RSS

Tag Archives: وزیر اعظم

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان اور برئنیر رپورٹ


کولبیرٹ ازم۔ برصغیر ہندؤستان اور برئنیر رپورٹ۔پہلی قسط

قسط اول
ہمارا موضوع شاہجہان اور اورنگ زیب کے دور میں ہندؤستان سے متعلق "فرانسسکو برنئیر ” کے سفر اور خیالات ہیں۔ جن سے اس دور میں ہندؤستان اور یوروپ کی دیگر اقوام کے حالات اور سوچنے کا انداز ۔ اور برصغیر ۔ برصغیر میں مغلوں کی حکومت۔ برصغیر کے سماجی ۔ معاشرتی ۔ سیاسی ، فوجی اور حکومتی ڈھانچے کا جائزہ لینا اور برنئیر جیسے مغربی دانشور کی زبانی ہندؤستانیوں کی خامیوں اور خوبیوں کا موازنہ کرنا ہے ۔ اور اس دور میں ہندوستان کے بارے مغربی سوچ کا احاطہ کرنا شامل ہے۔
” کولبیرٹ” ( ۲۹۔انتیس اگست سولہ سو انیس عیسوی ۱۶۱۹ء تا ۶ چھ ستمبر سولہ سو تراسی ۱۶۸۳ء ) فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم (چودہویں) کا وزیر خزانہ تھااور وزیر اعظم کے بعد بادشاہ کی حکومت کا دوسرا طاقتور ترین فرد شمار کیا جاتا ۔ یہ وہ دور تھا۔ جب فرانس ۔ ہالینڈ سے مشرقی منڈیوں کی مصنوعات کا عالمی تجارت میں مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔اور مشرقی منڈیوں کی مصنوعات اور مصالحہ جات کی اپنے ملک فرانس میں مانگ کی وجہ سے برآمد درآمد کا توازن اپنے حق میں کرنے کے لئیے۔ مشرقی اور دیگر ممالک میں قبضہ کرتے ہوئے اپنی نوآبادیاں قائم کر کے ۔دیگر فوائد کے ساتھ وہاں اپنی مصنوعات کی کھپت کرنا چاہتا تھا۔ فرانس کے مشہور وزیر خزانہ کولبیرٹ کی اس سوچ اور حکمت عملی کو فرانس میں بے حد مقبولیت ملی اور اسے ۔ "کولبیرٹ ازم” کا معروف نام دیا گیا۔
مسلسل ناکامیوں ، عزم کی کمی اور عدم اتفاق کی وجہ سے فرانس کی مختلف نجی جہاز راں کمپنیاں مہم جوئی سے ہاتھ اٹھا چکیں تھیں۔ تاہم کولبیرٹ سولہ سو چوسنٹھ میں فرانس کے بادشاہ لوئس چہاردہم کو اس بات پہ قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔کہ ہندوستان کے لئیے الگ سے جہاز رانی اور مہم جوئی کے لئیے کمپنیاں قائم کی جانی ضروری ہیں۔جبکہ اورینٹل کمپنی جو کہ مڈغاسکر اور بوربون جزائر سے بڑی مہموں کے لئیے استعمال ہوتی تھی۔ فرانس کے پچھلے بادشاہ لوئس سیز دہم کے دور کے آخری دنوں کے بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اورینٹل کمپنی دیگر دوسرے معاملات میں استعمال کی جانے لگی۔
پہلے پانچ سالوں میں کولبیرٹ ازم کو عوام میں بے حد پسند کیا گیا۔اور نفسیاتی طور پہ کولبیرٹ ازم کے رحجان میں اضافہ ہوا۔”کولیبرٹ ازم” کو خود غرض تجارتی مقاصد کے طور پہ پہچانے جانے کی بجائے ایک ذہین منصوبہ بندی کا نتیجہ سمجھا گیا ۔ جس سے ولندیز (ہالینڈ) اور انگلستان کا مقابلہ کرنا مقصود ہو۔ کیونکہ اس دور یعنی سترھویں صدی میں فرانس کے اکثریتی دانشوراور باشعور طبقہ بھی ولندیز اور انگلستان کو ہی برتر تسلیم کئیے بیٹھے تھے۔
اس دور میں فرانسیسی نصرانی عقیدت مندوں میں سے فرانس کے بارے ایک پُر جوش اور محب الوطن ” فرانسسکو برنئیر” ہو گزرا ہے ۔ جوایک ڈاکٹر (طبیب) فلاسفر اور سیاح تھا۔ برنئیر سترھویں صدی میں ۱۶۲۰ء سو لہ سو بیس عیسوی میں "جوئے”( انگریس) فرانس میں پیدا ہوا۔ اور ۱۶۸۸ء اسولہ سو اٹاسی عیسوی میں پیرس، فرانس میں مرا۔ فرانسسکو برنئیر نے۱۶۴۲ء سولہ سو بیالیس عیسوی میں معروف فلاسفر "گاسیندی” سے اپنے مشہور ہم عصروں "کاپیلے ، مولیئیر، اور ھسنلات ” کے ساتھ فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ برنئیر "کریانو دے برجیراک” کا ہم عصر ہو گزاراہے۔ فرانسسکو برنئیر نے سترھویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ایڈوانچر اور سیاح نودری میں گزارا۔برنئیر نے بہت سے ممالک کے سفر کئیے ۔ جن میں اٹلی ، جرمنی اور پولینڈ شامل ہیں۔فرانسسکو برنئیر نے "مونت پلئیر” میں ڈاکٹر بننے کے بعد اپنے استاد کی موت کے بعد ملک شام کا رُخ کیا اور وہاں سے برنئیر ہندؤستان پہنچا۔جہاں اسے طبیب (ڈاکٹر) کے طور کام کرنے کی اجازت مل گئی اور اسے شاہجہان کی بیماری کا علاج کرنے کے لئیے بارہا طلب کیا گیا ۔ یوں وہ دربار میں شامل ہوگیا اور اور اورنگ زیب نے جب اپنے باپ شاہجہان کو تخت و تاج سے محروم کیا تو فرانسسکو برنئیر اورنگزیب کے دربار میں شامل کر لیاگیا۔
مغل دربار میں شمولیت کے دوران بھی برنئیر نے وقت ضائع نہیں کیا اور شہنشاہ کے آغا دانشمند خان کو "ہیروی” اور "پسکیت” کی جسمانی ساخت کے بارے تحقیق اوردریافتوں کے بارے آگاہ کیا اور "گاسیندی” اور "دیس کارتیس” کے فلسفی نظریوں کے بارے بتایا۔
ہمہ وقت متجسس ہونے کی وجہ سے برنئیر نے ہندؤستانیوں کے مذہبی عقائد اور فلسفے کا بغور مطالعہ کیا۔ مغل سلطنت کی سماجی ، معاشرتی ، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے بارے معلومات اکھٹی کیں۔ یہ وہ دور تھا جب مغل شہنشاہیت عروج پہ تھی۔ شہاجہان کی بیوی تاج محل مر چکی تھی اور مشہورتاج محل بن چکا تھا۔ شاہجہان کی بیوی کا علاج بھی فرانسسکو برنئیر کر تا تھا۔ اور موسم گرما میں گرمیوں کی وجہ سے جب شہاجہان اورتاج محل دیگر دربار کے ساتھ کشمیر منتقل ہوتے تو برنئیر ساتھ ہوتا ۔
تیرہ ۱۳ سال فرانس سے باہر رہنے کے بعد فرانسسکو برنئیر فرانس واپس چلاگیا۔
فرانس واپس پہنچنے پہ فرانسسکو برنئیر نے بہت سے کتابیں لکھیں ۔ جن میں "عظیم مغل سلطنت کے سفر ” اور فلسفے پہ سات جلدوں پہ مشتمل "ابغریجئے دے فلاسفی دے گاسیندی” لکھی ۔ دیگر بہت سی کتابوں میں سے چند ایک قابل ذکر نام ذیل میں ہیں۔
Suite des mémoires sur l’empire du grand Mogol
Abregé de la philosophie de Gassendi (1674);
Doutes sur quelquesuns des principaux
chapitres de L’Abrégé de la philosophie de Gassendi (1682);
Eclaircissement sur le libre de M. Delaville (1684);
Traite du libre et du voluntaire(1685);
Memoire sur le quietisme des Indes (1688);
Extrait deDescripción du canal des Deux Mers, Eloge de Chapelle (Journal des Savants) (1688).

لیکن ہماری دلچسپی کا باعث اور موضوع "فرانسسکو "برنئیر کے وہ سفر نامے اور تفضیلات ہیں۔ جو برنئیر نے ۱۶۷۰ء سولہ سو ستر عیسوی اور ۱۶۷۱ء سولہ سو اکہتر عیسوی میں چھپوائے۔
دوسرے ممالک سے برنئیر نے بہت سے خطوط لکھے۔ جن میں بہت سے خطوط برنئیر کے سفر ناموں میں شامل ہیں ۔ لیکن کچھ خطوط ایسے بھی ہیں جو وضاحتی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں چھپے یا انکے کچھ حصے چھپے۔

فرانسسکو برنئیر کے اس مختصر سے تعارف کا مقصد محض یہ تھا کہ برنئیر کے بارے میں پتہ چل سکے اور اسکی تحریروں کی سنجیدگی اور اہمیت کا اندازہ رہے۔

فرانسسکو برنئیر کے بیش قیمت تاریخی اہمیت کی حامل تحریروں کے کچھ حصے کوذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ جنہیں برنئیر نے فرانس کے وزیر خزانہ "کولبریٹ ” کو لکھا ۔ یہ تحریریں اور خط فرانس کے وزیر خزانہ کی میز پہ نوآبادیت نامی فائلوں کا حصہ تھے۔ یاد رہے۔یہ وہ دور تھا۔ جب فرانس ۔ ہالینڈ سے مشرقی منڈیوں کی مصنوعات کا عالمی تجارت میں مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔اور مشرق میں واقع مشرقی اور دیگر ممالک میں قبضہ کرکے ااپنی نوآبادیاں قائم کرنا چاہ رہا تھا تانکہ اُن ممالک کی معدنیات۔ پیداوار اور مصنوعات یعنی وسائل کو فرانس کے لئیے بروکار لائے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ فرانس کے مشہور وزیر خزانہ” کولبیرٹ” کی اس سوچ اور حکمت عملی کو فرانس میں بے حد مقبولیت ملی اور اسے ۔ "کولبیرٹ ازم” کا معروف نام دیا گیا۔

(جاری ہے۔)

1٭Jean-Baptiste Colbert (29 August 1619 – 6 September 1683) was a French politician who served as the Minister of Finances of France from 1665 to 1683 under the rule      

of King Louis XIV.

Jahangir, Shah Jahan, Aurangzeb, c.1605-1707
François Bernier (1625 – 1688) was a French physician and traveller. He was the personal physician of the Mughal emperor Aurangzeb for around 12 years during his stay in India.
4 ٭ La península del Indostán y el colbertismo. I. El informe de Bernier a Colbert Rojas Ferrer, Pedro
٭5.la description des Etats du Grand mogol

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔


ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔نہائت ظالم بادشاہ تھا۔ جسکی رعایا کسان پیشہ تھی ۔ چھوٹی موٹی کھیتی باڑی اور مویشی پال کر گزارہ کرتی تھی۔ اس راجدھانی کے بادشاہ نے رعایا پہ بے حد لگان اور محصولات لگا رکھے تھے ۔جن کو حاصل کرنے کے لئیے نہائیت ظالم اور سفاک اعمال مقرر کر رکھے تھے ۔ اعمال گھر گھر کی تلاشی لیتے ۔ جس گھر میں انکو کچھ تھوڑا سا بھی فالتو اناج نظر آتا ۔ اسے بحق سرکارضبط کر لیتے ۔ اور کبھی کبھار تو اگلی فصل آنے تک زندہ رہنے کی خاطر کھانے کے کے لئیے جوغلہ و اناج کسان اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے۔ بادشاہ کے بدنیت اعمال وہ غلہ بھی اٹھا لے جاتے اور نوبت یہاں تک آجاتی کہ لوگ بھوکوں مرنے لگتے یا مانگ تانگ کر گزارہ کرنے پہ مجبور ہوجاتے۔اسکے علاوہ کسانوں کے تندرست اور قیمتی جانور جو کسانوں نے بڑی محنت سے اس امید پالے پوسے ہوتے کہ مشکل وقت میں بیچ کر اپنا مشکل وقت ٹال لیں گے۔ بادشاہ کے بدقماش اعمال ان قیمتی جانوروں پہ بھی قبضہ جمالیتے۔بس چلتا تو کسانوں کی جوان بہو بیٹیوں کو بھی اٹھا لے جاتے۔ اور کسان خوف سے اپنی جوان بہو بیٹیوں کو بادشاہ کے بدقماش اعمال سے چھپا کر رکھتے۔ الغرض اس بادشاہ کے دور میں کوئی ایسا ظلم نہیں تھا جو رعایا پہ نہ ڈھایا جاتا رہا ہو۔ زندہ تو زندہ بادشاہ تو اپنی رعایا کے مُردوں کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ اسکی ریاست میں رعایا میں سے جو کوئی بھی مرے اسے دفنانے سے سے پہلے مُردے کو بادشاہ کے محلوں کے ارد گرد متواتر رات دن گھما کر دفن کیا جائے ۔ ایسا کرنے کومردہ خراب کرنا کہا جاتا تھا۔ مرنے والے کے بے چارے لواحقین سارا دن اور ساری رات میت کو سر پہ اٹھائے بادشاہ کے محلوں کے گرد خوار ہوتے اور تب کہیں جا کر بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہونے پہ میت دفنانے کی اجازت ملتی ۔
مخلوق خدا ا س بادشاہ سے بہت تنگ تھی ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ بیمار ہوا اور مرگ الموت نے اسے آن گھیرا۔ اِس ظالم بادشاہ کو ہر ظالم بادشاہ کی طرح یہ فکر دامن گیر ہوئی۔ کہ اُس نے ساری عمر کوئی ایسا کام نہیں کیا۔ جس پہ اسکے مرنے کے  بعد اسکی رعایا سے اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ جبکہ اس نے ایسے بہت سے اقدام البتہ ضرور کر رکھے ہیں۔ کہ اسکے مرنے کے بعد رعایا اسے ہمیشہ برے الفاظ میں یاد کرے ۔اسی فکر میں پریشاں ہو کر بادشاہ نے اپنےولیعہد شہزادے کو طلب کیا ۔اور اسے اپنا مدعا بیان کیا ۔
"کہ دیکھو میں نے اس بادشاہت کی حفاظت کے لئیے۔ جو اب تمہیں ملے گی ۔ بہت سے ایسے اقدام کئیے ہیں جن پہ رعایا مجھ سے ناخوش ہے ۔ اور اب میرا مرنے کا وقت قریب آگیا ہے ۔اسلئیے تُم پہ لازم ہے کہ میرے مرنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات اٹھانا کہ رعایا مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرے۔”
شہزادے نے جواب دیا ” بادشاہ سلامت ہماری جاں بھی آپ پہ قرباں ۔اللہ آپ کا اقبال سلامت رکھے اور آپکا سایہ ہمارے سروں پہ ہمیشہ کے لئیے سلامت رکھے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ضرور ایسے قدامات کریں گے جس سے رعایا آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرے”
اُسی رات بادشاہ مر گیا۔ ولیعہد بادشاہ بن بیٹھا ۔ ولیعہد نے بادشاہ بنتے ہی فرمان جاری کیا کہ
"آج سے ہماری ریاست کی عملداری میں جو بھی فرد مرے ۔ اسکی میت کو ننگا کرکے ۔ ایک لٹھ کے ساتھ الٹا لٹکا کر متواتر تین دن تک میرے محلات کے گرد گھُما نے کے بعد دفنایا جائے”۔
رعایا بے اختیار چیخ اُٹھی ” اس خبیث سے تو اسکا باپ ہی اچھا تھا جو مردوں کو ننگا نہیں کرتا تھا اور صرف ایک رات دن میں انکی جان چھوٹ جاتی تھی ”
راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کانام ۲۰۰۹ء میں اکتیس دسمبر تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں پہ اس لئیے دیا گیا کہ موصوف پہ الزام ہے ۔جب یہ وزیر بجلی تھے تو انہوں نے قوم کے خزانے سے سے کرایے کے بجلی گھروں کی مد میں اربوں روپے نکلوائے اور ان اربوں روپے کی کرپشن میں ہاتھ رنگنے کے لئیے قوم کو دو ہزار نو کی اکتیس دسمبر تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مژدہ جان افزاء سنایا اور جھوٹے وعدوں کی آڑ میں اربوں روپے پار لگا دیے اور انہی کے ہم عصر ایک وزیر نے یہ معاملہ سپریم کوٹ میں اٹھا رکھا ہے ۔
پاکستان میں اگر عام انتخابات کچھ ماہ قبل کروا دئیے جاتے تو ملک کو درپیش کئی ایک بحرانوں سے نمٹنے کی صورت نکل آتی ۔ دنیا میں کئی ایک مثالیں ملتی ہے کہ پاکستان کے حکومتی بحران سے سے بھی کہیں کم تر حکومتی بحران پہ حکومت نے نئے الیکشن کا اعلان کردیا جبکہ نئے الیکشن میں ابھی دو سال رہتے تھے۔ زرداری اور حکومتی کرتا دھرتاؤں کو بھی علم تھا کہ گیلانی کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کوئی ناگہانی یا اچانک رُونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ اس بارے حکومت بھی آگاہ تھی ۔ جبکہ اگر زرادری ملک سے خیر خواہ ہوتے تو تبھی سے انھیں ملک میں عبوری حکومت تیار رکھنی چائیے تھی اور نئے عام انتخابات کا اعلان کر دینا چاہئیے تھا ۔ مگر پاکستان کی ایسی قسمت کہاں۔ یوں ہونا ابھی  پاکستان کے نصیبوں میں نہیں۔ بجلی کے کرائے گھروں کی مد میں اربوں کی مبینہ رشوت کے الزمات کا سامنا کرنے پہ راجہ رینٹل کا نام پانے والے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنائے جانے پہ زرداری کے اس مقولے پہ قربان ہو جانے پہ دل کرتا ہے کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے” خدایا ! قوم بجلی اور توانائی کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے ۔ ہر فرد بجلی کی آرزو میں جاں بلب ہورہا ہے۔قریب ہے کہ ملک انارکی اور خانہ جنگی کا شکار ہوجائے اور ایسے میں ایک ایسے سابقہ وزیر کو وزیر اعظم بنا دینا۔جو اس سارے ڈرامے کا مرکزی مبینہ ملزم گردانا جاتا ہے۔ایسا کرنے سے تو محض یہی ثابت ہوتا ہےکہ یہ قوم سے واقعی” بہترین انتقام ” ہے ۔کہ ان سے تو شاہ گیلانی ہی اچھےتھے۔ کم ازکم گریجویٹ وزیر اعظم تو تھے۔بادشاہوں کے دور اور تاریخ میں درج "ایک دفعہ کا ذکر ہے” پاکستان کے بادشاہوں کے بارے ” کئی دفعہ کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر روز کا ذکر ہے "کہ رعایا بار بار کہتی ہے کہ زرداری سے مشرف ہی بہتر تھا۔ اور کچھ دن جاتے ہیں کہ رعایا یہ کہنے پہ مجبور ہوگی راجہ رینٹل کی بجائے شاہ گیلانی ہی اچھا وزیر اعظم تھا۔ کیونکہ بادشاہ کے ولیعہد کی طرح راجہ صاحب نے آتے ہی وزارت پانی بجلی اور اسی وساطت سے کرایے کے بجلی گھرو ں پہ نظر عنائت کی ابتداء کر دی ہے ۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق” ۔۔۔وزير اعظم کي ہدايت پر وزارت پاني و بجلي فعال” اب عنقریب قوم چیخ چیخ کر گیلانی کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔

Javed Gondal Barcelona Spain جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔اسپین ۲۴ جون دو ہزار بارہ ۲۰۱۲ء
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اگر اس نوٹس

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

آج ایک اخبار نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کسطرح عمرِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیت المال سے دوائی کے طور شہد کی چند چمچ پرابر تھوڑی سی مقدار کے حصول کیلئے مسجد میں درخواست کی تھی۔ اگر اس واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا جائے اور غالب گمان یہ ہے کہ گیلانی و زرداری سے استفسار کیا جائے تو انکےکسی بانکے چھبیلے وزیر کی طرف سے ڈھٹائی سے یہ بیان آئے گا کہ گیلانی اور موجودہ صدر بھی اپنے شاہانہ اخراجات کے لئیے کابینہ اور اسمبلی سے اجازت لیتے ہیں۔ وہ خود سے تو کروڑوں کے شاہی اخراجات نہیں کرتے ۔ جیسےموجودہ بجٹ میں پاکستان کے سابق صدور اور وزرائے اعظم کو تاحیات مراعات دینے کی رعایت شامل ہے جس سے نہ صرف زرداری ،گیلانی ،نواز شریف ، رفیق تارڑ ا بلکہ آئی ایم ایف کا چھیل چھبیلا اورتین ارب کا مالک امپورٹیڈ وزیر اعظم شوکت عزیز اور بردہ فروش سابق صدر مشرف کے لئیے بھی عمر بھر مراعات شامل ہیں۔اور یہ سلسہ ہائے داراز صرف یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ بہت سی جائز اورنا جائز صورتوں میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔.

ایسی نااہل حکومتوں کے ہاتھوں پاکستان کا کوئی ایک المیہ ہو جو بیان کیا جا سکے۔ یہاں تو ہر لمحے ہر آن ایک المیہ ہوتا ہے ۔جس سے پاکستان دوچار ہے۔ مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق اوباش اور نااہل لوگوں میں ریاست کے اہم اور حساس عہدوں کی بندر بانٹ کی جاتی ہے ۔ جس سےایسے عہدیدار ملک قوم کے ساتھ اپنی وفاداری نبھانے کی بجائے سیاسی پارٹیوں اور اپنے آقا و مربی سے وفاداری نباہتے ہیں۔ اور بجائے اس کے اپنے عہدے سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے کے الٹا ساری عمر اپنی نااہلی اور چور دروازے سے عہدہ حاصل کرنے کی چوری کی وجہ سے حکومتوں کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں ۔اور اس پہ طرف تماشہ راشی اور بد عنوان حکومت کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کے تن سے خون کا آخری قطرہ تک کشید کرنے کے جتن کئیے جاتے ہیں ۔جس طرح پاکستان کے وزیر اعظم گیلانی نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ملک قوم کے مفاد میں سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل بجا لانے کی بجائے ۔وزیر اعظم نامزد کرنے والے زرداری کے ساتھ اپنی وفاداری نباہ کر پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے حکم کی واضح نافرمانی کرتے ہوئے ڈھٹائی اور سینہ زوری کی ایک غلط روایت قائم کی ہے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پورا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔

جسطرح مشہور ہے کہ گر بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگاَ ۔کے مطابق پیپلز پارٹی نے شروع دن سے ہر وہ قدم اٹھایا کہ کوئی آئے اور انھیں حکومت سے باہر کر دے۔ تانکہ پیپلز پارٹی کو حسب عادت سیاسی شہادت کا ایک اور موقع مل جاتا ۔مگر پیپلز پارٹی کے نصیبوں یوں ہونا سکا اور بجائے اسکے کہ وہ خدا کے دئیے اقتدار کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے مکمل طریقے سے نباہنے کی کوشش کرتی ۔الٹا انھوں نے اسے نام نہاد جمہوریت کا نام دے کر سینہ زوری شروع کر دی۔ حالانکہ اگر جتنی توانائی پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے طاقت اور نام نہاد جمہوریت کے نام پہ مستی اور سینہ زوری پہ صرف کی اگر یہ اس سے نصف توانائی عوام کے مسائل حل کرنے پہ خرچ کرتے۔ تو آج ملک و قوم اور خدا کے حضور سرخرو ہوتے۔ لیکن ایسا کرنا پیپلز پارٹی کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہی ایجی ٹیشن سے شروع ہو کر ایجی ٹیشن پہ ختم ہوتی ہے۔ خواہ یہ پانچ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک حکمران ہی کیوں نہ رہے ہوں ۔الیکشن ہونے دیں ۔جیتنے یا ہارنے کے بعد یعنی ہر دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی پاکستان کے اداروں کا رونا رو کر اپنے آپ کو سیاسی مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری طرف ماضی میں وفاق میں دو دفعہ حکمران رہنے والی اور پنجاب میں اس وقت حکمران ۔اور پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی۔ اور اپنے آپ کو مستقبل میں پاکستان کے حکمران سمجھنے والی نون لیگ ۔سے کیا امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں؟۔ جو اخباری اطلاعات کے مطابق مینار ِپاکستان کے نیچے اپنا حکومتی کیمپ لگائے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا مبینہ غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا ریکارڈاحتجاج کروارہے ہیں ۔ مانا کہ بجلی پیدا کرنا اور اسے سب صوبوں میں برابر تقسیم کرنا وفاق کے ذمے ہوگا ۔اورایسا کرنے میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ناکام رہی ہے۔ مگر کیا پنجاب پولیس کے ہاتھوں ستائے ہوئے پنجاب کے عوام اور تھانہ کلچر کی من مانیا ں اور پنجاب پولیس میں غنڈہ گرد عناصر کے ہاتھوں مظلوم لوگوں کو نجات دلانا۔ اور ایک منصفانہ تھانہ کلچر قائم کرنا ۔کیا پنجاب حکومت کے فرائض میں نہیں آتا؟۔ آج بھی پنجاب پولیس کے زیر سرپرستی اور پنجاب کے اکثر و بیشتر تھانوں میں بھینس کی چوری سے لیکر قتل جیسے سنگین معاملات پہ باہمی فریقوں سے مُک مکا کے بعد پرچے رپوٹیں اور ایف آئی آر لکھی جاتی ہیں۔ اور عدالتوں سے بالا کمزور فریق کو راضی نامے پہ زبردستی مجبور کیا جاتا ہے۔ جس کے پیچھے طاقتور کا پیسہ اور اثر و رسوخ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اور عام شریف آدمی کی یہ حالت ہے کہ وہ بھرے بازار میں لٹ جانا برداشت کر لیتا ہے۔ مگرپولیس کے خوف اور رشوت خوری کی وجہ سے تھانے میں رپورٹ کرانے سے ڈرتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت یا دوسرے لفظوں میں ن لیگ اپنی حکومت میں اپنی پولیس کو درست نہیں کرسکی تو اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔ کہ ایسا نہ کرنے میں پنجاب حکومت کی نیت میں اخلاص کی کمی ہےیا پنجاب حکومت میں اہلیت کی کمی ہے ۔کوئی ایک وجہ ضرور ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں کے بلند بانگ دعوؤں کے باجود پولیس کا محکمہ بجائے سیدھا ہونے کے مزید بگڑ چکا ہے۔جس سے ہر دو صورتوں نقصان سادہ لوح عوام کو پہنچ رہا ہے۔ پولیس کا محکمہ تو محض ایک مثال ہے۔ ایسی کئی مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں۔ جبکہ مینار پاکستان کے سائے میں پنجاب حکومت کے کیمپ لگانےسے ،خدا جانے عوام کے کتنے ضروری کام رہ گئے ہونگے ۔پنجاب کے وزیر اعلٰی کے بس میں سفر کرنے سے نہ جانے کیوں ضیاءالحق کا سائیکل چلانا یاد آگیا ۔ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ اسطرح کے پروپگنڈا ہ اور چونکا دینے والے اقدامات سے وی آئی پیز کی سیکورٹی اور تشہیر کے متعلقہ اقدامات پہ کس قدر خرچ آتا ہے ۔ اور جب حکمران اس طرح کے غیر ضروری کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ تو قوم کے کس قدر ضروری کام حکمرانوں کی توجہ اور وقت نہ ملنے سے ادہورے رہ جاتے ہیں۔ یہ ماننے کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ اس بات کا ادراک پنجاب حکومت کے حکمرانوں کو نہیں ہوگا ۔اگر انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے تو یہ نااہلی ہے ۔اور اگر ادراک ہوتے ہوئے انہوں نے یوں کیا ہے ۔تو عام آدمی کو بے وقوف بناتے ہوئے محض پیپلز پارٹی کی نااہلی کے مقابلے پہ اپنا سیاسی گول کرنے کی تگ دور میں اپنے فرائض سے غفلت برتنے کا ارتکاب ہے۔

پاکستان کی ایک اور سیاسی جماعت عمران خان کی تحریک انصاف ہے ۔ جسے پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت تسلیم کروانے کا پراپگنڈہ صبح شام کیا جاتا ہے۔ وہ کن ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور اسکے باہمی اجزائے ترکیبی کی دم پخت کیسی ہے ۔اس کے بارے ہر واقف حال جانتا ہے۔ عمران خان کے دل میں پاکستان کے لئیے خلوص بدرجہ اُتم موجود ہوگا ۔مگر چونکہ سیاسی جماعت کسی ایک رہنما کانام نہیں ہوتا ۔ اسمیں شامل سبھی چہرے مل کر ایک خاص تصویر بناتے ہیں اور تحریک انصاف میں شامل چہروں سے تحریک انصاف کی جو تصویر بن کر سامنے آتی ہے ۔و ہ سب کے سامنے ہے ۔ اور اقتدار مل جانے کی صورت میں صرف اسکا کوئی ایک رہنماء نہیں بلکہ اسمیں شامل چہرے ملکر ملک و قوم کی نیا کو پار لگانے یکا جتن کرتے ہیں اور جب بکل میں چور بٹھا رکھے ہوں تو قوم کی نیا پار لگنے کی بجائے ڈوب جانے کے خدشات و امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انقلابی تبدیلی کے لئیے صرف عمران خان کے وعدے اور دعوے ہی کافی نہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف کے علمبردار ابھی تک اس انقلابی تبدیلی ۔۔جس کے وہ دعویدار ہیں اس کے لئیے ٹھوس تجاویز ۔ بہتر طریقہ کار اور متبادل نظام واضح کرنے میں ناکام ہیں۔

اسکے بعد پاکستان کی وہ علاقائی ، لسانی اور گروہی پارٹیاں یا پریشر گروپ ہیں۔ جنکے وجود کے ہونے کا مقصد ہی اپنے وزن کو اقتدار نامی ترازو میں ڈال کر ۔بلیک میلنگ اور آنے بہانوں سے اقتدار میں اپنے جثے سے کہیں زیادہ حصہ وصول کرنا ہے۔

مذہبی جماعتیں اپنے ممکنہ اتحاد و نفاق اور پاکستان میں متواتر عالمی دخل در معقولات نے انھیں اس قابل نہیں چھوڑا ۔کہ انکی کسی معقول بات بھی عوام کان رکھنے کو تیار ہوں۔

فوجی حکومتوں نے جس بری طرح پاکستان کا حلیہ بگاڑا ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے ۔ فوج سرحدوں کی بہتر نگہبانی صرف اسی صورت میں کر سکتی ہے۔ جب وہ خود اقتدار کی دیگ پہ قابض نہ ہو ۔ پاکستان کی بڑی جنگیں فوجی سربراہوں کے دور میں ہوئیں ۔ مشرقی پاکستان کے سابقہ ہونے۔اور بنگلہ دیش کے قیام کا واقعہ بھی فوجی حکومت میں ہوا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں کہ بغیر کسی تامل اور حیل حجت کے امریکہ کے سامنے پاکستان کو چارے کے طور پہ پھینکنے والا بھی ایک فوجی حکمران مشرف تھا ۔ جس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہیں ۔اور خدا جانے کب تک پاکستان اس جنگ کے بداثرات سمیٹتا رہے گا۔

یہ مندرجہ بالا فریق ہیں جو پاکستان کے اقتدار اعلٰی میں رہنے۔ یا ریاست پاکستان کے اقتدار اعلٰی حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اور ممکنہ طور پہ پاکستان کے مستقبل کے حکمران ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں ان سے کسی تبدیلی اور اسکے نتیجے میں پاکستان کے وفاقی بجٹ میں کسی عمدہ پیش رفت کا ہونا ۔ یا ملک و قوم اور خود پاکستان کے لئیے نتیجہ خیز انقلابی تبدیلی لانا ناممکن ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ایسے حالات میں پچھلے تریسنٹھ سالوں کی طرح اگلا بجٹ اس سے بھی ظالم اور خود فریب ہوگا ۔جس کی قیمت پاکستان اور پاکستان کے زندہ درگو عوام کو اپنی بھوک اور بے چارگی سے اٹھانی ہوگی۔ خاموشی سے ظلم سہنا اور اپنے پہ ظلم کرنے والے ظالم کا ہاتھ نہ پکڑنے سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوتا ۔جب تک پاکستان کے عوام خود ایسے ظلم کا راستہ روکنے کی جدو جہد نہیں کرتے ۔اسطرح کے اعداو شمار کے گورکھ دھندے بجٹ کے نام پہ آتے رہیں گے۔ جس میں اربوں کے حساب سے غبن اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے نااہل حکمرانوں کے لئیے تاحیات مراعات تو ہونگی ۔مگر عوام کے بھوکے بچوں کے کے لئیے دو باعزت روٹیوں کے لئیے محض جھوٹے وعدے اور روٹی کپڑا اور مکان جیسے خوشنما نعرے ہونگے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین تین جون دو ہزار بارہ ء

بھوک۔ تسلسل اور بجٹ ڈرامہ۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ذوالفقار مرزا فرمودات اور حقائق کا جبر


ذوالفقار مرزا نے جو کہا اور اس پہ معافی مانگی ۔ یہ "ارشادات” جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ سندھی رہنماؤں کی تنگ نظر ذہنیت کا پتہ دیتے ہیں ، وہیں جبر کے اس دور کا شاخسانہ ہیں۔ "جبر ” جو سندھ باالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم نامی تنظیم اپنا آبائی حق سمجھ کر اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے ۔ ذوالفقار مرزا کے بیان سے اتفاق رائے یا اختلاف رائے سے قطع نظر ۔ یہ وہ رد عمل ہے۔ جو ایم کیو ایم کی کراچی میں طرز حکمرانی اور تشدد کی سیاست کے خلاف دلوں میں پل رہا ہے۔ بڑھ رہا ہے۔

عقل مند لوگ اس شاخ کو نہیں کاٹتے جس پہ بسیرا ہو،۔ جبکہ اپنے آپ کو سیاسی تنظیم کہلوانے والی ایم کیو ایم یہ کام لاکھ جتن اور بد تدبیری کر تے ہوئے انجام دے رہی ہے۔ یعنی کراچی اور سندھ کے جن عوام سے(سندھی، پنجابی، پٹھان بلوچی اور دیگر قومیں جو کراچی میں بستی ہیں وہ وہاں کے عوام ہیں)اس کا سامنا ہے ۔جن عوام سے اسکا روز مرہ کا مرنا جینا ہے ۔ ایم کیو ایم ، کمال بد تدبیری سے انہیں اپنا دشمن بنائے رہتی ہے۔

بر صغیر میں وہ دور گزر چکا۔ جب ریاستیں اور انکی حکومتیں۔ کسی ایک خاندان یا حکمران کی ملکیت ہوتیں تھیں۔ اسی طرح سیاسی تنظیموں اور پارٹیوں پہ بھی کسی ایک شخص کا قبضہ، ایک فرسودہ نظریہ ہے۔ پاکستان میں جو لوگ اور سیاسی پارٹیاں ایسے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر انقلابی کبھی نہیں ہوسکتے۔ اور یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے۔ جو ایم کیو ایم کو ایک انقلابی تنظیم میں تبدیل ہونے میں مانع ہے۔ جسے بادی النظر میں۔ ایم کیو ایم سمجھنے سے قاصر ہے۔

ذوالفقار مرزا کے بے وقوفانہ اور الاؤ بھڑکانے کے بیان کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں مگر کیا آپ اور وہی منیر بلوچ جنکا کالم آپ نے بصد شوق اپنے بلاگ پہ چسپاں کیا ہے ۔ کیا آپ دونوں میرے کچھ سوالوں کا جواب دینا پسند کریں گے۔ کہ ذوالفقار مرزا کے مذکورہ بیان کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں میں مارے گئے لوگ کیا انسان نہیں تھے؟۔ انکا کیا قصور تھا؟۔ کیا ایک بیان کے بدلے درجنوں بے گناہ اور راہ چلتے لوگوں کی جان اسقدر انتہائی کم قیمت رکھتی تھی کہ انھہں خون میں نہلا دیا گیا؟۔کیا انکے قاتل پکڑے گئے؟ کیا اس قتل و غارت سے لوگوں کے دلوں میں الطاف حسین سے محبت میں اضافہ ہوا ہوگا؟۔

منیر بلوچ نے کالم کے آغاز میں جس جذباتی طریقے سے تنبو یعنی خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدمے کی روداد کی ادھوری کہانی جذباتی انداز میں لکھی ہے۔ اس سے منیر بلوچ نے مجرمانہ غفلت سے کام لیتے ہوئے یک طرفہ طور پہ کراچی کے وسائل اور سیاست پہ قابض مخصوص لوگوں کے جذبات کی تسکین کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اور پاکستان کی مقامی آبادی نے پورے پاکستان میں جس ایثار ، اخوت اور قربانی کا مظاہرہ اپنے مہاجر بھائیوں کے لئیے کیا ۔ جس سے انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی ۔اسے یکطرفہ نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ایک ایسے واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا ہے جس کا فیصلہ موصوف نے لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ اور دلوں میں مزید نفرتیں ڈالنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کی ہے ۔ جس سے غلط فہمیوں اور نفرتوں کو رواج تو ہوسکتا ہے مگر اس سے کسی کا بھلا ہونا ناممکن ہے۔

اور اگر اُس دور میں پاکستان کی نوزائیدہ حکومت جسکے کرتا دھرتا مہاجر ۔ اسکے اعمال مہاجر اور وزیر اعظم بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور کسی ایک مہاجر کے ساتھ یوں ہوا تو اس میں بھی قصور وار حکومت تھی نہ کہ وہ عام آدمی جس کی بّلی ہر روز درجنوں کی تعداد میں کراچی میں چڑھائی جاتی ہے، عام آدمی جن میں سے اکثر کو سیاست کی الف وبے کا علم نہیں ہوتا اور وہ اپنے گھر سے کوسوں دور محض روزی روٹی کی خاطر کراچی کے کارخانوں اور عام آدمی کی خدمت بجا لا رہے ہوتے ہیں۔ ان جیتے جاگتے انسانوں کو الطاف حسین کی عظمت و رفعت ثابت کرنے کے لئیے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔خدایا ۔ یہ کیسی عظمت ہے؟۔ یہ کیسی رفعت ہے؟۔ جو زندہ انسانوں کی قربانی مانگتی ہے؟ ۔ایسا تو ہنود بھی نہیں کرتے ۔ وہ بھی اپنے کسی بت یا دیوتا کو خوش کرنے کے لئیے کبھی سالوں میں کسی ایک آدھ انسان کو قربان کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمانی اور مکے کے مہاجرین کے ہم رتبہ ہونے کا دعواہ کرنے والے۔ درجنوں گھروں کے چراغ محض ایک بیان پہ بجھا دیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جسے کسی بھی سیاسی اور جذباتی رو سے۔ دنیا میں کہیں بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ملک میں اور کچھ سال قبل تک کچھ ایسی ہی بنیادوں پہ مہاجر ہونے والوں کی طرف سے، یوں ہونا انتہائی قابل افسوس ہے ۔اسکے باوجود اگر کسی کو تنبو یا خیمے کا کپڑا اپنا جسم چھپانے کے لئیے استعمال کرنا پڑا۔ تو اسکا الزام بھی لیاقت علی خان کو ہی جاتا ہے ۔جس نے اپنوں کو نوازا ۔اور جو حقیقی مہاجر تھے انکے کلیم بھی وہ لوگ لے اڑے جو نوابزادے کے پسندیدہ لوگ تھے ۔ یہ خفیہ اور راز کی باتیں نہیں بلکہ انھیں سارا زمانہ اور خاص کر کراچی کے عام لوگ بھی جانتے ہیں ۔ آپ ذرا پتہ تو کریں۔

خیمے کے کپڑے کے ٹوٹے کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ بھی آپ کو اور منیر بلوچ کو علم ہوگا؟ ۔ جبکہ یہاں انسانی جانوں کو محض اس لئیے بلی چڑھا دیا گیا کہ زوالفقار مرزا اور اور انکے حماتیوں کو یہ باور رہے کہ ایسا کہنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔اور افسوس ہے اسکے باوجود آپ نے ساٹھ سال سے زیادہ پرانے ایک مقدمے پہ لکھے گئے یکطرفہ کالم کو بنیاد بنا کر یہاں چھاپ دیا۔ اور جو واقعتا کل پرسوں جان سے ہارے اور بے گناہ لوگ تھے انکا ذکر ہی نہیں۔ ذوالفقار مرزا کے بیان کے رد عمل میں جن درجنوں لوگوں کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ انکی مظلومیت پہ کچھ لکھا جاتا ؟۔

خدا گواہ ہے۔آپ لوگ حقیقت کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ سورج بلند ہوتا ہے تو اسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ آپ ہار جائیں گے اور سورج جیت جائے گا۔ حقائق اور سچ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ آپ ہار جائیں گے اور سچ اپنا آپ منوا کر رہے گا۔ یہ جو کل پرسوں بے گناہ لوگ قتل کر دئیے گئے ۔ انکے بیوی بچے ہونگے ۔ ان میں سے کئی ایک اپنے خاندان کے واحد کفیل ہونگے ۔ جب وہ گھروں کو نہیں لوٹے ہونگے ۔ ان معصوم بچوں کے کاندھوں پہ گھر کا بار کفالت کا بوجھ پڑے گا۔ وہ اسی کراچی شہر میں تلاش معاش کو نکلیں گے۔ تو کئی ایک اپنی بے بسی کا بدلہ مزید لوگوں سے لیں گے ۔

جو نفرتیں آج بیجی جارہی ہیں۔ اسکی فصل کچھ سالوں تک اہل کراچی کو کاٹنی پڑیں گی ۔تب ساٹھ ستر سال کے خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدموں کی جذباتی روداد کسی کو روک نہ سکے گی۔ انتقام اور اپنی بے بسیوں کا حساب چاق کرنے کے لئیے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑنا ناممکن ہوگا۔

جبکہ اُس دور میں۔آغاز پاکستان میں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور انہوں نے مقامی سندھیوں کے خلاف انکا استہزاء اڑاتے ہوئے فرمایا "ان گدھا گاڑیاں چلانے والوں کا علم سے کیا تعلق ؟”۔ اور سندھ یونی ورسٹی کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا۔ اور کراچی میں کراچی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ سندھیوں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی بدتدبیر سیاست سے لیاقت علی خان نے گانٹھ ڈال دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کراچی کی سیاست اور وسائل پہ سوائے اپنے مخصوص لوگوں کو جن میں سبھی مہاجر شامل نہیں ۔ کراچی کے ان وسائل کو صرف اپنا حق سمجھ کر دوسری قومیتوں بشمول وہ مہاجر جو ایم کیو ایم کو نہیں مانتے ان مہاجرو ں کو ، پٹھانوں کو ،سندھیوں کو، پنجابیوںکو، بلوچوں کو اور دیگر قومیتوں کو متواتر نطر انداز کیا جارہا ہے۔ جو شدید ردعمل کا جواز بنتا ہے اور بنتا رہے گا ۔ تا وقتیکہ کہ کراچی کے وسائل منصفانہ طریقے سے سے عام آدمی کے لئیے تقسیم نہ ہوں ۔ اس وقت تک دلوں میں رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔ اور شدید ردعمل زبانی اور عملی سامنے آتا رہے گا۔ دانش کا تقاضہ یہ ہے جس شاخ پہ بسیرا ہو اسے کبھی نہ کاٹا جائے۔ بلکہ اس شاخ اور شجر کو توانا کیا جائے۔ مگر ایم کیو نے ماضی اور حال سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔اور آپ جیسے سمجھدار اور فہم رکھنے والے لوگ بھی اتنے گھمبیر مسئلے کو اپنے مخصوص اور دلپسند رنگ اور اینگل سے دیکھتے ہوئے۔ اسطرح کے کالم چسپاں کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے مہاجر ہونے کا حق نمک ادا کر دیا ۔ جبکہ ہم اسے مسائل سے چشم پوشی کا نام دیتے ہیں۔کیونکہ جب تک کسی مسئلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اور اسے حل کرنے کی تدبیر نہیں کی جاتی۔ اسوقت تک نہ صرف مسئلہ موجود رہے گا ۔ بلکہ وہ اپنے اندر کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ر ہےگا۔ جو نہائت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نفرت کا جن ایک دفعہ بوتل سے باہر آجائے تو اپنے پرائے کی تمیز کھو جاتی ہے۔آئیں مل جل کر کوشش کریں کہ نفرت کا یہ جن بے قابو نہ ہو۔ اور کراچی و پاکستان باہمی برداشت اور عدل و انصاف کو رواج دیا جاسکے ۔ جس سے لوگوں کے مسائل کا حل ہونا ایک عام قاعدہ ہو۔ جو عام آدمی کا حق ہو۔ نہ کہ کسی عطیم لیڈر یا پارٹی کی بخشیش ہو۔ یہی مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: