RSS

Tag Archives: گزر

دعوتِ فکر


دعوتِ فکر۔۔۔
تبدیلی ناگزیر! مگر کیسے ؟۔۔۔

پاکستان میں ۔۔۔آج کے پاکستان میں۔ جس میں ہم زندہ ہیں۔ جہاں انگنت مسائل ہیں ۔ صرف دہشت گردی ہی اس ملک کا بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ دہشت گردی ایک آدھ دہائیوں سے ۔اِدہر کی پیداوار ہے۔ اور اس دہشت گردی کے جنم اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کو ۔پاکستان میں اپنے گھروں تک کھینچ لانے میں بھی۔ ہماری اپنی بے حکمتی ۔ نالائقی اور فن کاریاں شامل ہیں۔
دہشت گردی کے اس عفریت کو جنم دینے سے پہلے اور ابھی بھی۔ بدستور پاکستان کے عوام کا بڑا مسئلہ ۔ ناخواندگی ۔ جہالت۔غریبی۔ افلاس اور بے روزگاری اور امن عامہ جیسے مسائل ہیں۔ مناسب تعلیم ۔ روزگار اور صحت سے متعلقہ سہولتوں کا فقدان اور امن عامہ کی صورتحال۔ قدم قدم پہ سرکاری اور غیر سرکاری لٹیرے۔ جو کبھی اختیار اور کبھی اپنی کرسی کی وجہ سے ۔ اپنے عہدے کے اعتبار سے۔نہ صرف اس ملک کے مفلوک الحال عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔بلکہ اس ملک کی جڑیں بھی کھوکھلی کر رہے ہیں۔
اور پاکستان کے پہلے سے اوپر بیان کردہ مسائل کو مزید گھمبیر کرنے میں۔ پاکستان کے غریب عوام کی رگوں سے چوسے گئے ٹیکسز سے۔ اعلی مناصب۔ تنخواہیں اور مراعات پا کر۔ بجائے ان عوام کی حالت بدلنے میں۔ اپنے مناصب کے فرائض کے عین مطابق کردار ادا کرنے کی بجائے۔ اسی عوام کو مزید غریب ۔ بے بس۔ اور لاچار کرنے کے لئیے انکا مزید خون چوستے ہیں۔ اور انکے جائز کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
محض ریاست کے اندر ریاست بنا کر۔۔۔خاص اپنے اور اپنے محکموں اور سیاستدان حکمرانوں۔ انکی پارٹی کے کرتا دھرتاؤں اور چمچوں چیلوں کے مفادات کی آبیاری کرنے کے لئیے۔ اپنے عہدوں۔ اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں ۔ادارے جو عوام کے پیسے سے عوام کی بہتری کے لئیے قائم کئے گئے تھے ۔ اور جنہیں باقی دنیا میں رائج دستور کے مطابق صرف عوام کے مفادِ عامہ کے لئیے کام کرنا تھا ۔ وہ محکمے ۔ انکے عہدیداران ۔ اہلکار۔ الغرض پوری سرکاری مشینری ۔ حکمرانوں کی ذاتی مشینری بن کر رہ گئی ہے۔ اور جس وجہ سے انہوں نے شہہ پا کر ۔ ریاست کے اندر کئی قسم کی ریاستیں قائم کر رکھی ہیں ۔ اور اپنے مفادات کو ریاست کے مفادات پہ ترجیج دیتے ہیں۔ اپنے مفادات کو عوم کے مفادات پہ مقدم سمجھتے ہیں ۔
ستم ظریفی کی انتہاء تو دیکھیں اور طرف تماشہ یوں ہے۔ کہ ہر نئے حکمران نے بلند بانٹ دعوؤں اور بیانات سے اقتدار کی مسند حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اور اقتدار سے رخصتی کے وقت پاکستان کو ۔ پاکستان کے غریب عوام کو پہلے سے زیادہ مسائل کا تحفہ دیا۔
پاکستان کے حکمرانوں۔ وزیروں۔ مشیروں کے بیانات کا انداز یہ ہے ۔کہ صرف اس مثال سے اندازہ لگا لیں ۔کہ پاکستان کاکاروبار مملکت کس انوکھے طریقے سے چلایاجا رہا ہے ۔ پاکستان میں پٹرول کی قلت کا بحران آیا ۔ انہیں مافیاؤں نے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ مافیا نے پٹرول کی قلت کے خود ساختہ بحران میں جہاں عوام اور اور ملک کا پہیہ چلانے والے ٹرانسپورٹرز سڑکوں اور پٹرول پمپس پہ خوار ہورہے تھے ۔ جن میں ایمولینسز ۔ مریض ۔ اسپتالوں کا عملہ ۔ خواتین۔ اسکول جانے والےبچے بھی شامل تھے۔ یعنی ہر قسم کے طبقے کو پٹرول نہیں مل رہا تھا ۔ ڈیزل کی قلت تھی ۔ مگر وہیں حکومت کی ناک کے عین نیچے۔ ریاست کے اندر قائم ریاست کی مافیا۔ اربوں روپے ان دو ہفتوں میں کمانے میں کامیاب رہی ۔اور آج تک کوئی انکوائری۔کوئی کاروائی ان کے خلاف نہیں ہوئی اور کبھی پریس یا میڈیا میں انکے خلاف کوئی بیان نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی عمل میں لائی گئ؟۔ اور اس پٹرول قلت۔ کے براہ راست ذمہ دار ۔وزیر پٹرولیم خاقان عباسی۔ کا یہ بیان عام ہوا کہ "اس پٹرول ڈیزل بحران میں۔ میں یا میری وزارت پٹرولیم کا کوئی قصور نہیں”۔ یعنی وزیر موصوف نے سرے سے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ اس سے جہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ وزیر موصوف کے نزدیک ان کا عہدہ ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔ اور وہ کسی بھی مہذب ریاست کے وزیر کی طرح استعفی دینا تو کٌجا۔ وہ ریاست کو جام کر دینے میں اپنی کوئی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کرتے۔
اس سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے جو انتہائی افسوسناک اور خوفناک حقیقت ہے کہ وزارت پٹرولیم محض ایک وزارت ہے جس کے وزیر کا عہدہ محض نمائشی ہے اور اصل معاملات کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جس سے حکومت کی منظور نظر مافیاز کو یہ طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ کہ کب کس قسم کی قلت پیدا ہونے میں کس طرح کے حالات میں کب اور عوام کا خون چوس لینا ہے۔
ہمارا مطمع نظر اور اس تحریر کا مقصد محض موجودہ حکمرانوں پہ تنقید کرنا نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ موجودہ حکمرانوں کے پیشرو ۔زرداری۔ مشرف۔ شریف و بے نظیر دونوں کے دونوں ادوار ۔ اور اس سے بیشتر جب سے پاکستان پہ بودے لوگوں کا قبضہ ہوا ہے۔ سب کے طریقہ واردات پہ بات کرنا ہے۔ آج تک اسی کا تسلسل ہے کہ صورتیں بدل بدل کر عوام کو غریب سے غریب تر کرتا آیا ہے اور اپنی جیبیں بھرتا آیا ہے۔
مگر پچھلی چار یا پانچ دہایوں سے اس خون چوسنے کے عمل میں جدت آئی ہے اور حکمرانوں نے اپنے مفادات کے آبیاری کے لئیے کاروبار مملکت چلانے والے ادارے ۔اپنے ذاتی ادارے کے طور پہ اپنے استعمال میں لائے ہیں ۔ جس سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مسائل دن بدن بگڑتے گئے ہیں۔ اور آج یہ عالم ہے۔ کہ پاکستان نام آتے ہی ذہن میں ایک سو ایک مسائل تصور میں آتے ہیں ۔ جہاں پاکستان کی اکثریت آبادی جو غریب ہے۔ جس کے لئیے کوئی سہولت کوئی پناہ نہیں ۔ اور جو سفید پوشی کا بھرم لئیے ہوئے ہیں وہ بھی جان لڑا کر اپنا وقت دن کو رات اور رات کو دن کرتے ہیں۔ اور بڑی مشکل سے مہینہ آگے کرتے ہیں۔ ۔
جبکہ پاکستان جیسے غریب ملک کے مختلف اداروں کے سربراہان۔ دنیا کی کئی ایک ریاستوں کے سربراہان سے زیادہ امیر ہیں۔ اور بے انتہاء وسائل کے مالک ہیں ۔ انکے اہلکار جو سرکاری تنخواہ تو چند ہزار پاتے ہیں مگر ان کا رہن سہن اور جائدادیں انکی آمد سے کسی طور بھی میل نہیں کھاتیں اور حیرت اس بات پہ ہونی چاہئی تھی کہ وہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس وجہ سے ہے۔ کہ حکمران خود بھی انہی طور طریقوں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں جس طرح ان سے پیش رؤ چلاتے آئے ہیں۔ یعنی اپنے مالی۔ سیاسی اور گروہی مفاد کو ریاست کے مفاد پہ ترجیج دی جاتی ہے۔اور ریاست کی مشینری کے کل پرزے تو کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے وفادار نہیں تھے ۔ انہیں سونے پہ سہاگہ یہ معاملہ نہائت موافق آیا ہے۔
ریاست کی مشینری کے کل پرزے۔عوام کا کوئی مسئلہ یا کام بغیر معاوضہ یا نذرانہ کے کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی قیمت بھر سکتا ہو۔ تو منہ بولا نذرانہ دے کر براہ براہ راست عوام یا ریاست کے مفادات کے خلاف بھی جو چاہے کرتا پھرے ۔ اسے کھلی چھٹی ہے۔
ایک شریف آدمی بھرے بازار میں لٹ جانے کو تھانے کچہری جانے پہ ترجیج دیتا ہے۔ آخر کیوں؟ جب کہ ساری دنیا میں انصاف کے لئیے لوگ عام طور پہ تھانے کچہری سے رجوع کرتے ہیں اور انھیں اطمینان کی حد تک انصاف ملتا ہے۔ تو آخر پاکستان میں عام عوام کیوں یوں نہیں کرتے؟ یہ پاکستان میں عوام کی روز مرہ کی تکلیف دہ صورتحال کی صرف ایک ادنی سی حقیقت ہے۔ جو دیگر بہت سی عام حقیقتوں اور حقائق کا پتہ دیتی ہے۔اور ادراک کرتی ہے
پاکستان کے حقائق کسی کی نظر سے اوجھل نہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف پاکستان میں نا انصافی اور عدم مساوات سے سے دو قدم آگے۔ ظلم۔ استحصال اور غاصابانہ طور پہ حقوق سلب کرنے کے مظاہر و مناظر عام نظر آتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے ایک عام رواج یا چلن سمجھ لیا گیا ہے۔اور اس میں وہ لوگ ۔ ادارے اور حکمران۔ سیاستدان۔ اپوزیشن۔ عام اہلکار الغرض ساری حکومتی مشینری شامل ہے۔ حکمرانوں کا کوئی بڑے سے بڑا شاہ پرست اور درباری۔ یہ قسم نہیں دے سکتا کہ پاکستان کا کرپشن سے پاک کوئی ایک تھانہ ہی ایسا ہو کہ جس کی مثال دی جاسکتی ہو ۔ یا کوئی ادارہ جہاں رشوت۔ سفارش ۔ اور رسوخ کی بنیاد پہ حق داروں کے حق کو غصب نہ کیا جاتا ہو؟۔
ایک بوسیدہ نظام جو پاکستان کی۔ پاکستان میں بسنے والے مظلوم اور مجبور عوام کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے ۔ ایسا نظام اور اس نظام کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمران و سیاستدان ۔۔ اسٹیٹس کو ۔کے تحت اپنی اپنی باری کا انتظار کرنے والے۔ قانون ساز اسمبلیوں مقننہ کے رکن اور قانون کی دھجیاں اڑا دینے والے۔ اپنے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئیے کسی بھی حد تک اور ہر حد سے گزر جانے والی ریاست کے اندر ریاست کے طور کام کرنے والی جابر اور ظالم مافیاز۔ بیکس عوام کے مالک و مختارِکُل۔ ادارے۔
کیا ایسا نظام ۔ ایسا طریقہ کار۔ کاروبار مملکت کو چلانے کا یہ انداز ۔ پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے؟ کیا ایسا نظام اور اسکے پروردہ بے لگام اور بدعنوان ادارے اور انکے عہدیدار و اہل کاران پاکستان اور پاکستان کے عوام کو انکا جائز مقام اور ان کے جائزحقوق دلوا سکتے ہیں؟۔
اتنی سی بات سمجھنے کے لئیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اگر منزل مغرب میں ہو۔ تو کیا مشرق کا سفر کرنے سے منزل نزدیک آتی ہے یا دور ہوتی ہے؟
پاکستان اپنی منزل سے دور ہو رہا ہے۔ اور اس میں کسی بیرونی دشمن کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر مندرجہ بالا اندرونی دشمنوں کا ہاتھ ضرور ہے ۔اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کو یہ دن دکھانے میں اور ہر آنے والے دن کو نا امیدی اور مایوسی میں بدلنے میں۔ انہی لوگوں کا۔کم از کم پچانوے فیصد کردار شامل ہے۔
جو حکمران یا پاکستان کے کرتا دھرتا ۔اسی بوسیدہ نظام اور اداروں کے ہوتے ہوئے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کاےبیانات اور اعلانات کرتے ہیں۔ یقین مانیں۔ وہ حکمران۔۔۔ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں ۔
تبدیلی صرف اعلانات اور بیانات سے نہیں آتی ۔ یہ اعلانات و بیانات تو پاکستان میں مزید وقت حاصل کرنے اور عوام کو دہوکہ میں رکھنے کے پرانے حربے ہیں۔ کہ کسی طرح حکمرانوں کو اپنا دور اقتدار مکمل کرنے کی مہلت مل جائے ۔ چھوٹ مل جائے ۔ اور انکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے۔ اور وہ ادارے جنہوں نے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنا تھا۔ اور ریاست اور عوام کے مفادات کا نگران بننا تھا۔ وہ بے ایمانی۔ اور بد عنوانی میں انکے حلیف بن چکے ہیں۔ اور یہ کھیل پاکستان میں پچھلے ساٹھ سالوں سے زائد عرصے سے ہر بار مزید شدت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ۔ اور نتیجتاً عوام مفلوک الحال اور ایک بوسیدہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ جس میں محض بنیادی ضرورتوں کو بہ احسن پورا کرنے کے لئیے ان کے حصے میں مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ جائز خواہشیں۔ حسرتوں اور مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔
جس طرح ہم پاکستان میں ان تلخ حقیقتوں کا نظارہ روز کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان حالات کو بدلنے کے ذمہ دار ہیں ۔اور اس بات کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اور یوں کرنا انکے مناصب کا بھی تقاضہ ہے ۔ اور وہ حالات بدلنے پہ قادر ہیں ۔ مگر وہ اپنے آپ کو بادشاہ اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔ اور نظام اور اداروں کو ان خامیوں سے پاک کرنے کی جرائت۔ صلاحیت و اہلیت ۔ یا نیت نہیں پاتے۔
تو سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کے عوام کے نصیب میں عزت نام کی ۔ حقوق پورے ہونے نام کی کوئی شئے نہیں؟ اور اگر یہ پاکستان اور اسکے عوام کے نصیب میں ہے کہ انھیں بھی عزت سے جینے اور انکے حقوق پورے ہونے کا سلسلہ ہونا چاہئیے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے ان دشمنوں کے لئیے۔ جن کی دہشت گردی سے پوری قوم بھکاری بن چکی ہے۔ اور ہر وہ بدعنوان شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ جس نے پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مفادات خلاف اپنے مفادات کو ترجیج دی۔ ان کے لئیے کب پھانسی گھاٹ تیار ہونگے؟۔ انہیں کب فرعونیت اور رعونت کی مسندوں سے اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے گا؟۔ اور انہیں کب ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا؟ ۔ کہ مخلوق خدا پہ سے عذاب ٹلے؟
اس کے سوا عزت اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔

 

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔


شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔

کیا شیخ کوا س لئے میدان میں اتارا گیا ہے کہ ایک اور المیہ وجود میں آئے اور خدا نخواستہ مشرقی پاکستان کی طرح بلوچستان کا ٹنٹنا ختم کرتے ہوئے ریاست پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے؟۔

ایک عام رائے یہ ہے کہ شیخ کے پیچھے افواج پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہے۔ جو شیخ پاکستان کا موجودہ جمہوری نظام ملیا میٹ کرنے کا مطالبہ الیکشن کمیشن کو منسوخ کرنے کا ایک نکتہ فائر کرنے کے بعد باقی چھ نکتے اسلام آباد میں ظاہر کرنے کی دھمکی لگا کر عازمِ اسلام آباد ہوئے ہیں۔ افواج پاکستان سے غیر ضروری طور پہ ہمدردی کئیے بغیر ۔ ہماری رائے میں افواج پاکستان اس وقت ایک سخت اور کٹھن دور سے گزر رہی ہیں۔ جس کے چاروں اطراف قسما قسمی کے مختلف رنگ روپ کے بھیڑیے اور لکڑ بھگے غرا رہے ہیں ۔ اور مشرقی سرحدوں پہ ازلی دشمن نے بھی اپنی ازلی کمینگی کا ایک بار پھر ثبوت دیتے ہوئے ۔ بغیر کسی وجہ کے مدتوں بعد ۔کنٹرول لائن جنگ بندی۔ نامی معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ نہ صرف یکے بعد دیگرے پاکستان آرمی کے دو جوان شہید کر دئیے ہیں۔ بلکہ ہنوز سرحد پار سے گیدڑ بھھبکیاں اور دہمکیاں لگا رہا ہے۔اس لئیے خیال یہ ہے کہ افواج پاکستان ان حالات پہ کبھی بھی نہیں چاہیں گی۔ کہ پاکستان کے اندر حکومتی کاروبار کی بلا بھی ان کے سر آپڑے ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوت و وسائل کے وہ کونسے خفیہ و اعلانیہ سر چشمے ہیں جن کی بناء پہ شیخ ۔اسلام آباد پہ غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پہ چڑھ دوڑے ہیں؟۔

شیخ کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچانک پاکستان وارد ہوں اور غیر آئنی طور پہ وہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے نکل کھڑے ہوں۔ وہ بھی اس صورت پہ جب انتخابات کا ڈول ڈالے جانے والا ہے۔ پاکستان کی انتخاباتی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو اختیار و اقتدار منتقل کرے گی؟۔ وہ کونسا ایساقانون ہے جو شیخ کو اپنے ذاتی نظریات کے زور پہ پاکستان میں انتشار پھیلانے اور عوام کو بے سُود ہیجان میں مبتلاء کرنے کی اجازت دیتا ہے؟۔

شیخ۔ کامل اتنے سالوں سے کنیڈا کی شہریت سمیت ۔کنیڈا میں اپنی ذاتی تنظیم منہاج القرآن کی تنظیم و تدوین و ترغیب میں مصروف رہے۔ ذاتی اس لئیے کہ شیخ موصوف اسکے بانی اور صاحبزادہ گان اور بہوئیں اور زوجہ محترمہ اسکے ڈائریکٹر ز ہیں ۔ اور ایک ہاتھ کی انگلیوں پہ گنے جانے والے۔ شیخ کے منظور نظر چند باہر کے افراد شیخ کے نامزدہ ہیں۔اور جمہوریت نام کی شئے کی انکی تنظیم میں کوئی جگہ نہیں۔ ان سالوں میں جب شیخ اور شیخ کے ماننے والے ہر اسلامی اور غیر اسلامی طریقوں سے اور مغرب کے لئیے دلآویز ناموں اور طور طریقوں سے اپنی نامی تنظیم کو پاپولر بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔تو اسوقت شیخ کو پاکستان کی محبت کیوں نہ جاگی؟ جبکہ ایک وقت تھا کہ شیخ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رُکن تھے اور شیخ چاہتے تو پاکستان میں رہ کر جمہوری طور طریقوں سے پاکستان کی خدمت ۔لانگ مارچ۔ نامی ہیجان اور انتشار برپا کئیے بغیر زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے تھے ۔ یوں اچانک پاکستان وارد ہونا اور عین اسوقت پہ جب جمہوری طریقے سے قوم کو اپنی تاریخ میں پہلی بار نئے نمائندوں کو نااہل اور سابقہ نمائندوں سے بدل ڈالنے کا موقع ملنے والا ہے۔تو شیخ کے پاس کونسا اختیار اور اخلاقی جواز بنتاہے جس کی بناء پہ وہ چھ خفیہ نکات لیکر پورے ملک کے جمہوری نظام کو لپیٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟۔

شیخ نے اپنے لانگ مارچ کو کئی ایک شاعرانہ اور دل خوش کُن نام دینے کے بعد ”جمہوریت بچاؤ“نامی نام دیا ہے۔ جبکہ شیخ کی اپنی ذاتی تنظیم میں جمہوریت نامی کوئی شئے نہیں۔ اور شیخ کے نزدیک مختلف ممالک میں وہی لوگ شیخ کے لئیے کارآمد ہیں۔ جو انکی تنظیم کے لئیے مفید ثابت ہوں اور غیر مشروط طور پہ انھیں ہر طور اسلامی اور غیر اسلامی طور پہ شیخ تسلیم کریں۔ غیر اسلامی کی کوئی حد نہیں ۔ شیخ کے منظور نظر اور یوروپ کے ممالک میں تحریک منہاج القرآن کے کرتا دھرتا یہ لوگ تنظیم منہاج القرآن کے لئیے یوروپی ممالک میں یوروپی بنکوں سے سود پہ قرضہ لے کر۔ اپنی تنظیم کے نام سے مساجد اور مرکز قائم کرنے میں ذرا بھر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔نماز جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں سادہ لوح پاکستانی اور مختلف ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو حقیقت بتلائے بغیر صفوں کے سامنے سے تھیلے بھر بھر کر رقومات مسجد کے لئیے اکٹھی کرتے ہیں اور اس سے بنکوں کے سودی قرضے بھی چکائے جاتے ہیں۔ اور سود پہ مساجد بنانے کے بارے سوال پوچھے جانے پہ برملا اپنے انٹرویوز اور نماز جمعہ اور نماز عیدین پہ مساجد بنانے کے لئیے سود پہ قرضہ لینا جائز بیان کرتے ہیں ۔انکی تنظیم شاید وہ واحد تنظیم ہے جو نائن الیون کے ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد مغربی ممالک میں زیر عتاب نہیں ہوئی بلکہ کئی طور پہ مراعات اور یوروپی سیاستدانوں کی توجہ پاتی رہی ہے ۔یہاں تک بعض یوروپی ممالک میں انہوں نے منہاج القرآن نامی تنظیم کو ”پیس وے “ یعنی ”امن کا راستہ“ نامی نام سے متعارف کروایا ہے تانکہ نائن الیون کو ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد یہ تاثر عام ہو کہ منہاج القرآن نامی تنظیم ہی وہ تنظیم ہے جو مغرب کے لئیے فائدہ مند ہونے کی وجہ سے منظور نظر ہوسکتی ہے۔

شیخ کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ہم اس پہ روشنی ڈالیں۔ مقصد شیخ کے پس پردہ مقاصد سے پردہ اٹھانے کی اپنی سی کوشش کرنا ہے۔ شیخ کے خوابوں ۔ شہدا کو جگانے ۔ اور قوالی کی اس محفل جس کے بول ” بت خانہ ہو یا کعبہ۔ طاہر سجدے تجھے ہم کئیے جائینگے“ جیسی محفلوں میں سجدہ کروانے ۔ پاؤں چومے جانے پہ کسی طور بغیر نادم ہوئے یا منع کئیے بغیر ۔ نفس کی تسکین کے ہلکورے لیتے مناظر کے ویڈیوز ۔ پاکستان میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نامی قانون کے بنائے جانے کا اور اس قانون کے تحت مسلم اور غیر مسلم و کافر کو کتے کی طرح مار دئیے جانے کا کریڈیٹ لینا اورڈنمارک کے ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو کے میں کیمرہ کے سامنے۔ اس قانون کے بننے بنائے جانے کے عمل سے مکمل طور پہ برائت کا اعلان اور اس قانون کے ناقص عمل کا بیان اور شیخ موصوف کےاسطرح کے دیگر ویڈیوز۔ یو ٹیوب۔ فیس بُک اور دیگر میڈیا کی سائٹس پہ تھوڑی سی جستجو کے بعد سینکڑوں کے حساب سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جن سے صرف ایک ہی بات کا پتہ ملتا ہے کہ شیخ کو اپنے نفس کی تسکین سے والہانہ دلچسپی ہے ۔ جن میں شیخ کی خود پسندی ہر طور۔ہر انداز میں جھلکتی نظر آتی ہے۔
آخر ایسے آدمی کو ایسی کیا سوجھی کہ وہ پاکستان کے خاردار سیاست میں کود پڑا ؟۔ خیال ہے کہ شیخ جن دنوں کنیڈا میں تزکیہ نفس کا عندیہ دے رہے تھے۔ عین انھی دنوں میں کچھ ایسی طاقتیں جو روز اول سے پاکستان کے وجود کے در پے ہیں۔ شیخ کو اپنے مفادات کے لئیے بھرتی کر چکی تھیں ۔اور شیخ کو پاکستانی جذباتی عوام کے سامنے مسحیا کے طور پیش کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں ۔ بعین اسی طرح جس طرح انہوں نے الطاف حسین اور عمران خان کو یکے بعد دیگر میدان میں اتارا اور بوجہ انتہائی ناکامی کے شیخ طاہر القادی کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ انکی اسلامی چھاپ کی مضبوط تنظیم اور ان سےعقیدتمندوں کا والہانہ اسلامی شوق دیکھ کر کیا۔ اور شیخ ایک عام مولوی اور لیکچرار سے اتنی تیزی سے ترقی کرنے کے بعد اپنے روایتی خود پسند نفس کے ہاتھوں اپنے آپ کو ریاست پاکستان کے سربراہ بننے کے خوآب آنکھوں میں سجائے اس لانگ مارچ کا ڈول ڈالنے پہ تیار ہو گئے ۔قطع نظر اس کے کہ انکے اس لانگ مارچ سے پاکستان کی سالمیت کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عالمی سامراج یہ تجربہ اس سے قبل مشرقی پاکستان کو توڑنے کے لئیے کر چکا ہے ۔

ایک رائے ہے کہ امریکہ افغانستان کی بے مقصد جنگ سے نکلنے پہ مجبور ہونے کی وجہ سے ۔ افغانستان سے نکلنے سے قبل اور نکلنے کے عمل کے دوران ۔اپنے پرانے مربی بھارت کو آزاد بلوچستان کی صورت میں یاکم از کم بلوچستان میں بھرپور شورش کی صورت میں۔ بھارت کو اسکی چاپلوسیوں کا انعام دینا چاہتا ہے ۔ اور امریکہ میں کچھ لوگ یہ تصور کئیے اور خار کھائےبیٹھے ہیں۔ کہ جب تک ایک مضبوط اور جمہوری پاکستان کا وجود باقی ہے۔ تب تک افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کی کھلم کھلا تکمیل ہونا ناممکن ہے ۔ امریکہ اسی صورت میں افغانستان پہ اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے اگر مفادات کے ”کچھ لو اور کچھ دو “ کے معروف لین دین کے عالمی پیمانے میں پاکستان کو کسی طور کہیں سے مجبور کیا جاسکے۔ تانکہ پاکستان افغانستان میں سے اپنی دلچسپی ختم کر کے۔ اپنی بقاء کی بھیک عالمی گماشتوں سے مانگنے پہ مجبور ہو جائے ۔ عالمی گماشتوں کی نظر میں پاکستان کے بڑے شہروں میں امن و امان کی صورتحال ۔ گیس ۔ پانی ۔ بجلی ۔ کے خطرناک بحران اور ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی نظام کی تباہی کے علاوہ ۔بلوچستان میں شورش کا بڑھانا شامل ہے ۔ شورش !جس میں بھارتی تربیت اور وسائل استعمال کیئے جارہے ہیں۔ جوں جوں افغانستان سے امریکی افواج منظر عام سے گُم ہونگی ۔افغانستان میں طالبان کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ افغانستان میں بھارتی مفادات پہ کاری ضرب پڑے گی ۔اسلئیے عالمی طاقت اور بھارت کی نظر میں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں تاریخی تبدیلی اقتدار ممکن ہونے جارہا ہے ۔ پاکستان کو فوری طور پہ غیر مستحکم کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ تانکہ پاکستان میں نمائیندہ اور عوامی و جمہوری حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے روز بروز پاکستان کے وجود کو لاحق ہونے والے خطرات سے بچاؤ کے فیصلے کرنا۔ ایک غیر جمہوری حکومت کے لئیے ناممکن ہوگا ۔ کیونکہ ایک غیر جمہوری حکومت کا اول آخر مقصد۔ محض اپنے وجود کا جواز پیدا کرنا اور اسے بچانا ہوتا ہے۔ ایسے میں قومی مفادات پس منظر میں چلےجاتے ہیں اور انکی حیثیت ثانوی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ غیر جمہوری حکومت کا بازو مروڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے لینا۔ عالمی استعمار کے لئیے بہت آسان ہوگا ۔ یہ تجربہ عالمی طاقت پاکستان میں بار ہا دہرا چکی ہے ہے اور اسمیں ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جمہوریت دنیا کا بہترین نظام حکومت نہیں۔ مگر آمرانہ طرز حکومت کے مقابلے پہ ایک بہتر نظام ہے۔ جس طرح تیل کو بار بار چھاننی سے چھانے جانے کے بعد ہر بار آلائشوں سے پاک اور صاف تیل سامنے آتا ہے ۔ اسی طرح کسی ملک میں جمہوری نظام کے چلتے رہنے سے نئے ۔ اچھے لوگ ۔ اور دیانتدار قیادت سامنے آنے کے امکانات دیگر فی زمانہ رائج الوقت نظاموں سے کہیں ذیادہ ہیں ۔ اور جتنی دفعہ اتنخابات ہونگے عوام میں شعور بڑھتا جائیگا ۔ اور ایک دن وہ خود ہی اپنے لئیے ایک بہترین نظام چننے میں کامیاب ہوجانئگے۔یہ وہ وجہ ہے کہ اس جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئیے ۔ عالمی گماشتوں نے طاہر القادری کو میدان میں اتارا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئیے پہلے سے پاکستان کے اندر ان طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کے لئیے ان عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے لوگوں کو پہلے سے ہی اشارہ کر دیا گیا ہے ۔ جو طاہر القادری کا لانگ مارچ کامیاب ہونے کی صورت میں اپنی کوششوں کا آغاز کرنا ہے ۔اور عین ممکن ہے کہ امن و عامہ کی صورتحال ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر حکومت کی نالائقی پہ فوج کو میدان میں اترنا پڑے اور جمہوریت کی بساط ایک دفعہ پھر لپیٹ دی جائے۔ جو بلوچستان میں شورش کو علیحدگی کی حد تک بڑھا دینے کا نکتہ آغاز ہو گا۔ اگر حکومت پاکستان اپنی نالائقی سے کوئٹہ میں اس حد تک مجبور ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلٰی کو فارغ کر دیا جاتا ہے ۔تو یہ شیخ کے دھرنے کے کے لئیے مہمیز ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں انتہائی سنگدلی سے اٹھاسی افراد کی ہلاکت ۔ حکومت کی نالائقی ۔ دھرنا۔ اور بلوچستان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ اور شہر فوج کے حوالے کرنے کا اصرار۔ پاکستان کی مشرقی سرحدوں پہ چھیڑ چھاڑ ۔ مغربی سرحدوں پہ فوج پہ بم حملوں میں اضافہ ۔ ایسے میں شیخ کے لانگ مارچ کی ٹائمنگ حیران کُن ہے۔ 

عوام اب اس حد تک باشعور ہو چکے ہیں کہ اب کسی ابن الوقت کے ہاتھوں میں کھیلنے کو تیار نہیں ۔ اور انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ تبدیلی یا انقلاب وہی دیرپا ہوتا ہے جو پُر امن ہو اور اس دفعہ عوام کو کامل پانچ سال بعد تاریخ میں پہلی بار تبدیلی قیادت کا موقع مل رہا ۔ ہماری نظر میں لانگ مارچ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ایک مرد قلندر نے کہا تھا۔ عالمی استعمار کا یجینڈا اپنی جگہ لیکن مشیت ایزدی کی منصوبہ بندی بہر حال اس پہ فوقیت رکھتی ہے ۔اور شاید اس دفعہ مشیت ایزدی پاکستان کے ساتھ ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

دسمبر دے دکھ ۔


 دسمبر دے دُکھ ۔

پہاڑیاں میرے سیدھے ہاتھ پہ تھیں۔ بحر روم میرے الٹے ہاتھ پہ اپنے پُر سکون اور روایتی انداز میں بہہ رہا تھا ۔  دبیز دھند بلندی سے  وادیوں پہ اتر رہی تھی ۔ پہاڑوں کے بلند سرے ا ور چوٹیاں دھند میں چھپتی جارہی تھیں۔ ظہر کا وقت گزر چکا تھا ۔عصر کا مختصر سا وقت شروع ہو رہا تھا ۔ موسم میں خنکی اچانک بڑھ گئی تھی۔ میں نے گاڑی کے ہیٹر کو معمولی سا مزید بڑھا دیا تھا ۔ یہاں سڑک سمندر کے متوازی بہتی ہے ۔ اور میری دیکھی بھالی ہے ۔ سڑک کے اس حصے پہ غالبا میں سینکڑوں مرتبہ ڈرائیو کر چکا ہوں ۔لیکن ہر مرتبہ اس سڑک پہ سفر کرتے ہوئے تازگی اور فرحت کا ایک نیا إحساس ہوتا ہے ۔ سڑک کے کنارے چھوٹی موٹی آبادیاں اور آبادی سے پرے اس طرف چیڑھ (پائن ) کے درختوں سے ہری بھری پہاڑیوں کے درمیان مختلف چھوٹے بڑے شاداب کھیتوں سے سر سبز پھیلتی سکڑتی وادیاں ۔ اس طرف سڑک کے ساتھ متوازی چلتی ریلوے لائن اور بے بیکراں تاحد نظر پھیلا ہوا بظاہر ساکت بحیرہ روم  اسقدر تغیر لئیے ہوئے ہے کہ ا س کے کناروں نے درجنوں مختلف تہذیبوں کو جنم دے ڈالا ۔ بلا مبالغہ دنیا کی گذشتہ اور موجودہ تہذیبوں میں بحرہ روم کا ایک بڑا ہاتھ ہے ۔میرا ذہن بہت مختلف سے احساسات اور سوچوں کی آمجگاہ بنا ہوا ہے ، سوچوں کا سرا کسی طور ٹوٹنے میں نہیں آتا ۔میں میکانکی انداز میں گاڑی چلا رہا تھا ۔ کبھی کبھار کسی آبادی سے پہلے یا بعد ۔کسی ”گیو وے “ یا ” اباؤٹ ٹرن“ پہ کسی دوسری گاڑی کو رستہ دیتے ہوئے سوچوں کا یہ سلسلہ کچھ دیر کے لئیے منقطع ہوتا اور پھر سے سوچیں ذہن کے پردے پہ وہیں سے عکاس ہونا شروع ہوجاتیں جہاں سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔
آج چوبیس دسمبر ہے ۔ ہر چوبیس اور پچیس دسمبر کی طرح مجھے یہ دن بہت اداس سا محسوس ہوتا ہے ۔اس سڑک پہ عام طور پہ محسوس ہونے والی روایتی تازگی اور فرحت کے إحساس کی بجائے ایک اداسی کی سی لکیر محسوس ہوتی ہے۔ جو مجھے یہاں سے وہاں تک ہر شئے سے لپٹی محسوس ہوتی ہے۔ دسمبر کے دن بھی انتہائی مختصر ہوتے ہیں۔ ادہر دوپہر ڈھلی ادہر شام سر پہ آجاتی ہے ۔ نصرانی مذہب کے پیروکار چوبیس دسمبر کی شام کو کرسمس ڈنر Christmas eve dinner اور پچیس کو کرسمس مناتے ہیں۔ عیسیٰ علیۃ والسلام سے منسُوب آخری ڈنر کی کی روایت سے شروع ہونے والے اس کرسمس ڈنر کے لئیے ۔اس رات سارا خاندان مل بیٹھتا ہے ۔ دور دراز سے سفر کر کے لوگ اپنے چاہنے والوں یعنی اپنے عزیزو أقارب سے کے ساتھ یہ مخصوص ڈنر کرتے ہیں ۔میرے ایک جاننے والی کی بہن جرمنی میں مقیم ہیں ۔ وہ تقریبا ہر سال وہاں سے یہاں اپنے بہن بھائیوں اور خاندان کے ساتھ کرسمس ڈنر پہ شامل ہوتی ہے۔اسی طرح ایک اور جاننے والے کے کچھ رشتے دار کنیڈا میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں سے کچھ دنوں کے لئیے واپس آتے ہیں ۔ کرسمس ڈنر عام طور پہ یہ ایک روایتی اور نہائت نجی تقریب ہوتی ہے ۔ جس میں داماد یا بہو ۔ یا ہونے والے داماد یا ہونے والی بہو یعنی منگیتر کے علاوہ شاید ہی کوئی غیر رشتہ دار شامل ہوتا ہو۔ نصرانی مذہب اور خاصکر نصرانی مذہب کے دیگر اکثر فرقوں کی طرح کھیتولک فرقہ بھی کرسمس ڈنر کے لئیے خوب تیاری کرتا ہے۔ جس میں ٹرکی سے لیکر سالم سؤر اورسالم بکرے تک بھون کر کھائے جاتے ہیں۔ مچھلی اور سی فوڈ کی کھانے کی میز پہ بھرمار ہوتی ہے۔درجنوں اقسام کے کیک اور مٹھائیاں میز پہ سجائی جاتی ہیں۔ لیٹروں کے حساب سے شمپئین ، وائن اور مختلف شرابوں کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ محض بہت زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔کرسمس ڈنر کی تیاری کے لئیے خصوصی طور پہ خریداری کی جاتی ہے ۔چاہنے والوں کے لئیے خصوصی تحائف خریدے جاتے ہیں ۔
عام طور پہ ان مخصوص دنوں میں شہر کے آس پاس تک ہی محدود رہتا ہوں ۔ مگر اس دفعہ ایک نواحی شہر کے ایک پرانے کسٹمر نے کچھ مال کریڈٹ پہ خرید رکھا رکھا تھا ۔جو کاروباری معاملے کی وجہ سے اس شرط پہ دے دیا تھا ۔کہ وہ ایک آدھے ہفتے کے دوران دسمبر کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے۔ تمام رقم ادا کر دے گا ۔ مجھے اس سلسلے میں رقم کی قسط لینے نواحی شہر کو آج جانا ہوا تھا ۔ اڑھائی دو گھنٹے میں، میں فارغ ہو چکا تھا ۔واپسی پہ سڑک کے کنارے ایک انٹر نیشنل چین کے کئی ایکڑوں پہ پھیلے مشہور ڈپارٹمنٹل اسٹور پہ رک کر ۔گاڑی میں فیول ڈلوایا اور اسپین کی مختلف ذائقوں اور اقسام کی روایتی مٹھائی ”تُرون“ خریدے ۔ چونکہ دفتر ۔ کاروبار سے دو دن سب کچھ بند ہونے کی وجہ سے چھٹی ہے ۔ لہذاہ اس دوران  اسٹور سے گھر کے لئیے ضروری خریداری بھی کر لی ۔
دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سرکاری یا غیرسرکاری سب اداروں میں تمام ملازموں کو ایک اضافی تنخواہ ملتی ہے ۔ جسے ”کرسمس پے “ کا نام دیا جاتا ہے ۔مگر ہر جیب میں اس دفعہ اضافی تنخواہ نہیں ۔ سرکاری ملازموں کو اس دفعہ حکومت نے اضافی تنخواہ کی کٹوتی کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مالی بحران زوروں پہ ہے ۔ مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور سہولتیں اسقدر ہیں ۔کہ انہیں ایک اضافی تنخواہ کے نہ ملنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔جب کہ ملک میں مالی بحران کے ہاتھوں پریشان لاکھوں بیروزگاروں کی جیب خالی ہے۔ حکومت مقدور بھر کوشش کرتی ہے کہ بیروزگاری الاؤنس سے بیروزگاروں کی کچھ مدد کر سکے ۔ مگر اتنے لمبے مالی بحران کی وجہ سے اب حکومت بھی بے بس اور لاچار نظر آتی ہے ۔ جب کہ نجی اداروں میں کام کرنے والوں کی اضافی تنخواہ نہیں روکی گئیں ۔ جیب میں اضافی تنخواہ ہو اور کرسمس جیسے تہوار کا معقول بہانہ ہو۔ تو مختلف سپر مارکیٹس ۔ دوکانوں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے ا۔ور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔فراغت جو مجھے کبھی کبھار نصیب ہوتی ہے ۔ اس فراغت کی وجہ سے میں کافئ دیر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے اندر گھومتا رہا ۔ آج رات کے لئیے کھانے کی ہر شئے پوری کرنے کے لئیے خریداری کی لمبی فہرستیں سنبھالے۔ خوشی سے دمکتے چہرے ۔ سالم خاندان اور جوڑوں کی شکل میں میں رنگ برنگ کے ملبوسات سجائے ۔تحائف ۔ مختلف شرابوں ۔ مٹھائیوں ۔ پھلوں ۔ خشک میوں ۔ گوشت ۔ مچھلی ۔ سی فوڈز ۔ اور انکی تیاری میں استعمال ہونے والے لوازمات سے سے لدی پھندی ٹرالیوں کے بیچ بیچ خریداری سے قبل۔ میں خالی ہاتھ گھومتا رہا ۔ بس یونہی دل کی بے نام سے بے کلی کے درماں کے لئیے ۔ کچھ دیر بعد بار میں جا بیٹھا ۔ ایک کالی اور تلخ کافی کے سِپ لینے کے دوران بھی کرسمس خریداروں کا  یہ مشاہدہ میں نے جاری رکھا ۔ ان چمکتے اور شاداب چہروں کے بیچ میں بہت سے لوگ اداس بھی نظر آئے ۔ ان میں ایک تو وہ لوگ تھے جو لمبی بیروزگاری کے ہاتھوں۔ اپنے محدود سے بجٹ کے ہاتھوں پریشان ۔ اشیاء اٹھاتے اور قیمت وغیرہ دیکھ بھال کر دوبارہ رکھ دیتے اور اس سے نسبتا کم قیمت کی شئے دوبارہ سے اٹھا کر اسکی قیمت اور اپنی جیب کا حساب لگانا شروع کر دیتے ۔ بے شک اب اس ملک میں ایسے لوگ لاکھوں کے حساب سے ہیں۔ میں انسانی ہمدردی کے تحت مقدور بھر کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی مدد کر سکوں ۔ مگر میری معمولی سی مدد اتنے بڑے سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم درجہ رکھتی ہے۔ کسی شئے کی ضد کرنے پہ ایک روتی ہوئی بچی کا باپ۔ اسے اپنی مالی حیثیت کی پہنچ نہ ہونے کا حسابی فارمولا سمجھانے کی بے سُود کوشش کر رہا تھا ۔ بچی تھی کہ ضد اور دُکھ سے روئے جارہی تھی ۔ یہ قرین انصاف نہیں کہ اکثریت تو بے جا اصراف کرے۔ اور کچھ لوگ اپنے معصوم بچوں کو معمولی اشیاء بھی نہ خرید کر دے سکیں ۔ مجھے اپنے ملک کی عید یں یاد آگئیں۔ وہاں مناطر اس سے بھی بڑھ کر تلخ ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کی بے سرو سامانی اور اپنے دیس کے مجبور لوگوں کے حالات نے کافی کی تلخی سے کہیں زیادہ تلخی میرے حلق میں گھول دی ۔
دوسری قسم کے وہ لوگ تھے ۔ جو اکیلے خریداری کر رہے تھے ۔ شاید انکا کوئی چاہنے والا اس کرسمس ڈنڑ پہ ان سے ملنے کے لئیے آنے والا نہیں تھا ۔ کیونکہ ایسا انکی انتہائی مختصر سی خریداری کی فہرست اور اسمیں مطلوبہ اشیاء کی تعداد جو عام طور پہ ایک عدد اکائی میں تھیں ۔ اور اس پہ انکا تنہاء ہونا۔ اس بات کا غماز تھا کہ وہ شاید اکیلے ہی کرسمس ڈنر کریں گے ۔ یا زیادہ سے ذیادہ ایک آدھ رشتے دار یا ساتھی ہوگا ۔ ایک تیس سالہ خاتون ایک باسکٹ میں اکا دکا اشیاء رکھ رہی تھیں ۔ دو سو گرام کا ایک تُرون (کرسمس کی رنگا رنگ مٹھائیوں میں سے ایک مٹھائی) پنیر کا ایک ٹکڑا ۔ زیتون کے کچھ اچاری دانے ۔ اور اسطرح کی کچھ اشیاء ۔ بغور جائزہ لینے سے اسطرح کے مختلف عمروں کے لوگ نظر آئے ۔ اداسی کی ایک لہر رگ و پے میرے سراپے میں دوڑ گئی ۔ ایک لمبا گھونٹ بھر کے کالی کافی کا کپ خالی کیا ۔ میں سنٹر سے باہر پارکنگ زون میں نکل آیا۔ جہاں سے سکہ ڈال کر خریداری کرنے کے لئیے ٹرالی نکالی ۔ دوبارہ سے اسٹور میں داخل ہوگیا ۔ خریداری کے دوران مختلف سوچوں نے دل و دماغ کو گھیرے رکھا۔
بحر روم پہ نگاہ دوڑائی تو سمندر اپنی عام عادت کے مطابق نہائت دھیما اور خراماں نظر آیا ۔ دہندلے سے بادلوں سے چھن کر آنے والی اکا دُکا سورج کی کرنوں سے ادہر اُدہر سے چمکتا ہوا۔یہاں سے وہاں تک بچھا ہوا ۔ یوں جیسے قدرت کے دست قلم نے نیلگوں رنگوں کو بکھیر دیا ہو ۔ مگر نہ جانے کیوں آج مجھے سمندر عام دنوں کی نسبت بہت خاموش اور اداس محسوس ہوا ۔ یا پھر شاید میرے اندر خاموشی اور اداسی کی  تنی ہوئی چادر کی  وجہ سے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا ۔  بہر حال آج کا دن بہت خاموش سا تھا ۔
بہت سے لوگ اس بات پہ متفق ہیں کہ ۔بس یہ دسمبر کا مہینہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ ایویں سا۔ سردی کے موسم میں لپٹا ہوا ۔ سال کا آخری مہینہ۔ یا پھر شاید اس کی وجہ اس ماہ کوسال کے آخر میں آنے کے وجہ سے اداس جانا جاتا ہے ۔ جب نیا سال شروع ہوتا ہے ۔ تو نہ جانے کتنے لوگ ۔ کتنے بھولے بھالے اور معصوم لوگ ۔انگنت منصوبے اور اہداف مقرر کرتے ہیں۔ جن کی بنیاد عام طور پہ امید اور نیک تمنائیں ہوتی ہیں ۔ جو سال گزرتے گزرتے ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔ سال کے گیارہ ماہ ایک دوسرے کی انگلی تھامے ہماری نظروں سے یوں اوجھل ہوجاتے ہیں ۔کہ ہمیں إحساس ہی نہیں ہوتا کہ ایک پورا سال ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجانے والا ہے ۔ معصوم معصوم خواہشوں اور امیدوں کے سارے محل زمین بوس ہونے والے ہیں ۔ دسمبر کا مہینہ ہمیں یہ إحساس دلاتا ہے کہ اس سال کو ”گیا سال“ ہونے میں ایک آدھ ہفتہ باقی ہے یہ ایک آدھ ہفتہ جو دسمبر کہلاتا ہے ۔ ہمیں سال کی محرومیوں ۔ تلخیوں ۔ اور ناکامیوں کا اچانک إحساس دلا جاتا ہے ۔ ناکامیاں جو کئی ایک کا نصیب ہوتی ہیں ۔ سال کے شروع میں سوچے منصوبوں اور مقرر کئیے گئے اہداف کو پورا کرنے کے لئیے ۔اکثر ساد ہ دل اور بھولے بھالے معصوم لوگوں کے پاس صرف نیک ارادے ۔ معصوم خواہشات ۔ امید اور حوصلے کے علاوہ کوئی خاص وسائل اور سرمایہ نہیں ہوتا ۔ دسمبر آتے ہی یہ إحساس شدید ہوجاتا ہے کہ ایک اور سال ۔ ایک پورا سال زندگی کی ناکامیوں ۔ محرومیوں اور تلخیوں میں اضافہ کر گیا ہے ۔
زمانہ لڑکپن کی بات ہے۔ میں بہتر سہولت اور پرسکون ماحول کی خاطر ہاسٹل کو چھوڑ کر ایک مکان میں اُٹھ آیا ۔ سیالکوٹ کے مجھ سے کافی سنئیر ایک لڑکے کو پتہ چلا ۔تو بہ سماجت میرے ساتھ رہنے پہ مصر ہوا۔ اسے میں نے ساتھ رکھ لیا ۔ اسکا نام اکرم تھا ۔ وہ کام کا ساتھی ثابت ہوا ۔ یہ وہ دور تھا کہ ابھی پاکستانی اتنی بڑی تعداد میں نقل مکان کر کے یوروپ کے اس حصے میں نہیں پہنچے تھے ۔ بس اکا دکا لوگ ۔ تعلیم یا کاروبار کی وجہ سے ادہر ادہر بکھرے ہوئے تھے ۔ اکرم ہر ویک اینڈ پہ ڈاؤن ٹاؤن میں گُم ہوجاتا ۔اس کی غیر نصابی سرگرمیوں کی شُد بُد مجھے ہاسٹل سے پرانے جاننے والے یوروپی لڑکے لڑکیوں سے ملتی رہتی ۔اسے لاکھ سمجھایا ۔ مگر وہ اکرم ہی کیا جو سمجھ جاتا ۔اشارے کنائے سے اس نے مجھے اپنی ڈھب پہ لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے آنکھیں دکھانے پہ اس نے فوری معذرت کر لی ۔ کم عمری کے باوجود میرا قد کاٹھ نمایاں تھا ۔ خدا نے حسن اور مردانہ وجاہت بھی خوب دے رکھی ہے ۔مگر ماما مرحومہ کے وہ الفاظ کہ ”بیٹا تمہارے پاپا اور دادا مرحوم بہت نیک لوگ ہیں ۔ بیٹا ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے خاندان کی عزت پہ حرف آئے ۔ہمیشہ یہ یاد رکھنا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اسلام کے اپنے طور طریقے ہیں “ کبھی دل میں فاسد خیال آیا نہیں تھا۔ مخلوط ماحول میں اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرف سے ہر قسم کی دعوتوں پہ اپنی والدہ مرحومہ کے الفاظ نے الحمد اللہ بدی کی بجائے ہمیشہ نیکی کے رستے پہ گامزن رکھا ۔ میں نے اکرم کو بھی وارننگ دے رکھی تھی ۔کہ جس دن مجھے وہ کسی میم کے ساتھ نظر آیا ۔اسکی مکان سے چھٹی ہوجائے گی۔ تھا وہ مجھ سے سنئیر مگر وہ میری بہت عزت کرتا تھا ۔ چھوٹی عمر اور پردیس ۔ تنہائی کا ایک ہمہ گیر إحساس رہتا ۔ ہر عید بقر عید ۔ ہر بیماری ۔ ہر پریشانی پہ اکیلے۔ کوئی رہنمائی کرنے والا ۔ تیمارداری کرنے والا ۔ نہ ہوتا۔ سخت سردی جاڑے میں سردی یا بخار سے گھر میں کوئی ایسا نہ ہوتا کہ پیاس کی صورت ایک گلاس پانی یا دوائی حلق میں انڈیل دے ۔ گھر اور گھر والے ہزاروں میل دور ۔ ایسے میں، میں اور اکرم مل جل کر جیسے تیسے ایک دوسرے کے درد کے ساتھی ہوتے ۔ اور ویک اینڈ پہ اکرم کے گُم ہو جانے کی وجہ سے تنہائی کا إحساس اسقدر شدید نہ ہوتا کیونکہ ۔ میں چھوٹی سی عمر میں ہی چائے اور کھانا بنانے میں ماہر ہو گیا تھا ۔ ویک اینڈ پہ گھر پہ کھانا بنانے کی مزے کی تراکیب لڑائی جاتیں ۔ گھر کی صفائی ستھرائی ہوتی۔ہفتے کے دروان قضا ہونے والی قضاء نمازیں پڑھی جاتیں ۔ اسلامک سنٹر جانا ہوتا ۔ٹی وی ۔ ویڈیو دیکھتے ۔ پڑھائی میں اور سوتے وقت گزرتا ۔
سمسٹر کے آخر پہ دیگر ساتھیوں سے پتہ چلتا کہ کس طرح وہ سب اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور کرسمس ڈنر پہ کون کس کا بھائی یا بہن یا ماموں کہاں سے آرہا ہے۔کرسمس کے آتے ہی اکرم اپنی کسی میم دوست کے ساتھ گُم ہوجاتا اور میں قلعہ بند ہو کر گھر میں مقیم ہوجاتا ۔ ۔ سپر مارکیٹس ۔ اسٹورز ۔ دوکانیں باہر مکمل بند ہوتیں۔ دودن مکمل چھٹی ہوتی ۔ گھر سے باہر سردی کا راج ہوتا ۔جاڑا ہر طرف بازو پھیلائے ملتا ۔ نہ کسی سے واقفیت ۔ نہ شناسائی۔ جائے تو جائے کہاں؟۔ میں گھر پہ اکیلا ہوتا ۔ ٹی وی پہ صبح صادق تک کی جانے والی نصرانی عبادات کی سروس کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔ گھر اور پاکستان بہت دور اور کوئی پُرسان حال نہیں تھا ۔ اس تنہائی نے بہت اعتماد بخشا کہ چھوٹی سی عمر سے بڑے بڑے فیصلے خود کرنے پڑے ۔ گھر سے دوری ۔ اور اس دور کی محرومی نے دل میں تنہاء لوگوں کے دکھ کا در ایسے وا کر دیا کہ جب بھی کسی کو ان خاص تہواروں پہ اکیلا پاتا ہوں۔ تو دل بہت اداس ہوتا ہے۔ اور وہ زمانہ یاد آجاتا ہے۔

سال گزر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے کئی ایک سوال اور تشنہ لمحات چھوڑ جاتے ہیں ۔ جن کے دکھ اور زخم شاید ہی روح سے مندمل ہو پاتے ہوں۔ ہم زندگی میں بہت سی کامیابیاں تو پا لیتے ہیں لیکن بدلے میں روح پہ اتنے چرکے لگ جاتے ہیں جو کبھی کبھار پھیل کر ساری روح کو درد سے ڈھانپ دیتے ہیں ۔ گرمیوں کی تعطیلات میں پنڈ (گاؤں) میں خوب گرمی پڑتی۔ بڑی سی حویلی میں گھنے اور چھتار درختوں کے نیچے درجہ حرارات کئی درجے کم محسوس ہوتا ۔ ہم بہت سے کزنز ۔بہن ۔بھائی۔ دادی اماں کے گرد گھیرا بنائے بیٹھے ہوتے کہ ایسے میں بابا حیدرا نائی (ہم بچوں پہ بڑوں کی طرف سے فرض تھا کہ ہم بابا حیدرا کی بجائے احتراماَ بابا غلام حیدر کہہ کر پکاریں )بیرونی صحن کی ڈیوڑھی کے باہر والے دیودار کے موٹے موٹے ٹکڑوں کے بنے بڑے سے پھاٹک کے باہر لٹکتی زنجیر کو کھٹکھٹاتا اور اندر آنے کی اجازت طلب کرتا ۔ دادی اماں گھر کے سب افراد کو بابا حیدرا نائی کی آمد سے خبردار کرتے ہوئے کچھ توقف سے اُسے بیرونی صحن میں آنے کی اجازت مرحمت فرماتیں ۔ بابا حیدر نائی کی پہلی پکار پہ ہی دادی اماں کے پوتے اور نواسے تتر بتر ہوجاتے اور دادی اماں انہیں پکارتی رہ جاتیں ۔ دل تو میرا بھی بہت کرتا کہ بابے غلام حیدر کی آمد پہ اِدہر اُدہر ہوجاؤں۔ مگر دادی اماں کے پکارے جانے پہ۔ میں اپنی دادی اماں کے پیار اور احترام میں بیٹھے رہ جانے کے سوا کچھ نہ کر پاتا۔ دادی اماں آواز لگاتیں ۔ حیدرا لنگھ آ(حیدرا اندر آجاؤ) اور دودھ کی طرح چٹی بھوؤں والا بابا غلام حیدر نائی بیرونی صحن اور اندرونی دروازے سے گزر کر اندرونی صحن میں آجاتا اور دادی اماں حکم صاد فرماتیں کہ ”حیدرا ! مُڑے دی ٹنڈ کر دے“۔( حیدر بچے کی چندیا صاف کر دو)۔اور بابا غلام حیدر نائی مرحوم ” رچھینی“ ( اوزاروں والا بستہ) میں سے وٹی اور استرا نکال کر استرے کو وٹی پہ مذید تیز کرنا شروع کر دیتا ۔ میں بہت احتجاج کرتا مگر میری کوئی شنوائی نہ ہوتی ۔ اور بڑی محبت سے پالے بال۔ بابا غلام حیدر نائی کے استرے کی نذر ہوجاتے۔ بابا !حیدرا !!نائی اپنی کاروائی ڈال کر چلا جاتا ۔اور میں اپنی سفید سفید نئی نویلی چندیا پہ تاسف سے ہاتھ ملتے رہ جاتا۔ دادای اماں اسی پہ بس نہ کرتیں ۔ اپنی زمین پہ اگائے۔ ” تارا میرا، کے نکلوائے ہوئے سخت کڑوئے تیل سے۔ ہماری ٹنڈ پہ خوب مالش کرتیں ۔سخت کڑوا تیل کاٹتا۔ میں خوب احتجاج کرتا جاتا ۔ مگر اٹھ کر بھاگ جانا اپنی مردانگی اور دادی اماں کے پیار اور احترام کے خلاف جانتا ۔ میرے ہر احتجاجی مظاہرے پہ دادی اماں نہایت محبت سے کہتیں ۔” بیٹا ۔ چپ کر کے آرام سے بیٹھے رہو ۔ ٹنڈ کروانے کے بعد تارے میرے کے تازہ تیل کی مالش سے گردن موٹی ہوتی ہے“۔ ماما کو ممتا کے ہاتھوں مجھ پہ بہت ترس آتا ۔مگر اس مشق میں وہ بھی دادای اماں کی ہمنوا بن جاتیں ۔ اور محض اس خیال سے دادی اماں کی ہم نوا بن جاتیں ۔کہ مبادا دادی اماں کے دل میں کہیں یہ خیال نہ آجائے ۔کہ میں پہلے ماما کا بیٹا ہوں اور بعد میں اپنی دادی اماں کا پوتا ہوں ۔ اور جب تک پوَا بھر تیل ہماری چندیا میں جذب نہ ہوجاتا۔ ہماری جان نہ چھوٹتی ۔ اب دادی مرحومہ کی میری چندیا پر کی گئی مالشوں سے واللہ علم میری گردن تو موٹی ہوئی یا نہ ہوئی ۔مگرنتیجاَ میرے سر پہ اب اسقدر خوبصورت گھنے ۔ سلکی اور مضبوط بال ہیں ۔کہ ہر نیا حجام پہلی دفعہ میرے بال بناتے حیران ضرور ہوتا ہے ۔ میں شہر کے اچھے سیلون کا ممبر ہوں اور وہاں سے اپنے بال بنواتا ہوں۔ جہاں فون کر کے وقت لینا پڑتا ہے ۔ مگر کبھی کبھار وقت کی قلت اور مصروفیت کی وجہ سے بال کٹوانے کے لئیے ۔ڈاؤن ٹاؤن میں ایک پاکستانی حجام کے پاس بھی چلا جاتا ہوں ۔ پہلی دفعہ حسبِ معمول حجام نے میرے بالوں کے گھنا اور خوبصورت ہونے کے ستائش کی۔ تو میں نے اسے اپنی دادی مرحومہ کی اس کار خیر کا واقعہ بیان کیا ۔تو حجامت بنوانے کے لئیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے ایک صاحب پھڑک اٹھے ، اور ان کے منہ سے ایک لمبی آہ نکل گئی ۔ میں نے آئینے کے عقب سے انھیں دیکھا تو وہ موصوف مجھے مخاطب کر کے گویا ہوئے کہ ”بیٹا جی ! اب تو ایسی محبتیں خوآب ہو گئیں اب کوئی دادی دادا کچھ کہے تو اپنے پوتے پوتی کو۔ بہو وہ جھگڑا اٹھائے کہ ایک زمانہ دیکھے ۔ “ اب حیران ہونے کی میری باری تھی کہ خدایا یوں بھی ہوتا ہے ؟ مگر پھر کچھ لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی اور مجھے مانتے ہی بنی ۔
ہماری دادای اماں نے اسقدر اور اتنی بار ہماری چندیا صاف کروائی ۔کہ جب ہم جنگل میں شکار کے لئیے جاتے تو میرا ایک دوست جو نہائت بے تکلف تھا ۔ اکثر کہتا ”یار تمہارے گھونسوں کا خدشہ نہ ہو تو تمہاری اس نئی نویلی ٹنڈ پہ ایک چپت رسید کرنے کو خواہ مخواہ کو دل کرتا ہے “ ۔اور اتنا کہنے پہ میں اسے ایک آدھ خطاب سے نواز دیتا۔ سر میں تارے میرے کا اتنا تیل گھسا ہوتا کہ جب دوپہر کو سورج چمکتا ۔ اور سخت دھوپ ہوتی تو تیل سر سے بہہ کر کانوں سے سے نیچے تک آرہا ہوتا ۔ دادی اماں ہم سب سے بہت محبت کرتیں تھیں ۔ مجھ سے خصوصی پیار کرتیں تھیں۔ انھیں دعواہ تھا کہ میں ان کا پیار اور احترام باقی سبھی نواسوں اور پوتوں سے بڑھ کر کرتا ہوں ۔میری دادی اماں مجھے پورے اور درست نام سے کبھی نہ پکارپائیں۔ جب انکے عدم آباد روانہ ہونے کا وقت آیا تو وہ میرا نام لے کر بے چینی سے کہتیں ”میرا جاویج(جاوید ) پُتر نئیں آیا“۔ میں یوروپ میں تھا اور چھوٹی عمر تھی۔ جب دادی جان کے اللہ کو پیارے ہونے کے کئی دنوں بعد مجھے انکے فوت ہونے کی اطلاع ملی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ؏ زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے ۔
میرے چاہنے والے بہت ہوئے ہیں۔ بہت سے ہیں۔ جو مجھے جان سے پیارا جانتے ہیں ۔ جو عمروں کے فرق کے باوجود مجھ سے اپنے دل کا ہر دکھ سکھ نہائت اعتماد سے کر لیتے ہیں ۔ جو مجھے اپنا بیٹا۔ چھوٹا بھائی ۔ بھتیجا ۔ دوست ۔ سمجھتے ہیں ۔ اس بارے میں، میں خاصا خوش نصیب واقع ہوا ہوں۔ مگر اپنے چاہنے والوں سے آخری ملاقات کے معاملے میں ، ۔میں خاصا بد نصیب واقع ہوا ہوں ۔ اس سلسلے کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ جسے بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ۔ ہمت نہیں۔ دل پکڑ کر الفاظ ادا نہیں ہو سکتے ۔ بس گذرتے سال کے ساتھ کئی بیتیں یادیں تازہ ہوجاتی ہیں ۔ کئی زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ خدا جانے اگلے دسمبر تک کونسا چہرہ دیکھنا نصیب میں نہیں ہوگا ۔اکثر لوگ دسمبر کے مہنیے کو ایک ڈیپریس اور اداس حقیقت کے طور تسلیم کر تے ہیں ۔ مگر دسمبر کی اداسیوں کی وجوہات میرے نزدیک عام افراد سے بہت مختلف ہیں۔ جسے بیان کرنا بہت دل گردے کا کام ہے ۔ جسے الفاظ میں ڈھالنا اگر ناممکن نہیں تو ناممکن جیسا مشکل ضرور ہے ۔ کسی کا ذکر کرتے جب اسکا چہرہ آنکھوں میں گھوم جائے تو ۔دل جو ایک اسفنج کی طرح بھرا رہتا ہے اور چھلک پڑنے کو تیار ۔ لیکن آنکھیں سالوں کی مشق سے ۔ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قرینوں کو چھلکنے سے باز رکھتی ہیں ۔ ایسے میں سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے اور پھر الفاظ اپنی صورت کھو دیتے ہیں ۔ اور انگلیاں ساکت ہو جاتی ہیں۔ اور دسمبر میں ایک بے نام سے اداسی چھا جاتی ہے۔

lights

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: