RSS

Tag Archives: ڈرامہ

شیخ طاہر القادری ۔زرادری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔



شیخ طاہر القادری ۔ذرداری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔

کیا ؟ ۔شیخ کا ڈرامہ ۔ زرداری اور سیاسی گرگوں کے مذاکرات ۔ ایک طے شدہ پلان تھا؟ ۔ کیا ڈارمے کا اختتام ہو چکا ؟ یا ابھی اس ڈرامے کے مذید ایکٹ سامنے آنا باقی ہیں؟۔
پاکستان کی تاریخ میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے (اگر تو سبھی مارچوں کو لانگ مارچ کہا جاسکتا ہے ) کچھ ناکام اور کچھ اپنے مقاصد کی نوعیت کے اعتبار سے کامیاب ٹہرائے گئے ۔ مگر شاید تاریخ میں یہ مخمصہ ہمیشہ بر قرار رہے گا کہ شیخ کا ڈرامہ مارچ کامیاب رہا یا ناکام ہوا؟ ۔ کچھ لوگ اسے سخت ناکام قرار دیتے ہیں اور انکی رائے بھی اپنی جگہ درست اور نیت ٹھیک ہے ۔ بادی النظر میں یہ لانگ مارچ ڈرامہ ناکام ہوا اور شیخ بڑی مشکل سے عزت بچا کر واپس لوٹے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یوں ہی ہوا ہے جیسا بظاہر سب نظر آتا ہے یا ہمارے کچھ بھولے بھالے سیاستدان اس ڈرامے میں اپنی مرضی کا رنگ بھرکر اسے ناکام قراردے رہے ہیں ۔جبکہ لگتا یوں ہے کہ اس لانگ مارچ ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹرز نے ابھی فی الحال پہلا ایکٹ کھیلا ہے ۔ اور انکے مدنظر مقاصد میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں اور اسلئیے لانگ مارچ ڈرامے کو ناکام نہیں کہا جاسکتا۔جہاں کہیں اس سارے پروگرام کے تانے بارے بُنیں گئے ہیں ۔ وہیں سے اب اگلی کاروائی کے بارے سوچ بچار جاری ہوگی۔
ایک اسیے وقت میں جب دوہری شہریت پہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا اور صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے غیر ملکی پاسپورٹس رکھنے والے اراکین کو اپنے متعقلہ قانون ساز اداروں سے اپنی سیٹیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں۔ ایسے میں جب کہ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو معینہ مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات کے بعد اقتدار منتقل کرے گی ۔ ایک ایسے فرد کا جسکی قومیت کنیڈین ہے ۔ جو پاکستان کا شہری نہیں۔ جو خار زرا سیاست کے کوچے کو خیر آباد کہتے ہوئے ۔ غیر ملک میں جابسا تھا۔ جو اپنی تنظیم میں جمہوریت نام کی کسی شئے کا قائل نہیں۔ جو سیاسی سے زیادہ مذہبی زور بیاں پہ ایک خاص ذاتی قسم کی ایک منظم تنظیم بنائے ہوئے ہے۔ جس کا ہر دوسرا بیان پہلے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جس کی سیاسی اور مذہبی قلابازیاں تاریخ کے ریکارڈ پہ ہیں ۔ ایسے شخص کا اچانک پاکستان وارد ہونا ۔ نا معلوم طریقے سے حاصل کئیے اربوں روپے۔ اپنے جلسے اور لانگ مارچ کی تشہیر پہ لگا دینا ۔ اور ایک ایسی ریاست بچانے کا دعواہ کرنا ۔ جس میں پاکستان کے آئین کے مطابق شیخ ۔غیر ملکی شہری ہونے کی وجہ سے ایک عام امیداور کے طور انتخاب نہیں لڑ سکتے ۔ طاہر القادری !۔ایسے مشکوک حالات میں ریاست بچانے۔ جمہوریت بچانے ۔ آئین بچانے کے لئیے ہر غیر قانونی ۔ غیر آئینی قدام اٹھانے کے مطالبات سر عام کرتے نظر آتے ہیں ۔جبکہ اخلاقی طور پہ انہیں ایسے کسی اقدام کا کوئی حق نہیں۔ نیز جس طرح شیخ کو ہر معاملے میں فری ہینڈ دیا گیا ۔ اس سے یہ سارا معاملہ شروع ہی سے مشکوک تھا ۔ ایک ایسا مارچ ۔جس کے مقاصد اور مطالبات شروع ہی سے واضح نہیں تھے اور ہر آن شیخ کا مؤقف بدلتا رہا ۔ اسے اسقدر اہمیت دینا کہ مارچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک حکومت کے درجہ اؤل کی شخصیات شیخ سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے کو بے تاب نظر آئیں۔
ایک رائے یہ تھی کہ حالات سے تنگ آئے عام عوام قطع نظر کسی سیاسی و مذہبی وابستگی سے شیخ کے ہجوم میں شامل ہوجائیں گے اور ہجوم اسقدر بڑھ جائیگا کہ تعداد چالیس ہزار سے چار لاکھ یا اس سے تجاوز کر جائے گی۔اور اس صورت میں شیخ اور حکومت کی ملی بھگت سے عام انتخابات سے فرار حاصل کرتے ہوئے ۔ پاکستان دشمن طاقتوں کے مفاد میں ۔ ایک نئی طرح کی حکومت ایجاد کی جاسکے گی۔ مگر عام عوام نے بالغ النظری کا ثبوت دیا اور شیخ اور شیخ کے مارچ کا تو بغور اور متواتر جائزہ لیتے رہے ۔مگر شیخ کے چالیس ہزارہ مارچ میں مزید اضافہ نہیں کیا۔
اسکے علاوہ ایک بڑا سیٹ اپ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ۔نواز شریف کی رہائش گاہ میں ایک فوری اجلاس منعقد کر کے۔ شیخ کے لانگ مارچ ڈرامہ کے ہدایتکاروں اور حکومتی گرگوں کو یہ واضح پیغام دیا ۔کہ آئین سے بالا کسی مُک مُکا کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کہ نیز حکومت ۔شیخ کے سامنے بلیک میلنگ کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ الیکشن سیٹ اپ میں کسی تبدیلی کی مجاز نہیں۔ اور اگر کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ تو پاکستان کی حزب مخالف اور عوام اسے کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔ حزب مخالف کا فوری اجلاس اور ایک متفقہ رائے کی وجہ سے حکومت اور اس ڈرامے کے ہدایت کاروں کو اس مارچ میں مناسب ردوبدل کرنے پہ مجبور کر گئے۔
کچھ لوگوں کی رائے میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ۔ غیر ضروری طور پہ ۔شیخ اور لانگ مارچ کے بارے میں عدم تعلق کا بار ہا یہ بیان دینا۔ جس کے بعد شیخ کا قسمیں اٹھا اٹھا کر امریکی سفارتخانے کے بیان کو اپنے حق میں گواہی اور شہادت کے طور پہ پیش کرنا بھی اس معاملے کو مشکوک کرتا ہے۔
عمران خان اپنی تحریک انصاف کے ساتھ شیخ کے ممکنہ ساتھی ہونے تھے۔مگر پاکستان حزب مخالف کے بر وقت اقدام کی وجہ سے انھیں طاہر القادری کو مایوس کرنا پڑا۔
ایم کیو ایم نے پہلے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر محض اخلاقی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لانگ مارچ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔
یہ حسن اتفاق ہے یکے بعد دیگرے پاکستانی سیاسی میدان میں انقلاب کا لنگوٹ کس کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں اترنے والے۔ اپنے نام میں تحریک اور انقلاب کا زوروشور سے ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیں۔ ایک نظر اس معائدے کو دیکھ لیں جو تحریک منہاج القرآن کے بانی و رہنماء شیخ طاہر القادری اور حکومت اور حکومت کے اتحادہ برزجمہروں کے درمیان ہوا۔ معائدہ درج ذیل ہے۔
” 1: قومی اسمبلی کو 16 مارچ سے پہلے تحلیل کیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی اس ایوان کی معینہ مدت ہے، تاکہ اس کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔ اس سے قبل ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کے تحت نامزد ہونے والے نمائندگان کی نامزدگی سے پہلے چھانٹی کی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن ان افراد کی اہلیت کا جائزہ لے سکے، کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔2: حکومت اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر پیش کریں گے۔3: الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار 27 جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ میں ہی ہوں گے۔آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون ایک اجلاس مندرجہ ذیل وکلاء ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسن کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک 27 جنوری کے اجلاس سے پہلے قانونی صلاح و مشورے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔4: انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلے آئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اے: آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور 82 جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔سی: سپریم کورٹ کے 2011 کی قانونی درخواستوں پر 8 جون 2012 کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔5: لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دونوں جانب ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے“۔

دستخط : وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف چیئرمین پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری،سربراہ وفد چوہدری شجاعت حسین ،وزیر قانون فاروق ایچ نائیک،مخدوم امین فہیم ، پی پی پی،سید خورشید شاہ ، پی پی پی پی ،قمر زمان کائرہ ، پی پی پی پی ،فاروق ایچ نائیک ، پی پی پی پی ،مشاہد حسین ، پی ایم ایل کیو ،ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم ،بابر غوری ، ایم کیو ایم ،افراسیاب خٹک، اے این پی،سینیٹر عباس آفریدی، فاٹا

اس سارے معائدے کے ہر دو فریق اس معائدے کا کوئی آئینی و قانونی حق نہیں رکھتے۔

اس معائدے کی شق نمبر ایک۔ کے مطابق ممکنہ امیدواروں کی آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور82 پہ پورا اترنے کی اہلیت جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔ کا اختیار ۔ شیخ اور رخصت ہوتی حکومت کے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے پاس آجائیں گے ۔ جبکہ اس سے قبل امیدواروں کی مذکور ممکنہ اہلیت جانچنے کا یہ اختیار عدلیہ کے پاس تھا۔

اس معائدے کی شق نمبر دو۔ کا ایک فریق عوامی تحریک نگران وزیر اعظم کا نام منتخب کرنے یا پیش کرنے کا کوئی آئینی ۔قانونی اور اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ اگر یوں ہوتا ہے توذرا تصور کریں ۔ چالیس کی بجائے چارلاکھ معتقدین ۔ مریدین۔ اور سیاسی اراکین رکھنے والے ”کس اور کیا کچھ “کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟۔ اور ایک ایسا طوفان بدتمیزی سر اٹھائے گا کہ الامان الحفیظ۔

اس معائدے کی شق نمبر تین۔ کے مطابق ۔ اس سے قبل تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو متازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے معاملات الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔الیکشن کمیشن کی متفقہ تشکیل ہوچکی ۔ جس پہ پاکستان کی تقریبا سبھی سیاسی پارٹیاں اور عدلیہ متفق ہو چکے ہیں ۔اس تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو مشکوک کرنا ۔ متنازعہ قرار دینا محض الیکشن میں تاخیر یا منسوخ کرنا ہے ۔ یا الیکشن کے بعد اسکے نتائج کو مشکوک و متنازعہ قرار دینا ہے ۔ یہ بارود کے ڈھیر پہ دیا سلائی رکھنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی بہت ممکن ہے کوئی دردمند شہری اس معائدے کی آئینی و قانونی حیثیت کو اعلٰی عدلیہ میں چیلنج کردے اور یہ معائدہ سرے سے ہی کالعدم قرار پائے۔
پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیاں اور حزب اختلاف اس پہ اعتراضات اٹھائے گی جس سے انتشار اور عدم استحکام کا ایک نیا محاذ پاکستان کے اندر کھل جائے گا ۔
یہ معائدہ اپنے وجود کے اندر پاکستان کے استحکام کے لئیے خوفناک مسائل لئیے ہوئے ہے۔ ۔ ایک ایسی حکومت جس نے پورے ملک کو اپنی اس پوری مدت میں میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ بغیر کسی وجہ کے گیس ۔ بجلی اور پانی کا بحران حل نہیں کیا۔ بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریوں سے لیکر گھروں کے چولھے تک بند پڑے ہیں اور پوری ایک قوم کو ان سالوں میں پتھر کے دور میں دھکیلنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا گیا۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے نہیں تھکتے اور حکمران اپنی ذاتی سیکورٹی کے سوا سیکورٹی کے متعلق کوئی دوسرا قدم اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ عام امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے عام شہری سر شام ہی گھروں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرٹ کا قتل کیا جارہا ہے ایک عام سی نوکری لاکھوں روپے میں بک رہی ہے۔ ہر طرف کرپشن ۔ لُوٹ کھسوٹ اور چور بازاری گرم ہے ۔ اربوں روپے کی کرپشن ہور رہی ہے۔ اعٰلی عدلیہ حکومتی سودوں میں اربوں روپے کے گھپلوں کی نشاندھی کر چکی ہے ۔ مگر حکومت میں شامل کسی کی ناک پہ ایک بال تک نہیں پھڑکا ۔ اسی حکومت کا ایک ایسے چالیس ھزاری مجمع کے لانگ مارچ اور دھرنے کے سربراہ ایک غیر ملکی شہریت کے حامل اور ایک عام شخصیت کی بلیک میلنگ ( جو در حقیقت بلیک میلنگ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ ایک ایکٹ ہے کہ بلیک میلنگ کا تاثر دیا جائے) کے سامنے اتنے ادب و احترام سے جھک جانا ۔ یہ کسی ذی شعور پاکستانی کی عقل میں نہ آنے والی بات ہے۔شیخ کا پہلے سے طے شدہ اوقات کار کے مطابق چند ماہ کی مہمان حکومت کو دھمکیاں اور واننگ دینا ۔اور ایسا معائدہ کرنا جسکا کوئی آئینی ۔ قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔

یہ سب باتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا۔ اور ابھی یہ ڈرامہ ختم نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ اس ڈرامے کا آغاز ہے اور اسکی انتہاء ۔ پاکستان میں کسی طور ایک غیر آئینی حکومت کا نفاذ ہے ۔ ۔جو اس سارے ڈرامے کی ہدایت کار غیر ملکی طاقت کے ایجینڈے میں اسکی مرضی کے رنگ بھر سکے ۔ جس کے تانے بانے بہر حال پاکستان کو دو ہزار پندرہ تک زبردست قسم کی انارکی کا شکار بنانے سے جا ملتے ہیں ۔ اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں ۔ اگر کوئی غیر جمہوری (جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت بھی ہو سکتی ہے ) سیٹ اپ بنتا ہے ۔ تو ممکن ہے کہ افواج پاکستان کواسکی بی ٹیم کے طور پہ کام کرنے کے لئیے کہا جائے۔ کیا پاکستان کے بارے مکرو ہ عزائم رکھنے والی طاقتیں کامیاب ہوں گی ۔یا پاکستان کے عوام بالغ النظری اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاغوتی طاقتوں کو انکے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔ اور قرائن یہ بتاتے ہیں ۔ کہ اس دفعہ شاید مشیت ایزدی کا ایجینڈا پاکستان کے ساتھ ہے ۔ پاکستان اور قوم دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انشاءاللہ۔ لیکن فی الوقت پاکستان میں انتشار مزید بڑھتا نظر آتا ہے اور جسکے بنیادی کردار طاہر القادری اور موجودہ حکومت ہیں۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اگر اس نوٹس

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

آج ایک اخبار نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کسطرح عمرِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیت المال سے دوائی کے طور شہد کی چند چمچ پرابر تھوڑی سی مقدار کے حصول کیلئے مسجد میں درخواست کی تھی۔ اگر اس واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا جائے اور غالب گمان یہ ہے کہ گیلانی و زرداری سے استفسار کیا جائے تو انکےکسی بانکے چھبیلے وزیر کی طرف سے ڈھٹائی سے یہ بیان آئے گا کہ گیلانی اور موجودہ صدر بھی اپنے شاہانہ اخراجات کے لئیے کابینہ اور اسمبلی سے اجازت لیتے ہیں۔ وہ خود سے تو کروڑوں کے شاہی اخراجات نہیں کرتے ۔ جیسےموجودہ بجٹ میں پاکستان کے سابق صدور اور وزرائے اعظم کو تاحیات مراعات دینے کی رعایت شامل ہے جس سے نہ صرف زرداری ،گیلانی ،نواز شریف ، رفیق تارڑ ا بلکہ آئی ایم ایف کا چھیل چھبیلا اورتین ارب کا مالک امپورٹیڈ وزیر اعظم شوکت عزیز اور بردہ فروش سابق صدر مشرف کے لئیے بھی عمر بھر مراعات شامل ہیں۔اور یہ سلسہ ہائے داراز صرف یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ بہت سی جائز اورنا جائز صورتوں میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔.

ایسی نااہل حکومتوں کے ہاتھوں پاکستان کا کوئی ایک المیہ ہو جو بیان کیا جا سکے۔ یہاں تو ہر لمحے ہر آن ایک المیہ ہوتا ہے ۔جس سے پاکستان دوچار ہے۔ مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق اوباش اور نااہل لوگوں میں ریاست کے اہم اور حساس عہدوں کی بندر بانٹ کی جاتی ہے ۔ جس سےایسے عہدیدار ملک قوم کے ساتھ اپنی وفاداری نبھانے کی بجائے سیاسی پارٹیوں اور اپنے آقا و مربی سے وفاداری نباہتے ہیں۔ اور بجائے اس کے اپنے عہدے سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے کے الٹا ساری عمر اپنی نااہلی اور چور دروازے سے عہدہ حاصل کرنے کی چوری کی وجہ سے حکومتوں کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں ۔اور اس پہ طرف تماشہ راشی اور بد عنوان حکومت کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کے تن سے خون کا آخری قطرہ تک کشید کرنے کے جتن کئیے جاتے ہیں ۔جس طرح پاکستان کے وزیر اعظم گیلانی نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ملک قوم کے مفاد میں سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل بجا لانے کی بجائے ۔وزیر اعظم نامزد کرنے والے زرداری کے ساتھ اپنی وفاداری نباہ کر پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے حکم کی واضح نافرمانی کرتے ہوئے ڈھٹائی اور سینہ زوری کی ایک غلط روایت قائم کی ہے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پورا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔

جسطرح مشہور ہے کہ گر بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگاَ ۔کے مطابق پیپلز پارٹی نے شروع دن سے ہر وہ قدم اٹھایا کہ کوئی آئے اور انھیں حکومت سے باہر کر دے۔ تانکہ پیپلز پارٹی کو حسب عادت سیاسی شہادت کا ایک اور موقع مل جاتا ۔مگر پیپلز پارٹی کے نصیبوں یوں ہونا سکا اور بجائے اسکے کہ وہ خدا کے دئیے اقتدار کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے مکمل طریقے سے نباہنے کی کوشش کرتی ۔الٹا انھوں نے اسے نام نہاد جمہوریت کا نام دے کر سینہ زوری شروع کر دی۔ حالانکہ اگر جتنی توانائی پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے طاقت اور نام نہاد جمہوریت کے نام پہ مستی اور سینہ زوری پہ صرف کی اگر یہ اس سے نصف توانائی عوام کے مسائل حل کرنے پہ خرچ کرتے۔ تو آج ملک و قوم اور خدا کے حضور سرخرو ہوتے۔ لیکن ایسا کرنا پیپلز پارٹی کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہی ایجی ٹیشن سے شروع ہو کر ایجی ٹیشن پہ ختم ہوتی ہے۔ خواہ یہ پانچ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک حکمران ہی کیوں نہ رہے ہوں ۔الیکشن ہونے دیں ۔جیتنے یا ہارنے کے بعد یعنی ہر دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی پاکستان کے اداروں کا رونا رو کر اپنے آپ کو سیاسی مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری طرف ماضی میں وفاق میں دو دفعہ حکمران رہنے والی اور پنجاب میں اس وقت حکمران ۔اور پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی۔ اور اپنے آپ کو مستقبل میں پاکستان کے حکمران سمجھنے والی نون لیگ ۔سے کیا امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں؟۔ جو اخباری اطلاعات کے مطابق مینار ِپاکستان کے نیچے اپنا حکومتی کیمپ لگائے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا مبینہ غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا ریکارڈاحتجاج کروارہے ہیں ۔ مانا کہ بجلی پیدا کرنا اور اسے سب صوبوں میں برابر تقسیم کرنا وفاق کے ذمے ہوگا ۔اورایسا کرنے میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ناکام رہی ہے۔ مگر کیا پنجاب پولیس کے ہاتھوں ستائے ہوئے پنجاب کے عوام اور تھانہ کلچر کی من مانیا ں اور پنجاب پولیس میں غنڈہ گرد عناصر کے ہاتھوں مظلوم لوگوں کو نجات دلانا۔ اور ایک منصفانہ تھانہ کلچر قائم کرنا ۔کیا پنجاب حکومت کے فرائض میں نہیں آتا؟۔ آج بھی پنجاب پولیس کے زیر سرپرستی اور پنجاب کے اکثر و بیشتر تھانوں میں بھینس کی چوری سے لیکر قتل جیسے سنگین معاملات پہ باہمی فریقوں سے مُک مکا کے بعد پرچے رپوٹیں اور ایف آئی آر لکھی جاتی ہیں۔ اور عدالتوں سے بالا کمزور فریق کو راضی نامے پہ زبردستی مجبور کیا جاتا ہے۔ جس کے پیچھے طاقتور کا پیسہ اور اثر و رسوخ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اور عام شریف آدمی کی یہ حالت ہے کہ وہ بھرے بازار میں لٹ جانا برداشت کر لیتا ہے۔ مگرپولیس کے خوف اور رشوت خوری کی وجہ سے تھانے میں رپورٹ کرانے سے ڈرتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت یا دوسرے لفظوں میں ن لیگ اپنی حکومت میں اپنی پولیس کو درست نہیں کرسکی تو اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔ کہ ایسا نہ کرنے میں پنجاب حکومت کی نیت میں اخلاص کی کمی ہےیا پنجاب حکومت میں اہلیت کی کمی ہے ۔کوئی ایک وجہ ضرور ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں کے بلند بانگ دعوؤں کے باجود پولیس کا محکمہ بجائے سیدھا ہونے کے مزید بگڑ چکا ہے۔جس سے ہر دو صورتوں نقصان سادہ لوح عوام کو پہنچ رہا ہے۔ پولیس کا محکمہ تو محض ایک مثال ہے۔ ایسی کئی مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں۔ جبکہ مینار پاکستان کے سائے میں پنجاب حکومت کے کیمپ لگانےسے ،خدا جانے عوام کے کتنے ضروری کام رہ گئے ہونگے ۔پنجاب کے وزیر اعلٰی کے بس میں سفر کرنے سے نہ جانے کیوں ضیاءالحق کا سائیکل چلانا یاد آگیا ۔ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ اسطرح کے پروپگنڈا ہ اور چونکا دینے والے اقدامات سے وی آئی پیز کی سیکورٹی اور تشہیر کے متعلقہ اقدامات پہ کس قدر خرچ آتا ہے ۔ اور جب حکمران اس طرح کے غیر ضروری کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ تو قوم کے کس قدر ضروری کام حکمرانوں کی توجہ اور وقت نہ ملنے سے ادہورے رہ جاتے ہیں۔ یہ ماننے کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ اس بات کا ادراک پنجاب حکومت کے حکمرانوں کو نہیں ہوگا ۔اگر انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے تو یہ نااہلی ہے ۔اور اگر ادراک ہوتے ہوئے انہوں نے یوں کیا ہے ۔تو عام آدمی کو بے وقوف بناتے ہوئے محض پیپلز پارٹی کی نااہلی کے مقابلے پہ اپنا سیاسی گول کرنے کی تگ دور میں اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا ارتکاب ہے۔

پاکستان کی ایک اور سیاسی جماعت عمران خان کی تحریک انصاف ہے ۔ جسے پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تسلیم کروانے کا پراپگنڈہ صبح شام کیا جاتا ہے۔ وہ کن ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور اسکے باہمی اجزائے ترکیبی کی دم پخت کیسی ہے ۔اس کے بارے ہر واقف حال جانتا ہے۔ عمران خان کے دل میں پاکستان کے لئیے خلوص بدرجہ اُتم موجود ہوگا ۔مگر چونکہ سیاسی جماعت کسی ایک رہنما کانام نہیں ہوتا ۔ اسمیں شامل سبھی چہرے مل کر ایک خاص تصویر بناتے ہیں اور تحریک انصاف میں شامل چہروں سے تحریک انصاف کی جو تصویر بن کر سامنے آتی ہے ۔و ہ سب کے سامنے ہے ۔ اور اقتدار مل جانے کی صورت میں صرف اسکا کوئی ایک رہنماء نہیں بلکہ اسمیں شامل چہرے ملکر ملک و قوم کی نیا کو پار لگانے یکا جتن کرتے ہیں اور جب بکل میں چور بٹھا رکھے ہوں تو قوم کی نیا پار لگنے کی بجائے ڈوب جانے کے خدشات و امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انقلابی تبدیلی کے لئیے صرف عمران خان کے وعدے اور دعوے ہی کافی نہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف کے علمبردار ابھی تک اس انقلابی تبدیلی ۔۔جس کے وہ دعویدار ہیں اس کے لئیے ٹھوس تجاویز ۔ بہتر طریقہ کار اور متبادل نظام واضح کرنے میں ناکام ہیں۔

اسکے بعد پاکستان کی وہ علاقائی ، لسانی اور گروہی پارٹیاں یا پریشر گروپ ہیں۔ جنکے وجود کے ہونے کا مقصد ہی اپنے وزن کو اقتدار نامی ترازو میں ڈال کر ۔بلیک میلنگ اور آنے بہانوں سے اقتدار میں اپنے جثے سے کہیں زیادہ حصہ وصول کرنا ہے۔

مذہبی جماعتیں اپنے ممکنہ اتحاد و نفاق اور پاکستان میں متواتر عالمی دخل در معقولات نے انھیں اس قابل نہیں چھوڑا ۔کہ انکی کسی معقول بات بھی عوام کان رکھنے کو تیار ہوں۔

فوجی حکومتوں نے جس بری طرح پاکستان کا حلیہ بگاڑا ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے ۔ فوج سرحدوں کی بہتر نگہبانی صرف اسی صورت میں کر سکتی ہے۔ جب وہ خود اقتدار کی دیگ پہ قابض نہ ہو ۔ پاکستان کی بڑی جنگیں فوجی سربراہوں کے دور میں ہوئیں ۔ مشرقی پاکستان کے سابقہ ہونے۔اور بنگلہ دیش کے قیام کا واقعہ بھی فوجی حکومت میں ہوا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں کہ بغیر کسی تامل اور حیل حجت کے امریکہ کے سامنے پاکستان کو چارے کے طور پہ پھینکنے والا بھی ایک فوجی حکمران مشرف تھا ۔ جس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہیں ۔اور خدا جانے کب تک پاکستان اس جنگ کے بداثرات سمیٹتا رہے گا۔

یہ مندرجہ بالا فریق ہیں جو پاکستان کے اقتدار اعلٰی میں رہنے۔ یا ریاست پاکستان کے اقتدار اعلٰی حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اور ممکنہ طور پہ پاکستان کے مستقبل کے حکمران ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں ان سے کسی تبدیلی اور اسکے نتیجے میں پاکستان کے وفاقی بجٹ میں کسی عمدہ پیش رفت کا ہونا ۔ یا ملک و قوم اور خود پاکستان کے لئیے نتیجہ خیز انقلابی تبدیلی لانا ناممکن ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ایسے حالات میں پچھلے تریسنٹھ سالوں کی طرح اگلا بجٹ اس سے بھی ظالم اور خود فریب ہوگا ۔جس کی قیمت پاکستان اور پاکستان کے زندہ درگو عوام کو اپنی بھوک اور بے چارگی سے اٹھانی ہوگی۔ خاموشی سے ظلم سہنا اور اپنے پہ ظلم کرنے والے ظالم کا ہاتھ نہ پکڑنے سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوتا ۔جب تک پاکستان کے عوام خود ایسے ظلم کا راستہ روکنے کی جدو جہد نہیں کرتے ۔اسطرح کے اعداو شمار کے گورکھ دھندے بجٹ کے نام پہ آتے رہیں گے۔ جس میں اربوں کے حساب سے غبن اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے نااہل حکمرانوں کے لئیے تاحیات مراعات تو ہونگی ۔مگر عوام کے بھوکے بچوں کے کے لئیے دو باعزت روٹیوں کے لئیے محض جھوٹے وعدے اور روٹی کپڑا اور مکان جیسے خوشنما نعرے ہونگے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین تین جون دو ہزار بارہ ء

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: