RSS

Tag Archives: قتل

یومِ تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏۔


youm e khtam e naboowaut

youm e khtam e naboowaut


یومِ تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏۔
فتنہِ قادیانیت اور پاکستان


7 ستمبر 1974ء ۔سات ستمبر انیس چوہتر سنہ ء کا دن۔ پاکستان کی تاریخ کا تابناک دن ہے ۔جس دن قادیانیوں ، المعروف مرزائیوں۔ المعروف احمدیوں بشمول لاہوری گروپ کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے متفقہ طور پہ آئین کی رُو سے کافر قرار دیا گیا تھا ۔اور اس مرحلے تک پہنچنے کے لئیے مسلمانوں نے اپنی ان گنت جانوں کا نذارنہ پیش کیا تھا۔ اور ایک نہائیت لمبی ۔ کھٹن اور صبر آزماجدو جہد کی تھی ۔اور اگر اس طویل جد و جہد پہ روشنی ڈالی جائے ۔تو بلا مبالغہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئیے کی گئی کوششوں کو بیان کرنے کے لئیے ۔کئی صخیم کتب لکھنی درکار ہونگی ۔ اسلئیے ہم کوشش کریں گے کہ دین اسلام کے اس موجودہ اور تاریخ اسلام کے غالباً سب سے بڑے فتنے ” قادیانیت“  پہ اپنی سی حد تک روشنی ڈالیں۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ اسلام کی اساسی بنیاد کھڑی ہے ۔اگر عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ آنچ آتی ہے تو براہِ راست ایمان اور اسلام پہ آنچ آتی ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور دو سو سے زائد احادیثِ نبوی ﷺ موجود ہیں۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کے دعویدار پہ فرض اور یومِ قیامت کو نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا باعث ہے۔
عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ پوری مسلمان امت کا قرون ِ اولٰی سے یہ اجماع رہاہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ اور نبوت نبی کریم محمد ﷺ پہ ختم ہے ۔ اور تحفظِ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے کے لئیے مسلمانوں کو بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئیے ۔

تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہے کہ خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران اسلام کی خاطر جان دینے والے۔ بشمول بڑے ۔ بچے ۔ خواتین اورضعیفوں  کے۔  شہداءکی کل تعداد دو سو اناسٹھ 259 تھی ۔ کفار کے جہنم واصل ہونے والوں کی کل تعداد سات سو اناسٹھ 759 تھی۔ جو کل ملا کر ایک ہزار ایک سو اٹھارہ 1018 بنتی ہے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں جب مسلیمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعواہ کیا ۔تو عقیدہ ختم ِ نبوت کے تحفظ کی خاطر جنگ میں بائیس ہزار 22000 مرتدین کو تہہ تہیغ کیا گیا۔ اور بارہ سو کے قریب 1200کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جامِ شہادت نوش کیا ۔ جن میں سے چھ سو 600 قران کریم کے حافظ اور قاری رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ اس جنگ میں غزوہ بدر کے غازی اصحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ یعنی اس بات سے اندازہ لگایا جائے کہ تحفظ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی خاطر صرف ایک جنگ میں نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں شہید ہونے والے کل شہداء  سے  کئی گنا زائد مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے۔ اور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں جہنم واصل ہونے والے  کافروں  سے  کئی گنا زائد مرتد  محض اس  ایک جنگ میں قتل ہوئے ۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ مسلمانوں کے نزدیک اس قدر حساس عقیدہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺکے بعد نبوت کے کسی مدعی سے اسکی نبوت کی دلیل یا معجزہ مانگنا بھی اس قدر بڑا گناہ ہے کہ اسے کفر قرار دیا ہے۔ یعنی ایک مسلمان کا عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ اس قدر ایمان مضبوط ہونا چاہئیے کہ وہ نبوت کے دعویداروں سے اسکی نبوت کی دلیل یا معجزہ نہ مانگے ۔ بلکہ نبوت کے جھوٹے دعویدار کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق سزا دے ۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے لئیے اپنا کردار ادا کرے ۔ نئی نسل اور آئیندہ نسلوں کے ایمان کی حفاظت کی خاطر قادیانیت کے کفر اور ارتداد کا پردہ چاک کرے تانکہ روز قیامت سرخرو ہو اور خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

قادیانی اپنے آپ کو’’ احمدی ‘‘کہلواتے ہیں ۔ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر شمار کرتے ہیں ۔ اور اس رُو سے قادیانی نہ صرف کافر ہیں بلکہ زندیق بھی ہیں ۔ جو اپنے کفر کو دہوکے سے اسلام اور اسلام کو کفر بیان کرتے ہیں۔ اور یوں مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔قادیانیوں کے نزدیک جس دین میں نبوت جاری نہ ہو وہ دین مردہ دین ہے۔اور یوں قادیانی ۔ اسلام کو نعوذ باللہ مردہ دین قرار دیتے ہیں۔قادیانیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر لٹکا ئے گئے۔ قادیانی مکہ مکرمہ کی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دیتے ہیں ۔انگریز کی اطاعت کو واجب قرار دیتے ہیں ۔اور انگریزوں کی ہدایت پہ مرزا نے جہاد کو غداری قرار دیا ۔قادیانی جہاد کے خلاف ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیان کے بارے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ستمبر 1951 ء میں کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔ ”تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے۔ اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قدوقامت میں تناسب نہ تھا۔ اخلاق کا جنازہ تھا۔ کریکٹر کی موت تھی۔ سچ کبھی نہ بولتا تھا۔ معاملات کا درست نہ تھا۔بات کا پکا نہ تھا۔ بزدل اور ٹوڈی تھا۔تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری بھی نہ ہوتی۔ وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا ۔قویٰ میں تناسب ہوتا۔چھاتی45 انچ کی۔کمر ایسی کہ سی آئی ڈی کو بھی پتہ نہ چلتا۔ بہادر بھی ہوتا۔کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا۔ شاعر ہوتا۔ فردوسی وقت ہوتا۔ابوالفضل اس کا پانی بھرتا۔خیام اس کی چاکری کرتا۔غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا۔انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ میاں! آقا ﷺکے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں ۔جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج نبوت و رسالتﷺجس کے سر پر ناز کرے“۔

فتنہ ِ قادیانیت کا بانی اور اسکے جانشین ۔
فتنہ ِ قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد کذاب انگریزی دور میں موجودہ بھارت میں واقع قادیان (تحصیل بٹالہ ،ضلع گورداسپور،مشرقی پنجاب ، بھارت) میں اٹھارہ سو انتالیس یا چالیس 1939 یا 1940 سنہ عیسوی میں پیدا ہوا۔اور اسی قادیان کی مناسبت کی وجہ سے قادیانی اور اسکے فتنے کو قادیانی فتنہ یا قادیانیت قرار دیا گیا ۔جبکہ مرزا ئی ۔ قادیانی اپنے آپ کو احمدی کہلوانے پہ مصر ہیں۔ اور ان میں بھی دو فرقے ہیں ۔ قادیانیوں کا دوسرا فرقہ لاہوری گروپ ہے۔
برصغیر ہندؤستان پہ قابض انگریزوں کی چھتری تلے مرزا غلام احمد قادیان نے 1883ء سے 1908ء تک اپنے آپ کو بتدریج مُلھم۔ محدث۔ مامور مِن اﷲ۔ امام مہدی ۔مثیلِ مسیح۔مسیح ابن مریم۔نبی۔حاملِ صفات باری تعالی ۔ا ور اس کے علاوہ بھی بہت سے لغو۔ متضاد اور اگنت دعوے کئیے ۔ اور دو مئی انیس سو آٹھ 2 مئی 1908 کو ہیضے میں مبتلاء ہو کر لاہور میں ہلاک ہوا۔ جسکے بعد حکیم نور دین اس فتنے کا  جانشین اول (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ اول)ٹہرا۔اور تین مارچ انیس سو چودہ 3 مارچ 1914 سنہ ء کو نوردین کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ قادیان جو اس فتنہِ خباثت کا مرکز تھا۔ اس پہ مرزا غلام احمد قادیان کے بیٹے مرزا محمود نے قبضہ جما لیا۔ اور قادیانی حصے کے دوسرے دھڑے کا سربراہ مرزا محمد علی ٹہرا اور مرزا محمد علی نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا۔

پاک بھارت باؤنڈ ری کمیشن ریڈ کلف کو۔ قادیانیوں نے اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے الگ ظاہر کرتے ہوئے۔ ایک فائل بنا کر دی  کہ  ہم مسلمانوں سے الگ ہیں۔ لہٰذاہ ہمیں قادیان میں الگ ریاست دی جائے ۔ جس پہ پاک بھارت باؤنڈ ری کمیشن نے انکار کر دیا۔ انکار کے بعد مرزا غلام احمد قادیان کے بیٹے مرزا محمود (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ دوئم ) نے پاکستان کے ضلع چنیوٹ میں ایک مقام (چناب نگر) کو ”ربوہ“ کا نام دے کر اسے قادیانیت کا مرکز بنایا۔ مرزا کے جانشین دوئم کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے مرزا ناصر (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ سوئم )نے قادیانیوں کی  جانشینی سنبھالی ۔

10اپریل 1974ء کو رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کو متفقہ طور پہ کافر قرار دیا۔

7ستمبر 1974ء کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی دونوں جماعتوں ۔ قادیانی اور لاہوری گروپ کو ہر دو گروہوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا متفقہ دستوری اور تاریخ ساز فیصلہ کیا ۔ اور آئین کی رُو سے قادیانیوں ۔ بشمول قادیانیوں کے لاہوری گروپ کو کافر قرار دیا ۔اور آئین کی رُو سے قادیانیوں پہ انکے کفر کی وجہ سے  ریاستِ پاکستان میں کلیدی عہدوں پہ پابندی لگا دی گئی۔

9جون 1982ء کو مرزا ناصر کے مرنے کے بعد اس کا چھوٹا بھائی مرزا طاہر قادیانی کفریہ جماعت کا چوتھا سربراہ بنا۔

آئین پاکستان کی رُو سے کافر قرار دئیے جانے کے باوجود قادیانی مرزا غلام احمد قادیان کی پیروی اور اپنی فطرت کے عین مطابق اپنے آپ کو مسلمان قرار دے کر اور مسلمانوں کو کافر قرار دے کر بدستور سادہ لوح مسلمانوں کو دہوکے سے  ورغلاتے رہے ۔ اور اپنے اثر رسوخ میں اضافہ کرنے کی کوششوں سے باز نہ آئے ۔ تو قادیانیوں کو ان کے مذموم کفرانہ عزائم سے باز رکھنے کے لئیے ۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے چھبیس اپریل انیس سو چوراسی ۔26 اپریل1984ء کو’’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘‘ نامی آڑدیننس جاری کیا۔ تو ٹھیک چار دن بعد

یکم مئی 1984ء یکم مئی انیس سو چوراسی کو کو مرزا طاہرپاکستان سے لندن بھاگ گیا اور 18اپریل 2003ء  کو مرنے کے بعد اسے وہیں دفنایا گیا۔

جہاں سے قادیانی بڑے زور شور سے مسلمانوں اور اور خاصکر پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے خلاف متواتر جھوٹا پروپگنڈاہ کرتے ہیں ۔ سادہ لوح مسلمانوں کودہوکہ دے کر  اپنے جال میں پھنساتے ہیں ۔ انہیں باہر سیٹ کروانے کا لالچ دے کر۔ اسلام سے بر گشتہ کرتے ہیں۔ اور قادیانیت کے نام پہ مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ جس سے، جہاں قادیانی کفریہ جماعت کی جھوٹی مظلومیت کا خُوب پروپگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ وہیں کم علم ۔ سادہ اور غریب مسلمانوں کودہوکے سے  ورغلا کر قادیانی اپنی جماعت میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ قادیانیت کے پاکستان کے خلاف مذموم سازشوں کے تانے بانے بھارت اور اسرائیل سے جا ملتے ہیں۔انٹر نیٹ پہ بھی خوب فعال ہیں ۔ لیکن اب دین سے محبت کرنے والے بہت سے مسلمان نوجوانوں نے قادیانیت کے خلاف اور اس کے سدباب کے لئیے بہت سے فوروم اسلام کی حقانیت خاطر  ۔ قادیانیت کے خلاف قائم کر لئیے ہیں ۔ جہاں سے شب و روز قادیانیت کا بھانڈاہ پھوڑنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔اور جب قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دی جائے تو لاجواب ہو کر آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ اور ایک نظام کے تحت تربیتی طور پہ موضوع کو ادہر ادہر گھمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملا اور مولوی صاحبان چونکہ پاکستان میں فتنہ قادیانیت کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ تو قادیانی ملا اور مولوی کی سخت تضحیک کرتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو مولوی اور ملا کے دین کا طعنہ دیتے ہیں۔

قادیانی بھیس بدل کر اور ڈھکے چھپے ابھی تک پاکستان میں اپنے کفرانہ عزائم کا پرچار کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکومتوں میں سیاسی وِ ل ۔ سیاسی خود اعتمادی اور دین سے مکمل شعف نہ ہونے کی وجہ اور عالمی استعمار سے پاکستان کی حکومتوں کا خوفزدہ ہونے کی وجہ سے ۔قادیانی پاکستان میں ابھی تک کُھل کھیل رہے ہیں۔ صرف ایک اس واقعہ سے اندازہ لگا لیں کہ قادیانی پاکستان میں کس قدر مضبوط تھے (اور ابھی تک ہیں ) کہ  مولانا سید ابو اعلٰی موددیؒ کو قادیانیت کے خلاف ”قادیانی مسئلہ “ نامی چھوٹی سی کتاب لکھنے پہ پاکستان میں  مولانا سید مودودی ؒ کو سزائے موت سنائی گئی ۔ جسے اندرونی اور عالمی دباؤ کی وجہ سے عدالت عالیہ نے منسوخ کر دیا ۔ اور مولانا سید ابو اعلٰی موددیؒ نے دو سال گیارہ ماہ جیل کاٹنے کے بعد رہائی پائی ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ چونکہ قادیانی اگر انٹرنیٹ پہ اسلامی اور مسلمان ناموں کے پردے میں مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔ تو یہ معاملہ ریاست پاکستان کی روز مرہ کی زندگی میں اور بھی زیادہ شدید ہوجاتا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے عام مسلمان قادیانیوں سے دہوکہ کھا جاتے ہیں۔ اور اسے مسئلے کو مستقل بنیادوں پہ حل کیا جانا بہت ضروری ہے۔
قادیانی نہ صرف کافر ہیں ۔بلکہ اسلام کے پردے کے پیچھے چھپ کر منافقت کرنے والے منافق ہیں ۔اور مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔ اور صرف اسی پہ بس نہیں بلکہ یہ اپنے کفر کو اسلام اور مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں ۔ اس لئیے زندیق ہیں۔ یعنی جو کافر اپنے آپ کو مسلمان کہلوا کر مسلمان کو کافر کہے۔یوں سادہ لوح مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اسلام کا جھانسہ دے کر ۔دہوکے سے اپنے کفر میں شامل کرتے ہیں۔
قادیانیت مذہب نہیں بلکہ مافیا کارٹیل ہے۔ جو مسلمانوں اور باالخصوص پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئیے پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر نہائت سرگرمی سے مصروف عمل ہے۔ اور اپنے ان مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئیے اس قادیانیت کے ڈانڈے بھارت اور اسرائیل سے جاملتے ہیں۔

چونکہ یہ فتنہ ارتداد اور جھوٹی نبوت کی لعنت انگریزوں کی چھتری تلےبرصغیر میں پیدا ہوئی۔ اور پاکستان بننے کے بعد اس لعنت نے پاکستان میں پرورش پائی۔ اسلئیے آزاد اور اسلامی پاکستان کا یہ فرض بنتا تھا۔ اور بنتا ہے ۔ اور جیسا کہ آئین پاکستان کی رُو سے مرزا غلام احمد قادیانی، مرزائی ۔ المعروف احمدی بشمول لاہوری گروپ ۔ کافر ہیں اور اپنی عبادتگاہوں کو مساجد نہیں کہلوا سکتے۔ کہ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اور اس طرح کی دیگر پابندیاں۔ ان پہ انکے کفر کی وجہ سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی نہ ماننے کی وجہ سے ہیں۔ اسی طرح یہ پاکستان اور پاکستانی مسلم عوام کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری میں آتا تھا۔ اور آتا ہے۔ کہ قادیانیوں ۔ مرزائیوں المعروف احمدیوں کو دین اسلام کے نام پہ انکے کفر اور دہوکہ دہی سے نہ صرف روکا جائے ۔بلکہ باقی دنیا کو انکے بارے مناسب طور پہ آگاہ کیا جائے۔ تانکہ یہ اپنی اسلام دشمنی اور کفر کو اسلام کا نام دے کر۔ سادح لوح مسلمانوں اور غیر مسلموں کو مزیددہوکہ نہ دے سکیں۔

دنیا کے سبھی مذاہب ۔اپنےناموں کی ترتیب کچھ یوں رکھتے ہیں۔ کہ پڑھنے سننے والوں کو انکے بارے علم ہو جاتا ہے ۔کہ وہ کونسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔اور چونکہ بر صغیر میں صدیوں سے مختلف مذاہب رہتے آئے ہیں۔ اور ان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا روز مرہ زندگی میں آپس میں واسطہ پڑنے پہ کسی کے مذہب کے بارے غلط فہمی سے بچنے کے لئیے – اس مسئلے کا حل سبھی مذاہب کے پیروکاروں نے۔ اپنے اپنے مذہب کا برملا اعتراف کرتے ہوئے ۔عوامی سطح پہ حل نکالا ۔کہ اپنے نام اپنے مذاہب کی زبان میں ۔اور اپنی مذہبی کتب میں پائے جانے والے ناموں کو رکھنے میں نکالا ۔مثلا ہنود نے ہندی میں نام رکھے۔ اور مسلمانوں نے عربی یا فارسی کے نام اپنائے۔ اور جہاں مشترکہ ناموں کی وجہ سے دہوکے ہونے کا خدشہ ہوا ۔ وہاں اپنے نام کے ساتھ اپنے مذہب کا لاحقہ لگا دیا ۔ مثلا سکھوں نے سنگھ ،جیسے اقبال سنگھ۔ گلاب سنگھ۔ اور نصرانیوں نے مسیح کا لاحقہ ۔استعمال کیا جیسے ،اقبال مسیح اور یونس مسیح وغیرہ۔ اور ایسا کرنے کے لئیے نہ تو کسی کو مجبور کیا گیا۔ اور نہ ہی یوں کرنے میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں نے اسے اپنے لئیے باعث پریشانی یا ندامت سمجھا ۔بلکہ اپنے اپنے مذہب پہ یقین کی وجہ سے انہیں ایسا کرنے میں کبھی کوئی تامل نہیں ہوا۔جبکہ اسلام دشمن قادیانی ۔ مرزائی المعروف احمدی اسلام اور آئین پاکستان کی رُو سے کافر اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ہونےکے باوجود پاکستان میں ہی مسلمانوں کے نام رکھ کر مسلمانوں کو اپنے کافرانہ عزائم خفیہ رکھتے ہوئے دہوکہ دیتے ہیں۔ اس لئیے


اسلام اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لئیے ہمارا مطالبہ ہے :۔
کہ ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام پہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قادیانیوں المعروف مرزئیوں کو مسلمانوں کے نام رکھنے ۔ لکھنے۔ بیان کرنے سے منع کرے ۔ اگر یوں فوری طور پہ ممکن نہ ہو تو انہیں اپنے ناموں کے ساتھ قادیانی لکھنے۔ اور قادیانی بتانے کا پابند کرے ۔ تانکہ مسلمان ناموں کے پردوں میں چھپ کر قادیانی۔ پاکستانی مسلمانوں کو دہوکہ نہ دے سکیں۔اس کے لئیے ضروری ہے کہ دین ِ اسلام اور اللہ کے آخر ی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے کے تحت آئین پاکستان کی رُو سے آئین میں یہ واضح طور پہ درج کیا جائے ۔ کہ جس طرح پاکستان میں دیگر بسنے والے مذاہب اپنے بارے میں محض نام سے ہی واضح کر دیتے ہیں کہ وہ کونسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تانکہ معاشرے میں روز مرہ آپس کے معاملات میں کسی فرد کو دوسرے کے مذہب کے بارے مغالطہ نہ لگے ۔ اسی طرح قادیانی بھی اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھنے کی پابندی کریں۔

عقیدہ ختم ِ نبوتﷺ کے لئیے عالم اسلام اور بر صغیر کی انگنت شخصیات اور علمائے اکرام نے انتھک محنت کی اور کر رہے ہیں۔ جن سب کا فردا فردا نام گنوانا یہاں ناممکن ہے ۔

قادیانیت کے سدِ باب کے لئیے کام کرنے والی تنظیمیں۔

  • ختم نبوتﷺ فورم :۔
    انٹر نیٹ پہ  ” ختم نبوت ﷺ فورم “ ختمِ نبوت کی تمام تنظیموں  کا ترجمان فورم ہے ۔ اور اس پہ گرانقدر اور بے بہاء اور بہت لگن اور محنت سے نہائت قیمتی کام کیا گیا ہے ۔ اس فورم پہ دلائل کی روشنی میں قادیانیت کے ہر پہلو کو کا پردہ چاک کیا گیا ہے اور قادیانیت کے منہ سے مکر فریب اور دہوکے کا نقاب نوچ کر قادیانیت کا اصل چہر مسلمانوں کو دکھایا گیا ہے ۔عقیدہ تحفظِ ختمِ نبوتﷺ پہ ہر موضوع سے متعقلہ کتابوں کا بے بہا اور گرانقدر خزانہ بھی موجود ہے ۔
  • اسلامک اکیڈمی مانچسٹر ( برطانیہ)۔:
    یہ تنظیم علامہ داکٹر خالد محمود کی نگرانی اور سربراہی میں ۔یوروپی ممالک میں ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کے لئیے کام کرتی ہے۔
  • ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ :۔
    چنیوت میں فتنہ ارتداد قادیانیت کے سدِ باب کے لئیے "جامعہ عربیہ “ کے بانی مولانا منظور احمد چینوٹی ؒ نے ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ قائم کیا اور اسکی ایک شاخ ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ واشنگٹن میں بھی قائم ہے ۔
  • عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتﷺ :۔
    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ اور جنرل سیکرٹری مولانا محمد علی جالندھری منتخب ہوئے تھے ۔مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور منکرین ختم نبوت کے مقابل ختم نبوت کی تبلیغ کرتی ہے ۔ اس کی صدارت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ نے بھی فرمائی۔ایک ہفتہ روزہ ’’ختم نبوت‘‘شائع ہوتا ہے ۔پاکستان اور پاکستان س ے باہر لندن میں انکے دفاتر موجود ہیں۔تحریری مواد اور تحقیقی کام کے حوالے سےحضرت انورشاہ کشمیری ۔ شہید اسلام مولا نامحمدیوسف لدھیانوی اور مولانا اﷲ وسایا کے اسمائے گرامی بہت نمایاں ہیں۔موجودہ امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی ہیں۔
    تحریک تحفظ ختم نبوتﷺ :۔ اکیس اور بائیس ۔ 21 اور 22 جولائی 1934ء کوعالمی مجلس احرار اسلام نے مولاناحبیب الرحمن لدھیانوی کے زیر قیادت ختم نبوت کے تحفظ کیلئے قادیان میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی ۔جس کی صدارت امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ نے کی تھی۔عالمی مجلس احرار اسلام کا کام ابھی تک موجودہ دور میں فعال ہے اور اب اس کو تحریک تحفظ ختم نبوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔
  • انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹﷺ :۔
    14 اگست1995ء مورخہ 17ربیع الاول 1416ھ کو ’’انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ ‘‘قائم کی گئی جس کا مرکزی دفتر لندن میں واقع ہے۔
  • ختم نبوتﷺ اکیڈیمی :۔(انگلینڈ)
    جسکے سربراہ مولانا سہیل باوا ہیں۔
  • آل انڈیا مجلس تحفظ ختم نبوت ﷺدیوبند (بھارت)
  • مجلس تحفظ ختم نبوتﷺ ڈھاکہ (بنگلہ دیش)
  • انجمن فدایان ختم نبوت ملتان(پاکستان)
  • تحریک پاسبان ختم نبوت (جرمنی)

اسکے علاوہ پاکستان کے اندر اور باہر بہت سی شخصیات اور تنظیمیں فتنہ ارتداد و کفر ”قادیانیت“ کے سدِ باب کے لئیے کام کر رہی ہیں ۔ مگر پاکستانی حکومتوں کی سیاسی ول اور سیاسی خود اعتمادی میں کمی اور قادیانیت کے خلاف پاکستان کے آئین کو بروئے کار لانے میں پس و پیش کی وجہ سے قادیانیت کا فتنہ ۔اسلام اور پاکستان کے خلاف پاکستان کے اندر اور باہر بدستور سازشیں کر رہا ہے ۔ اسلئیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت پہ پاکستانی عوام دباؤ ڈالیں تانکہ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے لئیے آئین اور اسلام کی روح کے مطابق آئین پاکستان پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے ۔

ختم نبوت  ﷺ فورم  کا لنک  http://khatmenbuwat.org/

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔


ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔

خدایا۔ اب اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان پہ چڑھائی کردیتا ہے اور قبضہ کرلیتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے عوام کو ئی مزاحمت نہیں کریں گے کہ ہم اسی قابل ہیں ۔ ہم انسانیت کے ہر معیار سے گرچکے ہیں۔ سیالکوٹ کے واقعہ میں دو حافظ برادران کا قتل ۔ اخروٹ اباد میں غیرمسلح مسافر فیملی کا سفاک قتل۔ سلیم شہزاد کا نیوی کی اہلیت پہ سوال اٹھائے جانے کی وجہ سے سلیم شہزاد کا مشکوک قتل جس کا شک پاکستانی خفیہ دفاعی اداروں پہ کیا جارہا ہے۔جو ممکن ہے غلط ہو ۔مگر کچھ لوگ اس بارے بڑے وثوق سے بات کرتے ہیں اور آخر میں اس سترہ سالے لڑکے کا قتل۔ خواہ اس سے نقلی پستول ہی کیوں نہ برآمد ہوا ہو اور اسکی نیت پارک میں کسی واردات کی ہی کیوں نہ تھی۔ مگر ایک ایسے جرم کی سزا بغیر کسی قاضی۔ شہادت ۔ گواہی۔ مقدمے۔اور صفائی کا موقع دئیے بغیر جرم کی سنگینی سے کہیں زیادہ سزا یعنی سفاک قتل ۔ خدا ہمیں بہ حیثیت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے معاف کرے۔ وہ منت کرتا رہا ۔ ہسپتال لے جانے کی سماجت کرتا رہا ۔ گولی چلائے جانے سے قبل اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تھی۔ اسطرح کسی ماں کی آغوش اجاڑ دینا ظلم ہے اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔

ممکن ہے اس بدنصیب نے محسوس کر لیا ہو کہ اسے اب جان سے مار دیا جائے گا اور وہ لڑکا گولی چلانے والے اہلکار کی طرف بڑہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ اہلکار اس حرکت کو رائفل چھینے پہ منبطق کرتا ہے اور وہ ایک دفاعی ادارے کا تربیت یافتہ ملازم ہونے کے باوجود محض خوفزدہ ہوتے ہوئے گولی چلا دیتا ہے ۔ تو وہی بات آتی ہے کیا وہ لڑکا اتنا بے وقوف تھا کہ اتنے اہلکاروں کی موجودگی میں ایک رینجر کی رائفل چھیننے کی کوشش کرے؟۔ جس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ رینجرز کے اتنے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے اگر انہیں غصہ ہی تھا تو اسکو چند تھپڑ مار لیتے۔ بوٹوں سے ٹھوکریں اور ٹھڈے مار لیتے۔ مگر جب کہ اتنے لوگ اگر اسے دو دو چانٹے ہی لگا دیتے وہ ویسے ہی ادھ مواء ہوجاتا ۔ پھر وہ نہتا تھا اس کی تلاشی لیکر اسے ہتکڑی لگا سکتے تھے۔ اسے مارتے جو کہ پاکستانی پولیس اور اسطرح کے اداروں کا عام رویہ ہے مگر یوں اتنی سنگدلی سے وہ جان سے گزر گیا اور اتنے وردی پوشوں کا دل نہ پسیچا کہ اسے ہسپتال ہی پہنچا دیں۔ کچھ وقت کے لئیے مان لیتے ہیں ۔ تصور کر لیتے ہیں ۔ کہ اس نے رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔ اسنے نہتے ہاتھوں مقابلہ کرنا چاہا ۔ کہ ایک مرے ہوئے پہ جتنے مرضی الزام لگا دیں کونسا اسنے اٹھ کر ایسے الزامات کی تردید کرنی ہوتی ہے۔ مگر کیا گولی چلائے جانے کے بعد وہ قطرہ قطرہ خون بہاتا جان سے گزر گیا مگر کوئی اسکی مدد کو نہ آیا ۔ کسی ایک وردی پوش کا دل نہ پسیچا کہ وہ باقیوں کو آمادہ کرے کہ اسے ہسپتال لے چلیں۔ اسکا خون بند کردیں۔

اس قتل کی سفاکی سے وہ سارے افسانے درست معلوم ہوتے ہیں۔ جس میں پاکستان کے شمالی علاقوں۔ خیبر پختونخواہ اور ایجنسیوں میں قومی دفاعی اداروں پہ لگائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں جو ہماری جنگ کبھی نہیں تھی۔ محض غیروں کی سازش اور مشرف کی بزدلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور دفاعی اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش تھی۔ پاکستانی حکومت اور ملک رحمٰن جو امریکی مفادات کا اسقدر خیال رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بے بسی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور مجبوری کو دوروز پہلے عوام نے براہ راست ٹی وی پہ دیکھا۔ جس میں پشاور میں ایک فور بائی فور گاڑی میں سوار اور جعلی نمبر پلیٹ ہونے کے باوجود چار امریکی پاکستانی پولیس کو تلاشی دینی تو دور کی بات ہے۔ ان سے بات تک کرنے کے روادار نہیں تھے۔ انہوں نے فون ملائے اور بقول اخباری اطلاعات رحمٰن ملک کا فون آگیا۔ کہ انھیں باعزت روانہ کر دیا جائے۔جبکہ اس نام نہاد جنگ میں جس میں پورا پاکستان پور پور خون بہارہا ہے۔ جس میں پاکستان کے دفاعی ادارے بجائے اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کر رہے ہیں۔ جس میں پاکستان کے لوگ کام آرہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا پاکستان ایک مفتوح ملک ہے اور اس کے عوام دشمن ملک کے عوام ہیں۔ گھروں کے گھر اجڑ گئے۔ بستیاں تباہ ہوگئیں۔ گاؤں کے گاؤں کھنڈر ہوگئے۔ ڈرون حملوں سے لیکر اپنی ہی فوج کے توپخانے اور ایف سولہ جہازوں سے پاکستانی قوم ۔ عام عوام لہولہان ہو رہے ہیں۔ اور پاکستان کے دشمن ہماری اپنی ابوالعجمیوں کی وجہ سے ہم پہ قسم قسم کے دہشت گرد مقرر کرتے جارہے ہیں ۔ جو اداروں سے بچ جاتے ہیں دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ مسجدوں پہ پہرے اور چہروں پہ خوف منجمد ہے۔

آج بھی رحمن ملک کے بیان کے مطابق اس لڑکے نے رینجرز سے رائفل چھیننے کی کوشش کی تھی۔ ملک رحمن جو وزیر داخلہ ہونے کے ناطے اس سفاک قتل کی زمہ دار گردانا چاہئیے ۔ کسی مہذب ملک میں یوں ہوتا تو بہت ممکن تھا وزیر داخلہ کے ساتھ وزیر اعظم یعنی پوری حکومت مستعفٰی ہوجاتی۔ مگر نہیں یہ پاکستان ہے ۔ جس میں ہم نے اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے چور ڈاکو اور لٹیرے حکومت کے اعلٰی تریں مناصب پہ اپنے ہاتھوں سے بٹھا رکھے ہیں ۔ انھیں ہم دیوتا سے کم ماننے کو تیار نہیں۔ جب اعلٰی ترین مناصب پہ اسطرح کے لوگ ہوں گے تو اپکی پولیس بھی بدمعاش ہوگی ۔ آپکے ادارے بھی شتر بے مہار ہونگے۔ ڈاکو قاتل بھی کسی قسم کی اخلاقیات کے قائل نہیں ہونگے۔ اور عام شہری بھی اس راز کو پا جائے گا ۔کہ بے وقوف اس دنیا میں وہ ہے جو شرافت سے اپنے حقوق کا انتظار کرے۔

جب دنیا کے غریب ترین۔ ناخواندہ ترین۔ کرپٹ ترین ملکوں میں شمار ہونے والا ایک ملک ۔ اسکے حکمران محض مزید لوٹ مار کے لئیے اقتدار کے سنگھاسن سے ہر صورت میں چمٹے رہیں گے ۔ اور بجائے اپنے عوام، اپنی قوم، اور اپنے ملک کے حالات بدلنے کی بجائے ایک ہشت پہلو اور بے چہرہ جنگ کو جو ہماری کم اور اغیار کی زیادہ ہے ایسی بے ننگ و بے شرم جنگ جس میں پاکستان کا وقار گیا۔ خود مختاری گئی۔ عوام کے دلوں سے اپنے دفاعی اداروں کا احترام گیا۔ جس میں پاکستان کے اداروں کے اہلکار ،فوجی جوان اور افسر اور عوام مارے گئے۔ لہولہان ہوئے۔ جس سے ملک کی معاشی حالت گلی محلے کی کریانے کی دوکان کی طرح زمین سے آلگی۔ جس جنگ کی وجہ سے ملک میں کوئی سرمایہ داری کرنے کوتیار نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی اپنا سرمایہ باہر لے جارہے ہیں ۔ اپنی صنعتیں باہر منتقل کر رہے ہیں۔ جس جنگ کی وجہ سے عوام کو توانائی یعنی تیل۔ بجلی ۔پٹرول اور آٹا ۔چینی۔ چاول ۔الغرض دو وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ جسکے شہری روزی روٹی کی خاطر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ رہے ہیں یا بچے بیچنے پہ مجبور ہیں اور جب کچھ نہ بن سکے تو خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ننگ ملک جنگ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جس میں پاکستان کا کوئی ایک پہلو محفوظ نہیں ۔ جس میں پاکستان کا کوئی مفاد آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جس سے پاکستان کو بجائے فائدہ ہونے کے سراسر ہر قسم کے نقصان ہوئے ہیں۔ جو پچھلی ایک دہائی سے زائد پہ محیط جاری ہے کہ اس دوارن ایک نسل جوان ہوچکی ہے۔ جس جنگ کے دواران ہماری ساری توانائی اور توجہ اس نام نہاد جنگ کی طرف رہی ہے اور اس دروان دشمن نے پاکستان کے اندر اپنے ہر قسم کے مفاد کے لئیے خوب آبیاری کی ہے۔ ہمیں صوبائی۔ لسانی ۔ مسلکی۔ اور علاقائی تعصب میں جکڑ کر رکھ دیا ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں جو پاکستان کی پمپنگ مشین ہے جس پہ اسے بجا طور پہ پاکستان کا دل کہا جاسکتا ہے۔ اسمیں پٹھان مہاجروں ۔ پنجابیوں، سندھیوں ،بلوچیوں کو مار رہے ہیں۔ مہاجر پٹھانوں کو پنجابیوں کو، سندھیوں کو ، بلوچیوں یعنی ہر غیر مہاجروں کو زمین برد کر رہے ہیں اور پنجابی۔ مہاجروں کو پٹھانوں کو بلوچیوں سندھیوں کو اور بلوچی۔ پنجابیوں کو پٹھانوں کو مہاجروں کوسندھیوں کو مار رہے ہیں۔ جبکہ یہ سارے پاکستانی پاکستانیوں کو مار رہے ہیں۔ مسلمان مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ کیا انہیں سوچنا نہیں چاہئیے کہ دشمن کا کام ہم نے کسقدر آسان کر دیا۔ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے عیار دشمن نے ہمیں اسکی جنگ لڑنے پہ مجبور کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے اندر کئی طرح کے ناسور کاشت کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ تو کیا وہ وقت ابھی بھی نہیں آیا کہ اس جنگ جس میں ہمارا سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور باقی کا بچا کچا تباہ ہونے کو ہے ۔ ہم اس جنگ سے ہاتھ کینھچتے ہوئے اپنے ان معاملات جیسے تعلیم ۔صحت ۔روزگار ۔ توانائی کی بحالی اور اسطرح کے ان اہم امور پہ توجہ دیں جس سے ملک بنتے ہیں۔ شخصیتوں کی بجائے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ امن اور روزگار کی وجہ سے عام عوام مایوسی سے نکل کر مثبت سوچ اپناتے ہیں۔ انکی سیاسی بالیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سارے وسائل پاکستان کے عوام پہ استعمال کریں۔ انہیں شعور بخشیں۔انکے مسائل حل کریں۔ اور گھر گھر کے سامنے بندوق تانے اہلکاروں اور فوج کو سرحدوں کی نگرانی پہ بیجھا جائے۔ قانون ساز ادارےاپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو اولیت دے کر انکی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔سکون ہو ۔ اور پورے ملک کے طول وعرض میں لگی آگ بجھے۔ بہت ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے معذرت کرنے کی وجہ سے اگر پھر باہر سے ۔ سرحدوں کی طرف سے ہم پہ جنگ مسلط کی جاتی ہے ۔ تو عوام بھی اداروں کے۔ فوج کے شانہ بشانہ ہونگے، اور دوبدو جنگوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔جیسے جاپان اور جرمنی جنگ ہار کر پھر سے سب سے اگلی صحفوں پہ کھڑے ہیں۔ اسلئیے اگر خداہ نخواستہ ہم باہر سے مسلط کی گئی دوبدو جنگ ہار بھی گئے۔ تو پھر سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے،

اور دل میں یہ صدمہ نہیں ہوگا کہ ہم نے غیروں کی جنگ میں خوار ہو کر اپنے ہی کم عمر نہتے نوجوانوں کو سفاکی سے قتل کرڈالا۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: