RSS

Tag Archives: مناظرہ

خدا ، مناظرہ اور گھمنڈ۔


خدا ، مناظرہ   اور  گھمنڈ۔

جیسے کہ آجکل انٹرنیٹ پہ ایک صاحب کچھ موضوعات پہ بڑے دھڑلے اور سرعت سے اپنے تئیں عالم فاضل سمجھتے ہوئے اسلام، قرآن کریم ، نبوت، احادیث  یعنی جن امور پہ روئے زمین کے مسلمان اتفاق کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان ان امور پہ طنز یا  لایعنی بحث  کو اپنے عقائد،  پہ اپنے دین پہ  حملہ تصور کرتے ہیں۔ اس پہ ہاتھ صاف کئیے جارہے ہیں۔اورہر اگلی پوسٹ پہ قلابازی کھاتے ہوئے ایک نیا شوشہ  چھور کر سمجھتے ہیں کہ اپنے تئیں اپنی فہم فراست کے سامنے سب کو کوتاہ قامت قرار دے ڈالا ہے۔ سبحان اللہ ۔جبکہ کہ ایسی عقل پہ سبھی خندہ زن ہیں۔

 ایک بات نوٹ کی گئی ہے۔ کہ پاکستان کے نام نہاد روشن خیالوں کو اور اپنے آپ کو "کچھ” سمجھنے والوں کو درحقیقت یہ وہم سا ہوجاتا ہے کہ جی بس!اب ہم ہیں ناں۔ کوئی نکتہ ملے سہی معقولیت کی بات کرنے والوں کی ایسی تیسی کردیں گے۔

دوسرا مسئلہ ان کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ اسی زعم میں یہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور یہ دونوں طبقے یعنی نام نہاد روش روشن خیال اور "میں کے مارے ہوئے نام نہاد عالم فاضل” دونوں میں ایک شئے مشترک ہے کہ دونوں حد سے زیادہ خود پسند ، جعلی تفاخرکا شکاراور اپنے آپ کو توپ قسم کی چیز سمجھتے ہیں۔ اورایک دوسرے کو مکھن لگاتے ہیں۔ پالش کرتے ہیں اورایسے مضحکہ خیز دلائل دیتے ہیں کہ بقول شخصے "ہاسہ” نکل آتا ہے۔ دوسروں کو اپنے زعم میں وہاں چوٹ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں اسے تکلیف زیادہ سے زیادہ ہو۔ مثلا ۔ اسلام۔ نظریہ پاکستان۔ پاکستان۔ اسلام پسندی۔ معقولیت پسندی۔  وغیرہ

ایسی حرکات پہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا معرکہ مارا ہے۔ دراصل یہ ایک طرح کے  احساس کمتری کی ایک شکل ہے۔ جس کا آغاز شروع میں دوسروں پہ اپنی نام نہاد علمیت کا رعب ڈالنے سے، اور  دھاک بٹھانے کی لایعنی کوشش سے شروع ہوتا ہے اوررفتہ رفتہ یہ مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔اوربالا آخر مریض اسی گمان میں دین و دنیا حتٰی کے اپنے رفقاء تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن نہیں جانتے عین اسوقت جب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا۔ پاکستانیوں کا۔ پاکستان کا۔اسلام کا۔ استہزاء اڑا نے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان بے چاروں کو پتہ نہیں ہوتا کہ عین اسوقت ان کی ان حرکات کی وجہ سے انکا اپنا مذاق اڑایا جارہا ہوتاہے۔ اور خدا جانتا ہے کہ کتنی بار انکا استہزاء اڑایا جائے گا۔

جس طرح کسی کھیل کے کچھ اصولوں پہ کھیل شروع کرنے سے پہلے اتفاق کرنا ضروری ہے اسی طرح مباحثے اورمناظرے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ فریقین واضح طور پہ آگاہ کریں کہ وہ بنیادی اصولوں کو مانتے ہوئے اپنے دلائل میں آگے بڑھیں گے۔ یعنی جس موضوع پہ مباحثہ کرنا مقصود ہے اس  پہ ہردونوں فریقوں کو اپنا نقطعہ نظرواضح  کرنا لازمی ہوتا ہے کہ کہ کونسا فریق موضوع کے حق میں یا مخالفت میں اپنے دلائل دے گا۔ اور فریق مخالف انہیں رد کرتے ہوئے اپنے موقف کی حمایت میں دلائل دے گا۔ مثلا اگر ایک فریق خدا پہ یقین رکھتا  ہے تو وہ خدا کے وجود پہ دلائل دے گا اور اگر دوسرا فریق اگرخدا پہ یقین نہیں رکھتا  تو وہ خدا کےعدم وجود پہ اپنے دلائل دے گا یوں خدا کے وجود یا عدم وجود سے متعلق موضوع آگے بڑھے گا۔ لی جئیے اس موضوع پہ مناظرے و مباحثے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک لازمی اصول طے ہوگیا ہے۔

اب یہ نہیں ہو سکتا  کہ  ان اصولوں کو جسے تسلیم کرتے ہوئے ایک فریق تو ہر اصول کا پابند ہو کر نہائت سلجھے طریقے سے دلائل دیتے ہوئے ہر ممکنہ سنجیدگی سے خدا کے وجود پہ دلائل دیتے ہوئے اس موضوع پہ آگے بڑھے جبکہ فریق مخالف انکے دلائل کے جواب میں غیر سنجیدگی سے انکا ٹھٹھ اڑا دے۔ اور جب کہ وہ خود جس نے خدا کے وجود پہ بحث کی دعوت دی ہو وہ خدا کے منکر ہونے سے انکار کرتے ہوئے  حضرت عیسٰی ابن مریم علیہ والسلام پہ بحث شروع کردے۔ وہاں سے  سے اگلی جست میں کمپیوٹر تیکنالوجی پہ اترانے لگے۔ اورمصرہو کہ اس کے موقف کو درست تسلیم کرلیا جائے۔

یہ یونہی ہے کہ کوئی ہاکی کھیلنے کی خواہش رکھنے والا جب وہ یہ محسوس کرے کہ کھیل پہ اسکی گرفت کمزور ہورہی ہے اوروہ ہار جائے گا تو ہاکی  کی اسٹک کو ایک طرف پھینک کر گیند کو پاؤں سے  کھیلنا شروع کردے ۔ اعتراض کریں تو وہ فٹ بال کے اصولوں پہ بحث شروع کردے۔ اوراگلی قلابازی میں اسی اصول کے تحت ہاکی کے میدان میں ہاکی کی اسٹک سے کرکٹ کھیلنے پہ اصرار  کرے۔ جب اتنی تیزی سے یکطرفہ طورپہ ضوابط تبدیل کئیے جائیں گے تواسے کھیل نہیں بے ہودگی تصور کیا جائے گا۔

اس لئیے اس طرح کے کسی معقول اورسنجیدہ مناظرے کے لئیے ۔ جب آپ ایک بحث چھیڑتے ہیں تو آپ پہ لازم ہے کہ پہلے آپ اپنا کردارواضح کریں۔ اگرموضوع ادیان یا مذاہب سے متعلق ہے تو آیا آپ مسلمان۔ عیسائی۔ کافر۔ دہریہ۔ میں سے کس سے تعلق رکھتے ہیں؟۔ آپکا واضح موقف کیا ہے؟۔ تانکہ آپکی بات سمجھنے میں آسانی ہواورآپ کو کوئی دلیل دی جاسکے۔ مثال کے طورپہ اگردہریہ ہیں تو دہریت کی بنیادوں پہ خدا کے وجود کے سے انکار کر رہے ہیں تو ایسا ہونے سے فریق اؤل یعنی خدا پہ یقین رکھنے والے آپکی سرے سے خدا کو تسلیم ہی نہ کرنے کو جانتے ہوئے اس نظر سے آپ کو خدا کے وجود پہ دلیل دیں گے۔ اوراگرآپ ہر دفعہ قلابازی کھاتے ہوئے۔ کبھی خدا کے وجود پہ دلیل دیں گے اور کبھی خدا کے عدم وجود پہ ۔ کبھی مادے اورعقل کو خدا بیان کریں گے ۔ اور کبھی  کسی کمپیوٹر یا سرچ انجن کا کلمہ پڑھنے لگیں ۔ تو آپ کا مقصد سنجیدہ بحث نہیں بلکہ اپنی دانست میں خدا پہ یقین رکھنے والوں کا  استہزاء اڑانا ہے۔ اپنی نام نہاد علمیت کی دوسروں پہ دھاک بٹھانے کی بچگانہ خواہش ہے۔ اپنے نفس کی تسکین مقصود ہے۔ واہ واہ کے ڈونگروں سے غرض ہے۔ ایک جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔اسے آپکے فہم و فراست پہ نہیں بلکہ آپکی کم علمی اورغیر سنجیدگی پہ محمول کیا جائے گا۔اور خدا الگ سے ناراض ہوگا۔

اسلئیے یہ طریقہ درست نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ والسلام کے موضوع پہ بات ہو رہی ہو تو اگلی جست میں خدا کے وجود پہ قلابازی کھا گئے۔  خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی بات شروع ہوئی تو کسی سرچ انجن کا کلمہ پڑھنا شروع ہوگئے۔ اب پھر قلابازی کھائی اور اسے ایک جوک  قرار دیتے ہوئے۔ قرآن کریم پہ چڑھائی کر دی۔ نہ کسی اصول کو بنیاد بنایا نہ کسی زمین پہ اتفاق کرتے ہوئے بحث کو اگے بڑہایا۔

یہ محض کم علمی اور حد سے بڑھے ہوئے اور کم عقلی کی حدوں کو چھوتا عالم فاضل ہونے کا گھمنڈ ہے۔ جس کا علم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ  جو صاحب علم ہوتے ہیں وہ نہائت منکسر المزاج ہوجاتے ہیں۔ وہ بہترجانتے ہیں کہ ایمان کا معاملہ عقل سے نہیں  دل سے ہوتا ہے اوراسے محض عقلی استدلال سے نہ سوچا اور سمجھا جاسکتا ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ اتنی  بنیادی سی بات جاننے کے لئیے فلسفے میں ماہرہونا ضروری نہیں۔ اتنے چھوٹے سے نکتے کو ایک چار جماعت پاس گلی محلے کا ایک عام ساانسان بھی جانتا ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , ,

سلیم شہزاد کا افسوسناک قتل اور پاک فوج پہ الزام تراشیاں۔


پتہ نہیں کیوں ہم ہر بات کو ہیر پھیر کر پاکستان کے دفاعی شعبوں پہ ڈال کر اپنے سارے فرائض سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔  بغیر کسی ثبوت کے اس سے پہلے کچھ لوگ افواج پاکستان کو بہ حیثیت مجموعی غدار کہہ چکے ہیں۔ جب بغیر کسی ثبوت و تصدیق کے ایسے افراد جنہیں ایک آزاد ملک میں آزاد میڈیا اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے بعد ایک آزاد رائے قائم کرنے میں اسقدر مسئلہ ہے تو پاکستان کے اندر رہنے والے ایک عام آدمی کو پاکستان کے بے ہودہ میڈیا اور پاکستان پہ اپنی خصوصی نطر کرم رکھنے والے این جی اوز غیر ملکی اداروں کے اردو ایڈیشنز جن کا مقصد ہی پاکستانی شہری کو اپنے صحفات پہ خصوصی ایجنڈے کے تحت۔ جن پہ اکثر بیشتر خبر دینے اور تجزئیہ نگار کا نام تک نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو انہی مخصوص لوگوں کا نام ہوتا ہے جنہیں پاکستان سے شدید بغض ہے جسکی ایک وجہ ایسے لوگوں کی قادیانیت سے ہمدردی بھی ہے۔ ان کے ذریعے پاکستانی نوجوان طبقے اور فارووڈ مائنڈ کو مایوسی اور ناکامی کا پیغام دینا ہے۔ تو ایسے بہت سے لوگ بغیر کسی مستند حوالہ جات کے زمانے کے چلن کے مطابق چند لائینیں اور کچھ جملو ں میں لکے آدھے صحفے کے اعلان میں فوج کو غدار اور سلیم شہزاد کا قاتل آئی ایس کو قرار دے کر بھارت امریکہ اور پاکستان کے دیگر دشمن ممالک کا کام آسان کر دیتے ہیں۔ ایک آرام دہ کرسی پہ محفوظ بیٹھ کر کمپیوٹر سے آدھ صحفہ لکھ کر چاند تارے توڑ لانے کا  زبانی کلامی عزم رکھنے والے جذباتی لوگوں کی اپنے ہی اداروں کو بغیر کسی ثبوت اور پیشگی تحقیق سے لکھے گئے الفاظ سے پاکستان کے اندرونی دشمنوں کے پاکستان کے خلاف زہریلے پروپگنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ ان اندرونی دشمنوں اور دنیا کی انتہائی تربیت یافتہ اور مالی اور تکنیکی وسائل سے مالامال خفیہ ایجینسیوں اور پاکستان کے دشمن ممالک کے مفادات پاکستان کی سالمیت کے خلاف ایک ہونے کی وجہ سے اکھٹے ہوگئے ہیں۔

 شاید بہت لوگوں کو علم نہیں ہوگا۔ کہ اس وقت پاکستان کے اندر مشرف کی وجہ اور اجازت سے سی آئی اے۔ ایم فائیو۔ را۔ موساد۔ خاد۔ خلق اور پتہ نہیں کون کون ایجینسیوں کے ذہین ترین اور انتائی تربیت یافتہ لوگ پاکستان میں پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کر رہے ہیں۔ اور ہمارے سیاسیتدان جو دوسری یا تیسری کے بچوں کی طرح ہر آئے دن امریکن ایمبیسڈر کو شکائیتیں۔ وضاحتیں اور درخواستیں لگاتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھی ان ایجنسیوں کے ایک قسم کے مراعات یافتہ اور تنخواہ دار ایجینٹوں کی طرح اپنی ذاتی اور گھٹیا مفادات کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی سالمیت کی خاطر جان کی بازی لگانے والوں کو اپنے :۔” کھل کھیلنے “۔: میں (پاکستان کے اچھے یا برے لیکن) پاکستان کے دفاعی اداروں کو دیوار کے ساتھ لگا دینا چاہتے اور اگر یوں ہوتا ہے تو پاکستانی قوم جدید تاریخ کی شاید پہلی قوم ہوگی جو اپنے وجود کو محض ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی وجہ سے منتشر اور مفقود ہوجائے گی۔ اور پاکستان کے دشمن یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔ اور ہر وہ صحافی ۔ ادارہ ، وکیل۔ قادیانی، یا بکاؤ مال جو محض اپنے ذاتی معاملات کی وجہ سے پاکستان سے بغض رکھتا ہے وہ پاکستان کے خلاف ان طاقتوں کے پے رول لسٹ پہ ہے۔

پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ جسے یہ پاکستان آرمی کی یونٹوں کی فارمیشن تک کے بارے علم نہیں وہ بھی قسم قسم کے ٹی وی اینکرز اور غیر معروف صحافی ہر قسم کے قومی مفاد کو پس پشت دالتے ہوئے محض نمبر بنانے کی بے وقوفانہ دوڑ میں شامل اور کچھ اپنے آقاؤں کو خوش رکھنے کی خاطر۔ پاکستان دفاعی اداروں اور حال میں کراچی کے نیول بیس پہ اپنی جان لڑا کر رات کے اندھیرے میں حملہ آور وہنے والے انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد کمانڈوز کو انکے مذموم مقاصد کی تکمیل میں جان دینے والے شہداء تک پہ انگلیاں اٹھانے اور الزام تراشی سے باز نہیں آئے۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پہ جنہوں نے انکی خاطر جان سے گزر جانے والے شہدا تک کو الزام تراشیوں سے نہیں بخشا۔ جبکہ انکی اپنی حب الوطنی اور اپنے اخبارات و ٹی وی چینلز سے وفاداری کا یہ عالم ہے کہ محض انہیں کچھ زیادہ معاوضے کا لالچ دے کر کبھی خریدا جاسکتا ہے ۔ جس کے لئیے وہ اپنے پچھلے ٹی وی چینل کے ساتھ کسی بھی معائدے کو روند کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور روپے کی خاطر ایسی اخلاقیات کے مالک لوگوں سے قومی مفاد کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اور ان کی یاوہ گوئیاں دیکھ کر انٹر نیٹ کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ہر تیسرا فرد ان سے بھی بڑھ کر دور کی کوڑی چھاپ رہا ہے۔ اسکی عمدہ مثال کچھ بلاگرز کے بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے الزام تراشیاں دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ الزام تراشی کرنے والے پہ اخلاقی اور قانونی طور پہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے الزام کی صحت میں کوئی شہادت ، ثبوت، دلیل، یا واقعہ وغیرہ پیش کرے۔ مگر نہیں صاحب جسے بڑی مشکل سے اردو کے درست ہجے تک نہیں لکھنے آتے وہ بھی اپنے آپ کو دانشوروں کے ذمرے میں شمار کرتا ہے۔ بے شک کرتا رہے واللہ ہمیں اس پہ بھی اعتراض نہیں۔ مگر وہ اپنی داشوری کے اظہار کے لئیے آغاز اسلام ،نظریہ پاکستان ۔ پاکستان۔ افواج پاکستان۔ پاکستانی خفیہ دفاعی ادارے۔ بھارت ماتا کے ترانے و نغمے ۔ امریکہ درآمد مادر پدر آزاد روشن خیالی۔ سے کرتا ہے۔ جیسے پاکستان اور پاکستانی قوم کے مزھبی جزبات کا کوئی نانی نانا ہی نہ ہوا اور غریب کی جورو کی طرح جسکا دل چاہتا ہے اسے سے ٹھٹھہ مخول کرنے انٹر نیٹ پہ چڑھائی کرتے ہوئے اپنی بے وقوفی یعنی پاکستان کے رواج کے مطابق اپنی دانشوری کا اعلان کر دیتا ہے۔

اگر فریق مخالف جن پہ یہ اپنی لعن طعن سے اپنی داشوری کی بنیاد کا آغاز کرتے ہیں ۔ ایسے تمام نام نہاد دانشوروں میں سے صرف چند ایک گوشمالی کرنے پہ اتر آئے تو یقین مانیں نناوے فیصد دانشور مصلے پہ نظر آئیں اور ہر کسی کو انتائی عزت کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ شریف آدمی کبھی اسطرح کی حرکات نہیں کرتا یہ صرف شر سے لبریز اور شریر لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ اور شریر لوگوں کو شر سے باز رکھنے کے ضابطے دنیا کی ہر قوم نے مقرر کر رکھے ہیں۔

پاکستان میں دن میں سینکروں قتل ہوتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہر قتل میں آئی ایس آئی ملوث ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں ریمینڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو ایسے افراد کا پتہ ہو۔افراد جنہیں ماضی میں واقعتا حکومتی اداروں کی طرف سے قومی سلامتی کے بارے بریف کیا گیا ہو کہ کس طرح ان کی بے تکی دانشوریاں جو درحقیقت ان میں اکثر پاکستانی صحافیوں کی کسی نہ کسی طرف سے دانہ ملنے کی وجہ سے اپنے اپنے آقاؤں اور بتوں سے وفاداری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور ایسے افراد کو بریف اور ڈی بریف کرنا اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے مکر فریب یا جان کے خوف یا اپنے اندیدہ آقاؤں کے اشارے پہ جان کی دھمکی ظاہر کرتے رہے ہوں ۔ اور اس سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی اداروں کو مزید کلفژر میں مبتلاء کرنے اور دباؤ میں لانے کے لئیے ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ انھیں پار لگا  دیا ہو۔ اور اپنے باقی میڈیا ایجینٹوں کو اشارہ کر دیں کہ شور مچانا شروع کردو۔

فوج  سے ہمیں بھی شکایات ہیں اور فوج پہ تنقید بھی کرتے رہے ہیں مگر اس دور میں جبکہ پاکستان سخت مشکلات سے دوچار آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اپنے اخراجات کی وجہ سے اور لیبیا جیسے نسبتا کم خرچ اور بہت ہی بالا ترین تیل کی وجہ سے اس طرف توجہ کر رہا ہے۔ ویسے بھی امریکہ کی جنگ جوئی تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ کسی بھی قوم پہ اپنا قبضہ دیرپا قائم نہیں کرسکا۔ اور وہ آج نہیں تو کل یعنی ایک دو سالوں سے افغانستان سے اسے نکلتے بنے گی۔ مگر وہ جانے سے پہلے بھارت کو علاقے کی بالا طاقت اور افغانستان کو پاکستان کے شمال میں ایک بڑے حریف اور کرزئی جیسے  شخص کو افغانستان کا حاکم چھوڑ کر جانا جاتا ہے اور بھارت اور خود امریکہ پاکستان پہ اسی صورت میں بالا دستی قائم کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتیار انھیں ھدف تک پہنچانے کے لئیے مزائیل وغیرہ کو کسی طرح ناقابل استعمال بنا دینا چاہتا ہے ۔ یا ممکن ہو تو پاکستان کی جوہری تنصیبات کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہتا ہے۔یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان اندرونی طور پہ خلفشار کا شکار ہو کر کمزور ہوچکا ہوگا۔

ہمیں آنکھیں کھولنی چاہئیے اور قطار اندر قطار اپنی صحفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہئیے تانکہ اقوام عالم اور خاصکر پاکستان کے دشمنوں کو یہ پیغام جائے کہ کہ پاکستانی قوم اپنے مشکل وقت میں متحد ہے اور پاکستان کے وجود پہ کسی بھی بری نظر ڈالنے والے کے دانت کھٹے کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

Read the rest of this entry »

 

ٹیگز: , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: