RSS

Tag Archives: گولی

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔


ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔

خدایا۔ اب اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان پہ چڑھائی کردیتا ہے اور قبضہ کرلیتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے عوام کو ئی مزاحمت نہیں کریں گے کہ ہم اسی قابل ہیں ۔ ہم انسانیت کے ہر معیار سے گرچکے ہیں۔ سیالکوٹ کے واقعہ میں دو حافظ برادران کا قتل ۔ اخروٹ اباد میں غیرمسلح مسافر فیملی کا سفاک قتل۔ سلیم شہزاد کا نیوی کی اہلیت پہ سوال اٹھائے جانے کی وجہ سے سلیم شہزاد کا مشکوک قتل جس کا شک پاکستانی خفیہ دفاعی اداروں پہ کیا جارہا ہے۔جو ممکن ہے غلط ہو ۔مگر کچھ لوگ اس بارے بڑے وثوق سے بات کرتے ہیں اور آخر میں اس سترہ سالے لڑکے کا قتل۔ خواہ اس سے نقلی پستول ہی کیوں نہ برآمد ہوا ہو اور اسکی نیت پارک میں کسی واردات کی ہی کیوں نہ تھی۔ مگر ایک ایسے جرم کی سزا بغیر کسی قاضی۔ شہادت ۔ گواہی۔ مقدمے۔اور صفائی کا موقع دئیے بغیر جرم کی سنگینی سے کہیں زیادہ سزا یعنی سفاک قتل ۔ خدا ہمیں بہ حیثیت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے معاف کرے۔ وہ منت کرتا رہا ۔ ہسپتال لے جانے کی سماجت کرتا رہا ۔ گولی چلائے جانے سے قبل اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تھی۔ اسطرح کسی ماں کی آغوش اجاڑ دینا ظلم ہے اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔

ممکن ہے اس بدنصیب نے محسوس کر لیا ہو کہ اسے اب جان سے مار دیا جائے گا اور وہ لڑکا گولی چلانے والے اہلکار کی طرف بڑہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ اہلکار اس حرکت کو رائفل چھینے پہ منبطق کرتا ہے اور وہ ایک دفاعی ادارے کا تربیت یافتہ ملازم ہونے کے باوجود محض خوفزدہ ہوتے ہوئے گولی چلا دیتا ہے ۔ تو وہی بات آتی ہے کیا وہ لڑکا اتنا بے وقوف تھا کہ اتنے اہلکاروں کی موجودگی میں ایک رینجر کی رائفل چھیننے کی کوشش کرے؟۔ جس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ رینجرز کے اتنے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے اگر انہیں غصہ ہی تھا تو اسکو چند تھپڑ مار لیتے۔ بوٹوں سے ٹھوکریں اور ٹھڈے مار لیتے۔ مگر جب کہ اتنے لوگ اگر اسے دو دو چانٹے ہی لگا دیتے وہ ویسے ہی ادھ مواء ہوجاتا ۔ پھر وہ نہتا تھا اس کی تلاشی لیکر اسے ہتکڑی لگا سکتے تھے۔ اسے مارتے جو کہ پاکستانی پولیس اور اسطرح کے اداروں کا عام رویہ ہے مگر یوں اتنی سنگدلی سے وہ جان سے گزر گیا اور اتنے وردی پوشوں کا دل نہ پسیچا کہ اسے ہسپتال ہی پہنچا دیں۔ کچھ وقت کے لئیے مان لیتے ہیں ۔ تصور کر لیتے ہیں ۔ کہ اس نے رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔ اسنے نہتے ہاتھوں مقابلہ کرنا چاہا ۔ کہ ایک مرے ہوئے پہ جتنے مرضی الزام لگا دیں کونسا اسنے اٹھ کر ایسے الزامات کی تردید کرنی ہوتی ہے۔ مگر کیا گولی چلائے جانے کے بعد وہ قطرہ قطرہ خون بہاتا جان سے گزر گیا مگر کوئی اسکی مدد کو نہ آیا ۔ کسی ایک وردی پوش کا دل نہ پسیچا کہ وہ باقیوں کو آمادہ کرے کہ اسے ہسپتال لے چلیں۔ اسکا خون بند کردیں۔

اس قتل کی سفاکی سے وہ سارے افسانے درست معلوم ہوتے ہیں۔ جس میں پاکستان کے شمالی علاقوں۔ خیبر پختونخواہ اور ایجنسیوں میں قومی دفاعی اداروں پہ لگائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں جو ہماری جنگ کبھی نہیں تھی۔ محض غیروں کی سازش اور مشرف کی بزدلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور دفاعی اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش تھی۔ پاکستانی حکومت اور ملک رحمٰن جو امریکی مفادات کا اسقدر خیال رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بے بسی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور مجبوری کو دوروز پہلے عوام نے براہ راست ٹی وی پہ دیکھا۔ جس میں پشاور میں ایک فور بائی فور گاڑی میں سوار اور جعلی نمبر پلیٹ ہونے کے باوجود چار امریکی پاکستانی پولیس کو تلاشی دینی تو دور کی بات ہے۔ ان سے بات تک کرنے کے روادار نہیں تھے۔ انہوں نے فون ملائے اور بقول اخباری اطلاعات رحمٰن ملک کا فون آگیا۔ کہ انھیں باعزت روانہ کر دیا جائے۔جبکہ اس نام نہاد جنگ میں جس میں پورا پاکستان پور پور خون بہارہا ہے۔ جس میں پاکستان کے دفاعی ادارے بجائے اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کر رہے ہیں۔ جس میں پاکستان کے لوگ کام آرہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا پاکستان ایک مفتوح ملک ہے اور اس کے عوام دشمن ملک کے عوام ہیں۔ گھروں کے گھر اجڑ گئے۔ بستیاں تباہ ہوگئیں۔ گاؤں کے گاؤں کھنڈر ہوگئے۔ ڈرون حملوں سے لیکر اپنی ہی فوج کے توپخانے اور ایف سولہ جہازوں سے پاکستانی قوم ۔ عام عوام لہولہان ہو رہے ہیں۔ اور پاکستان کے دشمن ہماری اپنی ابوالعجمیوں کی وجہ سے ہم پہ قسم قسم کے دہشت گرد مقرر کرتے جارہے ہیں ۔ جو اداروں سے بچ جاتے ہیں دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ مسجدوں پہ پہرے اور چہروں پہ خوف منجمد ہے۔

آج بھی رحمن ملک کے بیان کے مطابق اس لڑکے نے رینجرز سے رائفل چھیننے کی کوشش کی تھی۔ ملک رحمن جو وزیر داخلہ ہونے کے ناطے اس سفاک قتل کی زمہ دار گردانا چاہئیے ۔ کسی مہذب ملک میں یوں ہوتا تو بہت ممکن تھا وزیر داخلہ کے ساتھ وزیر اعظم یعنی پوری حکومت مستعفٰی ہوجاتی۔ مگر نہیں یہ پاکستان ہے ۔ جس میں ہم نے اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے چور ڈاکو اور لٹیرے حکومت کے اعلٰی تریں مناصب پہ اپنے ہاتھوں سے بٹھا رکھے ہیں ۔ انھیں ہم دیوتا سے کم ماننے کو تیار نہیں۔ جب اعلٰی ترین مناصب پہ اسطرح کے لوگ ہوں گے تو اپکی پولیس بھی بدمعاش ہوگی ۔ آپکے ادارے بھی شتر بے مہار ہونگے۔ ڈاکو قاتل بھی کسی قسم کی اخلاقیات کے قائل نہیں ہونگے۔ اور عام شہری بھی اس راز کو پا جائے گا ۔کہ بے وقوف اس دنیا میں وہ ہے جو شرافت سے اپنے حقوق کا انتظار کرے۔

جب دنیا کے غریب ترین۔ ناخواندہ ترین۔ کرپٹ ترین ملکوں میں شمار ہونے والا ایک ملک ۔ اسکے حکمران محض مزید لوٹ مار کے لئیے اقتدار کے سنگھاسن سے ہر صورت میں چمٹے رہیں گے ۔ اور بجائے اپنے عوام، اپنی قوم، اور اپنے ملک کے حالات بدلنے کی بجائے ایک ہشت پہلو اور بے چہرہ جنگ کو جو ہماری کم اور اغیار کی زیادہ ہے ایسی بے ننگ و بے شرم جنگ جس میں پاکستان کا وقار گیا۔ خود مختاری گئی۔ عوام کے دلوں سے اپنے دفاعی اداروں کا احترام گیا۔ جس میں پاکستان کے اداروں کے اہلکار ،فوجی جوان اور افسر اور عوام مارے گئے۔ لہولہان ہوئے۔ جس سے ملک کی معاشی حالت گلی محلے کی کریانے کی دوکان کی طرح زمین سے آلگی۔ جس جنگ کی وجہ سے ملک میں کوئی سرمایہ داری کرنے کوتیار نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی اپنا سرمایہ باہر لے جارہے ہیں ۔ اپنی صنعتیں باہر منتقل کر رہے ہیں۔ جس جنگ کی وجہ سے عوام کو توانائی یعنی تیل۔ بجلی ۔پٹرول اور آٹا ۔چینی۔ چاول ۔الغرض دو وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ جسکے شہری روزی روٹی کی خاطر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ رہے ہیں یا بچے بیچنے پہ مجبور ہیں اور جب کچھ نہ بن سکے تو خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ننگ ملک جنگ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جس میں پاکستان کا کوئی ایک پہلو محفوظ نہیں ۔ جس میں پاکستان کا کوئی مفاد آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جس سے پاکستان کو بجائے فائدہ ہونے کے سراسر ہر قسم کے نقصان ہوئے ہیں۔ جو پچھلی ایک دہائی سے زائد پہ محیط جاری ہے کہ اس دوارن ایک نسل جوان ہوچکی ہے۔ جس جنگ کے دواران ہماری ساری توانائی اور توجہ اس نام نہاد جنگ کی طرف رہی ہے اور اس دروان دشمن نے پاکستان کے اندر اپنے ہر قسم کے مفاد کے لئیے خوب آبیاری کی ہے۔ ہمیں صوبائی۔ لسانی ۔ مسلکی۔ اور علاقائی تعصب میں جکڑ کر رکھ دیا ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں جو پاکستان کی پمپنگ مشین ہے جس پہ اسے بجا طور پہ پاکستان کا دل کہا جاسکتا ہے۔ اسمیں پٹھان مہاجروں ۔ پنجابیوں، سندھیوں ،بلوچیوں کو مار رہے ہیں۔ مہاجر پٹھانوں کو پنجابیوں کو، سندھیوں کو ، بلوچیوں یعنی ہر غیر مہاجروں کو زمین برد کر رہے ہیں اور پنجابی۔ مہاجروں کو پٹھانوں کو بلوچیوں سندھیوں کو اور بلوچی۔ پنجابیوں کو پٹھانوں کو مہاجروں کوسندھیوں کو مار رہے ہیں۔ جبکہ یہ سارے پاکستانی پاکستانیوں کو مار رہے ہیں۔ مسلمان مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ کیا انہیں سوچنا نہیں چاہئیے کہ دشمن کا کام ہم نے کسقدر آسان کر دیا۔ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے عیار دشمن نے ہمیں اسکی جنگ لڑنے پہ مجبور کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے اندر کئی طرح کے ناسور کاشت کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ تو کیا وہ وقت ابھی بھی نہیں آیا کہ اس جنگ جس میں ہمارا سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور باقی کا بچا کچا تباہ ہونے کو ہے ۔ ہم اس جنگ سے ہاتھ کینھچتے ہوئے اپنے ان معاملات جیسے تعلیم ۔صحت ۔روزگار ۔ توانائی کی بحالی اور اسطرح کے ان اہم امور پہ توجہ دیں جس سے ملک بنتے ہیں۔ شخصیتوں کی بجائے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ امن اور روزگار کی وجہ سے عام عوام مایوسی سے نکل کر مثبت سوچ اپناتے ہیں۔ انکی سیاسی بالیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سارے وسائل پاکستان کے عوام پہ استعمال کریں۔ انہیں شعور بخشیں۔انکے مسائل حل کریں۔ اور گھر گھر کے سامنے بندوق تانے اہلکاروں اور فوج کو سرحدوں کی نگرانی پہ بیجھا جائے۔ قانون ساز ادارےاپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو اولیت دے کر انکی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔سکون ہو ۔ اور پورے ملک کے طول وعرض میں لگی آگ بجھے۔ بہت ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے معذرت کرنے کی وجہ سے اگر پھر باہر سے ۔ سرحدوں کی طرف سے ہم پہ جنگ مسلط کی جاتی ہے ۔ تو عوام بھی اداروں کے۔ فوج کے شانہ بشانہ ہونگے، اور دوبدو جنگوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔جیسے جاپان اور جرمنی جنگ ہار کر پھر سے سب سے اگلی صحفوں پہ کھڑے ہیں۔ اسلئیے اگر خداہ نخواستہ ہم باہر سے مسلط کی گئی دوبدو جنگ ہار بھی گئے۔ تو پھر سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے،

اور دل میں یہ صدمہ نہیں ہوگا کہ ہم نے غیروں کی جنگ میں خوار ہو کر اپنے ہی کم عمر نہتے نوجوانوں کو سفاکی سے قتل کرڈالا۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: