RSS

Tag Archives: صدیوں

پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔


پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔whats-your-name

ہمارے ملک میں عام طور پہ بچے کے دو نام رکھے جاتے ہیں ۔
بچے کی علیحدہ سے شناخت کے لئے۔ اسکا نام ۔اس کے والد کا نام ۔ قبیلہ ۔ اور ذات، برادری بمعہ محلہ ،بستی، گاؤں ،گوٹھ ، ڈاک خانہ ،شہر ،تحصیل و ضلع۔ لکھ دیا جاتا ہے ۔
مگر اس کے باوجود ایک ہی محلے میں ایک ہی جیسے ناموں والے دو یا تین لوگ پائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اجنبی لوگوں کو کسی خاص فرد کی تلاش و بسیار میں اور محکموں کی کسی ضروری کاروائی کے دوران بہت سے لطیفے جنم لیتے رہتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایک نام کے کئی افراد ہونے کی وجہ سے پریشان کُن اور افسوس ناک صورتحال بن جاتی ہے۔ خط ایک ہی جیسے نام والے دوسرے افراد کو پہنچ جاتا ہے ۔یا مغالطہ میں لوگ غلط فرد سے معاملات کر لیتے ہیں۔
جبکہ بہت سے ممالک میں باپ کا خاندانی (بعض ملکوں میں قبائلی) نام اور ماں کا خاندانی نام بچے کے نام کے ساتھ لازمی جز کے طور لکھا جاتا ہے جو تا حیات اس کے نام کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اور صرف نام سے ہی کسی کو الگ سے شناخت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ کیونکہ صدیوں سے رائج ایسے ناموں کے نظام میں انتہائی مشکل سے ہی شاید کبھی دو ایک جیسے نام اور باپ کا خاندانی اور ماں کا خاندانی نام یعنی یہ نام دو یا دو سے زائد افراد کے ہوں۔
یوں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر عام اداروں اور لوگوں کو بھی کسی سے رابطہ کرنے ، اور درست فرد کے ساتھ معاملات کرنے میں دشواری نہیں ہوتی ۔
پاکستان میں تو شناخت کئی طریقوں سے کروا ئی جا سکتی ہے۔ اور ایک دیسی طرز کے ہمارے نظام میں کئی لوگ کسی کی شہادت اور شناخت میں مدد گار ہوں گے۔ اور شناختی کارڈ بننے سے یہ مسئلہ کچھ بہتر ہوا ہے ۔ حالانکہ آج بھی پاکستان میں عام آدمی کم ہی کسی کو اسکی شناختی کارڈ کی وجہ سے شناخت کرتا ہے ۔ عام طور پہ ارد گرد کے لوگ ہی سوال و جواب کی صورت پتہ و مقام بتا دیتے ہیں۔
مگر جب پاکستانی اپنے ممالک سے باہر جاتے ہیں تو وہاں پہ فیملی نام نہ ہونے کی وجہ سے اور ایک ہی شہر میں ایک ہی نام سے دو سے زائد پاکستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف دہ صورتحال جنم لیتی ہیں ۔ جس میں بنکوں کے اکاؤنٹ بلاک ہونے سے لیکر مختلف محکموں کے واجبات اور بل اور جرمانے وغیرہ ان لوگوں کے اکاؤنٹ سے کٹ جاتے ہیں جو ایک جیسے نام کی وجہ سے یہ تکلیف بھگتتے ہیں اور بعدمیں صورتحال کا درست علم ہونے پہ۔متعلقہ اداروں سے اپنی رقم واپس لینے کے لئے سر پھٹول کرتے پائے جاتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو رقم کی وصولی ۔یا پاکستان رقم بھیجنے پہ محض اس لئے نہیں وصول کی گئی کہ بھیجنے والے یا وصول کرنے والے کا نام بلیک لسٹ کیے جانے والے کسی مبینہ دہشت گرد کے نام کی طرح نام تھا۔
پاکستانی اداروں اور خاص کر ۔ نادرہ ۔ کو اس صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ تانکہ بہت سے لوگ غیر ضروری طور پہ اس طرح کی صورتحال سے بچ سکیں ۔ نیز انہیں کسی سطح پہ یہ اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ دیگر ممالک کے محکمہ داخلہ کے علم میں یہ بات لائی جائے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش پہ عام طور پہ محض دو نام رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن کا خاندانی نام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بچے کے نام کے ساتھ خاندانی نام رکھنے کی پابندی نہیں اور نہ ہی اس کا رواج ہے۔ تانکہ ایک ہی جیسے نام رکھنے والے پاکستانیوں کو در پیش مشکلات میں سرکاری اداروں کو رہنمائی ہو سکے اور غیر متعلقہ لوگ عتاب یا پریشانیوں کا باعث نہ بنیں ۔
اسی طرح ایک اور مسئلہ جو بہت اہم ہے ۔ وہ ہے مقامی ، اردو، عربی اور فارسی کے ناموں کو انگریزی میں درج کرتے ہوئے انکے درست ہجوں کا ۔ مثال کے طور پہ ۔ محمد کو انگریزی میں لکھتے ہوئے ۔ بہت سے سرکاری ادارے اور خاص کر پا سپورٹ آ فسوں میں کلرک حضرات Mohammed اور Muhammad ان دو طریقوں سے لکھتے ہیں ۔ یعنی کہیں انگریزی کا حرف ”یُو“ ۔ اور کہیں انگریزی کا حرف ”او“ کے ساتھ ”محمد “ لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ پاکستان میں بہت سے ناموں کے ساتھ ہے ۔۔ جن میں ۔جاوید۔ صدیق۔ اور دیگر کئی نام آتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے کلرک بابو ۔ ایک ہی فرد کا نام ۔ پاسپورٹ۔ اور دیگر کئی دستاویزات ۔ برتھ سرٹیفیکٹ ۔ نکاح نامہ وغیرہ پہ جن کا انگریزی میں ترجمہ کروانے پہ ۔ مختلف ہجوں سے لکھ دیا جاتا ہے ۔ جس سے غیر ممالک میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔ بلکہ سائل کو کئی بار اور کئی ماہ دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور خواری الگ سے ہوتی ہے۔
ہماری ذاتی رائے میں ۔ حکومت پاکستان کی ایماء پہ۔ نادرہ پاکستان میں رائج اور مستعمل ناموں کی ایک فہرست تیار کرے اور اسے لغات کی طرز پہ اردو کے سامنے درست انگریزی نام تجویز کرے۔ اور اس فہرست کو سبھی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھیج دیا جائے اور عام افراد کے لئیے اسے نادرہ کی ویب سائٹ پہ آن لائن شائع کر دیا جائے ۔تانکہ عام افراد اور نجی ادارے بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ نیز سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو آئیندہ کے لئیے پابند کیا جائے کہ وہ نادرہ کے۔ منظور و شائع کردہ ۔درست نام کے ساتھ دستاویزات جاری کریں گے۔ تانکہ مستقبل میں ایسی الجھنوں سے بچا جاسکے۔
کسی بھی حکومت ۔ متعلقہ اداروں اور ذمہ دار افراد کے لئیے یہ ایک معمولی مسئلہ ہے ۔ جسے حل کرنا چندا ںمشکل نہیں ۔ جس سے ۔اندرون و بیرون ملک پاکستانی بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔اور ملک کی جگ ہنسائی نہیں ہوگی۔

 

 

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

بونے، دیو، اور ٹھگ۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کسی جگہ بھلے مانسوں کے کچھ گروہ نسلوں سے رہتے آرہے تھے۔ انکا پیشہ کھیتی باڑی کرنا تھا۔ ان میں کچھ ٹھگ بھی رہتے تھے۔ٹھگوں نے انہیں نسل درنسل یہ احساس دلا دیا تھا کہ وہ بھلے مانس تو "بونے "۔ ہیں۔ اسلئیے انھیں باقی دنیا اور اسکے بدلتے حالات سے کیا لینا دینا۔ جبکہ وہ بھلے مانس واقعی میں اپنے آپ کو بونا سمجھنے لگے۔اسلئیے انھیں بھی اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا کہ باقی دنیا بھی انھیں "بونے "۔ کہہ کر پکارے۔

بونے تو سارا دن کام کاج اور مشقت کرتے۔ جبکہ ٹھگ سارا دن اس ہیر پھر میں رہتے کہ بونوں کی سخت مشقت اور محنت کا پھل کسی طرح ھتیا سکیں۔ بونے بہت بھولے بھالے لوگ تھے۔ عقل اور دانش جو تھی وہ خداد داد تھی۔ دنیا اور تجربے سے انہیں فہم و دانش کشید کرنے کا نہ موقع ملا اور نہ ہی انہوں نے اسے اپنے لئے لائق اشتناء جانا۔

جبکہ ٹھگ بظاہر تو بونوں سے قدرے کچھ زیادہ فہم کے مالک تھے۔ مگر وہ اپنے تجربوں اور ہیراپھیریوں کو آپس میں بیان کرتے۔ اسطرح ٹھگنے کے نت نئے طریقوں اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہتا۔ جو بدلتے زمانے میں ان کے بڑا کام آتیں۔ ٹھگ بڑے سمجھدار تھے اگر سمجھدار نہ ہوتے تو ٹھگ نہ ہوتے۔ جبکہ بونے فہم و ادراک بانٹنے یا تجربے سے حاصل کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کو بیان کرنے، تقسیم کرنے کو اپنی شیخی خوری کی وجہ سے سے ایک کمتر عمل سمجھتے تھے۔ بونوں کو کوتاہ قامتی کے احساس نے کہیں کا نہ رکھا تھا۔ جس کے باعث ان میں ٹھگوں کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہ پیدا ہوسکی۔

شمال اور مغرب سے چلنے والی تند و تیز آندھیوں کے ساتھ کچھ بادشاہ بھی کبھی کبھار بونوں پہ حملہ آور ہوتے۔ اور غیر قومیں بونوں کے کھیت کھلیانوں پہ قبضہ کر لیتیں۔ بونوں سے بیگار لیتیں۔ ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیتیں۔ جو بونے بچ پاتے وہ پہاڑوں یا دور دارز کے علاقوں میں بھاگ جاتے۔ اب ایسے میں ٹھگ کیا کرتے تھے؟۔ ٹھگ اس دوران ادہر ادھر ہوجاتے اور حالات معمول پہ آجانے کے بعد پھر سے بونوں کو نئے طریقوں سے لوٹنا اور ٹھگنا شروع کردیتے۔

جب بھی نیا حملہ آور حملہ کرتا ٹھگوں کے بھاگ بھی جاگنے لگے۔ نئے لوگوں کو بونوں کے بارے سب معلومات اور انکے کھیت ۔ کھلیانوں اور اناج نیز ہر اس شئے سے جس سے حملہ آوروں کو فائدہ ہو، اس بارے جاننے کے لئیے ٹھگوں کی ضرورت پڑتی۔ اور ٹھگ جو اپنے تجربے سے گھاگ ہوچکے تھے۔ وہ جہاں پناہ اور جہاں پناہ کرتے انعامات کے طور بڑی بڑی زمینوں اور حد نظر سے آگے بڑی بڑی جاگیریں اور ان میں بسنے والے بونوں کی جان مال اور عزت کا اختیار حاصل کرتے کرتے خود سے چھوٹے موٹے بادشاہ سے بن گئے۔ اور اوپر سے ٹھگ۔

بونوں کے گھر میں ایک دن ایک دیو قامت پیدا ہوا۔ دیکھنے میں تو وہ باقیوں جیسا لگتا مگر وہ فولاد حوصلہ تھا۔ اس نے بونوں سے کہا "بھئی بات ہے یوں تم لوگ صدیوں سے بھگتتے اور جان چھپاتے پھرتے ہو۔ کھیتیاں تم کاشت کرتے ہو۔ محنت کرتے ہو اور پھل، دور دیس کا بادشاہ لے جاتا ہے۔ اپنے اندر ہمت پیدا کرو۔ آخر کب تک یوں ہوتا رہے گا؟۔ آؤ دنیا کے باقی لوگوں کی طرح ایک باقاعدہ ایک ریاست اور حکومت بناؤ اور اغیار کے طوق غلامی کو اتار پھینکو۔” ٹھگوں کو پتہ چلا کہ ریاست کے ساتھ حکومت بھی ہوگی۔ انھیں ریاست میں تو کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی مگر اسکی بادشاہی بھلی لگی۔ جس کے سامنے انھیں اپنی جاگیریں اور زمین داریاں ننھی منی نظر آنے لگیں۔ ٹھگ تو وہ تھے ہی انہوں نے فٹ چولا بدلا اور بونوں کے ہمدردوں کے طور پہ اس دیو سے جاملے کہ ہمیں بھی اس مہم میں شامل کر لیا جائے۔

جبکہ بونے مان کے ہی نہیں دے رہے تھے کہ وہ اپنی کوتاہ قامتی کے باعث دنیا کے باعزت لوگوں کی طرح کچھ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس دیو قامت کو بڑی پریشانی ہوئی۔ جسکا احساس ان کچھ لوگوں کو بھی تھا جو نہ تو ٹھگ تھے اور نہ ہی اپنے آپ کو بونا سمجھتے تھے۔ مگر سوائے درد رکھنے کے کچھ کر نہیں پارہے تھے۔ ان دردمندوں میں ایک ایسا "جادوگر” بھی تھا جسکا جادو اسکی شاعری تھی۔ جو پانی میں بھی آگ لگا دیتی۔ ایک دن وہ اس دیو قامت کی خدمت حاضر ہوا اور بونوں کو انکے قد کا احساس دلانے کی ذمہ داری میں اسکا ہاتھ بٹانے کی درخواست کی۔ پھر کیا تھا اسکی شاعری اور دیو قامت کی فولادی مستقل مزاجی۔ بونوں کو اپنی کوتاہ قامتی کے احساس کمتری سے نجات ملنے لگی۔ جادوگر کی لگائی آگ نے بونوں کو انکے قد کا احساس دلانا شروع کر دیا اور دیو نے اپنے فولادی عزم سے بونوں کو ایک ریاست تشکیل کردی۔ جہاں بونے آزاد تھے۔بونوں کو اپنی طویل قامتی کا احساس ہونے لگا تھا۔ اور شمال مغرب سے کوئی بادشاہ ان پہ حملہ نہیں کرسکتا تھا۔

ٹھگوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ وہ چولا بدل کر نئی حکومت سے حصہ بقدر جثہ پانے پہ راضی نہیں تھے۔ وہ تو بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ انہوں نے مغرب کی ایک راجدھانی سے ساز باز کر کے دیو کو زہر دلوا دیا۔ اس راجدھانی سے نیاز حاصل کر کے خود بونوں کے بادشاہ بن بیٹھے۔ اور بونوں کو یہ احساس دلا دیا کہ انکی طویل القامتی محض دیو کے طلسم کا جادو تھا جو دیو کے مرنے کے ساتھ ہی ٹوٹ گیا۔ اور بونے وہ وہی صدیوں پرانے نسل در نسل بونے ہیں۔

ٹھگوں کی موجاں ہی موجاں تھیں۔ جو ٹھگ مر جاتے وہ جانے سے پہلے اپنی نسل میں سے کامل ٹھگ کو جو دوسروں کی نسبت "ٹھگی” میں زیادہ مہارت رکھتا۔ اُس کو آئیندہ بادشاہی کے لئیے ولی عہد کے طور مقرر کر جاتے۔ بونوں کو بے وقوف بنائے رکھنے کے لئیے ٹھگ آپس میں ایک دوسرے کو دشمن کہتے اور بدل بدل کر بادشاہ بھی بنتے۔ جو باقاعدہ خاندانوں کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ دور دیس کی راجدھانی نے کبھی ایک ٹھگ اور کبھی دوسرے ٹھگ کو بادشاہ بنائے رکھنے کا معاملہ کرنے کے لئیے۔ ان سے جو قیمت اور حصہ وصولنا شروع کیا تھا۔ اسے آئے دن نت نئ شرائط کے ساتھ ذیادہ سے ذیادہ وصولنا شروع کردیا۔ جسے پورا کرنے کے لئیے ٹھگوں نے بونوں سے اور زیادہ بیگار لینی شروع کردی۔ اور اسمیں سے اپنا اور اُس "راجدھانی” کا حصہ بڑے آرام سے وصول لیتے۔ مگر وہ بونوں کے لئیے کچھ نہ چھوڑتے۔ بونے اپنا اناج ٹھگوں کو اٹھا دیتے اور خود بھوک سے لاغر ہوتے گئے۔ کچھ نے بھوک سے تنگ آکر خود کشی کر لی ۔ کچھ خود کش بن گئے۔ بچے بکتے گئے۔ بھوک سے مرتے گئے مگر بونوں کو اپنی کوتاہ قامتی کے وہم نے کہیں کا نہ رکھا۔ وہ ٹھگوں کے سامنے اپنی آواز کبھی بھی بلند نہ کرسکے۔

کبھی کبھار ان بونوں میں ایک آدھ دیو قامت قاضی یا ایک آدھ دیو قامت ایماندار جو ٹھگوں کی لوٹی ہوئی دولت بونوں کو واپس دلوانے کی سعی کرتا۔ مگر ٹھگوں نے۔ ٹھگوں کے بڑے بڑے خاندانوں نے ان دونوں اور اسطرح کے چند دیو قامت لوگوں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا۔ ایک دیو قامت قاضی اور ایک دیو ایماندار اہلکار بونوں کے لئیے جان لڑانے پہ اتر آیا مگر بونوں میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے حق کے لئیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اور قاضی اور اہلکار کا ساتھ دیتے۔ ان کی کوتاہ قامتی کے وہم نے ان سے ہمت اور جرائت چھین لی۔ ورنہ چند ٹھگ انکے گھروں کے چراغ نہ بجھا پاتے اور نہ بونوں کے پیٹ کمر سے جالگتے۔ بونے ایک دوسرے کو ٹُکر ٹُکر دیکھتے رہتے۔ اپنی کوتاہ قامتی کے وہم پہ شاکر۔

ایک دفعہ کا ذکر پاکستان میں ہر روز کا ذکر ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: