RSS

Tag Archives: دو

پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔


پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔whats-your-name

ہمارے ملک میں عام طور پہ بچے کے دو نام رکھے جاتے ہیں ۔
بچے کی علیحدہ سے شناخت کے لئے۔ اسکا نام ۔اس کے والد کا نام ۔ قبیلہ ۔ اور ذات، برادری بمعہ محلہ ،بستی، گاؤں ،گوٹھ ، ڈاک خانہ ،شہر ،تحصیل و ضلع۔ لکھ دیا جاتا ہے ۔
مگر اس کے باوجود ایک ہی محلے میں ایک ہی جیسے ناموں والے دو یا تین لوگ پائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اجنبی لوگوں کو کسی خاص فرد کی تلاش و بسیار میں اور محکموں کی کسی ضروری کاروائی کے دوران بہت سے لطیفے جنم لیتے رہتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایک نام کے کئی افراد ہونے کی وجہ سے پریشان کُن اور افسوس ناک صورتحال بن جاتی ہے۔ خط ایک ہی جیسے نام والے دوسرے افراد کو پہنچ جاتا ہے ۔یا مغالطہ میں لوگ غلط فرد سے معاملات کر لیتے ہیں۔
جبکہ بہت سے ممالک میں باپ کا خاندانی (بعض ملکوں میں قبائلی) نام اور ماں کا خاندانی نام بچے کے نام کے ساتھ لازمی جز کے طور لکھا جاتا ہے جو تا حیات اس کے نام کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اور صرف نام سے ہی کسی کو الگ سے شناخت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ کیونکہ صدیوں سے رائج ایسے ناموں کے نظام میں انتہائی مشکل سے ہی شاید کبھی دو ایک جیسے نام اور باپ کا خاندانی اور ماں کا خاندانی نام یعنی یہ نام دو یا دو سے زائد افراد کے ہوں۔
یوں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر عام اداروں اور لوگوں کو بھی کسی سے رابطہ کرنے ، اور درست فرد کے ساتھ معاملات کرنے میں دشواری نہیں ہوتی ۔
پاکستان میں تو شناخت کئی طریقوں سے کروا ئی جا سکتی ہے۔ اور ایک دیسی طرز کے ہمارے نظام میں کئی لوگ کسی کی شہادت اور شناخت میں مدد گار ہوں گے۔ اور شناختی کارڈ بننے سے یہ مسئلہ کچھ بہتر ہوا ہے ۔ حالانکہ آج بھی پاکستان میں عام آدمی کم ہی کسی کو اسکی شناختی کارڈ کی وجہ سے شناخت کرتا ہے ۔ عام طور پہ ارد گرد کے لوگ ہی سوال و جواب کی صورت پتہ و مقام بتا دیتے ہیں۔
مگر جب پاکستانی اپنے ممالک سے باہر جاتے ہیں تو وہاں پہ فیملی نام نہ ہونے کی وجہ سے اور ایک ہی شہر میں ایک ہی نام سے دو سے زائد پاکستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف دہ صورتحال جنم لیتی ہیں ۔ جس میں بنکوں کے اکاؤنٹ بلاک ہونے سے لیکر مختلف محکموں کے واجبات اور بل اور جرمانے وغیرہ ان لوگوں کے اکاؤنٹ سے کٹ جاتے ہیں جو ایک جیسے نام کی وجہ سے یہ تکلیف بھگتتے ہیں اور بعدمیں صورتحال کا درست علم ہونے پہ۔متعلقہ اداروں سے اپنی رقم واپس لینے کے لئے سر پھٹول کرتے پائے جاتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو رقم کی وصولی ۔یا پاکستان رقم بھیجنے پہ محض اس لئے نہیں وصول کی گئی کہ بھیجنے والے یا وصول کرنے والے کا نام بلیک لسٹ کیے جانے والے کسی مبینہ دہشت گرد کے نام کی طرح نام تھا۔
پاکستانی اداروں اور خاص کر ۔ نادرہ ۔ کو اس صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ تانکہ بہت سے لوگ غیر ضروری طور پہ اس طرح کی صورتحال سے بچ سکیں ۔ نیز انہیں کسی سطح پہ یہ اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ دیگر ممالک کے محکمہ داخلہ کے علم میں یہ بات لائی جائے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش پہ عام طور پہ محض دو نام رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن کا خاندانی نام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بچے کے نام کے ساتھ خاندانی نام رکھنے کی پابندی نہیں اور نہ ہی اس کا رواج ہے۔ تانکہ ایک ہی جیسے نام رکھنے والے پاکستانیوں کو در پیش مشکلات میں سرکاری اداروں کو رہنمائی ہو سکے اور غیر متعلقہ لوگ عتاب یا پریشانیوں کا باعث نہ بنیں ۔
اسی طرح ایک اور مسئلہ جو بہت اہم ہے ۔ وہ ہے مقامی ، اردو، عربی اور فارسی کے ناموں کو انگریزی میں درج کرتے ہوئے انکے درست ہجوں کا ۔ مثال کے طور پہ ۔ محمد کو انگریزی میں لکھتے ہوئے ۔ بہت سے سرکاری ادارے اور خاص کر پا سپورٹ آ فسوں میں کلرک حضرات Mohammed اور Muhammad ان دو طریقوں سے لکھتے ہیں ۔ یعنی کہیں انگریزی کا حرف ”یُو“ ۔ اور کہیں انگریزی کا حرف ”او“ کے ساتھ ”محمد “ لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ پاکستان میں بہت سے ناموں کے ساتھ ہے ۔۔ جن میں ۔جاوید۔ صدیق۔ اور دیگر کئی نام آتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے کلرک بابو ۔ ایک ہی فرد کا نام ۔ پاسپورٹ۔ اور دیگر کئی دستاویزات ۔ برتھ سرٹیفیکٹ ۔ نکاح نامہ وغیرہ پہ جن کا انگریزی میں ترجمہ کروانے پہ ۔ مختلف ہجوں سے لکھ دیا جاتا ہے ۔ جس سے غیر ممالک میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔ بلکہ سائل کو کئی بار اور کئی ماہ دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور خواری الگ سے ہوتی ہے۔
ہماری ذاتی رائے میں ۔ حکومت پاکستان کی ایماء پہ۔ نادرہ پاکستان میں رائج اور مستعمل ناموں کی ایک فہرست تیار کرے اور اسے لغات کی طرز پہ اردو کے سامنے درست انگریزی نام تجویز کرے۔ اور اس فہرست کو سبھی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھیج دیا جائے اور عام افراد کے لئیے اسے نادرہ کی ویب سائٹ پہ آن لائن شائع کر دیا جائے ۔تانکہ عام افراد اور نجی ادارے بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ نیز سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو آئیندہ کے لئیے پابند کیا جائے کہ وہ نادرہ کے۔ منظور و شائع کردہ ۔درست نام کے ساتھ دستاویزات جاری کریں گے۔ تانکہ مستقبل میں ایسی الجھنوں سے بچا جاسکے۔
کسی بھی حکومت ۔ متعلقہ اداروں اور ذمہ دار افراد کے لئیے یہ ایک معمولی مسئلہ ہے ۔ جسے حل کرنا چندا ںمشکل نہیں ۔ جس سے ۔اندرون و بیرون ملک پاکستانی بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔اور ملک کی جگ ہنسائی نہیں ہوگی۔

 

 

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔



نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی کے عنوان سے شاکر عزیز اپنے بلاگ پہ رائے دیتے ہوئے گویا ہیں ۔ ۔”مزے کی بات یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے مطابق برصغیر کو جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اگر ہوتا تو سارے مسلمان ایک طرف، ہندو ایک طرف، سکھ ایک طرف، عیسائی ایک طرف، پارسی ایک طرف ہوتے۔ لیکن ہوا کیا؟ جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں۔ویسے تو کانگریسی مسلمان رہنماؤں کا ایک آرگیومنٹ ہے لیکن یہاں فٹ بیٹھ رہا تھا۔“۔Muhammad Shakir Aziz at May 1, 2013 at 11:43 PM

دنیا میں میں جب بھی دو یا دو سے ذیادہ قومیں الگ ہوئیں اور انہوں نے الگ ملک قائم کئیے تو نئے ”حقائق “ وجود میں آئے۔ جنہوں نے نئی ریاست یا ریاستوں کی حد بندی کی وجہ سے وجود پایا۔ بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بارے آپ فرما رہے ہیں کہ بر صغیر کی تقسیم جغرافیہ کی بنیاد پہ ہوئی اور آپ نے اپنی اس دلیل کا کوئی ثبوت مہیاء نہیں کیا۔ اگر واقعتا یوں ہوتا تو بر صغیر کی تقسیم کے لئیے ۔ صوبوں کے حدودر اربعے کے مطابق ۔پنجاب میں ہندؤ مسلم اور سکھ کی تمیز کئیے بغیر صرف پنجابی ہوتے اور کوئی دوسری قومیت نہ ہوتی ۔ اور اسی طرح سندھ میں سندھی ہوتے خواہ وہ کسی بھی مذھب کے ہوتے ۔ اتر پردیش میں مذہبی تخصیص کے بغیر یو پی والے اور بہار میں بہاری اور بنگالے میں ہندؤ مسلم اور دیگر مزاہب کے بنگالی ہوتے۔ یا پھر برصغیر میں واقع مختلف وادیوں پہ تقسیم ہوتی تو اسے جغرافیائی تقسیم کہا جاتا ۔ جبکہ ہندؤستان کی تقسیم ہر کلیے اور قانون کے تحت ہندؤستان کے بڑے مذاہب کی الگ۔ الگ شناخت اور اکھٹے مل کر نہ رہ سکنے کی کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ اس وقت کی انگریزی سرکار ۔ ہندؤ ۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے تسلیم شدہ نمائیندؤں کے باہم سالوں پہ مبنی گفت و شنید اور نئی اور آزاد ریاستوں کے وجود کے لئیے ممکنہ لوازم اور ضوابط پورا کرنے کے بعد برصغیر پاک ہند کو صرف اور صرف دو مذاہب کے ماننے والوں کو دو قومیں (دو قومی نظریہ) کے وجود کے تحت جہاں اور جس علاقے میں جس قوم کی اکثریت تھی انھیں وہ علاقے دو نئی ریاستوں ۔ پاکستان اور بھارت کا نام دے کر دو نئے ملک دنیا کے نقشے میں وجود میں لائے گئے۔ دونوں ملک بن گئے ۔ ( قطع نظر اس بات کے کہ ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن اور آخری انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ہندؤں سے ملی بھگت کر کے سرحدوں کے تعین میں ڈنڈی ماری اور کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا ا مگر اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں) سر حدوں کا اعلان ہوگیا۔ ہر دو طرف کے شہریوں کو پتہ چل گیا کہ انکے علاقے کون سے ملک میں شامل ہورہے ہیں۔ انھیں اپنے اپنے ملک کی طرف ہجرت کرنا پڑی ۔ جو زبان ۔ صوبے ثقافت۔ یا قبیلے (قبیلے کی بنیاد اسلئیے بھی لکھ رہا ہوں کہ ایک ہی وقت میں پنجاب میں کئی قبیلے مسلمان ۔ سکھ اور ہندؤ مذہب میں بٹے ہوئے تھے۔ اور سندھ میں بھی کئی قبائل کے مختلف مذاہب تھے ) کی بنیاد کی بجائے مذہب یعنی دو قومی نظریہ کی بنیاد پہ وجود میں آئے  ۔ اور ہندؤستان کے مسلمان باسی اپنے مذہب ۔ ہندؤں سے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ اپنے ملک پاکستان کو چل پڑے ۔ یہ باتیں تو تاریخی طور پہ طے ہیں اور واقعتا ہیں ۔ اور واقعہ کو جھٹلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اسلئیے ہندؤستان میں ہنود اور مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ یہ طے ہوا کہ ہندؤستان میں دو بڑی قومیں ہندؤ اور مسلمان بستی ہیں ۔ اور یوں دوقومی نظریہ کی بنیاد پہ نظریہ پاکستان وجود میں آیا جو بالآ خر الحمد اللہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا سبب بنا ۔
سر راہ یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ہندؤستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز میں اس بارے انتہائی مخلصانہ کوششیں کیں کہ ہندؤؤں کی نمائندہ جماعت کانگریس کے رہنماؤ ں سےمفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ مگر ہندؤ قوم کے رہنماء کسی صورت میں مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ ہندؤ رہنماؤں کی مغرور ۔ متکبرانہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی مفاہمت نہ ہوسکی ۔ مسلمان اکابرین اور رہنماؤں نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ متحدہ ہندؤستان میں مسلمان ہندؤں کے مقابلے پہ ایک انتہائی اقلیت ہونے  اور ہندؤں کے بغض اور کینہ پروری کی وجہ سے مسلمان تیسرے درجے کے شہری اور محض ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔اور ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کو بہ حیثیت مسلمان اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھنا نا ممکن ہوجائے گا ۔ اور ہندؤوں کی بے جا ضد ۔ مسلمانوں کے لئیے عدم احترام ۔مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ۔ اور متکبرانہ رویے کی وجہ سے پاکستان ۔ پاکستانی قوم وجود میں آئی ۔ جب اس بات کا احساس ہندؤ نیتاؤں کو ہوا کہ مسلمان تو ہم کو سیاست میں مات دے گئے ہیں۔ اسوقت تک برصغیر کے مسلمان۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کی صورت میں انکے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اور بھارتی برہمن حکومتیں تب سے ۔اب تک یہ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طور پاکستان کو ایک دفعہ زیر کر لیں اور انھیں غلام کی حثیت دیں ۔ ہندؤستان پہ  ایک ہزار سال کے لگ بھگ مذہب و ملت کی تفریق کیئے بغیر سب کے لئیے یکساں  مسلمانوں کی حکومت کا بدلہ مسلمانوں کو غلامی کی زنجریں پہنا کر چکائیں۔ بھارت ہمارا حریف اور روائتی دشمن ہے ۔ بھارت کی حد تک تو یہ سمجھنے کوشش کی جاسکتی ہے کہ بھارت اپنے مکرو فریب سے دو قومی نظریہ باالفاظِ دیگر نظریہ پاکستان (جو پاکستانی قوم اور ریاست کی اساس ہے) کے بارے شکوک اور شبہے پھیلانا بھارت اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہندؤ رہنماء اور بھارت اپنی روائتی دشمنی نباہتے ہوئے تقریبا پچھلی پون صدی سے نظریہ پاکستان ۔ پاکستانی قوم۔ریاست پاکستان کی مخالفت میں سر توڑ بازی لگارہے ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف پروپگنڈاہ مہم کی شدت  میں اضافہ کرتے جارہے ہیں ۔ مگر جو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستانی قوم کے کچھ لوگ دیدہ دانستہ یا نادانستگی میں تاریخ کا بازو مروڑ کر پاکستانی قوم اور ریاست پاکستان کی عمارت کی بنیاد نظریہ پاکستان کو دن رات نہ جانے کس خوشی میں کھود رہے ہیں؟ اور محض اس وجہ سے پاکستان اور نظریہ پاکستان سے بیزار ہورہے ہیں۔ کہ انھیں نظریہ پاکستان معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا رہا ہے ۔ انھیں نظریہ پاکستان کو رٹا لگا کر اس مضمون کو پاس کرنا پڑتا رہا ہے۔ اور وہ برے دن ان کو ابھی تک یاد ہیں ۔جبکہ یہ نظریہ۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے ۔ اور تقریبا دنیا بھر کے ممالک میں آئین سے انحراف پہ سخت ترین سزائیں دی جاتیں ہیں۔  جبکہ پاکستان میں آئین اور آئینی بنیادوں کو مذاق بناتے ہوئے یہ فیشن سا بنتا جارہا ہے ۔ کہ جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنے ملک اور قوم کے بارے مکمل معلومات حاصل کئیے بغیر محض کچھ نیا کرنے کے لئیے ۔ کچھ جدت پیدا کرنے کے لئیے ۔ پاکستان کی نظریاتی اساسوں پہ بر خلاف تاریخ اور آئین۔ تابڑ توڑ حملے کرنا فرض سمجھتا ہے ۔ کہ پاکستان انکا ملک نہ ہوا۔ غریب کی جورو ٹہری ۔ جس بے چاری سے۔ جس کا دل چاہے۔ دل لگی کرتا پھرے ۔ کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ۔کوئی  روکنے والا نہیں ۔ اس طرح جس کا دل کرتا ہے ۔ روز ایک نیا ”کٹا“ ( بھینس کا بچھڑا جو کھل جائے تو اسے دوبارہ باندھنے میں دقت ہوتی ہے)کھول دیتا ہے کہ ملک قوم سے دلچسپی رکھنے والے ۔ اپنے ملک کی عزت کو مقدم جاننے والے ایسے ”کٹوں“ کو باندھنے میں جی ہلکان کرتے پھریں۔ لہٰذاہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہانکنے کا ارادہ کرنے سے پہلے۔دو قومی نظریہ ، نظریہ پاکستان اور اپنی تاریخ کا بغور مطالعہ کر لینا چاہئیے کہ نظریہ پاکستان سے لاکھ چڑ اور بغض رکھنے کے باوجود امرواقع قسم کی چیزیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ اور نظریہ پاکستان خواہ کسی کو کتنا ہی برا لگے مگر یہ ایک امر واقعہ ہے ۔ اور تاریخ اس  امر واقعہ کی شاہد ہے۔
آپ مزید ارشاد فرما ہیں ”جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں“۔
اسپین میں انیس سو چھتیس 1936ء سے لیکر انیس سو انتالیس 1939 ء تک دنیا کی بدترین خانہ جنگیوں میں سے ایک بد ترین خانہ جنگی ہوئی۔ ۔ خانہ جنگی سے قبل بھی بڑا عرصہ حالات خراب رہے ۔ اس خانہ جنگی کے فورا بعد جنگ عظیم ہوئی۔ اسپین میں کئی دہائیوں تک مخالفین کو چن چن کر سزائے موت دی گئی ۔ فائرنگ اسکواڈ کے سامنے سے گذارا گیا ۔ خانہ جنگی اور دوسری جنگ عظیم ۔ کے دوران اور بعد میں صدیوں سے اسپین میں بسنے والے شہری ۔ محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے اسپین چھوڑ کر درجنوں لاکھوں کی تعداد میں جان کے خوف سے سمندر پار جنوبی اور سنٹرل امریکہ ۔ روس۔ اور یوروپ کے دیگر ممالک میں جا بسے ۔ جن میں سے اکثریت وہیں آباد ہوگئی اور لوٹ کر واپس نہ آئی۔ اکثر وہیں مر گئے ۔ سبھی ممالک میں اسپین کے سفارتخانوں میں ایسے درجنوں لاکھوں شہریوں کا داخلہ ۔ انکا اندراج ۔ پاسپورٹس بنانا۔ وغیرہ ممنوع قرار پایا۔ ان شہریوں کے بچے جو تب چھوٹے تھے ۔ جوان ہوئے اور انہی ممالک کی بود وباش اپنا کر واپس نہ لوٹے۔ اور انکا اندراج اور اسپین سے باہر ان ممالک میں ۔جہاں انکی اولادیں پیدا ہوئیں ۔وہاں انکی پیدائش کا اندراج اسپین کے سفارتخانوں میں نہ کیا گیا۔اسپین کا شمار یوروپ کے بڑے اور اہم ممالک میں کیا جاتا ہے۔ کئی ہزار سال پہ مشتمل تاریخ کی حامل قوم ہے ۔ تقریبا ہزار سال کے لگ بھگ  کےمسلم دور کو یہ مسلم ہسپانیہ کے دور کے نام سے یاد کرتے اور پکارتے ہیں۔ اور اپنی تاریخ کا مسلم دور سے بھی ہزاروں سال قبل سے آغاز کرتے ہیں۔ یعنی اسقدر قدیم قوم ہے ۔اور تمام قدیم قوموں کی طرح ۔ ہر قسم کا سانحہ برادشت کرنے کی قوت اور برداشت رکھتی ہے  اور یہ بھی واضح ہو کہ اسپین کی شہریت یعنی نیشنلٹی ۔ بائی بلڈ ۔ بائی برتھ ۔ ہے۔ ہسپانوی والدین کی اولاد جہاں بھی پیدا ہو۔ انھیں ہسپانوی گنا جائے گا۔ ایک وقت آیا کہ اسپین میں جنگ جیتنے اور تقریبا چالیس سال کے لگ بھگ حکومت کرنے والا آمر جرنل فرانکو طبعی موت مر گیا۔ اسپین میں جمہوریت اور باشاہت بحال ہوئی ۔ بائیں بازو کی وہ جماعتیں اور سوشلسٹ اور کیمو نسٹ رہنماء جو تب خانہ جنگی میں جنگ ہار گئے تھے اور دوسرے ملکوں میں جا کر پناہ لے چکے تھے ۔ان سب کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت معاف کرتے ہوئے ۔ قومی دھارے میں شامل ہونے کے لئیے ان سے واپس آنے کی اپیل کی گئی ۔ اور سابقہ کھاتے بند کرتے ہوئے ایک نئے اسپین کا آغاز ہوا۔سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور بہت کم لوگ ۔ چیدہ چیدہ شہری واپس آئے۔ اسپین میں عام انتخابات ہوئے ۔ بائیں بازو کی جماعتیں جیت گئیں اور مسلسل کئی بار انتخابات جیتیں۔ نیا آئین بنا ۔ حقوق بحال کئیے گئے ۔ اسپین ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے لگا ۔ یوروپی یونین کا رُکن بننے کے بعد ترقی کی رفتار اور بڑھ گئی۔ اس دوران جنوبی امریکہ کے حالات سازگار نہ رہے اور وہاں سے پرانے زندہ یا مر جانے والے ہسپانوی تارکین وطن ۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی نسلوں نے اسپین واپس آنا چاہا ۔ مگر تب اس بارے قانون سازی کرتے ایک وقت لگا اور قانون سازی کرنے والی بھی بائیں بازو کی جماعتیں تھیں ۔ جن کے  حامی بے وطن ہوئے تھے۔ اور چاہتے تھے کہ فرانکو اور اسکی حکومت کے ظلم و ستم کے ستائے ان تارکین وطنوں کو  اتنی لمبی سزا سے نجات ملے۔لیکن اسپین نے اپنے پرانے  جلاوطن ، تارکین وطن اور انکی اولادوں کے کے لئیے سرحدیں عام نہیں کیں اور اس دور کے کئی ایک سیاسی رہنماء جو آمر جنرل فرانکو کی طبعی موت کے بعد واپس آئے اور انہوں نے انتخابات جیتے ۔انہوں نے ہسپانوی ریاست کے بے وطن لوگوں کے لئیے جو قانون بنایا ۔وہ یوں تھا کہ اس دور کے ہسپانوی شہریت رکھنے والے کے پوتے یا نواسے تک کی نسل اگر یہ ثابت کر دے کہ انکا باپ یا دادا ۔یا۔ نانا ہسپانوی تھا ۔ تو انھیں تمام قواعد ضوابط کے پورے کرنے کے بعد ہسپانوی شہریت دی جائے گی۔ اور پڑپوتے ۔ پڑپوتییوں سمیت اگلی نسلوں کو ہسپانوی شہریت  نہیں دی جائے گی۔ یعنی  کہ بہت سے لوگوں کے نہ صرف  پوتے اور نواسے  جوان ہوچکے تھے۔ بلکہ پڑپوتیاں اور پرپوتے بھی جوان تھے مگر ہسپانوی شہریت سے محروم تصور کئیے گئے ۔ اور یہ محض چند ہزار لوگ ہونگے ۔جو اسپین کی شہریت حاصل کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔یوروپ میں تعلیم ۔۔ کاروبار ۔ روزگار یا بودو باش رکھنا چاہتے تھے۔
اسپین یوروپی یونین کا رکن ہے اور انسانی حقوق کے سبھی قوانین کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس بھی لیتا ہے ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض چند ہزار اپنے ہی تارکین وطن شہریوں کی نسل کو ایک ہی وقت میں ہسپانوی شہریت دینے میں کیا امر مانع تھا؟ ۔ ذمہ داران نے افراد کے مفاد پہ ریاست کے مفادات کو ترجیج دی ۔حالانکہ قانون سازی کرنے والے خود بھی کئی دہائیاں در بدر ٹھوکریں کھاتے رھے اور انہی کی طرح کے سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کی اولاد کی شہریت کا معاملہ تھا۔
اس مثال سے محض یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی ریاست جو ترقی یافتہ ہے ۔ اور ہر قسم کے مسائل کے لئیے وافر وسائل کی مالک قوم ہے ۔ وہ بھی اسقدر احتیاط سے کام لیتی ہے کہ مبادا ریاست کے معاملات خراب نہ ہو جائیں ۔ اور آمرانہ حکومت کے جبر سے مجبور ہو کر جلاوطن ہونے والے اپنے شہریوں کی  نسل پہ  اسپین کی عام سرحدیں نہیں کھولتی۔  اب جبکہ اپ پاکستان کے بننے کے اتنے سالوں بعد۔ کروڑوں افراد کے لئیے  یہ مطالبہ پاکستان سے کر رہے ہیں۔ جبکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف یہ مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا ؟۔ افراد پہ قوموں اور ریاستوں کے مفادات کی ترجیج مقدم سمجھی جاتی ہے ۔ جبکہ اسکے باوجود جب پاکستان بنا اسکی سرحدیں طے ہوئیں تو ہندؤستان سے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آئے اور اور درجنوں لاکھوں متواتر اگلے کئی سال تک پاکستان پہنچتے رہے ۔ اور پاکستانی شہریت حاصل کرتے رہے ۔ اور پاکستان نےسالوں اپنے دل اور دروازے مسلمانوں کے لئیے کھلے رکھے۔ اگر تب ان سالوں میں ہندؤستان کے سبھی مسلمان پاکستان ہجرت کر آتے تو انھیں کسی نے منع نہیں کرنا تھا ۔ وہ ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے آج پاکستان کے شہری ہوتے ۔ اور انکی نسلیں بھی یہاں آباد ہوتیں ۔ ممکن ہے اس دور میں پاکستان کے پہلے سے خستہ حالت مسائل میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ مگر آہستہ آہستہ ترقی کی نئی راہیں کھل جاتیں ۔ جب پاکستان بنا تو تاریخ گواہ ہے ۔ کہ نسل انسانی میں اتنی بڑی ہجرت ۔ اتنی تعداد میں ہجرت ۔۔ اور اسقدر نامساعد حالات میں ہجرت ۔اس سے پہلے دو ملکوں کی تقسیم پہ کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسلئیے اس آسانی سے کہہ دینا کہ پاکستان میں بسنے والے پاکستانی بھارتی مسلمانوں کو بے یارو مدگار چھوڑ آئے ۔ یہ درست نہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے ۔ اوپر اسپین کی مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ اگر پاکستان کے مقابلے میں ایک پر امن ۔ ترقی یافتہ اور ہزاروں سال پہ مبنی تاریخی وجود رکھنے والا ملک افراد پہ ریاست اور قوم کے مفادات کو ترجیج دیتا ہے ۔ تو پھر پاکستان کے پاس کون سی معجزاتی طاقت ہے کہ وجود میں آنے کے تقریبا ستاسٹھ سالوں کے بعد آپ کے بقول بے یارو مددگار چھوڑ دیے گئے کروڑوں افراد کو اپنے اندر سمو سکے؟ ۔
آج بھی بھارت کے مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ پاکستانی مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ ہم ذاتی حیثیت میں اس بات کے قائل ہیں کہ اس کے باوجود بھارتی مسلمانوں کو مخصوص حالات میں پاکستانی شہریت کے تمام قواعد ضوابط پورے کرنے والوں کو اگر وہ خواہش کریں تو انہیں شہریت دینے کا کوئی رستہ کھلا رہنا چاہئیے ۔ ممکن ہے چیدہ چیدہ لوگ اگر پاکستان میں آباد ہونا چاہییں تو ایسا کرنا ممکن ہو ۔مگر جب ریاست اور قوم کی سالمیت اور مفادات کی بات ہوگی تو قوم اور ریاست کو اولا ترجیج دی جائے گی ۔ ان حالات میں آپ کا یہ سوال کرنا ہی بہت عجیب سا ہے ۔ کہ وہ لوگ جو ہندوستان میں رہ گئے انکو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ۔ اس سوال میں خلوص کم اور عام پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں پاکستان کے بارے شکوک ابھارنے کی کوشش کا تاثر زیادہ ابھرتا ہے۔
نوٹ :۔ شاکر عزیز صاحب کے بلاگ پہ مختصر سی رائے دینے سے کئی پہلو تشنہ رہ جاتے اسلئیے اس تحریر کو یہاں لکھنا مناسب سمجھا۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری.


Minar-e-Pakistan-Lahore1
یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری۔

آج یوم پاکستان ہے ۔ اس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔جس کے محض سات سال بعد اس قوم نے انتھک محنت اور سچی لگن کے تحت موجودہ دنیا میں پہلا اسلامی ملک قائم کردیا تھا ۔
ایک مضبوط و توانا پاکستان قائم کرنے کے لئیے ۔اس وقت ویسی ہی قربانی اور جذبے کی ضرورت ہے ۔جیسا ۱۹۴۰ء انیس سو چالیس عیسوی میں برصغیر کے مسلمانوں میں تھا ۔
ہم سب کی عزت پاکستان سے ہے۔ اگر پاکستان ایک مضبوط اور باعزت ملک بن کر ابھرے گا ۔تو نہ صرف ہم سب کی عزت اور شان میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ ہماری آئیندہ نسلیں بھی شان و شوکت سے اس دنیا میں زندہ رہ سکیں گی۔
جبکہ اس وقت ہم یعنی پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت اپنے مستقبل سے مایوس نہیں تو پُر امید بھی نظر نہیں آتی۔ اور بہت سے لوگ محض اچھے مستقبل کی خاطر اپنا وطن۔ اپنی جان سے پیا را پاکستان چھوڑ آئے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کو یوں نہ کرنا پڑے تو اس کے لئیے ضروری ہے ۔ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئیے جائیں ۔ جس میں پاکستانیوں کو محض ایک اچھے مستبقل کی خاطر غریب الوطنی کا زہر نہ پینا پڑے ۔ محض اپنے مالی حالات کی خاطر ملک چھور کر پردیس کو نہ اپنانا پڑے ۔ اور پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کا جینا ایک باعزت شہری کا ہو ۔ اور وہ دو وقت کی روٹی ۔ باعزت روزگار اور رہائش کے لئیے کسی کے محتاج نہ ہوں ۔تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں موافق حالات پیدا کریں ۔ اور پاکستان میں ایسے اچھے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یقینا یوں ہو سکتا ہے مگر اس کے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان میں اچھے حکمران ہوں۔ جن کی دلچسپی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی میں ہو۔ اور یوں ہونا تب تک ممکن نہیں ۔جب تک پکی نوکری والوں کی دال روٹی کچی نوکری والوں کی “پرچی” سے نتھی ہے۔ تب تک پاکستان کے مجموعی حالات بدلنے مشکل ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ”شخصیات“ کی بجائے ادارے مضبوط ہوں۔ اور اداروں کے اہلکار اپنے آپ کو حاکموں کی بجائے ریاست کے ملازم سمجھیں۔
ترقی یافتہ دنیا کے ممالک میں دیکھتے ہیں کہ حکومتیں بدل جاتی ہیں ۔ اور نئی سیاسی جماعتیں اور نئے لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں مگر ان کے ادارے مکمل تسلسل کے ساتھ اپنے عوام کے مسائل کو شب و روز حل کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ انکے اداروں کے ملازمین اور افسر اپنے آپ کو صرف اور صرف ریاست کے ملازمین سمجھتے ہوئے صرف ریاست کی طرف تفویض کئیے گئے فرائض کی بجا آوری ہی اپنا فرض ۔ اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں جیسے ہی نئے حکمران ۔حکومت میں آتے ہیں ۔ وہ تمام سرکاری ملازمین۔ افسران ۔ بیورو کریسی یعنی انتظامیہ کو اپنا ذاتی ملازم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ پاکستانی اداروں کے بڑے بڑے افسران بھی اپنی وفاداریاں ریاست پاکستان کے ساتھ نبھانے کی بجائے ۔ حکمرانوں۔ وزیروں ۔ مشیروں ۔ اور اسی طرح چار پانچ سال کے لئیے کچی نوکری والوں سے نباہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
اسی سال مئی میں پاکستان میں صوبائی اور قومی الیکشن ہونے والے ہیں۔ بے شک ہم دیار غیر میں رہنے والے ووٹ نہیں ڈال سکتے مگر اپنی آواز کو پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک تو پہنچا سکتے ہیں کہ ۔ وہ اپنی قومی امانت یعنی ووٹ اسے دیں جو پاکستان کو ایک عظیم ریاست سمجھتے ہوئے پاکستان کی عظمت بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ جو پاکستان کے وسائل کو قوم کی امانت سمجھ کر اس میں خیانت نہ کرے ۔ جو شخصیات کی بجائے پاکستان کے اداروں ۔پاکستان کے اثاثوں کو مضبوط کرے ۔ جو بڑے بڑے عہدیداروں کے عہدوں کو اپنی پرچی کا مرہون منت نہ جانیں ۔ جو پاکستانی سرکاری ملازمین میں یہ احساس اور جذبہ پیدا کر سکے کہ وہ آنے جانے والے حکمرانوں کے ملازم نہیں ۔بلکہ شخصیات کی بجائے ۔ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں ۔ جو پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق پاکستانی اداروں کو مضبوط کریں ۔
یقین مانئیے اگر پاکستان کے ادارے مضبوط ہوں گے اور انکے اہلکار اپنے آپ کو شخصیات کی بجائے ریاست پاکستان کے ملازم سمجھیں گے ۔ اور ہر صورت میں ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد مقدم جانیں گے ۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔ کہ ہماری آئیندہ آنے والی نسلیں محض پاکستانی ہونے کی وجہ سے خوار نہیں ہونگی ۔ اور وہ اقوام عالم میں باعزت قوم کے طور پہ جانی جائیں گیں ۔
میری طرف سے سب پاکستانیوں کو یوم پاکستان مبارک ہو۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

شیخ طاہر القادری ۔زرادری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔



شیخ طاہر القادری ۔ذرداری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔

کیا ؟ ۔شیخ کا ڈرامہ ۔ زرداری اور سیاسی گرگوں کے مذاکرات ۔ ایک طے شدہ پلان تھا؟ ۔ کیا ڈارمے کا اختتام ہو چکا ؟ یا ابھی اس ڈرامے کے مذید ایکٹ سامنے آنا باقی ہیں؟۔
پاکستان کی تاریخ میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے (اگر تو سبھی مارچوں کو لانگ مارچ کہا جاسکتا ہے ) کچھ ناکام اور کچھ اپنے مقاصد کی نوعیت کے اعتبار سے کامیاب ٹہرائے گئے ۔ مگر شاید تاریخ میں یہ مخمصہ ہمیشہ بر قرار رہے گا کہ شیخ کا ڈرامہ مارچ کامیاب رہا یا ناکام ہوا؟ ۔ کچھ لوگ اسے سخت ناکام قرار دیتے ہیں اور انکی رائے بھی اپنی جگہ درست اور نیت ٹھیک ہے ۔ بادی النظر میں یہ لانگ مارچ ڈرامہ ناکام ہوا اور شیخ بڑی مشکل سے عزت بچا کر واپس لوٹے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یوں ہی ہوا ہے جیسا بظاہر سب نظر آتا ہے یا ہمارے کچھ بھولے بھالے سیاستدان اس ڈرامے میں اپنی مرضی کا رنگ بھرکر اسے ناکام قراردے رہے ہیں ۔جبکہ لگتا یوں ہے کہ اس لانگ مارچ ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹرز نے ابھی فی الحال پہلا ایکٹ کھیلا ہے ۔ اور انکے مدنظر مقاصد میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں اور اسلئیے لانگ مارچ ڈرامے کو ناکام نہیں کہا جاسکتا۔جہاں کہیں اس سارے پروگرام کے تانے بارے بُنیں گئے ہیں ۔ وہیں سے اب اگلی کاروائی کے بارے سوچ بچار جاری ہوگی۔
ایک اسیے وقت میں جب دوہری شہریت پہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا اور صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے غیر ملکی پاسپورٹس رکھنے والے اراکین کو اپنے متعقلہ قانون ساز اداروں سے اپنی سیٹیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں۔ ایسے میں جب کہ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو معینہ مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات کے بعد اقتدار منتقل کرے گی ۔ ایک ایسے فرد کا جسکی قومیت کنیڈین ہے ۔ جو پاکستان کا شہری نہیں۔ جو خار زرا سیاست کے کوچے کو خیر آباد کہتے ہوئے ۔ غیر ملک میں جابسا تھا۔ جو اپنی تنظیم میں جمہوریت نام کی کسی شئے کا قائل نہیں۔ جو سیاسی سے زیادہ مذہبی زور بیاں پہ ایک خاص ذاتی قسم کی ایک منظم تنظیم بنائے ہوئے ہے۔ جس کا ہر دوسرا بیان پہلے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جس کی سیاسی اور مذہبی قلابازیاں تاریخ کے ریکارڈ پہ ہیں ۔ ایسے شخص کا اچانک پاکستان وارد ہونا ۔ نا معلوم طریقے سے حاصل کئیے اربوں روپے۔ اپنے جلسے اور لانگ مارچ کی تشہیر پہ لگا دینا ۔ اور ایک ایسی ریاست بچانے کا دعواہ کرنا ۔ جس میں پاکستان کے آئین کے مطابق شیخ ۔غیر ملکی شہری ہونے کی وجہ سے ایک عام امیداور کے طور انتخاب نہیں لڑ سکتے ۔ طاہر القادری !۔ایسے مشکوک حالات میں ریاست بچانے۔ جمہوریت بچانے ۔ آئین بچانے کے لئیے ہر غیر قانونی ۔ غیر آئینی قدام اٹھانے کے مطالبات سر عام کرتے نظر آتے ہیں ۔جبکہ اخلاقی طور پہ انہیں ایسے کسی اقدام کا کوئی حق نہیں۔ نیز جس طرح شیخ کو ہر معاملے میں فری ہینڈ دیا گیا ۔ اس سے یہ سارا معاملہ شروع ہی سے مشکوک تھا ۔ ایک ایسا مارچ ۔جس کے مقاصد اور مطالبات شروع ہی سے واضح نہیں تھے اور ہر آن شیخ کا مؤقف بدلتا رہا ۔ اسے اسقدر اہمیت دینا کہ مارچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک حکومت کے درجہ اؤل کی شخصیات شیخ سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے کو بے تاب نظر آئیں۔
ایک رائے یہ تھی کہ حالات سے تنگ آئے عام عوام قطع نظر کسی سیاسی و مذہبی وابستگی سے شیخ کے ہجوم میں شامل ہوجائیں گے اور ہجوم اسقدر بڑھ جائیگا کہ تعداد چالیس ہزار سے چار لاکھ یا اس سے تجاوز کر جائے گی۔اور اس صورت میں شیخ اور حکومت کی ملی بھگت سے عام انتخابات سے فرار حاصل کرتے ہوئے ۔ پاکستان دشمن طاقتوں کے مفاد میں ۔ ایک نئی طرح کی حکومت ایجاد کی جاسکے گی۔ مگر عام عوام نے بالغ النظری کا ثبوت دیا اور شیخ اور شیخ کے مارچ کا تو بغور اور متواتر جائزہ لیتے رہے ۔مگر شیخ کے چالیس ہزارہ مارچ میں مزید اضافہ نہیں کیا۔
اسکے علاوہ ایک بڑا سیٹ اپ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ۔نواز شریف کی رہائش گاہ میں ایک فوری اجلاس منعقد کر کے۔ شیخ کے لانگ مارچ ڈرامہ کے ہدایتکاروں اور حکومتی گرگوں کو یہ واضح پیغام دیا ۔کہ آئین سے بالا کسی مُک مُکا کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کہ نیز حکومت ۔شیخ کے سامنے بلیک میلنگ کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ الیکشن سیٹ اپ میں کسی تبدیلی کی مجاز نہیں۔ اور اگر کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ تو پاکستان کی حزب مخالف اور عوام اسے کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔ حزب مخالف کا فوری اجلاس اور ایک متفقہ رائے کی وجہ سے حکومت اور اس ڈرامے کے ہدایت کاروں کو اس مارچ میں مناسب ردوبدل کرنے پہ مجبور کر گئے۔
کچھ لوگوں کی رائے میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ۔ غیر ضروری طور پہ ۔شیخ اور لانگ مارچ کے بارے میں عدم تعلق کا بار ہا یہ بیان دینا۔ جس کے بعد شیخ کا قسمیں اٹھا اٹھا کر امریکی سفارتخانے کے بیان کو اپنے حق میں گواہی اور شہادت کے طور پہ پیش کرنا بھی اس معاملے کو مشکوک کرتا ہے۔
عمران خان اپنی تحریک انصاف کے ساتھ شیخ کے ممکنہ ساتھی ہونے تھے۔مگر پاکستان حزب مخالف کے بر وقت اقدام کی وجہ سے انھیں طاہر القادری کو مایوس کرنا پڑا۔
ایم کیو ایم نے پہلے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر محض اخلاقی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لانگ مارچ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔
یہ حسن اتفاق ہے یکے بعد دیگرے پاکستانی سیاسی میدان میں انقلاب کا لنگوٹ کس کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں اترنے والے۔ اپنے نام میں تحریک اور انقلاب کا زوروشور سے ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیں۔ ایک نظر اس معائدے کو دیکھ لیں جو تحریک منہاج القرآن کے بانی و رہنماء شیخ طاہر القادری اور حکومت اور حکومت کے اتحادہ برزجمہروں کے درمیان ہوا۔ معائدہ درج ذیل ہے۔
” 1: قومی اسمبلی کو 16 مارچ سے پہلے تحلیل کیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی اس ایوان کی معینہ مدت ہے، تاکہ اس کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔ اس سے قبل ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کے تحت نامزد ہونے والے نمائندگان کی نامزدگی سے پہلے چھانٹی کی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن ان افراد کی اہلیت کا جائزہ لے سکے، کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔2: حکومت اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر پیش کریں گے۔3: الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار 27 جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ میں ہی ہوں گے۔آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون ایک اجلاس مندرجہ ذیل وکلاء ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسن کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک 27 جنوری کے اجلاس سے پہلے قانونی صلاح و مشورے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔4: انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلے آئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اے: آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور 82 جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔سی: سپریم کورٹ کے 2011 کی قانونی درخواستوں پر 8 جون 2012 کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔5: لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دونوں جانب ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے“۔

دستخط : وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف چیئرمین پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری،سربراہ وفد چوہدری شجاعت حسین ،وزیر قانون فاروق ایچ نائیک،مخدوم امین فہیم ، پی پی پی،سید خورشید شاہ ، پی پی پی پی ،قمر زمان کائرہ ، پی پی پی پی ،فاروق ایچ نائیک ، پی پی پی پی ،مشاہد حسین ، پی ایم ایل کیو ،ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم ،بابر غوری ، ایم کیو ایم ،افراسیاب خٹک، اے این پی،سینیٹر عباس آفریدی، فاٹا

اس سارے معائدے کے ہر دو فریق اس معائدے کا کوئی آئینی و قانونی حق نہیں رکھتے۔

اس معائدے کی شق نمبر ایک۔ کے مطابق ممکنہ امیدواروں کی آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور82 پہ پورا اترنے کی اہلیت جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔ کا اختیار ۔ شیخ اور رخصت ہوتی حکومت کے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے پاس آجائیں گے ۔ جبکہ اس سے قبل امیدواروں کی مذکور ممکنہ اہلیت جانچنے کا یہ اختیار عدلیہ کے پاس تھا۔

اس معائدے کی شق نمبر دو۔ کا ایک فریق عوامی تحریک نگران وزیر اعظم کا نام منتخب کرنے یا پیش کرنے کا کوئی آئینی ۔قانونی اور اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ اگر یوں ہوتا ہے توذرا تصور کریں ۔ چالیس کی بجائے چارلاکھ معتقدین ۔ مریدین۔ اور سیاسی اراکین رکھنے والے ”کس اور کیا کچھ “کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟۔ اور ایک ایسا طوفان بدتمیزی سر اٹھائے گا کہ الامان الحفیظ۔

اس معائدے کی شق نمبر تین۔ کے مطابق ۔ اس سے قبل تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو متازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے معاملات الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔الیکشن کمیشن کی متفقہ تشکیل ہوچکی ۔ جس پہ پاکستان کی تقریبا سبھی سیاسی پارٹیاں اور عدلیہ متفق ہو چکے ہیں ۔اس تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو مشکوک کرنا ۔ متنازعہ قرار دینا محض الیکشن میں تاخیر یا منسوخ کرنا ہے ۔ یا الیکشن کے بعد اسکے نتائج کو مشکوک و متنازعہ قرار دینا ہے ۔ یہ بارود کے ڈھیر پہ دیا سلائی رکھنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی بہت ممکن ہے کوئی دردمند شہری اس معائدے کی آئینی و قانونی حیثیت کو اعلٰی عدلیہ میں چیلنج کردے اور یہ معائدہ سرے سے ہی کالعدم قرار پائے۔
پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیاں اور حزب اختلاف اس پہ اعتراضات اٹھائے گی جس سے انتشار اور عدم استحکام کا ایک نیا محاذ پاکستان کے اندر کھل جائے گا ۔
یہ معائدہ اپنے وجود کے اندر پاکستان کے استحکام کے لئیے خوفناک مسائل لئیے ہوئے ہے۔ ۔ ایک ایسی حکومت جس نے پورے ملک کو اپنی اس پوری مدت میں میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ بغیر کسی وجہ کے گیس ۔ بجلی اور پانی کا بحران حل نہیں کیا۔ بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریوں سے لیکر گھروں کے چولھے تک بند پڑے ہیں اور پوری ایک قوم کو ان سالوں میں پتھر کے دور میں دھکیلنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا گیا۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے نہیں تھکتے اور حکمران اپنی ذاتی سیکورٹی کے سوا سیکورٹی کے متعلق کوئی دوسرا قدم اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ عام امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے عام شہری سر شام ہی گھروں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرٹ کا قتل کیا جارہا ہے ایک عام سی نوکری لاکھوں روپے میں بک رہی ہے۔ ہر طرف کرپشن ۔ لُوٹ کھسوٹ اور چور بازاری گرم ہے ۔ اربوں روپے کی کرپشن ہور رہی ہے۔ اعٰلی عدلیہ حکومتی سودوں میں اربوں روپے کے گھپلوں کی نشاندھی کر چکی ہے ۔ مگر حکومت میں شامل کسی کی ناک پہ ایک بال تک نہیں پھڑکا ۔ اسی حکومت کا ایک ایسے چالیس ھزاری مجمع کے لانگ مارچ اور دھرنے کے سربراہ ایک غیر ملکی شہریت کے حامل اور ایک عام شخصیت کی بلیک میلنگ ( جو در حقیقت بلیک میلنگ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ ایک ایکٹ ہے کہ بلیک میلنگ کا تاثر دیا جائے) کے سامنے اتنے ادب و احترام سے جھک جانا ۔ یہ کسی ذی شعور پاکستانی کی عقل میں نہ آنے والی بات ہے۔شیخ کا پہلے سے طے شدہ اوقات کار کے مطابق چند ماہ کی مہمان حکومت کو دھمکیاں اور واننگ دینا ۔اور ایسا معائدہ کرنا جسکا کوئی آئینی ۔ قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔

یہ سب باتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا۔ اور ابھی یہ ڈرامہ ختم نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ اس ڈرامے کا آغاز ہے اور اسکی انتہاء ۔ پاکستان میں کسی طور ایک غیر آئینی حکومت کا نفاذ ہے ۔ ۔جو اس سارے ڈرامے کی ہدایت کار غیر ملکی طاقت کے ایجینڈے میں اسکی مرضی کے رنگ بھر سکے ۔ جس کے تانے بانے بہر حال پاکستان کو دو ہزار پندرہ تک زبردست قسم کی انارکی کا شکار بنانے سے جا ملتے ہیں ۔ اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں ۔ اگر کوئی غیر جمہوری (جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت بھی ہو سکتی ہے ) سیٹ اپ بنتا ہے ۔ تو ممکن ہے کہ افواج پاکستان کواسکی بی ٹیم کے طور پہ کام کرنے کے لئیے کہا جائے۔ کیا پاکستان کے بارے مکرو ہ عزائم رکھنے والی طاقتیں کامیاب ہوں گی ۔یا پاکستان کے عوام بالغ النظری اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاغوتی طاقتوں کو انکے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔ اور قرائن یہ بتاتے ہیں ۔ کہ اس دفعہ شاید مشیت ایزدی کا ایجینڈا پاکستان کے ساتھ ہے ۔ پاکستان اور قوم دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انشاءاللہ۔ لیکن فی الوقت پاکستان میں انتشار مزید بڑھتا نظر آتا ہے اور جسکے بنیادی کردار طاہر القادری اور موجودہ حکومت ہیں۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔


شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔

کیا شیخ کوا س لئے میدان میں اتارا گیا ہے کہ ایک اور المیہ وجود میں آئے اور خدا نخواستہ مشرقی پاکستان کی طرح بلوچستان کا ٹنٹنا ختم کرتے ہوئے ریاست پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے؟۔

ایک عام رائے یہ ہے کہ شیخ کے پیچھے افواج پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہے۔ جو شیخ پاکستان کا موجودہ جمہوری نظام ملیا میٹ کرنے کا مطالبہ الیکشن کمیشن کو منسوخ کرنے کا ایک نکتہ فائر کرنے کے بعد باقی چھ نکتے اسلام آباد میں ظاہر کرنے کی دھمکی لگا کر عازمِ اسلام آباد ہوئے ہیں۔ افواج پاکستان سے غیر ضروری طور پہ ہمدردی کئیے بغیر ۔ ہماری رائے میں افواج پاکستان اس وقت ایک سخت اور کٹھن دور سے گزر رہی ہیں۔ جس کے چاروں اطراف قسما قسمی کے مختلف رنگ روپ کے بھیڑیے اور لکڑ بھگے غرا رہے ہیں ۔ اور مشرقی سرحدوں پہ ازلی دشمن نے بھی اپنی ازلی کمینگی کا ایک بار پھر ثبوت دیتے ہوئے ۔ بغیر کسی وجہ کے مدتوں بعد ۔کنٹرول لائن جنگ بندی۔ نامی معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ نہ صرف یکے بعد دیگرے پاکستان آرمی کے دو جوان شہید کر دئیے ہیں۔ بلکہ ہنوز سرحد پار سے گیدڑ بھھبکیاں اور دہمکیاں لگا رہا ہے۔اس لئیے خیال یہ ہے کہ افواج پاکستان ان حالات پہ کبھی بھی نہیں چاہیں گی۔ کہ پاکستان کے اندر حکومتی کاروبار کی بلا بھی ان کے سر آپڑے ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوت و وسائل کے وہ کونسے خفیہ و اعلانیہ سر چشمے ہیں جن کی بناء پہ شیخ ۔اسلام آباد پہ غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پہ چڑھ دوڑے ہیں؟۔

شیخ کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچانک پاکستان وارد ہوں اور غیر آئنی طور پہ وہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے نکل کھڑے ہوں۔ وہ بھی اس صورت پہ جب انتخابات کا ڈول ڈالے جانے والا ہے۔ پاکستان کی انتخاباتی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو اختیار و اقتدار منتقل کرے گی؟۔ وہ کونسا ایساقانون ہے جو شیخ کو اپنے ذاتی نظریات کے زور پہ پاکستان میں انتشار پھیلانے اور عوام کو بے سُود ہیجان میں مبتلاء کرنے کی اجازت دیتا ہے؟۔

شیخ۔ کامل اتنے سالوں سے کنیڈا کی شہریت سمیت ۔کنیڈا میں اپنی ذاتی تنظیم منہاج القرآن کی تنظیم و تدوین و ترغیب میں مصروف رہے۔ ذاتی اس لئیے کہ شیخ موصوف اسکے بانی اور صاحبزادہ گان اور بہوئیں اور زوجہ محترمہ اسکے ڈائریکٹر ز ہیں ۔ اور ایک ہاتھ کی انگلیوں پہ گنے جانے والے۔ شیخ کے منظور نظر چند باہر کے افراد شیخ کے نامزدہ ہیں۔اور جمہوریت نام کی شئے کی انکی تنظیم میں کوئی جگہ نہیں۔ ان سالوں میں جب شیخ اور شیخ کے ماننے والے ہر اسلامی اور غیر اسلامی طریقوں سے اور مغرب کے لئیے دلآویز ناموں اور طور طریقوں سے اپنی نامی تنظیم کو پاپولر بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔تو اسوقت شیخ کو پاکستان کی محبت کیوں نہ جاگی؟ جبکہ ایک وقت تھا کہ شیخ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رُکن تھے اور شیخ چاہتے تو پاکستان میں رہ کر جمہوری طور طریقوں سے پاکستان کی خدمت ۔لانگ مارچ۔ نامی ہیجان اور انتشار برپا کئیے بغیر زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے تھے ۔ یوں اچانک پاکستان وارد ہونا اور عین اسوقت پہ جب جمہوری طریقے سے قوم کو اپنی تاریخ میں پہلی بار نئے نمائندوں کو نااہل اور سابقہ نمائندوں سے بدل ڈالنے کا موقع ملنے والا ہے۔تو شیخ کے پاس کونسا اختیار اور اخلاقی جواز بنتاہے جس کی بناء پہ وہ چھ خفیہ نکات لیکر پورے ملک کے جمہوری نظام کو لپیٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟۔

شیخ نے اپنے لانگ مارچ کو کئی ایک شاعرانہ اور دل خوش کُن نام دینے کے بعد ”جمہوریت بچاؤ“نامی نام دیا ہے۔ جبکہ شیخ کی اپنی ذاتی تنظیم میں جمہوریت نامی کوئی شئے نہیں۔ اور شیخ کے نزدیک مختلف ممالک میں وہی لوگ شیخ کے لئیے کارآمد ہیں۔ جو انکی تنظیم کے لئیے مفید ثابت ہوں اور غیر مشروط طور پہ انھیں ہر طور اسلامی اور غیر اسلامی طور پہ شیخ تسلیم کریں۔ غیر اسلامی کی کوئی حد نہیں ۔ شیخ کے منظور نظر اور یوروپ کے ممالک میں تحریک منہاج القرآن کے کرتا دھرتا یہ لوگ تنظیم منہاج القرآن کے لئیے یوروپی ممالک میں یوروپی بنکوں سے سود پہ قرضہ لے کر۔ اپنی تنظیم کے نام سے مساجد اور مرکز قائم کرنے میں ذرا بھر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔نماز جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں سادہ لوح پاکستانی اور مختلف ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو حقیقت بتلائے بغیر صفوں کے سامنے سے تھیلے بھر بھر کر رقومات مسجد کے لئیے اکٹھی کرتے ہیں اور اس سے بنکوں کے سودی قرضے بھی چکائے جاتے ہیں۔ اور سود پہ مساجد بنانے کے بارے سوال پوچھے جانے پہ برملا اپنے انٹرویوز اور نماز جمعہ اور نماز عیدین پہ مساجد بنانے کے لئیے سود پہ قرضہ لینا جائز بیان کرتے ہیں ۔انکی تنظیم شاید وہ واحد تنظیم ہے جو نائن الیون کے ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد مغربی ممالک میں زیر عتاب نہیں ہوئی بلکہ کئی طور پہ مراعات اور یوروپی سیاستدانوں کی توجہ پاتی رہی ہے ۔یہاں تک بعض یوروپی ممالک میں انہوں نے منہاج القرآن نامی تنظیم کو ”پیس وے “ یعنی ”امن کا راستہ“ نامی نام سے متعارف کروایا ہے تانکہ نائن الیون کو ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد یہ تاثر عام ہو کہ منہاج القرآن نامی تنظیم ہی وہ تنظیم ہے جو مغرب کے لئیے فائدہ مند ہونے کی وجہ سے منظور نظر ہوسکتی ہے۔

شیخ کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ہم اس پہ روشنی ڈالیں۔ مقصد شیخ کے پس پردہ مقاصد سے پردہ اٹھانے کی اپنی سی کوشش کرنا ہے۔ شیخ کے خوابوں ۔ شہدا کو جگانے ۔ اور قوالی کی اس محفل جس کے بول ” بت خانہ ہو یا کعبہ۔ طاہر سجدے تجھے ہم کئیے جائینگے“ جیسی محفلوں میں سجدہ کروانے ۔ پاؤں چومے جانے پہ کسی طور بغیر نادم ہوئے یا منع کئیے بغیر ۔ نفس کی تسکین کے ہلکورے لیتے مناظر کے ویڈیوز ۔ پاکستان میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نامی قانون کے بنائے جانے کا اور اس قانون کے تحت مسلم اور غیر مسلم و کافر کو کتے کی طرح مار دئیے جانے کا کریڈیٹ لینا اورڈنمارک کے ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو کے میں کیمرہ کے سامنے۔ اس قانون کے بننے بنائے جانے کے عمل سے مکمل طور پہ برائت کا اعلان اور اس قانون کے ناقص عمل کا بیان اور شیخ موصوف کےاسطرح کے دیگر ویڈیوز۔ یو ٹیوب۔ فیس بُک اور دیگر میڈیا کی سائٹس پہ تھوڑی سی جستجو کے بعد سینکڑوں کے حساب سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جن سے صرف ایک ہی بات کا پتہ ملتا ہے کہ شیخ کو اپنے نفس کی تسکین سے والہانہ دلچسپی ہے ۔ جن میں شیخ کی خود پسندی ہر طور۔ہر انداز میں جھلکتی نظر آتی ہے۔
آخر ایسے آدمی کو ایسی کیا سوجھی کہ وہ پاکستان کے خاردار سیاست میں کود پڑا ؟۔ خیال ہے کہ شیخ جن دنوں کنیڈا میں تزکیہ نفس کا عندیہ دے رہے تھے۔ عین انھی دنوں میں کچھ ایسی طاقتیں جو روز اول سے پاکستان کے وجود کے در پے ہیں۔ شیخ کو اپنے مفادات کے لئیے بھرتی کر چکی تھیں ۔اور شیخ کو پاکستانی جذباتی عوام کے سامنے مسحیا کے طور پیش کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں ۔ بعین اسی طرح جس طرح انہوں نے الطاف حسین اور عمران خان کو یکے بعد دیگر میدان میں اتارا اور بوجہ انتہائی ناکامی کے شیخ طاہر القادی کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ انکی اسلامی چھاپ کی مضبوط تنظیم اور ان سےعقیدتمندوں کا والہانہ اسلامی شوق دیکھ کر کیا۔ اور شیخ ایک عام مولوی اور لیکچرار سے اتنی تیزی سے ترقی کرنے کے بعد اپنے روایتی خود پسند نفس کے ہاتھوں اپنے آپ کو ریاست پاکستان کے سربراہ بننے کے خوآب آنکھوں میں سجائے اس لانگ مارچ کا ڈول ڈالنے پہ تیار ہو گئے ۔قطع نظر اس کے کہ انکے اس لانگ مارچ سے پاکستان کی سالمیت کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عالمی سامراج یہ تجربہ اس سے قبل مشرقی پاکستان کو توڑنے کے لئیے کر چکا ہے ۔

ایک رائے ہے کہ امریکہ افغانستان کی بے مقصد جنگ سے نکلنے پہ مجبور ہونے کی وجہ سے ۔ افغانستان سے نکلنے سے قبل اور نکلنے کے عمل کے دوران ۔اپنے پرانے مربی بھارت کو آزاد بلوچستان کی صورت میں یاکم از کم بلوچستان میں بھرپور شورش کی صورت میں۔ بھارت کو اسکی چاپلوسیوں کا انعام دینا چاہتا ہے ۔ اور امریکہ میں کچھ لوگ یہ تصور کئیے اور خار کھائےبیٹھے ہیں۔ کہ جب تک ایک مضبوط اور جمہوری پاکستان کا وجود باقی ہے۔ تب تک افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کی کھلم کھلا تکمیل ہونا ناممکن ہے ۔ امریکہ اسی صورت میں افغانستان پہ اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے اگر مفادات کے ”کچھ لو اور کچھ دو “ کے معروف لین دین کے عالمی پیمانے میں پاکستان کو کسی طور کہیں سے مجبور کیا جاسکے۔ تانکہ پاکستان افغانستان میں سے اپنی دلچسپی ختم کر کے۔ اپنی بقاء کی بھیک عالمی گماشتوں سے مانگنے پہ مجبور ہو جائے ۔ عالمی گماشتوں کی نظر میں پاکستان کے بڑے شہروں میں امن و امان کی صورتحال ۔ گیس ۔ پانی ۔ بجلی ۔ کے خطرناک بحران اور ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی نظام کی تباہی کے علاوہ ۔بلوچستان میں شورش کا بڑھانا شامل ہے ۔ شورش !جس میں بھارتی تربیت اور وسائل استعمال کیئے جارہے ہیں۔ جوں جوں افغانستان سے امریکی افواج منظر عام سے گُم ہونگی ۔افغانستان میں طالبان کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ افغانستان میں بھارتی مفادات پہ کاری ضرب پڑے گی ۔اسلئیے عالمی طاقت اور بھارت کی نظر میں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں تاریخی تبدیلی اقتدار ممکن ہونے جارہا ہے ۔ پاکستان کو فوری طور پہ غیر مستحکم کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ تانکہ پاکستان میں نمائیندہ اور عوامی و جمہوری حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے روز بروز پاکستان کے وجود کو لاحق ہونے والے خطرات سے بچاؤ کے فیصلے کرنا۔ ایک غیر جمہوری حکومت کے لئیے ناممکن ہوگا ۔ کیونکہ ایک غیر جمہوری حکومت کا اول آخر مقصد۔ محض اپنے وجود کا جواز پیدا کرنا اور اسے بچانا ہوتا ہے۔ ایسے میں قومی مفادات پس منظر میں چلےجاتے ہیں اور انکی حیثیت ثانوی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ غیر جمہوری حکومت کا بازو مروڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے لینا۔ عالمی استعمار کے لئیے بہت آسان ہوگا ۔ یہ تجربہ عالمی طاقت پاکستان میں بار ہا دہرا چکی ہے ہے اور اسمیں ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جمہوریت دنیا کا بہترین نظام حکومت نہیں۔ مگر آمرانہ طرز حکومت کے مقابلے پہ ایک بہتر نظام ہے۔ جس طرح تیل کو بار بار چھاننی سے چھانے جانے کے بعد ہر بار آلائشوں سے پاک اور صاف تیل سامنے آتا ہے ۔ اسی طرح کسی ملک میں جمہوری نظام کے چلتے رہنے سے نئے ۔ اچھے لوگ ۔ اور دیانتدار قیادت سامنے آنے کے امکانات دیگر فی زمانہ رائج الوقت نظاموں سے کہیں ذیادہ ہیں ۔ اور جتنی دفعہ اتنخابات ہونگے عوام میں شعور بڑھتا جائیگا ۔ اور ایک دن وہ خود ہی اپنے لئیے ایک بہترین نظام چننے میں کامیاب ہوجانئگے۔یہ وہ وجہ ہے کہ اس جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئیے ۔ عالمی گماشتوں نے طاہر القادری کو میدان میں اتارا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئیے پہلے سے پاکستان کے اندر ان طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کے لئیے ان عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے لوگوں کو پہلے سے ہی اشارہ کر دیا گیا ہے ۔ جو طاہر القادری کا لانگ مارچ کامیاب ہونے کی صورت میں اپنی کوششوں کا آغاز کرنا ہے ۔اور عین ممکن ہے کہ امن و عامہ کی صورتحال ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر حکومت کی نالائقی پہ فوج کو میدان میں اترنا پڑے اور جمہوریت کی بساط ایک دفعہ پھر لپیٹ دی جائے۔ جو بلوچستان میں شورش کو علیحدگی کی حد تک بڑھا دینے کا نکتہ آغاز ہو گا۔ اگر حکومت پاکستان اپنی نالائقی سے کوئٹہ میں اس حد تک مجبور ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلٰی کو فارغ کر دیا جاتا ہے ۔تو یہ شیخ کے دھرنے کے کے لئیے مہمیز ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں انتہائی سنگدلی سے اٹھاسی افراد کی ہلاکت ۔ حکومت کی نالائقی ۔ دھرنا۔ اور بلوچستان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ اور شہر فوج کے حوالے کرنے کا اصرار۔ پاکستان کی مشرقی سرحدوں پہ چھیڑ چھاڑ ۔ مغربی سرحدوں پہ فوج پہ بم حملوں میں اضافہ ۔ ایسے میں شیخ کے لانگ مارچ کی ٹائمنگ حیران کُن ہے۔ 

عوام اب اس حد تک باشعور ہو چکے ہیں کہ اب کسی ابن الوقت کے ہاتھوں میں کھیلنے کو تیار نہیں ۔ اور انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ تبدیلی یا انقلاب وہی دیرپا ہوتا ہے جو پُر امن ہو اور اس دفعہ عوام کو کامل پانچ سال بعد تاریخ میں پہلی بار تبدیلی قیادت کا موقع مل رہا ۔ ہماری نظر میں لانگ مارچ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ایک مرد قلندر نے کہا تھا۔ عالمی استعمار کا یجینڈا اپنی جگہ لیکن مشیت ایزدی کی منصوبہ بندی بہر حال اس پہ فوقیت رکھتی ہے ۔اور شاید اس دفعہ مشیت ایزدی پاکستان کے ساتھ ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب !۔


جاوید چوہدری صاحب!۔

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے پاکستان کے میڈیا مالکان۔ میڈیا سے اپنی مطلب براری کے لئیے میڈیا کے ڈونرز۔ پالیسی سازوں۔ایڈیٹروں۔ کالم نگارروں۔ ٹی وی میزبان ۔ نت نئے شوشے چھوڑنے والوں اور نان ایشوز کو ایشوز بنا کر قوم کو پیش کرنے والوں کا مقدمہ لڑتے ہوئے آپ نے اپنے کیس کو مضبوط بنانے کے لئیے سارے میڈیا کو ایک فریق بنا لیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے ۔ اپنے مقدمے میں میڈیا سے متعلق سبھی شعبہ جات کو ملوث کر لیا ہے۔ جبکہ پاکستان کے قارئین و ناظرین کے اعتراضات میں میڈیا سے متعلق سبھی لوگ شامل نہیں۔ اور معدودئے چند ایسے لوگ ابھی بھی پاکستان میں ہیں جو حقائق کا دامن نہیں چھوڑے ہوئے اور ایسے قابل احترام کالم نگار اور میزبان اور جان جوکھوں میں ڈال کر رپوٹنگ کرنے والے رپوٹر حضرات (جنہیں بجائے خود میڈیا مالکان انکی جان کو لاحق خطرات کے لئیے کام آنے والی مختلف سہولیات بہم پہنچانے میں ناکام رہے ہیں) اور حقائق عوام تک پہنچانے والے یہ رپورٹرز عوام کے اعتراضات میں شامل نہیں۔ جسطرح ہر شعبے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح میڈیا سے متعلق ان لوگوں پہ عوام کو اعتراضات ہیں۔ جن کا بے مقصد دفاع آپ کر رہے ہیں۔

آپکی یہ منطق ہی سرے سے غلط ہے کہ اس ملک(پاکستان) میں سب چلتا ہے۔ اور تقریبا سبھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی ایک لوگ۔ جائز یا ناجائزطریقوں سے کیا کچھ نہیں کما رہے۔ اور اسی منطق کے تحت اگر میڈیا اور صحافت سے تعلق رکھنے والے بھی وہی طریقہ کار اپنا رہے ہیں تو اس میں حرج کیا ہے؟۔ اسکا مطلب تو عام الفاظ میں یہی بنتا ہے کہ صحافت بھی ایک کاروبار ہے اور پاکستان میں رائج جائز ناجائزسبھی معروف طریقوں سے صحافت میں مال اور رسوخ کمانا بھی درست سمجھاجائےَ؟۔ تو حضور جب آپ یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دہونے کا حق بشمول میڈیا سبھی کو حاصل ہے۔ تو پھر عوام حق بجانب ہیں جو آپ اور آپ کے مثالی کردار کے میڈیا پہ اعتراضات کرتے ہیں۔ تو پھر آپ کو اتنا بڑھا سیریل وار کالم لکھنے کی کیا سوجھی؟۔

آپ نے اپنی برادری  کے وسیع المطالعہ ہونے کا تاثر دیا ہے۔ اپنی برادری کو پاکستان کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد حتیٰ کے عام آدمی تو کیا علماء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں سے بڑھ کر اپنے وسیع المطالعہ ہونے کا دعواہ کیا ہے اور مطالعے کے لئیے مختلف کتابوں پہ اٹھنے والے اخراجات کا ڈھنڈورہ پیٹا ہے۔ پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونے کے اعزاز کا چرچا کیا ہے۔

حضور جاوید صاحب۔ پاکستان کے تنخواہ دار میڈیا کے چند ایک نہائت قابل افراد کو چھوڑ کر باقی کے وسیع المطالعہ ہونے کا اندازہ ان کے کالم اور تحریرو تقریر سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ وہ اقوام عالم اور دور حاضر میں اسلام یا پاکستان کے بارے کسقدر باخبر ہیں۔ اور تاریخ وغیرہ کی تو بات ہی جانے دی جئیے۔ اس لئیے آپکا یہ دعواہ نمائشی اور فہمائشی تو ہوسکتا ہے ۔ مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ کیونکہ علم خود اپنا آپ بتا دیتا ہے۔ علم اپنا تعارف خود ہوتا ہے۔

آپ نے اپنی برادری کی پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے حاصل کی جانے والی لٹریسی ڈگریزکا ذکر کیا ہے ۔ ان میں پاکستان کی یونیورسٹیز جنہیں آپ بہترین بیان کر رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیز کو دنیا کی بہترین چھ سو یونیورسٹیزکے کسی شمار میں نہیں رکھا جاتا۔ نہ اب اور نہ پہلے کبھی کسی شمار میں رکھا گیا ہے ۔ لیکن کیا آپ کے علم میں ہے؟ ۔ کہ پاکستان میں اور بیرون پاکستان جو قارئین اور ناظرین آپ کے میڈیا کو دیکھتے ہیں اور گھن کھاتے ہیں۔ اور پاکستانی میڈیا پہ اعتراضات جڑتے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آپ سے بھی اہم اور پیچیدہ موضوعات پہ ڈگریز رکھتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہیں۔اور گرانقدر تجربہ ان کے پاس ہے۔

ایسے ایسے نابغہ روزگار اور اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ۔ بلاگنگ۔ فیس بک۔ سوشل میڈیا پہ صرف اس لئیے اپنی صلاحتیں بلا معاضہ پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے آپکے مثالی کردار میڈیا سے بیزار ہی نہیں بلکہ مایوس ہوچکے ہیں۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے بہترین موضوعات پہ ڈگریز لے رکھی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟؟ ۔ یہ ڈگریز کا حوالہ اور تذکرہ محض آپکی کالم نگاری کے جواب میں ہے ۔ ورنہ لازمی نہیں کہ محض ڈگریز کے حصول سے ہی کوئی فرد زیادہ قابل بن جائے۔

ملک کے جن اٹھارہ کروڑ عوام سے آپ نے گلے شکوے کئیے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے ۔ آپکے دیگر ساتھیوں۔ یعنی بہ حیثیت میڈیا کبھی یہ جاننے کی تکلیف گوارہ کی کہ وہی اٹھارہ کروڑ عوام آپ سے کسقدر مطمئن اور خوش ہیں۔ اس بارے آپ کے قابل قدر میڈیا نے کوئی سروے کیا ہو؟ ۔ عوام سے کبھی رائے مانگی ہو؟؟۔


حال میں۔ جعلی اور فرضی خبریں جنہیں آپ۔ آپ کے ساتھیوں اور پاکستانی میڈیا نے ان فرضی اور جعلی واقعات کو ٹاپ ایشوز بنا کرقوم کے سامنے پیش کیا۔ قوم کو ورغلایا۔ غلط طور پہ رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں موڑنے کی کوشش کی۔ اور جب جب جھوٹ ثابت ہوجانے پہ سوشل میڈیا سے اور دیگر ذرائع سے شوروغوغا اٹھا۔ تو آپ کے بیان کردہ پاکستانی مثالی میڈیا کو اسقدر توفیق نہ ہوئی کے اس بارے اسی شدو مد سے وضاحت جاری کرتا۔

جاوید صاحب! آپ اس بات کا جواب دینا پسند کریں گے کہ میڈیا پہ میڈیا کے پروردہ اور منتخب دانشور جو جعلی واقعات اور جھوٹی خبروں پہ جس غیض غضب کا مظاہرہ اسلام اور شرعی حدود کے خلاف کرتے رہے ہیں ۔ آخر کار اسطرح کی خبریں جھوٹی ہونے پہ آپکے بیان کردہ مثالی اینکرز اور خود آپ نے کبھی انھی افراد کو دوبارہ بلوا کر جھوٹ کا پردہ آشکارا ہونے پہ دوبارہ اسی طرح کسی مباحثے کا اہتمام کیا؟ ۔ جس سے میڈیا کی طرف سے قوم کو اسلام اور شرحی حدود کے بارے ورغلائے جانے پہ انھیں یعنی عوام کو اصلی حقائق کے بارے پتہ چلتا؟۔

پاکستان کے عام قاری کو اس بات سے غرض نہیں۔ کہ آپ معاوضہ کیوں لیتے ہیں۔ انکا اعتراض اس بات پہ ہے کہ حکومتی مدح سرائی کے بدلے سرکاری اشتہاروں سے ملنے والے کروڑوں روپے کے معاوضوں سے دواوراق کے اخبارات سے دیکھتے ہی دیکھتے اربوں روپے کے نیٹ ورک کا مالک بن جانے والے میڈیا ٹائکونز نے آپ جیسے لوگوں   کو لاکھوں رؤپے کے مشاہیرے پہ کس لئیے ملازم رکھا ہوا ہے؟۔  آپ اپنا رزق حلال کرنے کے لئیے وہی بات پھیلاتے ہیں۔ جس کا اشارہ آپ کے مالکان آپ کو کرتے ہیں۔ اور آپ اور آپ کی برادری بے لاگ حقائق کو بیان کرنا کبھی کا چھوڑ چکی۔ جس کا شاید آپ کو اور آپکی برادری کو ابھی تک احساس نہیں ہوا۔

آپ سے مراد آپکی برادری کے اینکرز و پروگرام میزبان و کالم نگاروں کی اکثریت اس”آپ“ میں شامل ہے۔ اس ضمن میں صرف دو مثالیں دونگا۔ پہلی مثال۔ وہ مشہور کالم نگار ۔ جس نے مبینہ ناجائز طور پہ حاصل کردہ اپنے پلاٹ کا ذکر کرنے پہ اپنی ہی برادری کے ایک صاحب کو ننگی ننگی گالیاں دیں۔ دوسری مثال ۔ حال ہی میں پاکستان کے ایک توپ قسم کے ٹی وی میزبان نے پاکستانی عوام کی امیدوں کے آخری سہارے چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری صاحب کو دیوار کے ساتھ لگانے کے لئیے ایک دوسری خاتون میزبان سے ملکر رئیل اسٹیٹ کی ایک متنازعہ شخصیت کا پلانٹڈ انٹرویو لیا۔

ایسی ان گنت مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں حیرت ہوتی ہے۔ آپ میڈیا کو پوتر ثابت کرتے ہوئے کیسے ناک کے سامنے نظر آنے والی  ایسی گھناؤنی مثالوں اور زندہ حقائق کو نظر انداز کر گئے ہیں؟۔

آپ اپنی برادری کی پارسائی ۔ دیانتداری کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ جبکہ عوام پوچھتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے امریکہ کے لئیے نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئیے معاوضے یا رشوت کے طور پہ میڈیا کو میلینز ڈالرز کے الزامات کا جواب ، تردید یا وضاحت کیوں نہیں کی جاتی؟۔

بھارتی ثقافت کی یلغار جس سے ایک عام آدمی بھی بے چین ہے۔ اور آپ جیسے پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ڈگری ہولڈرز کو کیوں نظر نہیں آتی۔ اگر پاکستانی میڈیا پہ محض کاروباری لالچ میں بھارتی میڈیا کی یلغار نظر آتی ہے تو آپ جیسے لوگ کیوں اسکے خلاف کمر بستہ نہیں ہوتے؟۔ اور اگر آپ کو ایسا کچھ نہیں نظر آتا یا نہیں لگتا تو آپ پاکستان کے ایک عام ناظر یا قاری کے جذبات سے کوسوں دور ہیں تو آپ انکے اعتراضات کیسے سمجھ سکتے ہیں؟۔

پاکستان میں آزاد میڈیا کے بجائے جانے والے ترانوں پہ صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا۔ کہ دنیا کے ان سبھی ممالک کی تاریخ گواہ ہے جہاں میڈیا حکومتی تسلط سے آزاد ہوا وہاں عوام نے آزاد میڈیا کو سینے سے لگایا۔ انکی ستائش کی اور جب میڈیا نے من مانی کرنا چاہی تو میڈیا پہ عوام نے اعتراضات کئیے اور میڈیا کو اپنی سمت درست کرنی پڑی۔ جبکہ پاکستانی میڈیا کو ایولیشن کے ایک معروف عمل کے تحت آزادی ملی تو میڈیا نے بے سروپا اور بے ھنگم طریقوں کو محض کاروباری حیثیت کو مضبوط کرنے کے لئیے استعمال کیا۔ اور چند ایک مخصوص کالم نگاروں کا جو کریڈٹ آپ نے وصولنے کی کوشش کی ہے کہ انکی جان کو خطرے درپیش ہوئے ۔ ایجنسیوں نے انھیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں۔ وغیرہ۔ آپ کیا یہ بتانا پسند کریں گے ۔ کہ اگر وہ یہ سب نہ لکھتے تو پاکستان کے میڈیا کا کونسا گروپ انہیں منہ لگاتا؟۔ تو حضور یہ لکھنا ہی انکا فن اور پیشہ ٹہرا جس کا وہ ان گنت معاوضہ لیتے رہے ہیں اور بدستور بہت سی شکلوں میں تا حال وصول کر رہے ہیں۔

آپ نے ڈائنو سار کے قدموں سے اپنی روزی نکالنے کا ذکر کیا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھیں ۔ پاکستان کی اکثریت کس طرح اپنے تن سے سانس کا رشتہ جوڑے ہوئے ہیں ۔ اور ایک تصوارتی ڈائنو سار کے پاؤں سے نہیں ۔۔ بلکہ اس نظام کے ہاتھوں اپنی عزت نفس گنوا کر دو وقت کی روٹی بمشکل حاصل کر پاتے ہیں۔ جس نظام کو تقویت دینے میں ایک ستون آپ اور آپ کا میڈیا ہے۔

عوام کو شکوہ ہے کہ پاکستانی میڈیا عوام کے ناتواں جسم و جان میں پنچے گاڑے نظام کے مخالف فریق کی بجائے اسی نظام کا ایک حصہ ایک ستون ہے۔

نوٹ:۔ یہ رائے عجلت میں لکھ کر جاوید چوہدری کے کالم پہ رائے کے طور بھیجنے کی بارہا کوششوں  میں ناکام ہونے کے بعد اسے یہاں نقل کردیا ہے۔ موصوف کے آن لائن اخبار پہ انکے کالم پہ لکھنے کی صورت میں اسپیم کی اجازت نہیں وغیرہ لکھا آتا ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: