RSS

Tag Archives: مفادات

جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔


جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔

اب کیا ہوگا؟۔
کیا یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلے گا؟

اگر یوں ہوتا ہے کہ یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب واضح ہے کہ گو کہ اس سیریل کے تمام اداکار پاکستانی ہیں مگر اس سیریل کو ڈائریکٹ کہیں اور سے کیا جارہا ہے؟

جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” Friends Not Masters, میں آقاؤں کی طوطا چشمی کے شکوے کئیے ہیں اور ان کی بے وفائی کا دکھڑا بیان کیا ہے۔ اور ایوب خان کے خلاف بھی لانگ مارچ کا ہی فارمولہ آزمانے اور انہی طاقتوں کی ایماء پہ برسراقتدار آنے والے بڑے بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کے آخری ایام میں اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد اور بعد ازاں نظامِ مصطفی نامی تحریک کے زبردست دباؤ کے بعد پی ٹی وی پہ اپنی آخری تقریر میں امریکہ کو سفید ہاتھی گردانتے ہوئے یہی واویلہ کیا کہ ہائے ہائے مجھے بنانے والے مجھے گرانے پہ آمادہ ہیں۔

انہی طاقتوں کے اشارے پہ گرم سیاسی ماحول میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر تختِ اسلام آباد پہ قبضہ جمانے والے جنرل ضیاء الحق بھی اپنے آخری دنوں میں اپنے انجام سے آگاہ ہوچکے تھے کہ آقاؤں کا دستِ شفقت انکے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ آج یا کل دیر یا سویر سے اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسی لئیے وہ اپنے آخری دنوں میں امریکی سفیر اور اپنے جرنیلوں سمیت ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لئیے پھرتے تھے جس پہ انہیں اپنے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کا ذرہ بھر بھی شائبہ تھا۔ اور بہاولپور فضائی حادثے میں مارے جانے والے پاکستان کے انتہائی ذمہ دار لوگوں کے ایک ہی طیارے میں سوار ہونے کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

موجودہ دور میں پاکستانی مسنندِ اقتدار پہ قابض ہونے والوں میں سے جنرل مشرف شاید وہ واحد کردار ہے جس نے ہدایت کاروں کی ہر فرمائش ان کی توقعات سے بڑھ کر پوری کی اور جب جنرل مشرف کو مسندِ اقتدار سمیٹنے کا اشارہ ہوا تو اس نے بلا چون چرا جان کی امان پاؤں کے صدقے اپنا بوریا لپیٹا اور اُدہر کو سدھار گئے جدہر سے انہیں جائے امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ایسے ھی اچانک سے ڈرامائی طور پہ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ کیا تب صرف چند ماہ بیشتر کسی کے وہم گمان میں تھا کہ بے نظیر وزیر اعظم بننے کی بجائے زرداری پاکستان کے مختارِکُل قسم کے صدر بن جائیں گے؟۔ ہماری قومی یاداشت چونکہ کچھ کمزور واقع ہوئی ہے اگر کسی نے یاداشت تازہ کرنی ہو تو اس دور کے الیکشن سے چند ماہ قبل کے اخبارات اور ٹی وی مذاکروں کا مطالعہ و نظارہ کر لیں۔ جن میں بے نظیر کے ہوتے ہوئے زرداری کے صدر یا وزیر اعظم بننے کا خیال تک بھی کسی سیاسی جغادر کے وہم و گمان سے گزرا ہو۔ صرف چند ماہ میں زرداری پاکستان کے مختار کل قسم کے صدر تھے۔

زرداری حکومت میں نواز شریف عدلیہ بحالی کا عزم لے کر لاہور سے اسلام آباد کو ایک جمِ غفیر لے کر نکلے۔ عوام کا ٹھاٹا مارتا سمندر ساتھ تھا۔ زرداری حکومت چند دن میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ انجام پزیر ہوسکتی تھی۔ قومی یادشت کو تازہ کی جئیے کہ تب امریکی صدر اور سفیر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کے یکے بعد دیگرگوجرانوالہ نواز شریف کو فون آئے اور نواز شریف عام عوام کی توقعات اور امیدوں کے بر عکس تب گوجرانوالہ سے واپس لاہور سدھار گئے۔ سوجھ بوجھ والوں نے تب ھی فال ڈال دی کہ مک مکا ہوگئی ہے اور زردای کو ٹرم پوری کرنی دی جائے گی اور آئندہ ویز اعظم نواز شریف ہونگے۔ اور مڈٹرم کے طور یہی کلیہ نواز شریف کے خلاف مختلف مارچوں اور دھرنوں کے ذرئیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر عام عوام کی عدم دلچسپی یا آئے دن کے بے مقصد سیاسی ہنگامہ آرائی سے بیزارگی کی وجہ سے یہ ایکٹ کامیاب نہ ہوسکا۔

کسی بھی قیمت پہ اقتدار میں آنے والے جب طے شدہ شرائط پہ کام کرنے کے بعد خالص اپنے ذاتی جاہ حشمت کو برقرار رکھنے کے لئیے کنٹریکٹ کوغیر ضروری طور پہ طوالت دینے کی ضد کریں۔ یا دی گئی بولی سے انحراف کریں تو ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اقتدار کے خواب دیکھنے والے بچہ سقوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ مگر ایسے خوابوں کو پایہ تکمیل پہنچانے والی یا اقتدار کو استحکام بخشنے پہ قدرت رکھنے والی وہ طاقتیں جوبیرونِ پاکستان سے کٹھ پتلی تماشے کی ڈوریاں ہلاتی ہیں وہ کسی ایسے ڈھیلے ڈھالے کردار کو مسند اقتدار کا ایکٹ نبھانے کی اجازت دینے پہ تیار نہیں جو موجودہ دور میں پاکستانی اسٹیج پہ اپنے کردار اور ایکٹ کو زبردست عوامی پذیرائی اور عوام کی طرف سے پرجوش تالیوں کے استقبال کی اہلیت نہیں رکھتا۔

کیا پاکستان کے مفادات کے خلاف پھر سے بولی ہوگی؟ جو بڑھ کر بولی دے گا اسے مسند اقتدار بخشا جائے گا؟

کیا نئے مناسب اداکار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پرانی ٹیم نئی شرطوں اور تنخواہ پہ کام کے لئیے منتخب کی جائے گی؟
کیا ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہونگے۔اللہ کرے ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہوں۔

پردہ اٹھنے میں دیر ہی کتنی ہے؟ نئے انتخابات میں عرصہ ہی کتنا رہتا ہے؟

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

مہلت


مہلت۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں۔۔۔

جنرل مشرف کے دور میں اس خطےکے ممالک کے عام شہری ہی کیا۔ اچھے خاصے تجزئیہ نگار ہمیں امریکہ کی ایک سیٹلائٹ ریاست گردانتے تھے۔ آج بھی پاک امریکہ تعلقات کی تعریف کرنا اتنا آسان نہیں۔ کہیں تو یوں لگتا ہے کہ  دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں ۔اور کچھ معاملات میں دو بدو آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ پاکستان سے باہر خطے کے دیگر ممالک کے سنجیدہ سوچ رکھنے والے اور حالات حاضرہ پہ نظر رکھنے والے اچھے خاصے دانشور۔ پاکستان کے بارے میں کینفیوز ہوجاتے ہیں اور الجھ جاتے ہیں۔ کہ آیا امریکا پاکستان کا دوست ہے یا دشمن؟۔ اس ضمن میں صلالہ پوسٹ پہ حملہ۔ ایبٹ آباد کے قریب حملہ۔ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی کا اہتمام ۔اور دیگر بہت سے معاملات۔ باہمی تعلقات کی رسہ کشی کو جہاں نمایاں کرتے ہیں ۔ وہیں روز اسلام آباد کے نت نئے دوروں پہ آئے۔ امریکی اعمال اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل در معقولات۔ اسکول اساتذہ کی تربیت سے لیکر فارمی مرغیوں کے گوشت اور انڈوں کی اقسام اور ان پہ بھاؤ تاؤ اور مول تول  تک میں۔ ناک گھسیڑتے  امریکی۔ پاکستان و امریکہ کے تعلقات کی ایک پیچیدہ داستان بیان کرتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج کی دنیا ۔ بین الاقوام مفادات کی دنیا ہے ۔ جس میں کوئی  ملک کسی کا حتمی دوست نہیں ہوتا۔ اور مفادات کے تابع دوستیاں اور دشمنیاں طے ہوتی ہیں۔

ایک مشہور مغربی کہاوت ہے کہ ۔۔۔ "نئے دشمن کی نسبت ایک دیرینہ دشمن بہتر ہوتا ہے”۔۔۔۔ یعنی دیرینہ دشمن کے طریقہ واردات کو آپ سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ جب کہ نئے دشمن کے بارے میں آپ مکمل اندھیرے میں ہوتے ہیں۔امریکی۔ بشار الاسد کی امریکی شرائط ماننے پہ آمادہ حکومت کو۔  ایک کمزور حکومت کو۔ اپنے اور اسرائیل کے وسیع تر مفاد میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ داعش کا حیرت انگیز طریقے سے وجود میں آنا۔ تیزی سے ابھرنا ۔ پھیلنا اور پھر سکڑنا۔ عراقی باقاعدہ فوج کے ساتھ سنی کرد ” پیش مرگہ” کی داعش کے خلاف تیزی سے پیش قدمی۔ پھر اسے نظر انداز کرنے کی پالیسی اور عراقی و ایرانی  شعیہ ملیشیاء کا داعش کے خلاف میدان میں اترنا۔ داعش کا شامی حکومت کے خلاف اعلان جنگ ۔اور اسرائیل کی بجائے۔ بیک وقت سعودی عرب اردن اور دیگر کے خلاف صف بندیوں کی دھمکی ۔اور اقدامات۔ امریکہ کی طرف سے کچھ لوگوں کی تربیت اور امداد ۔جو بیک وقت شامی حکومت اور داعش کے خلاف امریکی مفادات کے لئیے میدان میں اتریں ۔ عرب ممالک کا بیک وقت بشار الاسد اور داعش کے خلاف صف بندی۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے اس خطے کی نئی تصویر بننے جارہی ہے۔ مگر یہ اجزائے ترکیبہ ابھی مکمل نہیں ۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں داعش اور شامی حکومت میں امریکہ کے خلاف کسی حد تک مفاہمت ہوسکتی ہے۔

اس پورے خطے کو میدان جنگ بنانے میں جس میں پاکستان کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں خام مال  کا زیادہ حصہ پاکستان سے لیا  جانا مقصود ہے اور اس خام مال کی تیاری راتوں رات نہیں ہوئی۔ بلکہ اسے کاشت کرنے اور پروان چڑھانے میں۔ آپکے دشمنوں نے کئی دہائیاں لگائی ہیں  قرضہ ۔ مدد۔ اور بھیک کی مد میں اربوں ڈالرز خرچ کئے ہیں۔ درجنوں سالوں سے منصوبہ بندی کی ہے۔ مسلمان ملکوں میں اپنی مرضی کے سربراہ مسلط کر کے قوموں کو بانجھ کیا ہے۔ قوموں کو بھیڑ اور منتشر ہجوم میں تبدیل کیا ہے۔ جو قومیں تاریخی اور پرانی تھیں  مثلاََجیسے ترکی وغیرہ  اور انہوں نے اپنے حکمران خود چنے۔ وہ آج قدرے مستحکم  اور بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ جن ممالک کے حکمرانوں نے امریکہ و مغرب کی منشاء کے سائے میں زندگی گزاری۔ آج ان ممالک اور قوموں کو ۔ غداری۔ فحاشی ۔آوارگی۔ نفرت۔ احساس محرومی۔ لاتعلقی۔اور بالآخر خانہ جنگی جیسے مسائل بھگتنے پڑ رہے ہیں اور بھگتنے پڑیں گے۔ امریکہ کے مسلط کردہ حکمرانوں نے اس خطے کی قوموں میں جوہر قابل پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ انھیں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کو دے  دی گئیں۔ اور یہ آپس میں دست و گریباں ہوئے ۔ایک کو تھپکی۔ دوسرے کو ڈانٹ اور تیسرے کو اشارہ ۔ کئی دہائیوں سے امریکہ کی اس خطے کے بارے خارجہ پالیسی یہی رہی ہے۔

پاکستان میں اسکندر مرزا ۔ایوب ۔ یحییٰ خان۔ ضیاء۔ مشرف کے لمبے آمرانہ دور اقتدار  میں۔ مقامی جوہر قابل  کو پروان چڑھنے اور  مقامی صنت و حرفت کے پھلنے پھولنے کو   بھاری امریکی منصوبوں سے روکا گیا۔ ملک میں اپنے وسائل سے ترقی کرنے ۔ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے اور خود انحصاری کے خواب کو۔ ایک بھوکے ننگے ملک کی تصویر میں بدل دیا گیا۔ پاکستان  کو امریکہ اور مغرب سے درآمد شدہ منصوبوں اور ماہرین کی درآمد سے رفتہ رفتہ ۔اور بالآخر محض ڈالروں کی آمدن تک محدود کر دیا گیا۔ جس میں امریکی چہیتوں کے لئیے تو آسانیاں اور فروانیاں تھیں۔ انہوں نے ان میلنز ڈالرز سے خوب جیبیں بھریں مگر بدقسمتی سے عام  عوام کے حصہ میں یہ قرضہ  اور اس کا سود چکانے کے لئیے بھاری ٹیکس آئے۔ اور  آئی ایم ایف  جیسے عالمی ساہوکار ادارے پاکستانی اناج  کی قیمت پہ اثر انداز ہونے لگے۔   پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت  پچاس سالوں سے مسلسل درد زہ بھگتتے بھگتتے ۔ پاکستان میں قسما قسمی کے تعصبات۔ لسانی ۔ صوبائی۔ علاقائی۔ مذہبی۔ مسلکی ۔ گروہی۔ سیاسی۔ اور دہشت گردی جیسے بھیانک مسائل پیدا کرتی چلی گئی اور  اپنے خوابوں کی تعبیر اور بنیادی سہولتوں  سے محروم ہوتی گئی۔

آج یہ عالم ہے کہ ہر شہری ۔ ہر فرد ۔ شاکی ہے اور کسی کا بھی گلا کاٹنے کو تیار ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال لاہور میں نصرانی برادی کے ہاتھوں دو زندہ جلائے جانے والے عام راہگیروں کی ایک مثال ہی کافی ہے۔ نتائج سے بے پرواہ ہو کر تشدد پہ آمادہ ہوجانے اور اچانک کسی انتہائی قدم پہ اترنے سے  پاکستانی عوام  کے مزاج میں مایوسی اور فرسٹریشن کی خوفناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ جو کہیں بھی محض کسی ایک واقعے سے ایک خوفناک تصادم میں بدل  سکتی ہے۔

یہ سب محض چند دنوں میں نہیں ہوا ۔ اسکے پیچھے عالمی طاقتوں کی پچاس سالوں سے زائد وہ حکمت عملی ہے۔جس میں ہمارے بے برکتے اور سیاسی شعور اور بصیرت سے عاری۔ بے بس حکمرانوں کی حماقتیں اور بے عملیاں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ جن  میں عوام مسلسل پسے ہیں اور ان کے احساس محرومی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ انکی عزت نفس کو قدم قدم پہ کچلا گیا ہے۔ عوام کی کئی نسلیں جوان ہو چکی ہیں اور انکے حصے میں پچھلی نسل کی نسبت پہلے سے زیادہ مایوسی آئی ہے۔ اور بدستور پاکستان میں عوام کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں کوئی بھی چارہ گر انھیں اپنے مقاصد کے لئیے دھوکے سے استعمال کر سکتا ہے ۔ جس سے مشرق وسطی جیسے حالات پاکستان میں بھی پیدا کئیے جاسکتے ہیں ۔ اس لئیے بھی پاکستانی کرتا دھرتاؤں کو چاہئیے کہ وہ اپنی بقا کی ہی خاطر سہی۔ اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کی کوششوں کو اپنی اولین ترجیج سمجھیں ۔ اور پاکستان پہ مسلط ۔ورثے میں ملے اس بوسیدہ انگریزی  نظام اور سوچ سے جان چھڑائیں۔ اور ایسی تبدیلیوں کا آغاذ کریں۔ جن سے عوام کی زندگی میں بہتری آئے اور عوام یہ بہتری ہوتے ہوئے محسوس کریں ۔ محض خالی خولی دعووں سے خالی پیٹ بھرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ورنہ کوئی وقت جاتا ہے۔ کہ حالات حکمرانوں کے بس سے باہر ہو جائیں گے خدا نخواستہ۔

پاکستان کے حالات کو ہم بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلئے پاکستان کے حالات کی مثال بیان کی ہے۔ پاکستان جیسے حالات مشرق وسطی کے بہت سے ممالک کے ہیں ۔مثلاََ  مصر  کو پاکستان کے نقش قدم پہ چلایا جارہا ہے۔ وہاں وہی پاکستان کی طرز کی امریکی پالیسیز ہیں اور السیسی جیسا فوجی جرنیل حکومت میں ہے۔ جبکہ  پاکستان میں بھی سیاسی حکومتیں ابھی تک لرزہ براندام ہیں۔

پاکستان کے اور مشرق وسطی کے منظر نامے کو جو لوگ محض مذہبی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے کے حالات محض اس لئیے بگاڑے گئے کہ عالمی طاقتیں مسلمانوں سے نفرت کرتی ہیں ۔  انھیں اس سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان طاقتوں کے لئیے ہمارا مذھب۔ اسلام ۔ایک اہم فیکٹر ضرور ہے۔ جس میں مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر وہ اپنے حق میں کئیش کروانا  چاتے ہیں ۔ مگر انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔کہ ان ممالک میں شیعہ بستے ہیں یا سنی ۔ مالکی یا حنبلی ۔ دیو بندی یا بریلوی۔ اہل حدیث یا اہل سنت ۔ عالمی طاقتوں کو محض اپنے اغراض و مقاصد سے دلچسپی ہے۔ جو بہت مختلف ہیں ۔ جہاں خطے کے وسائل سے استفادہ سے لیکر ایسی کسی ممکنہ سیاسی طاقت ۔۔۔۔۔خواہ وہ اسلامی ہو  یا نیم اسلامی مگر جو خطے کے مذھب اور مزاج کی وجہ سے اسلامی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔ ایسی کسی بڑی اور مستحکم سیاسی طاقت کو وقوع پزیر ہونے سے روکنا ہے ۔ جو عالمی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لئیے نقصان  دہ  ثابت ہوسکتی ہے۔ اور انکے  مفادات لئیے چیلنج بن جائے۔ یہ طاقتیں ہندو بنئیے کی سی سوچ رکھتی ہیں اور ہر صورت میں اپنے مفادات کے لئیے۔ دہائیوں پہ محیط منصوبوں پہ عمل درآمد کرتی ہیں ۔ وقتی مفادات کے تحت یہ وقتی یا غیر متوقع طور پہ پیدا ہونے والی صورتحال سے ممکن ہے وقتی طور پہ سمجھوتہ کر لیں ۔یا ۔ایسی صورتحال کو اپنے مفاد میں کئیش کروانے کی کوشش کریں ۔ مگر اپنے حتمی مفادات کو ہمیشہ مد نظر رکھتی ہیں ۔ اور وہ اس سارے خطے کی بے چینی اور خون خرابی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی  اپنی ایک کامیابی سمجھتی ہیں ۔کہ انہوں نے ہمیں دنیا کی ترقی و ترویج میں حصہ لینے سے روک رکھا  ہے ۔ خطے کے ممالک کے مسلمان عوام  کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ اور  دنیا میں مسلمان ممالک کے ایک بڑے خطے کو کئی دہائیوں سے باہم دست گریباں کر رکھا ہے۔ اور جہاں وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ بات نہیں بنی ۔ وہاں وہ براہ راست اپنی فوجیں اتار دیتے ہیں ۔ عراق اور افغانستان اس کی ایک مثال ہیں۔ اسلئے اس ساری صورتحال کو محض مذہب یعنی اسلام کے خلاف صف آرائی سے کچھ آگے۔ یعنی دنیا میں بنیاء ذہنیت اور اسکے مفادات  کی تکمیل کے تناظر میں دیکھنے کی اور سمجھنے کی ضرورت ہے تانکہ مکمل تصویر سامنے آسکے ۔

جس طرح مشرق وسطی میں کچھ سالوں قبل تک شام کو ایک بہت مستحکم ملک سمجھا جاتا تھا ۔ حکومت کی عوام پہ گرفت بہت مضبوط تھی ۔ شامی مخابرات لوگوں کے گھروں میں پکنے والے کھانوں تک کی تفضیلات کی خبر رکھتی تھی۔  مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فضاء بنی کہ آج یقین ہی نہیں آتا کہ جبر کی بنیاد پہ قائم شام۔ کل تک مشرق وسطی کا سیاسی طور پہ ایک مستحکم ملک تھا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک وہی مستحکم ہوتے ہیں اور ہر قسم کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا باآسانی مقابلہ کر لیتے ہیں ۔ جن ممالک کے عوام مضبوط اور مستحکم ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنے ملک کے اندر آزادی ۔ انصاف اور تحفظ حاصل ہو۔ جہاں مسائل کا حقیقی حل ہو۔ جہاں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پالیسیز ترتیب دی جائیں ۔ مقامی طور پہ عوام کے مسائل حل کئیے جائیں ۔روزی روٹی ۔امن عامہ اور  توانائی جیسے بحران نہ ہوں۔ عوام کو احساس تحفظ ہو۔

پاکستانی عوام کے مسائل وہی بنیادی ضرورتوں کے نہ  ہونے سے متعلق ہیں ۔ جنہیں حل کرنے کی بجائے حکمران ہمیشہ دور کی کوڑی لاتے رہیں ہیں۔ اس لئیے شتر مرغ کی طرح مسائل سے اغماض برتنے کی بجائے انہیں جنگی بنیادوں پہ تیز ترین حکمت عملی کے تحت حل کیا جاناچاہئیے۔ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلوں اور اقدامات کرنے سے سے ہی حالات بہتر کئیے جاسکتے ہیں ۔
ورنہ پاکستانی عوام میں بے بسی اور مایوسی کی انتہاء کو چھوتا جو غصہ ان کے دلوں میں پل رہا ہے وہ کبھی بھی خوفناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اگر کبھی خدا نخواستہ حالات قابو سے باہر ہوئے اور حکمران طبقے کو تو ہزیمت اٹھانی ہی  پڑے گی مگر ملک و قوم کا بہت نقصان ہوگا۔
یہ ایک معجزہ ہے کہ پاکستان میں باہمی ٹکراؤ کے سارے اجزائے ترکیبی ہونے کے باوجود۔پاکستانی قوم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔ مگر  حکمرانوں کو  بھی اس معجزہ کو قدرت کی طرف سے حالات بہتر کرنے کے لئیے ایک  مہلت سمجھنا چاہئیے۔ اور عوام کے حالات بہتر کرنے کے لئیے انتھک کوشش کرنی چاہئیے۔

جاوید گوندل   ۔

۱۸ مارچ  ۲۰۱۵۔بارسیلونا  

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

دعوتِ فکر


دعوتِ فکر۔۔۔
تبدیلی ناگزیر! مگر کیسے ؟۔۔۔

پاکستان میں ۔۔۔آج کے پاکستان میں۔ جس میں ہم زندہ ہیں۔ جہاں انگنت مسائل ہیں ۔ صرف دہشت گردی ہی اس ملک کا بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ دہشت گردی ایک آدھ دہائیوں سے ۔اِدہر کی پیداوار ہے۔ اور اس دہشت گردی کے جنم اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کو ۔پاکستان میں اپنے گھروں تک کھینچ لانے میں بھی۔ ہماری اپنی بے حکمتی ۔ نالائقی اور فن کاریاں شامل ہیں۔
دہشت گردی کے اس عفریت کو جنم دینے سے پہلے اور ابھی بھی۔ بدستور پاکستان کے عوام کا بڑا مسئلہ ۔ ناخواندگی ۔ جہالت۔غریبی۔ افلاس اور بے روزگاری اور امن عامہ جیسے مسائل ہیں۔ مناسب تعلیم ۔ روزگار اور صحت سے متعلقہ سہولتوں کا فقدان اور امن عامہ کی صورتحال۔ قدم قدم پہ سرکاری اور غیر سرکاری لٹیرے۔ جو کبھی اختیار اور کبھی اپنی کرسی کی وجہ سے ۔ اپنے عہدے کے اعتبار سے۔نہ صرف اس ملک کے مفلوک الحال عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔بلکہ اس ملک کی جڑیں بھی کھوکھلی کر رہے ہیں۔
اور پاکستان کے پہلے سے اوپر بیان کردہ مسائل کو مزید گھمبیر کرنے میں۔ پاکستان کے غریب عوام کی رگوں سے چوسے گئے ٹیکسز سے۔ اعلی مناصب۔ تنخواہیں اور مراعات پا کر۔ بجائے ان عوام کی حالت بدلنے میں۔ اپنے مناصب کے فرائض کے عین مطابق کردار ادا کرنے کی بجائے۔ اسی عوام کو مزید غریب ۔ بے بس۔ اور لاچار کرنے کے لئیے انکا مزید خون چوستے ہیں۔ اور انکے جائز کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
محض ریاست کے اندر ریاست بنا کر۔۔۔خاص اپنے اور اپنے محکموں اور سیاستدان حکمرانوں۔ انکی پارٹی کے کرتا دھرتاؤں اور چمچوں چیلوں کے مفادات کی آبیاری کرنے کے لئیے۔ اپنے عہدوں۔ اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں ۔ادارے جو عوام کے پیسے سے عوام کی بہتری کے لئیے قائم کئے گئے تھے ۔ اور جنہیں باقی دنیا میں رائج دستور کے مطابق صرف عوام کے مفادِ عامہ کے لئیے کام کرنا تھا ۔ وہ محکمے ۔ انکے عہدیداران ۔ اہلکار۔ الغرض پوری سرکاری مشینری ۔ حکمرانوں کی ذاتی مشینری بن کر رہ گئی ہے۔ اور جس وجہ سے انہوں نے شہہ پا کر ۔ ریاست کے اندر کئی قسم کی ریاستیں قائم کر رکھی ہیں ۔ اور اپنے مفادات کو ریاست کے مفادات پہ ترجیج دیتے ہیں۔ اپنے مفادات کو عوم کے مفادات پہ مقدم سمجھتے ہیں ۔
ستم ظریفی کی انتہاء تو دیکھیں اور طرف تماشہ یوں ہے۔ کہ ہر نئے حکمران نے بلند بانٹ دعوؤں اور بیانات سے اقتدار کی مسند حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اور اقتدار سے رخصتی کے وقت پاکستان کو ۔ پاکستان کے غریب عوام کو پہلے سے زیادہ مسائل کا تحفہ دیا۔
پاکستان کے حکمرانوں۔ وزیروں۔ مشیروں کے بیانات کا انداز یہ ہے ۔کہ صرف اس مثال سے اندازہ لگا لیں ۔کہ پاکستان کاکاروبار مملکت کس انوکھے طریقے سے چلایاجا رہا ہے ۔ پاکستان میں پٹرول کی قلت کا بحران آیا ۔ انہیں مافیاؤں نے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ مافیا نے پٹرول کی قلت کے خود ساختہ بحران میں جہاں عوام اور اور ملک کا پہیہ چلانے والے ٹرانسپورٹرز سڑکوں اور پٹرول پمپس پہ خوار ہورہے تھے ۔ جن میں ایمولینسز ۔ مریض ۔ اسپتالوں کا عملہ ۔ خواتین۔ اسکول جانے والےبچے بھی شامل تھے۔ یعنی ہر قسم کے طبقے کو پٹرول نہیں مل رہا تھا ۔ ڈیزل کی قلت تھی ۔ مگر وہیں حکومت کی ناک کے عین نیچے۔ ریاست کے اندر قائم ریاست کی مافیا۔ اربوں روپے ان دو ہفتوں میں کمانے میں کامیاب رہی ۔اور آج تک کوئی انکوائری۔کوئی کاروائی ان کے خلاف نہیں ہوئی اور کبھی پریس یا میڈیا میں انکے خلاف کوئی بیان نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی عمل میں لائی گئ؟۔ اور اس پٹرول قلت۔ کے براہ راست ذمہ دار ۔وزیر پٹرولیم خاقان عباسی۔ کا یہ بیان عام ہوا کہ "اس پٹرول ڈیزل بحران میں۔ میں یا میری وزارت پٹرولیم کا کوئی قصور نہیں”۔ یعنی وزیر موصوف نے سرے سے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ اس سے جہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ وزیر موصوف کے نزدیک ان کا عہدہ ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔ اور وہ کسی بھی مہذب ریاست کے وزیر کی طرح استعفی دینا تو کٌجا۔ وہ ریاست کو جام کر دینے میں اپنی کوئی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کرتے۔
اس سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے جو انتہائی افسوسناک اور خوفناک حقیقت ہے کہ وزارت پٹرولیم محض ایک وزارت ہے جس کے وزیر کا عہدہ محض نمائشی ہے اور اصل معاملات کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جس سے حکومت کی منظور نظر مافیاز کو یہ طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ کہ کب کس قسم کی قلت پیدا ہونے میں کس طرح کے حالات میں کب اور عوام کا خون چوس لینا ہے۔
ہمارا مطمع نظر اور اس تحریر کا مقصد محض موجودہ حکمرانوں پہ تنقید کرنا نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ موجودہ حکمرانوں کے پیشرو ۔زرداری۔ مشرف۔ شریف و بے نظیر دونوں کے دونوں ادوار ۔ اور اس سے بیشتر جب سے پاکستان پہ بودے لوگوں کا قبضہ ہوا ہے۔ سب کے طریقہ واردات پہ بات کرنا ہے۔ آج تک اسی کا تسلسل ہے کہ صورتیں بدل بدل کر عوام کو غریب سے غریب تر کرتا آیا ہے اور اپنی جیبیں بھرتا آیا ہے۔
مگر پچھلی چار یا پانچ دہایوں سے اس خون چوسنے کے عمل میں جدت آئی ہے اور حکمرانوں نے اپنے مفادات کے آبیاری کے لئیے کاروبار مملکت چلانے والے ادارے ۔اپنے ذاتی ادارے کے طور پہ اپنے استعمال میں لائے ہیں ۔ جس سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مسائل دن بدن بگڑتے گئے ہیں۔ اور آج یہ عالم ہے۔ کہ پاکستان نام آتے ہی ذہن میں ایک سو ایک مسائل تصور میں آتے ہیں ۔ جہاں پاکستان کی اکثریت آبادی جو غریب ہے۔ جس کے لئیے کوئی سہولت کوئی پناہ نہیں ۔ اور جو سفید پوشی کا بھرم لئیے ہوئے ہیں وہ بھی جان لڑا کر اپنا وقت دن کو رات اور رات کو دن کرتے ہیں۔ اور بڑی مشکل سے مہینہ آگے کرتے ہیں۔ ۔
جبکہ پاکستان جیسے غریب ملک کے مختلف اداروں کے سربراہان۔ دنیا کی کئی ایک ریاستوں کے سربراہان سے زیادہ امیر ہیں۔ اور بے انتہاء وسائل کے مالک ہیں ۔ انکے اہلکار جو سرکاری تنخواہ تو چند ہزار پاتے ہیں مگر ان کا رہن سہن اور جائدادیں انکی آمد سے کسی طور بھی میل نہیں کھاتیں اور حیرت اس بات پہ ہونی چاہئی تھی کہ وہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس وجہ سے ہے۔ کہ حکمران خود بھی انہی طور طریقوں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں جس طرح ان سے پیش رؤ چلاتے آئے ہیں۔ یعنی اپنے مالی۔ سیاسی اور گروہی مفاد کو ریاست کے مفاد پہ ترجیج دی جاتی ہے۔اور ریاست کی مشینری کے کل پرزے تو کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے وفادار نہیں تھے ۔ انہیں سونے پہ سہاگہ یہ معاملہ نہائت موافق آیا ہے۔
ریاست کی مشینری کے کل پرزے۔عوام کا کوئی مسئلہ یا کام بغیر معاوضہ یا نذرانہ کے کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی قیمت بھر سکتا ہو۔ تو منہ بولا نذرانہ دے کر براہ براہ راست عوام یا ریاست کے مفادات کے خلاف بھی جو چاہے کرتا پھرے ۔ اسے کھلی چھٹی ہے۔
ایک شریف آدمی بھرے بازار میں لٹ جانے کو تھانے کچہری جانے پہ ترجیج دیتا ہے۔ آخر کیوں؟ جب کہ ساری دنیا میں انصاف کے لئیے لوگ عام طور پہ تھانے کچہری سے رجوع کرتے ہیں اور انھیں اطمینان کی حد تک انصاف ملتا ہے۔ تو آخر پاکستان میں عام عوام کیوں یوں نہیں کرتے؟ یہ پاکستان میں عوام کی روز مرہ کی تکلیف دہ صورتحال کی صرف ایک ادنی سی حقیقت ہے۔ جو دیگر بہت سی عام حقیقتوں اور حقائق کا پتہ دیتی ہے۔اور ادراک کرتی ہے
پاکستان کے حقائق کسی کی نظر سے اوجھل نہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف پاکستان میں نا انصافی اور عدم مساوات سے سے دو قدم آگے۔ ظلم۔ استحصال اور غاصابانہ طور پہ حقوق سلب کرنے کے مظاہر و مناظر عام نظر آتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے ایک عام رواج یا چلن سمجھ لیا گیا ہے۔اور اس میں وہ لوگ ۔ ادارے اور حکمران۔ سیاستدان۔ اپوزیشن۔ عام اہلکار الغرض ساری حکومتی مشینری شامل ہے۔ حکمرانوں کا کوئی بڑے سے بڑا شاہ پرست اور درباری۔ یہ قسم نہیں دے سکتا کہ پاکستان کا کرپشن سے پاک کوئی ایک تھانہ ہی ایسا ہو کہ جس کی مثال دی جاسکتی ہو ۔ یا کوئی ادارہ جہاں رشوت۔ سفارش ۔ اور رسوخ کی بنیاد پہ حق داروں کے حق کو غصب نہ کیا جاتا ہو؟۔
ایک بوسیدہ نظام جو پاکستان کی۔ پاکستان میں بسنے والے مظلوم اور مجبور عوام کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے ۔ ایسا نظام اور اس نظام کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمران و سیاستدان ۔۔ اسٹیٹس کو ۔کے تحت اپنی اپنی باری کا انتظار کرنے والے۔ قانون ساز اسمبلیوں مقننہ کے رکن اور قانون کی دھجیاں اڑا دینے والے۔ اپنے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئیے کسی بھی حد تک اور ہر حد سے گزر جانے والی ریاست کے اندر ریاست کے طور کام کرنے والی جابر اور ظالم مافیاز۔ بیکس عوام کے مالک و مختارِکُل۔ ادارے۔
کیا ایسا نظام ۔ ایسا طریقہ کار۔ کاروبار مملکت کو چلانے کا یہ انداز ۔ پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے؟ کیا ایسا نظام اور اسکے پروردہ بے لگام اور بدعنوان ادارے اور انکے عہدیدار و اہل کاران پاکستان اور پاکستان کے عوام کو انکا جائز مقام اور ان کے جائزحقوق دلوا سکتے ہیں؟۔
اتنی سی بات سمجھنے کے لئیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اگر منزل مغرب میں ہو۔ تو کیا مشرق کا سفر کرنے سے منزل نزدیک آتی ہے یا دور ہوتی ہے؟
پاکستان اپنی منزل سے دور ہو رہا ہے۔ اور اس میں کسی بیرونی دشمن کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر مندرجہ بالا اندرونی دشمنوں کا ہاتھ ضرور ہے ۔اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کو یہ دن دکھانے میں اور ہر آنے والے دن کو نا امیدی اور مایوسی میں بدلنے میں۔ انہی لوگوں کا۔کم از کم پچانوے فیصد کردار شامل ہے۔
جو حکمران یا پاکستان کے کرتا دھرتا ۔اسی بوسیدہ نظام اور اداروں کے ہوتے ہوئے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کاےبیانات اور اعلانات کرتے ہیں۔ یقین مانیں۔ وہ حکمران۔۔۔ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں ۔
تبدیلی صرف اعلانات اور بیانات سے نہیں آتی ۔ یہ اعلانات و بیانات تو پاکستان میں مزید وقت حاصل کرنے اور عوام کو دہوکہ میں رکھنے کے پرانے حربے ہیں۔ کہ کسی طرح حکمرانوں کو اپنا دور اقتدار مکمل کرنے کی مہلت مل جائے ۔ چھوٹ مل جائے ۔ اور انکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے۔ اور وہ ادارے جنہوں نے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنا تھا۔ اور ریاست اور عوام کے مفادات کا نگران بننا تھا۔ وہ بے ایمانی۔ اور بد عنوانی میں انکے حلیف بن چکے ہیں۔ اور یہ کھیل پاکستان میں پچھلے ساٹھ سالوں سے زائد عرصے سے ہر بار مزید شدت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ۔ اور نتیجتاً عوام مفلوک الحال اور ایک بوسیدہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ جس میں محض بنیادی ضرورتوں کو بہ احسن پورا کرنے کے لئیے ان کے حصے میں مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ جائز خواہشیں۔ حسرتوں اور مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔
جس طرح ہم پاکستان میں ان تلخ حقیقتوں کا نظارہ روز کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان حالات کو بدلنے کے ذمہ دار ہیں ۔اور اس بات کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اور یوں کرنا انکے مناصب کا بھی تقاضہ ہے ۔ اور وہ حالات بدلنے پہ قادر ہیں ۔ مگر وہ اپنے آپ کو بادشاہ اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔ اور نظام اور اداروں کو ان خامیوں سے پاک کرنے کی جرائت۔ صلاحیت و اہلیت ۔ یا نیت نہیں پاتے۔
تو سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کے عوام کے نصیب میں عزت نام کی ۔ حقوق پورے ہونے نام کی کوئی شئے نہیں؟ اور اگر یہ پاکستان اور اسکے عوام کے نصیب میں ہے کہ انھیں بھی عزت سے جینے اور انکے حقوق پورے ہونے کا سلسلہ ہونا چاہئیے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے ان دشمنوں کے لئیے۔ جن کی دہشت گردی سے پوری قوم بھکاری بن چکی ہے۔ اور ہر وہ بدعنوان شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ جس نے پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مفادات خلاف اپنے مفادات کو ترجیج دی۔ ان کے لئیے کب پھانسی گھاٹ تیار ہونگے؟۔ انہیں کب فرعونیت اور رعونت کی مسندوں سے اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے گا؟۔ اور انہیں کب ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا؟ ۔ کہ مخلوق خدا پہ سے عذاب ٹلے؟
اس کے سوا عزت اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پھر بجٹ۔


پھر بجٹ۔

Budget (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)
دور روز قبل پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے پاکستان کا سالانہ (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)بجٹ پیش کیا ہے ۔
یہاں حالیہ پیش کردہ بجٹ کے گورکھ دہندے پہ بحث کرنا مقصود نہیں ۔ کیونکہ یہ لچھے دار اور گنجلک بجٹ ہمیشہ سے عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر رہے ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ انہیں بابو لوگ پاکستان کے دیگر سرکاری نظام کی طرح جان بوجھ کر بھی کچھ اسطرح پیچیدہ اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز بنا دیتے ہیں تانکہ عام عوام حسبِ معمول ہمیشہ کی طرح محض سر ہلا کر ”قبول ہے“ کہنے میں ہی عافیت سمجھے ۔
بجٹ کی ایک سادہ تعریف تو یہ ہے کہ کسی بھی ذاتی یا مشترکہ نظام کو چلانے کے لئیے اس نظام پہ اٹھنے والے اخراجات اور اسکی ترجیجات کے لئیے کسی ایک خاص مدت کے لئیے دستیاب میسر وسائل کی منصوبہ بندی کرناہے۔ اسے عام طور پہ بجٹ کہا جاتا ہے ۔ بجٹ ذاتی یا گھریلو بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ جاتی یا ملکی بھی ہوتا ہے ۔ گھریلو ہو تو عام طور پہ اسے ماہانہ بنیادوں پہ سوچا جاتا ہے اور اگر ادارہ جاتی اور ملکی ہو تو اسے سالانہ بنیادوں پہ بنایا جاتا ہے ۔ جسے ملک و قوم کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پہ تیار کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پہ تقریبا سارے دنیا کے ممالک کسی نہ کسی طور سالانہ بجٹ کے تحت اپنے معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس میں مختلف مقاصد کے لئیے مخصوص رقم مقرر کی جاتی ہے اور رقم اور وسائل کی دستیابی کے لئیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔قومی ترقی۔ دفاع ۔ صحت ۔ تعلیم اور دیگر اہداف مقرر کئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں بجٹ کے آغاز سے بجٹ کے مالی سال کے اختتام تک بندر بانٹ ۔ وقتی ضرورت ۔ بد دیانتی اور دیگر کئی قسم کے جوازوں کے تحت قومی خزانے کے صندوق کا ڈھکن اٹھا دیا جاتا ہے اور بڑھے ہوئے ہاتھ ۔ قوم کی امانت رقم کو قومی ضروت سے کہیں زیادہ اپنی ذاتی اغراض کے لئیے اپنی طرف منتقل کر لیتے ہیں اور منتقلی کا یہ عمل ایسی سائنسی طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ کہ قومی خزانے کو بے دردی سے لُوٹنے والے چور بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر ”چور“ چور“ کا شور مچاتے ہیں ۔اور مجال ہے کہ چشم دید گواہوں اور شہادتوں کے باوجود ایسی طریقہ واردات پہ کسی کو سزا دی گئی ہو۔ اور پاکستان کے نصیب میں ہمیشہ سے یوں ہی رہا ہے ۔
قوم کی امانت ۔ قومی خزانے کو خُرد بُرد ہر اور ہیرا پھیری سے اپنی جیب میں بھر لینا ۔شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں کم وسائل اور عالمی مہاجنوں کے مہنگے قرضوں۔ امداد و خیرات سے تصور کئیے گے وسائل سے (خسارے کا بجٹ) خسارے کے بجٹ پہ حکومتوں اور اداروں کے سربراہوں ، مشیروں وزیروں کے شاہی اخراجات اور ایک عام چپڑاسی سے لیکر عام اہلکاروں اور اعلٰی عہدیداروں کے حصے بقدر جثے اور دیگر اللوں تللوں سے یہ تصور محض تصور ہی رہتا ہے کہ کہ پاکستان سے غربت اور ناخواندگی ختم ہو اور قومی ترقی کی شرح میں قابل قدر اضافہ ہو۔اور مالی سال کے آخر میں وہی نتیجہ سامنے آتا ہے جو پاکستان میں پچھلی چھ دہائیوں سے متواتر آرہا ہے کہ نہ صرف غریب ۔ غریب سے غریب تر ہوتا گیا بلکہ ہر سال غریبوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ عالمی اداروں کی حالیہ حد بندیوں میں پاکستان کئی درجے نیچے کو لڑھک رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی Low povertyگزارنے والی آبادی نصف سے زائد ہے ۔ خود اسحق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غریبی کی آخری حد سے نیچے ۔ یعنی دو ڈالر یومیہ آمدن سے کم کماتی ہے۔ یعنی ایسے غریب جو مستقبل کے بارے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے محض اس لئیے قاصر ہیں کہ وہ اپنے یومیہ بنیادی اخراجات پورے کرنے کی جستجو میں محض زندہ رہنے کا جتن کر پاتے ہیں۔ایسے حالات میں ایک لگے بندھے بجٹ کے طریقہ کار سے حکومت اور ذمہ دار اداروں کا اپنے آپ کوقومی ذمہ داریوں سے سبک دوش سمجھ لینا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کی انتہائی غریب آبادی کی غربت اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بجٹ اجلاسوں پہ اعدو شمار پیش کئیے جاتے ہیں ۔ اور ان پہ کئی کئی دن لگاتار یوانوں میں اجلاس ہوتے ہیں ۔ جہاں حکوت بجٹ کے حق میں دلائل دیتی ہے وہیں حب اختلاف اور دیگر جماعتیں بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ حزب اختلاف کئی ایک تجاویز دیتی ہے ۔ حزب اختلاف اور حکومت سے باہر سیاسی جماعتیں حکومت کے متوازی۔ اپنے طور پہ بجٹ کے لئیے باقاعدہ تیاری کرتی ہیں ۔اور متبادل تجاویز کو کئی بار حکومت تسلیم کر لیتی ہے۔ اور ایک بار بجٹ طے پا جانے پہ اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئیے حکومت تہہ دل سےمقر ر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لئیے مطلوب وسائل مہیاء کرتی ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اور اور قومی اسمبلی کے معزز اراکین کا یہ عالم ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق قومی خزانے سے کرڑوں روپے خرچ کر کے قومی اسملی کے ارکان کے لئیے بجٹ کی دستاویز چھپوائی گئی ۔ جسے ستر فیصد سے زائد قومی اسمبلی کے معزز ارکان بغیر کھولے ہی قومی اسمبلی ہال کے ہال میں اپنی سیٹوں پہ چھوڑ گئے ۔ اس میں حکومتی ارکان بھی شامل ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار کی تقریر کے دوران بھی قومی اسمبلی کی اکثریت ۔ بیزار ۔ بور اور آپس میں بات چیت کرتی نظر آئی ۔ ہماری رائے میں پاکستان سے متعلق اتنے اہم مسئلے پہ عدم دلچسپی کے اس مظاہرے کی وجہ اراکین اسمبلی کو بھی پاکستان کی سابقہ بجٹوں کی طرح اس بجٹ پہ بے یقینی اور بجٹ پیش کرنے کی کاروائی محض ایک رسم اور ایک قومی تقاضا پورا کرنے کے مترادف لینا ہے اور دوسری بڑی وجہ معزز اراکین کی بڑی تعداد کی تعلیمی استعداد اور سوجھ بوجھ کی کمی ہوسکتی ہے ۔ تو ایسے حالات میں پاکستان جیسے غریب سے غریب تر ہوتے معاشرے کے لئیے ایک قابل عمل اور نتیجہ خیز بجٹ کے لئیے مفید اصلاحات کون پیش کرےگا؟، حکومت کے بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کون کرے گا؟۔اسحق ڈار کے لبوں پہ ایک فاتح کی سی معنی خیز مسکراہٹ بھی اس امر کی غمازی کر رہی تھی ۔کہ کوئی تنقید نہیں کرے گا۔ اور بجٹ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا۔ تو ایسے حالات میں پاکستانی عوام کس کا پلُو تھام کر اسطرح کے بجٹوں پہ فریاد کریں ؟۔
آجکل پاکستان میں ٹیکس گزاروں کا نیٹ ورک بڑہانے کے لئیے بہٹ شور مچا ہوا ہے ۔ بہت سے ترقی یافتہ اور ٹیکس سے چلنے والے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اور پاکستان میں ٹیکس گزاروں کی ٹیکس چور ی کو تنقید کا نشانہ بنانا عام ہے ۔ لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ اُن ممالک میں حکومتی ادارے کس طرح عوام کے ٹیکسوں سے ملکی آمدن کو سوچ سمجھ کر انتہائی ذمہ داری اور دیانتداری سے ایک مکمل منصوبہ بندی سے استعمال میں لاتےہیں جس کے نتیجے میں عام آدمی کو ہر قسم کی بنیادی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور عوام کی فلاح بہبود اور ترقی پہ ٹیکسوں کو خرچ کیا جاتا ہے ۔ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور انہیں نہ صرف کریمنل یعنی سنگین مجرم بلکہ اخلاقی مجرم بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے نام سے عام آدمی گھن کھاتا ہے اور انکا ذکر انتہائی ناگواری سے کرتا ہے ۔ اور بہت سے ممالک میں ایسے حکومتی عہدیدار اور سیاستدان اسطرح کے اسکینڈل منظر عام پہ آنے سے اپنے عہدوں سے استعفی دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اپنے مقدموں کا سامنا کرتے ہیں ۔ اور بہت سے بدنامی کے ڈر اور لوگوں کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لیتے ہیں ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں ؟۔۔۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ کلچر عام ہے اور اسے ستائشی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ کہ جو جتنا بڑا چور ہوگا اسکے حفظ و مراتب بھی اسی حساب سے زیاد ہ ہونگے ۔ وی وی آئی پی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ کسی وجہ سے اپنا عہدے سے سبک دوش ہوجائیں تو بھی انہیں ہر جگہ ۔ہر ادارے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ایسے ماحول اور معاشرے میں تو ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی طرح روپیہ کما کر جلد از جلد اہمیت پانا چاہے گا۔ خواہ اس کمائی کے حلال اور حرام ہونے پہ سو ال اٹھیں۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جن کی وجہ سے ملک کی آج یہ حالت ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کی محض روز مرہ مسائل کی وجہ سے خودکشیوں میں شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ۔ انہیں ۔ ایسے لوگوں کو حقیر جانا جاتا ۔انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ۔ اور نیک ۔ دیانتدار اور ٹیکس گزار وں کو قابل احترام سمجھا جاتا ۔ انکی حوصلہ افازئی کی جاتی تانکہ محنت سے آگے بڑھنے کا کلچر فروغ پاتا۔ عام آدمی بجائے شارٹ کٹ ڈہونڈنے کے محنت پہ یقین رکھتا۔مگر نہیں صاحب ۔ قومی چوروں کو حرام کے ۔ لُوٹ کھسوٹ اور قومی خزانے کو نقصان دے کر بنائی گئ جائیدادوں اور پیسے کی وجہ سے ہر جگہ سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔ اور جو لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں انتہائی حقارت سے دھتکار دیا جاتا ہے ۔ تو سوال یہ بنتا ہے کہ پھر آپ کس طرح اپنے ٹیکس گزاروں کے نیٹ ورک میں اضافہ کرنا چاہئیں گے ۔ اور ٹیکس نہ دینے والوں کا رونا رونے کے ساتھ اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے بھرپور کلچر کو بھی تبدیل کی جئیے ۔
وہ قومیں جو ہماری طرح شدید غربت سے دوچار نہیں وہ بھی اپنی قومی آمدنی بڑھانے کے لئیے کئی ایک حربے آزماتی اور نت نئے جتن کرتی ہیں ۔ جبکہ ہمارے ملک کے بادشاہ لوگوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایک سرمایہ کاری کا ایک مناسب اور اہم ذریعہ پاکستانی امیگرنٹس کی شکل میں بھی موجود ہے جنہیں مناسب ترغیب، اور منصوبہ بندی سے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی طرف راغب کرنا چندا مشکل نہ تھا کہ وہ قومی یا کاروباری اسکیموں میں پیسہ لگاتے اور کارپوریشنز کی طرز پہ انکے سرمایے اور منافع کی دیانتدارانہ نگرانی کی جاتی ۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ۔ روٹی ۔ روزی ۔ روزگار کی وجہ سے یا ملازمت اور کاروبار کی وجہ سے پاکستان سے باہر مقیم افراد کو جسطرح بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح پاکستانی ائر پورٹو ں پہ ان سے سلوک کیا جاتا ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر سمیت ہر قسم کے محکماتی کاؤنٹر پہ انکے ساتھ افسر مجاز انہیں کسی جیل سے بھاگے ہوئے قیدی کی طرح سوال جواب اور سلوک کرتا ہے۔ کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ کہاں تو دیگر ممالک کے ائر پورٹس کاونٹر ز پہ مثالی انسانی سلوک کہ غیر قانونی دستاویزات پہ سفر کرنے والے مجبور پاکستانیوں کا جُرم پخرے جانے پہ بھی ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ اپنے ملک پاکستان سے آتے یا جاتے ہوئے ائر پورٹوں پہ اتنا انتہائی ذلت آمیز رویہ۔ کہ دماغ بھنا اٹھے۔ اور پاکستان کے اداروں کا یہ سلوک ان لوگوں سے۔ جو کئی دہائیوں سے مسلسل اپنے خُون پسینے کی کمائی سے۔ ریاستِ پاکستان کی زر مبادلہ کی کمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ۔پاکستان میں مقیم کروڑوں افراد کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے ۔ تو آپ کیسے ان سے یہ توقع اور امید رکھیں گے کہ پاکستان میں ہر قسم کی عدم سہولتوں اور امن عامہ کی عدم موجودگی کے باوجود اور اسقدر انتہائی اہانت آمیز سلوک کے باوجود وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے؟ یہ ایک ننھی سی مثال ہے ۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے بعض اوقات ہم قومی مفادات کو بھی پس پیش ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اپنے پاس موجود وسائل کو ملکی رو میں شامل کرنے کی بجائے اسے ملکی نظام سے بدظن کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے عد توجہ اور لاپرواہی پاکستان میں گھسٹتے نظام کی ایک ادنی سی مثال ہے کہ کس طرح ہم اپنے دستیاب وسائل کو کس بے درردی سے ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے دیگر طبقوں کی مثالیں دی جاسکتیں ہے۔
ایک عام سا فطری اور مالیاتی اصول ہے کہ جس چیز کی ضرورت جتنی اشد ہو گی اسکے حصول کی لئیے کوشش بھی اسی طرح زیادہ کی جائے گی ۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا حصول اور انہیں مناسب طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔جبکہ پاکستان میں کتنے صدق دل سے اس اصول کے خلاف کوشش کی جاتی ہے ۔ پاکستان کے کسی بھی ائر پورٹ یا پورٹ کو استعمال کر کے دیکھ لیں ۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی قابل کسٹم ڈیوٹی اشیاء ۔ خواہ وہ ذاتی ہوں یا کاروباری ۔ یا تحائف ۔ پاکستانی کسٹم کا مستعد عملہ بڑی جانفشانی سے آپکے سامان کی تلاشی لے گا ۔ اور نتیجے میں اس سے برآمد ہونے والی اشیاء کے بارے نہائت تندہی اور خونخوار لہجے میں اس پہ کسٹم ڈیوٹی کی رقم بتائے گا ۔اور ایک سانس فر فر سبھی قانون قائدے بیان کردے گا۔اور محصول کی رقم اسقدر بڑھا چڑھا کر بتائے گا کہ پاکستان پہنچنے والے پریشان حال اور تھکن کے مارے۔ لاعلم۔ مسافر کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔پریشانی بھانپتے ہی ایک آدھ اہلکار نہائت ہمدردی سے سر گوشی کے انداز میں استفسار کرے گا صاحب سے ککہ کر کچھ کم کروا دوں؟ اور دیکھتے۔ دیکھتے سر عام بولی لگے گی ۔ مُک مکا ہوگا۔ اور وہ رقم جسے قومی خزانے میں جانا چاہےتھا ۔ جس خزانے سے کار سرکار پہیہ چلتا ہے ۔ وہ رقم ۔ قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات پانے والے ہر قسم کے حفظ و مراتب وصولنے والوں کی جیب میں چلی جائے گی ۔ گویا حکومت نے قومی خزانے سے تنخواہ اور وردی دے کر لٹیروں کو قومی وسائل کو خرد برد کرنے کے لئیے بھرتی کر رکھا ہے ۔کچھ یہی عالم پولیس اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے سبھی چھوٹے ،بڑے ۔ اہم اور غیر اہم سرکاری اداروں کا ہے ۔ محکمہ کسٹم تو محض پاکستان میں کرپشن کے گلشیئر کا نکتہ آغاز ہے ۔کبھی سوچئیے کہ اگر صرف محکمہ پولیس کا ٹریفک ڈپارٹمنٹ جرمانوں کی وہ رقم جو قومی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے پولیس اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے ۔ یہ رقم اگر قومی خزانے میں جمع ہو تو پولیس کی ماہ بھر کی تنخواہ ان سے آسانی سے دی جاسکتی ہے۔ اور نتیجتا قانون کی حکمرانی کا شعور اور رواج بھی ملک میں پھیلے گا ۔ اگر کوئی یہ کہے پاکستان کے اداروں یا کسٹم کے ادارے میں اور ائر پورٹس وغیرہ پہ مکا مکا کی بولی سر عام اور سب کے سامنے نہیں ہوتی تو ایسی حکومت اور ذمہ داروں کو اپنی بے خبری پہ ماتم کرنا چاہئیے ا لاہور ۔ اسلام آباد ۔ کراچی ہر ائر پورٹ پہ بڑے دھڑلے سے اور سر عام ہوتا ہے تو حکومت اور بدقماشی ۔ رشوت اور کرپشن روکنے والے حکومتی اداروں کو اسکی خبر نہیں ؟ ایسے بدقماش اہلکاروں کو سزا دینا۔ دلوانا اور نوکریوں سے فارغ کرنا حکومت کے دیگر فرائض میں سے ایک فرض ہوتا ہے ۔۔ پاکستان میں زکواۃ کے دنوں پاکستانی اپنی رقم بنکوں سے محض اسلئیے نکال لیتے ہیں کہ انہیں حکومت کی زکواۃ کٹوتی پہ بھی شکوک ہیں اور وہ اپنی زکواۃ خود اپنی تسلی سے دیتے ہیں ۔ حکومتی زکواۃ کمیٹیوں پہ یقین نہیں کرتے ۔ حاصل بحث اگرحکومت خود سے کچھ کرنے سے قاصر ہو اورقومی خزانے کو تیل دینے والے عام معلوم اداروں اور عہدیداروں کو کرپشن سے باز نہ رکھ سکے تو ایسے ماحول میں آپ کا ٹیکس گذار کس خوشی میں آپ کو ٹیکس دینے کو تیار ہوگا؟
پاکستان کے اقتصادی و معاشی اور معاشرتی حالات ۔ اندھے بجٹ کے ذریعئے نہیں سدھریں گے۔ اعدادہ شمار کا یہ گورکھ دھندا اگر اتنا ہی مفید ہوتا تو ہر سال غربت میں کمی ہوتی اور ملک و قوم ترقی کرتے جب کہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ ملک میں غربت اور مہنگائی کا عفریت کب کا منہ کھولے عوام کی امیدو اور خواہشوں کو ہڑپ کرچکا ہے اور کئی سالوں سے پاکستان کے غریب عوام مفلسی اور مفلوک الحالی میں محض زندہ رہنے کا جتن کرتے ہیں۔عام پاکستانی شہری کو پاکستان کے سال در سال پیش کئیے جانے والے بجٹوں سے کوئی امید اور توقع نہیں رہی۔ اور پاکستان میں ایک عام خیال جر پکڑ چکا ہے کہ ہر سال بجٹ کے ساتھ اور فورا بعد میں مہنگائی کی ایک تازہ لہر آئے گی جو شدت میں پچلی مہنگائی سے زیادہ ہوگی ۔ اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے عام آدمی کے یوں سوچنا سمجھ میں آتا ہے۔
اگر ملک کی حالت اور قوم کی تقدیر بدلنا ہے تو ۔ بڑے منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ مگر ایک حقیقی تبدیلی اورقومی اقتصادی ترقی کے لئیے ۔ اسکے ساتھ ساتھ گلی محلے سے لیکر گاؤں۔ گوٹھ۔ بستیوں اور شہروں کے لیول کی چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندیاں کرنی پڑیگی ۔ ان منصوبوں کے لئیے وسائل ۔ سرمایہ ۔ اور دیانت دارانہ نگرانی ، اہداف کی تکمیل تک حکومت کو سرپرستی کرنا ہو گی ۔ گلی محلے سے لیکر ملکی اور قومی سطح پہ کی جانے والی منصوبہ بندی لوگوں کی مقامی ضروریات کے مطابق ۔ پاکستانی ۔ محنت کش ۔ اور ہنر مندوں کی صلاحیتوں پہ اعتماد کرتے ہوئے ۔ انکی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے کی جائے ۔ انہیں چھوٹے چھوٹے پیداواری اہداف دئیے جائیں۔ حکومتی ادارے اپنی تحقیق سے ایسے اہداف کی نشاندہی کریں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تحقیقی شعبوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اور مطلوبہ پیداوار کی عام منڈیوں میں کھپت ۔حکومت کے فعال اور دیانتدار ادارے کریں ۔ پاکستان با صلاحیت افرادی قوت سے مالامال ہے ، اسکی عمدہ مثالیں فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹریز ۔ گوجرنوالہ میں پنکھے ۔ اور واشنگ مشینیں ۔ اسٹیل کے برتن ۔ گجرات میں پنکھے ۔ فرنیچر ۔ برتن ۔ سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان ۔ لیدر جیکٹس ۔ جراہی کا سامان اور پاکستان میں کئی اور شہروں میں مختلف قسم کا سامان تیار کرنے والوں سے جڑے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور نتیجے میں وہ پیداوار ہے۔ جس سے پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے اور ان شہروں کی عام آبادی مناسب روزگار ہونے کی وجہ سے عام علاقوں کی نسبت خوشحال بھی ہے ۔ ان شہروں میں بہت سی مصنوعات کے چھوٹے چھوٹے جُز پرزے گھروں میں تیار کئیے جاتے ہیں۔ اگر اس جوہر قابل کی مناسب تربیت کر کے اسے قومی پیدوار میں شامل کیا جائے تو قوم کو بہتر نتائج ملیں گے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سی قوموں نے ننھی سطح سے سے مائیکرو منصوبہ بندی کرتے ہوئے نہ صرف پیدواری عمل بڑہایا ہے اور آج صف اول کی قوموں صف میں کھڑی ہیں ۔ بلکہ انہوں نے اسطرح اپنے شہریوں کو روزگار مہیاء کرنے کی وجہ سے ان کا معیار زندگی بھی بلند کیا ہے ۔ جبکہ پاکستان صلاحیتوں سے بھرپور اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے ۔
جب تک قومی وسائل کو بے دردی سے لُوٹنے والوں اور بودی اہلیت کے مالک منصوبہ و پالیسی سازوں سے چھٹکارہ نہیں پاتے ۔چور دورازوں کو بند نہیں کرتے ۔ پاکستان کو دستیاب وسائل کی قدر نہیں کرتے ۔ اور بھرپور طریقے سے انہیں استعمال میں نہیں لاتے ۔ بنیادی تبدیلی کے لئیے مناسب اور مائکرو منصوبہ بندی نہیں کرتے ۔ افرادی قوت کی مناسب رہنمائی اور تربیت نہیں کرتے تب تک معاشریہ ان چھوٹی بنیادوں۔ اور اکائیوں سے اوپر نہیں اٹھے گا اور تب تک ایک باعزت قوم بننے اور اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کا خوآب ادہورا رہے گا ۔ ہم خواہ کس قدر قابل عمل بجٹ بناتے رہیں نتائج وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہیں گے اور قومی ترقی کا خوآب محض خوآب ہی رہے گا۔ سال گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ جون 2015 ء میں ایک بار پھر وہی تقریر اور لفظوں کا ہیر پھر محض ایک خانہ پری ہوگی۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔



جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔

جاوید چوہدری صاحب!۔آپ اپنی دانست میں ۔پاکستانی میڈیا کا بھرپور دفاع کررہے تھے۔ اور جب مختلف ذرائع سے آپ کے کالم کی سابقہ تین اقساط پہ ۔اعتراضات و حقائق سامنے آنے شروع ہوئے ۔تو آپ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہوئے۔ کالم کی چوتھی اور آخری قسط میں ۔اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے آخر کار یہ تسلیم کر لیا۔کہ آپکا بیان کردہ مثالی میڈیا دودھؤوں نہایا ہوا نہیں۔ میڈیا خامیوں سے پاک نہیں ۔ میڈیا میں نالائق لوگ موجود ہیں۔آپ لوگ شرفاء و غیر شرفاء دونوں کو یکساں طور پہ بلیک میل بھی کرتے ہیں۔نیز آپ لوگوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔


بہتر ہوتا آپ کسی ایک آدھ کالی بھیڑ کی نشاندہی کرتے۔ آپ نے پاکستان کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تو نام لیکر۔ ان کے مناصب کا ذکر کر کے۔ ان کی مبینہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ جب کہ آپ کتنی سمجھداری (یا عقل کی عیاری) سے اپنی برادری کے کسی ایک فرد کو بے نقاب نہیں کر سکے؟ اور ایسا کرنے سے دیدہ و دانستہ گریز کر گئے۔آخر کیوں؟۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے دیگر ساتھی۔ جو دوسروں کو بھرے بازار میں ننگا کر دینے میں۔ غیر معمولی قدرت اورمہارت رکھتے ہیں۔ جو شرفاء کے کپڑے اتارنے میں ذراجھجک محسوس نہیں کرتے ۔اپنی ”باخبری“کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ پاتال سے سچائی ڈھونڈ لانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرنے کے اقدامات کرنے کے ارشادات کرتے ہیں۔ میڈیا کی قربانیوں کا تسلسل سے پراپگنڈاہ کرتے ہیں۔ اور جن کا آپ بے سود دفاع کر رہے۔ جن سے تعلق۔ اور جنکا ایک اہم رکن ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہے۔ وہ قلم جس کی سچائی کے بارے آپ کا طبقہ پیغمبران کے شیوہ اور سنت کا ڈھنڈوارا پیٹتا ہے۔ قلم کو نبیوں کی میراث بیان کرتے نہیں تھکتا۔ تو جب آپکی اپنی برادری کی بات آئی ۔ تو آپ کمال ہوشیاری سے کوئی ایک نام لئیے بغیر۔ کسی ایک واقعے کا تذکرہ کئیے بغیر ۔ اپنی برادری کے متعفن کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے ۔ محض از سر راہ چند ایک ”کالی بھیڑیں“ کہہ کر کے آگے نکل لئیے؟۔ آخر کیوں؟؟۔


اس کیوں کا ایک سادہ سا جواب ہے ۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے۔جسکے معانی کچھ یوں بنتے ہیں” تُم میری پیٹھ دھوؤ میں تمہاری پیٹھ دھوتا ہوں“۔ اس ضرب المثل کے عین مطابق آپ اور آپ کی برادری ۔ ایک دوسرے کو ہر جائز۔ نا جائز پہ تحفظ دیتے ہیں۔ دریا میں میں جب سبھی ننگے ہوں تو ایک دوسرے کو ننگے ہونے کا طعنہ کون دے؟۔ آپکے کاروباری مفادات۔ آپ سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کہ اپنی برادری کے کسی فرد پہ انگلی نہ اٹھائی جائے۔ آپکی برادری کے اکا دکا لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف۔ اس وقت ایک آدھ کالم لکھا ۔ جب انکے اپنے ذاتی مفادات پہ حرف آیا۔ جب انکی کسی خاص ”وفاداری“ کو مشکوک ٹہرایا گیا۔ کیا آپ کوئی ایک ایسی مثال اپنی یا اپنی برادری کی بیان کرسکتے ہیں؟ ۔ جس میں انہوں نے اپنی کسی برادری کے فرد کا نام لے کر۔ اسکے اعمال کو اسلام۔ قوم ۔ ریاست کے مفادات کے منافی قرار دیا ہو؟۔


آپ اپنی اسی کالم کی مثال دیکھ لیں ۔ اس کالم میں آپ نے موضوع سےہٹ کر۔ دوسرے کتنے طبقات و شعبہ ہا ئے جات کو رگیدا ہے ۔ ملوث کیا ہے۔ انکی مثالیں دیں ہیں۔ بعض کو برا جانا ہے۔ مگر کس لئیے؟ محض جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئیے۔ اپنی سبھی خامیوں اور غلطیوں کے درست ہونے کا جواز پیش کرنے کے لئیے۔ آپ بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا اس موضوع سے تعلق بنتا ہے۔ کہ یہ مذکورہ لوگ بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں آپ سانس لے رہیں۔ مگر حضور جاوید صاحب!۔ عوام کی عدالت میں آپ۔ اپنی اور اپنی برادری کی صفائی پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام کی اس عدالت میں۔ اس کٹہڑے میں۔ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیاہے۔ آپ بتائیں۔ کبھی آپ نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کسی عدالت میں کسی ملزم کو یہ کہتے سنا ۔ کہ جج صاحب ۔ میں نے اسلئیے قتل کیا ۔ میں نے اس لئیے چوری کی۔ میں نے اس لئیے جرم کیا ۔ کہ ہر شہر میں ۔ ہر علاقے میں قتل ہو رہے ہیں۔ چوریاں ہورہی ہیں۔ جرم ہورہے ہیں۔ اسلئیے ازخود مجھے بھی یہ سبھی جرائم کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے؟۔ حضور ۔ اسطرح تو یہ دنیا کا بودا ترین دفاع ہوگا ۔ ناقص ترین صفائی ہوگی۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس مشق سے ۔ آپ کے اس سلسے وار کالم لکھنے سے ۔ عوام ۔آپ اور آپکی برادری سے ۔ اور پاکستانی میڈیا سےمطمئن ہوگئے ہیں؟۔ آپ لوگوں کی دیانت۔پارسائی۔ شرافت۔ سچائی ۔پہ ایمان لے آئے ہیں؟۔ اگر آپ یوں سمجھتے ہیں۔ تو آپ عوام کو مذید بد گمان کر رہے ہیں۔مزید اعتراضات اٹھانے کا موقع دیں رہے ہیں۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے میڈیا کے دیگر کالم نگار و میزبان وغیرہ۔ کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتے ۔کہ وہ اپنی برادری میں سے کسی کے بارے حقائق بیان کر سکیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ اور اس دوہرے معیار کو حرف عام میں عوام ”منافت “ کہتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ وہ ایسا سمجھنے میں کیوں کر حق بجانب ہیں۔


ایک قابل صحافی جب کسی کے بارے واقعہ لکھتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے ۔ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مبینہ ملزموں کے بارے ہمیشہ ” مبینہ “ طور پہ لکھتا ہے۔ جبکہ آپ اپنے کالم کی اسی آخری قسط میں۔ یہ تسلیم کئیے ہوئے ہیں۔ یا کم از کم عوام کو یہ بالا کروانے پہ مصر ہیں۔ کہ یہ فلاں فلاں لوگ کرپٹ ہیں۔ راشی ہیں۔ مجرم ہیں۔ لہذا میڈیا کو بھی ایسا کرنے کا حق بعین پہنچتا ہے۔ یہ ایک ننھی سی مثال ہے کہ آپ اور آپ کی دیگر برادری ۔ آپکا میڈیا ۔کس طرح حقائق کو توڑ موڑ کر اپنی من مرضی کا رنگ دیتا ہے اور عوام کوغلط تاثر دیتا ہے۔ اس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی رائے عامہ کو غلط طور پہ تعمیر کرتا ہے ۔ اسکی وجہ ان مذکورہ ملزمان میں سے اکثر کے ساتھ آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری اختلافات ہوتے ہیں۔ جنھیں آپ بھرے بازار میں ننگا کر رہے ہیں ۔وہ بھی بھلا عوام کے لئیے کسی فرعون جابر سے کم نہ ہوں گے ۔ مگر بہر طور وہ فرعون۔ چور ہونے کی وجہ سے ۔کسی طور آپکے سامنے مجبور ہیں ۔ کیونکہ انکا کاروبار بھی آپ لوگوں کی معاونت اور پروپگنڈے کا محتاج ہے۔اور جسکا آپ لوگ بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انھیں بلیک میل کر کے ۔ من پسند لوگوں کے عیوب پہ پردہ ڈال کر ۔ انکے حکومتی عہدوں اور رسوخ سے من پسند مراعات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں کی ہر پوش آبادی میں آپکے لئیے کروڑوں کی مالیت کے پلاٹ کیوں کر مختتصص کئیے جاتے ہیں؟۔ پاکستانی حکومتوں کو قومی ملکیت کے قیمتی پلاٹس بندر بانٹ کے طور بانٹنے کا استحاق کسی طور پہ حاصل نہیں ہونا چاہئیے ۔ وہ قیمتی پلاٹس آپکا اور آپکی برادری کا منہ بند رکھنےنے کے لئیے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ لفافوں۔ مفت کے عمروں۔ مفت کے حجوں ۔ یوروپ و امریکہ اور دنیا میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں اقامت۔ دوروں کے شاہانہ اخراجات ۔ ذاتی رسوخ۔ پرچی اور سفارش کی بلیک میلنگ۔ انگنت مکروہات ۔ آخر آپکا ۔ آپکی برادری کا قلم ایسے گھناؤنے موضوعات پہ ۔ ایسے پلاٹوں کی بندر بانٹ پہ شعلے کیوں نہیں اگلتا؟ ۔ اور جن سے آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔ آپ انھیں پارسا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ اگر اصرار کریں گے تو کئی ایک مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ جبکہ یہاں آپکی یا کسی اور کی عزت کو کھینچنا ہمارا مقصد نہیں۔


آپکی اس منطق کے قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے ۔ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خسارے کا کاروبار کر رہاہے؟ ۔ اگر آپ کی اس بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اس ”خسارے“ کو اربوں روپے کمانے والے لوگ کہاں سے پورا کر رہے ہیں؟۔ اور کیونکر وہ خسارے کا کاروبار نباہ رہے ہیں؟ ۔ دوسو کروڑ سے ایک ٹی وی ادارہ قائم کرنے والے اور ایک اخبار جاری کرنے کے لئیے پچاس کروڑ روپے خرچ کرنے والے ۔ خسارے کا کاروبار محض پاکستانی عوام کو باعلم رکھتے ہوئے باشعور بنانے کی محبت میں کر رہیں؟۔ حضور جاوید صاحب آپ۔ ہماری اورقارئین اکرام کی ذہانت کا مذاق تو مت اڑائیں؟۔ آپ کس کو دہوکہ دینا چاہتے ہیں؟۔


حضور جاوید صاحب!۔ پاکستانی میڈیا سے چلتے اشتہارات ۔جن سے عام طور پہ فحاشی اور عریانی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ ایسے اشتہارات کا آپ نے کمال چابک دستی سے دفاع کیا ہے ۔ کیا آپ عوام کو اسقدر سادہ سمجھتے ہیں؟ یہ عوامی ذہانت کی توہین ہے۔ اس ضمن میں آپ نے اپنا سارازور بیاں اشتہارات کےکیونکر ضروری ہونے کو بنیا د بنا کر۔ اصل موضوع سے صرف نظر کرتے ہوئے ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو مارکیٹنگ پہ درس دینا چاہا ہے۔ اشتہارات کی مد میں جو نکتے آپ نے بیان کئیےہیں۔ اتنا سا نکتہ ۔اتنی سی بات تو گلی محلے کا ۔ایک عام دکاندار اور عام سی دانش کا مالک کوئی بھی فرد سمجھتا ہے ۔جبکہ آپ بھی جانتے ہیں اور میڈیا کو بھی بخوبی علم ہے۔کہ عوام کو اشتہارات پہ نہیں ۔ بلکہ فحش اور عریاں ۔ اور پاکستانی ثقافت اور رہن سہن سے میل نہ رکھنے والے اشتہارات پہ اعتراضات ہیں ۔ کیا میڈیا مالکان اور وہ انتظامیہ جن کا آپ بڑی شدو مد سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ شرافت اور اخلاق کے دائرے میں بنے اشتہارات کو شرط رکھ لیں۔ تو کیا انکی آمدن میں کمی واقع ہوجائے گی؟۔آپکے اور آپکے دلائل کے قربان جاؤں۔ کیا ایسے میڈیا مالکان۔ یا انکے چند ایک کروڑ روپوؤں کو بنیاد بنا کر عریانیت ۔ فحاشی ۔ غیر اسلامی ۔ غیر پاکستانی اور بھارتی ثقافت کو پوری قوم پہ مسلط کر کے ۔ ایک پوری ریاست ۔ پوری قوم کا ستیاءناس کرنا جائز تصور کر لیا جائے؟۔ حضور یہ ان ”کروڑوں“ روپے کی چکا چوند ممکن ہے آپ کی نظروں کوخیرہ کرتی ہو۔ مگر عوام ایسی چکا چوند جس کی بنیاد قوم فروشی ہو ۔ اس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔


آپ تسلیم کرتےہیں ۔ ۔ کہ کسی ”ایشو“ کو” نان ایشو“ بنانا۔ اور کسی” نان ایشو“ کو ”ایشو “بنانے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اور اچانک آپ نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ ۔ میڈیا کے مالکان۔ میڈیا کی انتظامیہ پہ ڈال دیا ہے ۔حضور جاوید صاحب! ۔ پھر آپ نے اس اہم مسئلے کو اپنے کسی کالم میں ۔ اپنے کسی پروگرام میں کیوں موضوع نہیں بنایا ؟۔ حسب معمول ۔ اپنی کسی ٹی وی محفل میں کیونکر میڈیا مالکان اور انتظامیہ اور فریق مخالف کو آمنے سامنے بٹھا کر ۔یعنی عوام کے ۔ معاشرے سے ۔پاکستانی شہریوں کے نمائیندوں کو مدعو کر کے۔ سوالات و جوابات اور وضاحت کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا؟۔ آخر کیوں؟۔ جب کہ کسی معمولی سے مبینہ اسکینڈل پہ آپ لوگ شرفاء کو ننگا کرنے کے لئیے فوراَ زر کثیر خرچ کر کے پلک جھپکنے میں ایسے ایسے بندوبست کر لیتے ہیں ۔ کہ عقل حیران رہ جاتی ہے؟۔ تو پھر عوام کے اعتراضات کے بجا ہونے پہ بھی ۔ آپ کو کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔


آپ کے اس سارے لمبے چوڑے کالم میں۔ ان سبھی اقساط میں جس افسانے کا ذکر نہیں۔ وہ بات ۔ اسکا تذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ اور وہ ہے۔ وہ اعتراف نامہ اور اسکے نتیجے میں عوام سے تعلقات کی تجدیدنو کا ذکر۔ جسکا آپکے کالم کی ان چار اقساط میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔اتنی لمبی چوڑی مشق کے بعد قارئین اکرام ۔ آپ سے یجا طور پہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ بیان کرتے کہ ۔ہم سے ۔ میڈیا سے۔ پاکستانی میڈیا سے جو خامیاں ۔کوتاہیاں ۔ بلیک میلنگ۔ اسلام پہ تمسخر۔علماء کا ٹھٹا اڑانا ۔ اسلامی روایات کا مذاق۔مثلا ۔حجاب ۔ نقاب۔ مولبی مولبی کہہ کر داڑھی ۔ سر ڈھانپنے کے لئیے پگڑی۔ ٹوپی وغیرہ جیسی اسلامی شناختوں اور علامتوں کا اسہتزاء اڑانا ۔پاکستانی قوم کو متواتر احساس کمتری کے ٹیکے ۔ بھارتی ثقافت کی یلغار۔ اشتہارات میں عریانی اور فحاشی۔ ناچ گانے اور اسطرح کے دیگر لغویات کو پاکستان اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کا نام دیکر مادر پدر آزاد بھونڈی تقریبات کا انعقاد۔ تسلسل کے ساتھ متواتر بے حیائی کا فروغ۔ ہر قسم کی اخلاقی قدغن سے بالا پروگرامز ۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے قومی مفادات کے لئیے پاکستانی میڈیا کو پاکستانی مفادات کے خلاف خوب استعمال کرنا ۔ اسلام دشمن تہذیبوں کو رواج دینا ۔ اور ڈرؤن حملوں میں مارے جانے والے بے کس پاکستانی عوام ۔ خواتین ۔ بزرگ اور خصوصی طور بہیمانہ طریقے سے قتل کئیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی اسی طرح ”ہائی لائٹ“ کرنے کا وعدہ۔ جس طرح آپ ۔ آپکے ساتھی۔ اور آپکا ۔ پاکستان کا میڈیا ۔امریکہ اور دیگر طاقتوں کی ایماء پہ۔ ان کے منظور نظر لوگوں کو۔ محض اسلام کو کسی طور بدنام کرنے کے لئیے ہائی لائٹ کرتا ہے۔ کوریج دیتا ہے۔ اور دیگر معاملوں پہ ۔ میڈیا کو درست کرنے کی اپنی سی کوششوں کا وعددہ کرنا۔ پاکستانی صحافیوں میں ملک قوم۔ اسلام و پاکستان کا درد رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکال کر (جو بہت سے لوگ ہیں) انہیں کسی تنظیم کی لڑی میں پرو کر۔ میڈیا مالکان ۔ میڈیا مفادات کے عیار تاجروں کو راہ راست پہ لانے کی سعی کرنا۔ آپکے اتنے لمبے چوڑے چار اقساط پہ مشتمل کالم میں اسطرح سے کسی کوشش کا کوئی ذکر۔ کوئی تذکرہ ۔کوئی اشاراتی یا واضح بات ۔ کوئی سراغ ۔ کچھ بھی تو نہیں؟۔ آپکے کالم کی پوری چار اقساط میں آپ نے پاکستان میں رائج عامیانہ طریقے سے قند مکرر کے طور اپنی ۔ اپنی براداری ۔ پاکستانی میڈیا ۔ حتٰی کہ پاکستانی میڈیا سے چلتے فحش اشتہارات تک کا دفاع کیا ہے ۔ جبکہ راست اقدام یا عوام سے محبت و تعلقات کی تجدید نو کی کسی ایسی کاوش یا کوشش کا ذکر نہیں ۔ جس سے عوام کے جائز اور ٹھوس اعتراضات کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے؟۔


آپ نے اپنے کالم میں کم ازکم ۱۸ اٹھارہ مرتبہ یہ شکوہ کیا کہ عوام آپ کو اور پاکستانی میڈیا کو یہود انصارٰی کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ کم از گیار ہ ۱۱ مرتبہ شکایت کی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو گالی دی جاتی ہے۔ محض اپنی علمیت جتانے کے لئیے۔ اور قوم کو صابن تیل کا بھاؤ بتاتے ہوئے۔ جب اچانک آپ جیسے ”باخبر“ دانشور امریکہ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”نیوز ویک“ میگزین کے بارے میں یوں ارشاد فرمائیں گے ۔” یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا “ تو آپکی ”باخبری“ اور ”دانشوری “پہ سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی آپ نے یہ جاننے کا اہتمام کیا ۔ کہ نیوزویک نے دیگر اکثر مغربی جرائد کی طرح ۔ اپنے مخصوص طریقہ کار سے۔ اسلام ۔ اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات ۔ اور اسلامی ممالک کے بارے کس قدر غلط فہمی پھیلائی ہے۔ آپ کو پاکستانی قوم کو صابن۔ تیل کا بھاؤ بتانے کے لئیے کیا اس عمدہ کوئی مثال نہیں ملی؟ ۔ اور اگر اس میگزین کا حوالہ دینا ہی ضروری ٹہرا تھا ۔ تو اسے دنیا کا ” معتبر ترین جریدہ “ کہنا اور بیان کرنا کہ اس نے” دنیا کی پچھلے اسی ۸۰ سال سے رہنمائی کی“؟۔ کیا یوں ارشاد کرنا ضروری تھا؟ ۔ حضور جاوید صاحب ! ۔ لفظ” معتبر“ کا تعلق ”اعتبار“ سے ہے۔ اور اس ”دنیا “میں ”مسلمان“ بھی شامل ہیں ۔جو اسطرح کے رسائل اور جرائد پڑھتے ضرور ہیں ۔ مگر ان سے رہنمائی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا اعتبار رکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں مشکوک جانتے ہیں۔ یہ جو آپ بڑے ”دھڑلے“ سے اسطرح رائے عامہ کو غلط معلومات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جیسے آپ نے موضوع سے ہٹ کر مسلمانوں کی نظر میں جائز طور پہ مشکوک ۔ نیوز ویک کو معتبر اور اسی ۸۰ سال سے دنیا کی رہنمائی کرنے والا جریدہ بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام کو یہ خبر ہے کہ اس سلسلے کو اگر آج نہ روکا گیا۔ پاکستانی میڈیا اور آپ جیسے دنشواران کی اسطرح کی بظاہر بے تکی مگر نہائت طریقے سے مرتب کی ہوئی کوششوں پہ مناسب ردعمل نہ دیا گیا ۔ تو پاکستانی میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کا کوئی اعتبار نہیں کہ کل کلاں کو ملعون رشدی کو کو بھی ایک عظیم رائٹر یا معتبر دانشور قرار دے دے۔ تو اسلئیے عام قاری آپ کو اور آپ جیسے افراد کو مختلف القابات و خطابات سے نوازتا ہے۔اور آپکا اس پہ چیں بہ چیں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔


عوام جانتے ہیں ۔ کہ پاکستانی میڈیا سے اسلام کو متشدد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پہ آپکا میڈیا پر امن اور با خلوص لاکھوں کے جلوس اور جلسوں کو کوریج دینے کی بجائے محض ان شرارتی اور جرم پیشہ لوگوں کی تھوڑ پھوڑ ۔ چور چکاری۔ اور چھینا جھپٹی کو بار بار ہزار بار میڈیا پہ ٹاپ ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ جبکہ آپ جیسے ”باخبر“ اور ”دانشور “ میڈیا کے لوگ یہ جانتے ہیں۔ اور یہ بات ریکارڈ پہ موجود ہے کہ اسطرح کے بڑے جلوسوں اور جلسوں میں ہماری عزت مآب ایجنسیوں کے اہلکار ۔ انکے لے پالک۔ اور جرائم پیشہ لوگ محض حکومت کی مخالفت کی ایماء پہ یا مالی مفاد کے لئیے جان بوجھ کر ایسی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ جس سے ممکن ہے کہ ان میں حکومت اور معاشرے سے شاکی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہونگے۔ اور پھر ایک خودکار نظام کے تحت سبھی چینلوں سے ایک پروگرام کے تحت ۔ اور تقریبا سبھی اخبارات میں اسلام پسندوں پہ کالموں کے کالم سیاہ کئیے جاتے ہیں۔ اسے بہانہ بنا لیا جاتا ہے ۔ محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسلام پسندوں اور علماء کو ۔ پاکستانی حکومتوں سے احتجاج کرنے والوں کو۔ خوار کرنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے علاوہ بھی کوئی بھی اسلامی یا قومی مسائل پہ ہونے والے جلسے اور جلوسوں کا کم و بیش یہی حشر بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے میں بنیادی فریق آپکے بیان کردہ مثالی میڈیا کا کردار ہوتا ہے۔

حال میں پاکستانی میڈیا سے۔ غیر ملکی طاقتوں کی گود میں کھیلنے والوں کو ۔ اپنے راتب کو جائز ثابت کرنے والوں کو ۔ دین و ملت فروشوں کو ۔ اسلام کے خلاف موضوع فراہم کرنے والوں کو ۔ شرعی حدود کو بدنام کرنے والوں کو ۔ پاکستانی عوام کو متشدد ثابت کرنے کے لئیے عالمی میڈیا اور دنیائے عالم کے عوام کو نت نئے موضوعات پہ جعلی ویڈیوز۔ خبروں۔ اور تجزئیوں کو بغیر تصدیق کئیے اس قدر کوریج دی گئی ۔ پھیلایا گیا ۔ کہ  وہ ویڈیوز ۔ تصاویر جعلی ہونے کے باوجود ۔ آج تک عالمی میڈیا میں پاکستان ۔ اور اسلام کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ حضور جاوید صاحب ۔ جس طرح نیکی اور خیر کا کےتادیر ثمر ات دینے والے کاموں کو ”صدقہ جاریہ“ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذلت کے دیرپا کاموں پہ ”ذلت جاریہ“ کی صورت میں لعنتیں برستی ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کے راتب کھانے والے اسلام فروشوں ۔ ملت فروشوں کے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دیگر لوازمات ۔ آپکے میڈیا کے پھیلانے سے وہ ساری دنیا میں ۔اسلام ۔ پاکستان ۔ پاکستان کے عوام کے خلاف ایک متواتر ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں۔ خدا جانے جس کا خمیازہ قوم کب تک بھگتی رہے گی۔ دنیا کے میڈیا میں جاری و ساری ان تمام جھوٹی اور جعلی شہادتوں کی” ذلت جاریہ“ تا قیامت اور قیامت کے بعد بھی یہ لوگ بھگتیں گے ۔ جنہوں نے ” کرڑؤں“کی چکاچوند سے متاثر ہو کر۔ قوم فروشی میں ہاتھ رنگے۔


عوام جنہیں آپ نے اپنے کالم کی اس سیریل کی پوری مشق میں۔ عقل سے عاری سمجھا ہے اور انکی ذہانت کی بار بار توہین کی ہے۔ وہ عوام ۔آپکی طرح اس بات کے پابند نہیں کہ وہی بات کہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ مجبوری ہے۔ کہ آپ جس کا کھاتے ہیں اس کے گیت گانے پہ مجبور ہیں۔ مگر عوام اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار نہ کرنے پہ مجبور نہیں۔ مارکیٹنگ کے سنہرے اصول بیان کرتے ہوئے مارکیٹ کا یہ بنیادی نکتہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں۔ جو جنس بازار میں آئے گی۔ اس پہ بھاؤ اور مول تول تو ہوگا۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جمہور تو مفت کے لنگر اور بلامعاوضہ خدمات پہ بھی چوں چرا کرنے سے باز نہیں آتا ۔تو جب آپ ایک معقول تنخواہ لیکر عوام کی توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ تو عوام کی ایسی کونسی مجبوری ہے جو وہ آپکو معاف رکھے؟۔


اگر پھر بھی آپ عوام سے۔ جمہور سے۔ قند مکرر کے طور پہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ عوام کو باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ۔ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ تو گزارش ہے اسمیں بھی آپ کا ۔ آپکی برادری کا ۔ پاکستانی میڈیا کا قصور ہے ۔ جو آزادی کے ۔ آزاد میڈیا کے دعوے تو بہت کرتا ہے ۔ مگر کسی طور عوام کی یا کم از کم اپنے قارئین اور ناظرین کی فکری تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ جب پاکستانی میڈیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پہ رقیق حملے کرنے والے امیتابھ بچن جیسے لوگوں کی بہوؤں کے حاملہ ہونے ۔ انکے دادا بن جانے کو ہی ایشو بنا کر پیش کرے گا۔ تو آپ ہی بتائیے عوام کو کیا پڑی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو سات سیلوٹ کرے۔ ممکن ہے آپ کی۔ یا آپکی طرح کے دیگر دانشوروں کی تو روٹی روزی کی ضمانت ہی اس طرح کے قوم فروشی کے ایشوز سے جڑی ہو؟۔ تو عوام کس حساب میں ۔آپ لوگوں کی تعریف و توصیف کرتے پھریں۔ حضور جاوید صاحب ! یا تو آپ بہت سادہ ہیں۔ یا بہت چالاک۔


حضور جاوید صاحب ۔آپکی یہ منطق بھی درست نہیں ۔آپ کا یہ نکتہ بھی درست نہیں۔ کہ میڈیا پاکستانی عوام کو مفت تفریح اور معلومات بہم پہنچاء کر احسان کر رہا ہے ۔یہ عوام ہی ہیں ۔ اس پاکستانی قوم ہی کی وجہ سے۔ آپکے میڈیا کو اشتہارت ملتے ہیں۔ میڈیا کا دانہ۔ پانی چلتا ہے۔ اس میں سے آپ کوبھی مشاہیرہ ملتا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کا اربوں کا نظام کاروبار چلتا ہے۔ اور آپ اور نہ آپ کا مثالی میڈیا ۔عوام کو مفت میں تفریح یا معلومات مہیاء کر رہا ہے۔ بلکہ عوام آپکے کسٹمرز ہیں اور دنیا بھر میں رائج منڈی کے اصولوں کے مطابق ۔ آپ کو ۔ آپکے دودھؤں نہائے میڈیا کو۔ اپنے کسٹمرز کے ۔ اپنے عوام کے مطالبات کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ کہ کسی طور وہ آپکی تنخواہ اور دیگر لوگوں کے معاوضوں اور منافعوں کا باعث ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو ۔ آپکی برادری کو ۔ عوام کا احسانمند ہونا چاہئیے ، کہ پاکستان کے دیگر شعبات جات کی طرح آپ بھی اپنی من مانی کر کے ۔ عوام پر ہر وہ اشتہارتی عریانی و فحاشی اور نظریاتی ۔ کالم اور پروگرام مسلط کر رہے ہیں ۔ جو عوام کے مطالبے سے یکسر متضاد ہیں۔ اور اسکے باوجود عوام آپ سے محض گلہ کر کے رہ جاتے ہیں۔


آپ نے اتنی بار عوام کی جانب سے اپنے آپ اور میڈیا کو۔ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ کہنے کی تکرار کی ہے ۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ عوام بہر حال یہ بھی جانتے ہیں۔ کہ یہود نصاریٰ بھی انھی کو اپنے مفادات کا ”ایجنٹ“ مقرر کرتے ہیں۔ جن کے پاس ”کچھ“ علم ۔ شعور ۔ اور بات کہنے کا طریقہ ہو۔ میٹھے میں زہر ملا کر پلا دینے کا فن جانتے ہوں، ۔ جوانکے مفادات کا تحفظ بہتر طور پہ کرسکتا ہو۔ یہودو نصاریٰ کو کیا پڑی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں۔ آپ جیسے یا دیگر لوگوں کو اپنا ”ایجنٹ “ بناتے پھریں؟۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو اپنے”ایجنٹس“ مقرر کرتے۔ تو وہ قومیں کبھی کی دنیا سے معدوم ہوچکی ہوتیں۔ وہ قومیں ہماری طرح عقل سے پیدل نہیں ہیں۔ اسلئیے ناحق آپ نے ۱۸ اٹھارہ مرتبہ اپنے آپ کو ”یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ“ ہونے کا۔ عوام کی طرف سے تکرار  کئیے جانے کا اعزاز لیا ہے۔جبکہ عوام اس تناظر میں۔ جیسے آپ نے بیان کیا ہے ۔ آپکو یا دیگر میڈیا کو یہودو نصاریٰ کا ” ایجنٹ “ تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتیں ۔ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے لئیے۔ کبھی کبھار اپنے حقیقی ایجنٹس سے ۔ایسے لوگوں کو مالی مراعات۔ خیرات ۔ انعام اور راتب وغیرہ پھینکتی رہتی ہیں۔ مالی مراعات جنکی مالیت عالمی طاقتوں کے لئیے کوئی معانی نہیں رکھتیں ۔مگر ضمیر فروشوں کے لئیے گنج گراں مایہ سے کم حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس وجہ سے وہ ہر روز۔ ہر موقع بے موقع پہ انکے لئیے مدح سرائی کرتے ہوئے۔ دُم ہلانے سے باز نہیں آتے۔ اور آخر کار اسی کو وسیلہِ رزق سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ بدقسمتی سی برصغیر کے مسلمانوں میں اور پاکستان میں خصوصی طور پہ ۔ ننگ ملت ۔ ننگ وطن۔ ننگ قوم۔ میر جعفر اور میر صادق کی نسل کہیں نہ کہیں ضرور تیار کی جارہی ہے۔ حرام کھانے والوں ۔ قوم فروشوں۔ اسلام فروشوں۔اور ضمیر فروشوں کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط اؤل کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط دوئم کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط سوئم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی آخری قسط چہارم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔


غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔

نوٹ:۔ اس تحریر کے وجود میں آنے کا فوری سبب محترم اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پہ محترم عبدالرؤف صاحب کی رائے ہے۔

صحت مند مباحث ہی صحت مند معاشروں کی ضامن ہوتی ہے۔ مباحثت ہوتی رہے تو اصل مسائل اور حقائق کا پتہ چلاتے ہوئے مناسب اور جائز حل تجویز کئے جاسکتے ہیں۔ ورنہ دائروں میں بند ہوکر۔ دائروں کے سفر سے۔ قوموں اور افراد کی ذہنی بالیدگی نہ صرف رک جاتی ہے۔ بلکہ وہ خوفناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جوبدقسمتی سے پچھلے پیسنٹھ سالوں سے دائروں میں بند سفر کے نتیجے میں آجکل پاکستان میں ظاہر ہورہی ہے۔ خولوں میں بند ہوجانے سے اور کسی قسم کا اخراج نہ ہونے کی وجہ سے اچانک حادثات اور سماجی دھماکے ہوتے ہیں اور ہم حیران ہو کر پکار اٹھتے ۔”نہیں۔ جناب یہ تو ناممکن ہے ۔ ایسے نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسے ہوا؟خبر کی صداقت میں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے ۔ بھلا کوئی یوں بھی کرسکتا ہے؟۔” جب کہ یوں ہوا ہوتا ہے اور عقل اسے تسلیم کرنے سے عاری ہوتی ہے۔ غصے،لاعلمی ، اندھی جذباتیت، اور ریاستی بے حسی کی سے وجہ لوگ ایک فاترالعقل اور مجنوں شخص کو پولیس کے ہاتھوں سے چھڑوا کر ہزاروں کے مجمع کی شکل میں اسے پکڑ کر  چوک کے بیچ میں زندہ جلا دیتے ہیں۔ اور وہ بھی قرآن کریم ۔ اس کلام پاک کی مبینہ بے حرمتی کو جواز بنا کر جس کے ذریعے دین اسلام پھیلا اور لوگ امن اور رحمت کی پناہ میں آئے۔ اور اس طرح کسی انسان کو زندہ جلا دینا اسلام کی تعلیمات اور عظمت کے نہ صرف منافی ہے ۔بلکہ ایسے کسی فعل کو اسلام نے نہ صرف جرم قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پہ سزا اور حدود مقرر کی ہیں۔ مگر صدمے اور افسوس کی حد ہے کہ ایسے خوفناک اور مکروہ فعل میں حصہ لینے والوں نے اسی قرآن اور دین اسلام کو جواز بنایا۔ جبکہ اسلام انسانوں کو زندہ جلانے جیسی کسی حرکت کی اجازت دینا تو درکنار بلکہ اس پہ سخت حدود مقرر کرتا ہے۔ اور ہماری اخلاقی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں کے مجمع میں سے کسی کو اس ظلم پہ آواز بلند کرنے کی توفیق اور جرائت نہ ہوئی۔ ایسے واقعات میں ریاست بھی برابر کی قصور وار ہے۔ اگرریاست ایسے واقعات پہ از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتوں سے ”حساس“ معاملوں میں مجرم لوگوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کا چلن رکھتی۔ توشاید لوگوں میں حساسیت اور جزباتیت کا یہ عالم نہ ہوتا کہ وہ خود ہی اشتغاثہ، قاضی اور جلاد کے فرائض سرانجام دیتے۔ دائروں میں میں بند ہونے اور نتیجاً انسانی برداشت کے بند ٹوٹنے کی یہ ادنٰی سی مثال ہے اور اجتماعی خود کشی کی ایک علامت ہے ۔ ڈائیلاگ ۔ بات چیت اور کسی لیول پہ بھی کوئی شنوائی نہ ہونے پہ۔ بے بس اور دیوانگی کی حدود کو چھوتے غصے میں لوگ کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔

اسلئیے کم ازکم ایک صحت مند معاشرے کے لئیے ہر لیول پہ صحت مند مباحثت کا ہونا از بس ضروری ہے۔ دہائیوں پہ مشتمل محرومیوں اور بے بس لوگ جب کسی کے ساتھ۔ آپ کے ساتھ۔۔ یا اور کے ساتھ مباحثت یا بات چیت کا آغاز کریں گے۔ تو انکی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ عام طور پہ ہر دو پارٹیاں شروع میں تلخ گوئی سے معاملات شروع کرکے عموما دہیمی اور سلجھی گفتگو پہ اتفاق کرتی ہیں۔ اور مسائل کے حل کے لئیے قابل قبول سمجھوتے پہ اتفاق کر لیتی ہیں۔ اسلئیے آپکی تلخی یا اسی طرح پاکستانی قوم کے حقوق سے محروم کسی دیگر طبقے یا افراد کی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے اور میری رائے میں اس میں تعصب کا پہلو نہیں نکلتا۔
میرے پہلے تبصرے میں فوج یا کسی ریاستی ادارے کی بے جا توصیف تحسین قطعی طور پہ نہیں تھی۔ بلکہ جس تبصرے کے جواب میں، میں نے لکھا تھا ۔ اس تبصرے میں ایک بچگانہ ضد کے طور پہ جان بوجھ کر فوج اور پنجاب کو لازم ملزوم کرنے کی بھونڈی سی کوشش کی گئی ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب بھی پاکستان میں فوج یعنی جنرل ایوب ۔ جنرل یحیٰحی۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے غیرآئینی اور فوجی حکومتیں بنائیں۔ تو ایسی حکومتوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف پنجاب کے عوام نے سب سے زیادہ مزاحمت کی اور قربانیاں دیں۔ اسلئیے اہل پنجاب پہ یہ الزام تھوپنا کہ فوجی جرنیل۔ وطن عزیز کی اصطلاح کو محض پنجاب کے لئیے استعمال کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں انھیں ملک کے دوسرے حصوں کے کوئی غرض نہیں۔ نیز اہل پنجاب کو اسکا ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ تو یہ نہائت بے ہودہ اور دل آزار رویہ ہے اور اہل پنجاب کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اس لئیے اپنی حماقتوں۔ ناکامیوں کواور اپنے مکروہ مفادات کی تشنہ تکمیل کو خواہشات کا نام دیتے ہوئے اہل پنجاب یا کسی بھی دوسرے صوبے یا قومیت پہ ملبہ ڈال دینا احسن اقدام نہیں۔ جبکہ پنجاب سے بغض رکھنے والے یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک مشرف کی فوجی حکومت میں شریک تھے۔ اس کی حکومت حصہ دار تھے اور اقتدار کے کیک میں سے اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ کاٹنے والوں کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے پہ اپنا گند اچھالیں۔
اسمیں پنجابی، سندھی، پٹھان یا بلوچ کی کوئی بحث نہیں مندرجہ بالا پیرائیوں میں اصل صورت حال بیان کرنے اور شکوک کم کرنے کی ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔
نیزآپکی اس بات سے قطعی طور پہ اتفاق نہیں کہ پنجاب یا خیبر پختوان خواہ یا پاکستان کے کسی بھی دیگر علاقے یا صوبوں میں کراچی ۔ سندھ یا بلوچستان یا پاکستان کے کسی بھی دیگر حصے سے محض اسلئیے دلچسپی ہے کہ اسے ساحل سمند ر کی ضرورت ہے یا کسی دیگر ضرورت کی وجہ سے یوں ہے۔ بلکہ دنیا کی سابقہ تاریخ اور دنیا میں رائج الوقت ریاستی اصولوں کے مطابق پاکستان کے تمام جملہ قدرتی وسائل پہ پاکستان کے سبھی حصوں اور شہریوں کا برابر کا حق ہے۔ اگر کہیں کسی وجہ سے کچھ اختلافات ہیں تو انہین باہمی گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہئیے۔
میری ذاتی رائے میں اپنے مسائل کی وجوہات کو ایک دوسرے کے سر منڈھنے کی بے فائدہ کوششوں کی بجائے، ہمیں ان وجوہات کی جڑیں تلاش کرنی چاہئیں اور ان استحصالی قوتوں کا احتساب کرنا چاہئیے۔ جنہوں نے پاکستان بنتے ہی بار بار چہرے بدل کر پاکستان کو لوُٹا ۔کھسوٹا۔ نچوڑااور جی بھر کے عیش کی ۔ ملک و قوم کے نام پہ اپنی تجوریاں بھریں۔ اپنے اثرو رسوخ اور اقتدار و اختیار کو دوام بخشا۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے پاکستان میں موجود رہا ہے اور دن بدن ترقی کرتے ہوئے اب پاکستان کے لئیے نہ صرف ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ بلکہ پاکستان کی سالمیت کے لئیے بھی نہائت خطرناک ہوچکا ہے۔ اور پاکستانی عوام کے ہر قسم کے حقوق چھنینے کے بعد اب ان کے منہ سے روزی روٹی اور آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتا ہے۔ تانکہ بے کس۔ بے بس اور بے ہمت عوام اس طبقے کے ہاتھوں بے چون چرا ہر قسم کے ظلم پہ آنکھیں بند کر لیں۔ اس طبقے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ اپنے مفادات کے لئیے کبھی بھی۔ کوئی سی بھی شکل اپنا لینے میں باق ہے ۔ خواہ وہ شکل فوجی جرنیل کی ہو یا سیاستدان کی۔ نودولتئے ہوں یا نام نہاد قائد یا رہنماء ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں رشتے داریاں کرتے ہیں۔ تانکہ یہ مافیاز مذید مضبوط ہوں۔ اور انگریزی محاورے کے طور ایک دوسرے کی پیٹھ کی حفاظت کرتے ہوئے اسے مضبوط کر سکیں۔ اس طبقے میں جرنیل۔ جاگیردار۔سردار۔ میڈیا اور بزنس کے ٹائی کون۔ بیورکریٹس۔ سیاہ ست دان ۔ پاکستان میں فرقہ، فرقہ کا کھیل کھیلنے والے۔ نام نہاد رہنماء اور قائد یا بوری بند لاشوں کے مافیا سربراہ ۔ جنہوں نے قوم کو لیر لیر کر دیا ہے۔کپڑے کی کترنوں کی طرح کانٹ چھانٹ کے رکھ دیا ہے۔ جو سادہ لوگوں کو جھوٹے نعروں اور بھوکوں کو پیٹ بھر کر روٹی کے خواب دکھلا کر پوری قوم کر باہم دست بہ گریبان کئیے ہوئے ہیں۔
فرض کر لیں بلوچستان ہی نہیں پاکستان کا ہر صوبہ۔ ہر ضلع ۔ تحصیل بلکہ تھانے تک آزاد ہوجائیں اور خدانخواستہ پاکستان کا وجود تک نہ رہے۔ تو کیا پاکستان میں دودھ اور شہد کی بہنے لگیں گی؟۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہنا تو کجا بلکہ میرے۔ آپکے اور پاکستان کے عام آدمی کے۔عام عوام کے۔ حالات بدلنے کی بجائے انکے لئیے کئی نئی قسم کے فساد جنم لیں گے۔ اور اس صورت میں بھی وسائل اور لوگوں کی قسمت کا مالک وہی طبقہ ہوگا۔ جو اس فساد کا ذمہ دار ہے۔ یعنی مسئلے کا حل ملک کے کسی حصے کی علحیدگی میں نہیں ۔ ملک کی تقسیم کوئی حل نہیں۔ بلکہ یہ بجائے خود ایک مسئلہ اور بالادست طبقے کے ھاتھ مضبوط کرنے کا جواز ہے۔ اور یہی انکی سازش ہے کہ اگر پاکستان میں چار صوبے ہیں تو انہیں آٹھ کر لو کہ چلو۔ بندر بانٹ سے چار نئے وزاءاعلٰی۔ گورنرز۔ ہزاروں آسامیاں اور نئی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے سینکڑوں رکن ۔ تو فائدہ کس کو ہوا؟ اسی طبقے کو!۔ جو آج بھی مندرجہ بالا تمام سبھی عہدوں کا بلاشرکت غیرے حصہ دار اور قابض ہے۔ خواہ اسکا نام اور پارٹی یا ادارہ کوئی سا بھی ہو۔ یعنی موجاں ہی موجاں ۔
اس لئیے ضروری ہوگیا ہے کہ اگر جدو جہد کرنی ہے تو ایسے لوگوں یا طبقات کے خلاف علم بلند کی جئیے۔ جو آج پاکستان کے ھر حصے میں عام عوام کی محرومی کا سبب ہیں۔اور یہ جدو جہد پُرامن ہونی چاہئیے ۔ جس میں تشدد کا پہلو یا عنصر نہ ہو۔ تشدد کا ویسے بھی فی زمانہ دور نہیں۔ اور تشدد کے ذریعے حاصل کئیے گئے نتائج کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ علم کو عام کی جئیے۔ لوگوں میں بیداری اور آگہی کی مہم کا آغاز کی جئیے۔ برادشت اور تحمل کو فروغ اور رواج دیں۔ یہ رستہ بظاہر ناممکن کی حد تک مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو قوموں کو دوام بخشتا ہے۔ اور جو قومیں اس رستے سے ادہر ادہر ہوئیں وہ قصہ پارینہ بن گئیں۔
خوش رہئیے۔
نوٹ:۔ اس تحریر کا مقصد صوبائی۔ لسانی۔ علاقائی یا دیگر کسی تعصب کو ہوا دینا نہیں ہے۔ کسی صوبے، یا کسی قومیت کو کسی دوسرے صوبے یا قومیت سے برتر یا کم تر ثابت کرنا نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسی کسی لا یعنی بحث کو چھیڑنا ہے جس سے کسی قسم کے تعصب کی بُو ائے۔ البتہ ایک بہتر ڈائیلاگ اور بات چیت کو اپنانا مقصود ہے۔ہمارے لئیے پاکستان کے سبھی صوبے اور اسکے عوام قابل احترام ہیں۔

 
2 تبصرے

Posted by پر ستمبر 12, 2012 in Pakistan

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: