RSS

Tag Archives: نگران

دعوتِ فکر


دعوتِ فکر۔۔۔
تبدیلی ناگزیر! مگر کیسے ؟۔۔۔

پاکستان میں ۔۔۔آج کے پاکستان میں۔ جس میں ہم زندہ ہیں۔ جہاں انگنت مسائل ہیں ۔ صرف دہشت گردی ہی اس ملک کا بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ دہشت گردی ایک آدھ دہائیوں سے ۔اِدہر کی پیداوار ہے۔ اور اس دہشت گردی کے جنم اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کو ۔پاکستان میں اپنے گھروں تک کھینچ لانے میں بھی۔ ہماری اپنی بے حکمتی ۔ نالائقی اور فن کاریاں شامل ہیں۔
دہشت گردی کے اس عفریت کو جنم دینے سے پہلے اور ابھی بھی۔ بدستور پاکستان کے عوام کا بڑا مسئلہ ۔ ناخواندگی ۔ جہالت۔غریبی۔ افلاس اور بے روزگاری اور امن عامہ جیسے مسائل ہیں۔ مناسب تعلیم ۔ روزگار اور صحت سے متعلقہ سہولتوں کا فقدان اور امن عامہ کی صورتحال۔ قدم قدم پہ سرکاری اور غیر سرکاری لٹیرے۔ جو کبھی اختیار اور کبھی اپنی کرسی کی وجہ سے ۔ اپنے عہدے کے اعتبار سے۔نہ صرف اس ملک کے مفلوک الحال عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔بلکہ اس ملک کی جڑیں بھی کھوکھلی کر رہے ہیں۔
اور پاکستان کے پہلے سے اوپر بیان کردہ مسائل کو مزید گھمبیر کرنے میں۔ پاکستان کے غریب عوام کی رگوں سے چوسے گئے ٹیکسز سے۔ اعلی مناصب۔ تنخواہیں اور مراعات پا کر۔ بجائے ان عوام کی حالت بدلنے میں۔ اپنے مناصب کے فرائض کے عین مطابق کردار ادا کرنے کی بجائے۔ اسی عوام کو مزید غریب ۔ بے بس۔ اور لاچار کرنے کے لئیے انکا مزید خون چوستے ہیں۔ اور انکے جائز کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
محض ریاست کے اندر ریاست بنا کر۔۔۔خاص اپنے اور اپنے محکموں اور سیاستدان حکمرانوں۔ انکی پارٹی کے کرتا دھرتاؤں اور چمچوں چیلوں کے مفادات کی آبیاری کرنے کے لئیے۔ اپنے عہدوں۔ اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں ۔ادارے جو عوام کے پیسے سے عوام کی بہتری کے لئیے قائم کئے گئے تھے ۔ اور جنہیں باقی دنیا میں رائج دستور کے مطابق صرف عوام کے مفادِ عامہ کے لئیے کام کرنا تھا ۔ وہ محکمے ۔ انکے عہدیداران ۔ اہلکار۔ الغرض پوری سرکاری مشینری ۔ حکمرانوں کی ذاتی مشینری بن کر رہ گئی ہے۔ اور جس وجہ سے انہوں نے شہہ پا کر ۔ ریاست کے اندر کئی قسم کی ریاستیں قائم کر رکھی ہیں ۔ اور اپنے مفادات کو ریاست کے مفادات پہ ترجیج دیتے ہیں۔ اپنے مفادات کو عوم کے مفادات پہ مقدم سمجھتے ہیں ۔
ستم ظریفی کی انتہاء تو دیکھیں اور طرف تماشہ یوں ہے۔ کہ ہر نئے حکمران نے بلند بانٹ دعوؤں اور بیانات سے اقتدار کی مسند حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اور اقتدار سے رخصتی کے وقت پاکستان کو ۔ پاکستان کے غریب عوام کو پہلے سے زیادہ مسائل کا تحفہ دیا۔
پاکستان کے حکمرانوں۔ وزیروں۔ مشیروں کے بیانات کا انداز یہ ہے ۔کہ صرف اس مثال سے اندازہ لگا لیں ۔کہ پاکستان کاکاروبار مملکت کس انوکھے طریقے سے چلایاجا رہا ہے ۔ پاکستان میں پٹرول کی قلت کا بحران آیا ۔ انہیں مافیاؤں نے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ مافیا نے پٹرول کی قلت کے خود ساختہ بحران میں جہاں عوام اور اور ملک کا پہیہ چلانے والے ٹرانسپورٹرز سڑکوں اور پٹرول پمپس پہ خوار ہورہے تھے ۔ جن میں ایمولینسز ۔ مریض ۔ اسپتالوں کا عملہ ۔ خواتین۔ اسکول جانے والےبچے بھی شامل تھے۔ یعنی ہر قسم کے طبقے کو پٹرول نہیں مل رہا تھا ۔ ڈیزل کی قلت تھی ۔ مگر وہیں حکومت کی ناک کے عین نیچے۔ ریاست کے اندر قائم ریاست کی مافیا۔ اربوں روپے ان دو ہفتوں میں کمانے میں کامیاب رہی ۔اور آج تک کوئی انکوائری۔کوئی کاروائی ان کے خلاف نہیں ہوئی اور کبھی پریس یا میڈیا میں انکے خلاف کوئی بیان نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی عمل میں لائی گئ؟۔ اور اس پٹرول قلت۔ کے براہ راست ذمہ دار ۔وزیر پٹرولیم خاقان عباسی۔ کا یہ بیان عام ہوا کہ "اس پٹرول ڈیزل بحران میں۔ میں یا میری وزارت پٹرولیم کا کوئی قصور نہیں”۔ یعنی وزیر موصوف نے سرے سے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ اس سے جہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ وزیر موصوف کے نزدیک ان کا عہدہ ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔ اور وہ کسی بھی مہذب ریاست کے وزیر کی طرح استعفی دینا تو کٌجا۔ وہ ریاست کو جام کر دینے میں اپنی کوئی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کرتے۔
اس سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے جو انتہائی افسوسناک اور خوفناک حقیقت ہے کہ وزارت پٹرولیم محض ایک وزارت ہے جس کے وزیر کا عہدہ محض نمائشی ہے اور اصل معاملات کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جس سے حکومت کی منظور نظر مافیاز کو یہ طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ کہ کب کس قسم کی قلت پیدا ہونے میں کس طرح کے حالات میں کب اور عوام کا خون چوس لینا ہے۔
ہمارا مطمع نظر اور اس تحریر کا مقصد محض موجودہ حکمرانوں پہ تنقید کرنا نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ موجودہ حکمرانوں کے پیشرو ۔زرداری۔ مشرف۔ شریف و بے نظیر دونوں کے دونوں ادوار ۔ اور اس سے بیشتر جب سے پاکستان پہ بودے لوگوں کا قبضہ ہوا ہے۔ سب کے طریقہ واردات پہ بات کرنا ہے۔ آج تک اسی کا تسلسل ہے کہ صورتیں بدل بدل کر عوام کو غریب سے غریب تر کرتا آیا ہے اور اپنی جیبیں بھرتا آیا ہے۔
مگر پچھلی چار یا پانچ دہایوں سے اس خون چوسنے کے عمل میں جدت آئی ہے اور حکمرانوں نے اپنے مفادات کے آبیاری کے لئیے کاروبار مملکت چلانے والے ادارے ۔اپنے ذاتی ادارے کے طور پہ اپنے استعمال میں لائے ہیں ۔ جس سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مسائل دن بدن بگڑتے گئے ہیں۔ اور آج یہ عالم ہے۔ کہ پاکستان نام آتے ہی ذہن میں ایک سو ایک مسائل تصور میں آتے ہیں ۔ جہاں پاکستان کی اکثریت آبادی جو غریب ہے۔ جس کے لئیے کوئی سہولت کوئی پناہ نہیں ۔ اور جو سفید پوشی کا بھرم لئیے ہوئے ہیں وہ بھی جان لڑا کر اپنا وقت دن کو رات اور رات کو دن کرتے ہیں۔ اور بڑی مشکل سے مہینہ آگے کرتے ہیں۔ ۔
جبکہ پاکستان جیسے غریب ملک کے مختلف اداروں کے سربراہان۔ دنیا کی کئی ایک ریاستوں کے سربراہان سے زیادہ امیر ہیں۔ اور بے انتہاء وسائل کے مالک ہیں ۔ انکے اہلکار جو سرکاری تنخواہ تو چند ہزار پاتے ہیں مگر ان کا رہن سہن اور جائدادیں انکی آمد سے کسی طور بھی میل نہیں کھاتیں اور حیرت اس بات پہ ہونی چاہئی تھی کہ وہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس وجہ سے ہے۔ کہ حکمران خود بھی انہی طور طریقوں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں جس طرح ان سے پیش رؤ چلاتے آئے ہیں۔ یعنی اپنے مالی۔ سیاسی اور گروہی مفاد کو ریاست کے مفاد پہ ترجیج دی جاتی ہے۔اور ریاست کی مشینری کے کل پرزے تو کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے وفادار نہیں تھے ۔ انہیں سونے پہ سہاگہ یہ معاملہ نہائت موافق آیا ہے۔
ریاست کی مشینری کے کل پرزے۔عوام کا کوئی مسئلہ یا کام بغیر معاوضہ یا نذرانہ کے کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی قیمت بھر سکتا ہو۔ تو منہ بولا نذرانہ دے کر براہ براہ راست عوام یا ریاست کے مفادات کے خلاف بھی جو چاہے کرتا پھرے ۔ اسے کھلی چھٹی ہے۔
ایک شریف آدمی بھرے بازار میں لٹ جانے کو تھانے کچہری جانے پہ ترجیج دیتا ہے۔ آخر کیوں؟ جب کہ ساری دنیا میں انصاف کے لئیے لوگ عام طور پہ تھانے کچہری سے رجوع کرتے ہیں اور انھیں اطمینان کی حد تک انصاف ملتا ہے۔ تو آخر پاکستان میں عام عوام کیوں یوں نہیں کرتے؟ یہ پاکستان میں عوام کی روز مرہ کی تکلیف دہ صورتحال کی صرف ایک ادنی سی حقیقت ہے۔ جو دیگر بہت سی عام حقیقتوں اور حقائق کا پتہ دیتی ہے۔اور ادراک کرتی ہے
پاکستان کے حقائق کسی کی نظر سے اوجھل نہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف پاکستان میں نا انصافی اور عدم مساوات سے سے دو قدم آگے۔ ظلم۔ استحصال اور غاصابانہ طور پہ حقوق سلب کرنے کے مظاہر و مناظر عام نظر آتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے ایک عام رواج یا چلن سمجھ لیا گیا ہے۔اور اس میں وہ لوگ ۔ ادارے اور حکمران۔ سیاستدان۔ اپوزیشن۔ عام اہلکار الغرض ساری حکومتی مشینری شامل ہے۔ حکمرانوں کا کوئی بڑے سے بڑا شاہ پرست اور درباری۔ یہ قسم نہیں دے سکتا کہ پاکستان کا کرپشن سے پاک کوئی ایک تھانہ ہی ایسا ہو کہ جس کی مثال دی جاسکتی ہو ۔ یا کوئی ادارہ جہاں رشوت۔ سفارش ۔ اور رسوخ کی بنیاد پہ حق داروں کے حق کو غصب نہ کیا جاتا ہو؟۔
ایک بوسیدہ نظام جو پاکستان کی۔ پاکستان میں بسنے والے مظلوم اور مجبور عوام کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے ۔ ایسا نظام اور اس نظام کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمران و سیاستدان ۔۔ اسٹیٹس کو ۔کے تحت اپنی اپنی باری کا انتظار کرنے والے۔ قانون ساز اسمبلیوں مقننہ کے رکن اور قانون کی دھجیاں اڑا دینے والے۔ اپنے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئیے کسی بھی حد تک اور ہر حد سے گزر جانے والی ریاست کے اندر ریاست کے طور کام کرنے والی جابر اور ظالم مافیاز۔ بیکس عوام کے مالک و مختارِکُل۔ ادارے۔
کیا ایسا نظام ۔ ایسا طریقہ کار۔ کاروبار مملکت کو چلانے کا یہ انداز ۔ پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے؟ کیا ایسا نظام اور اسکے پروردہ بے لگام اور بدعنوان ادارے اور انکے عہدیدار و اہل کاران پاکستان اور پاکستان کے عوام کو انکا جائز مقام اور ان کے جائزحقوق دلوا سکتے ہیں؟۔
اتنی سی بات سمجھنے کے لئیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اگر منزل مغرب میں ہو۔ تو کیا مشرق کا سفر کرنے سے منزل نزدیک آتی ہے یا دور ہوتی ہے؟
پاکستان اپنی منزل سے دور ہو رہا ہے۔ اور اس میں کسی بیرونی دشمن کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر مندرجہ بالا اندرونی دشمنوں کا ہاتھ ضرور ہے ۔اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کو یہ دن دکھانے میں اور ہر آنے والے دن کو نا امیدی اور مایوسی میں بدلنے میں۔ انہی لوگوں کا۔کم از کم پچانوے فیصد کردار شامل ہے۔
جو حکمران یا پاکستان کے کرتا دھرتا ۔اسی بوسیدہ نظام اور اداروں کے ہوتے ہوئے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کاےبیانات اور اعلانات کرتے ہیں۔ یقین مانیں۔ وہ حکمران۔۔۔ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں ۔
تبدیلی صرف اعلانات اور بیانات سے نہیں آتی ۔ یہ اعلانات و بیانات تو پاکستان میں مزید وقت حاصل کرنے اور عوام کو دہوکہ میں رکھنے کے پرانے حربے ہیں۔ کہ کسی طرح حکمرانوں کو اپنا دور اقتدار مکمل کرنے کی مہلت مل جائے ۔ چھوٹ مل جائے ۔ اور انکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے۔ اور وہ ادارے جنہوں نے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنا تھا۔ اور ریاست اور عوام کے مفادات کا نگران بننا تھا۔ وہ بے ایمانی۔ اور بد عنوانی میں انکے حلیف بن چکے ہیں۔ اور یہ کھیل پاکستان میں پچھلے ساٹھ سالوں سے زائد عرصے سے ہر بار مزید شدت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ۔ اور نتیجتاً عوام مفلوک الحال اور ایک بوسیدہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ جس میں محض بنیادی ضرورتوں کو بہ احسن پورا کرنے کے لئیے ان کے حصے میں مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ جائز خواہشیں۔ حسرتوں اور مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔
جس طرح ہم پاکستان میں ان تلخ حقیقتوں کا نظارہ روز کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان حالات کو بدلنے کے ذمہ دار ہیں ۔اور اس بات کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اور یوں کرنا انکے مناصب کا بھی تقاضہ ہے ۔ اور وہ حالات بدلنے پہ قادر ہیں ۔ مگر وہ اپنے آپ کو بادشاہ اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔ اور نظام اور اداروں کو ان خامیوں سے پاک کرنے کی جرائت۔ صلاحیت و اہلیت ۔ یا نیت نہیں پاتے۔
تو سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کے عوام کے نصیب میں عزت نام کی ۔ حقوق پورے ہونے نام کی کوئی شئے نہیں؟ اور اگر یہ پاکستان اور اسکے عوام کے نصیب میں ہے کہ انھیں بھی عزت سے جینے اور انکے حقوق پورے ہونے کا سلسلہ ہونا چاہئیے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے ان دشمنوں کے لئیے۔ جن کی دہشت گردی سے پوری قوم بھکاری بن چکی ہے۔ اور ہر وہ بدعنوان شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ جس نے پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مفادات خلاف اپنے مفادات کو ترجیج دی۔ ان کے لئیے کب پھانسی گھاٹ تیار ہونگے؟۔ انہیں کب فرعونیت اور رعونت کی مسندوں سے اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے گا؟۔ اور انہیں کب ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا؟ ۔ کہ مخلوق خدا پہ سے عذاب ٹلے؟
اس کے سوا عزت اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔

 

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

شیخ طاہر القادری ۔زرادری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔



شیخ طاہر القادری ۔ذرداری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔

کیا ؟ ۔شیخ کا ڈرامہ ۔ زرداری اور سیاسی گرگوں کے مذاکرات ۔ ایک طے شدہ پلان تھا؟ ۔ کیا ڈارمے کا اختتام ہو چکا ؟ یا ابھی اس ڈرامے کے مذید ایکٹ سامنے آنا باقی ہیں؟۔
پاکستان کی تاریخ میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے (اگر تو سبھی مارچوں کو لانگ مارچ کہا جاسکتا ہے ) کچھ ناکام اور کچھ اپنے مقاصد کی نوعیت کے اعتبار سے کامیاب ٹہرائے گئے ۔ مگر شاید تاریخ میں یہ مخمصہ ہمیشہ بر قرار رہے گا کہ شیخ کا ڈرامہ مارچ کامیاب رہا یا ناکام ہوا؟ ۔ کچھ لوگ اسے سخت ناکام قرار دیتے ہیں اور انکی رائے بھی اپنی جگہ درست اور نیت ٹھیک ہے ۔ بادی النظر میں یہ لانگ مارچ ڈرامہ ناکام ہوا اور شیخ بڑی مشکل سے عزت بچا کر واپس لوٹے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یوں ہی ہوا ہے جیسا بظاہر سب نظر آتا ہے یا ہمارے کچھ بھولے بھالے سیاستدان اس ڈرامے میں اپنی مرضی کا رنگ بھرکر اسے ناکام قراردے رہے ہیں ۔جبکہ لگتا یوں ہے کہ اس لانگ مارچ ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹرز نے ابھی فی الحال پہلا ایکٹ کھیلا ہے ۔ اور انکے مدنظر مقاصد میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں اور اسلئیے لانگ مارچ ڈرامے کو ناکام نہیں کہا جاسکتا۔جہاں کہیں اس سارے پروگرام کے تانے بارے بُنیں گئے ہیں ۔ وہیں سے اب اگلی کاروائی کے بارے سوچ بچار جاری ہوگی۔
ایک اسیے وقت میں جب دوہری شہریت پہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا اور صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے غیر ملکی پاسپورٹس رکھنے والے اراکین کو اپنے متعقلہ قانون ساز اداروں سے اپنی سیٹیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں۔ ایسے میں جب کہ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو معینہ مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات کے بعد اقتدار منتقل کرے گی ۔ ایک ایسے فرد کا جسکی قومیت کنیڈین ہے ۔ جو پاکستان کا شہری نہیں۔ جو خار زرا سیاست کے کوچے کو خیر آباد کہتے ہوئے ۔ غیر ملک میں جابسا تھا۔ جو اپنی تنظیم میں جمہوریت نام کی کسی شئے کا قائل نہیں۔ جو سیاسی سے زیادہ مذہبی زور بیاں پہ ایک خاص ذاتی قسم کی ایک منظم تنظیم بنائے ہوئے ہے۔ جس کا ہر دوسرا بیان پہلے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جس کی سیاسی اور مذہبی قلابازیاں تاریخ کے ریکارڈ پہ ہیں ۔ ایسے شخص کا اچانک پاکستان وارد ہونا ۔ نا معلوم طریقے سے حاصل کئیے اربوں روپے۔ اپنے جلسے اور لانگ مارچ کی تشہیر پہ لگا دینا ۔ اور ایک ایسی ریاست بچانے کا دعواہ کرنا ۔ جس میں پاکستان کے آئین کے مطابق شیخ ۔غیر ملکی شہری ہونے کی وجہ سے ایک عام امیداور کے طور انتخاب نہیں لڑ سکتے ۔ طاہر القادری !۔ایسے مشکوک حالات میں ریاست بچانے۔ جمہوریت بچانے ۔ آئین بچانے کے لئیے ہر غیر قانونی ۔ غیر آئینی قدام اٹھانے کے مطالبات سر عام کرتے نظر آتے ہیں ۔جبکہ اخلاقی طور پہ انہیں ایسے کسی اقدام کا کوئی حق نہیں۔ نیز جس طرح شیخ کو ہر معاملے میں فری ہینڈ دیا گیا ۔ اس سے یہ سارا معاملہ شروع ہی سے مشکوک تھا ۔ ایک ایسا مارچ ۔جس کے مقاصد اور مطالبات شروع ہی سے واضح نہیں تھے اور ہر آن شیخ کا مؤقف بدلتا رہا ۔ اسے اسقدر اہمیت دینا کہ مارچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک حکومت کے درجہ اؤل کی شخصیات شیخ سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے کو بے تاب نظر آئیں۔
ایک رائے یہ تھی کہ حالات سے تنگ آئے عام عوام قطع نظر کسی سیاسی و مذہبی وابستگی سے شیخ کے ہجوم میں شامل ہوجائیں گے اور ہجوم اسقدر بڑھ جائیگا کہ تعداد چالیس ہزار سے چار لاکھ یا اس سے تجاوز کر جائے گی۔اور اس صورت میں شیخ اور حکومت کی ملی بھگت سے عام انتخابات سے فرار حاصل کرتے ہوئے ۔ پاکستان دشمن طاقتوں کے مفاد میں ۔ ایک نئی طرح کی حکومت ایجاد کی جاسکے گی۔ مگر عام عوام نے بالغ النظری کا ثبوت دیا اور شیخ اور شیخ کے مارچ کا تو بغور اور متواتر جائزہ لیتے رہے ۔مگر شیخ کے چالیس ہزارہ مارچ میں مزید اضافہ نہیں کیا۔
اسکے علاوہ ایک بڑا سیٹ اپ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ۔نواز شریف کی رہائش گاہ میں ایک فوری اجلاس منعقد کر کے۔ شیخ کے لانگ مارچ ڈرامہ کے ہدایتکاروں اور حکومتی گرگوں کو یہ واضح پیغام دیا ۔کہ آئین سے بالا کسی مُک مُکا کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کہ نیز حکومت ۔شیخ کے سامنے بلیک میلنگ کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ الیکشن سیٹ اپ میں کسی تبدیلی کی مجاز نہیں۔ اور اگر کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ تو پاکستان کی حزب مخالف اور عوام اسے کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔ حزب مخالف کا فوری اجلاس اور ایک متفقہ رائے کی وجہ سے حکومت اور اس ڈرامے کے ہدایت کاروں کو اس مارچ میں مناسب ردوبدل کرنے پہ مجبور کر گئے۔
کچھ لوگوں کی رائے میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ۔ غیر ضروری طور پہ ۔شیخ اور لانگ مارچ کے بارے میں عدم تعلق کا بار ہا یہ بیان دینا۔ جس کے بعد شیخ کا قسمیں اٹھا اٹھا کر امریکی سفارتخانے کے بیان کو اپنے حق میں گواہی اور شہادت کے طور پہ پیش کرنا بھی اس معاملے کو مشکوک کرتا ہے۔
عمران خان اپنی تحریک انصاف کے ساتھ شیخ کے ممکنہ ساتھی ہونے تھے۔مگر پاکستان حزب مخالف کے بر وقت اقدام کی وجہ سے انھیں طاہر القادری کو مایوس کرنا پڑا۔
ایم کیو ایم نے پہلے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر محض اخلاقی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لانگ مارچ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔
یہ حسن اتفاق ہے یکے بعد دیگرے پاکستانی سیاسی میدان میں انقلاب کا لنگوٹ کس کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں اترنے والے۔ اپنے نام میں تحریک اور انقلاب کا زوروشور سے ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیں۔ ایک نظر اس معائدے کو دیکھ لیں جو تحریک منہاج القرآن کے بانی و رہنماء شیخ طاہر القادری اور حکومت اور حکومت کے اتحادہ برزجمہروں کے درمیان ہوا۔ معائدہ درج ذیل ہے۔
” 1: قومی اسمبلی کو 16 مارچ سے پہلے تحلیل کیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی اس ایوان کی معینہ مدت ہے، تاکہ اس کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔ اس سے قبل ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کے تحت نامزد ہونے والے نمائندگان کی نامزدگی سے پہلے چھانٹی کی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن ان افراد کی اہلیت کا جائزہ لے سکے، کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔2: حکومت اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر پیش کریں گے۔3: الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار 27 جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ میں ہی ہوں گے۔آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون ایک اجلاس مندرجہ ذیل وکلاء ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسن کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک 27 جنوری کے اجلاس سے پہلے قانونی صلاح و مشورے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔4: انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلے آئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اے: آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور 82 جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔سی: سپریم کورٹ کے 2011 کی قانونی درخواستوں پر 8 جون 2012 کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔5: لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دونوں جانب ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے“۔

دستخط : وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف چیئرمین پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری،سربراہ وفد چوہدری شجاعت حسین ،وزیر قانون فاروق ایچ نائیک،مخدوم امین فہیم ، پی پی پی،سید خورشید شاہ ، پی پی پی پی ،قمر زمان کائرہ ، پی پی پی پی ،فاروق ایچ نائیک ، پی پی پی پی ،مشاہد حسین ، پی ایم ایل کیو ،ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم ،بابر غوری ، ایم کیو ایم ،افراسیاب خٹک، اے این پی،سینیٹر عباس آفریدی، فاٹا

اس سارے معائدے کے ہر دو فریق اس معائدے کا کوئی آئینی و قانونی حق نہیں رکھتے۔

اس معائدے کی شق نمبر ایک۔ کے مطابق ممکنہ امیدواروں کی آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور82 پہ پورا اترنے کی اہلیت جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔ کا اختیار ۔ شیخ اور رخصت ہوتی حکومت کے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے پاس آجائیں گے ۔ جبکہ اس سے قبل امیدواروں کی مذکور ممکنہ اہلیت جانچنے کا یہ اختیار عدلیہ کے پاس تھا۔

اس معائدے کی شق نمبر دو۔ کا ایک فریق عوامی تحریک نگران وزیر اعظم کا نام منتخب کرنے یا پیش کرنے کا کوئی آئینی ۔قانونی اور اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ اگر یوں ہوتا ہے توذرا تصور کریں ۔ چالیس کی بجائے چارلاکھ معتقدین ۔ مریدین۔ اور سیاسی اراکین رکھنے والے ”کس اور کیا کچھ “کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟۔ اور ایک ایسا طوفان بدتمیزی سر اٹھائے گا کہ الامان الحفیظ۔

اس معائدے کی شق نمبر تین۔ کے مطابق ۔ اس سے قبل تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو متازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے معاملات الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔الیکشن کمیشن کی متفقہ تشکیل ہوچکی ۔ جس پہ پاکستان کی تقریبا سبھی سیاسی پارٹیاں اور عدلیہ متفق ہو چکے ہیں ۔اس تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو مشکوک کرنا ۔ متنازعہ قرار دینا محض الیکشن میں تاخیر یا منسوخ کرنا ہے ۔ یا الیکشن کے بعد اسکے نتائج کو مشکوک و متنازعہ قرار دینا ہے ۔ یہ بارود کے ڈھیر پہ دیا سلائی رکھنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی بہت ممکن ہے کوئی دردمند شہری اس معائدے کی آئینی و قانونی حیثیت کو اعلٰی عدلیہ میں چیلنج کردے اور یہ معائدہ سرے سے ہی کالعدم قرار پائے۔
پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیاں اور حزب اختلاف اس پہ اعتراضات اٹھائے گی جس سے انتشار اور عدم استحکام کا ایک نیا محاذ پاکستان کے اندر کھل جائے گا ۔
یہ معائدہ اپنے وجود کے اندر پاکستان کے استحکام کے لئیے خوفناک مسائل لئیے ہوئے ہے۔ ۔ ایک ایسی حکومت جس نے پورے ملک کو اپنی اس پوری مدت میں میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ بغیر کسی وجہ کے گیس ۔ بجلی اور پانی کا بحران حل نہیں کیا۔ بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریوں سے لیکر گھروں کے چولھے تک بند پڑے ہیں اور پوری ایک قوم کو ان سالوں میں پتھر کے دور میں دھکیلنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا گیا۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے نہیں تھکتے اور حکمران اپنی ذاتی سیکورٹی کے سوا سیکورٹی کے متعلق کوئی دوسرا قدم اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ عام امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے عام شہری سر شام ہی گھروں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرٹ کا قتل کیا جارہا ہے ایک عام سی نوکری لاکھوں روپے میں بک رہی ہے۔ ہر طرف کرپشن ۔ لُوٹ کھسوٹ اور چور بازاری گرم ہے ۔ اربوں روپے کی کرپشن ہور رہی ہے۔ اعٰلی عدلیہ حکومتی سودوں میں اربوں روپے کے گھپلوں کی نشاندھی کر چکی ہے ۔ مگر حکومت میں شامل کسی کی ناک پہ ایک بال تک نہیں پھڑکا ۔ اسی حکومت کا ایک ایسے چالیس ھزاری مجمع کے لانگ مارچ اور دھرنے کے سربراہ ایک غیر ملکی شہریت کے حامل اور ایک عام شخصیت کی بلیک میلنگ ( جو در حقیقت بلیک میلنگ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ ایک ایکٹ ہے کہ بلیک میلنگ کا تاثر دیا جائے) کے سامنے اتنے ادب و احترام سے جھک جانا ۔ یہ کسی ذی شعور پاکستانی کی عقل میں نہ آنے والی بات ہے۔شیخ کا پہلے سے طے شدہ اوقات کار کے مطابق چند ماہ کی مہمان حکومت کو دھمکیاں اور واننگ دینا ۔اور ایسا معائدہ کرنا جسکا کوئی آئینی ۔ قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔

یہ سب باتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا۔ اور ابھی یہ ڈرامہ ختم نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ اس ڈرامے کا آغاز ہے اور اسکی انتہاء ۔ پاکستان میں کسی طور ایک غیر آئینی حکومت کا نفاذ ہے ۔ ۔جو اس سارے ڈرامے کی ہدایت کار غیر ملکی طاقت کے ایجینڈے میں اسکی مرضی کے رنگ بھر سکے ۔ جس کے تانے بانے بہر حال پاکستان کو دو ہزار پندرہ تک زبردست قسم کی انارکی کا شکار بنانے سے جا ملتے ہیں ۔ اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں ۔ اگر کوئی غیر جمہوری (جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت بھی ہو سکتی ہے ) سیٹ اپ بنتا ہے ۔ تو ممکن ہے کہ افواج پاکستان کواسکی بی ٹیم کے طور پہ کام کرنے کے لئیے کہا جائے۔ کیا پاکستان کے بارے مکرو ہ عزائم رکھنے والی طاقتیں کامیاب ہوں گی ۔یا پاکستان کے عوام بالغ النظری اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاغوتی طاقتوں کو انکے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔ اور قرائن یہ بتاتے ہیں ۔ کہ اس دفعہ شاید مشیت ایزدی کا ایجینڈا پاکستان کے ساتھ ہے ۔ پاکستان اور قوم دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انشاءاللہ۔ لیکن فی الوقت پاکستان میں انتشار مزید بڑھتا نظر آتا ہے اور جسکے بنیادی کردار طاہر القادری اور موجودہ حکومت ہیں۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: