RSS

Tag Archives: رویہ

اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔



اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔

عوام
جہاں تک سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ہے تو یہ سو فیصد دیانتداری دنیا کے عوام میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں دنیا کی سبھی قوموں کے کرپٹ لوگ بند ہیں۔
لیکن پاکستانیوں کی اکثریت اپنے پیدائشی ماحول اور اپنے ارد گرد ہر طرف پائے جانے والی بے بسی اور روز مرہ زندہ رہنے کی جستجو میں زندگی گھسیٹنے کے لئیے معاشرے اور بااثر طبقے کی طرف سے مسلط کی گئی کرپٹ اقدار اور بدعنوانی کی وجہ سے محض زندہ رہنے کے لئیے ڈہیٹ بن کر ہر قسم کے ظلم و ستم پہ بہ جبر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔
اور جب اپنی اور اپنے خاندان کا جان اور جسم کا سانس کا ناطہ آپس میں میں جوڑے رکھنا محال ہو جائے۔ اور ایسا کئی نسلوں سے نسل درنسل ہو رہا ہو اور ہر اگلی نسل کو پچھلی نسل سے زیادہ مصائب و آلام کا سامنا ہو اور اسی معاشرے کے ہر قسم کے رہنماؤں کی اکثریت جن میں مذہبی ۔ علمی۔ سیاسی۔ دینی۔ حکومتی ۔ فوجی۔ قسما قسمی کی حل المشکلات کی معجون بیچنے والے دہوکے باز۔اٹھائی گیر ہوں اور بد ترین اور بدعنوان ہوں۔ تو وہاں خالی پیٹ۔ اور بے علم۔ بے شعور عوام سے دیانتداری کا اور وہ بھی سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ظلم ہے۔
مندرجہ بالا بیان کردہ حالات ایسا کلٹ کلچر بنا دیتے ہیں جس میں دیانتداری کا خمیر پیدا ہی نہیں ہوتا۔جیسے رات کو دہوپ نہیں ہوتی۔ اور اس کا مظاہرہ پاکستانی معاشرے میں روزہ مرہ زندگی میں سرعام نظر آتا ہے ۔


کوڑھ کی کاشت کر کے خیر کی امید کیسے باندھی جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگ۔ مشہور لوگ۔ لیڈ کرنے والے لوگ۔ بااثر طبقہ سے سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اشرافیہ۔ حکمران۔ رہنماء۔ علماء۔ جرنیل۔ اساتذہ اور اس قبیل کے دیگر لوگ مثال بنا کرتے ہیں ۔
جیسے گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی اگر سگریٹ نوشی ۔ شراب نوشی یا آوارہ گردی کرے تو سارا گھرانہ وہی عادتیں پکڑتا ہے۔مگر پاکستان کی اشرافیہ اور بااثر طبقے  کو مثالی کہنے کی بجائے کم ظرف اور تنگ دل کہنا بجا نہ ہوگا کہ جن سے پاکستانی عام  عوام  کویئ مثبت تحریک پا سکے ۔
اس کے باوجود اگر پاکستانی قوم میں کچھ اقدار باقی ہیں تو یہ شاید ان جینز کا اثر ہے جو عام عوام کے خون میں شامل ہیں۔ اور ہنوز اخلاقی بد عنوانی کے خلاف مزاحمت کر ہے ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ۔ ہزراوں سال سے غلامی میں پسنے کی وجہ سے مجبور و معذور ہےاور ہماری ذہنی بلوغت ہی  نہیں ہوسکی۔ 

ہمارے معاشرے میں۔
ہماری انفرادی معاشی خود مختاری ۔ روٹی روزی۔ بنیادی ضروریات اور گھر جیسے تحفظ کا تصور ہی اپنے صحیح معنوں میں فروغ نہیں پا سکا ۔ کیونکہ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو یہ چیزیں مکمل آزادی اور عزت نفس کو پامال کئیے بغیر نصیب ہی نہیں ہوئیں ۔ تو شخصی آزادی یا اجتماعی سوچ بھلا کیونکر فروغ پاتیں؟
آج بھی پاکستان کی  بڑی اکثریت کے لئیے۔ پٹواری۔ نیم خواندہ تھانیدار اور گھٹیا اخلاق و تربیت کے اہلکار۔ حکومت اور عام آدمی کے درمیان تعلق کا پُل ہیں۔اور ان سے آگے عام آدمی کی سوچ مفروضوں پہ قائم  اپنے ملک و قوم کا تصور رکھتی ہے۔ اگر تو کوئی تصور رکھتی ہے؟۔
اور یہ سلسلہ برصغیر کے عوام کے ساتھ ہزاروں سالوں سے روا ہے ۔ اس لئیے عام آدمی کے نزدیک ۔ آزادی۔ عزت نفس۔ اور جائز حقوق کی بازیابی کا کوئی تصور ہی نہیں  نپ سکا۔
اس لئیے وہ معاشرے میں ہر عمل اور اس کے رد عمل کے لئیے بااثر طبقے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اور اس بااثر طبقے کے عمل۔ بیانات اور منشاء کو ہی مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے وجود میں آتے ہیں اور اس سے آگے قومی شعور نہیں بڑھ پاتا۔
ان وجوہات کی بناء پہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی طبقے کبھی کا کوئی رول نہیں رہا۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اکثریت کسی انقلاب یا تبدیلی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں اور انیس سو سینتالیس سے آزاد ہیں۔لیکن دل پہ ہاتھ رکھ دیانتداری سے بتائیں کیا آزاد قوم اور مسلمان یوں ہوتے ہیں؟
اس کی یہ وجہ بھی وہی ہے کہ اسلام روزمرہ کی معاملگی حیثیت سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہی نہیں بن سکا ۔ اس لئیے ہماری اخلاقی حدود و قیود عام طور پہ اسلامی اخلاق سے باہر ہوتی ہیں۔
جب عوام کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے ۔ سرداروں۔ پیروں۔ دینی رہنماؤں ۔ علماء اکرام۔ سرکاری افسروں۔ سیاسی رہنماؤں ۔ حکومت اور حکمرانوں۔ فوج اور جرنیلوں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پھر جس کی کوئی ادا ۔ کوئی بات دل کو بھا جائے اسے اپنا اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔
ہمارا اجتماعی شعور کبھی تھا ہی نہیں۔ اور ہمارے نصب العین ہمیشہ بااثر طبقے نے طے کئیے۔
ہماری اشرافیہ۔ ہمارا بااثر طبقہ انتہائی بے ضمیر۔ دہوکے باز۔ کم ظرف۔ سطحی شخصیت کا مالک اور اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کے لئیے کسی بھی حد تک جانے کے لئیے تیار رہتا ہے۔
اور مرے پہ سو درے ۔ اس سارے تماشے سے کچھ قوم فروش اور ابن الوقت لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی جھجھک کے اپنی ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کو نہائت بالا نرخوں پہ فروخت کیا۔ جسے حرف عام میں پاکستان کا "میڈیا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ تنزل ہماری اشرافیہ پہ طاری ہے اور عام عوام وہیں سے تحریک پاتے ہیں ۔ چند اشتنساء چھوڑ کر۔ جسے فوری طور پہ پھیلانے کا اہتمام قوم فروش میڈیا اور اسکے مالکان کرتے ہیں۔
اس لئیے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ عام آدمی کیونکر اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئیے بجائے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے ۔ وہ بجائے خود اسی تنزلی میں شامل ہو رہا ہے۔
اور یہ وہ وجہ ہے کہ عام عوام میں۔ معاشرے میں۔ ہر طرف لاقانونیت۔ بد عنوانی۔ بے ایمانی۔ بد دیانتی۔ بد نظمی اور افراتفری نظر آتی ہے۔

اس لئیے پاکستان کے ان موجودہ حالات میں

 عام آدمی میں اجتماعی شعور کی تربیت کرنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک اشرافیہ۔ یعنی بااثر طبقہ۔ دینی و سیاسی رہنماء۔ جرنیل اور حکمران ۔ اور پاکستان کے وسائل پہ قابض مافیا۔اپنے انداز نہیں بدلتی۔اور بد قسمتی سے تب تک پاکستان کے عوام کا مجموعی رویہ بدلنا اور اجتماعی شعور کا فروغ پانا۔ بغیر کسی معجزے کے ممکن نظر نہیں آتا۔ اور دائرے کا معکوس سفر جاری رہے گا۔
اگر عام عوام کو اس بات کا ادراک دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک باعزت قوم ہیں اور انھیں ایک اجتماعی شعور بخشنا ہے۔ تانکہ وہ ایک قومی اخلاق اپنا کر اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ صرف حکومتی اداروں کے عام اہلکاروں اور عہدیداروں سے نااہلی ۔ بدنیتی اور بد عنوانی کا حساب نہ لیا جائے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے کیونکہ عام اہلکاروں کو معطل کرنے یا چند ایک لوگوں کو ان کے عہدوں سے برخاست کر دینے سے۔ پاکستان کی بد عنوانی پہ قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ ایسا کرنا تو دراصل دنیا کی بدترین۔ ایک نمبر کی بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسلئیے یہ از بس ضروری ہے کہ پاکستان میں بد نیتی۔ بدیانتی اور بد عنوانی ختم کرنے کی کوشش کے لئیے لا محالہ طور پہ اس کا آغاز بالادست طبقے اور پاکستان کے وسائل پہ قابض کم ظرف اشرافیہ سے نہ کیا گیا تو ایسی ہر مہم ناکام ہو جائے گی۔ اور اجتماعی قومی شعور۔ ایک باوقار با اختیار قوم۔ اور ایک آزاد پاکستان کا تصور صرف چند ہزار لوگوں کو ناجائز تحفظ دینے کی وجہ سے محض ایک خیال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے وسائل پہ قابض چند ہزار نفوس کی کم ظرف اشرافیہ۔ یا۔ بنیادی اور ضروری سہولتوں کے مالک کروڑوں باشعور عوام کا ایک بااختیار اور آزاد پاکستان؟ جب تک یہ طے نہیں ہوتا۔ تب تک ہم ایک معکوس دائرے میں سفر کرتے رہیں گے اور بدیانت غفلت کا شکار رہیں گے۔

جاوید گوندل۔ بارسیلونا

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

والعصر


والعصر 1

والعصر
۔سورة العصر۔
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾ (العصر1-3)
ترجمہ۔
1)۔ عصر کی قسم
2)۔ بے شک انسان خسارہ میں ہے۔
3)۔ بجز اُن کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔


سورۃ والعصر ۔قرآنِ کریم کی دوسری مختصر سی سورت ہے۔ جس میں اللہ تعالٰی نے گواہی دی ۔ قسم اٹھائی ہے ۔ اور وہ زمانوں کی قسم ہے۔ وقت کی قسم ہے کہ جب کچھ بھی نہیں تھا ۔تو اللہ تعالی موجود تھا اور اللہ تعالٰی ہر زمانے کا شاہد ہے۔ گواہ ہے کہ ۔ اللہ تعالٰی سب زمانوں سے پہلے کا ہے۔ ہمیشہ سے ہے۔ اللہ تعالٰی نے سارے زمانے دیکھے ہیں اور حضرتِ انسان کو بار بار پھسلتے دیکھا ہے۔ اسی لئیے اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو زمانوں کی قسم کھا کر یہ باور کرواتا ہے کہ مجھے سارے زمانوں کی۔ وقت کی قسم ہے ۔کہ میں زمانوں سے شاہد ہوں ۔ جانتا ہوں اور مجھے علم ہے کہ یوں ہوا ہے ۔ یوں ہوتا آیا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ
انسان خسارے کا سودا کرتا ہے ۔ تھوڑے کے لئیے زیادہ چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ کام کرتا ہے جس میں خود اس کے لئیے۔ اور دوسروں کے لئیے سراسر خسارہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی یہ سب کچھ زمانوں سے یعنی ابتدائے آفرینش سے دیکھ رہا ہے۔ کہ یوں ہو رہا ہے ۔انسان خساروں کا، گھاٹے کا ۔ نقصان کا ۔ سودا کرتا ہے ۔


مگر ۔ ہاں وہ لوگ ؟۔ اور کون ہیں وہ لوگ ؟ جوخسارے کا سودا نہیں کرتے ۔جواہلِ خسارہ میں شامل نہیں ؟۔ وہ جو ۔ ایمان لاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے دین پہ ۔ اسکی بتائی ہوئی باتوں پہ ۔ اسکے احکامات پہ ۔ عمل کرتے رہے ہیں ۔ عمل کرتے ہیں۔ وہ حق بات کی تلقین کرتے ہیں، یعنی وہ حق بات کرتے ہیں ۔حق پہ عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے کا کہتے ہیں ۔
یعنی وہ اہلِ حق ہیں ۔ جھوٹ سے بچتے ہیں ۔ ہیر پھیر ۔  مکروفریب اور  دہوکہ دہی نہیں کرتے رہے ، نہیں کرتے۔ ہمیشہ سچ کہتے رہے ہیں ، سچ کہتے ہیں۔ کسی جابر ۔ کسی آمر سے نہیں ڈرتے ۔ کسی مصلحت یا دنیاوی فائدے کے لئیے سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ حق کو حق کہتے ہیں۔ خواہ اس کے لئیے کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے اور انکے ایمان ۔ اور صالح اعمال کی وجہ سے۔ اور حق کا ساتھ دینے۔ اور حق پہ ڈٹ جانے کی وجہ سے۔ جب حالات انکے ناموافق ہوجاتے ہیں۔ ان پہ جبر اور ستم کیا جاتا ہے ۔ انکا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ تو وہ زمانے کی ریت اور چلن کا ساتھ دیتے ہوئے بدکار لوگوں کاساتھ ۔ بدکار رسموں ۔ اور رواجوں کا ساتھ ۔جابر اور آمر حاکموں اور ظالموں کا ساتھ نہیں دیتے ۔انکے ظلم اور ستم پہ خاموش نہیں رہتے ۔کچھ بس میں نہ رہے ۔اورجب ان سب ستموں پہ۔ ان کا بس نہ چلے۔ کوئی پیش نہ چلے۔ تو وہ صبر کرتے ہیں اور اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں۔اور اپنے جیسوں کو صبر کرنے اور اور سچ پہ ڈٹے رہنے کی تلقین اور ہدایت کرتے ہیں۔ یعنی  وہ خود بھی ایمان لاتے ہیں۔   یقین رکھتے ہیں۔ اور نیک اعمال کرتے ہیں۔  حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ دوسروں کو یوں کرنے کا کہتے ہیں۔ اور جب پیش نہ جائے تو  برائی میں شامل نہیں ہوتے ۔ برائی کے سامنے سپر نہیں  ڈالتے اور  خود بھی صبر کرتے ہیں ۔ اور اپنے جیسوں کو بھی  ۔   حق بات کہنے پہ۔ جو نامساعد حالات سے ۔ لوگوں کے ناروا رویے سے۔ اور جوروستم  سے جب  واسطہ پڑتا ہے ۔ تو انہیں صبر سے سب  برداشت کرنے کی تلقین اور تاکید کرتے ہیں ۔ تانکہ حق بیان ہو۔ حق جاری ہو۔ اور لوگ حق کے لئیے ڈٹ جائیں۔ ڈٹے رہیں۔ اور مصیبت اور پریشانی  میں صبر سے سب کچھ برداشت کریں ۔ بس یہی وہ لوگ   ہیں۔ وہ لوگ!  جو سارے زمانوں سے آج تک خسارے میں نہیں رہے!! اور نہ کبھی خسارے میں ہونگے!!۔

اور اللہ تعالٰی عصر کی۔ زمانوں کی ۔ وقت کی ۔ انسان کی تاریخ کا گواہ ہے۔اور اللہ تعالٰی خود۔ اس وقت کی قسم کھا کر اپنی شہادت کو ۔ گواہی کو بنیاد بنا کر۔ حضرتِ انسان کو خسارے اور خسارے میں نہ رہنے والوں کے بارے بیان کر رہا ہے ۔خبردار کر رہا ہے کہ ازلوں سے ۔ زمانوں سے کون سے لوگ فائدے اور کون سے لوگ خسارے میں رہے ۔ہیں کیونکہ اللہ سب کے انجام کو جانتا ہے۔ اور اسوقت بھی جانتا تھا۔ جب ہم سے بھی پہلے کے زمانوں میں جو لوگ مختلف برائیوں  کے سامنے  جھکتے نہیں تھے۔ اور اللہ کے بتائے ہوئے حق کے رستے پہ چلتے تھے۔ اور پریشانیوں پہ صبر کرتے ۔اور دوسروں کو حق پہ چلنے۔ اور صبر کرنے کی تاکید کرتے تھے ۔ تو فائدے میں رہتے تھے۔ اور جو اس کے برعکس جو  لوگ  جو یوں نہیں کرتے تھے۔ دنیاوی فائدوں اور   مصحلتوں یا  خوف یا ڈر کی وجہ سے ۔ ایمان نہیں لاتے تھے۔ نیک عمل نہیں کرتے تھے۔ اور حق کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔ اور حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مصائب پہ صبر کی بجائے ظلم اور برائیوں پہ خاموش ہوجاتے تھے ۔ اور نہ ہی دیگر   حق کا ساتھ دینے والے لوگوں کو۔ اور مصائب  جھیلنے پہ انہیں صبر سے۔ حوصلے کے ساتھ، برداشت کرنے کی تلقین کرتےتھے۔ تو یہ لوگ خسارے میں رہے ۔ اور خسارے میں ہیں اور ۔ خسارے میں رہیں گے ۔

اور چونکہ اللہ تعالٰی نے یہ سب ہمیشہ سے دیکھ رکھا ہے۔ اورجو ہم سے پہلے کے سارے زمانوں میں بنی نوع انسان ہو گزرے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے  ان سب کے انجام کو دیکھ رکھا  ہے ۔ انکے کئیے کے نتیجے سے واقف ہے ۔ اور وہ گواہ ہے ۔ اسلئیے انہی سارے زمانوں کی اور بنی نوع انسان کی ساری گزری نسلوں  سے انکے حالات سے انجام سے باخبر ہونے کی وجہ سے۔ اللہ تعالٰی ہمیں خبردار کر رہا ہے ۔ کہ  ہم  اسکی قسم اور گواہی پہ  یقین کرتے ہوئے سابقہ زمانوں اور آنے والے وقتوں کے خسارہ پانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوجائیں اور ہدایت پائیں۔
اس لئیے ہمارے ہاں جن برائیوں کو رواج سمجھ کر۔ یا جن پہ اپنے آپ کو بے بس سمجھ کر۔ انہیں خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ اس میں شامل ہوا جاتا ہے ۔ تو اس سورت والعصر  سے ہمیں انسانوں کی دونوں قسموں کا پتہ چلتا ہے ۔کہ خسارے یا گھاٹے والے کون ہیں۔ اور اللہ سے منافع کا سودا کرنے والے کون ہیں اور انکا طریقہ کار کیا ہے۔
اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آج کے حالات میں ہمیں کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئیے ،۔یعنی ایمان لانا اور یہ یقین ہونا کہ اللہ نے جو فرما دیا ہے۔ وہ ہی درست ہے ۔ وہی ہمارا اللہ ۔ وہی ہمارا آقا و مالک ہے ۔ اور اسی کا دین سچا ہے۔ کہ جو ہم اللہ کی خاطر اپنے دین کی خاطر اور اپنے پہ فرض ہونے کی وجہ سے اور اس فرض کی خاطر نیک عمل کریں ۔ اور حق کا ساتھ  اور  سچ کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ خواہ کتنی ہی مشکلیں درپیش کیوں نہ ہوں ۔ کسی مصلحت کے تحت جھوٹ ۔ مکاری۔ فریب اور ناجائز کام نہ کریں ۔ اور اگر ایسا کرنے میں۔ یعنی سچ کہنے اور حق کام کرنے میں مشکلات پیش آئیں کہ جو عموماً آتی ہیں۔ تو اس پہ زمانے کا رواج کہہ کر اس برائی میں شامل نہ ہوں ۔ خود بھی اور دوسروں کو بھی  تاکید کریں  کہ  ناشکرے نہ ہوں ۔ پچھتائیں نہیں ۔ بلکہ اس پہ صبر کریں اور اچھے عمل ۔ نیک عمل کرنے نہ چھوڑیں۔ اور حق کا ساتھ نہ چھوڑیں  ۔ ۔ اور یہ اللہ تعالٰی ہے جو سارے زمانوں کی بنیاد پہ اپنی گواہی اور اسکی قسم دے کر فرما رہا ہے۔کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے۔

 

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔


غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔

نوٹ:۔ اس تحریر کے وجود میں آنے کا فوری سبب محترم اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پہ محترم عبدالرؤف صاحب کی رائے ہے۔

صحت مند مباحث ہی صحت مند معاشروں کی ضامن ہوتی ہے۔ مباحثت ہوتی رہے تو اصل مسائل اور حقائق کا پتہ چلاتے ہوئے مناسب اور جائز حل تجویز کئے جاسکتے ہیں۔ ورنہ دائروں میں بند ہوکر۔ دائروں کے سفر سے۔ قوموں اور افراد کی ذہنی بالیدگی نہ صرف رک جاتی ہے۔ بلکہ وہ خوفناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جوبدقسمتی سے پچھلے پیسنٹھ سالوں سے دائروں میں بند سفر کے نتیجے میں آجکل پاکستان میں ظاہر ہورہی ہے۔ خولوں میں بند ہوجانے سے اور کسی قسم کا اخراج نہ ہونے کی وجہ سے اچانک حادثات اور سماجی دھماکے ہوتے ہیں اور ہم حیران ہو کر پکار اٹھتے ۔”نہیں۔ جناب یہ تو ناممکن ہے ۔ ایسے نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسے ہوا؟خبر کی صداقت میں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے ۔ بھلا کوئی یوں بھی کرسکتا ہے؟۔” جب کہ یوں ہوا ہوتا ہے اور عقل اسے تسلیم کرنے سے عاری ہوتی ہے۔ غصے،لاعلمی ، اندھی جذباتیت، اور ریاستی بے حسی کی سے وجہ لوگ ایک فاترالعقل اور مجنوں شخص کو پولیس کے ہاتھوں سے چھڑوا کر ہزاروں کے مجمع کی شکل میں اسے پکڑ کر  چوک کے بیچ میں زندہ جلا دیتے ہیں۔ اور وہ بھی قرآن کریم ۔ اس کلام پاک کی مبینہ بے حرمتی کو جواز بنا کر جس کے ذریعے دین اسلام پھیلا اور لوگ امن اور رحمت کی پناہ میں آئے۔ اور اس طرح کسی انسان کو زندہ جلا دینا اسلام کی تعلیمات اور عظمت کے نہ صرف منافی ہے ۔بلکہ ایسے کسی فعل کو اسلام نے نہ صرف جرم قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پہ سزا اور حدود مقرر کی ہیں۔ مگر صدمے اور افسوس کی حد ہے کہ ایسے خوفناک اور مکروہ فعل میں حصہ لینے والوں نے اسی قرآن اور دین اسلام کو جواز بنایا۔ جبکہ اسلام انسانوں کو زندہ جلانے جیسی کسی حرکت کی اجازت دینا تو درکنار بلکہ اس پہ سخت حدود مقرر کرتا ہے۔ اور ہماری اخلاقی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں کے مجمع میں سے کسی کو اس ظلم پہ آواز بلند کرنے کی توفیق اور جرائت نہ ہوئی۔ ایسے واقعات میں ریاست بھی برابر کی قصور وار ہے۔ اگرریاست ایسے واقعات پہ از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتوں سے ”حساس“ معاملوں میں مجرم لوگوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کا چلن رکھتی۔ توشاید لوگوں میں حساسیت اور جزباتیت کا یہ عالم نہ ہوتا کہ وہ خود ہی اشتغاثہ، قاضی اور جلاد کے فرائض سرانجام دیتے۔ دائروں میں میں بند ہونے اور نتیجاً انسانی برداشت کے بند ٹوٹنے کی یہ ادنٰی سی مثال ہے اور اجتماعی خود کشی کی ایک علامت ہے ۔ ڈائیلاگ ۔ بات چیت اور کسی لیول پہ بھی کوئی شنوائی نہ ہونے پہ۔ بے بس اور دیوانگی کی حدود کو چھوتے غصے میں لوگ کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔

اسلئیے کم ازکم ایک صحت مند معاشرے کے لئیے ہر لیول پہ صحت مند مباحثت کا ہونا از بس ضروری ہے۔ دہائیوں پہ مشتمل محرومیوں اور بے بس لوگ جب کسی کے ساتھ۔ آپ کے ساتھ۔۔ یا اور کے ساتھ مباحثت یا بات چیت کا آغاز کریں گے۔ تو انکی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ عام طور پہ ہر دو پارٹیاں شروع میں تلخ گوئی سے معاملات شروع کرکے عموما دہیمی اور سلجھی گفتگو پہ اتفاق کرتی ہیں۔ اور مسائل کے حل کے لئیے قابل قبول سمجھوتے پہ اتفاق کر لیتی ہیں۔ اسلئیے آپکی تلخی یا اسی طرح پاکستانی قوم کے حقوق سے محروم کسی دیگر طبقے یا افراد کی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے اور میری رائے میں اس میں تعصب کا پہلو نہیں نکلتا۔
میرے پہلے تبصرے میں فوج یا کسی ریاستی ادارے کی بے جا توصیف تحسین قطعی طور پہ نہیں تھی۔ بلکہ جس تبصرے کے جواب میں، میں نے لکھا تھا ۔ اس تبصرے میں ایک بچگانہ ضد کے طور پہ جان بوجھ کر فوج اور پنجاب کو لازم ملزوم کرنے کی بھونڈی سی کوشش کی گئی ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب بھی پاکستان میں فوج یعنی جنرل ایوب ۔ جنرل یحیٰحی۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے غیرآئینی اور فوجی حکومتیں بنائیں۔ تو ایسی حکومتوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف پنجاب کے عوام نے سب سے زیادہ مزاحمت کی اور قربانیاں دیں۔ اسلئیے اہل پنجاب پہ یہ الزام تھوپنا کہ فوجی جرنیل۔ وطن عزیز کی اصطلاح کو محض پنجاب کے لئیے استعمال کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں انھیں ملک کے دوسرے حصوں کے کوئی غرض نہیں۔ نیز اہل پنجاب کو اسکا ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ تو یہ نہائت بے ہودہ اور دل آزار رویہ ہے اور اہل پنجاب کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اس لئیے اپنی حماقتوں۔ ناکامیوں کواور اپنے مکروہ مفادات کی تشنہ تکمیل کو خواہشات کا نام دیتے ہوئے اہل پنجاب یا کسی بھی دوسرے صوبے یا قومیت پہ ملبہ ڈال دینا احسن اقدام نہیں۔ جبکہ پنجاب سے بغض رکھنے والے یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک مشرف کی فوجی حکومت میں شریک تھے۔ اس کی حکومت حصہ دار تھے اور اقتدار کے کیک میں سے اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ کاٹنے والوں کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے پہ اپنا گند اچھالیں۔
اسمیں پنجابی، سندھی، پٹھان یا بلوچ کی کوئی بحث نہیں مندرجہ بالا پیرائیوں میں اصل صورت حال بیان کرنے اور شکوک کم کرنے کی ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔
نیزآپکی اس بات سے قطعی طور پہ اتفاق نہیں کہ پنجاب یا خیبر پختوان خواہ یا پاکستان کے کسی بھی دیگر علاقے یا صوبوں میں کراچی ۔ سندھ یا بلوچستان یا پاکستان کے کسی بھی دیگر حصے سے محض اسلئیے دلچسپی ہے کہ اسے ساحل سمند ر کی ضرورت ہے یا کسی دیگر ضرورت کی وجہ سے یوں ہے۔ بلکہ دنیا کی سابقہ تاریخ اور دنیا میں رائج الوقت ریاستی اصولوں کے مطابق پاکستان کے تمام جملہ قدرتی وسائل پہ پاکستان کے سبھی حصوں اور شہریوں کا برابر کا حق ہے۔ اگر کہیں کسی وجہ سے کچھ اختلافات ہیں تو انہین باہمی گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہئیے۔
میری ذاتی رائے میں اپنے مسائل کی وجوہات کو ایک دوسرے کے سر منڈھنے کی بے فائدہ کوششوں کی بجائے، ہمیں ان وجوہات کی جڑیں تلاش کرنی چاہئیں اور ان استحصالی قوتوں کا احتساب کرنا چاہئیے۔ جنہوں نے پاکستان بنتے ہی بار بار چہرے بدل کر پاکستان کو لوُٹا ۔کھسوٹا۔ نچوڑااور جی بھر کے عیش کی ۔ ملک و قوم کے نام پہ اپنی تجوریاں بھریں۔ اپنے اثرو رسوخ اور اقتدار و اختیار کو دوام بخشا۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے پاکستان میں موجود رہا ہے اور دن بدن ترقی کرتے ہوئے اب پاکستان کے لئیے نہ صرف ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ بلکہ پاکستان کی سالمیت کے لئیے بھی نہائت خطرناک ہوچکا ہے۔ اور پاکستانی عوام کے ہر قسم کے حقوق چھنینے کے بعد اب ان کے منہ سے روزی روٹی اور آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتا ہے۔ تانکہ بے کس۔ بے بس اور بے ہمت عوام اس طبقے کے ہاتھوں بے چون چرا ہر قسم کے ظلم پہ آنکھیں بند کر لیں۔ اس طبقے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ اپنے مفادات کے لئیے کبھی بھی۔ کوئی سی بھی شکل اپنا لینے میں باق ہے ۔ خواہ وہ شکل فوجی جرنیل کی ہو یا سیاستدان کی۔ نودولتئے ہوں یا نام نہاد قائد یا رہنماء ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں رشتے داریاں کرتے ہیں۔ تانکہ یہ مافیاز مذید مضبوط ہوں۔ اور انگریزی محاورے کے طور ایک دوسرے کی پیٹھ کی حفاظت کرتے ہوئے اسے مضبوط کر سکیں۔ اس طبقے میں جرنیل۔ جاگیردار۔سردار۔ میڈیا اور بزنس کے ٹائی کون۔ بیورکریٹس۔ سیاہ ست دان ۔ پاکستان میں فرقہ، فرقہ کا کھیل کھیلنے والے۔ نام نہاد رہنماء اور قائد یا بوری بند لاشوں کے مافیا سربراہ ۔ جنہوں نے قوم کو لیر لیر کر دیا ہے۔کپڑے کی کترنوں کی طرح کانٹ چھانٹ کے رکھ دیا ہے۔ جو سادہ لوگوں کو جھوٹے نعروں اور بھوکوں کو پیٹ بھر کر روٹی کے خواب دکھلا کر پوری قوم کر باہم دست بہ گریبان کئیے ہوئے ہیں۔
فرض کر لیں بلوچستان ہی نہیں پاکستان کا ہر صوبہ۔ ہر ضلع ۔ تحصیل بلکہ تھانے تک آزاد ہوجائیں اور خدانخواستہ پاکستان کا وجود تک نہ رہے۔ تو کیا پاکستان میں دودھ اور شہد کی بہنے لگیں گی؟۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہنا تو کجا بلکہ میرے۔ آپکے اور پاکستان کے عام آدمی کے۔عام عوام کے۔ حالات بدلنے کی بجائے انکے لئیے کئی نئی قسم کے فساد جنم لیں گے۔ اور اس صورت میں بھی وسائل اور لوگوں کی قسمت کا مالک وہی طبقہ ہوگا۔ جو اس فساد کا ذمہ دار ہے۔ یعنی مسئلے کا حل ملک کے کسی حصے کی علحیدگی میں نہیں ۔ ملک کی تقسیم کوئی حل نہیں۔ بلکہ یہ بجائے خود ایک مسئلہ اور بالادست طبقے کے ھاتھ مضبوط کرنے کا جواز ہے۔ اور یہی انکی سازش ہے کہ اگر پاکستان میں چار صوبے ہیں تو انہیں آٹھ کر لو کہ چلو۔ بندر بانٹ سے چار نئے وزاءاعلٰی۔ گورنرز۔ ہزاروں آسامیاں اور نئی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے سینکڑوں رکن ۔ تو فائدہ کس کو ہوا؟ اسی طبقے کو!۔ جو آج بھی مندرجہ بالا تمام سبھی عہدوں کا بلاشرکت غیرے حصہ دار اور قابض ہے۔ خواہ اسکا نام اور پارٹی یا ادارہ کوئی سا بھی ہو۔ یعنی موجاں ہی موجاں ۔
اس لئیے ضروری ہوگیا ہے کہ اگر جدو جہد کرنی ہے تو ایسے لوگوں یا طبقات کے خلاف علم بلند کی جئیے۔ جو آج پاکستان کے ھر حصے میں عام عوام کی محرومی کا سبب ہیں۔اور یہ جدو جہد پُرامن ہونی چاہئیے ۔ جس میں تشدد کا پہلو یا عنصر نہ ہو۔ تشدد کا ویسے بھی فی زمانہ دور نہیں۔ اور تشدد کے ذریعے حاصل کئیے گئے نتائج کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ علم کو عام کی جئیے۔ لوگوں میں بیداری اور آگہی کی مہم کا آغاز کی جئیے۔ برادشت اور تحمل کو فروغ اور رواج دیں۔ یہ رستہ بظاہر ناممکن کی حد تک مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو قوموں کو دوام بخشتا ہے۔ اور جو قومیں اس رستے سے ادہر ادہر ہوئیں وہ قصہ پارینہ بن گئیں۔
خوش رہئیے۔
نوٹ:۔ اس تحریر کا مقصد صوبائی۔ لسانی۔ علاقائی یا دیگر کسی تعصب کو ہوا دینا نہیں ہے۔ کسی صوبے، یا کسی قومیت کو کسی دوسرے صوبے یا قومیت سے برتر یا کم تر ثابت کرنا نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسی کسی لا یعنی بحث کو چھیڑنا ہے جس سے کسی قسم کے تعصب کی بُو ائے۔ البتہ ایک بہتر ڈائیلاگ اور بات چیت کو اپنانا مقصود ہے۔ہمارے لئیے پاکستان کے سبھی صوبے اور اسکے عوام قابل احترام ہیں۔

 
2 تبصرے

Posted by پر ستمبر 12, 2012 in Pakistan

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: