RSS

Tag Archives: جبر

اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔



اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔

عوام
جہاں تک سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ہے تو یہ سو فیصد دیانتداری دنیا کے عوام میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں دنیا کی سبھی قوموں کے کرپٹ لوگ بند ہیں۔
لیکن پاکستانیوں کی اکثریت اپنے پیدائشی ماحول اور اپنے ارد گرد ہر طرف پائے جانے والی بے بسی اور روز مرہ زندہ رہنے کی جستجو میں زندگی گھسیٹنے کے لئیے معاشرے اور بااثر طبقے کی طرف سے مسلط کی گئی کرپٹ اقدار اور بدعنوانی کی وجہ سے محض زندہ رہنے کے لئیے ڈہیٹ بن کر ہر قسم کے ظلم و ستم پہ بہ جبر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔
اور جب اپنی اور اپنے خاندان کا جان اور جسم کا سانس کا ناطہ آپس میں میں جوڑے رکھنا محال ہو جائے۔ اور ایسا کئی نسلوں سے نسل درنسل ہو رہا ہو اور ہر اگلی نسل کو پچھلی نسل سے زیادہ مصائب و آلام کا سامنا ہو اور اسی معاشرے کے ہر قسم کے رہنماؤں کی اکثریت جن میں مذہبی ۔ علمی۔ سیاسی۔ دینی۔ حکومتی ۔ فوجی۔ قسما قسمی کی حل المشکلات کی معجون بیچنے والے دہوکے باز۔اٹھائی گیر ہوں اور بد ترین اور بدعنوان ہوں۔ تو وہاں خالی پیٹ۔ اور بے علم۔ بے شعور عوام سے دیانتداری کا اور وہ بھی سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ظلم ہے۔
مندرجہ بالا بیان کردہ حالات ایسا کلٹ کلچر بنا دیتے ہیں جس میں دیانتداری کا خمیر پیدا ہی نہیں ہوتا۔جیسے رات کو دہوپ نہیں ہوتی۔ اور اس کا مظاہرہ پاکستانی معاشرے میں روزہ مرہ زندگی میں سرعام نظر آتا ہے ۔


کوڑھ کی کاشت کر کے خیر کی امید کیسے باندھی جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگ۔ مشہور لوگ۔ لیڈ کرنے والے لوگ۔ بااثر طبقہ سے سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اشرافیہ۔ حکمران۔ رہنماء۔ علماء۔ جرنیل۔ اساتذہ اور اس قبیل کے دیگر لوگ مثال بنا کرتے ہیں ۔
جیسے گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی اگر سگریٹ نوشی ۔ شراب نوشی یا آوارہ گردی کرے تو سارا گھرانہ وہی عادتیں پکڑتا ہے۔مگر پاکستان کی اشرافیہ اور بااثر طبقے  کو مثالی کہنے کی بجائے کم ظرف اور تنگ دل کہنا بجا نہ ہوگا کہ جن سے پاکستانی عام  عوام  کویئ مثبت تحریک پا سکے ۔
اس کے باوجود اگر پاکستانی قوم میں کچھ اقدار باقی ہیں تو یہ شاید ان جینز کا اثر ہے جو عام عوام کے خون میں شامل ہیں۔ اور ہنوز اخلاقی بد عنوانی کے خلاف مزاحمت کر ہے ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ۔ ہزراوں سال سے غلامی میں پسنے کی وجہ سے مجبور و معذور ہےاور ہماری ذہنی بلوغت ہی  نہیں ہوسکی۔ 

ہمارے معاشرے میں۔
ہماری انفرادی معاشی خود مختاری ۔ روٹی روزی۔ بنیادی ضروریات اور گھر جیسے تحفظ کا تصور ہی اپنے صحیح معنوں میں فروغ نہیں پا سکا ۔ کیونکہ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو یہ چیزیں مکمل آزادی اور عزت نفس کو پامال کئیے بغیر نصیب ہی نہیں ہوئیں ۔ تو شخصی آزادی یا اجتماعی سوچ بھلا کیونکر فروغ پاتیں؟
آج بھی پاکستان کی  بڑی اکثریت کے لئیے۔ پٹواری۔ نیم خواندہ تھانیدار اور گھٹیا اخلاق و تربیت کے اہلکار۔ حکومت اور عام آدمی کے درمیان تعلق کا پُل ہیں۔اور ان سے آگے عام آدمی کی سوچ مفروضوں پہ قائم  اپنے ملک و قوم کا تصور رکھتی ہے۔ اگر تو کوئی تصور رکھتی ہے؟۔
اور یہ سلسلہ برصغیر کے عوام کے ساتھ ہزاروں سالوں سے روا ہے ۔ اس لئیے عام آدمی کے نزدیک ۔ آزادی۔ عزت نفس۔ اور جائز حقوق کی بازیابی کا کوئی تصور ہی نہیں  نپ سکا۔
اس لئیے وہ معاشرے میں ہر عمل اور اس کے رد عمل کے لئیے بااثر طبقے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اور اس بااثر طبقے کے عمل۔ بیانات اور منشاء کو ہی مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے وجود میں آتے ہیں اور اس سے آگے قومی شعور نہیں بڑھ پاتا۔
ان وجوہات کی بناء پہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی طبقے کبھی کا کوئی رول نہیں رہا۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اکثریت کسی انقلاب یا تبدیلی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں اور انیس سو سینتالیس سے آزاد ہیں۔لیکن دل پہ ہاتھ رکھ دیانتداری سے بتائیں کیا آزاد قوم اور مسلمان یوں ہوتے ہیں؟
اس کی یہ وجہ بھی وہی ہے کہ اسلام روزمرہ کی معاملگی حیثیت سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہی نہیں بن سکا ۔ اس لئیے ہماری اخلاقی حدود و قیود عام طور پہ اسلامی اخلاق سے باہر ہوتی ہیں۔
جب عوام کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے ۔ سرداروں۔ پیروں۔ دینی رہنماؤں ۔ علماء اکرام۔ سرکاری افسروں۔ سیاسی رہنماؤں ۔ حکومت اور حکمرانوں۔ فوج اور جرنیلوں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پھر جس کی کوئی ادا ۔ کوئی بات دل کو بھا جائے اسے اپنا اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔
ہمارا اجتماعی شعور کبھی تھا ہی نہیں۔ اور ہمارے نصب العین ہمیشہ بااثر طبقے نے طے کئیے۔
ہماری اشرافیہ۔ ہمارا بااثر طبقہ انتہائی بے ضمیر۔ دہوکے باز۔ کم ظرف۔ سطحی شخصیت کا مالک اور اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کے لئیے کسی بھی حد تک جانے کے لئیے تیار رہتا ہے۔
اور مرے پہ سو درے ۔ اس سارے تماشے سے کچھ قوم فروش اور ابن الوقت لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی جھجھک کے اپنی ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کو نہائت بالا نرخوں پہ فروخت کیا۔ جسے حرف عام میں پاکستان کا "میڈیا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ تنزل ہماری اشرافیہ پہ طاری ہے اور عام عوام وہیں سے تحریک پاتے ہیں ۔ چند اشتنساء چھوڑ کر۔ جسے فوری طور پہ پھیلانے کا اہتمام قوم فروش میڈیا اور اسکے مالکان کرتے ہیں۔
اس لئیے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ عام آدمی کیونکر اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئیے بجائے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے ۔ وہ بجائے خود اسی تنزلی میں شامل ہو رہا ہے۔
اور یہ وہ وجہ ہے کہ عام عوام میں۔ معاشرے میں۔ ہر طرف لاقانونیت۔ بد عنوانی۔ بے ایمانی۔ بد دیانتی۔ بد نظمی اور افراتفری نظر آتی ہے۔

اس لئیے پاکستان کے ان موجودہ حالات میں

 عام آدمی میں اجتماعی شعور کی تربیت کرنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک اشرافیہ۔ یعنی بااثر طبقہ۔ دینی و سیاسی رہنماء۔ جرنیل اور حکمران ۔ اور پاکستان کے وسائل پہ قابض مافیا۔اپنے انداز نہیں بدلتی۔اور بد قسمتی سے تب تک پاکستان کے عوام کا مجموعی رویہ بدلنا اور اجتماعی شعور کا فروغ پانا۔ بغیر کسی معجزے کے ممکن نظر نہیں آتا۔ اور دائرے کا معکوس سفر جاری رہے گا۔
اگر عام عوام کو اس بات کا ادراک دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک باعزت قوم ہیں اور انھیں ایک اجتماعی شعور بخشنا ہے۔ تانکہ وہ ایک قومی اخلاق اپنا کر اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ صرف حکومتی اداروں کے عام اہلکاروں اور عہدیداروں سے نااہلی ۔ بدنیتی اور بد عنوانی کا حساب نہ لیا جائے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے کیونکہ عام اہلکاروں کو معطل کرنے یا چند ایک لوگوں کو ان کے عہدوں سے برخاست کر دینے سے۔ پاکستان کی بد عنوانی پہ قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ ایسا کرنا تو دراصل دنیا کی بدترین۔ ایک نمبر کی بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسلئیے یہ از بس ضروری ہے کہ پاکستان میں بد نیتی۔ بدیانتی اور بد عنوانی ختم کرنے کی کوشش کے لئیے لا محالہ طور پہ اس کا آغاز بالادست طبقے اور پاکستان کے وسائل پہ قابض کم ظرف اشرافیہ سے نہ کیا گیا تو ایسی ہر مہم ناکام ہو جائے گی۔ اور اجتماعی قومی شعور۔ ایک باوقار با اختیار قوم۔ اور ایک آزاد پاکستان کا تصور صرف چند ہزار لوگوں کو ناجائز تحفظ دینے کی وجہ سے محض ایک خیال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے وسائل پہ قابض چند ہزار نفوس کی کم ظرف اشرافیہ۔ یا۔ بنیادی اور ضروری سہولتوں کے مالک کروڑوں باشعور عوام کا ایک بااختیار اور آزاد پاکستان؟ جب تک یہ طے نہیں ہوتا۔ تب تک ہم ایک معکوس دائرے میں سفر کرتے رہیں گے اور بدیانت غفلت کا شکار رہیں گے۔

جاوید گوندل۔ بارسیلونا

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

والعصر


والعصر 1

والعصر
۔سورة العصر۔
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾ (العصر1-3)
ترجمہ۔
1)۔ عصر کی قسم
2)۔ بے شک انسان خسارہ میں ہے۔
3)۔ بجز اُن کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔


سورۃ والعصر ۔قرآنِ کریم کی دوسری مختصر سی سورت ہے۔ جس میں اللہ تعالٰی نے گواہی دی ۔ قسم اٹھائی ہے ۔ اور وہ زمانوں کی قسم ہے۔ وقت کی قسم ہے کہ جب کچھ بھی نہیں تھا ۔تو اللہ تعالی موجود تھا اور اللہ تعالٰی ہر زمانے کا شاہد ہے۔ گواہ ہے کہ ۔ اللہ تعالٰی سب زمانوں سے پہلے کا ہے۔ ہمیشہ سے ہے۔ اللہ تعالٰی نے سارے زمانے دیکھے ہیں اور حضرتِ انسان کو بار بار پھسلتے دیکھا ہے۔ اسی لئیے اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو زمانوں کی قسم کھا کر یہ باور کرواتا ہے کہ مجھے سارے زمانوں کی۔ وقت کی قسم ہے ۔کہ میں زمانوں سے شاہد ہوں ۔ جانتا ہوں اور مجھے علم ہے کہ یوں ہوا ہے ۔ یوں ہوتا آیا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ
انسان خسارے کا سودا کرتا ہے ۔ تھوڑے کے لئیے زیادہ چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ کام کرتا ہے جس میں خود اس کے لئیے۔ اور دوسروں کے لئیے سراسر خسارہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی یہ سب کچھ زمانوں سے یعنی ابتدائے آفرینش سے دیکھ رہا ہے۔ کہ یوں ہو رہا ہے ۔انسان خساروں کا، گھاٹے کا ۔ نقصان کا ۔ سودا کرتا ہے ۔


مگر ۔ ہاں وہ لوگ ؟۔ اور کون ہیں وہ لوگ ؟ جوخسارے کا سودا نہیں کرتے ۔جواہلِ خسارہ میں شامل نہیں ؟۔ وہ جو ۔ ایمان لاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے دین پہ ۔ اسکی بتائی ہوئی باتوں پہ ۔ اسکے احکامات پہ ۔ عمل کرتے رہے ہیں ۔ عمل کرتے ہیں۔ وہ حق بات کی تلقین کرتے ہیں، یعنی وہ حق بات کرتے ہیں ۔حق پہ عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے کا کہتے ہیں ۔
یعنی وہ اہلِ حق ہیں ۔ جھوٹ سے بچتے ہیں ۔ ہیر پھیر ۔  مکروفریب اور  دہوکہ دہی نہیں کرتے رہے ، نہیں کرتے۔ ہمیشہ سچ کہتے رہے ہیں ، سچ کہتے ہیں۔ کسی جابر ۔ کسی آمر سے نہیں ڈرتے ۔ کسی مصلحت یا دنیاوی فائدے کے لئیے سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ حق کو حق کہتے ہیں۔ خواہ اس کے لئیے کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے اور انکے ایمان ۔ اور صالح اعمال کی وجہ سے۔ اور حق کا ساتھ دینے۔ اور حق پہ ڈٹ جانے کی وجہ سے۔ جب حالات انکے ناموافق ہوجاتے ہیں۔ ان پہ جبر اور ستم کیا جاتا ہے ۔ انکا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ تو وہ زمانے کی ریت اور چلن کا ساتھ دیتے ہوئے بدکار لوگوں کاساتھ ۔ بدکار رسموں ۔ اور رواجوں کا ساتھ ۔جابر اور آمر حاکموں اور ظالموں کا ساتھ نہیں دیتے ۔انکے ظلم اور ستم پہ خاموش نہیں رہتے ۔کچھ بس میں نہ رہے ۔اورجب ان سب ستموں پہ۔ ان کا بس نہ چلے۔ کوئی پیش نہ چلے۔ تو وہ صبر کرتے ہیں اور اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں۔اور اپنے جیسوں کو صبر کرنے اور اور سچ پہ ڈٹے رہنے کی تلقین اور ہدایت کرتے ہیں۔ یعنی  وہ خود بھی ایمان لاتے ہیں۔   یقین رکھتے ہیں۔ اور نیک اعمال کرتے ہیں۔  حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ دوسروں کو یوں کرنے کا کہتے ہیں۔ اور جب پیش نہ جائے تو  برائی میں شامل نہیں ہوتے ۔ برائی کے سامنے سپر نہیں  ڈالتے اور  خود بھی صبر کرتے ہیں ۔ اور اپنے جیسوں کو بھی  ۔   حق بات کہنے پہ۔ جو نامساعد حالات سے ۔ لوگوں کے ناروا رویے سے۔ اور جوروستم  سے جب  واسطہ پڑتا ہے ۔ تو انہیں صبر سے سب  برداشت کرنے کی تلقین اور تاکید کرتے ہیں ۔ تانکہ حق بیان ہو۔ حق جاری ہو۔ اور لوگ حق کے لئیے ڈٹ جائیں۔ ڈٹے رہیں۔ اور مصیبت اور پریشانی  میں صبر سے سب کچھ برداشت کریں ۔ بس یہی وہ لوگ   ہیں۔ وہ لوگ!  جو سارے زمانوں سے آج تک خسارے میں نہیں رہے!! اور نہ کبھی خسارے میں ہونگے!!۔

اور اللہ تعالٰی عصر کی۔ زمانوں کی ۔ وقت کی ۔ انسان کی تاریخ کا گواہ ہے۔اور اللہ تعالٰی خود۔ اس وقت کی قسم کھا کر اپنی شہادت کو ۔ گواہی کو بنیاد بنا کر۔ حضرتِ انسان کو خسارے اور خسارے میں نہ رہنے والوں کے بارے بیان کر رہا ہے ۔خبردار کر رہا ہے کہ ازلوں سے ۔ زمانوں سے کون سے لوگ فائدے اور کون سے لوگ خسارے میں رہے ۔ہیں کیونکہ اللہ سب کے انجام کو جانتا ہے۔ اور اسوقت بھی جانتا تھا۔ جب ہم سے بھی پہلے کے زمانوں میں جو لوگ مختلف برائیوں  کے سامنے  جھکتے نہیں تھے۔ اور اللہ کے بتائے ہوئے حق کے رستے پہ چلتے تھے۔ اور پریشانیوں پہ صبر کرتے ۔اور دوسروں کو حق پہ چلنے۔ اور صبر کرنے کی تاکید کرتے تھے ۔ تو فائدے میں رہتے تھے۔ اور جو اس کے برعکس جو  لوگ  جو یوں نہیں کرتے تھے۔ دنیاوی فائدوں اور   مصحلتوں یا  خوف یا ڈر کی وجہ سے ۔ ایمان نہیں لاتے تھے۔ نیک عمل نہیں کرتے تھے۔ اور حق کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔ اور حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مصائب پہ صبر کی بجائے ظلم اور برائیوں پہ خاموش ہوجاتے تھے ۔ اور نہ ہی دیگر   حق کا ساتھ دینے والے لوگوں کو۔ اور مصائب  جھیلنے پہ انہیں صبر سے۔ حوصلے کے ساتھ، برداشت کرنے کی تلقین کرتےتھے۔ تو یہ لوگ خسارے میں رہے ۔ اور خسارے میں ہیں اور ۔ خسارے میں رہیں گے ۔

اور چونکہ اللہ تعالٰی نے یہ سب ہمیشہ سے دیکھ رکھا ہے۔ اورجو ہم سے پہلے کے سارے زمانوں میں بنی نوع انسان ہو گزرے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے  ان سب کے انجام کو دیکھ رکھا  ہے ۔ انکے کئیے کے نتیجے سے واقف ہے ۔ اور وہ گواہ ہے ۔ اسلئیے انہی سارے زمانوں کی اور بنی نوع انسان کی ساری گزری نسلوں  سے انکے حالات سے انجام سے باخبر ہونے کی وجہ سے۔ اللہ تعالٰی ہمیں خبردار کر رہا ہے ۔ کہ  ہم  اسکی قسم اور گواہی پہ  یقین کرتے ہوئے سابقہ زمانوں اور آنے والے وقتوں کے خسارہ پانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوجائیں اور ہدایت پائیں۔
اس لئیے ہمارے ہاں جن برائیوں کو رواج سمجھ کر۔ یا جن پہ اپنے آپ کو بے بس سمجھ کر۔ انہیں خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ اس میں شامل ہوا جاتا ہے ۔ تو اس سورت والعصر  سے ہمیں انسانوں کی دونوں قسموں کا پتہ چلتا ہے ۔کہ خسارے یا گھاٹے والے کون ہیں۔ اور اللہ سے منافع کا سودا کرنے والے کون ہیں اور انکا طریقہ کار کیا ہے۔
اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آج کے حالات میں ہمیں کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئیے ،۔یعنی ایمان لانا اور یہ یقین ہونا کہ اللہ نے جو فرما دیا ہے۔ وہ ہی درست ہے ۔ وہی ہمارا اللہ ۔ وہی ہمارا آقا و مالک ہے ۔ اور اسی کا دین سچا ہے۔ کہ جو ہم اللہ کی خاطر اپنے دین کی خاطر اور اپنے پہ فرض ہونے کی وجہ سے اور اس فرض کی خاطر نیک عمل کریں ۔ اور حق کا ساتھ  اور  سچ کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ خواہ کتنی ہی مشکلیں درپیش کیوں نہ ہوں ۔ کسی مصلحت کے تحت جھوٹ ۔ مکاری۔ فریب اور ناجائز کام نہ کریں ۔ اور اگر ایسا کرنے میں۔ یعنی سچ کہنے اور حق کام کرنے میں مشکلات پیش آئیں کہ جو عموماً آتی ہیں۔ تو اس پہ زمانے کا رواج کہہ کر اس برائی میں شامل نہ ہوں ۔ خود بھی اور دوسروں کو بھی  تاکید کریں  کہ  ناشکرے نہ ہوں ۔ پچھتائیں نہیں ۔ بلکہ اس پہ صبر کریں اور اچھے عمل ۔ نیک عمل کرنے نہ چھوڑیں۔ اور حق کا ساتھ نہ چھوڑیں  ۔ ۔ اور یہ اللہ تعالٰی ہے جو سارے زمانوں کی بنیاد پہ اپنی گواہی اور اسکی قسم دے کر فرما رہا ہے۔کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے۔

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ذوالفقار مرزا فرمودات اور حقائق کا جبر


ذوالفقار مرزا نے جو کہا اور اس پہ معافی مانگی ۔ یہ "ارشادات” جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ سندھی رہنماؤں کی تنگ نظر ذہنیت کا پتہ دیتے ہیں ، وہیں جبر کے اس دور کا شاخسانہ ہیں۔ "جبر ” جو سندھ باالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم نامی تنظیم اپنا آبائی حق سمجھ کر اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے ۔ ذوالفقار مرزا کے بیان سے اتفاق رائے یا اختلاف رائے سے قطع نظر ۔ یہ وہ رد عمل ہے۔ جو ایم کیو ایم کی کراچی میں طرز حکمرانی اور تشدد کی سیاست کے خلاف دلوں میں پل رہا ہے۔ بڑھ رہا ہے۔

عقل مند لوگ اس شاخ کو نہیں کاٹتے جس پہ بسیرا ہو،۔ جبکہ اپنے آپ کو سیاسی تنظیم کہلوانے والی ایم کیو ایم یہ کام لاکھ جتن اور بد تدبیری کر تے ہوئے انجام دے رہی ہے۔ یعنی کراچی اور سندھ کے جن عوام سے(سندھی، پنجابی، پٹھان بلوچی اور دیگر قومیں جو کراچی میں بستی ہیں وہ وہاں کے عوام ہیں)اس کا سامنا ہے ۔جن عوام سے اسکا روز مرہ کا مرنا جینا ہے ۔ ایم کیو ایم ، کمال بد تدبیری سے انہیں اپنا دشمن بنائے رہتی ہے۔

بر صغیر میں وہ دور گزر چکا۔ جب ریاستیں اور انکی حکومتیں۔ کسی ایک خاندان یا حکمران کی ملکیت ہوتیں تھیں۔ اسی طرح سیاسی تنظیموں اور پارٹیوں پہ بھی کسی ایک شخص کا قبضہ، ایک فرسودہ نظریہ ہے۔ پاکستان میں جو لوگ اور سیاسی پارٹیاں ایسے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر انقلابی کبھی نہیں ہوسکتے۔ اور یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے۔ جو ایم کیو ایم کو ایک انقلابی تنظیم میں تبدیل ہونے میں مانع ہے۔ جسے بادی النظر میں۔ ایم کیو ایم سمجھنے سے قاصر ہے۔

ذوالفقار مرزا کے بے وقوفانہ اور الاؤ بھڑکانے کے بیان کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں مگر کیا آپ اور وہی منیر بلوچ جنکا کالم آپ نے بصد شوق اپنے بلاگ پہ چسپاں کیا ہے ۔ کیا آپ دونوں میرے کچھ سوالوں کا جواب دینا پسند کریں گے۔ کہ ذوالفقار مرزا کے مذکورہ بیان کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں میں مارے گئے لوگ کیا انسان نہیں تھے؟۔ انکا کیا قصور تھا؟۔ کیا ایک بیان کے بدلے درجنوں بے گناہ اور راہ چلتے لوگوں کی جان اسقدر انتہائی کم قیمت رکھتی تھی کہ انھہں خون میں نہلا دیا گیا؟۔کیا انکے قاتل پکڑے گئے؟ کیا اس قتل و غارت سے لوگوں کے دلوں میں الطاف حسین سے محبت میں اضافہ ہوا ہوگا؟۔

منیر بلوچ نے کالم کے آغاز میں جس جذباتی طریقے سے تنبو یعنی خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدمے کی روداد کی ادھوری کہانی جذباتی انداز میں لکھی ہے۔ اس سے منیر بلوچ نے مجرمانہ غفلت سے کام لیتے ہوئے یک طرفہ طور پہ کراچی کے وسائل اور سیاست پہ قابض مخصوص لوگوں کے جذبات کی تسکین کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اور پاکستان کی مقامی آبادی نے پورے پاکستان میں جس ایثار ، اخوت اور قربانی کا مظاہرہ اپنے مہاجر بھائیوں کے لئیے کیا ۔ جس سے انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی ۔اسے یکطرفہ نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ایک ایسے واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا ہے جس کا فیصلہ موصوف نے لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ اور دلوں میں مزید نفرتیں ڈالنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کی ہے ۔ جس سے غلط فہمیوں اور نفرتوں کو رواج تو ہوسکتا ہے مگر اس سے کسی کا بھلا ہونا ناممکن ہے۔

اور اگر اُس دور میں پاکستان کی نوزائیدہ حکومت جسکے کرتا دھرتا مہاجر ۔ اسکے اعمال مہاجر اور وزیر اعظم بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور کسی ایک مہاجر کے ساتھ یوں ہوا تو اس میں بھی قصور وار حکومت تھی نہ کہ وہ عام آدمی جس کی بّلی ہر روز درجنوں کی تعداد میں کراچی میں چڑھائی جاتی ہے، عام آدمی جن میں سے اکثر کو سیاست کی الف وبے کا علم نہیں ہوتا اور وہ اپنے گھر سے کوسوں دور محض روزی روٹی کی خاطر کراچی کے کارخانوں اور عام آدمی کی خدمت بجا لا رہے ہوتے ہیں۔ ان جیتے جاگتے انسانوں کو الطاف حسین کی عظمت و رفعت ثابت کرنے کے لئیے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔خدایا ۔ یہ کیسی عظمت ہے؟۔ یہ کیسی رفعت ہے؟۔ جو زندہ انسانوں کی قربانی مانگتی ہے؟ ۔ایسا تو ہنود بھی نہیں کرتے ۔ وہ بھی اپنے کسی بت یا دیوتا کو خوش کرنے کے لئیے کبھی سالوں میں کسی ایک آدھ انسان کو قربان کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمانی اور مکے کے مہاجرین کے ہم رتبہ ہونے کا دعواہ کرنے والے۔ درجنوں گھروں کے چراغ محض ایک بیان پہ بجھا دیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جسے کسی بھی سیاسی اور جذباتی رو سے۔ دنیا میں کہیں بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ملک میں اور کچھ سال قبل تک کچھ ایسی ہی بنیادوں پہ مہاجر ہونے والوں کی طرف سے، یوں ہونا انتہائی قابل افسوس ہے ۔اسکے باوجود اگر کسی کو تنبو یا خیمے کا کپڑا اپنا جسم چھپانے کے لئیے استعمال کرنا پڑا۔ تو اسکا الزام بھی لیاقت علی خان کو ہی جاتا ہے ۔جس نے اپنوں کو نوازا ۔اور جو حقیقی مہاجر تھے انکے کلیم بھی وہ لوگ لے اڑے جو نوابزادے کے پسندیدہ لوگ تھے ۔ یہ خفیہ اور راز کی باتیں نہیں بلکہ انھیں سارا زمانہ اور خاص کر کراچی کے عام لوگ بھی جانتے ہیں ۔ آپ ذرا پتہ تو کریں۔

خیمے کے کپڑے کے ٹوٹے کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ بھی آپ کو اور منیر بلوچ کو علم ہوگا؟ ۔ جبکہ یہاں انسانی جانوں کو محض اس لئیے بلی چڑھا دیا گیا کہ زوالفقار مرزا اور اور انکے حماتیوں کو یہ باور رہے کہ ایسا کہنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔اور افسوس ہے اسکے باوجود آپ نے ساٹھ سال سے زیادہ پرانے ایک مقدمے پہ لکھے گئے یکطرفہ کالم کو بنیاد بنا کر یہاں چھاپ دیا۔ اور جو واقعتا کل پرسوں جان سے ہارے اور بے گناہ لوگ تھے انکا ذکر ہی نہیں۔ ذوالفقار مرزا کے بیان کے رد عمل میں جن درجنوں لوگوں کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ انکی مظلومیت پہ کچھ لکھا جاتا ؟۔

خدا گواہ ہے۔آپ لوگ حقیقت کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ سورج بلند ہوتا ہے تو اسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ آپ ہار جائیں گے اور سورج جیت جائے گا۔ حقائق اور سچ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ آپ ہار جائیں گے اور سچ اپنا آپ منوا کر رہے گا۔ یہ جو کل پرسوں بے گناہ لوگ قتل کر دئیے گئے ۔ انکے بیوی بچے ہونگے ۔ ان میں سے کئی ایک اپنے خاندان کے واحد کفیل ہونگے ۔ جب وہ گھروں کو نہیں لوٹے ہونگے ۔ ان معصوم بچوں کے کاندھوں پہ گھر کا بار کفالت کا بوجھ پڑے گا۔ وہ اسی کراچی شہر میں تلاش معاش کو نکلیں گے۔ تو کئی ایک اپنی بے بسی کا بدلہ مزید لوگوں سے لیں گے ۔

جو نفرتیں آج بیجی جارہی ہیں۔ اسکی فصل کچھ سالوں تک اہل کراچی کو کاٹنی پڑیں گی ۔تب ساٹھ ستر سال کے خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدموں کی جذباتی روداد کسی کو روک نہ سکے گی۔ انتقام اور اپنی بے بسیوں کا حساب چاق کرنے کے لئیے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑنا ناممکن ہوگا۔

جبکہ اُس دور میں۔آغاز پاکستان میں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور انہوں نے مقامی سندھیوں کے خلاف انکا استہزاء اڑاتے ہوئے فرمایا "ان گدھا گاڑیاں چلانے والوں کا علم سے کیا تعلق ؟”۔ اور سندھ یونی ورسٹی کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا۔ اور کراچی میں کراچی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ سندھیوں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی بدتدبیر سیاست سے لیاقت علی خان نے گانٹھ ڈال دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کراچی کی سیاست اور وسائل پہ سوائے اپنے مخصوص لوگوں کو جن میں سبھی مہاجر شامل نہیں ۔ کراچی کے ان وسائل کو صرف اپنا حق سمجھ کر دوسری قومیتوں بشمول وہ مہاجر جو ایم کیو ایم کو نہیں مانتے ان مہاجرو ں کو ، پٹھانوں کو ،سندھیوں کو، پنجابیوںکو، بلوچوں کو اور دیگر قومیتوں کو متواتر نطر انداز کیا جارہا ہے۔ جو شدید ردعمل کا جواز بنتا ہے اور بنتا رہے گا ۔ تا وقتیکہ کہ کراچی کے وسائل منصفانہ طریقے سے سے عام آدمی کے لئیے تقسیم نہ ہوں ۔ اس وقت تک دلوں میں رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔ اور شدید ردعمل زبانی اور عملی سامنے آتا رہے گا۔ دانش کا تقاضہ یہ ہے جس شاخ پہ بسیرا ہو اسے کبھی نہ کاٹا جائے۔ بلکہ اس شاخ اور شجر کو توانا کیا جائے۔ مگر ایم کیو نے ماضی اور حال سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔اور آپ جیسے سمجھدار اور فہم رکھنے والے لوگ بھی اتنے گھمبیر مسئلے کو اپنے مخصوص اور دلپسند رنگ اور اینگل سے دیکھتے ہوئے۔ اسطرح کے کالم چسپاں کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے مہاجر ہونے کا حق نمک ادا کر دیا ۔ جبکہ ہم اسے مسائل سے چشم پوشی کا نام دیتے ہیں۔کیونکہ جب تک کسی مسئلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اور اسے حل کرنے کی تدبیر نہیں کی جاتی۔ اسوقت تک نہ صرف مسئلہ موجود رہے گا ۔ بلکہ وہ اپنے اندر کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ر ہےگا۔ جو نہائت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نفرت کا جن ایک دفعہ بوتل سے باہر آجائے تو اپنے پرائے کی تمیز کھو جاتی ہے۔آئیں مل جل کر کوشش کریں کہ نفرت کا یہ جن بے قابو نہ ہو۔ اور کراچی و پاکستان باہمی برداشت اور عدل و انصاف کو رواج دیا جاسکے ۔ جس سے لوگوں کے مسائل کا حل ہونا ایک عام قاعدہ ہو۔ جو عام آدمی کا حق ہو۔ نہ کہ کسی عطیم لیڈر یا پارٹی کی بخشیش ہو۔ یہی مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: