سے کرتا ہے ۔ اور بہت سے ممالک میں ایسے حکومتی عہدیدار اور سیاستدان اسطرح کے اسکینڈل منظر عام پہ آنے سے اپنے عہدوں سے استعفی دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اپنے مقدموں کا سامنا کرتے ہیں ۔ اور بہت سے بدنامی کے ڈر اور لوگوں کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لیتے ہیں ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں ؟۔۔۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ کلچر عام ہے اور اسے ستائشی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ کہ جو جتنا بڑا چور ہوگا اسکے حفظ و مراتب بھی اسی حساب سے زیاد ہ ہونگے ۔ وی وی آئی پی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ کسی وجہ سے اپنا عہدے سے سبک دوش ہوجائیں تو بھی انہیں ہر جگہ ۔ہر ادارے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ایسے ماحول اور معاشرے میں تو ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی طرح روپیہ کما کر جلد از جلد اہمیت پانا چاہے گا۔ خواہ اس کمائی کے حلال اور حرام ہونے پہ سو ال اٹھیں۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جن کی وجہ سے ملک کی آج یہ حالت ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کی محض روز مرہ مسائل کی وجہ سے خودکشیوں میں شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ۔ انہیں ۔ ایسے لوگوں کو حقیر جانا جاتا ۔انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ۔ اور نیک ۔ دیانتدار اور ٹیکس گزار وں کو قابل احترام سمجھا جاتا ۔ انکی حوصلہ افازئی کی جاتی تانکہ محنت سے آگے بڑھنے کا کلچر فروغ پاتا۔ عام آدمی بجائے شارٹ کٹ ڈہونڈنے کے محنت پہ یقین رکھتا۔مگر نہیں صاحب ۔ قومی چوروں کو حرام کے ۔ لُوٹ کھسوٹ اور قومی خزانے کو نقصان دے کر بنائی گئ جائیدادوں اور پیسے کی وجہ سے ہر جگہ سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔ اور جو لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں انتہائی حقارت سے دھتکار دیا جاتا ہے ۔ تو سوال یہ بنتا ہے کہ پھر آپ کس طرح اپنے ٹیکس گزاروں کے نیٹ ورک میں اضافہ کرنا چاہئیں گے ۔ اور ٹیکس نہ دینے والوں کا رونا رونے کے ساتھ اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے بھرپور کلچر کو بھی تبدیل کی جئیے ۔
وہ قومیں جو ہماری طرح شدید غربت سے دوچار نہیں وہ بھی اپنی قومی آمدنی بڑھانے کے لئیے کئی ایک حربے آزماتی اور نت نئے جتن کرتی ہیں ۔ جبکہ ہمارے ملک کے بادشاہ لوگوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایک سرمایہ کاری کا ایک مناسب اور اہم ذریعہ پاکستانی امیگرنٹس کی شکل میں بھی موجود ہے جنہیں مناسب ترغیب، اور منصوبہ بندی سے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی طرف راغب کرنا چندا مشکل نہ تھا کہ وہ قومی یا کاروباری اسکیموں میں پیسہ لگاتے اور کارپوریشنز کی طرز پہ انکے سرمایے اور منافع کی دیانتدارانہ نگرانی کی جاتی ۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ۔ روٹی ۔ روزی ۔ روزگار کی وجہ سے یا ملازمت اور کاروبار کی وجہ سے پاکستان سے باہر مقیم افراد کو جسطرح بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح پاکستانی ائر پورٹو ں پہ ان سے سلوک کیا جاتا ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر سمیت ہر قسم کے محکماتی کاؤنٹر پہ انکے ساتھ افسر مجاز انہیں کسی جیل سے بھاگے ہوئے قیدی کی طرح سوال جواب اور سلوک کرتا ہے۔ کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ کہاں تو دیگر ممالک کے ائر پورٹس کاونٹر ز پہ مثالی انسانی سلوک کہ غیر قانونی دستاویزات پہ سفر کرنے والے مجبور پاکستانیوں کا جُرم پخرے جانے پہ بھی ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ اپنے ملک پاکستان سے آتے یا جاتے ہوئے ائر پورٹوں پہ اتنا انتہائی ذلت آمیز رویہ۔ کہ دماغ بھنا اٹھے۔ اور پاکستان کے اداروں کا یہ سلوک ان لوگوں سے۔ جو کئی دہائیوں سے مسلسل اپنے خُون پسینے کی کمائی سے۔ ریاستِ پاکستان کی زر مبادلہ کی کمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ۔پاکستان میں مقیم کروڑوں افراد کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے ۔ تو آپ کیسے ان سے یہ توقع اور امید رکھیں گے کہ پاکستان میں ہر قسم کی عدم سہولتوں اور امن عامہ کی عدم موجودگی کے باوجود اور اسقدر انتہائی اہانت آمیز سلوک کے باوجود وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے؟ یہ ایک ننھی سی مثال ہے ۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے بعض اوقات ہم قومی مفادات کو بھی پس پیش ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اپنے پاس موجود وسائل کو ملکی رو میں شامل کرنے کی بجائے اسے ملکی نظام سے بدظن کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے عد توجہ اور لاپرواہی پاکستان میں گھسٹتے نظام کی ایک ادنی سی مثال ہے کہ کس طرح ہم اپنے دستیاب وسائل کو کس بے درردی سے ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے دیگر طبقوں کی مثالیں دی جاسکتیں ہے۔
ایک عام سا فطری اور مالیاتی اصول ہے کہ جس چیز کی ضرورت جتنی اشد ہو گی اسکے حصول کی لئیے کوشش بھی اسی طرح زیادہ کی جائے گی ۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا حصول اور انہیں مناسب طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔جبکہ پاکستان میں کتنے صدق دل سے اس اصول کے خلاف کوشش کی جاتی ہے ۔ پاکستان کے کسی بھی ائر پورٹ یا پورٹ کو استعمال کر کے دیکھ لیں ۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی قابل کسٹم ڈیوٹی اشیاء ۔ خواہ وہ ذاتی ہوں یا کاروباری ۔ یا تحائف ۔ پاکستانی کسٹم کا مستعد عملہ بڑی جانفشانی سے آپکے سامان کی تلاشی لے گا ۔ اور نتیجے میں اس سے برآمد ہونے والی اشیاء کے بارے نہائت تندہی اور خونخوار لہجے میں اس پہ کسٹم ڈیوٹی کی رقم بتائے گا ۔اور ایک سانس فر فر سبھی قانون قائدے بیان کردے گا۔اور محصول کی رقم اسقدر بڑھا چڑھا کر بتائے گا کہ پاکستان پہنچنے والے پریشان حال اور تھکن کے مارے۔ لاعلم۔ مسافر کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔پریشانی بھانپتے ہی ایک آدھ اہلکار نہائت ہمدردی سے سر گوشی کے انداز میں استفسار کرے گا صاحب سے ککہ کر کچھ کم کروا دوں؟ اور دیکھتے۔ دیکھتے سر عام بولی لگے گی ۔ مُک مکا ہوگا۔ اور وہ رقم جسے قومی خزانے میں جانا چاہےتھا ۔ جس خزانے سے کار سرکار پہیہ چلتا ہے ۔ وہ رقم ۔ قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات پانے والے ہر قسم کے حفظ و مراتب وصولنے والوں کی جیب میں چلی جائے گی ۔ گویا حکومت نے قومی خزانے سے تنخواہ اور وردی دے کر لٹیروں کو قومی وسائل کو خرد برد کرنے کے لئیے بھرتی کر رکھا ہے ۔کچھ یہی عالم پولیس اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے سبھی چھوٹے ،بڑے ۔ اہم اور غیر اہم سرکاری اداروں کا ہے ۔ محکمہ کسٹم تو محض پاکستان میں کرپشن کے گلشیئر کا نکتہ آغاز ہے ۔کبھی سوچئیے کہ اگر صرف محکمہ پولیس کا ٹریفک ڈپارٹمنٹ جرمانوں کی وہ رقم جو قومی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے پولیس اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے ۔ یہ رقم اگر قومی خزانے میں جمع ہو تو پولیس کی ماہ بھر کی تنخواہ ان سے آسانی سے دی جاسکتی ہے۔ اور نتیجتا قانون کی حکمرانی کا شعور اور رواج بھی ملک میں پھیلے گا ۔ اگر کوئی یہ کہے پاکستان کے اداروں یا کسٹم کے ادارے میں اور ائر پورٹس وغیرہ پہ مکا مکا کی بولی سر عام اور سب کے سامنے نہیں ہوتی تو ایسی حکومت اور ذمہ داروں کو اپنی بے خبری پہ ماتم کرنا چاہئیے ا لاہور ۔ اسلام آباد ۔ کراچی ہر ائر پورٹ پہ بڑے دھڑلے سے اور سر عام ہوتا ہے تو حکومت اور بدقماشی ۔ رشوت اور کرپشن روکنے والے حکومتی اداروں کو اسکی خبر نہیں ؟ ایسے بدقماش اہلکاروں کو سزا دینا۔ دلوانا اور نوکریوں سے فارغ کرنا حکومت کے دیگر فرائض میں سے ایک فرض ہوتا ہے ۔۔ پاکستان میں زکواۃ کے دنوں پاکستانی اپنی رقم بنکوں سے محض اسلئیے نکال لیتے ہیں کہ انہیں حکومت کی زکواۃ کٹوتی پہ بھی شکوک ہیں اور وہ اپنی زکواۃ خود اپنی تسلی سے دیتے ہیں ۔ حکومتی زکواۃ کمیٹیوں پہ یقین نہیں کرتے ۔ حاصل بحث اگرحکومت خود سے کچھ کرنے سے قاصر ہو اورقومی خزانے کو تیل دینے والے عام معلوم اداروں اور عہدیداروں کو کرپشن سے باز نہ رکھ سکے تو ایسے ماحول میں آپ کا ٹیکس گذار کس خوشی میں آپ کو ٹیکس دینے کو تیار ہوگا؟
پاکستان کے اقتصادی و معاشی اور معاشرتی حالات ۔ اندھے بجٹ کے ذریعئے نہیں سدھریں گے۔ اعدادہ شمار کا یہ گورکھ دھندا اگر اتنا ہی مفید ہوتا تو ہر سال غربت میں کمی ہوتی اور ملک و قوم ترقی کرتے جب کہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ ملک میں غربت اور مہنگائی کا عفریت کب کا منہ کھولے عوام کی امیدو اور خواہشوں کو ہڑپ کرچکا ہے اور کئی سالوں سے پاکستان کے غریب عوام مفلسی اور مفلوک الحالی میں محض زندہ رہنے کا جتن کرتے ہیں۔عام پاکستانی شہری کو پاکستان کے سال در سال پیش کئیے جانے والے بجٹوں سے کوئی امید اور توقع نہیں رہی۔ اور پاکستان میں ایک عام خیال جر پکڑ چکا ہے کہ ہر سال بجٹ کے ساتھ اور فورا بعد میں مہنگائی کی ایک تازہ لہر آئے گی جو شدت میں پچلی مہنگائی سے زیادہ ہوگی ۔ اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے عام آدمی کے یوں سوچنا سمجھ میں آتا ہے۔
اگر ملک کی حالت اور قوم کی تقدیر بدلنا ہے تو ۔ بڑے منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ مگر ایک حقیقی تبدیلی اورقومی اقتصادی ترقی کے لئیے ۔ اسکے ساتھ ساتھ گلی محلے سے لیکر گاؤں۔ گوٹھ۔ بستیوں اور شہروں کے لیول کی چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندیاں کرنی پڑیگی ۔ ان منصوبوں کے لئیے وسائل ۔ سرمایہ ۔ اور دیانت دارانہ نگرانی ، اہداف کی تکمیل تک حکومت کو سرپرستی کرنا ہو گی ۔ گلی محلے سے لیکر ملکی اور قومی سطح پہ کی جانے والی منصوبہ بندی لوگوں کی مقامی ضروریات کے مطابق ۔ پاکستانی ۔ محنت کش ۔ اور ہنر مندوں کی صلاحیتوں پہ اعتماد کرتے ہوئے ۔ انکی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے کی جائے ۔ انہیں چھوٹے چھوٹے پیداواری اہداف دئیے جائیں۔ حکومتی ادارے اپنی تحقیق سے ایسے اہداف کی نشاندہی کریں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تحقیقی شعبوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اور مطلوبہ پیداوار کی عام منڈیوں میں کھپت ۔حکومت کے فعال اور دیانتدار ادارے کریں ۔ پاکستان با صلاحیت افرادی قوت سے مالامال ہے ، اسکی عمدہ مثالیں فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹریز ۔ گوجرنوالہ میں پنکھے ۔ اور واشنگ مشینیں ۔ اسٹیل کے برتن ۔ گجرات میں پنکھے ۔ فرنیچر ۔ برتن ۔ سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان ۔ لیدر جیکٹس ۔ جراہی کا سامان اور پاکستان میں کئی اور شہروں میں مختلف قسم کا سامان تیار کرنے والوں سے جڑے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور نتیجے میں وہ پیداوار ہے۔ جس سے پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے اور ان شہروں کی عام آبادی مناسب روزگار ہونے کی وجہ سے عام علاقوں کی نسبت خوشحال بھی ہے ۔ ان شہروں میں بہت سی مصنوعات کے چھوٹے چھوٹے جُز پرزے گھروں میں تیار کئیے جاتے ہیں۔ اگر اس جوہر قابل کی مناسب تربیت کر کے اسے قومی پیدوار میں شامل کیا جائے تو قوم کو بہتر نتائج ملیں گے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سی قوموں نے ننھی سطح سے سے مائیکرو منصوبہ بندی کرتے ہوئے نہ صرف پیدواری عمل بڑہایا ہے اور آج صف اول کی قوموں صف میں کھڑی ہیں ۔ بلکہ انہوں نے اسطرح اپنے شہریوں کو روزگار مہیاء کرنے کی وجہ سے ان کا معیار زندگی بھی بلند کیا ہے ۔ جبکہ پاکستان صلاحیتوں سے بھرپور اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے ۔
جب تک قومی وسائل کو بے دردی سے لُوٹنے والوں اور بودی اہلیت کے مالک منصوبہ و پالیسی سازوں سے چھٹکارہ نہیں پاتے ۔چور دورازوں کو بند نہیں کرتے ۔ پاکستان کو دستیاب وسائل کی قدر نہیں کرتے ۔ اور بھرپور طریقے سے انہیں استعمال میں نہیں لاتے ۔ بنیادی تبدیلی کے لئیے مناسب اور مائکرو منصوبہ بندی نہیں کرتے ۔ افرادی قوت کی مناسب رہنمائی اور تربیت نہیں کرتے تب تک معاشریہ ان چھوٹی بنیادوں۔ اور اکائیوں سے اوپر نہیں اٹھے گا اور تب تک ایک باعزت قوم بننے اور اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کا خوآب ادہورا رہے گا ۔ ہم خواہ کس قدر قابل عمل بجٹ بناتے رہیں نتائج وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہیں گے اور قومی ترقی کا خوآب محض خوآب ہی رہے گا۔ سال گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ جون 2015 ء میں ایک بار پھر وہی تقریر اور لفظوں کا ہیر پھر محض ایک خانہ پری ہوگی۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔



نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی کے عنوان سے شاکر عزیز اپنے بلاگ پہ رائے دیتے ہوئے گویا ہیں ۔ ۔”مزے کی بات یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے مطابق برصغیر کو جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اگر ہوتا تو سارے مسلمان ایک طرف، ہندو ایک طرف، سکھ ایک طرف، عیسائی ایک طرف، پارسی ایک طرف ہوتے۔ لیکن ہوا کیا؟ جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں۔ویسے تو کانگریسی مسلمان رہنماؤں کا ایک آرگیومنٹ ہے لیکن یہاں فٹ بیٹھ رہا تھا۔“۔Muhammad Shakir Aziz at May 1, 2013 at 11:43 PM

دنیا میں میں جب بھی دو یا دو سے ذیادہ قومیں الگ ہوئیں اور انہوں نے الگ ملک قائم کئیے تو نئے ”حقائق “ وجود میں آئے۔ جنہوں نے نئی ریاست یا ریاستوں کی حد بندی کی وجہ سے وجود پایا۔ بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بارے آپ فرما رہے ہیں کہ بر صغیر کی تقسیم جغرافیہ کی بنیاد پہ ہوئی اور آپ نے اپنی اس دلیل کا کوئی ثبوت مہیاء نہیں کیا۔ اگر واقعتا یوں ہوتا تو بر صغیر کی تقسیم کے لئیے ۔ صوبوں کے حدودر اربعے کے مطابق ۔پنجاب میں ہندؤ مسلم اور سکھ کی تمیز کئیے بغیر صرف پنجابی ہوتے اور کوئی دوسری قومیت نہ ہوتی ۔ اور اسی طرح سندھ میں سندھی ہوتے خواہ وہ کسی بھی مذھب کے ہوتے ۔ اتر پردیش میں مذہبی تخصیص کے بغیر یو پی والے اور بہار میں بہاری اور بنگالے میں ہندؤ مسلم اور دیگر مزاہب کے بنگالی ہوتے۔ یا پھر برصغیر میں واقع مختلف وادیوں پہ تقسیم ہوتی تو اسے جغرافیائی تقسیم کہا جاتا ۔ جبکہ ہندؤستان کی تقسیم ہر کلیے اور قانون کے تحت ہندؤستان کے بڑے مذاہب کی الگ۔ الگ شناخت اور اکھٹے مل کر نہ رہ سکنے کی کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ اس وقت کی انگریزی سرکار ۔ ہندؤ ۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے تسلیم شدہ نمائیندؤں کے باہم سالوں پہ مبنی گفت و شنید اور نئی اور آزاد ریاستوں کے وجود کے لئیے ممکنہ لوازم اور ضوابط پورا کرنے کے بعد برصغیر پاک ہند کو صرف اور صرف دو مذاہب کے ماننے والوں کو دو قومیں (دو قومی نظریہ) کے وجود کے تحت جہاں اور جس علاقے میں جس قوم کی اکثریت تھی انھیں وہ علاقے دو نئی ریاستوں ۔ پاکستان اور بھارت کا نام دے کر دو نئے ملک دنیا کے نقشے میں وجود میں لائے گئے۔ دونوں ملک بن گئے ۔ ( قطع نظر اس بات کے کہ ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن اور آخری انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ہندؤں سے ملی بھگت کر کے سرحدوں کے تعین میں ڈنڈی ماری اور کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا ا مگر اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں) سر حدوں کا اعلان ہوگیا۔ ہر دو طرف کے شہریوں کو پتہ چل گیا کہ انکے علاقے کون سے ملک میں شامل ہورہے ہیں۔ انھیں اپنے اپنے ملک کی طرف ہجرت کرنا پڑی ۔ جو زبان ۔ صوبے ثقافت۔ یا قبیلے (قبیلے کی بنیاد اسلئیے بھی لکھ رہا ہوں کہ ایک ہی وقت میں پنجاب میں کئی قبیلے مسلمان ۔ سکھ اور ہندؤ مذہب میں بٹے ہوئے تھے۔ اور سندھ میں بھی کئی قبائل کے مختلف مذاہب تھے ) کی بنیاد کی بجائے مذہب یعنی دو قومی نظریہ کی بنیاد پہ وجود میں آئے  ۔ اور ہندؤستان کے مسلمان باسی اپنے مذہب ۔ ہندؤں سے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ اپنے ملک پاکستان کو چل پڑے ۔ یہ باتیں تو تاریخی طور پہ طے ہیں اور واقعتا ہیں ۔ اور واقعہ کو جھٹلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اسلئیے ہندؤستان میں ہنود اور مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ یہ طے ہوا کہ ہندؤستان میں دو بڑی قومیں ہندؤ اور مسلمان بستی ہیں ۔ اور یوں دوقومی نظریہ کی بنیاد پہ نظریہ پاکستان وجود میں آیا جو بالآ خر الحمد اللہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا سبب بنا ۔
سر راہ یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ہندؤستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز میں اس بارے انتہائی مخلصانہ کوششیں کیں کہ ہندؤؤں کی نمائندہ جماعت کانگریس کے رہنماؤ ں سےمفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ مگر ہندؤ قوم کے رہنماء کسی صورت میں مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ ہندؤ رہنماؤں کی مغرور ۔ متکبرانہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی مفاہمت نہ ہوسکی ۔ مسلمان اکابرین اور رہنماؤں نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ متحدہ ہندؤستان میں مسلمان ہندؤں کے مقابلے پہ ایک انتہائی اقلیت ہونے  اور ہندؤں کے بغض اور کینہ پروری کی وجہ سے مسلمان تیسرے درجے کے شہری اور محض ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔اور ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کو بہ حیثیت مسلمان اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھنا نا ممکن ہوجائے گا ۔ اور ہندؤوں کی بے جا ضد ۔ مسلمانوں کے لئیے عدم احترام ۔مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ۔ اور متکبرانہ رویے کی وجہ سے پاکستان ۔ پاکستانی قوم وجود میں آئی ۔ جب اس بات کا احساس ہندؤ نیتاؤں کو ہوا کہ مسلمان تو ہم کو سیاست میں مات دے گئے ہیں۔ اسوقت تک برصغیر کے مسلمان۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کی صورت میں انکے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اور بھارتی برہمن حکومتیں تب سے ۔اب تک یہ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طور پاکستان کو ایک دفعہ زیر کر لیں اور انھیں غلام کی حثیت دیں ۔ ہندؤستان پہ  ایک ہزار سال کے لگ بھگ مذہب و ملت کی تفریق کیئے بغیر سب کے لئیے یکساں  مسلمانوں کی حکومت کا بدلہ مسلمانوں کو غلامی کی زنجریں پہنا کر چکائیں۔ بھارت ہمارا حریف اور روائتی دشمن ہے ۔ بھارت کی حد تک تو یہ سمجھنے کوشش کی جاسکتی ہے کہ بھارت اپنے مکرو فریب سے دو قومی نظریہ باالفاظِ دیگر نظریہ پاکستان (جو پاکستانی قوم اور ریاست کی اساس ہے) کے بارے شکوک اور شبہے پھیلانا بھارت اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہندؤ رہنماء اور بھارت اپنی روائتی دشمنی نباہتے ہوئے تقریبا پچھلی پون صدی سے نظریہ پاکستان ۔ پاکستانی قوم۔ریاست پاکستان کی مخالفت میں سر توڑ بازی لگارہے ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف پروپگنڈاہ مہم کی شدت  میں اضافہ کرتے جارہے ہیں ۔ مگر جو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستانی قوم کے کچھ لوگ دیدہ دانستہ یا نادانستگی میں تاریخ کا بازو مروڑ کر پاکستانی قوم اور ریاست پاکستان کی عمارت کی بنیاد نظریہ پاکستان کو دن رات نہ جانے کس خوشی میں کھود رہے ہیں؟ اور محض اس وجہ سے پاکستان اور نظریہ پاکستان سے بیزار ہورہے ہیں۔ کہ انھیں نظریہ پاکستان معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا رہا ہے ۔ انھیں نظریہ پاکستان کو رٹا لگا کر اس مضمون کو پاس کرنا پڑتا رہا ہے۔ اور وہ برے دن ان کو ابھی تک یاد ہیں ۔جبکہ یہ نظریہ۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے ۔ اور تقریبا دنیا بھر کے ممالک میں آئین سے انحراف پہ سخت ترین سزائیں دی جاتیں ہیں۔  جبکہ پاکستان میں آئین اور آئینی بنیادوں کو مذاق بناتے ہوئے یہ فیشن سا بنتا جارہا ہے ۔ کہ جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنے ملک اور قوم کے بارے مکمل معلومات حاصل کئیے بغیر محض کچھ نیا کرنے کے لئیے ۔ کچھ جدت پیدا کرنے کے لئیے ۔ پاکستان کی نظریاتی اساسوں پہ بر خلاف تاریخ اور آئین۔ تابڑ توڑ حملے کرنا فرض سمجھتا ہے ۔ کہ پاکستان انکا ملک نہ ہوا۔ غریب کی جورو ٹہری ۔ جس بے چاری سے۔ جس کا دل چاہے۔ دل لگی کرتا پھرے ۔ کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ۔کوئی  روکنے والا نہیں ۔ اس طرح جس کا دل کرتا ہے ۔ روز ایک نیا ”کٹا“ ( بھینس کا بچھڑا جو کھل جائے تو اسے دوبارہ باندھنے میں دقت ہوتی ہے)کھول دیتا ہے کہ ملک قوم سے دلچسپی رکھنے والے ۔ اپنے ملک کی عزت کو مقدم جاننے والے ایسے ”کٹوں“ کو باندھنے میں جی ہلکان کرتے پھریں۔ لہٰذاہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہانکنے کا ارادہ کرنے سے پہلے۔دو قومی نظریہ ، نظریہ پاکستان اور اپنی تاریخ کا بغور مطالعہ کر لینا چاہئیے کہ نظریہ پاکستان سے لاکھ چڑ اور بغض رکھنے کے باوجود امرواقع قسم کی چیزیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ اور نظریہ پاکستان خواہ کسی کو کتنا ہی برا لگے مگر یہ ایک امر واقعہ ہے ۔ اور تاریخ اس  امر واقعہ کی شاہد ہے۔
آپ مزید ارشاد فرما ہیں ”جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں“۔
اسپین میں انیس سو چھتیس 1936ء سے لیکر انیس سو انتالیس 1939 ء تک دنیا کی بدترین خانہ جنگیوں میں سے ایک بد ترین خانہ جنگی ہوئی۔ ۔ خانہ جنگی سے قبل بھی بڑا عرصہ حالات خراب رہے ۔ اس خانہ جنگی کے فورا بعد جنگ عظیم ہوئی۔ اسپین میں کئی دہائیوں تک مخالفین کو چن چن کر سزائے موت دی گئی ۔ فائرنگ اسکواڈ کے سامنے سے گذارا گیا ۔ خانہ جنگی اور دوسری جنگ عظیم ۔ کے دوران اور بعد میں صدیوں سے اسپین میں بسنے والے شہری ۔ محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے اسپین چھوڑ کر درجنوں لاکھوں کی تعداد میں جان کے خوف سے سمندر پار جنوبی اور سنٹرل امریکہ ۔ روس۔ اور یوروپ کے دیگر ممالک میں جا بسے ۔ جن میں سے اکثریت وہیں آباد ہوگئی اور لوٹ کر واپس نہ آئی۔ اکثر وہیں مر گئے ۔ سبھی ممالک میں اسپین کے سفارتخانوں میں ایسے درجنوں لاکھوں شہریوں کا داخلہ ۔ انکا اندراج ۔ پاسپورٹس بنانا۔ وغیرہ ممنوع قرار پایا۔ ان شہریوں کے بچے جو تب چھوٹے تھے ۔ جوان ہوئے اور انہی ممالک کی بود وباش اپنا کر واپس نہ لوٹے۔ اور انکا اندراج اور اسپین سے باہر ان ممالک میں ۔جہاں انکی اولادیں پیدا ہوئیں ۔وہاں انکی پیدائش کا اندراج اسپین کے سفارتخانوں میں نہ کیا گیا۔اسپین کا شمار یوروپ کے بڑے اور اہم ممالک میں کیا جاتا ہے۔ کئی ہزار سال پہ مشتمل تاریخ کی حامل قوم ہے ۔ تقریبا ہزار سال کے لگ بھگ  کےمسلم دور کو یہ مسلم ہسپانیہ کے دور کے نام سے یاد کرتے اور پکارتے ہیں۔ اور اپنی تاریخ کا مسلم دور سے بھی ہزاروں سال قبل سے آغاز کرتے ہیں۔ یعنی اسقدر قدیم قوم ہے ۔اور تمام قدیم قوموں کی طرح ۔ ہر قسم کا سانحہ برادشت کرنے کی قوت اور برداشت رکھتی ہے  اور یہ بھی واضح ہو کہ اسپین کی شہریت یعنی نیشنلٹی ۔ بائی بلڈ ۔ بائی برتھ ۔ ہے۔ ہسپانوی والدین کی اولاد جہاں بھی پیدا ہو۔ انھیں ہسپانوی گنا جائے گا۔ ایک وقت آیا کہ اسپین میں جنگ جیتنے اور تقریبا چالیس سال کے لگ بھگ حکومت کرنے والا آمر جرنل فرانکو طبعی موت مر گیا۔ اسپین میں جمہوریت اور باشاہت بحال ہوئی ۔ بائیں بازو کی وہ جماعتیں اور سوشلسٹ اور کیمو نسٹ رہنماء جو تب خانہ جنگی میں جنگ ہار گئے تھے اور دوسرے ملکوں میں جا کر پناہ لے چکے تھے ۔ان سب کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت معاف کرتے ہوئے ۔ قومی دھارے میں شامل ہونے کے لئیے ان سے واپس آنے کی اپیل کی گئی ۔ اور سابقہ کھاتے بند کرتے ہوئے ایک نئے اسپین کا آغاز ہوا۔سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور بہت کم لوگ ۔ چیدہ چیدہ شہری واپس آئے۔ اسپین میں عام انتخابات ہوئے ۔ بائیں بازو کی جماعتیں جیت گئیں اور مسلسل کئی بار انتخابات جیتیں۔ نیا آئین بنا ۔ حقوق بحال کئیے گئے ۔ اسپین ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے لگا ۔ یوروپی یونین کا رُکن بننے کے بعد ترقی کی رفتار اور بڑھ گئی۔ اس دوران جنوبی امریکہ کے حالات سازگار نہ رہے اور وہاں سے پرانے زندہ یا مر جانے والے ہسپانوی تارکین وطن ۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی نسلوں نے اسپین واپس آنا چاہا ۔ مگر تب اس بارے قانون سازی کرتے ایک وقت لگا اور قانون سازی کرنے والی بھی بائیں بازو کی جماعتیں تھیں ۔ جن کے  حامی بے وطن ہوئے تھے۔ اور چاہتے تھے کہ فرانکو اور اسکی حکومت کے ظلم و ستم کے ستائے ان تارکین وطنوں کو  اتنی لمبی سزا سے نجات ملے۔لیکن اسپین نے اپنے پرانے  جلاوطن ، تارکین وطن اور انکی اولادوں کے کے لئیے سرحدیں عام نہیں کیں اور اس دور کے کئی ایک سیاسی رہنماء جو آمر جنرل فرانکو کی طبعی موت کے بعد واپس آئے اور انہوں نے انتخابات جیتے ۔انہوں نے ہسپانوی ریاست کے بے وطن لوگوں کے لئیے جو قانون بنایا ۔وہ یوں تھا کہ اس دور کے ہسپانوی شہریت رکھنے والے کے پوتے یا نواسے تک کی نسل اگر یہ ثابت کر دے کہ انکا باپ یا دادا ۔یا۔ نانا ہسپانوی تھا ۔ تو انھیں تمام قواعد ضوابط کے پورے کرنے کے بعد ہسپانوی شہریت دی جائے گی۔ اور پڑپوتے ۔ پڑپوتییوں سمیت اگلی نسلوں کو ہسپانوی شہریت  نہیں دی جائے گی۔ یعنی  کہ بہت سے لوگوں کے نہ صرف  پوتے اور نواسے  جوان ہوچکے تھے۔ بلکہ پڑپوتیاں اور پرپوتے بھی جوان تھے مگر ہسپانوی شہریت سے محروم تصور کئیے گئے ۔ اور یہ محض چند ہزار لوگ ہونگے ۔جو اسپین کی شہریت حاصل کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔یوروپ میں تعلیم ۔۔ کاروبار ۔ روزگار یا بودو باش رکھنا چاہتے تھے۔
اسپین یوروپی یونین کا رکن ہے اور انسانی حقوق کے سبھی قوانین کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس بھی لیتا ہے ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض چند ہزار اپنے ہی تارکین وطن شہریوں کی نسل کو ایک ہی وقت میں ہسپانوی شہریت دینے میں کیا امر مانع تھا؟ ۔ ذمہ داران نے افراد کے مفاد پہ ریاست کے مفادات کو ترجیج دی ۔حالانکہ قانون سازی کرنے والے خود بھی کئی دہائیاں در بدر ٹھوکریں کھاتے رھے اور انہی کی طرح کے سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کی اولاد کی شہریت کا معاملہ تھا۔
اس مثال سے محض یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی ریاست جو ترقی یافتہ ہے ۔ اور ہر قسم کے مسائل کے لئیے وافر وسائل کی مالک قوم ہے ۔ وہ بھی اسقدر احتیاط سے کام لیتی ہے کہ مبادا ریاست کے معاملات خراب نہ ہو جائیں ۔ اور آمرانہ حکومت کے جبر سے مجبور ہو کر جلاوطن ہونے والے اپنے شہریوں کی  نسل پہ  اسپین کی عام سرحدیں نہیں کھولتی۔  اب جبکہ اپ پاکستان کے بننے کے اتنے سالوں بعد۔ کروڑوں افراد کے لئیے  یہ مطالبہ پاکستان سے کر رہے ہیں۔ جبکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف یہ مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا ؟۔ افراد پہ قوموں اور ریاستوں کے مفادات کی ترجیج مقدم سمجھی جاتی ہے ۔ جبکہ اسکے باوجود جب پاکستان بنا اسکی سرحدیں طے ہوئیں تو ہندؤستان سے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آئے اور اور درجنوں لاکھوں متواتر اگلے کئی سال تک پاکستان پہنچتے رہے ۔ اور پاکستانی شہریت حاصل کرتے رہے ۔ اور پاکستان نےسالوں اپنے دل اور دروازے مسلمانوں کے لئیے کھلے رکھے۔ اگر تب ان سالوں میں ہندؤستان کے سبھی مسلمان پاکستان ہجرت کر آتے تو انھیں کسی نے منع نہیں کرنا تھا ۔ وہ ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے آج پاکستان کے شہری ہوتے ۔ اور انکی نسلیں بھی یہاں آباد ہوتیں ۔ ممکن ہے اس دور میں پاکستان کے پہلے سے خستہ حالت مسائل میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ مگر آہستہ آہستہ ترقی کی نئی راہیں کھل جاتیں ۔ جب پاکستان بنا تو تاریخ گواہ ہے ۔ کہ نسل انسانی میں اتنی بڑی ہجرت ۔ اتنی تعداد میں ہجرت ۔۔ اور اسقدر نامساعد حالات میں ہجرت ۔اس سے پہلے دو ملکوں کی تقسیم پہ کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسلئیے اس آسانی سے کہہ دینا کہ پاکستان میں بسنے والے پاکستانی بھارتی مسلمانوں کو بے یارو مدگار چھوڑ آئے ۔ یہ درست نہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے ۔ اوپر اسپین کی مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ اگر پاکستان کے مقابلے میں ایک پر امن ۔ ترقی یافتہ اور ہزاروں سال پہ مبنی تاریخی وجود رکھنے والا ملک افراد پہ ریاست اور قوم کے مفادات کو ترجیج دیتا ہے ۔ تو پھر پاکستان کے پاس کون سی معجزاتی طاقت ہے کہ وجود میں آنے کے تقریبا ستاسٹھ سالوں کے بعد آپ کے بقول بے یارو مددگار چھوڑ دیے گئے کروڑوں افراد کو اپنے اندر سمو سکے؟ ۔
آج بھی بھارت کے مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ پاکستانی مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ ہم ذاتی حیثیت میں اس بات کے قائل ہیں کہ اس کے باوجود بھارتی مسلمانوں کو مخصوص حالات میں پاکستانی شہریت کے تمام قواعد ضوابط پورے کرنے والوں کو اگر وہ خواہش کریں تو انہیں شہریت دینے کا کوئی رستہ کھلا رہنا چاہئیے ۔ ممکن ہے چیدہ چیدہ لوگ اگر پاکستان میں آباد ہونا چاہییں تو ایسا کرنا ممکن ہو ۔مگر جب ریاست اور قوم کی سالمیت اور مفادات کی بات ہوگی تو قوم اور ریاست کو اولا ترجیج دی جائے گی ۔ ان حالات میں آپ کا یہ سوال کرنا ہی بہت عجیب سا ہے ۔ کہ وہ لوگ جو ہندوستان میں رہ گئے انکو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ۔ اس سوال میں خلوص کم اور عام پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں پاکستان کے بارے شکوک ابھارنے کی کوشش کا تاثر زیادہ ابھرتا ہے۔
نوٹ :۔ شاکر عزیز صاحب کے بلاگ پہ مختصر سی رائے دینے سے کئی پہلو تشنہ رہ جاتے اسلئیے اس تحریر کو یہاں لکھنا مناسب سمجھا۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: