RSS

Tag Archives: لگان

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔تیسری قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔تیسری قسط


فرانسسکو برنئیر لکھتا ہے۔(ہندؤستان میں) وراثتی بندوبست ایک قانون کے درجے کے طور تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں امراء منصب دار ۔ یعنی نسبتا چھوٹے امراء مغل  فرمانروا (بادشاہ) کو وراثت میں ملتے ہیں۔ جو بادشاہ سے وظیفہ پاتے ہیں۔
اسی وراثتی بندوبست کے تحت ناج اگانے والی کچھ زمینوں اور باغات پہ رعایا کویہ اجازت ہے کہ وہ ان زمینوں کی خریدو فروخت کرسکیں یا وراثت کے طورپہ ملنے والی زمین کو آپس میں تقسیم کر سکیں ۔ اسکے علاوہ شہنشہاہی بندوبست کی کل زمین بادشاہ کی ملکیت ہے۔ برنئیر ۔ کولبیرٹ کو مخاطب کرتے لکھتا ہے۔”آپ اس نتیجے پہ پہنچیں گے کہ کہ یہی نہیں کہ ہندؤستان میں سونے اور چاندی کی کانیں نہ ہونے کے باوجود ۔ ملک میں بہت بڑی مقدار میں سونا اور چاندی موجود ہے ۔ بلکہ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے پاس بہت سے قیمتی خزانے ہونگے۔ (۷٭)۔
مزید براں ۔برنئیر کے اس بیان میں فرانس کے لئیے ان مالی اور سماجی مسائل کی نشاندہی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جواگر فرانس کو ہندؤستان کو اپنی نوآبادی بنانے میں دلچسپی ہونے کی صورت میں۔ ہندؤستان کو نو آبادی بنانے کی ایسی کسی کوشش کے نتیجے میں نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ان مسائل کے پس منظرمیں مختلف النوع کی وجوہات ہیں۔ جن کی وجہ سے عظیم مغل سلطنت پہ حکمرانی قائم کرنے میں بہت مشکلات حائل ہیں۔ اور خاصکر اس صورت میں جب انگریز شہزادوں اور مقامی حاکموں سے اپنے مفادات طے کر رہے ہوں۔اس ساری حوصلہ شکن صورتحال اور بیان کردہ نہ قابل قبول حالات کی وجہ سے سونا ہندؤستان سے باہر نہیں جا پاتاتھا۔ اس سے برصغیر ہندؤستان کی مختلف النوع قسم اور دلچسپ ہیبت ترکیبی کا پتہ چلتا ہے۔
برنئیر کی رپوٹ سے مندرجہ ذیل نتیجہ سامنے آتاہے۔
۱)۔ہندؤستان کی زمین کا ایک حصہ پتھریلا ہے ۔ کم زرخیز پہاڑ ہیں جہاں بہت کم کاشتکاری ہوتی ہے۔ اور (اسی وجہ سے) آبادی بہت کم ہے۔
۲)۔ انتہائی زرخیز زمین جو افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے غیر آباد ہیں۔
۳)۔بہت سے کسان مقامی حاکموں (گورنرز) کے مظالم کا شکار ہیں اور جان سےجاتے ہیں۔ عام طور پہ مقامی حاکموں(گورنرز) نے انہیں انتہائی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر رکھا ہے یہاں تک کہ جب ماں باپ لگان ادا نہ کر سکیں یا حاکموں کی احکام سے رد گردانی کریں تو انکے بچوں کو چھین لیتے ہیں۔ جنہیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔
۴)۔ اندرونی نقل مکانی۔ بہت سے کسانوں نے مایوس ہوکر کھیتوں کو خیر آباد کہہ کر اجرت پہ مزدوری کرنے کو ترجیج دیتے ہوئے شہروں کا رخ کیا۔ جہاں انہوں نے سقہ (بہشتی یعنی ماشکی) اور پانڈی (وزن ڈھونے والوں) کا پیشہ اپنا لیا۔ یا پھر فوج میں بھرتے ہوگئے۔اورکچھ دوسری راجدھانیوں کو بھاگ گئے۔ جہاں ظلم و ستم نسبتاَ کم تھا۔
۵)۔ بہت سی ریاستیں اور قومیں ایسی ہیں جہاں کے حکمران مغل نہیں۔ اور ایسی ریاستوں اور قوموں کے سربراہ مغلوں کے احکامات ماننے سے انکاری ہیں اور خراج نہیں دیتے یا ان سے بہ جبر لگان وصول کیا جاتا ہے۔ یا پھر وہ ریاستیں ہیں جو نہ ہونے کے برابر خراج دیتیں ہیں۔ اور آخر میں وہ قومیں یا ریاستیں آتی ہیں۔ جو مغل سلطنت سے امداد لیتی ہیں۔
۶)۔ وہ ریاستیں جو خراج ادا نہیں کرتیں۔ وساپور Visapur کا باشاہ کسی قسم کا خراج نہیں ادا کرتا اور ہمیشہ مغل سلطنت سے جنگ آزماء رہتا ہے۔
جسکی۔ ۵ ۔درذیل وجوہات ہیں۔
الف)۔وسا پور کے حکمران کے پاس خاصی تعداد میں افواج ہونے کی کی وجہ۔
ب)۔ وسا پور سے دہلی اور آگرہ خاصے دور ہونے کی وجہ سے۔
ج)۔ اس حکمران کے پاس انتہائی مضبوط قلعہ ہے۔جس کو سر کرنا انتہائی دشوار اور کھٹن ہونے کی وجہ سے۔
د)۔ حملہ آوار افواج اور بابرداری کے جانوروں کے لئیے رستے میں چارہ اور پانی ملنے کی کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے۔
اسکے علاوہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بہت سے راجے۔ وساپور Visapur کے مشترکہ دفاع کے لئیے اسکے حکمران کے ساتھ اتحاد کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پہ مشہور و معروف۔ شیو جی ۔ جس نے کچھ عرصہ قبل۔ سُورت ۔کی بندرگاہ کو لوٹا اور جلادیا ۔
گولکنڈاہ کا طاقتور حکمران بھی مغل سلطنت کو کسی قسم کا خراج ادا نہیں کرتا۔ جو خفیہ طور پہ وسا پور کے راجہ کی مالی معاونت کرتا تھا اور ہمیشہ اسکی ایک فوج ضرورت پڑنے پہ ۔وسا پور کی سرحد پہ وسا پور کے دفاع کے لئیے تیار رہتی ہے۔
مغل سلطنت کے نواح میں کم وبیش اسی طرح لگ بھگ سو کے قریب مشرک (idolaters) راجوں کے ساتھ یہی معاملہ تھا۔ جن میں سے کچھ کی راجدھانیاں تو آگرہ اور دلی نزدیک واقع تھے ۔کچھ کی راجدہانیاں بہت زیادہ دور دراز واقع تھیں۔
جن میں سے پندرہ سولہ تو بہت زیادہ امیر اور طاقتور ہیں۔اور پانچ یا چھ راجے جیسے کہ رانا جوایک طرح کا راجوں مہاراجوں کا شہنشہاہ ہوتا ہے۔ اسکے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ اسکا نسب۔ راجہ پورس ۔سے جا ملتا ہے ۔ اگر کوئی تین ایک مل جائیں تو مغل حکمران کے لئیے ایک بڑا درد سر بن سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں سے ہر راجہ مغل فوج کی نسبت بہتر تربیت یافتہ بیس ہزار سوار کسی وقت بھی اکھٹے کرسکتا ہے ۔گھڑ سوار فوج کے ان سپاہیوں کو ۔راجپوت۔ کہا جاتا ہے۔یعنی ۔راجوں کے سپوت۔خاندانی پیشہ سپاہ گری باپ دادا کی طرح نسل در نسل انکے خون میں شامل ہے۔راجے مہاراجے انھیں اس شرط پہ زمینں عطا کرتے ہیں کہ بوقت ضرورت یہ گھوڑے کی پیٹھ پہ سوار ہوکر جنگ میں حصہ لیں گے۔۔ (۸٭)۔
اسکے علاوہ بلوچ ۔ افغان۔ کوہستانی۔ کی اکثریت بادشاہ یا مغل سلطنت کو کسی قسم کا خراج ادا نہیں کرتے اور مغل فرمانروا کو بلوچوں ۔ افغانوں اور کوہستانیوں کی طرف سے خراج نہ ادا کئیے جانے پہ کوئی خاص فکر بھی نہیں ہے۔(۹٭)۔
پٹھان بھی خراج ادا نہ کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو مغلوں کے حملہ آور ہونے سے پہلے دلی اور اسکے بہت سی جگہوں پہ زیادہ طاقتور ہوچکے تھے۔ اور انہوں نے انگنت راجوں کو اپنا باجگزار بنا لیا تھا۔(۱۰٭)۔
کسی بھی ریاست کی طرف سے اپنی نو آبادیوں میں اضافہ کرنے کے لئیے ۔اس دور کے مشاہدات اور تجربات کے مطابق بہت سی باتوں کو مدِ نظر رکھنا پڑتا تھا۔تانکہ اسقدر دور اور اسقدر سرمایہ کاری کرنے کے بعد کم از کم کچھ نہ کچھ کامیابی حاصل ہوسکے ۔ فرانس میں متعدد مہمیں محض ناکافی معلومات کی وجہ سے ناکام ہوچکی تھیں۔تجرباتی منصوبہ بندی وقت کے ساتھ ”چارٹرڈ کمپینوں“ کے ذرئعیے دور دراز علاقوں تک پھیل گئی۔”انڈیا اورئنٹل“ نامی کمپنیاں بہت سے ممالک تک پھیل چکی تھیں۔ ”کیپ آف گڈ ہوپCape of Good Hope“۔ سے لیکر ۔ ” اسٹرائٹ آف میگیلین Strait of Magellan“۔ تک ان کمپنیوں کی مکمل اجارداری قائم ہوچکی تھی۔(۱۱٭)۔اس مشق کی وجہ سے مہم جوئی اور ایڈونچرازم کے شوق میں اضافہ ہوا۔ نتیجتاَ مبالغہ انگیز تعداد میں کمپنیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ افراد کی نسبتاَ ریاستیں زیادہ باخبر ہونےاور درست معلومات رکھنے کی وجہ سے اپنی نگرانی میں ایک ترجیجی کمپنی رکھتیں تھیں ۔ جبکہ ۱۶۰۰ء سولہ سو عیسوی اور ۱۷۸۹ء سترہ اننانوے عیسوی کے دوران صرف فرانس کے لئیے ۷۷ ستتر کمپنیوں کا پتہ چلتا ہے ۔اور سات ۷کمپنیاں صرف ”اورئنٹل انڈیا“ کے لئیے مخصوص تھیں ۔ جبکہ یہ فہرست ابھی مکمل نہیں۔۔(۱۲٭)۔دوسری طرف صورتحال سے مکمل آگہی اور وسائل صرف کبھی کبھار ایسے مواقع پیدا کرتے تھے کہ کوئی مثالی آبادکار کسی نو آبادی میں جابسے۔لیکن دور دیسوں میں جا بسنے کے لئیے ناپسندیدہ جرائم پیشہ افراد ۔جہالت اور یقین کے ہاتھوں عام طور پہ بحری جہازوں پہ سوار ہوجاتے تھے ۔ فرانس میں سے بنیادی طور پہ ۔”نوغمندیا۔ نارمنڈی۔ Normandía“۔ ”برطانیہ ۔برطانی۔ Bretaña “۔ ”پوئیتو Poitou “۔ ”سینت تونج Saintonge“ سے لوگ نوآبادیوں میں جا کر آباد ہوئے۔ یہاں تک کہ کولبیرٹ ان کوششوں کا کہ لوگ جا کر نوآبادیوں میں آباد ہوں۔ مگر اسکی انتھک کوششوں کا کوئی مثبت اور خاطر خواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکا ۔(۱۳٭)۔
(جاری ہے)

(7) BERNIER, ob. cit., pág. 194
(8) BERNIER, ob. cit., págs. 196 y 197.
(9) BERNIER, ob. cit., pág. 185.
(10) BERNIER, ob. cit., pág. 195.
(11) RiCH, E. E., y WiLSON, C. H., Historia Económica de Europa, t. IV; La Economía
de Expansión de Europa en los siglos XVI y XVII, versión de Javier García
Julve, Edit. de Derecho Privado, Jaén, 1977, pág. 351.
(12) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 390.
(13) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 390.

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔


ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔نہائت ظالم بادشاہ تھا۔ جسکی رعایا کسان پیشہ تھی ۔ چھوٹی موٹی کھیتی باڑی اور مویشی پال کر گزارہ کرتی تھی۔ اس راجدھانی کے بادشاہ نے رعایا پہ بے حد لگان اور محصولات لگا رکھے تھے ۔جن کو حاصل کرنے کے لئیے نہائیت ظالم اور سفاک اعمال مقرر کر رکھے تھے ۔ اعمال گھر گھر کی تلاشی لیتے ۔ جس گھر میں انکو کچھ تھوڑا سا بھی فالتو اناج نظر آتا ۔ اسے بحق سرکارضبط کر لیتے ۔ اور کبھی کبھار تو اگلی فصل آنے تک زندہ رہنے کی خاطر کھانے کے کے لئیے جوغلہ و اناج کسان اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے۔ بادشاہ کے بدنیت اعمال وہ غلہ بھی اٹھا لے جاتے اور نوبت یہاں تک آجاتی کہ لوگ بھوکوں مرنے لگتے یا مانگ تانگ کر گزارہ کرنے پہ مجبور ہوجاتے۔اسکے علاوہ کسانوں کے تندرست اور قیمتی جانور جو کسانوں نے بڑی محنت سے اس امید پالے پوسے ہوتے کہ مشکل وقت میں بیچ کر اپنا مشکل وقت ٹال لیں گے۔ بادشاہ کے بدقماش اعمال ان قیمتی جانوروں پہ بھی قبضہ جمالیتے۔بس چلتا تو کسانوں کی جوان بہو بیٹیوں کو بھی اٹھا لے جاتے۔ اور کسان خوف سے اپنی جوان بہو بیٹیوں کو بادشاہ کے بدقماش اعمال سے چھپا کر رکھتے۔ الغرض اس بادشاہ کے دور میں کوئی ایسا ظلم نہیں تھا جو رعایا پہ نہ ڈھایا جاتا رہا ہو۔ زندہ تو زندہ بادشاہ تو اپنی رعایا کے مُردوں کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ اسکی ریاست میں رعایا میں سے جو کوئی بھی مرے اسے دفنانے سے سے پہلے مُردے کو بادشاہ کے محلوں کے ارد گرد متواتر رات دن گھما کر دفن کیا جائے ۔ ایسا کرنے کومردہ خراب کرنا کہا جاتا تھا۔ مرنے والے کے بے چارے لواحقین سارا دن اور ساری رات میت کو سر پہ اٹھائے بادشاہ کے محلوں کے گرد خوار ہوتے اور تب کہیں جا کر بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہونے پہ میت دفنانے کی اجازت ملتی ۔
مخلوق خدا ا س بادشاہ سے بہت تنگ تھی ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ بیمار ہوا اور مرگ الموت نے اسے آن گھیرا۔ اِس ظالم بادشاہ کو ہر ظالم بادشاہ کی طرح یہ فکر دامن گیر ہوئی۔ کہ اُس نے ساری عمر کوئی ایسا کام نہیں کیا۔ جس پہ اسکے مرنے کے  بعد اسکی رعایا سے اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ جبکہ اس نے ایسے بہت سے اقدام البتہ ضرور کر رکھے ہیں۔ کہ اسکے مرنے کے بعد رعایا اسے ہمیشہ برے الفاظ میں یاد کرے ۔اسی فکر میں پریشاں ہو کر بادشاہ نے اپنےولیعہد شہزادے کو طلب کیا ۔اور اسے اپنا مدعا بیان کیا ۔
"کہ دیکھو میں نے اس بادشاہت کی حفاظت کے لئیے۔ جو اب تمہیں ملے گی ۔ بہت سے ایسے اقدام کئیے ہیں جن پہ رعایا مجھ سے ناخوش ہے ۔ اور اب میرا مرنے کا وقت قریب آگیا ہے ۔اسلئیے تُم پہ لازم ہے کہ میرے مرنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات اٹھانا کہ رعایا مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرے۔”
شہزادے نے جواب دیا ” بادشاہ سلامت ہماری جاں بھی آپ پہ قرباں ۔اللہ آپ کا اقبال سلامت رکھے اور آپکا سایہ ہمارے سروں پہ ہمیشہ کے لئیے سلامت رکھے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ضرور ایسے قدامات کریں گے جس سے رعایا آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرے”
اُسی رات بادشاہ مر گیا۔ ولیعہد بادشاہ بن بیٹھا ۔ ولیعہد نے بادشاہ بنتے ہی فرمان جاری کیا کہ
"آج سے ہماری ریاست کی عملداری میں جو بھی فرد مرے ۔ اسکی میت کو ننگا کرکے ۔ ایک لٹھ کے ساتھ الٹا لٹکا کر متواتر تین دن تک میرے محلات کے گرد گھُما نے کے بعد دفنایا جائے”۔
رعایا بے اختیار چیخ اُٹھی ” اس خبیث سے تو اسکا باپ ہی اچھا تھا جو مردوں کو ننگا نہیں کرتا تھا اور صرف ایک رات دن میں انکی جان چھوٹ جاتی تھی ”
راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کانام ۲۰۰۹ء میں اکتیس دسمبر تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں پہ اس لئیے دیا گیا کہ موصوف پہ الزام ہے ۔جب یہ وزیر بجلی تھے تو انہوں نے قوم کے خزانے سے سے کرایے کے بجلی گھروں کی مد میں اربوں روپے نکلوائے اور ان اربوں روپے کی کرپشن میں ہاتھ رنگنے کے لئیے قوم کو دو ہزار نو کی اکتیس دسمبر تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مژدہ جان افزاء سنایا اور جھوٹے وعدوں کی آڑ میں اربوں روپے پار لگا دیے اور انہی کے ہم عصر ایک وزیر نے یہ معاملہ سپریم کوٹ میں اٹھا رکھا ہے ۔
پاکستان میں اگر عام انتخابات کچھ ماہ قبل کروا دئیے جاتے تو ملک کو درپیش کئی ایک بحرانوں سے نمٹنے کی صورت نکل آتی ۔ دنیا میں کئی ایک مثالیں ملتی ہے کہ پاکستان کے حکومتی بحران سے سے بھی کہیں کم تر حکومتی بحران پہ حکومت نے نئے الیکشن کا اعلان کردیا جبکہ نئے الیکشن میں ابھی دو سال رہتے تھے۔ زرداری اور حکومتی کرتا دھرتاؤں کو بھی علم تھا کہ گیلانی کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کوئی ناگہانی یا اچانک رُونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ اس بارے حکومت بھی آگاہ تھی ۔ جبکہ اگر زرادری ملک سے خیر خواہ ہوتے تو تبھی سے انھیں ملک میں عبوری حکومت تیار رکھنی چائیے تھی اور نئے عام انتخابات کا اعلان کر دینا چاہئیے تھا ۔ مگر پاکستان کی ایسی قسمت کہاں۔ یوں ہونا ابھی  پاکستان کے نصیبوں میں نہیں۔ بجلی کے کرائے گھروں کی مد میں اربوں کی مبینہ رشوت کے الزمات کا سامنا کرنے پہ راجہ رینٹل کا نام پانے والے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنائے جانے پہ زرداری کے اس مقولے پہ قربان ہو جانے پہ دل کرتا ہے کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے” خدایا ! قوم بجلی اور توانائی کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے ۔ ہر فرد بجلی کی آرزو میں جاں بلب ہورہا ہے۔قریب ہے کہ ملک انارکی اور خانہ جنگی کا شکار ہوجائے اور ایسے میں ایک ایسے سابقہ وزیر کو وزیر اعظم بنا دینا۔جو اس سارے ڈرامے کا مرکزی مبینہ ملزم گردانا جاتا ہے۔ایسا کرنے سے تو محض یہی ثابت ہوتا ہےکہ یہ قوم سے واقعی” بہترین انتقام ” ہے ۔کہ ان سے تو شاہ گیلانی ہی اچھےتھے۔ کم ازکم گریجویٹ وزیر اعظم تو تھے۔بادشاہوں کے دور اور تاریخ میں درج "ایک دفعہ کا ذکر ہے” پاکستان کے بادشاہوں کے بارے ” کئی دفعہ کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر روز کا ذکر ہے "کہ رعایا بار بار کہتی ہے کہ زرداری سے مشرف ہی بہتر تھا۔ اور کچھ دن جاتے ہیں کہ رعایا یہ کہنے پہ مجبور ہوگی راجہ رینٹل کی بجائے شاہ گیلانی ہی اچھا وزیر اعظم تھا۔ کیونکہ بادشاہ کے ولیعہد کی طرح راجہ صاحب نے آتے ہی وزارت پانی بجلی اور اسی وساطت سے کرایے کے بجلی گھرو ں پہ نظر عنائت کی ابتداء کر دی ہے ۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق” ۔۔۔وزير اعظم کي ہدايت پر وزارت پاني و بجلي فعال” اب عنقریب قوم چیخ چیخ کر گیلانی کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔

Javed Gondal Barcelona Spain جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔اسپین ۲۴ جون دو ہزار بارہ ۲۰۱۲ء
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: