RSS

Tag Archives: کراچی

پھر بجٹ۔


پھر بجٹ۔

Budget (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)
دور روز قبل پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے پاکستان کا سالانہ (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)بجٹ پیش کیا ہے ۔
یہاں حالیہ پیش کردہ بجٹ کے گورکھ دہندے پہ بحث کرنا مقصود نہیں ۔ کیونکہ یہ لچھے دار اور گنجلک بجٹ ہمیشہ سے عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر رہے ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ انہیں بابو لوگ پاکستان کے دیگر سرکاری نظام کی طرح جان بوجھ کر بھی کچھ اسطرح پیچیدہ اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز بنا دیتے ہیں تانکہ عام عوام حسبِ معمول ہمیشہ کی طرح محض سر ہلا کر ”قبول ہے“ کہنے میں ہی عافیت سمجھے ۔
بجٹ کی ایک سادہ تعریف تو یہ ہے کہ کسی بھی ذاتی یا مشترکہ نظام کو چلانے کے لئیے اس نظام پہ اٹھنے والے اخراجات اور اسکی ترجیجات کے لئیے کسی ایک خاص مدت کے لئیے دستیاب میسر وسائل کی منصوبہ بندی کرناہے۔ اسے عام طور پہ بجٹ کہا جاتا ہے ۔ بجٹ ذاتی یا گھریلو بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ جاتی یا ملکی بھی ہوتا ہے ۔ گھریلو ہو تو عام طور پہ اسے ماہانہ بنیادوں پہ سوچا جاتا ہے اور اگر ادارہ جاتی اور ملکی ہو تو اسے سالانہ بنیادوں پہ بنایا جاتا ہے ۔ جسے ملک و قوم کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پہ تیار کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پہ تقریبا سارے دنیا کے ممالک کسی نہ کسی طور سالانہ بجٹ کے تحت اپنے معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس میں مختلف مقاصد کے لئیے مخصوص رقم مقرر کی جاتی ہے اور رقم اور وسائل کی دستیابی کے لئیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔قومی ترقی۔ دفاع ۔ صحت ۔ تعلیم اور دیگر اہداف مقرر کئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں بجٹ کے آغاز سے بجٹ کے مالی سال کے اختتام تک بندر بانٹ ۔ وقتی ضرورت ۔ بد دیانتی اور دیگر کئی قسم کے جوازوں کے تحت قومی خزانے کے صندوق کا ڈھکن اٹھا دیا جاتا ہے اور بڑھے ہوئے ہاتھ ۔ قوم کی امانت رقم کو قومی ضروت سے کہیں زیادہ اپنی ذاتی اغراض کے لئیے اپنی طرف منتقل کر لیتے ہیں اور منتقلی کا یہ عمل ایسی سائنسی طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ کہ قومی خزانے کو بے دردی سے لُوٹنے والے چور بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر ”چور“ چور“ کا شور مچاتے ہیں ۔اور مجال ہے کہ چشم دید گواہوں اور شہادتوں کے باوجود ایسی طریقہ واردات پہ کسی کو سزا دی گئی ہو۔ اور پاکستان کے نصیب میں ہمیشہ سے یوں ہی رہا ہے ۔
قوم کی امانت ۔ قومی خزانے کو خُرد بُرد ہر اور ہیرا پھیری سے اپنی جیب میں بھر لینا ۔شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں کم وسائل اور عالمی مہاجنوں کے مہنگے قرضوں۔ امداد و خیرات سے تصور کئیے گے وسائل سے (خسارے کا بجٹ) خسارے کے بجٹ پہ حکومتوں اور اداروں کے سربراہوں ، مشیروں وزیروں کے شاہی اخراجات اور ایک عام چپڑاسی سے لیکر عام اہلکاروں اور اعلٰی عہدیداروں کے حصے بقدر جثے اور دیگر اللوں تللوں سے یہ تصور محض تصور ہی رہتا ہے کہ کہ پاکستان سے غربت اور ناخواندگی ختم ہو اور قومی ترقی کی شرح میں قابل قدر اضافہ ہو۔اور مالی سال کے آخر میں وہی نتیجہ سامنے آتا ہے جو پاکستان میں پچھلی چھ دہائیوں سے متواتر آرہا ہے کہ نہ صرف غریب ۔ غریب سے غریب تر ہوتا گیا بلکہ ہر سال غریبوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ عالمی اداروں کی حالیہ حد بندیوں میں پاکستان کئی درجے نیچے کو لڑھک رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی Low povertyگزارنے والی آبادی نصف سے زائد ہے ۔ خود اسحق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غریبی کی آخری حد سے نیچے ۔ یعنی دو ڈالر یومیہ آمدن سے کم کماتی ہے۔ یعنی ایسے غریب جو مستقبل کے بارے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے محض اس لئیے قاصر ہیں کہ وہ اپنے یومیہ بنیادی اخراجات پورے کرنے کی جستجو میں محض زندہ رہنے کا جتن کر پاتے ہیں۔ایسے حالات میں ایک لگے بندھے بجٹ کے طریقہ کار سے حکومت اور ذمہ دار اداروں کا اپنے آپ کوقومی ذمہ داریوں سے سبک دوش سمجھ لینا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کی انتہائی غریب آبادی کی غربت اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بجٹ اجلاسوں پہ اعدو شمار پیش کئیے جاتے ہیں ۔ اور ان پہ کئی کئی دن لگاتار یوانوں میں اجلاس ہوتے ہیں ۔ جہاں حکوت بجٹ کے حق میں دلائل دیتی ہے وہیں حب اختلاف اور دیگر جماعتیں بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ حزب اختلاف کئی ایک تجاویز دیتی ہے ۔ حزب اختلاف اور حکومت سے باہر سیاسی جماعتیں حکومت کے متوازی۔ اپنے طور پہ بجٹ کے لئیے باقاعدہ تیاری کرتی ہیں ۔اور متبادل تجاویز کو کئی بار حکومت تسلیم کر لیتی ہے۔ اور ایک بار بجٹ طے پا جانے پہ اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئیے حکومت تہہ دل سےمقر ر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لئیے مطلوب وسائل مہیاء کرتی ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اور اور قومی اسمبلی کے معزز اراکین کا یہ عالم ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق قومی خزانے سے کرڑوں روپے خرچ کر کے قومی اسملی کے ارکان کے لئیے بجٹ کی دستاویز چھپوائی گئی ۔ جسے ستر فیصد سے زائد قومی اسمبلی کے معزز ارکان بغیر کھولے ہی قومی اسمبلی ہال کے ہال میں اپنی سیٹوں پہ چھوڑ گئے ۔ اس میں حکومتی ارکان بھی شامل ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار کی تقریر کے دوران بھی قومی اسمبلی کی اکثریت ۔ بیزار ۔ بور اور آپس میں بات چیت کرتی نظر آئی ۔ ہماری رائے میں پاکستان سے متعلق اتنے اہم مسئلے پہ عدم دلچسپی کے اس مظاہرے کی وجہ اراکین اسمبلی کو بھی پاکستان کی سابقہ بجٹوں کی طرح اس بجٹ پہ بے یقینی اور بجٹ پیش کرنے کی کاروائی محض ایک رسم اور ایک قومی تقاضا پورا کرنے کے مترادف لینا ہے اور دوسری بڑی وجہ معزز اراکین کی بڑی تعداد کی تعلیمی استعداد اور سوجھ بوجھ کی کمی ہوسکتی ہے ۔ تو ایسے حالات میں پاکستان جیسے غریب سے غریب تر ہوتے معاشرے کے لئیے ایک قابل عمل اور نتیجہ خیز بجٹ کے لئیے مفید اصلاحات کون پیش کرےگا؟، حکومت کے بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کون کرے گا؟۔اسحق ڈار کے لبوں پہ ایک فاتح کی سی معنی خیز مسکراہٹ بھی اس امر کی غمازی کر رہی تھی ۔کہ کوئی تنقید نہیں کرے گا۔ اور بجٹ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا۔ تو ایسے حالات میں پاکستانی عوام کس کا پلُو تھام کر اسطرح کے بجٹوں پہ فریاد کریں ؟۔
آجکل پاکستان میں ٹیکس گزاروں کا نیٹ ورک بڑہانے کے لئیے بہٹ شور مچا ہوا ہے ۔ بہت سے ترقی یافتہ اور ٹیکس سے چلنے والے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اور پاکستان میں ٹیکس گزاروں کی ٹیکس چور ی کو تنقید کا نشانہ بنانا عام ہے ۔ لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ اُن ممالک میں حکومتی ادارے کس طرح عوام کے ٹیکسوں سے ملکی آمدن کو سوچ سمجھ کر انتہائی ذمہ داری اور دیانتداری سے ایک مکمل منصوبہ بندی سے استعمال میں لاتےہیں جس کے نتیجے میں عام آدمی کو ہر قسم کی بنیادی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور عوام کی فلاح بہبود اور ترقی پہ ٹیکسوں کو خرچ کیا جاتا ہے ۔ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور انہیں نہ صرف کریمنل یعنی سنگین مجرم بلکہ اخلاقی مجرم بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے نام سے عام آدمی گھن کھاتا ہے اور انکا ذکر انتہائی ناگواری سے کرتا ہے ۔ اور بہت سے ممالک میں ایسے حکومتی عہدیدار اور سیاستدان اسطرح کے اسکینڈل منظر عام پہ آنے سے اپنے عہدوں سے استعفی دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اپنے مقدموں کا سامنا کرتے ہیں ۔ اور بہت سے بدنامی کے ڈر اور لوگوں کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لیتے ہیں ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں ؟۔۔۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ کلچر عام ہے اور اسے ستائشی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ کہ جو جتنا بڑا چور ہوگا اسکے حفظ و مراتب بھی اسی حساب سے زیاد ہ ہونگے ۔ وی وی آئی پی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ کسی وجہ سے اپنا عہدے سے سبک دوش ہوجائیں تو بھی انہیں ہر جگہ ۔ہر ادارے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ایسے ماحول اور معاشرے میں تو ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی طرح روپیہ کما کر جلد از جلد اہمیت پانا چاہے گا۔ خواہ اس کمائی کے حلال اور حرام ہونے پہ سو ال اٹھیں۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جن کی وجہ سے ملک کی آج یہ حالت ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کی محض روز مرہ مسائل کی وجہ سے خودکشیوں میں شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ۔ انہیں ۔ ایسے لوگوں کو حقیر جانا جاتا ۔انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ۔ اور نیک ۔ دیانتدار اور ٹیکس گزار وں کو قابل احترام سمجھا جاتا ۔ انکی حوصلہ افازئی کی جاتی تانکہ محنت سے آگے بڑھنے کا کلچر فروغ پاتا۔ عام آدمی بجائے شارٹ کٹ ڈہونڈنے کے محنت پہ یقین رکھتا۔مگر نہیں صاحب ۔ قومی چوروں کو حرام کے ۔ لُوٹ کھسوٹ اور قومی خزانے کو نقصان دے کر بنائی گئ جائیدادوں اور پیسے کی وجہ سے ہر جگہ سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔ اور جو لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں انتہائی حقارت سے دھتکار دیا جاتا ہے ۔ تو سوال یہ بنتا ہے کہ پھر آپ کس طرح اپنے ٹیکس گزاروں کے نیٹ ورک میں اضافہ کرنا چاہئیں گے ۔ اور ٹیکس نہ دینے والوں کا رونا رونے کے ساتھ اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے بھرپور کلچر کو بھی تبدیل کی جئیے ۔
وہ قومیں جو ہماری طرح شدید غربت سے دوچار نہیں وہ بھی اپنی قومی آمدنی بڑھانے کے لئیے کئی ایک حربے آزماتی اور نت نئے جتن کرتی ہیں ۔ جبکہ ہمارے ملک کے بادشاہ لوگوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایک سرمایہ کاری کا ایک مناسب اور اہم ذریعہ پاکستانی امیگرنٹس کی شکل میں بھی موجود ہے جنہیں مناسب ترغیب، اور منصوبہ بندی سے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی طرف راغب کرنا چندا مشکل نہ تھا کہ وہ قومی یا کاروباری اسکیموں میں پیسہ لگاتے اور کارپوریشنز کی طرز پہ انکے سرمایے اور منافع کی دیانتدارانہ نگرانی کی جاتی ۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ۔ روٹی ۔ روزی ۔ روزگار کی وجہ سے یا ملازمت اور کاروبار کی وجہ سے پاکستان سے باہر مقیم افراد کو جسطرح بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح پاکستانی ائر پورٹو ں پہ ان سے سلوک کیا جاتا ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر سمیت ہر قسم کے محکماتی کاؤنٹر پہ انکے ساتھ افسر مجاز انہیں کسی جیل سے بھاگے ہوئے قیدی کی طرح سوال جواب اور سلوک کرتا ہے۔ کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ کہاں تو دیگر ممالک کے ائر پورٹس کاونٹر ز پہ مثالی انسانی سلوک کہ غیر قانونی دستاویزات پہ سفر کرنے والے مجبور پاکستانیوں کا جُرم پخرے جانے پہ بھی ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ اپنے ملک پاکستان سے آتے یا جاتے ہوئے ائر پورٹوں پہ اتنا انتہائی ذلت آمیز رویہ۔ کہ دماغ بھنا اٹھے۔ اور پاکستان کے اداروں کا یہ سلوک ان لوگوں سے۔ جو کئی دہائیوں سے مسلسل اپنے خُون پسینے کی کمائی سے۔ ریاستِ پاکستان کی زر مبادلہ کی کمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ۔پاکستان میں مقیم کروڑوں افراد کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے ۔ تو آپ کیسے ان سے یہ توقع اور امید رکھیں گے کہ پاکستان میں ہر قسم کی عدم سہولتوں اور امن عامہ کی عدم موجودگی کے باوجود اور اسقدر انتہائی اہانت آمیز سلوک کے باوجود وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے؟ یہ ایک ننھی سی مثال ہے ۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے بعض اوقات ہم قومی مفادات کو بھی پس پیش ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اپنے پاس موجود وسائل کو ملکی رو میں شامل کرنے کی بجائے اسے ملکی نظام سے بدظن کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے عد توجہ اور لاپرواہی پاکستان میں گھسٹتے نظام کی ایک ادنی سی مثال ہے کہ کس طرح ہم اپنے دستیاب وسائل کو کس بے درردی سے ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے دیگر طبقوں کی مثالیں دی جاسکتیں ہے۔
ایک عام سا فطری اور مالیاتی اصول ہے کہ جس چیز کی ضرورت جتنی اشد ہو گی اسکے حصول کی لئیے کوشش بھی اسی طرح زیادہ کی جائے گی ۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا حصول اور انہیں مناسب طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔جبکہ پاکستان میں کتنے صدق دل سے اس اصول کے خلاف کوشش کی جاتی ہے ۔ پاکستان کے کسی بھی ائر پورٹ یا پورٹ کو استعمال کر کے دیکھ لیں ۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی قابل کسٹم ڈیوٹی اشیاء ۔ خواہ وہ ذاتی ہوں یا کاروباری ۔ یا تحائف ۔ پاکستانی کسٹم کا مستعد عملہ بڑی جانفشانی سے آپکے سامان کی تلاشی لے گا ۔ اور نتیجے میں اس سے برآمد ہونے والی اشیاء کے بارے نہائت تندہی اور خونخوار لہجے میں اس پہ کسٹم ڈیوٹی کی رقم بتائے گا ۔اور ایک سانس فر فر سبھی قانون قائدے بیان کردے گا۔اور محصول کی رقم اسقدر بڑھا چڑھا کر بتائے گا کہ پاکستان پہنچنے والے پریشان حال اور تھکن کے مارے۔ لاعلم۔ مسافر کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔پریشانی بھانپتے ہی ایک آدھ اہلکار نہائت ہمدردی سے سر گوشی کے انداز میں استفسار کرے گا صاحب سے ککہ کر کچھ کم کروا دوں؟ اور دیکھتے۔ دیکھتے سر عام بولی لگے گی ۔ مُک مکا ہوگا۔ اور وہ رقم جسے قومی خزانے میں جانا چاہےتھا ۔ جس خزانے سے کار سرکار پہیہ چلتا ہے ۔ وہ رقم ۔ قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات پانے والے ہر قسم کے حفظ و مراتب وصولنے والوں کی جیب میں چلی جائے گی ۔ گویا حکومت نے قومی خزانے سے تنخواہ اور وردی دے کر لٹیروں کو قومی وسائل کو خرد برد کرنے کے لئیے بھرتی کر رکھا ہے ۔کچھ یہی عالم پولیس اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے سبھی چھوٹے ،بڑے ۔ اہم اور غیر اہم سرکاری اداروں کا ہے ۔ محکمہ کسٹم تو محض پاکستان میں کرپشن کے گلشیئر کا نکتہ آغاز ہے ۔کبھی سوچئیے کہ اگر صرف محکمہ پولیس کا ٹریفک ڈپارٹمنٹ جرمانوں کی وہ رقم جو قومی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے پولیس اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے ۔ یہ رقم اگر قومی خزانے میں جمع ہو تو پولیس کی ماہ بھر کی تنخواہ ان سے آسانی سے دی جاسکتی ہے۔ اور نتیجتا قانون کی حکمرانی کا شعور اور رواج بھی ملک میں پھیلے گا ۔ اگر کوئی یہ کہے پاکستان کے اداروں یا کسٹم کے ادارے میں اور ائر پورٹس وغیرہ پہ مکا مکا کی بولی سر عام اور سب کے سامنے نہیں ہوتی تو ایسی حکومت اور ذمہ داروں کو اپنی بے خبری پہ ماتم کرنا چاہئیے ا لاہور ۔ اسلام آباد ۔ کراچی ہر ائر پورٹ پہ بڑے دھڑلے سے اور سر عام ہوتا ہے تو حکومت اور بدقماشی ۔ رشوت اور کرپشن روکنے والے حکومتی اداروں کو اسکی خبر نہیں ؟ ایسے بدقماش اہلکاروں کو سزا دینا۔ دلوانا اور نوکریوں سے فارغ کرنا حکومت کے دیگر فرائض میں سے ایک فرض ہوتا ہے ۔۔ پاکستان میں زکواۃ کے دنوں پاکستانی اپنی رقم بنکوں سے محض اسلئیے نکال لیتے ہیں کہ انہیں حکومت کی زکواۃ کٹوتی پہ بھی شکوک ہیں اور وہ اپنی زکواۃ خود اپنی تسلی سے دیتے ہیں ۔ حکومتی زکواۃ کمیٹیوں پہ یقین نہیں کرتے ۔ حاصل بحث اگرحکومت خود سے کچھ کرنے سے قاصر ہو اورقومی خزانے کو تیل دینے والے عام معلوم اداروں اور عہدیداروں کو کرپشن سے باز نہ رکھ سکے تو ایسے ماحول میں آپ کا ٹیکس گذار کس خوشی میں آپ کو ٹیکس دینے کو تیار ہوگا؟
پاکستان کے اقتصادی و معاشی اور معاشرتی حالات ۔ اندھے بجٹ کے ذریعئے نہیں سدھریں گے۔ اعدادہ شمار کا یہ گورکھ دھندا اگر اتنا ہی مفید ہوتا تو ہر سال غربت میں کمی ہوتی اور ملک و قوم ترقی کرتے جب کہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ ملک میں غربت اور مہنگائی کا عفریت کب کا منہ کھولے عوام کی امیدو اور خواہشوں کو ہڑپ کرچکا ہے اور کئی سالوں سے پاکستان کے غریب عوام مفلسی اور مفلوک الحالی میں محض زندہ رہنے کا جتن کرتے ہیں۔عام پاکستانی شہری کو پاکستان کے سال در سال پیش کئیے جانے والے بجٹوں سے کوئی امید اور توقع نہیں رہی۔ اور پاکستان میں ایک عام خیال جر پکڑ چکا ہے کہ ہر سال بجٹ کے ساتھ اور فورا بعد میں مہنگائی کی ایک تازہ لہر آئے گی جو شدت میں پچلی مہنگائی سے زیادہ ہوگی ۔ اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے عام آدمی کے یوں سوچنا سمجھ میں آتا ہے۔
اگر ملک کی حالت اور قوم کی تقدیر بدلنا ہے تو ۔ بڑے منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ مگر ایک حقیقی تبدیلی اورقومی اقتصادی ترقی کے لئیے ۔ اسکے ساتھ ساتھ گلی محلے سے لیکر گاؤں۔ گوٹھ۔ بستیوں اور شہروں کے لیول کی چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندیاں کرنی پڑیگی ۔ ان منصوبوں کے لئیے وسائل ۔ سرمایہ ۔ اور دیانت دارانہ نگرانی ، اہداف کی تکمیل تک حکومت کو سرپرستی کرنا ہو گی ۔ گلی محلے سے لیکر ملکی اور قومی سطح پہ کی جانے والی منصوبہ بندی لوگوں کی مقامی ضروریات کے مطابق ۔ پاکستانی ۔ محنت کش ۔ اور ہنر مندوں کی صلاحیتوں پہ اعتماد کرتے ہوئے ۔ انکی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے کی جائے ۔ انہیں چھوٹے چھوٹے پیداواری اہداف دئیے جائیں۔ حکومتی ادارے اپنی تحقیق سے ایسے اہداف کی نشاندہی کریں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تحقیقی شعبوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اور مطلوبہ پیداوار کی عام منڈیوں میں کھپت ۔حکومت کے فعال اور دیانتدار ادارے کریں ۔ پاکستان با صلاحیت افرادی قوت سے مالامال ہے ، اسکی عمدہ مثالیں فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹریز ۔ گوجرنوالہ میں پنکھے ۔ اور واشنگ مشینیں ۔ اسٹیل کے برتن ۔ گجرات میں پنکھے ۔ فرنیچر ۔ برتن ۔ سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان ۔ لیدر جیکٹس ۔ جراہی کا سامان اور پاکستان میں کئی اور شہروں میں مختلف قسم کا سامان تیار کرنے والوں سے جڑے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور نتیجے میں وہ پیداوار ہے۔ جس سے پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے اور ان شہروں کی عام آبادی مناسب روزگار ہونے کی وجہ سے عام علاقوں کی نسبت خوشحال بھی ہے ۔ ان شہروں میں بہت سی مصنوعات کے چھوٹے چھوٹے جُز پرزے گھروں میں تیار کئیے جاتے ہیں۔ اگر اس جوہر قابل کی مناسب تربیت کر کے اسے قومی پیدوار میں شامل کیا جائے تو قوم کو بہتر نتائج ملیں گے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سی قوموں نے ننھی سطح سے سے مائیکرو منصوبہ بندی کرتے ہوئے نہ صرف پیدواری عمل بڑہایا ہے اور آج صف اول کی قوموں صف میں کھڑی ہیں ۔ بلکہ انہوں نے اسطرح اپنے شہریوں کو روزگار مہیاء کرنے کی وجہ سے ان کا معیار زندگی بھی بلند کیا ہے ۔ جبکہ پاکستان صلاحیتوں سے بھرپور اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے ۔
جب تک قومی وسائل کو بے دردی سے لُوٹنے والوں اور بودی اہلیت کے مالک منصوبہ و پالیسی سازوں سے چھٹکارہ نہیں پاتے ۔چور دورازوں کو بند نہیں کرتے ۔ پاکستان کو دستیاب وسائل کی قدر نہیں کرتے ۔ اور بھرپور طریقے سے انہیں استعمال میں نہیں لاتے ۔ بنیادی تبدیلی کے لئیے مناسب اور مائکرو منصوبہ بندی نہیں کرتے ۔ افرادی قوت کی مناسب رہنمائی اور تربیت نہیں کرتے تب تک معاشریہ ان چھوٹی بنیادوں۔ اور اکائیوں سے اوپر نہیں اٹھے گا اور تب تک ایک باعزت قوم بننے اور اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کا خوآب ادہورا رہے گا ۔ ہم خواہ کس قدر قابل عمل بجٹ بناتے رہیں نتائج وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہیں گے اور قومی ترقی کا خوآب محض خوآب ہی رہے گا۔ سال گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ جون 2015 ء میں ایک بار پھر وہی تقریر اور لفظوں کا ہیر پھر محض ایک خانہ پری ہوگی۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔


حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پہ کشمیر بے شک ایک متنازعہ خطہ ہے جسکا الحاق بھارت یا پاکستان سے ہونےکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔اسلئیے ہر دو ریاستیں بھارت اور پاکستان اپنے نقشے میں ہر فورم اور ہر جگہ کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل رکھتی ہیں ۔ مگر اس بلاگرز سمٹ میں پاکستان کے نقشے میں کشمیر کا نقشہ جان بوجھ کر نہیں دکھایا گیا ۔ جو بھارتی موقف سے زیادہ نزدیک اور پاکستانی موقف کے خلاف ہے ۔ پاکستان میں اور پاکستانی کریم یعنی پاکستانی بلاگرز کی موجودگی میں یوں ہوا ہے۔جس پہ ہمارے علم کے مطابق ماسوائے ایک بلاگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ کسی بلاگر کی طرف سے اس بارے کچھ کہا گیا ہو۔ اور پاکستانی میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہوا ہے مجال ہے میڈیا کی طرف سے کوئی احتجاج یا بیان جاری ہوا ہو؟

پاکستان میں سال میں بلا مبالغہ ہزاروں قتل ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ مارنے والے کون تھے؟۔ مرنے والا کون تھا؟ ۔ پھر موضوع سے براہ راست متعلق نہ ہونے کے باوجود سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کیوں؟ محض اسلئیے کہ ۔۔ ۔ تیرے خواب میری خواہشیں ہے کہ۔۔ تیرے نام سے جڑا ہے نام میرا۔۔ کے مصداق اس ناحق قتل جسکی پاکستان کے ہر زی ہوش انسان نے مذمت کی ہے۔ اس ناحق قتل کے محض گھنٹوں بعد اس ناحق قتل میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا۔

امریکی قونصلر نے پاکستان میں قونصل خانے سے باہر پاکستان کے ایک ہوٹل میں جس میں غیر ملکی بھی موجود تھے ۔ سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کرتے ہوئے۔ سلیم شہزاد کے قتل کی وجہ حق لکھنے کی سزا بیان کرتے ہوئے جہاں کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں بر سرعام مداخلت کرتے ہوئے سفارتی آداب کو پامال کیا ہے۔ وہیں سلیم شہزاد کے قتل کو حق لکھنے کی سزا بیان فرما یا ہے ۔ سزا؟ کیوں؟کس نے دی؟؟ پہلے ہیولوں کو وجود دیا گیا پھر ہر طرف ہاہا کار مچائی گئی کسی اندیدہ قوت کے اشارے پہ اس ناحق قتل پہ پاکستانی خفیہ ایجنسی اور بہت سوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتی پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑتی، پاکستان کے خلاف سازشوں کا توڑ کرتی، عالمی معیار کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی جس کا تعلق پاکستانی افواج سے جا بنتا ہے اس پہ سلیم شہزاد کے قتل کا ملبہ ڈالا گیا۔

پاکستان کی اٹوٹ بٹوٹ این جی اوز مخصوص مقاصد رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی میڈیا کے ذریعئے ۔ اس قتل کے فورا بعد اگلے دن ہی پاکستان کے خلاف یو این و یعنی اقوام متحدہ سے پاکستان کے خلاف ریزولیشن لانے اور اس پہ پابندیان لگانے کی فرمائیش کی گئی اور کچھ نہیں تو پاکستان کو عالمی کریمنل کورٹ میں گھسیٹا جائے۔ ان دیدہ قوتیں جنکا اپنا ریکارڈ انسانی حقوق کے حوالے سے شرمناک حد تک خراب ہے ۔ انہیں سلیم شہزاد کے قتل یا اسکے ناحق قتل سے لین دین نہیں۔ مگر "بچُو اب بتاؤ ۔ زیادہ اکڑ دکھاؤ گے تو ہم یہ بھی کرنا جانتے ہیں۔” یہ پیغام تھا پاکستان کو جو اپنی سالمیت کے خلاف پے در پے واقعات کی وجہ سے بھنایا ہوا ہے۔ اور اگر اندیکھی قوتیں ہمارے حکمرانوں کو مزید لولی پاپ دینے میں ناکام رہیں تو بہت ممکن ہے پاکستان انکے اثر رسوخ سے نکل جائے۔ اور کئی دہائیوں سے کھوئی وہئ آزادی پا لے جو ویسے بھی دو تین سالوں تک افغانستانیوں کی مستقل مزاجی اور حریت کی وجہ سےخطے سے ان طاقتوں کے عزائم ختم ہونے کے بعد پاکستان کے بکاؤ مال کوچوسی ہوئی ہڈی کی طرح نکال باہر پھینک دیا جائے گا۔ مگر یہ طاقتیں تب تک پاکستان پہ اپنا مکمل رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

چند ایک مخصوص ذرائع ابلاغ کے مخصوص عالمی ادارے اور اردو ایڈیشن کے حامل غیر ملکی ابلاغی ادارے نے اس پہ حسب عادت خوب خوب روشنی فرمائی۔ ہم فوج کی ترجمانی نہیں کر رہے اور نہ ہی افواج پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی دکھا رہے ہیں ۔مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان نے بھی اس کیس کی عدالتی کمیشن بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ تانکہ ائی ایس آئی پہ لگا ئے گئے الزام کی حقیقت سامنے آسکےاور دودھ کا دود پانی کا پانی ہوسکے جبکہ پاکستانی حکومت اس بارے لعیت و لعل سے کام لیتی رہی ہے جس سےکنفیوژن برابر قائم رہے گا ۔ تو کیا ہر اسطرح کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی اٹھا دینا کیا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟ اور قابل شرم بات یہ ہے کہ اسمیں مشکوک ماضی رکھنے والے پاکستانی میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ کیا یہ اس ایڈ کا شاخسانہ ہے جو ایسے صحافیوں کو امریکہ اپنی پالیسز کے بارے نرم رائے رکھنے ۔ نرم رائے بنانے کے لئیے دے رہا ہے۔

ذرا تصور کریں ۔ نیو یارک میں پاکستانی سفیر یا کوئی پاکستانی قونصلر امریکی زرائع ابلاغ یا امریکہ کے کسی طور نمائندہ لوگوں کو مدعو کرے۔ انکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ابو غریب جیل میں بے گناہ مظلوم لوگوں پہ ڈھائے گئے حیوانی مظالم کے باوجود بھی انکی زندگی میں دلچسپی کو دنیا کی گنی چنی کامیاب کاوشوں میں قرار دے۔ جو بے شک ایک جائز بات کہی جاسکتی ہے ۔ مگر اسی وقت مدعوعین پاکستانی سفارتکار کو آڑے ہاتھوں لیتے کہ پاکستانی سفارتکار کو وہاں سے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ۔اور اگر سفارتکار میں اڑنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہوتی توکم از کم امریکن مدعوین دعوت پہ دو لفظ بیجھتے ہوئے واک آؤٹ کر جاتے اور اگلے دن اس سے اگلے دن اور آنے والے ہفتوں میں پاکستانی سفارتکار کو سفارتی آداب سکھانے کے لئیے میڈیا پہ اور میڈیا سے باہروہ طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا کہ اس سفارتکار کو امریکہ چھوڑتے ہی بنتی۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر امریکہ بدر کر دیا جاتا۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ اکثریت بڑی مشکل سے اپنا گزارہ کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے سات کروڑ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہنے پہ مجبور ہیں ۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے کا مطلب کہ غریب وہ ہوتا ہے جسے دوقت کا کھانا مل جاتا ہے۔ جس کے پاس غریب ہی سہی مگر مستقبل کی ایک منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ مگر غریبی کی لکیر سے نیچے چلے جانے کا مطلب روٹی روزی دوائی دارو جیسی سخت ناگزیر ضرورتوں کے لئیے بھی بے یقینی ہونا ہے کہ اگر ایک وقت کا کھا مل گیا ہے تو اگلے وقت کے کھانےکاجتن کیسے ہوگا۔ بچے بیمار ہے تو دوائی کے لئیے دوسرے بچوں کی روٹی کے لئیے رقم نہیں ۔

ایسے ملک میں کمپیوٹر ، انٹر نیٹ کنیکشن اور کچھ کہنے کی خواہش رکھنے والے ، لکھنے والے ، بلاگنگ جیسی سوجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی فہم و ادراک رکھنے اور اسے الفاظ کا جامہ پہنانے اور اور دوسروں سے شئیر کرنے میں۔ وسائل میں، اور سب سے اہم وجہ رسوخ رکھنے میں۔ دیگر عام پاکستانیوں سے بدرجہا بہتر اور انتہائی آگے ہیں۔ اسلئیے انھیں زیر بار کرنے ا ور انہیں مخصوص نتائج کے حوالے سے ۔ نئی جہتیں فراہم کرنے اور کم از کم پاکستان سے سوقیانہ رویہ رکھنے والی طاقتوں کا خیرخواہ بناے کی اس مشق میں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ کسی پاکستانی بلاگر کو عزت مآب قونصلر سے اس بارے بات کرنے سوال کرنے۔ یا اپنی باری آنے پہ یہ پوچھنے کی توفیق نہ ہوئی کہ مائی باپ آپ پاکستان کے ایک ایسے قضئیے کو موضوع سے متعلق نہ ہونے کے باوجود جوڑ رہے ہیں جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس ناحق قتل کے محرکات کیا تھے۔ اور کن لوگوں نے یہ مذموم قدم اٹھایا اور ہر صورت میں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ۔ کیا ہوا ہماری حکومت کسی وجہ سے آپ کے سامنے نہیں سر اٹھاتی مگر ہم آزاد بلاگرز پاکستان کے آزاد شہری آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ حق کس نے بخشا ہے کہ آپ ہمیں آزاد بلاگری کا سبق پڑھاتے ہوئے ۔ ہمارے ملک میں ہمارے سامنے پاکستان کے اندرونی متنازعہ معاملات پہ بیان بازی کر رہے ہیں۔نیز آپ کشمیر کے نقشے کے بغیر پاکستان میں پاکستانی نقشے کی کانٹ چھانٹ کس استحقاق کی بنیاد پہ کی ہے؟ کیوں جب سے آپ کے اقتدار کا سایہ پاکستان پہ پڑا ہے تب سے پاکستان نامی پودا شاد باغ ہونا بھول چکا ہے۔ فرض کر لیں ہمارے عزت مآب بلاگرز کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی یا رزق کو حلال کرنے کی عادت کے ہاتھوں فوری طور پہ کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تو کیا بعد میں اپنے بلاگز پہ اس ساری مشق اور شو کے بارے لکھتے ہوئے بھی رزق کا حلال کرنا ہاتھ باندھ رہا تھا؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں کچھ کہنے کا حق صرف حاتم کو ہی ہوتا ہے۔

امریکی قونصلر کی وہ لاکھوں بلکہ ملینز بلاگز یا پاکستانی بلاگرز کبھی ہم بھی ڈھوند نکالیں گے۔ اگر کبھی موقع ملا تو۔ یوں تو نہیں کہ عزت مآب قونصلر کی خواہش کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔۔۔۔ کہ ملیئنز کے حساب آزاد خیال ۔۔روشن خیال ۔۔ پاکستانی بلاگز ہوں اور بلاگرز وہ کچھ کر دکھائیں جو کھمبیوں کی طرح پاکستان میں ہر طرف اُگی غیر ملکی سرمایہ سمیٹتی لاڈلی اور "گواہی” دیتیں ۔پاکستان کے اندر، پاکستان کے خلاف مہاراج "تھانیدار”کے سفید پوش کا کرادر ادا کرتیں قسما قسم کی این جی اوز باوجود مہاراج کی سخت مشق کے پاکستان کے خلاف مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکیں؟۔ بہر حال خیال اچھا ہے ۔ ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑے کر دئیے گئے اور اتنے زیر بار کہ کسی نے یہ تکلیف نہیں کی کہ پوچھ ہی لیں حضور آخر آپ اتنی زحمت جو کر رہے ہیں۔ اس میں آپ کا بھی کوئی منافع ہے اور اگر ہے تو حضور کتنا اور کس سمت سے ہے۔

اکھٹے ہوئے کھایا پیا گپ شپ لگائی اور جن کا کھایا ہو انکی گیت نہ بھی گائے تو ان پہ انگلی اٹھانے سے باز رہیں گے۔ رزق حلال کرنا پاکستانی قوم کا پرانا شیوہ ہے۔ انکے ایک ہزار ایک وہ عمل جن پہ پہلے انگلی اٹھائی جاسکتی تھی اب کون اٹھائے گا؟۔

کیا ہم امید رکھیں کہ پاکستانی بلاگرز آزاد ہونے کا حق ادا کرتے رہے گے یا ہم یہ سمجھ لیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کسی نے سچ کہا تھا کہ۔” حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں دستر خوانی کو حاتم کے قصیدے کہنے پڑتے ہیں”۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , ,

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔


ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔

خدایا۔ اب اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان پہ چڑھائی کردیتا ہے اور قبضہ کرلیتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے عوام کو ئی مزاحمت نہیں کریں گے کہ ہم اسی قابل ہیں ۔ ہم انسانیت کے ہر معیار سے گرچکے ہیں۔ سیالکوٹ کے واقعہ میں دو حافظ برادران کا قتل ۔ اخروٹ اباد میں غیرمسلح مسافر فیملی کا سفاک قتل۔ سلیم شہزاد کا نیوی کی اہلیت پہ سوال اٹھائے جانے کی وجہ سے سلیم شہزاد کا مشکوک قتل جس کا شک پاکستانی خفیہ دفاعی اداروں پہ کیا جارہا ہے۔جو ممکن ہے غلط ہو ۔مگر کچھ لوگ اس بارے بڑے وثوق سے بات کرتے ہیں اور آخر میں اس سترہ سالے لڑکے کا قتل۔ خواہ اس سے نقلی پستول ہی کیوں نہ برآمد ہوا ہو اور اسکی نیت پارک میں کسی واردات کی ہی کیوں نہ تھی۔ مگر ایک ایسے جرم کی سزا بغیر کسی قاضی۔ شہادت ۔ گواہی۔ مقدمے۔اور صفائی کا موقع دئیے بغیر جرم کی سنگینی سے کہیں زیادہ سزا یعنی سفاک قتل ۔ خدا ہمیں بہ حیثیت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے معاف کرے۔ وہ منت کرتا رہا ۔ ہسپتال لے جانے کی سماجت کرتا رہا ۔ گولی چلائے جانے سے قبل اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تھی۔ اسطرح کسی ماں کی آغوش اجاڑ دینا ظلم ہے اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔

ممکن ہے اس بدنصیب نے محسوس کر لیا ہو کہ اسے اب جان سے مار دیا جائے گا اور وہ لڑکا گولی چلانے والے اہلکار کی طرف بڑہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ اہلکار اس حرکت کو رائفل چھینے پہ منبطق کرتا ہے اور وہ ایک دفاعی ادارے کا تربیت یافتہ ملازم ہونے کے باوجود محض خوفزدہ ہوتے ہوئے گولی چلا دیتا ہے ۔ تو وہی بات آتی ہے کیا وہ لڑکا اتنا بے وقوف تھا کہ اتنے اہلکاروں کی موجودگی میں ایک رینجر کی رائفل چھیننے کی کوشش کرے؟۔ جس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ رینجرز کے اتنے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے اگر انہیں غصہ ہی تھا تو اسکو چند تھپڑ مار لیتے۔ بوٹوں سے ٹھوکریں اور ٹھڈے مار لیتے۔ مگر جب کہ اتنے لوگ اگر اسے دو دو چانٹے ہی لگا دیتے وہ ویسے ہی ادھ مواء ہوجاتا ۔ پھر وہ نہتا تھا اس کی تلاشی لیکر اسے ہتکڑی لگا سکتے تھے۔ اسے مارتے جو کہ پاکستانی پولیس اور اسطرح کے اداروں کا عام رویہ ہے مگر یوں اتنی سنگدلی سے وہ جان سے گزر گیا اور اتنے وردی پوشوں کا دل نہ پسیچا کہ اسے ہسپتال ہی پہنچا دیں۔ کچھ وقت کے لئیے مان لیتے ہیں ۔ تصور کر لیتے ہیں ۔ کہ اس نے رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔ اسنے نہتے ہاتھوں مقابلہ کرنا چاہا ۔ کہ ایک مرے ہوئے پہ جتنے مرضی الزام لگا دیں کونسا اسنے اٹھ کر ایسے الزامات کی تردید کرنی ہوتی ہے۔ مگر کیا گولی چلائے جانے کے بعد وہ قطرہ قطرہ خون بہاتا جان سے گزر گیا مگر کوئی اسکی مدد کو نہ آیا ۔ کسی ایک وردی پوش کا دل نہ پسیچا کہ وہ باقیوں کو آمادہ کرے کہ اسے ہسپتال لے چلیں۔ اسکا خون بند کردیں۔

اس قتل کی سفاکی سے وہ سارے افسانے درست معلوم ہوتے ہیں۔ جس میں پاکستان کے شمالی علاقوں۔ خیبر پختونخواہ اور ایجنسیوں میں قومی دفاعی اداروں پہ لگائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں جو ہماری جنگ کبھی نہیں تھی۔ محض غیروں کی سازش اور مشرف کی بزدلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور دفاعی اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش تھی۔ پاکستانی حکومت اور ملک رحمٰن جو امریکی مفادات کا اسقدر خیال رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بے بسی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور مجبوری کو دوروز پہلے عوام نے براہ راست ٹی وی پہ دیکھا۔ جس میں پشاور میں ایک فور بائی فور گاڑی میں سوار اور جعلی نمبر پلیٹ ہونے کے باوجود چار امریکی پاکستانی پولیس کو تلاشی دینی تو دور کی بات ہے۔ ان سے بات تک کرنے کے روادار نہیں تھے۔ انہوں نے فون ملائے اور بقول اخباری اطلاعات رحمٰن ملک کا فون آگیا۔ کہ انھیں باعزت روانہ کر دیا جائے۔جبکہ اس نام نہاد جنگ میں جس میں پورا پاکستان پور پور خون بہارہا ہے۔ جس میں پاکستان کے دفاعی ادارے بجائے اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کر رہے ہیں۔ جس میں پاکستان کے لوگ کام آرہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا پاکستان ایک مفتوح ملک ہے اور اس کے عوام دشمن ملک کے عوام ہیں۔ گھروں کے گھر اجڑ گئے۔ بستیاں تباہ ہوگئیں۔ گاؤں کے گاؤں کھنڈر ہوگئے۔ ڈرون حملوں سے لیکر اپنی ہی فوج کے توپخانے اور ایف سولہ جہازوں سے پاکستانی قوم ۔ عام عوام لہولہان ہو رہے ہیں۔ اور پاکستان کے دشمن ہماری اپنی ابوالعجمیوں کی وجہ سے ہم پہ قسم قسم کے دہشت گرد مقرر کرتے جارہے ہیں ۔ جو اداروں سے بچ جاتے ہیں دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ مسجدوں پہ پہرے اور چہروں پہ خوف منجمد ہے۔

آج بھی رحمن ملک کے بیان کے مطابق اس لڑکے نے رینجرز سے رائفل چھیننے کی کوشش کی تھی۔ ملک رحمن جو وزیر داخلہ ہونے کے ناطے اس سفاک قتل کی زمہ دار گردانا چاہئیے ۔ کسی مہذب ملک میں یوں ہوتا تو بہت ممکن تھا وزیر داخلہ کے ساتھ وزیر اعظم یعنی پوری حکومت مستعفٰی ہوجاتی۔ مگر نہیں یہ پاکستان ہے ۔ جس میں ہم نے اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے چور ڈاکو اور لٹیرے حکومت کے اعلٰی تریں مناصب پہ اپنے ہاتھوں سے بٹھا رکھے ہیں ۔ انھیں ہم دیوتا سے کم ماننے کو تیار نہیں۔ جب اعلٰی ترین مناصب پہ اسطرح کے لوگ ہوں گے تو اپکی پولیس بھی بدمعاش ہوگی ۔ آپکے ادارے بھی شتر بے مہار ہونگے۔ ڈاکو قاتل بھی کسی قسم کی اخلاقیات کے قائل نہیں ہونگے۔ اور عام شہری بھی اس راز کو پا جائے گا ۔کہ بے وقوف اس دنیا میں وہ ہے جو شرافت سے اپنے حقوق کا انتظار کرے۔

جب دنیا کے غریب ترین۔ ناخواندہ ترین۔ کرپٹ ترین ملکوں میں شمار ہونے والا ایک ملک ۔ اسکے حکمران محض مزید لوٹ مار کے لئیے اقتدار کے سنگھاسن سے ہر صورت میں چمٹے رہیں گے ۔ اور بجائے اپنے عوام، اپنی قوم، اور اپنے ملک کے حالات بدلنے کی بجائے ایک ہشت پہلو اور بے چہرہ جنگ کو جو ہماری کم اور اغیار کی زیادہ ہے ایسی بے ننگ و بے شرم جنگ جس میں پاکستان کا وقار گیا۔ خود مختاری گئی۔ عوام کے دلوں سے اپنے دفاعی اداروں کا احترام گیا۔ جس میں پاکستان کے اداروں کے اہلکار ،فوجی جوان اور افسر اور عوام مارے گئے۔ لہولہان ہوئے۔ جس سے ملک کی معاشی حالت گلی محلے کی کریانے کی دوکان کی طرح زمین سے آلگی۔ جس جنگ کی وجہ سے ملک میں کوئی سرمایہ داری کرنے کوتیار نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی اپنا سرمایہ باہر لے جارہے ہیں ۔ اپنی صنعتیں باہر منتقل کر رہے ہیں۔ جس جنگ کی وجہ سے عوام کو توانائی یعنی تیل۔ بجلی ۔پٹرول اور آٹا ۔چینی۔ چاول ۔الغرض دو وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ جسکے شہری روزی روٹی کی خاطر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ رہے ہیں یا بچے بیچنے پہ مجبور ہیں اور جب کچھ نہ بن سکے تو خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ننگ ملک جنگ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جس میں پاکستان کا کوئی ایک پہلو محفوظ نہیں ۔ جس میں پاکستان کا کوئی مفاد آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جس سے پاکستان کو بجائے فائدہ ہونے کے سراسر ہر قسم کے نقصان ہوئے ہیں۔ جو پچھلی ایک دہائی سے زائد پہ محیط جاری ہے کہ اس دوارن ایک نسل جوان ہوچکی ہے۔ جس جنگ کے دواران ہماری ساری توانائی اور توجہ اس نام نہاد جنگ کی طرف رہی ہے اور اس دروان دشمن نے پاکستان کے اندر اپنے ہر قسم کے مفاد کے لئیے خوب آبیاری کی ہے۔ ہمیں صوبائی۔ لسانی ۔ مسلکی۔ اور علاقائی تعصب میں جکڑ کر رکھ دیا ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں جو پاکستان کی پمپنگ مشین ہے جس پہ اسے بجا طور پہ پاکستان کا دل کہا جاسکتا ہے۔ اسمیں پٹھان مہاجروں ۔ پنجابیوں، سندھیوں ،بلوچیوں کو مار رہے ہیں۔ مہاجر پٹھانوں کو پنجابیوں کو، سندھیوں کو ، بلوچیوں یعنی ہر غیر مہاجروں کو زمین برد کر رہے ہیں اور پنجابی۔ مہاجروں کو پٹھانوں کو بلوچیوں سندھیوں کو اور بلوچی۔ پنجابیوں کو پٹھانوں کو مہاجروں کوسندھیوں کو مار رہے ہیں۔ جبکہ یہ سارے پاکستانی پاکستانیوں کو مار رہے ہیں۔ مسلمان مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ کیا انہیں سوچنا نہیں چاہئیے کہ دشمن کا کام ہم نے کسقدر آسان کر دیا۔ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے عیار دشمن نے ہمیں اسکی جنگ لڑنے پہ مجبور کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے اندر کئی طرح کے ناسور کاشت کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ تو کیا وہ وقت ابھی بھی نہیں آیا کہ اس جنگ جس میں ہمارا سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور باقی کا بچا کچا تباہ ہونے کو ہے ۔ ہم اس جنگ سے ہاتھ کینھچتے ہوئے اپنے ان معاملات جیسے تعلیم ۔صحت ۔روزگار ۔ توانائی کی بحالی اور اسطرح کے ان اہم امور پہ توجہ دیں جس سے ملک بنتے ہیں۔ شخصیتوں کی بجائے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ امن اور روزگار کی وجہ سے عام عوام مایوسی سے نکل کر مثبت سوچ اپناتے ہیں۔ انکی سیاسی بالیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سارے وسائل پاکستان کے عوام پہ استعمال کریں۔ انہیں شعور بخشیں۔انکے مسائل حل کریں۔ اور گھر گھر کے سامنے بندوق تانے اہلکاروں اور فوج کو سرحدوں کی نگرانی پہ بیجھا جائے۔ قانون ساز ادارےاپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو اولیت دے کر انکی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔سکون ہو ۔ اور پورے ملک کے طول وعرض میں لگی آگ بجھے۔ بہت ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے معذرت کرنے کی وجہ سے اگر پھر باہر سے ۔ سرحدوں کی طرف سے ہم پہ جنگ مسلط کی جاتی ہے ۔ تو عوام بھی اداروں کے۔ فوج کے شانہ بشانہ ہونگے، اور دوبدو جنگوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔جیسے جاپان اور جرمنی جنگ ہار کر پھر سے سب سے اگلی صحفوں پہ کھڑے ہیں۔ اسلئیے اگر خداہ نخواستہ ہم باہر سے مسلط کی گئی دوبدو جنگ ہار بھی گئے۔ تو پھر سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے،

اور دل میں یہ صدمہ نہیں ہوگا کہ ہم نے غیروں کی جنگ میں خوار ہو کر اپنے ہی کم عمر نہتے نوجوانوں کو سفاکی سے قتل کرڈالا۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , ,

اردو کی ترویج میں رکاوٹ کے اصل ذمہ دار۔


آپ نے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مگر واللہ میں حیران ہوں کہ کچھ ہفتے پہلے انٹر نیٹ پہ ایک انگلستانی ابلاغی ادارے کے اردو ایڈیشن پہ کراچی میں اردو کے حوالے سے چند روزہ اردو کی ایک انٹر نیشنل کانفرس کے بارے بتلایا جاتا رہا۔ وہ انگلستانی ابلاغی ادارہ اس میں کیوں اسقدر دلچسپی لے رہا تھا اس سے قطع نظر جو بات سب سے پہلے۔اور پہلی نظر میں کھٹکتی ہے کہ اس سارے کھڑاگ میں اردو زبان تو کہیں نظر ہی نہیں آرہی تھی۔ ابھی بھی وہ ویڈیوز انٹر نیٹ پہ موجود ہونگی۔ ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اسمیں پنڈال کے ارد گرد کانفرنس اور اسکے برے بینرز سبھی انگریزی میں لکھے ہوئے تھے۔ اسٹیج اور کوسٹر پہ اردو کے بارے اظہار خیال کرنے والے مکمل طور پہ مغربی رنگ میں رنگے بڑی روانی سے انگریزی میں بات کر رہے تھے۔ اسٹیج پہ بیٹھیں مائیاں دھڑلے سے سگریٹ نوشی فرما رہیں تھیں۔ اور اردو جس کی تذکرہ کانفرنس تھی اس پہ انگریزی میں روشنی ڈال رہیں تھیں۔ نامی گرامی دانشوران اور سامعین کی اکثر تعداد اپنا مافی الضمیر یعنی اردو کو ترقی دینے کے بارے کئیے جانے والے ضروری اقدمات پہ رائے انگریزی میں بیان کر رہی تھی۔ انکی بدن بولی اور رنگ ڈھنگ اور سر عام خواتین کی سگریٹ نوشی تو یہ پتہ ہی چلتا تھا کہ حرف عام میں یہ پاکستانی معاشرے کی خواتین و مرد دانشور ہیں جو اردو کی ترقی کے لئیے انگریزی میں دو تین روزہ انٹرنیشنل کانفرس کا اہتمام کر کے اردو کی ترقی کے لئیے کوشاں ہیں۔ اور اسقدر منافقت اور دہرا معیار دیکھ کر میں سوچ رہا تھا یا تو وہ لوگ اردو لکھتے پڑھتے اور بولنے والے اہل اردو نہیں جو پاکستان میں اور دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان کے اکثر لکھنے والے اور اردو سے متعلقہ کوششیں کرنے والے آپ جیسے لوگ شامل ہیں یا یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اردو کو وایا انگریزی ترقی دینے کے لئیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ وہ منافقت ہے جو بجائے خود اہل اردو کے ان دنشوران نے اردو کی نام نہاد ترقی کے نام پہ اردو کے ساتھ روا رکھی ہے۔ جسکا وہ کریڈٹ وہ ہر فورم پہ لیتے رہے ہیں اور کئی ایک اس کے بدلے گرانقدر مشاہیرہ اور مراعات پاتے رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کوئی ہی ادارہ یا لکھنے والا شاید ایسا ہوگا جو کمپیوٹر کسی نہ کسی مرحلے میں استعمال نہ کرتا ہو یا اسکا کام کو استعمال میں لانے کے لئیے کمپیوٹر سے اسکی اردو میں تدوین و تزئین اور لکھائی وغیرہ نہ ہوتی ہو۔ تو ایسے میں آج جو پہیے کی ایجاد اور لوہے کی دریافت کے بعد شاید کمپیوٹر اس میلنئم کی سب سے بڑی ایجاد و دریافت ہے اور اسکے ذرئیعے اردو کو ترقی دیکر اس سے بجا طور پہ پوری قوم کو علم و ترقی کی راہ دیکھائی جاسکے۔ اور اس بارے عالم یہ ہے کہ اس کے لئیے ترقی دینے کو سافٹ وئیر تیار کرنے یا کروانے والے اور تجاویز و گزارشات پیش کرنے والے آپ جیسے وہ لوگ ہیں۔ جو اردو اور قومی دردمندی کی وجہ سے اور انسانی خدمت کے جذبے سے استدعا کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں وہ جو حکومتی اور نیم حکومتی اداروں پہ قابض ہیں اور اپنے آپ کو اہل اردو کہلواتے نہیں تھکتے مگر اردو کی کمر میں نااہلی اور بدیانتی کی وجہ سے خنجر گھونپ رہے ہیں۔ اردو کی نام نہاد ترقی کے لئیے فور اور فائیو اسٹارز ہوٹلوں میں انگریزی میں اجلاس رکھتے ہیں۔ جن پہ خطیر سرمایہ اٹھتا ہے جبکہ کہ اسطرح کے ضروری سافٹ وئیر اور دیگر چیزوں کے لئیے ایسے اجلاسوں پہ اٹھنے والے خطیر سرمایے کا عشر عشیر خرچ کر کے سبھی سوفٹ وئیر تیار کروائے جاسکتے ہیں۔ یہ مشکل نہیں۔ ناممکن نہیں۔ یہ ہلکے پھلکے سوفٹ وئیر ہیں۔ پہلے سے تیار کسی پروگرام کی کمانڈز میں تھوڑا بہت ردبدل کر کے اسے اردو کا رنگ دیا جاسکتا ہے۔ مگر جو ذمہ دار ہیں اور لاکھوں کروڑوں کے عوضیانے اور بجٹ پاتے ہیں۔ ان کے کان کینچھے جانے ضروری ہیں۔ مگر کون کیھیچے ؟ کہ پاکستان میں رواج ہے کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئیے وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں اور خدا جانے کیا کیا بنا کر اپنے من پسندیدہ افراد کو بندربانٹ کا ایک نیا سلسلہ عطا کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اصل مسئلہ لوگ بھول جاتے ہیں۔ یا اسکا کوئی حل خود ہی تلاش کر لیتے ہیں۔ مگر وہ وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں قائم و دوائم رہتی ہیں پھلتی پھولتی ہیں۔ اور پیداگیری کا سفر جاری رہتا ہے۔ آپ نے اور بہت سے دوسرے لوگوں نے جو مختلف شعبوں میں اپنی صوابدید اور وسائل سے دوسروں کے لئیے کیا ہے ۔ اگر پاکستانی معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو غیرت ہوتی تو اور کچھ نہیں کبھی کسی تقریب کا انعقاد کروا کے ایک آدھ تعریفی شیلڈ ہی انعام کر دیتے۔ مگر وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے خود انکی اہلیت اور غفلت کا پول کھلتا ہے۔ اللہ آپ کے خلوص کا آپکو اجر دے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: