RSS

Tag Archives: بھائی

اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔



اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔

عوام
جہاں تک سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ہے تو یہ سو فیصد دیانتداری دنیا کے عوام میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں دنیا کی سبھی قوموں کے کرپٹ لوگ بند ہیں۔
لیکن پاکستانیوں کی اکثریت اپنے پیدائشی ماحول اور اپنے ارد گرد ہر طرف پائے جانے والی بے بسی اور روز مرہ زندہ رہنے کی جستجو میں زندگی گھسیٹنے کے لئیے معاشرے اور بااثر طبقے کی طرف سے مسلط کی گئی کرپٹ اقدار اور بدعنوانی کی وجہ سے محض زندہ رہنے کے لئیے ڈہیٹ بن کر ہر قسم کے ظلم و ستم پہ بہ جبر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔
اور جب اپنی اور اپنے خاندان کا جان اور جسم کا سانس کا ناطہ آپس میں میں جوڑے رکھنا محال ہو جائے۔ اور ایسا کئی نسلوں سے نسل درنسل ہو رہا ہو اور ہر اگلی نسل کو پچھلی نسل سے زیادہ مصائب و آلام کا سامنا ہو اور اسی معاشرے کے ہر قسم کے رہنماؤں کی اکثریت جن میں مذہبی ۔ علمی۔ سیاسی۔ دینی۔ حکومتی ۔ فوجی۔ قسما قسمی کی حل المشکلات کی معجون بیچنے والے دہوکے باز۔اٹھائی گیر ہوں اور بد ترین اور بدعنوان ہوں۔ تو وہاں خالی پیٹ۔ اور بے علم۔ بے شعور عوام سے دیانتداری کا اور وہ بھی سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ظلم ہے۔
مندرجہ بالا بیان کردہ حالات ایسا کلٹ کلچر بنا دیتے ہیں جس میں دیانتداری کا خمیر پیدا ہی نہیں ہوتا۔جیسے رات کو دہوپ نہیں ہوتی۔ اور اس کا مظاہرہ پاکستانی معاشرے میں روزہ مرہ زندگی میں سرعام نظر آتا ہے ۔


کوڑھ کی کاشت کر کے خیر کی امید کیسے باندھی جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگ۔ مشہور لوگ۔ لیڈ کرنے والے لوگ۔ بااثر طبقہ سے سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اشرافیہ۔ حکمران۔ رہنماء۔ علماء۔ جرنیل۔ اساتذہ اور اس قبیل کے دیگر لوگ مثال بنا کرتے ہیں ۔
جیسے گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی اگر سگریٹ نوشی ۔ شراب نوشی یا آوارہ گردی کرے تو سارا گھرانہ وہی عادتیں پکڑتا ہے۔مگر پاکستان کی اشرافیہ اور بااثر طبقے  کو مثالی کہنے کی بجائے کم ظرف اور تنگ دل کہنا بجا نہ ہوگا کہ جن سے پاکستانی عام  عوام  کویئ مثبت تحریک پا سکے ۔
اس کے باوجود اگر پاکستانی قوم میں کچھ اقدار باقی ہیں تو یہ شاید ان جینز کا اثر ہے جو عام عوام کے خون میں شامل ہیں۔ اور ہنوز اخلاقی بد عنوانی کے خلاف مزاحمت کر ہے ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ۔ ہزراوں سال سے غلامی میں پسنے کی وجہ سے مجبور و معذور ہےاور ہماری ذہنی بلوغت ہی  نہیں ہوسکی۔ 

ہمارے معاشرے میں۔
ہماری انفرادی معاشی خود مختاری ۔ روٹی روزی۔ بنیادی ضروریات اور گھر جیسے تحفظ کا تصور ہی اپنے صحیح معنوں میں فروغ نہیں پا سکا ۔ کیونکہ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو یہ چیزیں مکمل آزادی اور عزت نفس کو پامال کئیے بغیر نصیب ہی نہیں ہوئیں ۔ تو شخصی آزادی یا اجتماعی سوچ بھلا کیونکر فروغ پاتیں؟
آج بھی پاکستان کی  بڑی اکثریت کے لئیے۔ پٹواری۔ نیم خواندہ تھانیدار اور گھٹیا اخلاق و تربیت کے اہلکار۔ حکومت اور عام آدمی کے درمیان تعلق کا پُل ہیں۔اور ان سے آگے عام آدمی کی سوچ مفروضوں پہ قائم  اپنے ملک و قوم کا تصور رکھتی ہے۔ اگر تو کوئی تصور رکھتی ہے؟۔
اور یہ سلسلہ برصغیر کے عوام کے ساتھ ہزاروں سالوں سے روا ہے ۔ اس لئیے عام آدمی کے نزدیک ۔ آزادی۔ عزت نفس۔ اور جائز حقوق کی بازیابی کا کوئی تصور ہی نہیں  نپ سکا۔
اس لئیے وہ معاشرے میں ہر عمل اور اس کے رد عمل کے لئیے بااثر طبقے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اور اس بااثر طبقے کے عمل۔ بیانات اور منشاء کو ہی مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے وجود میں آتے ہیں اور اس سے آگے قومی شعور نہیں بڑھ پاتا۔
ان وجوہات کی بناء پہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی طبقے کبھی کا کوئی رول نہیں رہا۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اکثریت کسی انقلاب یا تبدیلی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں اور انیس سو سینتالیس سے آزاد ہیں۔لیکن دل پہ ہاتھ رکھ دیانتداری سے بتائیں کیا آزاد قوم اور مسلمان یوں ہوتے ہیں؟
اس کی یہ وجہ بھی وہی ہے کہ اسلام روزمرہ کی معاملگی حیثیت سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہی نہیں بن سکا ۔ اس لئیے ہماری اخلاقی حدود و قیود عام طور پہ اسلامی اخلاق سے باہر ہوتی ہیں۔
جب عوام کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے ۔ سرداروں۔ پیروں۔ دینی رہنماؤں ۔ علماء اکرام۔ سرکاری افسروں۔ سیاسی رہنماؤں ۔ حکومت اور حکمرانوں۔ فوج اور جرنیلوں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پھر جس کی کوئی ادا ۔ کوئی بات دل کو بھا جائے اسے اپنا اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔
ہمارا اجتماعی شعور کبھی تھا ہی نہیں۔ اور ہمارے نصب العین ہمیشہ بااثر طبقے نے طے کئیے۔
ہماری اشرافیہ۔ ہمارا بااثر طبقہ انتہائی بے ضمیر۔ دہوکے باز۔ کم ظرف۔ سطحی شخصیت کا مالک اور اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کے لئیے کسی بھی حد تک جانے کے لئیے تیار رہتا ہے۔
اور مرے پہ سو درے ۔ اس سارے تماشے سے کچھ قوم فروش اور ابن الوقت لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی جھجھک کے اپنی ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کو نہائت بالا نرخوں پہ فروخت کیا۔ جسے حرف عام میں پاکستان کا "میڈیا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ تنزل ہماری اشرافیہ پہ طاری ہے اور عام عوام وہیں سے تحریک پاتے ہیں ۔ چند اشتنساء چھوڑ کر۔ جسے فوری طور پہ پھیلانے کا اہتمام قوم فروش میڈیا اور اسکے مالکان کرتے ہیں۔
اس لئیے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ عام آدمی کیونکر اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئیے بجائے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے ۔ وہ بجائے خود اسی تنزلی میں شامل ہو رہا ہے۔
اور یہ وہ وجہ ہے کہ عام عوام میں۔ معاشرے میں۔ ہر طرف لاقانونیت۔ بد عنوانی۔ بے ایمانی۔ بد دیانتی۔ بد نظمی اور افراتفری نظر آتی ہے۔

اس لئیے پاکستان کے ان موجودہ حالات میں

 عام آدمی میں اجتماعی شعور کی تربیت کرنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک اشرافیہ۔ یعنی بااثر طبقہ۔ دینی و سیاسی رہنماء۔ جرنیل اور حکمران ۔ اور پاکستان کے وسائل پہ قابض مافیا۔اپنے انداز نہیں بدلتی۔اور بد قسمتی سے تب تک پاکستان کے عوام کا مجموعی رویہ بدلنا اور اجتماعی شعور کا فروغ پانا۔ بغیر کسی معجزے کے ممکن نظر نہیں آتا۔ اور دائرے کا معکوس سفر جاری رہے گا۔
اگر عام عوام کو اس بات کا ادراک دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک باعزت قوم ہیں اور انھیں ایک اجتماعی شعور بخشنا ہے۔ تانکہ وہ ایک قومی اخلاق اپنا کر اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ صرف حکومتی اداروں کے عام اہلکاروں اور عہدیداروں سے نااہلی ۔ بدنیتی اور بد عنوانی کا حساب نہ لیا جائے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے کیونکہ عام اہلکاروں کو معطل کرنے یا چند ایک لوگوں کو ان کے عہدوں سے برخاست کر دینے سے۔ پاکستان کی بد عنوانی پہ قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ ایسا کرنا تو دراصل دنیا کی بدترین۔ ایک نمبر کی بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسلئیے یہ از بس ضروری ہے کہ پاکستان میں بد نیتی۔ بدیانتی اور بد عنوانی ختم کرنے کی کوشش کے لئیے لا محالہ طور پہ اس کا آغاز بالادست طبقے اور پاکستان کے وسائل پہ قابض کم ظرف اشرافیہ سے نہ کیا گیا تو ایسی ہر مہم ناکام ہو جائے گی۔ اور اجتماعی قومی شعور۔ ایک باوقار با اختیار قوم۔ اور ایک آزاد پاکستان کا تصور صرف چند ہزار لوگوں کو ناجائز تحفظ دینے کی وجہ سے محض ایک خیال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے وسائل پہ قابض چند ہزار نفوس کی کم ظرف اشرافیہ۔ یا۔ بنیادی اور ضروری سہولتوں کے مالک کروڑوں باشعور عوام کا ایک بااختیار اور آزاد پاکستان؟ جب تک یہ طے نہیں ہوتا۔ تب تک ہم ایک معکوس دائرے میں سفر کرتے رہیں گے اور بدیانت غفلت کا شکار رہیں گے۔

جاوید گوندل۔ بارسیلونا

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ڈاکٹر محترم جواد احمد خان صاحب!


ہمارے نہائت عزیز اور محترم! ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب۔ جن سے ہمیں قلبی تعلق ہے۔ اور انھیں میری گزشتہ تحریر سے رنجش پہنچی۔ واللہ جو ہمارا ارادہ قطعی طور پہ نہیں تھا۔ میں ایسا ہر گز نہیں چاہوں گا۔ کیونکہ ان سے یہ قلبی تعلق ہمیں بہر حال بہت عزیز ہے۔ مندرجہ ذیل تحریر انھیں مخاطب کر کے لکھی گئی ہے۔ مگر اس سے ہر اس فرد کو مخاطب سمجھا جائے۔ جس کو گزشتہ تحریر کے مآخذ اور وجوہات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے۔ کوئی شکوہ یا شکایت پیدا ہوئی ہو۔ امید کرتا ہوں ۔اب کسی کو یہ شکایت نہیں ہونی چاہئیے۔

محترم جواد بھائی!

واللہ میرا ارادہ آپ کا یا کسی اور کا دل دکھانا ہر گز مقصود نہیں تھا۔ ذوالفقار مرزا کا مذکورہ بیان جس کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں۔ اور میری رائے میں ہر عقل سلیم رکھنے والے پاکستانی کو ذوالفقار مرزا کے بیان اور اسکے الفاظ سے گھن آئی ہے۔ اور افسوس ہوا ہے۔

مگر اس ردعمل میں۔ جو بے گناہ اور راہ چلتے لوگ مارے گئے۔ ان کا المیہ کسی نے نہیں لکھا۔ کسی نے بیان نہیں کیا ۔ اور فرحان دانش صاحب نے اپنے بلاگ پہ منیر احمد بلوچ کا ایک ایسا کالم تو ضرور چسپاں کیا ہے۔ جس میں ڈرامائی طور پہ ایک مقدمے کی ادہوری روداد کا بیان ہے ۔ جبکہ اس مقدمے کے فیصلے کے بارے میں جان بوجھ کر نہیں لکھا گیا۔ اگر تب چند افراد کو تن بدن چھپانے کے لئیے۔ اسطرح کی افسوسناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جو پاکستان کے نئے نئے بننے کے بعد پیش آئی۔ تو اسے جواز بنا کر یکطرفہ طور پہ اپنے آپ کو مظلوم اور انصارِ مدینہ جیسے ایثار کی کوشش کرنے والے سبھی پاکستانیوں کو جو آج اس دنیا میں نہیں، جن کے علاقے پاکستان میں ہونے کی وجہ سے انھیں ہجرت نہیں کرنی پڑی تھی۔ ان کو ظالم کے روپ میں پیش کرنے کا تاثر ابھرتا ہے۔ جیسے مذکورہ میاں بیوی کی جسم کے کپڑوں کے پھٹے کپڑوں کے ذمہ دار وہ لوگ تھے۔ جنہوں نے انصار مدینہ کی روشن مثال کی پیروی کی۔ کیونکہ اگر یہ تاثر دینا مقصود نہ ہوتا تو۔ اس ڈرامائی کالم میں۔ ایسے کسی مقدمے کی ادہوری روداد لکھنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ایسے ڈرامائی انداز میں واقعات کو درست طریقے سے بیان نہ کرنے کو غلو سے کام لینا کہا جاتا ہے۔ عام فہم سے مسائل کو جو اسطرح کی ناگہانی مصائب میں پاکستان جیسے ممالک میں اکثر پیش آتے ہیں ۔ جس کی ایک مثال ہے کہ پچھلے سال پاکستان میں سیلاب میں وسیع پیمانے پہ ہونے والی تباہی سے سیلاب متاثرین اور انکی مستورات نے مہینوں ایک ایک ہی کپڑوں کے گندے جوڑے میں گزارہ کیا۔ جو سیلاب کے وقت اچانک اپنا گھر بار چھوڑتے ہوئے انکے تن بدن پہ تھا۔ کہ مرد کہیں اور تھے۔ اور سیلاب نے سوائے بچوں کے کچھ اٹھانے کا موقع نہ دیا۔ اور اسطرح کے کئی واقعے اور داستانیں نہائت خوشحال خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آئیں کہ جن کی مستورات کا منہ زندگی میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئیے ایک ایک روٹی کے لئیے قطاروں میں چھینا چھپٹی کے دوران مجبوری سے بھاگتی پھریں ۔ لیکن اگر اس ناگہانی آفت سے پیدا ہونے والے وقتی مسائل کو جواز بنا کر۔ ان علاقوں کے رہنے والوں کے ساتھ بغض پال لیا جائے۔ جن میں سیلاب نہیں آیا تھا۔ تو یہ بھی مناسب نہیں اور قرین انصاف نہ ہوگا۔ خواہ مخواہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے۔ دلوں میں مذید نفرتیں جنم لیتیں ہیں۔ جبکہ اُس دور میں پاکستان کی حکومت جو مہاجرین کو بحال کرنے اور بسانے کی ذمہ دار تھی۔ وہ اور اسکے تقریبا سبھی اعلٰی عہدیدار بجائے خود مہاجرین تھے۔ آخر وہ کیوں چاہتے کہ کسی مہاجر میاں بیوی کے ساتھ یوں ہو؟ اور انہوں نے اور انصار پاکستان نے مل جل کر۔ اتنے بڑے اور تاریخی ہجرت سے پیدا ہونے والے مسائل پہ قابو پا بھی لیا تھا ۔ اگر پھر بھی کسی کوتاہی پہ کسی کو ذمہ دار ٹہرایا جائے کہ مذکورہ میاں بیوی تنِ برہنہ کو تنبو یا خیمے کے کپڑے کو استعمال کرنے پہ مجبور ہونے۔ تو اس وقت کی حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ نہ کہ ڈرامائی قسم کے کالموں سے اور قندَ مکرر کے طور پہ اسے ایک بلاگ کی زینت بنا کر ایسے حالات سے گزرنے کی ذمہ داری عام مقامی لوگوں پہ ڈال دی جائے۔ جس سے نفرتوں کے اس دور میں۔ بے گناہ لوگوں کی جان کو نشانہ بنانے کا جواز مزید پختہ ہو۔ کیونکہ جو اس سے قبل جو بے گناہ مارے گئے۔ کیا وہ کافی نہیں تھے کہ اسطرح کے کالم لکھنے کی اور اسے بلاگ پہ چسپاں کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ اگر ذوالفقار مرزا نے بے ہودہ بیان دیا ہے اور مقامی لوگوں کے جذبات مہاجر برادری کے خلاف بھڑکائے ہیں تو اسطرح کے کالم بھی سستی اور زرد صحافت میں آتے ہیں۔جن سے مہاجر برادری کے دل میں سندھیوں یا دیگر کے خلاف کدورت اور نفرت کے الاؤ کو بھڑکانا بھی کہا جاسکتا ہے۔

محترم جواد بھائی! فرحان دانش صاحب۔ نے منیر احمد بلوچ کے مذکورہ ڈرامائی کالم کو اپنے بلاگ "اٹھو جاگو پاکستان” پہ۔ ہو بہو چسپاں کرتے ہوئے۔ اس تاثر کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ کہ ہاں ہم مظلوم اور پاکستان کے انصار ظالم تھے۔ اور آج ساٹھ سالوں بعد بھی ظالم ہیں۔ جبکہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ذرا تصور کریں۔ پچھلے سال کے سیلاب متاثرین سال در سال چلتے۔ اور انکی اولادیں اور پھر انکی اولادیں۔ ساٹھ پینسٹھ سالوں بعد بھی۔ اسی بات کو جواز بنا کر کہ انکے آباء سیلاب کی وجہ سے مختلف مصائب کا شکار ہوئے۔ جبکہ جہاں سیلاب نے تباہی نہیں مچائی تھی وہاں کے رہنے والوں کی۔ کسی بھی بلکہ ہر خدمت اور ایثار سے انکار کرتے ہوئے۔ کسی خاتون کے تن پہ ایک ڈیڑھ ماہ تک ایک ہی جوڑے میں گزارا کرنے۔ کو جواز بنا کر کمر ٹھونک کر۔ جہاں سیلاب نہیں آیا تھا۔ انھی سبھی علاقوں کے مکینوں کے خلاف ایک محاذ بنا کر۔ انکے ہر ایثار اور خدمت پہ انگلی پھیر دیں۔
تو ایسا کرنے سے کیا دلوں کو جوڑنے اور آپس میں محبت میں اضافہ ہوگا؟ نہیں قطعی طور پہ یقینا ایسا نہیں ہوگا بلکہ کراچی کے سلگتے موجودہ حالات میں ایسے کالموں سے نفرتیں مزید پختہ ہونگی۔ اور بے گناہ ایسی نفرتوں کا حساب چکائیں گے۔ بے گناہ اور عام عوام جن کی زبان کوئی بھی ہو اور جلد کی رنگت کیسی بھی ہو مگر خون کا رنگ ایک ہی ہوگا۔ آگ جب بھڑکتی ہے تو اپنے پرائے کی تمیز نہیں کرتی۔

محترم جواد بھائی! بات یہاں تک بھی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی ۔ مگر ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد جو بے گناہ لوگ ایک رات میں بھون دئیے گئے ۔ کیا انکی جانیں اسقدر ارزاں تھیں انکی زندگی اسقدر بے اہمیت تھی کہ انھیں محض مرزا کے بیان کی قمیت چکانے کے لئیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؟ اور لوگ بھی ایسے بے گناہ لوگ جنہیں گولی آرپار ہوتے ہوئے۔ موت کے پنجے کی گرفت میں جاتے ہوئے موت کی وجہ معلوم نہ ہوئی۔ تقریبا ساری دنیا میں سزائے موت کے مجرموں کو کم از کم انھیں انکی موت کی سزا کی وجہ ضرور بیان کر دی جاتی ہے۔ جبکہ ایک لیڈر کے بیان پہ دوسرے لیڈر کی عظمت ثابت کرنے کے لئیے بھینٹ چڑھائے جانے والے بے گناہ ، غریب اور بے بس لوگ تھے۔ اگر اسے ایک عام بات سمجھ لیا جائے کہ ایک سیاسی لیڈر کے بیان پہ دوسرے سیاسی لیڈر کی شان ثابت کرنے کے لئیے کسی بھی راہ چلتے کو بھینٹ چڑھایا جاسکتا ہے تو پھر وہ ہمارے بلند بانگ آدرش کیا ہوئے؟ جس میں ہم اللہ اور اسکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے دیتے ہیں کہ "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے”؟ کیونکہ اسلام کے نزدیک اور دنیا کے تقریبا سبھی قوانین میں سبھی انسان برابر ہوتے ہیں۔

محترم جواد بھائی! فرحان دانش صاحب کا بلاگ اور منیر احمد بلوچ کے کالم جن کا لنک بھی اصل تحریر میں موجود ہے ۔ جن میں نہ فرحان دانش صاحب نے اور نہ ہی ڈارامائی کالم نگار منیر احمد بلوچ نے ایسے بے گناہوں اور راہ چلتے غریب لوگوں کے بارے جو کہ اصل واقعہ ہیں۔ جو اصل المیہ ہیں ۔ جن کی جانیں گئیں۔ وہ دوبارہ کیسے واپس آئیں گی ، جن کے سروں کا سایہ کھو گیا۔ وہ کیسے اپنا راستہ تلاش کریں گے؟ انکے بارے میں کسی نے دو الفاظ تک لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ کسی کو تو انکا دردر، انکا المیہ بیان کرنا چاہئیے۔ جبکہ آخری اطلاعات کے مطابق لیڈران ایک بار پھر اپنی اپنی پارٹیوں سمیت پھر سے شیرو شکر ہو رہے ہیں۔ جبکہ ہم بہ حیثیت ایک قوم، اخلاقی طور پہ اس حد تک گر چکے ہیں۔ کہ بے گناہ انسانی جانوں کے اسقدر ضیاع کو۔ اگر ایک حادثہ ہی سمجھ لیا جائے تو بھی۔ اس حادثے پہ کسی لکھنے والے کی آنکھ سے یا کسی سیاستدان کی آنکھ میں سے ایک آنسو نہیں گرا۔ کسی کے سینے سے رکی ہوئی ایک آہ نہیں نکلی۔ تو کیا ہمیں سبھی کو اس پہ چپ رہنا چاہئیے؟ اور صرف اور صرف اپنے اپنے گروپ اور گروہ بندیوں کے گیت اور المیے رقم کرنے چاہئیں؟

محترم جواد بھائی! امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے پرائے سبھی دکھوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں گے ۔ اور مضمون مذکورہ کو ایک بار پھر سے پڑھیں گے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: