RSS

Tag Archives: رپورٹ

جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔


جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔

اب کیا ہوگا؟۔
کیا یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلے گا؟

اگر یوں ہوتا ہے کہ یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب واضح ہے کہ گو کہ اس سیریل کے تمام اداکار پاکستانی ہیں مگر اس سیریل کو ڈائریکٹ کہیں اور سے کیا جارہا ہے؟

جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” Friends Not Masters, میں آقاؤں کی طوطا چشمی کے شکوے کئیے ہیں اور ان کی بے وفائی کا دکھڑا بیان کیا ہے۔ اور ایوب خان کے خلاف بھی لانگ مارچ کا ہی فارمولہ آزمانے اور انہی طاقتوں کی ایماء پہ برسراقتدار آنے والے بڑے بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کے آخری ایام میں اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد اور بعد ازاں نظامِ مصطفی نامی تحریک کے زبردست دباؤ کے بعد پی ٹی وی پہ اپنی آخری تقریر میں امریکہ کو سفید ہاتھی گردانتے ہوئے یہی واویلہ کیا کہ ہائے ہائے مجھے بنانے والے مجھے گرانے پہ آمادہ ہیں۔

انہی طاقتوں کے اشارے پہ گرم سیاسی ماحول میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر تختِ اسلام آباد پہ قبضہ جمانے والے جنرل ضیاء الحق بھی اپنے آخری دنوں میں اپنے انجام سے آگاہ ہوچکے تھے کہ آقاؤں کا دستِ شفقت انکے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ آج یا کل دیر یا سویر سے اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسی لئیے وہ اپنے آخری دنوں میں امریکی سفیر اور اپنے جرنیلوں سمیت ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لئیے پھرتے تھے جس پہ انہیں اپنے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کا ذرہ بھر بھی شائبہ تھا۔ اور بہاولپور فضائی حادثے میں مارے جانے والے پاکستان کے انتہائی ذمہ دار لوگوں کے ایک ہی طیارے میں سوار ہونے کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

موجودہ دور میں پاکستانی مسنندِ اقتدار پہ قابض ہونے والوں میں سے جنرل مشرف شاید وہ واحد کردار ہے جس نے ہدایت کاروں کی ہر فرمائش ان کی توقعات سے بڑھ کر پوری کی اور جب جنرل مشرف کو مسندِ اقتدار سمیٹنے کا اشارہ ہوا تو اس نے بلا چون چرا جان کی امان پاؤں کے صدقے اپنا بوریا لپیٹا اور اُدہر کو سدھار گئے جدہر سے انہیں جائے امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ایسے ھی اچانک سے ڈرامائی طور پہ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ کیا تب صرف چند ماہ بیشتر کسی کے وہم گمان میں تھا کہ بے نظیر وزیر اعظم بننے کی بجائے زرداری پاکستان کے مختارِکُل قسم کے صدر بن جائیں گے؟۔ ہماری قومی یاداشت چونکہ کچھ کمزور واقع ہوئی ہے اگر کسی نے یاداشت تازہ کرنی ہو تو اس دور کے الیکشن سے چند ماہ قبل کے اخبارات اور ٹی وی مذاکروں کا مطالعہ و نظارہ کر لیں۔ جن میں بے نظیر کے ہوتے ہوئے زرداری کے صدر یا وزیر اعظم بننے کا خیال تک بھی کسی سیاسی جغادر کے وہم و گمان سے گزرا ہو۔ صرف چند ماہ میں زرداری پاکستان کے مختار کل قسم کے صدر تھے۔

زرداری حکومت میں نواز شریف عدلیہ بحالی کا عزم لے کر لاہور سے اسلام آباد کو ایک جمِ غفیر لے کر نکلے۔ عوام کا ٹھاٹا مارتا سمندر ساتھ تھا۔ زرداری حکومت چند دن میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ انجام پزیر ہوسکتی تھی۔ قومی یادشت کو تازہ کی جئیے کہ تب امریکی صدر اور سفیر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کے یکے بعد دیگرگوجرانوالہ نواز شریف کو فون آئے اور نواز شریف عام عوام کی توقعات اور امیدوں کے بر عکس تب گوجرانوالہ سے واپس لاہور سدھار گئے۔ سوجھ بوجھ والوں نے تب ھی فال ڈال دی کہ مک مکا ہوگئی ہے اور زردای کو ٹرم پوری کرنی دی جائے گی اور آئندہ ویز اعظم نواز شریف ہونگے۔ اور مڈٹرم کے طور یہی کلیہ نواز شریف کے خلاف مختلف مارچوں اور دھرنوں کے ذرئیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر عام عوام کی عدم دلچسپی یا آئے دن کے بے مقصد سیاسی ہنگامہ آرائی سے بیزارگی کی وجہ سے یہ ایکٹ کامیاب نہ ہوسکا۔

کسی بھی قیمت پہ اقتدار میں آنے والے جب طے شدہ شرائط پہ کام کرنے کے بعد خالص اپنے ذاتی جاہ حشمت کو برقرار رکھنے کے لئیے کنٹریکٹ کوغیر ضروری طور پہ طوالت دینے کی ضد کریں۔ یا دی گئی بولی سے انحراف کریں تو ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اقتدار کے خواب دیکھنے والے بچہ سقوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ مگر ایسے خوابوں کو پایہ تکمیل پہنچانے والی یا اقتدار کو استحکام بخشنے پہ قدرت رکھنے والی وہ طاقتیں جوبیرونِ پاکستان سے کٹھ پتلی تماشے کی ڈوریاں ہلاتی ہیں وہ کسی ایسے ڈھیلے ڈھالے کردار کو مسند اقتدار کا ایکٹ نبھانے کی اجازت دینے پہ تیار نہیں جو موجودہ دور میں پاکستانی اسٹیج پہ اپنے کردار اور ایکٹ کو زبردست عوامی پذیرائی اور عوام کی طرف سے پرجوش تالیوں کے استقبال کی اہلیت نہیں رکھتا۔

کیا پاکستان کے مفادات کے خلاف پھر سے بولی ہوگی؟ جو بڑھ کر بولی دے گا اسے مسند اقتدار بخشا جائے گا؟

کیا نئے مناسب اداکار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پرانی ٹیم نئی شرطوں اور تنخواہ پہ کام کے لئیے منتخب کی جائے گی؟
کیا ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہونگے۔اللہ کرے ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہوں۔

پردہ اٹھنے میں دیر ہی کتنی ہے؟ نئے انتخابات میں عرصہ ہی کتنا رہتا ہے؟

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

تابکاری سے متاثر غذائی اجناسں۔


نوٹ:۔ زیر نظر تحریر۔ پچھلے سال ۲۰۱۱ء میں جاپان کے بدترین سونامی طوفان کے بعد جوہری توانائی پیدا کرنے والے ”فوکوشیما“ نامی پلانٹ کو پیش آنے والے جوہری حادثے کے بعد لکھی گئی۔ جسے ”سائنس کی دنیا“ ۔ ”محترم! یاسر جاپانی صاحب کے بلاگ“ اور محترم!خاور کھوکھر صاحب کے آن لائن اخبار“ نے چھاپنے کا اعزاز بخشا۔ ہمارے ایک عزیز دوست کی خواہش اور پرزور اصرار پہ۔ اپنی اس تحریر کو یہاں نقل کرنے کا مقصد محض اتنا سا ہے۔ کہ خدا نخواستہ کسی ایسی صورتحال میں غذائی اجناس کے بارے کسی حد تک معلومات رہیں۔
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا، اسپین

تابکاری سے متاثر غذائی اجناسں۔

تابکاری سے متاثر غذائی اجناس اور انسانی زندگی کس بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسکے اثرات کتنے جان لیوا اور دیرپا ہوتے ہیں۔ غذا اور کھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں سخت احتیاط برتی جائے اور ڈبہ بند وہ خوراک جو جاپان سے باہر سے برآمد کی گئی ہو وہ استعمال کریں ۔ اگر یوں ممکن نہ ہو تو متاثرہ علاقے کی غذائی اجناس کسی صورت ہر گز ہر گز استعمال نہ کریں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حکومتوں کی اپنا مجبوریاں ہوتی ہیں اور لازمی نہیں کہ وہ ہر بات درست بیان کریں۔انیس سو اناسی میں امریکہ کے تھری مایل آئس لینڈ ایٹمی ری ایکٹر حادثے میں امریکی صدر کی کمیٹی نے تب یہ رپورٹ دی تھی کہ اس حادثے سے ہونے والی تابکاری سے انسانی جانوں کو نقصان نہیں ہوا ۔ پھر کہا گیا کہ اگر انسانی جانوں کو نقصان ہوا تو بہت کم ہوگا، اور اس “بہت کم” کی کوئی وضاحت یا حد نہیں تھی کہ کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک ہوگا۔ مگر بعد میں ہزاروں لوگ کینسر میں مبتلا ء ہوئے۔

یاد رہے کہ انسانی جسم پہ کتنی مقدار میں تابکاری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے یا اگلے پانچ دس سال یا اس سے بھی لمبے عرصے میں انسانی جسم میں کون کون سے مہلک قسم کے کینسر اور انکی رسولیاں اور دیگر بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اس بارے سائنسدان تابکاری کی مقدار کے بارے متفق نہیں۔لیکن جس شخص کو صحت کے دیگر مسائل جیسے الرجی وغیرہ لاحق ہونگے۔ تابکاری ایسے فرد پہ عام آدمی کی نسبت بہت زیادہ اثر کرے گی۔


مثال کے طور پہ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ایکس رے بھی تابکاری شعائیں ہیں تو جونارمل بچہ رحم مادر میں ہو یعنی ابھی پیدا نہ ہوا ہو اوراگر اسکی ماں کا ایکس رے کیا جائے تو اس بچے میں کسی دوسرے ایسے بچے کی نسبت جو نارمل صحتمند ہو مگر جب وہ ماں کے پیٹ میں ہو تو اسکی ماں نے ایکسرے نہ کروایا ہو تو ایکسرے کروائی گئی ماں کے پیٹ میں بچے کونارمل صحتمند بچے کی نسبتا آئیندہ زندگی میں لیوکیما ہونے کے خطرات پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ اگر ماں کے پیٹ میں ایکسرے سے گزرنے والا بچہ الرجی کا مریض ہے تو اسے صحتمند بچے کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ لیوکیمیا یعنی کینسر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک اہم بات جو قابل توجہ ہے کہ کچھ لوگ تابکاری سےقدرے کم متاثر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ انکی نسبت بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ ابھی اس بارے یقننی طور پہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔


جسطرح دائیں ، بائیں، آمنے ، سامنے ، آگے ، پیچھے، اوپر۔ نیچے سے گولیوں کی بوچھاڑ برسائی جارہی ہو ۔ مشین گن کے برسٹ پہ برسٹ لگاتار برسائے جارہے ہوں اور انکی گولیاں انسانی جسم کے آر پار ہورہی ہوں ۔ اسی طرح تابکاری ذرات جسم کے جسیموں (سیلز) کو ہر طرف اور ہر سمت سے چھید ڈالتے ہیں۔ یہ تابکاری ذرات بہت مختلف قسم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے نیوٹران ، پروٹران۔ الفا وغیرہ ہیں۔ یہ نہایت چھوٹے نطر نہ آنے والا ذرات ہیں۔۔ جو جسم کے جسیموں (سیلز) میں اپنی توانائی خارج کرتےہیں۔ جس سے جسم کے سیلز سکڑتے سمٹتے ، ٹوٹتے پھوٹتے ، اورمردہ ہوجاتے ہیں۔


کچھ صورتوں میں سیلز کے بننے کا عمل جسم کی مرکزی کمان سے آزاد ہوجاتا ہے اور جسم میں کینسر اور رسولیاں بننا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک بہت پیچیدہ اور لمبا موضوع ہےبس یہ سمجھ لیں کہ تابکاری کے اثرات نہائت خطرناک اور جان لیوا ہوتے ہیں ۔ نیوٹران، پروٹران کو اگر گولیوں سے مشہابت  دی جاسکتی ہے تو الفا کو توپ کے گولے کہا جاسکتا ہے۔ کسی ایٹمی حادثے کی صورت میں عموما یہ ذرات ایک ہی ساتھ پائے جاتے ہیں ۔ یہ نظر نہیں آتے مگر انتہائی مہلک اور جان لیوا ہوتے ہیں ۔ ان سے کینسر ، لیوکیمیا، عورت اور مرد کے جنسی گلینڈز مثانہ ، رحم وغیرہ اور دماغ میں رسولیاں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت۔ یا معذور یا زائد اور کم اعضاء کے بچے یا عجیب الخلقت بچوں کا پیدا ہونا۔ اور اسطرح کی بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔


ہوا، غذا، گوشت، مچھلی، پانی، دودھ، سبزی، ساگ پات، تابکاری کی زد میں آئی اشیاء کا استعمال۔ جیسے بجلی کی اشیاء۔ ایئرکنڈیشنز ، پنکھے، گاڑیاں، ہوائی جہاز،گاڑیوں، یا ہوائی جازوں وغیرہ کی قاضل پرزہ جات ، یا انکی ترسیل، ٹرانسپورٹ ، پیکنگ وغیرہ کے دوران انکو چھونا۔ یا تابکاری کی اشیاء کے اسٹورز یا گوداموں میں سانس وغیرہ لینا۔انسانی صحت اور جانداروں کو متاثر کرتا ہے۔


ایک نہائت اہم بات یاد رکھنی چاہیے کہ تابکاری سے متاثر ایک انسان سے دوسرے انسان کو تابکاری نہیں ہوتی یعنی یہ متعدی نہیں۔


سترہ مارچ دوہزار گیارہ کو ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئےعالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹرپاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss کے خطاب کا حوالہ لکھ رہا ہوں جو انہوں نے جاپان کے فوکوشیما نمبر ایک کے نیوکلئیر حادثے کے بعد وہاں سے حاصل کی گئی غذا اور تابکاری پہ کیاہے۔ تانکہ آپ کو علم رہے ۔ کہ یہ ایک ذمہ دار اور ایک ماہر کا حوالہ ہے۔عالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر پاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss کا کہنا ہے کہ فوکوشیما کا حادثہ نہ صرف انسانوں کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے غذائی آفت آسکتی ہے۔ انھوں نے تنبیہ کی کہ فوکوشیما کا واقعہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہےکہ ایسی کسی صورتحال کے لئیے پہلے سے تیار کی گئیں تمام حفاظتی تدابیرکا نئے سرے سے جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔


انھوں نے اپنی ماہرانہ رائےدیتے ہوئے سفارش کی ان تمام جانوروں کو ہلاک کردیا جانا چاہئیے جن کے بارے شبہ ہو کہ وہ تابکاری سے متاثر ہوئے ہیں۔تمام پودے اور نباتات جو تابکاری جذب کر چکے ہیں اور اس علاقے کی مچھلی وغیرہ بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ تابکاری کی پیمائش کی جائے اور جہاں تک تابکاری صفر ہوجائے وہاں سے اس پورے علاقے کے گرد ایک حصار قائم کر دیا جائے ۔ تانکہ تابکاری زدہ علاقے کے جانوروں کا گوشت ، دودھ مچھلی ، پھل اور سبزیاں وغیرہ ہر قسم کی کھانے پینے سے متعلقہ اشیاء کسی بھی صورت میں انسانی غذاءمیں شامل نہ ہوسکیں ۔


عالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر پاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss نے مزید فرمایا اور وہ لوگ جو تابکاری سے کسی طور متاثر ہو چکے ہوں انھیں اگلے پانچ سے دس سال تک اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ سالوں تک ڈاکٹروں کی متواتر دیکھ بھال میں رہنا ہوگا ۔ جس سے بے شک ان کی زندگی متاثر ہوگی۔ڈاکٹر موصوف کا کہنا تھا کہ فوکوشیما پلانٹ کے حادثے کے بارے میں ابھی سے یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ اس کے اثرات کس حد تک خطرناک ہونگے ۔


یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس بارے جاپانی حکومت نے کسی غفلت سے کام لیا ہوگا۔ مگر جاپانی حکومت نے شروع سے ہی فوکوشیما حادثے کو عام سی اہمیت دی۔ جبکہ درحقیقت اس خطرے کے بارے میں شروع ہی سے جاپانی حکومت کی طرف سے واضح طور پہ بتایا جانا چاہئیے تھا۔جبکہ امریکن ایجنسی آف اٹامک انرجی American Agency of Atomic Energy اور انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجینسی ویاناInternational Atomic Energy Agency in Vienna نے اس علاقے میں یہ تشخیص کیا ہے۔ کہ تابکاری بیان کی گئی شرح سے کہیں بڑھ کر ہے اور اسکا دائرہ بھی بیان کئیے گئے کلومیٹرز سے زیادہ ہے۔ جاپان سے تابکاری کے جو کوائف ہمیں ملے ہیں ۔ اسکے مطابق ممکن ہے کم مقدار تابکاری کے فوری اثر کے تحت فوری موت تو نہ ہو۔ مگر یہ تابکاری متاثرہ لوگوں کے لئیے۔ درمیانی اور طویل مدت کے انتہائی خطرناک مسائل پیدا کرے گی۔مختلف قسم کے کینسر oncological disease ، لیوکیمیا leukemia ، brain tumors دماغ میں کینسر کی رسولیاں۔مردو خواتین میں the gonads tumors جیسے مثانے اور رحم کے کینسر۔ sterility مردو خواتین میں بانجھ پن۔ یا معذور بچوں کا جنم ۔ یا ایک سے زائد یا کم اعضاء کے بچوں کا جنم ہونا وغیرہ ۔ جیسے خطرات شامل ہیں۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔تیسری قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔تیسری قسط


فرانسسکو برنئیر لکھتا ہے۔(ہندؤستان میں) وراثتی بندوبست ایک قانون کے درجے کے طور تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں امراء منصب دار ۔ یعنی نسبتا چھوٹے امراء مغل  فرمانروا (بادشاہ) کو وراثت میں ملتے ہیں۔ جو بادشاہ سے وظیفہ پاتے ہیں۔
اسی وراثتی بندوبست کے تحت ناج اگانے والی کچھ زمینوں اور باغات پہ رعایا کویہ اجازت ہے کہ وہ ان زمینوں کی خریدو فروخت کرسکیں یا وراثت کے طورپہ ملنے والی زمین کو آپس میں تقسیم کر سکیں ۔ اسکے علاوہ شہنشہاہی بندوبست کی کل زمین بادشاہ کی ملکیت ہے۔ برنئیر ۔ کولبیرٹ کو مخاطب کرتے لکھتا ہے۔”آپ اس نتیجے پہ پہنچیں گے کہ کہ یہی نہیں کہ ہندؤستان میں سونے اور چاندی کی کانیں نہ ہونے کے باوجود ۔ ملک میں بہت بڑی مقدار میں سونا اور چاندی موجود ہے ۔ بلکہ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے پاس بہت سے قیمتی خزانے ہونگے۔ (۷٭)۔
مزید براں ۔برنئیر کے اس بیان میں فرانس کے لئیے ان مالی اور سماجی مسائل کی نشاندہی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جواگر فرانس کو ہندؤستان کو اپنی نوآبادی بنانے میں دلچسپی ہونے کی صورت میں۔ ہندؤستان کو نو آبادی بنانے کی ایسی کسی کوشش کے نتیجے میں نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ان مسائل کے پس منظرمیں مختلف النوع کی وجوہات ہیں۔ جن کی وجہ سے عظیم مغل سلطنت پہ حکمرانی قائم کرنے میں بہت مشکلات حائل ہیں۔ اور خاصکر اس صورت میں جب انگریز شہزادوں اور مقامی حاکموں سے اپنے مفادات طے کر رہے ہوں۔اس ساری حوصلہ شکن صورتحال اور بیان کردہ نہ قابل قبول حالات کی وجہ سے سونا ہندؤستان سے باہر نہیں جا پاتاتھا۔ اس سے برصغیر ہندؤستان کی مختلف النوع قسم اور دلچسپ ہیبت ترکیبی کا پتہ چلتا ہے۔
برنئیر کی رپوٹ سے مندرجہ ذیل نتیجہ سامنے آتاہے۔
۱)۔ہندؤستان کی زمین کا ایک حصہ پتھریلا ہے ۔ کم زرخیز پہاڑ ہیں جہاں بہت کم کاشتکاری ہوتی ہے۔ اور (اسی وجہ سے) آبادی بہت کم ہے۔
۲)۔ انتہائی زرخیز زمین جو افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے غیر آباد ہیں۔
۳)۔بہت سے کسان مقامی حاکموں (گورنرز) کے مظالم کا شکار ہیں اور جان سےجاتے ہیں۔ عام طور پہ مقامی حاکموں(گورنرز) نے انہیں انتہائی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر رکھا ہے یہاں تک کہ جب ماں باپ لگان ادا نہ کر سکیں یا حاکموں کی احکام سے رد گردانی کریں تو انکے بچوں کو چھین لیتے ہیں۔ جنہیں غلام بنا لیا جاتا ہے۔
۴)۔ اندرونی نقل مکانی۔ بہت سے کسانوں نے مایوس ہوکر کھیتوں کو خیر آباد کہہ کر اجرت پہ مزدوری کرنے کو ترجیج دیتے ہوئے شہروں کا رخ کیا۔ جہاں انہوں نے سقہ (بہشتی یعنی ماشکی) اور پانڈی (وزن ڈھونے والوں) کا پیشہ اپنا لیا۔ یا پھر فوج میں بھرتے ہوگئے۔اورکچھ دوسری راجدھانیوں کو بھاگ گئے۔ جہاں ظلم و ستم نسبتاَ کم تھا۔
۵)۔ بہت سی ریاستیں اور قومیں ایسی ہیں جہاں کے حکمران مغل نہیں۔ اور ایسی ریاستوں اور قوموں کے سربراہ مغلوں کے احکامات ماننے سے انکاری ہیں اور خراج نہیں دیتے یا ان سے بہ جبر لگان وصول کیا جاتا ہے۔ یا پھر وہ ریاستیں ہیں جو نہ ہونے کے برابر خراج دیتیں ہیں۔ اور آخر میں وہ قومیں یا ریاستیں آتی ہیں۔ جو مغل سلطنت سے امداد لیتی ہیں۔
۶)۔ وہ ریاستیں جو خراج ادا نہیں کرتیں۔ وساپور Visapur کا باشاہ کسی قسم کا خراج نہیں ادا کرتا اور ہمیشہ مغل سلطنت سے جنگ آزماء رہتا ہے۔
جسکی۔ ۵ ۔درذیل وجوہات ہیں۔
الف)۔وسا پور کے حکمران کے پاس خاصی تعداد میں افواج ہونے کی کی وجہ۔
ب)۔ وسا پور سے دہلی اور آگرہ خاصے دور ہونے کی وجہ سے۔
ج)۔ اس حکمران کے پاس انتہائی مضبوط قلعہ ہے۔جس کو سر کرنا انتہائی دشوار اور کھٹن ہونے کی وجہ سے۔
د)۔ حملہ آوار افواج اور بابرداری کے جانوروں کے لئیے رستے میں چارہ اور پانی ملنے کی کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے۔
اسکے علاوہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بہت سے راجے۔ وساپور Visapur کے مشترکہ دفاع کے لئیے اسکے حکمران کے ساتھ اتحاد کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پہ مشہور و معروف۔ شیو جی ۔ جس نے کچھ عرصہ قبل۔ سُورت ۔کی بندرگاہ کو لوٹا اور جلادیا ۔
گولکنڈاہ کا طاقتور حکمران بھی مغل سلطنت کو کسی قسم کا خراج ادا نہیں کرتا۔ جو خفیہ طور پہ وسا پور کے راجہ کی مالی معاونت کرتا تھا اور ہمیشہ اسکی ایک فوج ضرورت پڑنے پہ ۔وسا پور کی سرحد پہ وسا پور کے دفاع کے لئیے تیار رہتی ہے۔
مغل سلطنت کے نواح میں کم وبیش اسی طرح لگ بھگ سو کے قریب مشرک (idolaters) راجوں کے ساتھ یہی معاملہ تھا۔ جن میں سے کچھ کی راجدھانیاں تو آگرہ اور دلی نزدیک واقع تھے ۔کچھ کی راجدہانیاں بہت زیادہ دور دراز واقع تھیں۔
جن میں سے پندرہ سولہ تو بہت زیادہ امیر اور طاقتور ہیں۔اور پانچ یا چھ راجے جیسے کہ رانا جوایک طرح کا راجوں مہاراجوں کا شہنشہاہ ہوتا ہے۔ اسکے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ اسکا نسب۔ راجہ پورس ۔سے جا ملتا ہے ۔ اگر کوئی تین ایک مل جائیں تو مغل حکمران کے لئیے ایک بڑا درد سر بن سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں سے ہر راجہ مغل فوج کی نسبت بہتر تربیت یافتہ بیس ہزار سوار کسی وقت بھی اکھٹے کرسکتا ہے ۔گھڑ سوار فوج کے ان سپاہیوں کو ۔راجپوت۔ کہا جاتا ہے۔یعنی ۔راجوں کے سپوت۔خاندانی پیشہ سپاہ گری باپ دادا کی طرح نسل در نسل انکے خون میں شامل ہے۔راجے مہاراجے انھیں اس شرط پہ زمینں عطا کرتے ہیں کہ بوقت ضرورت یہ گھوڑے کی پیٹھ پہ سوار ہوکر جنگ میں حصہ لیں گے۔۔ (۸٭)۔
اسکے علاوہ بلوچ ۔ افغان۔ کوہستانی۔ کی اکثریت بادشاہ یا مغل سلطنت کو کسی قسم کا خراج ادا نہیں کرتے اور مغل فرمانروا کو بلوچوں ۔ افغانوں اور کوہستانیوں کی طرف سے خراج نہ ادا کئیے جانے پہ کوئی خاص فکر بھی نہیں ہے۔(۹٭)۔
پٹھان بھی خراج ادا نہ کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو مغلوں کے حملہ آور ہونے سے پہلے دلی اور اسکے بہت سی جگہوں پہ زیادہ طاقتور ہوچکے تھے۔ اور انہوں نے انگنت راجوں کو اپنا باجگزار بنا لیا تھا۔(۱۰٭)۔
کسی بھی ریاست کی طرف سے اپنی نو آبادیوں میں اضافہ کرنے کے لئیے ۔اس دور کے مشاہدات اور تجربات کے مطابق بہت سی باتوں کو مدِ نظر رکھنا پڑتا تھا۔تانکہ اسقدر دور اور اسقدر سرمایہ کاری کرنے کے بعد کم از کم کچھ نہ کچھ کامیابی حاصل ہوسکے ۔ فرانس میں متعدد مہمیں محض ناکافی معلومات کی وجہ سے ناکام ہوچکی تھیں۔تجرباتی منصوبہ بندی وقت کے ساتھ ”چارٹرڈ کمپینوں“ کے ذرئعیے دور دراز علاقوں تک پھیل گئی۔”انڈیا اورئنٹل“ نامی کمپنیاں بہت سے ممالک تک پھیل چکی تھیں۔ ”کیپ آف گڈ ہوپCape of Good Hope“۔ سے لیکر ۔ ” اسٹرائٹ آف میگیلین Strait of Magellan“۔ تک ان کمپنیوں کی مکمل اجارداری قائم ہوچکی تھی۔(۱۱٭)۔اس مشق کی وجہ سے مہم جوئی اور ایڈونچرازم کے شوق میں اضافہ ہوا۔ نتیجتاَ مبالغہ انگیز تعداد میں کمپنیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ افراد کی نسبتاَ ریاستیں زیادہ باخبر ہونےاور درست معلومات رکھنے کی وجہ سے اپنی نگرانی میں ایک ترجیجی کمپنی رکھتیں تھیں ۔ جبکہ ۱۶۰۰ء سولہ سو عیسوی اور ۱۷۸۹ء سترہ اننانوے عیسوی کے دوران صرف فرانس کے لئیے ۷۷ ستتر کمپنیوں کا پتہ چلتا ہے ۔اور سات ۷کمپنیاں صرف ”اورئنٹل انڈیا“ کے لئیے مخصوص تھیں ۔ جبکہ یہ فہرست ابھی مکمل نہیں۔۔(۱۲٭)۔دوسری طرف صورتحال سے مکمل آگہی اور وسائل صرف کبھی کبھار ایسے مواقع پیدا کرتے تھے کہ کوئی مثالی آبادکار کسی نو آبادی میں جابسے۔لیکن دور دیسوں میں جا بسنے کے لئیے ناپسندیدہ جرائم پیشہ افراد ۔جہالت اور یقین کے ہاتھوں عام طور پہ بحری جہازوں پہ سوار ہوجاتے تھے ۔ فرانس میں سے بنیادی طور پہ ۔”نوغمندیا۔ نارمنڈی۔ Normandía“۔ ”برطانیہ ۔برطانی۔ Bretaña “۔ ”پوئیتو Poitou “۔ ”سینت تونج Saintonge“ سے لوگ نوآبادیوں میں جا کر آباد ہوئے۔ یہاں تک کہ کولبیرٹ ان کوششوں کا کہ لوگ جا کر نوآبادیوں میں آباد ہوں۔ مگر اسکی انتھک کوششوں کا کوئی مثبت اور خاطر خواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکا ۔(۱۳٭)۔
(جاری ہے)

(7) BERNIER, ob. cit., pág. 194
(8) BERNIER, ob. cit., págs. 196 y 197.
(9) BERNIER, ob. cit., pág. 185.
(10) BERNIER, ob. cit., pág. 195.
(11) RiCH, E. E., y WiLSON, C. H., Historia Económica de Europa, t. IV; La Economía
de Expansión de Europa en los siglos XVI y XVII, versión de Javier García
Julve, Edit. de Derecho Privado, Jaén, 1977, pág. 351.
(12) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 390.
(13) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 390.

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ دوسری قسط ۔


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔دوسری قسط

دوسری قسط
فرانسسکو برنئیر لکھتا ہے۔(۱٭)۔ ” آرچ بشپ ! ہندوستان میں مجھے پتہ چلا ۔ جہاں میں ترک وطنی کے بارہ سال رہ کر واپس فرانس واپس آیا ہوں ۔ کہ آپ نے اپنی دیکھ بھال اور نگرانی میں فرانس کےلئیے جس مہم کا آغاز کیا ہے۔وہ آپ کے باوقار نام کی مرہونِ منت ہے۔جس بارے بخوبی تفضیلی بات کی جاسکتی ہے مگر میں یہاں بات چیت کو صرف دو نئے امور تک محدود رکھوؤنگا۔ وہ باتیں جو سب کے علم ہیں۔ ان باتوں سے گریز کرتے ہوئے۔ یہاں میں میں آپکو صرف ان باتوں سے مستفید کرؤنگا جن سے آپ کو ہندوستان کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ جیسے کہ میں نے اسکا وعدہ کیا تھا “(۲٭)۔برنئیرکی نفسیاتی حقیقت اس ”تہمید“ میں واضح ہوجاتی ہے جو وہ آرچ بشپ کی نذر کرتا ہے۔ برنئیر لکھتا ہے کیونکہ ”ہندؤستان میں یہ رسم عام ہے کہ کار اقتدار و اختیار اور بڑے آدمیوں کے پاس تحفوں کے بغیر خالی ہاتھ نہیں جاتے ۔“اور برنئیر بادشاہ کے پاس خالی ہاتھ اور نہ ہی آرچ بشپ کے پاس خالی ہاتھ جانا چاہتا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ماسوائے اس تعریف بھری تہمید کے ۔ برنئیر بادشاہ اور آرچ بشپ کی نذر کوئی تحفہ نہیں کرتا ۔ برنئیر گویا ہے ۔” آرچ بشپ ! مجھے ۔غزل خان ۔ سے بڑھ کر بادشاہ (لوئس چہاردہم) سے عقیدت ہے ۔میری اس تہمید (تعریف) کا مقصد بادشاہ (لوئس چہاردہم) کی کونسل (دربار) میں آپ کا مقام۔ آپکی کوششیں اور آپ کا وہ محسورکن کردار جو آپ نے فرانس کے لئیے ادا کیا ہے جو میں نے فرانس واپس آنے کے بعد فرانس میں محسوس کیا ہے۔فرانس سے باہر جانے سے پہلے معاملات اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ میں سمجھتا تھا کہ اس سارے نظام کو درست کرنا کبھی بھی ممکن نہیں ہےمگر واپسی پہ فرانس میں نظام(حکومتی اور معاشی ) کو نہائت موثر پایا ہے۔ یہ آپکی محنت ہے کہ آج دنیا کے آخری کونے تک ہمارے بادشاہ کی عظمت جانی جاتی ہے“۔(۳٭)۔
ماروئیس نے نہائت مختصر اورموثر الفاظ میں کولبیرٹ کی نگرانی میں ہونے والی فرانس کی اقتصادی اور معاشی حالت پہ نظر ڈالی ہے۔”کولبیرٹ کا بینادی مقصد یہ تھا کہ باقی دنیا سے سونا اور چاندی کو فرانس کے لئیے حاصل کیا جائے۔ (کیونکہ کولبیرٹ کے نزدیک حقیقی دولت صرف سونا اور چاندی کو ہی کہا جاسکتا تھا)۔اور وہ کس طرح سے ؟۔
الف)۔ روزگار کے مواقع کو ترقی دے کر۔ جو روحانی و دنیاوی امارت کا ذریعہ سمجھا گیا۔ فرانس کے امراء اور بادشاہت کے اعمال جو دولت یابڑی جائدادوں کے ذریعئے اپنی مرضی کا لگان یا کرایہ وصول کرتے تھے انکے مقام اور مرتبے کو کم کرتے ہوئے فرانس میں پہلی دفعہ زراعتی اور صنعتی پیداوار کرنے والوں کو فرانس میں کولبیرٹ نے انکا جائز مقام دیا اور انھیں باعزت جانا گیا۔
ب)۔ اقتصادی اصلاحات کے ذریعے۔ چونکہ کولبیرٹ خود بھی مرچنٹ تاجر تھا اس نے سونا چاندی کے لئیے حفاظتی نرخ نافذ کئیے اور سونا چاندی فرانس سے باہر لانے پہ کچھ اسطرح سے ٹیکس لگائے تانکہ سونا اور چاندی ملک سے باہر لے جانے کی حوصلہ شکنی ہو خواہ سونا اور چاندی تجارتی مقاصد کے لئیے دوسرے ممالک سے کچھ منگوانے کے لئیے ہی کیوں نہ چاہیے ہو۔
ج)۔ قانونی اصلاحات کے ذریعے ۔ صنعتوں کو دفاتر کے مختلف شعبوں سے کنٹرول کرنے کی بجائے ریاست (فرانس) پہ فرض کیا کہ سارے ملک میں صنعتوں کو ایک نظام میں لائے اور اسکے معاملات کی نگرانی کرے ۔(۴٭)۔
ہندوستان کی لمبائی چوڑائی ۔ زمینوں کی بے حد زرخیزی۔ ہندوستان کے عوام ۔ فصلوں اور دست کاری کے بارے بیان کرنے کے بعد برنئیر مقامی لوگوں کے بارے لکھتا ہے۔”طبعی طور پہ نہائت سست اور کاہل ہیں۔ قالین بافی ، کشیدہ کاری ۔ کپڑے پہ سونے اور چاندی کی کڑھائی ۔ سونے اور چاندی کے کام سے ریشمی کپڑا تیار کرنے والے۔ ریشم کے عام کپڑے اور سوتی کپڑا تیار کرنے والے ۔ اس وقت تک کام کی طرف مائل نہیں ہوتے جب تک انھیں کام کرنے کی ضرورت یا کوئی خاص وجہ درپیش نہ ہو خواہ وہ اسے مقامی استعمال کے لئیے یا ہندوستان سے باہر دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لئیے تیار کرتے ہوں ۔(۵٭)۔
برنئیر کے ہاں بنیادی طور پہ سونے کی بہت اہمیت نظر آتی ہے ۔اور وہ سونے کی عالمی نقل حرکت کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح سونے کا سفر ہندوستان پہنچ کر رک جاتا ہے ( برنئیر کے الفاظ میں ہندوستان سونے کا مدفن ہے یعنی سونا ہندوستان پہنچ کر دفن ہوجاتا ہے)۔کیونکہ ایک دفعہ سونا ہندوستان میں پہنچ کر واپس باہر نہیں آتا۔ اسلئیے ضروری ہےکہ سونے کے سفر اور اور سونے کے اس سفر کے مختلف رستوں کا بغور جائزہ لیا جائے ۔تانکہ یہ بات سمجھی جاسکے کہ ہندوستان کا سونا کیوں کم نہیں ہوتا ۔ برنئیر مزید وضاحت کرتا ہے ۔”اسکی قدرتی وجہ ہندوستان کی پیداوار اور مصنوعات ہیں۔ جو سونے کو مقناطیسی کشش کی طرح خود بخود ہندوستان کی طرف کھینچ لیتی ہیں ۔
براعظم امریکہ سے یورپ سونا پہنچ کر :۔ (الف)۔ ایک بڑا حصہ ترکی پہنچ جاتا ہے ۔ (ب)۔ دوسرا بڑا حصہ براستہ اسمیرنا (ترکی کے شہر ۔ازمیر۔ کا لاطینی نام) ریشم کی خریداری کے بدلے ایران پہنچ جاتا ہے۔
اس سفر کے دوسرے مرحلے میں اس سونے کا چاندی کاایک بڑا حصہ یمن اور جزیرۃالعرب (موجودہ سعودی عرب ۔ بحرینَ۔ عرب امارات۔ اردن۔ کویت۔ اومان۔ قطر۔ یمن ۔عراق کا کچھ حصہ اور ملک شام کا کچھ حصہ) سے ترکی میں عام رائج مشروب ۔ قہوہ ۔ منگوانے کے بدلے میں یمن اور جزیرہ العرب پہنچ جاتا ہے۔اور دوسری طرف اور ایک ہی وقت میں یہ ممالک ہندوستان کی مصنوعات منگوانے کے لئیے سونے اور چاندی کو بصرہ بھیجتے ہیں جو خلیج فارس کے انتہائی سرے پہ واقع ہے۔ یا پھر ھرمیز (ہرمز شہر کی تصویر) کے نزدیکی شہر بندرعباس بھیجا جاتا ہے ۔ وہاں ہر سال مون سون کے موسم میں وہ بحری جہاز اور کشتیاں جو ہندوستانی مصنوعات لیکر آتی ہیں وہ واپسی پہ اس سونے میں سے سونے اور چاندی کا ایک بڑا حصہ برصغیر ہندوستان لے جاتی ہیں۔
سونے چاندی کے ہندوستان پہنچنے کی دوسری بڑی وجہ بھی انہی بندرگاہوں سے وہ ہندوستانی ۔ ولندیزی ۔ انگلستانی ۔ اور پرتگیزی بحری جہاز ہیں جو بلا تفریق۔ سارا سال برصغیر سے (باگو یا تھائی نام پیگو اور تانہ ساری موجودہ برما یا میانمار)۔ سیام (تھائی لینڈ)۔ سیلون (سری لنکا) ۔آشیم ۔ نکسر ۔ مالدیپ ۔ موزمبیق اور وہاں سے زنگبار (تنزانیہ) جہاں تجارت کے بہت سے مواقع ہیں۔وہاں سے واپسی پہ سونے اور چاندی کے ساتھ ہندؤستان پہنچتے ہیں ۔ جہاں سے سونا اور چاندی مغل بادشاہ کے دربار پہنچ جاتا ہے۔

Pegu, Tanasseri, Siam, Ceilán, Achem, Nacassar, las Maldivas, Mozambique, Zamzibar

جاپان میں سونے کی کانوں سے ولندیزی سونے کی بڑی مقدار کی شکل میں بہت منافع کماتے ہیں۔ جلد یا بدیر اس سونے کی منزل ہندوستان ہوتی ہے۔ آخر کار پرتگیزی اور فرانسیسی جو سونا اور چاندی لیکر ہندوستان جاتے ہیں ۔ وہ ہندوستان سے سونے چاندی کے بدلے میں مال لیکر اپنے ملکوں کو واپس آتے ہیں۔
یہ سب جاننے کے بعد کولبیرت نے فوراً تجارتی اصلاحات نافذ کیں جیسا کہ کولبیرٹ (فرانسیسی زبان میں ”کولغبیت“) اسکے بیان اور خط سے پتہ چلتا ہے ۔ کولبیرٹ اس واضح نتیجے پہ پہنچتا ہے کہ ہندؤستان کو مندرجہ ذیل اشیاء کی ضرورت ہے ۔
۱)۔ تانبہ۔ جائفل ۔ دارچینی ۔ ہاتھی اور وہ اشیائے مصرف جو جاپان سے ۔ ملاکوس جزائر سے۔ سری لنکا ۔اور یوروپ سے سے ولندیزی اپنے جہاذوں پہ لے کر ہندوستان جاتے تھے ۔
۲)۔ جست جو انگلستان فراہم کرتا تھا۔
۳)۔ کپڑا اور دیگراشیاء فرانس سے ۔
۴)۔ ازبک گھوڑے ۔ جہاں سے ہر سال پچیس ہزار ۲۵۰۰۰ سے زائد گھوڑے ہندوستان منگوائے جاتے تھے۔
۵)۔اسی طرح ایک بڑی تعداد میں گھوڑے ایران سے براستہ قندھار اور ایتھوپیا سے ہر سال منگوائے جاتے ۔عرب سے بھی گھوڑے منگوائے جاتے۔موکا ۔ بصرہ اور بندر عباس سے بھی بحری جہازوں سے گھوڑے منگوائے جاتےتھے۔
۶)۔ ثمر قند۔ بخارا ۔ بالی ۔ اور ایران سے سے بے شمار قسم کے تازہ پھل۔ گرما۔ سیب ۔ ناشپاتی اور انگور ہندوستان منگوائے جاتے۔ اور سردیوں مین سارا سال دلی ہندوستان میں کھائے جاتے اور جن کی اچھی خاصی مہنگی قیمت ادا کی جاتی تھی۔
۷)۔ انہی ممالک سے سارا سال خشک پھل اور میوہ جات منگوائے جاتے ۔ جو زیادہ تر ۔ بادام ۔ اخروٹ۔ خشک آلوبخارا۔ اور خشک خرمانی پہ مشتمل ہوتے۔
۸)۔ اور آخر میں مالدیب سے چھوٹی سمندری سیپیاں جو بنگال اور بنگال کے ارد گرد رائج سکہ کے طور استعمال ہوتیں۔ اور عنبر ۔ جبکہ موزمبیق سے گینڈے کے سینگ اور ہاتھی دانت۔
اسکے علاوہ :۔
الف)۔ ایتھوپیا سے کچھ غلاموں کے دانت۔
ب)۔چین سے مشک اور چینی مٹی۔
ج)۔ بحرین سے اور ٹٹوکری ( سری لنکا )سے موتی ۔
د)۔ عام استعمال کی دیگر غیر ضروری اشیاء ۔
اس ساری تجارتی مشق جس سے ہندوستان میں یہ ساری اشیاء پہنچتی تھیں۔ اس تجارت میں ہندوستان کے سونا اور چاندی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا کیونکہ جب یہ مال ہندوستان پہنچتا توغیر ملکی اسکے بدلے ہندوستان کی مصنوعات خریدتے اور یوں سونا اور چاندی جیسی قیمتی دھاتیں ہندوستان سے باہر نہ جاتیں۔
ان سب امور کی وضاحت کے بعد جو کہ تجارتی راہیں متعین کرنے اور تجارتی منصوبہ بندی کرنے کے لئیے بہت مفید ثابت ہوسکتیں تھیں ۔ مگر برنئیر کو علم تھا کہ ان سب باتوں سے بڑھ کر کولبیرٹ کو براہ راست سونے اور چاندی حاصل کرنے سے دلچسپی ہے۔اور برنئیر اس نتیجے پہ پہنچنے کے بعد لکھتا ہے۔”اگر آپ کا یہ ہی مقصد ہے تو ہندوستان وہ خلاء ہے جہاں دنیا کے سونے چاندی کا بڑا حصہ گم ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے کے بہت سے راستے ہیں مگر وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں “۔(۶٭)۔
(جاری ہے)

کولبیرٹ (فرانسیسی زبان میں اس نام کا تلفظ کولبیغت ہے)
(1) BERNIER, Viaje al Gran Mongol, Indostán y Cachemira, t. II, Edit. Calpe,
Gráficas Artes de la Ilustración, Madrid^Barcelona, 1921, y Extraits et copies des
lettres de Bernier. Memoires et Documents. Archives del Departament des Affairs
Etrangeres. Fond divers.
(2) Carta de Bernier a Colbert. Versión española en Viaje al Gran Mogol, Indostán
y Cachemira, ob. cit., pág. 190.
(3) Carta de Bernier a Colbert, obra editada,.pág. 190
(4) MAUROIS, ANDRÉ, Historia de Francia , 4.° edic, Edit. Surco, Barcelona, 1958,
629 págs. Piel 4.°, pág. 227.
(5) BERNIER, ob. cit., pág. 191.
(6) BERNIER, ob. cit., pág. 194

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان اور برئنیر رپورٹ


کولبیرٹ ازم۔ برصغیر ہندؤستان اور برئنیر رپورٹ۔پہلی قسط

قسط اول
ہمارا موضوع شاہجہان اور اورنگ زیب کے دور میں ہندؤستان سے متعلق "فرانسسکو برنئیر ” کے سفر اور خیالات ہیں۔ جن سے اس دور میں ہندؤستان اور یوروپ کی دیگر اقوام کے حالات اور سوچنے کا انداز ۔ اور برصغیر ۔ برصغیر میں مغلوں کی حکومت۔ برصغیر کے سماجی ۔ معاشرتی ۔ سیاسی ، فوجی اور حکومتی ڈھانچے کا جائزہ لینا اور برنئیر جیسے مغربی دانشور کی زبانی ہندؤستانیوں کی خامیوں اور خوبیوں کا موازنہ کرنا ہے ۔ اور اس دور میں ہندوستان کے بارے مغربی سوچ کا احاطہ کرنا شامل ہے۔
” کولبیرٹ” ( ۲۹۔انتیس اگست سولہ سو انیس عیسوی ۱۶۱۹ء تا ۶ چھ ستمبر سولہ سو تراسی ۱۶۸۳ء ) فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم (چودہویں) کا وزیر خزانہ تھااور وزیر اعظم کے بعد بادشاہ کی حکومت کا دوسرا طاقتور ترین فرد شمار کیا جاتا ۔ یہ وہ دور تھا۔ جب فرانس ۔ ہالینڈ سے مشرقی منڈیوں کی مصنوعات کا عالمی تجارت میں مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔اور مشرقی منڈیوں کی مصنوعات اور مصالحہ جات کی اپنے ملک فرانس میں مانگ کی وجہ سے برآمد درآمد کا توازن اپنے حق میں کرنے کے لئیے۔ مشرقی اور دیگر ممالک میں قبضہ کرتے ہوئے اپنی نوآبادیاں قائم کر کے ۔دیگر فوائد کے ساتھ وہاں اپنی مصنوعات کی کھپت کرنا چاہتا تھا۔ فرانس کے مشہور وزیر خزانہ کولبیرٹ کی اس سوچ اور حکمت عملی کو فرانس میں بے حد مقبولیت ملی اور اسے ۔ "کولبیرٹ ازم” کا معروف نام دیا گیا۔
مسلسل ناکامیوں ، عزم کی کمی اور عدم اتفاق کی وجہ سے فرانس کی مختلف نجی جہاز راں کمپنیاں مہم جوئی سے ہاتھ اٹھا چکیں تھیں۔ تاہم کولبیرٹ سولہ سو چوسنٹھ میں فرانس کے بادشاہ لوئس چہاردہم کو اس بات پہ قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔کہ ہندوستان کے لئیے الگ سے جہاز رانی اور مہم جوئی کے لئیے کمپنیاں قائم کی جانی ضروری ہیں۔جبکہ اورینٹل کمپنی جو کہ مڈغاسکر اور بوربون جزائر سے بڑی مہموں کے لئیے استعمال ہوتی تھی۔ فرانس کے پچھلے بادشاہ لوئس سیز دہم کے دور کے آخری دنوں کے بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اورینٹل کمپنی دیگر دوسرے معاملات میں استعمال کی جانے لگی۔
پہلے پانچ سالوں میں کولبیرٹ ازم کو عوام میں بے حد پسند کیا گیا۔اور نفسیاتی طور پہ کولبیرٹ ازم کے رحجان میں اضافہ ہوا۔”کولیبرٹ ازم” کو خود غرض تجارتی مقاصد کے طور پہ پہچانے جانے کی بجائے ایک ذہین منصوبہ بندی کا نتیجہ سمجھا گیا ۔ جس سے ولندیز (ہالینڈ) اور انگلستان کا مقابلہ کرنا مقصود ہو۔ کیونکہ اس دور یعنی سترھویں صدی میں فرانس کے اکثریتی دانشوراور باشعور طبقہ بھی ولندیز اور انگلستان کو ہی برتر تسلیم کئیے بیٹھے تھے۔
اس دور میں فرانسیسی نصرانی عقیدت مندوں میں سے فرانس کے بارے ایک پُر جوش اور محب الوطن ” فرانسسکو برنئیر” ہو گزرا ہے ۔ جوایک ڈاکٹر (طبیب) فلاسفر اور سیاح تھا۔ برنئیر سترھویں صدی میں ۱۶۲۰ء سو لہ سو بیس عیسوی میں "جوئے”( انگریس) فرانس میں پیدا ہوا۔ اور ۱۶۸۸ء اسولہ سو اٹاسی عیسوی میں پیرس، فرانس میں مرا۔ فرانسسکو برنئیر نے۱۶۴۲ء سولہ سو بیالیس عیسوی میں معروف فلاسفر "گاسیندی” سے اپنے مشہور ہم عصروں "کاپیلے ، مولیئیر، اور ھسنلات ” کے ساتھ فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ برنئیر "کریانو دے برجیراک” کا ہم عصر ہو گزاراہے۔ فرانسسکو برنئیر نے سترھویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ایڈوانچر اور سیاح نودری میں گزارا۔برنئیر نے بہت سے ممالک کے سفر کئیے ۔ جن میں اٹلی ، جرمنی اور پولینڈ شامل ہیں۔فرانسسکو برنئیر نے "مونت پلئیر” میں ڈاکٹر بننے کے بعد اپنے استاد کی موت کے بعد ملک شام کا رُخ کیا اور وہاں سے برنئیر ہندؤستان پہنچا۔جہاں اسے طبیب (ڈاکٹر) کے طور کام کرنے کی اجازت مل گئی اور اسے شاہجہان کی بیماری کا علاج کرنے کے لئیے بارہا طلب کیا گیا ۔ یوں وہ دربار میں شامل ہوگیا اور اور اورنگ زیب نے جب اپنے باپ شاہجہان کو تخت و تاج سے محروم کیا تو فرانسسکو برنئیر اورنگزیب کے دربار میں شامل کر لیاگیا۔
مغل دربار میں شمولیت کے دوران بھی برنئیر نے وقت ضائع نہیں کیا اور شہنشاہ کے آغا دانشمند خان کو "ہیروی” اور "پسکیت” کی جسمانی ساخت کے بارے تحقیق اوردریافتوں کے بارے آگاہ کیا اور "گاسیندی” اور "دیس کارتیس” کے فلسفی نظریوں کے بارے بتایا۔
ہمہ وقت متجسس ہونے کی وجہ سے برنئیر نے ہندؤستانیوں کے مذہبی عقائد اور فلسفے کا بغور مطالعہ کیا۔ مغل سلطنت کی سماجی ، معاشرتی ، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے بارے معلومات اکھٹی کیں۔ یہ وہ دور تھا جب مغل شہنشاہیت عروج پہ تھی۔ شہاجہان کی بیوی تاج محل مر چکی تھی اور مشہورتاج محل بن چکا تھا۔ شاہجہان کی بیوی کا علاج بھی فرانسسکو برنئیر کر تا تھا۔ اور موسم گرما میں گرمیوں کی وجہ سے جب شہاجہان اورتاج محل دیگر دربار کے ساتھ کشمیر منتقل ہوتے تو برنئیر ساتھ ہوتا ۔
تیرہ ۱۳ سال فرانس سے باہر رہنے کے بعد فرانسسکو برنئیر فرانس واپس چلاگیا۔
فرانس واپس پہنچنے پہ فرانسسکو برنئیر نے بہت سے کتابیں لکھیں ۔ جن میں "عظیم مغل سلطنت کے سفر ” اور فلسفے پہ سات جلدوں پہ مشتمل "ابغریجئے دے فلاسفی دے گاسیندی” لکھی ۔ دیگر بہت سی کتابوں میں سے چند ایک قابل ذکر نام ذیل میں ہیں۔
Suite des mémoires sur l’empire du grand Mogol
Abregé de la philosophie de Gassendi (1674);
Doutes sur quelquesuns des principaux
chapitres de L’Abrégé de la philosophie de Gassendi (1682);
Eclaircissement sur le libre de M. Delaville (1684);
Traite du libre et du voluntaire(1685);
Memoire sur le quietisme des Indes (1688);
Extrait deDescripción du canal des Deux Mers, Eloge de Chapelle (Journal des Savants) (1688).

لیکن ہماری دلچسپی کا باعث اور موضوع "فرانسسکو "برنئیر کے وہ سفر نامے اور تفضیلات ہیں۔ جو برنئیر نے ۱۶۷۰ء سولہ سو ستر عیسوی اور ۱۶۷۱ء سولہ سو اکہتر عیسوی میں چھپوائے۔
دوسرے ممالک سے برنئیر نے بہت سے خطوط لکھے۔ جن میں بہت سے خطوط برنئیر کے سفر ناموں میں شامل ہیں ۔ لیکن کچھ خطوط ایسے بھی ہیں جو وضاحتی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں چھپے یا انکے کچھ حصے چھپے۔

فرانسسکو برنئیر کے اس مختصر سے تعارف کا مقصد محض یہ تھا کہ برنئیر کے بارے میں پتہ چل سکے اور اسکی تحریروں کی سنجیدگی اور اہمیت کا اندازہ رہے۔

فرانسسکو برنئیر کے بیش قیمت تاریخی اہمیت کی حامل تحریروں کے کچھ حصے کوذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ جنہیں برنئیر نے فرانس کے وزیر خزانہ "کولبریٹ ” کو لکھا ۔ یہ تحریریں اور خط فرانس کے وزیر خزانہ کی میز پہ نوآبادیت نامی فائلوں کا حصہ تھے۔ یاد رہے۔یہ وہ دور تھا۔ جب فرانس ۔ ہالینڈ سے مشرقی منڈیوں کی مصنوعات کا عالمی تجارت میں مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔اور مشرق میں واقع مشرقی اور دیگر ممالک میں قبضہ کرکے ااپنی نوآبادیاں قائم کرنا چاہ رہا تھا تانکہ اُن ممالک کی معدنیات۔ پیداوار اور مصنوعات یعنی وسائل کو فرانس کے لئیے بروکار لائے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ فرانس کے مشہور وزیر خزانہ” کولبیرٹ” کی اس سوچ اور حکمت عملی کو فرانس میں بے حد مقبولیت ملی اور اسے ۔ "کولبیرٹ ازم” کا معروف نام دیا گیا۔

(جاری ہے۔)

1٭Jean-Baptiste Colbert (29 August 1619 – 6 September 1683) was a French politician who served as the Minister of Finances of France from 1665 to 1683 under the rule      

of King Louis XIV.

Jahangir, Shah Jahan, Aurangzeb, c.1605-1707
François Bernier (1625 – 1688) was a French physician and traveller. He was the personal physician of the Mughal emperor Aurangzeb for around 12 years during his stay in India.
4 ٭ La península del Indostán y el colbertismo. I. El informe de Bernier a Colbert Rojas Ferrer, Pedro
٭5.la description des Etats du Grand mogol

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: