RSS

Tag Archives: حصار

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

تابکاری سے متاثر غذائی اجناسں۔


نوٹ:۔ زیر نظر تحریر۔ پچھلے سال ۲۰۱۱ء میں جاپان کے بدترین سونامی طوفان کے بعد جوہری توانائی پیدا کرنے والے ”فوکوشیما“ نامی پلانٹ کو پیش آنے والے جوہری حادثے کے بعد لکھی گئی۔ جسے ”سائنس کی دنیا“ ۔ ”محترم! یاسر جاپانی صاحب کے بلاگ“ اور محترم!خاور کھوکھر صاحب کے آن لائن اخبار“ نے چھاپنے کا اعزاز بخشا۔ ہمارے ایک عزیز دوست کی خواہش اور پرزور اصرار پہ۔ اپنی اس تحریر کو یہاں نقل کرنے کا مقصد محض اتنا سا ہے۔ کہ خدا نخواستہ کسی ایسی صورتحال میں غذائی اجناس کے بارے کسی حد تک معلومات رہیں۔
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا، اسپین

تابکاری سے متاثر غذائی اجناسں۔

تابکاری سے متاثر غذائی اجناس اور انسانی زندگی کس بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسکے اثرات کتنے جان لیوا اور دیرپا ہوتے ہیں۔ غذا اور کھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں سخت احتیاط برتی جائے اور ڈبہ بند وہ خوراک جو جاپان سے باہر سے برآمد کی گئی ہو وہ استعمال کریں ۔ اگر یوں ممکن نہ ہو تو متاثرہ علاقے کی غذائی اجناس کسی صورت ہر گز ہر گز استعمال نہ کریں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حکومتوں کی اپنا مجبوریاں ہوتی ہیں اور لازمی نہیں کہ وہ ہر بات درست بیان کریں۔انیس سو اناسی میں امریکہ کے تھری مایل آئس لینڈ ایٹمی ری ایکٹر حادثے میں امریکی صدر کی کمیٹی نے تب یہ رپورٹ دی تھی کہ اس حادثے سے ہونے والی تابکاری سے انسانی جانوں کو نقصان نہیں ہوا ۔ پھر کہا گیا کہ اگر انسانی جانوں کو نقصان ہوا تو بہت کم ہوگا، اور اس “بہت کم” کی کوئی وضاحت یا حد نہیں تھی کہ کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک ہوگا۔ مگر بعد میں ہزاروں لوگ کینسر میں مبتلا ء ہوئے۔

یاد رہے کہ انسانی جسم پہ کتنی مقدار میں تابکاری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے یا اگلے پانچ دس سال یا اس سے بھی لمبے عرصے میں انسانی جسم میں کون کون سے مہلک قسم کے کینسر اور انکی رسولیاں اور دیگر بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اس بارے سائنسدان تابکاری کی مقدار کے بارے متفق نہیں۔لیکن جس شخص کو صحت کے دیگر مسائل جیسے الرجی وغیرہ لاحق ہونگے۔ تابکاری ایسے فرد پہ عام آدمی کی نسبت بہت زیادہ اثر کرے گی۔


مثال کے طور پہ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ایکس رے بھی تابکاری شعائیں ہیں تو جونارمل بچہ رحم مادر میں ہو یعنی ابھی پیدا نہ ہوا ہو اوراگر اسکی ماں کا ایکس رے کیا جائے تو اس بچے میں کسی دوسرے ایسے بچے کی نسبت جو نارمل صحتمند ہو مگر جب وہ ماں کے پیٹ میں ہو تو اسکی ماں نے ایکسرے نہ کروایا ہو تو ایکسرے کروائی گئی ماں کے پیٹ میں بچے کونارمل صحتمند بچے کی نسبتا آئیندہ زندگی میں لیوکیما ہونے کے خطرات پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ اگر ماں کے پیٹ میں ایکسرے سے گزرنے والا بچہ الرجی کا مریض ہے تو اسے صحتمند بچے کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ لیوکیمیا یعنی کینسر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک اہم بات جو قابل توجہ ہے کہ کچھ لوگ تابکاری سےقدرے کم متاثر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ انکی نسبت بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ ابھی اس بارے یقننی طور پہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔


جسطرح دائیں ، بائیں، آمنے ، سامنے ، آگے ، پیچھے، اوپر۔ نیچے سے گولیوں کی بوچھاڑ برسائی جارہی ہو ۔ مشین گن کے برسٹ پہ برسٹ لگاتار برسائے جارہے ہوں اور انکی گولیاں انسانی جسم کے آر پار ہورہی ہوں ۔ اسی طرح تابکاری ذرات جسم کے جسیموں (سیلز) کو ہر طرف اور ہر سمت سے چھید ڈالتے ہیں۔ یہ تابکاری ذرات بہت مختلف قسم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے نیوٹران ، پروٹران۔ الفا وغیرہ ہیں۔ یہ نہایت چھوٹے نطر نہ آنے والا ذرات ہیں۔۔ جو جسم کے جسیموں (سیلز) میں اپنی توانائی خارج کرتےہیں۔ جس سے جسم کے سیلز سکڑتے سمٹتے ، ٹوٹتے پھوٹتے ، اورمردہ ہوجاتے ہیں۔


کچھ صورتوں میں سیلز کے بننے کا عمل جسم کی مرکزی کمان سے آزاد ہوجاتا ہے اور جسم میں کینسر اور رسولیاں بننا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک بہت پیچیدہ اور لمبا موضوع ہےبس یہ سمجھ لیں کہ تابکاری کے اثرات نہائت خطرناک اور جان لیوا ہوتے ہیں ۔ نیوٹران، پروٹران کو اگر گولیوں سے مشہابت  دی جاسکتی ہے تو الفا کو توپ کے گولے کہا جاسکتا ہے۔ کسی ایٹمی حادثے کی صورت میں عموما یہ ذرات ایک ہی ساتھ پائے جاتے ہیں ۔ یہ نظر نہیں آتے مگر انتہائی مہلک اور جان لیوا ہوتے ہیں ۔ ان سے کینسر ، لیوکیمیا، عورت اور مرد کے جنسی گلینڈز مثانہ ، رحم وغیرہ اور دماغ میں رسولیاں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت۔ یا معذور یا زائد اور کم اعضاء کے بچے یا عجیب الخلقت بچوں کا پیدا ہونا۔ اور اسطرح کی بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔


ہوا، غذا، گوشت، مچھلی، پانی، دودھ، سبزی، ساگ پات، تابکاری کی زد میں آئی اشیاء کا استعمال۔ جیسے بجلی کی اشیاء۔ ایئرکنڈیشنز ، پنکھے، گاڑیاں، ہوائی جہاز،گاڑیوں، یا ہوائی جازوں وغیرہ کی قاضل پرزہ جات ، یا انکی ترسیل، ٹرانسپورٹ ، پیکنگ وغیرہ کے دوران انکو چھونا۔ یا تابکاری کی اشیاء کے اسٹورز یا گوداموں میں سانس وغیرہ لینا۔انسانی صحت اور جانداروں کو متاثر کرتا ہے۔


ایک نہائت اہم بات یاد رکھنی چاہیے کہ تابکاری سے متاثر ایک انسان سے دوسرے انسان کو تابکاری نہیں ہوتی یعنی یہ متعدی نہیں۔


سترہ مارچ دوہزار گیارہ کو ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئےعالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹرپاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss کے خطاب کا حوالہ لکھ رہا ہوں جو انہوں نے جاپان کے فوکوشیما نمبر ایک کے نیوکلئیر حادثے کے بعد وہاں سے حاصل کی گئی غذا اور تابکاری پہ کیاہے۔ تانکہ آپ کو علم رہے ۔ کہ یہ ایک ذمہ دار اور ایک ماہر کا حوالہ ہے۔عالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر پاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss کا کہنا ہے کہ فوکوشیما کا حادثہ نہ صرف انسانوں کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے غذائی آفت آسکتی ہے۔ انھوں نے تنبیہ کی کہ فوکوشیما کا واقعہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہےکہ ایسی کسی صورتحال کے لئیے پہلے سے تیار کی گئیں تمام حفاظتی تدابیرکا نئے سرے سے جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔


انھوں نے اپنی ماہرانہ رائےدیتے ہوئے سفارش کی ان تمام جانوروں کو ہلاک کردیا جانا چاہئیے جن کے بارے شبہ ہو کہ وہ تابکاری سے متاثر ہوئے ہیں۔تمام پودے اور نباتات جو تابکاری جذب کر چکے ہیں اور اس علاقے کی مچھلی وغیرہ بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ تابکاری کی پیمائش کی جائے اور جہاں تک تابکاری صفر ہوجائے وہاں سے اس پورے علاقے کے گرد ایک حصار قائم کر دیا جائے ۔ تانکہ تابکاری زدہ علاقے کے جانوروں کا گوشت ، دودھ مچھلی ، پھل اور سبزیاں وغیرہ ہر قسم کی کھانے پینے سے متعلقہ اشیاء کسی بھی صورت میں انسانی غذاءمیں شامل نہ ہوسکیں ۔


عالمی ادرہ برائے صحت(ڈبلیو ۔ایچ۔او۔) کے ایگزیکٹو کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر پاؤلو ایم بُوس Paulo M. Buss نے مزید فرمایا اور وہ لوگ جو تابکاری سے کسی طور متاثر ہو چکے ہوں انھیں اگلے پانچ سے دس سال تک اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ سالوں تک ڈاکٹروں کی متواتر دیکھ بھال میں رہنا ہوگا ۔ جس سے بے شک ان کی زندگی متاثر ہوگی۔ڈاکٹر موصوف کا کہنا تھا کہ فوکوشیما پلانٹ کے حادثے کے بارے میں ابھی سے یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ اس کے اثرات کس حد تک خطرناک ہونگے ۔


یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس بارے جاپانی حکومت نے کسی غفلت سے کام لیا ہوگا۔ مگر جاپانی حکومت نے شروع سے ہی فوکوشیما حادثے کو عام سی اہمیت دی۔ جبکہ درحقیقت اس خطرے کے بارے میں شروع ہی سے جاپانی حکومت کی طرف سے واضح طور پہ بتایا جانا چاہئیے تھا۔جبکہ امریکن ایجنسی آف اٹامک انرجی American Agency of Atomic Energy اور انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجینسی ویاناInternational Atomic Energy Agency in Vienna نے اس علاقے میں یہ تشخیص کیا ہے۔ کہ تابکاری بیان کی گئی شرح سے کہیں بڑھ کر ہے اور اسکا دائرہ بھی بیان کئیے گئے کلومیٹرز سے زیادہ ہے۔ جاپان سے تابکاری کے جو کوائف ہمیں ملے ہیں ۔ اسکے مطابق ممکن ہے کم مقدار تابکاری کے فوری اثر کے تحت فوری موت تو نہ ہو۔ مگر یہ تابکاری متاثرہ لوگوں کے لئیے۔ درمیانی اور طویل مدت کے انتہائی خطرناک مسائل پیدا کرے گی۔مختلف قسم کے کینسر oncological disease ، لیوکیمیا leukemia ، brain tumors دماغ میں کینسر کی رسولیاں۔مردو خواتین میں the gonads tumors جیسے مثانے اور رحم کے کینسر۔ sterility مردو خواتین میں بانجھ پن۔ یا معذور بچوں کا جنم ۔ یا ایک سے زائد یا کم اعضاء کے بچوں کا جنم ہونا وغیرہ ۔ جیسے خطرات شامل ہیں۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: