RSS

Tag Archives: بلاگ

نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔



نظریہ پاکستان اور بے تُکی تنقید کا فیشن ۔

سماجی شناخت اور فکری قحط سالی کے عنوان سے شاکر عزیز اپنے بلاگ پہ رائے دیتے ہوئے گویا ہیں ۔ ۔”مزے کی بات یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے مطابق برصغیر کو جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اگر ہوتا تو سارے مسلمان ایک طرف، ہندو ایک طرف، سکھ ایک طرف، عیسائی ایک طرف، پارسی ایک طرف ہوتے۔ لیکن ہوا کیا؟ جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں۔ویسے تو کانگریسی مسلمان رہنماؤں کا ایک آرگیومنٹ ہے لیکن یہاں فٹ بیٹھ رہا تھا۔“۔Muhammad Shakir Aziz at May 1, 2013 at 11:43 PM

دنیا میں میں جب بھی دو یا دو سے ذیادہ قومیں الگ ہوئیں اور انہوں نے الگ ملک قائم کئیے تو نئے ”حقائق “ وجود میں آئے۔ جنہوں نے نئی ریاست یا ریاستوں کی حد بندی کی وجہ سے وجود پایا۔ بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بارے آپ فرما رہے ہیں کہ بر صغیر کی تقسیم جغرافیہ کی بنیاد پہ ہوئی اور آپ نے اپنی اس دلیل کا کوئی ثبوت مہیاء نہیں کیا۔ اگر واقعتا یوں ہوتا تو بر صغیر کی تقسیم کے لئیے ۔ صوبوں کے حدودر اربعے کے مطابق ۔پنجاب میں ہندؤ مسلم اور سکھ کی تمیز کئیے بغیر صرف پنجابی ہوتے اور کوئی دوسری قومیت نہ ہوتی ۔ اور اسی طرح سندھ میں سندھی ہوتے خواہ وہ کسی بھی مذھب کے ہوتے ۔ اتر پردیش میں مذہبی تخصیص کے بغیر یو پی والے اور بہار میں بہاری اور بنگالے میں ہندؤ مسلم اور دیگر مزاہب کے بنگالی ہوتے۔ یا پھر برصغیر میں واقع مختلف وادیوں پہ تقسیم ہوتی تو اسے جغرافیائی تقسیم کہا جاتا ۔ جبکہ ہندؤستان کی تقسیم ہر کلیے اور قانون کے تحت ہندؤستان کے بڑے مذاہب کی الگ۔ الگ شناخت اور اکھٹے مل کر نہ رہ سکنے کی کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ اس وقت کی انگریزی سرکار ۔ ہندؤ ۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے تسلیم شدہ نمائیندؤں کے باہم سالوں پہ مبنی گفت و شنید اور نئی اور آزاد ریاستوں کے وجود کے لئیے ممکنہ لوازم اور ضوابط پورا کرنے کے بعد برصغیر پاک ہند کو صرف اور صرف دو مذاہب کے ماننے والوں کو دو قومیں (دو قومی نظریہ) کے وجود کے تحت جہاں اور جس علاقے میں جس قوم کی اکثریت تھی انھیں وہ علاقے دو نئی ریاستوں ۔ پاکستان اور بھارت کا نام دے کر دو نئے ملک دنیا کے نقشے میں وجود میں لائے گئے۔ دونوں ملک بن گئے ۔ ( قطع نظر اس بات کے کہ ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن اور آخری انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ہندؤں سے ملی بھگت کر کے سرحدوں کے تعین میں ڈنڈی ماری اور کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا ا مگر اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں) سر حدوں کا اعلان ہوگیا۔ ہر دو طرف کے شہریوں کو پتہ چل گیا کہ انکے علاقے کون سے ملک میں شامل ہورہے ہیں۔ انھیں اپنے اپنے ملک کی طرف ہجرت کرنا پڑی ۔ جو زبان ۔ صوبے ثقافت۔ یا قبیلے (قبیلے کی بنیاد اسلئیے بھی لکھ رہا ہوں کہ ایک ہی وقت میں پنجاب میں کئی قبیلے مسلمان ۔ سکھ اور ہندؤ مذہب میں بٹے ہوئے تھے۔ اور سندھ میں بھی کئی قبائل کے مختلف مذاہب تھے ) کی بنیاد کی بجائے مذہب یعنی دو قومی نظریہ کی بنیاد پہ وجود میں آئے  ۔ اور ہندؤستان کے مسلمان باسی اپنے مذہب ۔ ہندؤں سے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ اپنے ملک پاکستان کو چل پڑے ۔ یہ باتیں تو تاریخی طور پہ طے ہیں اور واقعتا ہیں ۔ اور واقعہ کو جھٹلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اسلئیے ہندؤستان میں ہنود اور مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی بنیاد پہ یہ طے ہوا کہ ہندؤستان میں دو بڑی قومیں ہندؤ اور مسلمان بستی ہیں ۔ اور یوں دوقومی نظریہ کی بنیاد پہ نظریہ پاکستان وجود میں آیا جو بالآ خر الحمد اللہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا سبب بنا ۔
سر راہ یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ہندؤستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز میں اس بارے انتہائی مخلصانہ کوششیں کیں کہ ہندؤؤں کی نمائندہ جماعت کانگریس کے رہنماؤ ں سےمفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ مگر ہندؤ قوم کے رہنماء کسی صورت میں مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ ہندؤ رہنماؤں کی مغرور ۔ متکبرانہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی مفاہمت نہ ہوسکی ۔ مسلمان اکابرین اور رہنماؤں نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ متحدہ ہندؤستان میں مسلمان ہندؤں کے مقابلے پہ ایک انتہائی اقلیت ہونے  اور ہندؤں کے بغض اور کینہ پروری کی وجہ سے مسلمان تیسرے درجے کے شہری اور محض ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔اور ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کو بہ حیثیت مسلمان اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھنا نا ممکن ہوجائے گا ۔ اور ہندؤوں کی بے جا ضد ۔ مسلمانوں کے لئیے عدم احترام ۔مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ۔ اور متکبرانہ رویے کی وجہ سے پاکستان ۔ پاکستانی قوم وجود میں آئی ۔ جب اس بات کا احساس ہندؤ نیتاؤں کو ہوا کہ مسلمان تو ہم کو سیاست میں مات دے گئے ہیں۔ اسوقت تک برصغیر کے مسلمان۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کی صورت میں انکے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اور بھارتی برہمن حکومتیں تب سے ۔اب تک یہ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طور پاکستان کو ایک دفعہ زیر کر لیں اور انھیں غلام کی حثیت دیں ۔ ہندؤستان پہ  ایک ہزار سال کے لگ بھگ مذہب و ملت کی تفریق کیئے بغیر سب کے لئیے یکساں  مسلمانوں کی حکومت کا بدلہ مسلمانوں کو غلامی کی زنجریں پہنا کر چکائیں۔ بھارت ہمارا حریف اور روائتی دشمن ہے ۔ بھارت کی حد تک تو یہ سمجھنے کوشش کی جاسکتی ہے کہ بھارت اپنے مکرو فریب سے دو قومی نظریہ باالفاظِ دیگر نظریہ پاکستان (جو پاکستانی قوم اور ریاست کی اساس ہے) کے بارے شکوک اور شبہے پھیلانا بھارت اپنا فرض سمجھتا ہے اور ہندؤ رہنماء اور بھارت اپنی روائتی دشمنی نباہتے ہوئے تقریبا پچھلی پون صدی سے نظریہ پاکستان ۔ پاکستانی قوم۔ریاست پاکستان کی مخالفت میں سر توڑ بازی لگارہے ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف پروپگنڈاہ مہم کی شدت  میں اضافہ کرتے جارہے ہیں ۔ مگر جو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستانی قوم کے کچھ لوگ دیدہ دانستہ یا نادانستگی میں تاریخ کا بازو مروڑ کر پاکستانی قوم اور ریاست پاکستان کی عمارت کی بنیاد نظریہ پاکستان کو دن رات نہ جانے کس خوشی میں کھود رہے ہیں؟ اور محض اس وجہ سے پاکستان اور نظریہ پاکستان سے بیزار ہورہے ہیں۔ کہ انھیں نظریہ پاکستان معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا رہا ہے ۔ انھیں نظریہ پاکستان کو رٹا لگا کر اس مضمون کو پاس کرنا پڑتا رہا ہے۔ اور وہ برے دن ان کو ابھی تک یاد ہیں ۔جبکہ یہ نظریہ۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے ۔ اور تقریبا دنیا بھر کے ممالک میں آئین سے انحراف پہ سخت ترین سزائیں دی جاتیں ہیں۔  جبکہ پاکستان میں آئین اور آئینی بنیادوں کو مذاق بناتے ہوئے یہ فیشن سا بنتا جارہا ہے ۔ کہ جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنے ملک اور قوم کے بارے مکمل معلومات حاصل کئیے بغیر محض کچھ نیا کرنے کے لئیے ۔ کچھ جدت پیدا کرنے کے لئیے ۔ پاکستان کی نظریاتی اساسوں پہ بر خلاف تاریخ اور آئین۔ تابڑ توڑ حملے کرنا فرض سمجھتا ہے ۔ کہ پاکستان انکا ملک نہ ہوا۔ غریب کی جورو ٹہری ۔ جس بے چاری سے۔ جس کا دل چاہے۔ دل لگی کرتا پھرے ۔ کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ۔کوئی  روکنے والا نہیں ۔ اس طرح جس کا دل کرتا ہے ۔ روز ایک نیا ”کٹا“ ( بھینس کا بچھڑا جو کھل جائے تو اسے دوبارہ باندھنے میں دقت ہوتی ہے)کھول دیتا ہے کہ ملک قوم سے دلچسپی رکھنے والے ۔ اپنے ملک کی عزت کو مقدم جاننے والے ایسے ”کٹوں“ کو باندھنے میں جی ہلکان کرتے پھریں۔ لہٰذاہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہانکنے کا ارادہ کرنے سے پہلے۔دو قومی نظریہ ، نظریہ پاکستان اور اپنی تاریخ کا بغور مطالعہ کر لینا چاہئیے کہ نظریہ پاکستان سے لاکھ چڑ اور بغض رکھنے کے باوجود امرواقع قسم کی چیزیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ اور نظریہ پاکستان خواہ کسی کو کتنا ہی برا لگے مگر یہ ایک امر واقعہ ہے ۔ اور تاریخ اس  امر واقعہ کی شاہد ہے۔
آپ مزید ارشاد فرما ہیں ”جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کر کے پیچھے بچے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ایک "کافر” ملک میں“۔
اسپین میں انیس سو چھتیس 1936ء سے لیکر انیس سو انتالیس 1939 ء تک دنیا کی بدترین خانہ جنگیوں میں سے ایک بد ترین خانہ جنگی ہوئی۔ ۔ خانہ جنگی سے قبل بھی بڑا عرصہ حالات خراب رہے ۔ اس خانہ جنگی کے فورا بعد جنگ عظیم ہوئی۔ اسپین میں کئی دہائیوں تک مخالفین کو چن چن کر سزائے موت دی گئی ۔ فائرنگ اسکواڈ کے سامنے سے گذارا گیا ۔ خانہ جنگی اور دوسری جنگ عظیم ۔ کے دوران اور بعد میں صدیوں سے اسپین میں بسنے والے شہری ۔ محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے اسپین چھوڑ کر درجنوں لاکھوں کی تعداد میں جان کے خوف سے سمندر پار جنوبی اور سنٹرل امریکہ ۔ روس۔ اور یوروپ کے دیگر ممالک میں جا بسے ۔ جن میں سے اکثریت وہیں آباد ہوگئی اور لوٹ کر واپس نہ آئی۔ اکثر وہیں مر گئے ۔ سبھی ممالک میں اسپین کے سفارتخانوں میں ایسے درجنوں لاکھوں شہریوں کا داخلہ ۔ انکا اندراج ۔ پاسپورٹس بنانا۔ وغیرہ ممنوع قرار پایا۔ ان شہریوں کے بچے جو تب چھوٹے تھے ۔ جوان ہوئے اور انہی ممالک کی بود وباش اپنا کر واپس نہ لوٹے۔ اور انکا اندراج اور اسپین سے باہر ان ممالک میں ۔جہاں انکی اولادیں پیدا ہوئیں ۔وہاں انکی پیدائش کا اندراج اسپین کے سفارتخانوں میں نہ کیا گیا۔اسپین کا شمار یوروپ کے بڑے اور اہم ممالک میں کیا جاتا ہے۔ کئی ہزار سال پہ مشتمل تاریخ کی حامل قوم ہے ۔ تقریبا ہزار سال کے لگ بھگ  کےمسلم دور کو یہ مسلم ہسپانیہ کے دور کے نام سے یاد کرتے اور پکارتے ہیں۔ اور اپنی تاریخ کا مسلم دور سے بھی ہزاروں سال قبل سے آغاز کرتے ہیں۔ یعنی اسقدر قدیم قوم ہے ۔اور تمام قدیم قوموں کی طرح ۔ ہر قسم کا سانحہ برادشت کرنے کی قوت اور برداشت رکھتی ہے  اور یہ بھی واضح ہو کہ اسپین کی شہریت یعنی نیشنلٹی ۔ بائی بلڈ ۔ بائی برتھ ۔ ہے۔ ہسپانوی والدین کی اولاد جہاں بھی پیدا ہو۔ انھیں ہسپانوی گنا جائے گا۔ ایک وقت آیا کہ اسپین میں جنگ جیتنے اور تقریبا چالیس سال کے لگ بھگ حکومت کرنے والا آمر جرنل فرانکو طبعی موت مر گیا۔ اسپین میں جمہوریت اور باشاہت بحال ہوئی ۔ بائیں بازو کی وہ جماعتیں اور سوشلسٹ اور کیمو نسٹ رہنماء جو تب خانہ جنگی میں جنگ ہار گئے تھے اور دوسرے ملکوں میں جا کر پناہ لے چکے تھے ۔ان سب کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت معاف کرتے ہوئے ۔ قومی دھارے میں شامل ہونے کے لئیے ان سے واپس آنے کی اپیل کی گئی ۔ اور سابقہ کھاتے بند کرتے ہوئے ایک نئے اسپین کا آغاز ہوا۔سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور بہت کم لوگ ۔ چیدہ چیدہ شہری واپس آئے۔ اسپین میں عام انتخابات ہوئے ۔ بائیں بازو کی جماعتیں جیت گئیں اور مسلسل کئی بار انتخابات جیتیں۔ نیا آئین بنا ۔ حقوق بحال کئیے گئے ۔ اسپین ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے لگا ۔ یوروپی یونین کا رُکن بننے کے بعد ترقی کی رفتار اور بڑھ گئی۔ اس دوران جنوبی امریکہ کے حالات سازگار نہ رہے اور وہاں سے پرانے زندہ یا مر جانے والے ہسپانوی تارکین وطن ۔ سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی نسلوں نے اسپین واپس آنا چاہا ۔ مگر تب اس بارے قانون سازی کرتے ایک وقت لگا اور قانون سازی کرنے والی بھی بائیں بازو کی جماعتیں تھیں ۔ جن کے  حامی بے وطن ہوئے تھے۔ اور چاہتے تھے کہ فرانکو اور اسکی حکومت کے ظلم و ستم کے ستائے ان تارکین وطنوں کو  اتنی لمبی سزا سے نجات ملے۔لیکن اسپین نے اپنے پرانے  جلاوطن ، تارکین وطن اور انکی اولادوں کے کے لئیے سرحدیں عام نہیں کیں اور اس دور کے کئی ایک سیاسی رہنماء جو آمر جنرل فرانکو کی طبعی موت کے بعد واپس آئے اور انہوں نے انتخابات جیتے ۔انہوں نے ہسپانوی ریاست کے بے وطن لوگوں کے لئیے جو قانون بنایا ۔وہ یوں تھا کہ اس دور کے ہسپانوی شہریت رکھنے والے کے پوتے یا نواسے تک کی نسل اگر یہ ثابت کر دے کہ انکا باپ یا دادا ۔یا۔ نانا ہسپانوی تھا ۔ تو انھیں تمام قواعد ضوابط کے پورے کرنے کے بعد ہسپانوی شہریت دی جائے گی۔ اور پڑپوتے ۔ پڑپوتییوں سمیت اگلی نسلوں کو ہسپانوی شہریت  نہیں دی جائے گی۔ یعنی  کہ بہت سے لوگوں کے نہ صرف  پوتے اور نواسے  جوان ہوچکے تھے۔ بلکہ پڑپوتیاں اور پرپوتے بھی جوان تھے مگر ہسپانوی شہریت سے محروم تصور کئیے گئے ۔ اور یہ محض چند ہزار لوگ ہونگے ۔جو اسپین کی شہریت حاصل کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔یوروپ میں تعلیم ۔۔ کاروبار ۔ روزگار یا بودو باش رکھنا چاہتے تھے۔
اسپین یوروپی یونین کا رکن ہے اور انسانی حقوق کے سبھی قوانین کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس بھی لیتا ہے ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض چند ہزار اپنے ہی تارکین وطن شہریوں کی نسل کو ایک ہی وقت میں ہسپانوی شہریت دینے میں کیا امر مانع تھا؟ ۔ ذمہ داران نے افراد کے مفاد پہ ریاست کے مفادات کو ترجیج دی ۔حالانکہ قانون سازی کرنے والے خود بھی کئی دہائیاں در بدر ٹھوکریں کھاتے رھے اور انہی کی طرح کے سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کی اولاد کی شہریت کا معاملہ تھا۔
اس مثال سے محض یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی ریاست جو ترقی یافتہ ہے ۔ اور ہر قسم کے مسائل کے لئیے وافر وسائل کی مالک قوم ہے ۔ وہ بھی اسقدر احتیاط سے کام لیتی ہے کہ مبادا ریاست کے معاملات خراب نہ ہو جائیں ۔ اور آمرانہ حکومت کے جبر سے مجبور ہو کر جلاوطن ہونے والے اپنے شہریوں کی  نسل پہ  اسپین کی عام سرحدیں نہیں کھولتی۔  اب جبکہ اپ پاکستان کے بننے کے اتنے سالوں بعد۔ کروڑوں افراد کے لئیے  یہ مطالبہ پاکستان سے کر رہے ہیں۔ جبکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف یہ مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا ؟۔ افراد پہ قوموں اور ریاستوں کے مفادات کی ترجیج مقدم سمجھی جاتی ہے ۔ جبکہ اسکے باوجود جب پاکستان بنا اسکی سرحدیں طے ہوئیں تو ہندؤستان سے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آئے اور اور درجنوں لاکھوں متواتر اگلے کئی سال تک پاکستان پہنچتے رہے ۔ اور پاکستانی شہریت حاصل کرتے رہے ۔ اور پاکستان نےسالوں اپنے دل اور دروازے مسلمانوں کے لئیے کھلے رکھے۔ اگر تب ان سالوں میں ہندؤستان کے سبھی مسلمان پاکستان ہجرت کر آتے تو انھیں کسی نے منع نہیں کرنا تھا ۔ وہ ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے آج پاکستان کے شہری ہوتے ۔ اور انکی نسلیں بھی یہاں آباد ہوتیں ۔ ممکن ہے اس دور میں پاکستان کے پہلے سے خستہ حالت مسائل میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ مگر آہستہ آہستہ ترقی کی نئی راہیں کھل جاتیں ۔ جب پاکستان بنا تو تاریخ گواہ ہے ۔ کہ نسل انسانی میں اتنی بڑی ہجرت ۔ اتنی تعداد میں ہجرت ۔۔ اور اسقدر نامساعد حالات میں ہجرت ۔اس سے پہلے دو ملکوں کی تقسیم پہ کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسلئیے اس آسانی سے کہہ دینا کہ پاکستان میں بسنے والے پاکستانی بھارتی مسلمانوں کو بے یارو مدگار چھوڑ آئے ۔ یہ درست نہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے ۔ اوپر اسپین کی مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ اگر پاکستان کے مقابلے میں ایک پر امن ۔ ترقی یافتہ اور ہزاروں سال پہ مبنی تاریخی وجود رکھنے والا ملک افراد پہ ریاست اور قوم کے مفادات کو ترجیج دیتا ہے ۔ تو پھر پاکستان کے پاس کون سی معجزاتی طاقت ہے کہ وجود میں آنے کے تقریبا ستاسٹھ سالوں کے بعد آپ کے بقول بے یارو مددگار چھوڑ دیے گئے کروڑوں افراد کو اپنے اندر سمو سکے؟ ۔
آج بھی بھارت کے مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ پاکستانی مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ ہم ذاتی حیثیت میں اس بات کے قائل ہیں کہ اس کے باوجود بھارتی مسلمانوں کو مخصوص حالات میں پاکستانی شہریت کے تمام قواعد ضوابط پورے کرنے والوں کو اگر وہ خواہش کریں تو انہیں شہریت دینے کا کوئی رستہ کھلا رہنا چاہئیے ۔ ممکن ہے چیدہ چیدہ لوگ اگر پاکستان میں آباد ہونا چاہییں تو ایسا کرنا ممکن ہو ۔مگر جب ریاست اور قوم کی سالمیت اور مفادات کی بات ہوگی تو قوم اور ریاست کو اولا ترجیج دی جائے گی ۔ ان حالات میں آپ کا یہ سوال کرنا ہی بہت عجیب سا ہے ۔ کہ وہ لوگ جو ہندوستان میں رہ گئے انکو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ۔ اس سوال میں خلوص کم اور عام پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں پاکستان کے بارے شکوک ابھارنے کی کوشش کا تاثر زیادہ ابھرتا ہے۔
نوٹ :۔ شاکر عزیز صاحب کے بلاگ پہ مختصر سی رائے دینے سے کئی پہلو تشنہ رہ جاتے اسلئیے اس تحریر کو یہاں لکھنا مناسب سمجھا۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔


غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔

نوٹ:۔ اس تحریر کے وجود میں آنے کا فوری سبب محترم اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پہ محترم عبدالرؤف صاحب کی رائے ہے۔

صحت مند مباحث ہی صحت مند معاشروں کی ضامن ہوتی ہے۔ مباحثت ہوتی رہے تو اصل مسائل اور حقائق کا پتہ چلاتے ہوئے مناسب اور جائز حل تجویز کئے جاسکتے ہیں۔ ورنہ دائروں میں بند ہوکر۔ دائروں کے سفر سے۔ قوموں اور افراد کی ذہنی بالیدگی نہ صرف رک جاتی ہے۔ بلکہ وہ خوفناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جوبدقسمتی سے پچھلے پیسنٹھ سالوں سے دائروں میں بند سفر کے نتیجے میں آجکل پاکستان میں ظاہر ہورہی ہے۔ خولوں میں بند ہوجانے سے اور کسی قسم کا اخراج نہ ہونے کی وجہ سے اچانک حادثات اور سماجی دھماکے ہوتے ہیں اور ہم حیران ہو کر پکار اٹھتے ۔”نہیں۔ جناب یہ تو ناممکن ہے ۔ ایسے نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسے ہوا؟خبر کی صداقت میں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے ۔ بھلا کوئی یوں بھی کرسکتا ہے؟۔” جب کہ یوں ہوا ہوتا ہے اور عقل اسے تسلیم کرنے سے عاری ہوتی ہے۔ غصے،لاعلمی ، اندھی جذباتیت، اور ریاستی بے حسی کی سے وجہ لوگ ایک فاترالعقل اور مجنوں شخص کو پولیس کے ہاتھوں سے چھڑوا کر ہزاروں کے مجمع کی شکل میں اسے پکڑ کر  چوک کے بیچ میں زندہ جلا دیتے ہیں۔ اور وہ بھی قرآن کریم ۔ اس کلام پاک کی مبینہ بے حرمتی کو جواز بنا کر جس کے ذریعے دین اسلام پھیلا اور لوگ امن اور رحمت کی پناہ میں آئے۔ اور اس طرح کسی انسان کو زندہ جلا دینا اسلام کی تعلیمات اور عظمت کے نہ صرف منافی ہے ۔بلکہ ایسے کسی فعل کو اسلام نے نہ صرف جرم قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پہ سزا اور حدود مقرر کی ہیں۔ مگر صدمے اور افسوس کی حد ہے کہ ایسے خوفناک اور مکروہ فعل میں حصہ لینے والوں نے اسی قرآن اور دین اسلام کو جواز بنایا۔ جبکہ اسلام انسانوں کو زندہ جلانے جیسی کسی حرکت کی اجازت دینا تو درکنار بلکہ اس پہ سخت حدود مقرر کرتا ہے۔ اور ہماری اخلاقی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں کے مجمع میں سے کسی کو اس ظلم پہ آواز بلند کرنے کی توفیق اور جرائت نہ ہوئی۔ ایسے واقعات میں ریاست بھی برابر کی قصور وار ہے۔ اگرریاست ایسے واقعات پہ از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتوں سے ”حساس“ معاملوں میں مجرم لوگوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کا چلن رکھتی۔ توشاید لوگوں میں حساسیت اور جزباتیت کا یہ عالم نہ ہوتا کہ وہ خود ہی اشتغاثہ، قاضی اور جلاد کے فرائض سرانجام دیتے۔ دائروں میں میں بند ہونے اور نتیجاً انسانی برداشت کے بند ٹوٹنے کی یہ ادنٰی سی مثال ہے اور اجتماعی خود کشی کی ایک علامت ہے ۔ ڈائیلاگ ۔ بات چیت اور کسی لیول پہ بھی کوئی شنوائی نہ ہونے پہ۔ بے بس اور دیوانگی کی حدود کو چھوتے غصے میں لوگ کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔

اسلئیے کم ازکم ایک صحت مند معاشرے کے لئیے ہر لیول پہ صحت مند مباحثت کا ہونا از بس ضروری ہے۔ دہائیوں پہ مشتمل محرومیوں اور بے بس لوگ جب کسی کے ساتھ۔ آپ کے ساتھ۔۔ یا اور کے ساتھ مباحثت یا بات چیت کا آغاز کریں گے۔ تو انکی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ عام طور پہ ہر دو پارٹیاں شروع میں تلخ گوئی سے معاملات شروع کرکے عموما دہیمی اور سلجھی گفتگو پہ اتفاق کرتی ہیں۔ اور مسائل کے حل کے لئیے قابل قبول سمجھوتے پہ اتفاق کر لیتی ہیں۔ اسلئیے آپکی تلخی یا اسی طرح پاکستانی قوم کے حقوق سے محروم کسی دیگر طبقے یا افراد کی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے اور میری رائے میں اس میں تعصب کا پہلو نہیں نکلتا۔
میرے پہلے تبصرے میں فوج یا کسی ریاستی ادارے کی بے جا توصیف تحسین قطعی طور پہ نہیں تھی۔ بلکہ جس تبصرے کے جواب میں، میں نے لکھا تھا ۔ اس تبصرے میں ایک بچگانہ ضد کے طور پہ جان بوجھ کر فوج اور پنجاب کو لازم ملزوم کرنے کی بھونڈی سی کوشش کی گئی ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب بھی پاکستان میں فوج یعنی جنرل ایوب ۔ جنرل یحیٰحی۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے غیرآئینی اور فوجی حکومتیں بنائیں۔ تو ایسی حکومتوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف پنجاب کے عوام نے سب سے زیادہ مزاحمت کی اور قربانیاں دیں۔ اسلئیے اہل پنجاب پہ یہ الزام تھوپنا کہ فوجی جرنیل۔ وطن عزیز کی اصطلاح کو محض پنجاب کے لئیے استعمال کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں انھیں ملک کے دوسرے حصوں کے کوئی غرض نہیں۔ نیز اہل پنجاب کو اسکا ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ تو یہ نہائت بے ہودہ اور دل آزار رویہ ہے اور اہل پنجاب کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اس لئیے اپنی حماقتوں۔ ناکامیوں کواور اپنے مکروہ مفادات کی تشنہ تکمیل کو خواہشات کا نام دیتے ہوئے اہل پنجاب یا کسی بھی دوسرے صوبے یا قومیت پہ ملبہ ڈال دینا احسن اقدام نہیں۔ جبکہ پنجاب سے بغض رکھنے والے یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک مشرف کی فوجی حکومت میں شریک تھے۔ اس کی حکومت حصہ دار تھے اور اقتدار کے کیک میں سے اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ کاٹنے والوں کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے پہ اپنا گند اچھالیں۔
اسمیں پنجابی، سندھی، پٹھان یا بلوچ کی کوئی بحث نہیں مندرجہ بالا پیرائیوں میں اصل صورت حال بیان کرنے اور شکوک کم کرنے کی ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔
نیزآپکی اس بات سے قطعی طور پہ اتفاق نہیں کہ پنجاب یا خیبر پختوان خواہ یا پاکستان کے کسی بھی دیگر علاقے یا صوبوں میں کراچی ۔ سندھ یا بلوچستان یا پاکستان کے کسی بھی دیگر حصے سے محض اسلئیے دلچسپی ہے کہ اسے ساحل سمند ر کی ضرورت ہے یا کسی دیگر ضرورت کی وجہ سے یوں ہے۔ بلکہ دنیا کی سابقہ تاریخ اور دنیا میں رائج الوقت ریاستی اصولوں کے مطابق پاکستان کے تمام جملہ قدرتی وسائل پہ پاکستان کے سبھی حصوں اور شہریوں کا برابر کا حق ہے۔ اگر کہیں کسی وجہ سے کچھ اختلافات ہیں تو انہین باہمی گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہئیے۔
میری ذاتی رائے میں اپنے مسائل کی وجوہات کو ایک دوسرے کے سر منڈھنے کی بے فائدہ کوششوں کی بجائے، ہمیں ان وجوہات کی جڑیں تلاش کرنی چاہئیں اور ان استحصالی قوتوں کا احتساب کرنا چاہئیے۔ جنہوں نے پاکستان بنتے ہی بار بار چہرے بدل کر پاکستان کو لوُٹا ۔کھسوٹا۔ نچوڑااور جی بھر کے عیش کی ۔ ملک و قوم کے نام پہ اپنی تجوریاں بھریں۔ اپنے اثرو رسوخ اور اقتدار و اختیار کو دوام بخشا۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے پاکستان میں موجود رہا ہے اور دن بدن ترقی کرتے ہوئے اب پاکستان کے لئیے نہ صرف ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ بلکہ پاکستان کی سالمیت کے لئیے بھی نہائت خطرناک ہوچکا ہے۔ اور پاکستانی عوام کے ہر قسم کے حقوق چھنینے کے بعد اب ان کے منہ سے روزی روٹی اور آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتا ہے۔ تانکہ بے کس۔ بے بس اور بے ہمت عوام اس طبقے کے ہاتھوں بے چون چرا ہر قسم کے ظلم پہ آنکھیں بند کر لیں۔ اس طبقے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ اپنے مفادات کے لئیے کبھی بھی۔ کوئی سی بھی شکل اپنا لینے میں باق ہے ۔ خواہ وہ شکل فوجی جرنیل کی ہو یا سیاستدان کی۔ نودولتئے ہوں یا نام نہاد قائد یا رہنماء ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں رشتے داریاں کرتے ہیں۔ تانکہ یہ مافیاز مذید مضبوط ہوں۔ اور انگریزی محاورے کے طور ایک دوسرے کی پیٹھ کی حفاظت کرتے ہوئے اسے مضبوط کر سکیں۔ اس طبقے میں جرنیل۔ جاگیردار۔سردار۔ میڈیا اور بزنس کے ٹائی کون۔ بیورکریٹس۔ سیاہ ست دان ۔ پاکستان میں فرقہ، فرقہ کا کھیل کھیلنے والے۔ نام نہاد رہنماء اور قائد یا بوری بند لاشوں کے مافیا سربراہ ۔ جنہوں نے قوم کو لیر لیر کر دیا ہے۔کپڑے کی کترنوں کی طرح کانٹ چھانٹ کے رکھ دیا ہے۔ جو سادہ لوگوں کو جھوٹے نعروں اور بھوکوں کو پیٹ بھر کر روٹی کے خواب دکھلا کر پوری قوم کر باہم دست بہ گریبان کئیے ہوئے ہیں۔
فرض کر لیں بلوچستان ہی نہیں پاکستان کا ہر صوبہ۔ ہر ضلع ۔ تحصیل بلکہ تھانے تک آزاد ہوجائیں اور خدانخواستہ پاکستان کا وجود تک نہ رہے۔ تو کیا پاکستان میں دودھ اور شہد کی بہنے لگیں گی؟۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہنا تو کجا بلکہ میرے۔ آپکے اور پاکستان کے عام آدمی کے۔عام عوام کے۔ حالات بدلنے کی بجائے انکے لئیے کئی نئی قسم کے فساد جنم لیں گے۔ اور اس صورت میں بھی وسائل اور لوگوں کی قسمت کا مالک وہی طبقہ ہوگا۔ جو اس فساد کا ذمہ دار ہے۔ یعنی مسئلے کا حل ملک کے کسی حصے کی علحیدگی میں نہیں ۔ ملک کی تقسیم کوئی حل نہیں۔ بلکہ یہ بجائے خود ایک مسئلہ اور بالادست طبقے کے ھاتھ مضبوط کرنے کا جواز ہے۔ اور یہی انکی سازش ہے کہ اگر پاکستان میں چار صوبے ہیں تو انہیں آٹھ کر لو کہ چلو۔ بندر بانٹ سے چار نئے وزاءاعلٰی۔ گورنرز۔ ہزاروں آسامیاں اور نئی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے سینکڑوں رکن ۔ تو فائدہ کس کو ہوا؟ اسی طبقے کو!۔ جو آج بھی مندرجہ بالا تمام سبھی عہدوں کا بلاشرکت غیرے حصہ دار اور قابض ہے۔ خواہ اسکا نام اور پارٹی یا ادارہ کوئی سا بھی ہو۔ یعنی موجاں ہی موجاں ۔
اس لئیے ضروری ہوگیا ہے کہ اگر جدو جہد کرنی ہے تو ایسے لوگوں یا طبقات کے خلاف علم بلند کی جئیے۔ جو آج پاکستان کے ھر حصے میں عام عوام کی محرومی کا سبب ہیں۔اور یہ جدو جہد پُرامن ہونی چاہئیے ۔ جس میں تشدد کا پہلو یا عنصر نہ ہو۔ تشدد کا ویسے بھی فی زمانہ دور نہیں۔ اور تشدد کے ذریعے حاصل کئیے گئے نتائج کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ علم کو عام کی جئیے۔ لوگوں میں بیداری اور آگہی کی مہم کا آغاز کی جئیے۔ برادشت اور تحمل کو فروغ اور رواج دیں۔ یہ رستہ بظاہر ناممکن کی حد تک مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو قوموں کو دوام بخشتا ہے۔ اور جو قومیں اس رستے سے ادہر ادہر ہوئیں وہ قصہ پارینہ بن گئیں۔
خوش رہئیے۔
نوٹ:۔ اس تحریر کا مقصد صوبائی۔ لسانی۔ علاقائی یا دیگر کسی تعصب کو ہوا دینا نہیں ہے۔ کسی صوبے، یا کسی قومیت کو کسی دوسرے صوبے یا قومیت سے برتر یا کم تر ثابت کرنا نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسی کسی لا یعنی بحث کو چھیڑنا ہے جس سے کسی قسم کے تعصب کی بُو ائے۔ البتہ ایک بہتر ڈائیلاگ اور بات چیت کو اپنانا مقصود ہے۔ہمارے لئیے پاکستان کے سبھی صوبے اور اسکے عوام قابل احترام ہیں۔

 
2 تبصرے

Posted by پر ستمبر 12, 2012 in Pakistan

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔


حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پہ کشمیر بے شک ایک متنازعہ خطہ ہے جسکا الحاق بھارت یا پاکستان سے ہونےکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔اسلئیے ہر دو ریاستیں بھارت اور پاکستان اپنے نقشے میں ہر فورم اور ہر جگہ کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل رکھتی ہیں ۔ مگر اس بلاگرز سمٹ میں پاکستان کے نقشے میں کشمیر کا نقشہ جان بوجھ کر نہیں دکھایا گیا ۔ جو بھارتی موقف سے زیادہ نزدیک اور پاکستانی موقف کے خلاف ہے ۔ پاکستان میں اور پاکستانی کریم یعنی پاکستانی بلاگرز کی موجودگی میں یوں ہوا ہے۔جس پہ ہمارے علم کے مطابق ماسوائے ایک بلاگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ کسی بلاگر کی طرف سے اس بارے کچھ کہا گیا ہو۔ اور پاکستانی میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہوا ہے مجال ہے میڈیا کی طرف سے کوئی احتجاج یا بیان جاری ہوا ہو؟

پاکستان میں سال میں بلا مبالغہ ہزاروں قتل ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ مارنے والے کون تھے؟۔ مرنے والا کون تھا؟ ۔ پھر موضوع سے براہ راست متعلق نہ ہونے کے باوجود سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کیوں؟ محض اسلئیے کہ ۔۔ ۔ تیرے خواب میری خواہشیں ہے کہ۔۔ تیرے نام سے جڑا ہے نام میرا۔۔ کے مصداق اس ناحق قتل جسکی پاکستان کے ہر زی ہوش انسان نے مذمت کی ہے۔ اس ناحق قتل کے محض گھنٹوں بعد اس ناحق قتل میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا۔

امریکی قونصلر نے پاکستان میں قونصل خانے سے باہر پاکستان کے ایک ہوٹل میں جس میں غیر ملکی بھی موجود تھے ۔ سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کرتے ہوئے۔ سلیم شہزاد کے قتل کی وجہ حق لکھنے کی سزا بیان کرتے ہوئے جہاں کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں بر سرعام مداخلت کرتے ہوئے سفارتی آداب کو پامال کیا ہے۔ وہیں سلیم شہزاد کے قتل کو حق لکھنے کی سزا بیان فرما یا ہے ۔ سزا؟ کیوں؟کس نے دی؟؟ پہلے ہیولوں کو وجود دیا گیا پھر ہر طرف ہاہا کار مچائی گئی کسی اندیدہ قوت کے اشارے پہ اس ناحق قتل پہ پاکستانی خفیہ ایجنسی اور بہت سوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتی پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑتی، پاکستان کے خلاف سازشوں کا توڑ کرتی، عالمی معیار کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی جس کا تعلق پاکستانی افواج سے جا بنتا ہے اس پہ سلیم شہزاد کے قتل کا ملبہ ڈالا گیا۔

پاکستان کی اٹوٹ بٹوٹ این جی اوز مخصوص مقاصد رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی میڈیا کے ذریعئے ۔ اس قتل کے فورا بعد اگلے دن ہی پاکستان کے خلاف یو این و یعنی اقوام متحدہ سے پاکستان کے خلاف ریزولیشن لانے اور اس پہ پابندیان لگانے کی فرمائیش کی گئی اور کچھ نہیں تو پاکستان کو عالمی کریمنل کورٹ میں گھسیٹا جائے۔ ان دیدہ قوتیں جنکا اپنا ریکارڈ انسانی حقوق کے حوالے سے شرمناک حد تک خراب ہے ۔ انہیں سلیم شہزاد کے قتل یا اسکے ناحق قتل سے لین دین نہیں۔ مگر "بچُو اب بتاؤ ۔ زیادہ اکڑ دکھاؤ گے تو ہم یہ بھی کرنا جانتے ہیں۔” یہ پیغام تھا پاکستان کو جو اپنی سالمیت کے خلاف پے در پے واقعات کی وجہ سے بھنایا ہوا ہے۔ اور اگر اندیکھی قوتیں ہمارے حکمرانوں کو مزید لولی پاپ دینے میں ناکام رہیں تو بہت ممکن ہے پاکستان انکے اثر رسوخ سے نکل جائے۔ اور کئی دہائیوں سے کھوئی وہئ آزادی پا لے جو ویسے بھی دو تین سالوں تک افغانستانیوں کی مستقل مزاجی اور حریت کی وجہ سےخطے سے ان طاقتوں کے عزائم ختم ہونے کے بعد پاکستان کے بکاؤ مال کوچوسی ہوئی ہڈی کی طرح نکال باہر پھینک دیا جائے گا۔ مگر یہ طاقتیں تب تک پاکستان پہ اپنا مکمل رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

چند ایک مخصوص ذرائع ابلاغ کے مخصوص عالمی ادارے اور اردو ایڈیشن کے حامل غیر ملکی ابلاغی ادارے نے اس پہ حسب عادت خوب خوب روشنی فرمائی۔ ہم فوج کی ترجمانی نہیں کر رہے اور نہ ہی افواج پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی دکھا رہے ہیں ۔مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان نے بھی اس کیس کی عدالتی کمیشن بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ تانکہ ائی ایس آئی پہ لگا ئے گئے الزام کی حقیقت سامنے آسکےاور دودھ کا دود پانی کا پانی ہوسکے جبکہ پاکستانی حکومت اس بارے لعیت و لعل سے کام لیتی رہی ہے جس سےکنفیوژن برابر قائم رہے گا ۔ تو کیا ہر اسطرح کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی اٹھا دینا کیا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟ اور قابل شرم بات یہ ہے کہ اسمیں مشکوک ماضی رکھنے والے پاکستانی میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ کیا یہ اس ایڈ کا شاخسانہ ہے جو ایسے صحافیوں کو امریکہ اپنی پالیسز کے بارے نرم رائے رکھنے ۔ نرم رائے بنانے کے لئیے دے رہا ہے۔

ذرا تصور کریں ۔ نیو یارک میں پاکستانی سفیر یا کوئی پاکستانی قونصلر امریکی زرائع ابلاغ یا امریکہ کے کسی طور نمائندہ لوگوں کو مدعو کرے۔ انکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ابو غریب جیل میں بے گناہ مظلوم لوگوں پہ ڈھائے گئے حیوانی مظالم کے باوجود بھی انکی زندگی میں دلچسپی کو دنیا کی گنی چنی کامیاب کاوشوں میں قرار دے۔ جو بے شک ایک جائز بات کہی جاسکتی ہے ۔ مگر اسی وقت مدعوعین پاکستانی سفارتکار کو آڑے ہاتھوں لیتے کہ پاکستانی سفارتکار کو وہاں سے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ۔اور اگر سفارتکار میں اڑنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہوتی توکم از کم امریکن مدعوین دعوت پہ دو لفظ بیجھتے ہوئے واک آؤٹ کر جاتے اور اگلے دن اس سے اگلے دن اور آنے والے ہفتوں میں پاکستانی سفارتکار کو سفارتی آداب سکھانے کے لئیے میڈیا پہ اور میڈیا سے باہروہ طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا کہ اس سفارتکار کو امریکہ چھوڑتے ہی بنتی۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر امریکہ بدر کر دیا جاتا۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ اکثریت بڑی مشکل سے اپنا گزارہ کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے سات کروڑ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہنے پہ مجبور ہیں ۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے کا مطلب کہ غریب وہ ہوتا ہے جسے دوقت کا کھانا مل جاتا ہے۔ جس کے پاس غریب ہی سہی مگر مستقبل کی ایک منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ مگر غریبی کی لکیر سے نیچے چلے جانے کا مطلب روٹی روزی دوائی دارو جیسی سخت ناگزیر ضرورتوں کے لئیے بھی بے یقینی ہونا ہے کہ اگر ایک وقت کا کھا مل گیا ہے تو اگلے وقت کے کھانےکاجتن کیسے ہوگا۔ بچے بیمار ہے تو دوائی کے لئیے دوسرے بچوں کی روٹی کے لئیے رقم نہیں ۔

ایسے ملک میں کمپیوٹر ، انٹر نیٹ کنیکشن اور کچھ کہنے کی خواہش رکھنے والے ، لکھنے والے ، بلاگنگ جیسی سوجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی فہم و ادراک رکھنے اور اسے الفاظ کا جامہ پہنانے اور اور دوسروں سے شئیر کرنے میں۔ وسائل میں، اور سب سے اہم وجہ رسوخ رکھنے میں۔ دیگر عام پاکستانیوں سے بدرجہا بہتر اور انتہائی آگے ہیں۔ اسلئیے انھیں زیر بار کرنے ا ور انہیں مخصوص نتائج کے حوالے سے ۔ نئی جہتیں فراہم کرنے اور کم از کم پاکستان سے سوقیانہ رویہ رکھنے والی طاقتوں کا خیرخواہ بناے کی اس مشق میں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ کسی پاکستانی بلاگر کو عزت مآب قونصلر سے اس بارے بات کرنے سوال کرنے۔ یا اپنی باری آنے پہ یہ پوچھنے کی توفیق نہ ہوئی کہ مائی باپ آپ پاکستان کے ایک ایسے قضئیے کو موضوع سے متعلق نہ ہونے کے باوجود جوڑ رہے ہیں جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس ناحق قتل کے محرکات کیا تھے۔ اور کن لوگوں نے یہ مذموم قدم اٹھایا اور ہر صورت میں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ۔ کیا ہوا ہماری حکومت کسی وجہ سے آپ کے سامنے نہیں سر اٹھاتی مگر ہم آزاد بلاگرز پاکستان کے آزاد شہری آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ حق کس نے بخشا ہے کہ آپ ہمیں آزاد بلاگری کا سبق پڑھاتے ہوئے ۔ ہمارے ملک میں ہمارے سامنے پاکستان کے اندرونی متنازعہ معاملات پہ بیان بازی کر رہے ہیں۔نیز آپ کشمیر کے نقشے کے بغیر پاکستان میں پاکستانی نقشے کی کانٹ چھانٹ کس استحقاق کی بنیاد پہ کی ہے؟ کیوں جب سے آپ کے اقتدار کا سایہ پاکستان پہ پڑا ہے تب سے پاکستان نامی پودا شاد باغ ہونا بھول چکا ہے۔ فرض کر لیں ہمارے عزت مآب بلاگرز کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی یا رزق کو حلال کرنے کی عادت کے ہاتھوں فوری طور پہ کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تو کیا بعد میں اپنے بلاگز پہ اس ساری مشق اور شو کے بارے لکھتے ہوئے بھی رزق کا حلال کرنا ہاتھ باندھ رہا تھا؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں کچھ کہنے کا حق صرف حاتم کو ہی ہوتا ہے۔

امریکی قونصلر کی وہ لاکھوں بلکہ ملینز بلاگز یا پاکستانی بلاگرز کبھی ہم بھی ڈھوند نکالیں گے۔ اگر کبھی موقع ملا تو۔ یوں تو نہیں کہ عزت مآب قونصلر کی خواہش کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔۔۔۔ کہ ملیئنز کے حساب آزاد خیال ۔۔روشن خیال ۔۔ پاکستانی بلاگز ہوں اور بلاگرز وہ کچھ کر دکھائیں جو کھمبیوں کی طرح پاکستان میں ہر طرف اُگی غیر ملکی سرمایہ سمیٹتی لاڈلی اور "گواہی” دیتیں ۔پاکستان کے اندر، پاکستان کے خلاف مہاراج "تھانیدار”کے سفید پوش کا کرادر ادا کرتیں قسما قسم کی این جی اوز باوجود مہاراج کی سخت مشق کے پاکستان کے خلاف مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکیں؟۔ بہر حال خیال اچھا ہے ۔ ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑے کر دئیے گئے اور اتنے زیر بار کہ کسی نے یہ تکلیف نہیں کی کہ پوچھ ہی لیں حضور آخر آپ اتنی زحمت جو کر رہے ہیں۔ اس میں آپ کا بھی کوئی منافع ہے اور اگر ہے تو حضور کتنا اور کس سمت سے ہے۔

اکھٹے ہوئے کھایا پیا گپ شپ لگائی اور جن کا کھایا ہو انکی گیت نہ بھی گائے تو ان پہ انگلی اٹھانے سے باز رہیں گے۔ رزق حلال کرنا پاکستانی قوم کا پرانا شیوہ ہے۔ انکے ایک ہزار ایک وہ عمل جن پہ پہلے انگلی اٹھائی جاسکتی تھی اب کون اٹھائے گا؟۔

کیا ہم امید رکھیں کہ پاکستانی بلاگرز آزاد ہونے کا حق ادا کرتے رہے گے یا ہم یہ سمجھ لیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کسی نے سچ کہا تھا کہ۔” حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں دستر خوانی کو حاتم کے قصیدے کہنے پڑتے ہیں”۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , ,

مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔


مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔

محترمہ ! حجاب ِ شب !! کے بارے میں اردو بلاگنگ پہ سیر کرنے والے اس بات کی شہادت دینگے کہ ان کی تحریریں بے ضرر سی سلجھی ہوئیں اور عام سے موضوعات پہ اپنی سادگی کی وجہ سے انتہائی دلچسپ ہوتی ہیں۔ مگر انھیں اور دیگر بلاگرز کو گالیاں لکھی جارہی ہیں۔ اور ان سے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو گا تو شاید نام نہاد روشن خیالوں کو مگر "اہمیت آپا” باوجود اپنی کم علمی اور اضافی روشن خیالی اور انکے "بغل بچے” سے یہ امید نہیں کی جاتی کہ وہ اسقدر لغو حرکت پہ اتر آئیں گے۔ ویسے بھی اختلافات اپنی جگہ سبھی اردو بلاگستان کے حسین پھول ہیں جن کے دم سے اردو بلاگستان پہ رونق ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جزاک اللہ بریگیڈ کے ساتھ انٹر نیشنل مرازئیت کو ذیادہ تکلیف ہے ۔ کیونکہ وہ بھی مولوی اور ملا سے چڑے ہوئے ہیں اور پاکستان میں اپنے عزائم کی راہ میں مولوی اور ملا صاحبان کو بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔ایسا کچھ عرصے سے بہت سے بلاگرز کےساتھ یوں ہوتا آرہا ہے۔ اور اسمیں ایک بات مشترک ہے کہ انہی بلاگرز کے ساتھ یوں ہوتا ہے جو اپنے مسلمان ہونے پہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
MULA@YAHOO.COM
174.36.29.73

اس آخری والی آئی پی سے کسی نے مجھے بھی اوپر والے نام سےغلیظ گالیاں لکھ بیجھی تھیں۔ یہ آئی پی کی رجسٹریشن "ویسٹ ڈیلاس” امریکہ میں "پارک ہاؤس اسٹریٹ” سے ساڑھے پانچ سو فٹ اور کانٹنیٹل ایو سے بمشکل پونے دو سو فٹ پہ واقع ہے۔

پوری یورپی یونین اور اسپین میں خاصکر آجکل انٹر نیٹ کو عام استعمال کی شئے بنانے کے لئیے جہاں بلاگنگ اور فورمز وغیرہ بنانے اور آزادی اظہار رائے کو قوانین کے تحت تحفظ کو مزید بہتر کیا جارہا ہے وہیں۔ کسی کو ای ۔ میل اور بلاگ یا فورم اٰیڈریس پہ جسے قوانین میں ایک طرح کی ای میل ہی سمجھا جاتا ہے کے ذریعے دھمکی دینا۔ فراڈ کرنا۔ یا گالی گلوچ یا بچوں کو ڈبل ایکس ریٹیڈ یا تشدد پہ مبنی وغیرہ لنک بیجھنے سے متعلق بہت سخت کئیے جارہے ہیں ۔

عرصہ دراز سے اسپین کی انٹر نیت سے سائینٹیفک پولیس اس بارے تفتیش میں یوروپ وغیرہ میں کلیدی رول کرتی آئی ہے۔ اور نہائت جانفشانی سے کم عمر بچون سے متعلق فاحش سائٹس اور بنکنگ فراڈ سے ۔عام آدمی کے تحفظ اور کم عمر بچوں کے انٹر نیٹ پہ حقوق کی حفاظت سے متعلق۔ اور کسی کو دھمکی ، اسپیم میلز، یا زبردستی کی کاروباری معلومات جب صارف نے منع کر رکھا ہو۔ اور گالی گلوچ ، ذاتی، سیاسی، مزھبی (اسلام، عیسائت ، یہودیت کوئی سا بھی مذھب ہو کہ تینوں مزاھب یہاں سرکاری طور پہ تسلیم شدہ مذھب ہیں) یا کسی کے عقیدے کی وجہ سے اسے ای میلز کے زرہئے توہین کرنا وغیرہ سختی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اور اس جرم کا پیچھا کرنے کی کوشش کی جاتی خواہ اسکا پتہ لگانے کے لئیے کسقدر ہی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑے اور اسکے ڈانڈے اسپین یا یوروپی یونین سے باہر کسی تیسرے ملک سے جا ملیں۔ وہاں کی پولیس کو شامل کو کیس کی تفتیش کرنے کی استدعا کی جاتی ہے۔

وجہ اسکی صرف یہ ہے کہ اسپین اور اسکے علاوہ دنیا کے بے شمار ممالک بجلی اور فون کے بلز سے لیکر بینکوں میں رقوم ٹرانسفر کرنے اور گھر بیٹھ کر اپنے اکاؤنٹس کو آپریٹ یا ہینڈل کرنا جسے آن لائن بینکنگ کا نام دیا گیا ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں یوروز کی نقل حرکت روازانہ انٹر نیٹ پہ ہوتی ہے۔ آلو ، کھیرے اور ٹماٹر جیسی روز مرہ کی باورچی خانے کے عام استعمال کی اشیاء سے لیکر ریلوے، بسوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ٹکٹس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی بھی چیز انٹر نیٹ پہ خریدنے کا رواج عام ہے۔

انتہائی مصروف وزارتوں کا بوجھ انٹرنیٹ پہ منتقل کردیا گیا ہے۔ جس پہ صارف اپنی سہولت سے گھر بیٹھے عام معاملات نمٹا لیتا ہے۔ اور مختلف قسم کے سرٹیفیکیٹس کا اجرا اور دستاویزات اپنے پرنٹ کرتے ہوئے وزارتوں کے دفاتر سے بچتا ہے وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے وہیں بڑی بڑی منسٹریز کا کام کم ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ وہاں ملازم رکھے جاتے ہیں اور عمارتوں اور سیٹنگز ہالوں سے جان چھوٹنے سے اخراجات میں کمی ہوتی ہے، یعنی سہولت اور بچت، عوام اور حکومت دونوں کے مفاد میں ہونے کی وجہ سے انٹر نیٹ کو رواج دئیے اور اسطرح کی سہولتیں یعنی ڈاکٹرز سے مشورہ۔ یا فیملی ڈاکٹر سے ملاقات کا وقات طے کرنا یہ سب انٹر نیٹ کی وجہ سے آسان اور سستا ہوگیا ہے۔

اسپین اور اسطرح کے دیگر ممالک ہر سال انٹرنیٹ کے استعمال ، اسے سادہ بنانا، صارفین کو اسکے استعمال کرنے کو قائل کرنا، وغیرہ کے لئیے ۔ یہ ممالک اپنے اہداف مقرر کرتے ہیں اور پھر اسے حاصل کرنے کے لئیے مناسب تہشیر اور بجٹ مقرر کرتے ہیں۔

اسلئیے انٹر نیت پہ گھومتی معلومات اور انکے تحفظ کے لئیے اسپین اور دیگر ممالک بہت کوشاں ہیں۔ اس حوالے سے اسپین سائبر کرائمز سے متعلق سائنٹفیک پولیس نہائت متحرک ہے اور مقبولیت اور اہلیت رکھتی ہے۔ اور اسے اردگرد کے ممالک میں بھی نہائت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انکے کام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے انٹر نیٹ پہ گھومتی لاٹری جس میں بطور خاص خواتین اور بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔کے ایک سلسلے میں سائبر جرائم سے متلق پولیس کو آگاہ کرنے کی وجہ سے بات چیت کا موقع ملا ۔ تو بہت سے امور پہ روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ صرف اسلئیے اپنی ہیرا پھریوں میں کامیاب رہتے ہیں یا دوسروں کو ای۔ میلز وغیرہ سے تنگ کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے خلاف لوگ پولیس سے رجوع کرنے کی بجائے ایسی ایسی مشکوک میلز ڈیلیٹ کر دینا ایک آسان حل سمجھتے ہییں

سائبر کرائم سے متلعقہ اسپین کی سائنٹفک پولیس کے افیسرز نے بتایا کہ "ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اگر کوئی اسے اسطرح کی حرکت کی وجہ سے تنگ کر رہا ہے تو وہ ہمیں اطلاع کرے ۔ ہم مکمل چھان بین کریں گے۔ نیز جعلی آئی پیز سے کی گئیں ای۔ میلز اور اسطرح کے دوسرے سافٹ وئیرز سے جس میں فیک یا جعلی آئی ڈی آئی پیز سے گالی گلوچ کر کے اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ وہ اپنی اصلی آئی ڈی اور آئی پی چھپا لے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ کیونکہ پولیس کے لئیے ایسی ای میل کے مبنع کا سراغ لانا قطعی مشکل نہیں ۔ اور دوسرے ممالک کی پولیس سے اس بارے کاروائی کرنے کی استدعا کرنا ہمارے فرض میں آتا ہے۔ ورنہ لوگ انٹر نیٹ کو استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے اور انکا اعتماد انٹر نیٹ پہ نہیں بڑھے گا اور حکومت کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مشکل ہوگی۔ آزادی اظہار رائے ہر انسان کا حق ہے اور کھلے عام بحث میں کوئی بھی فرد اپنے جزبات کا اظہار کر سکتا ہے ۔ مگر کسی کو دہمکی دینا یا صاحب بلاگ کا منع اور بلاک کرنے کے باوجود اسے اسپیمز سے تنگ کرنا ، یا بغیر اجازت کے کاروباری اشیاء فروخت کرنے کے لئیے تشہیر کرنا ۔ گالی گلوچ دینا جرم تصور کیا جاتاہے۔ جن میں مختلف جرمانوں سے لیکر قید تک کی سزا دی جاتی ہے”۔

اور میں سوچ رہا ہوں ۔MULA@YAHOO.COM 174.36.29.73 اسکے بارے آگاۃ کر دوں۔ یا ایک موقع اور دوں شاید یہ خباثت سے باز آجائے۔

ذیل میں وہ آئی پیز اور انکے ایڈریس ہیں جن کے بارے محترمہ حجاب نے لکھا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
xamples: 213.86.83.116 (IP address) or google.com (Website)
178.162.134.29 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.134.29 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-134-29.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
178.162.131.60 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.131.60 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-131-60.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….

174.36.29.73 IP address location & more:
IP address [?]: 174.36.29.73 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: US
IP address country: United States
IP address state: Texas
IP address city: Dallas
IP postcode: 75207
IP address latitude: 32.7825
IP address longitude: -96.8207
ISP of this IP [?]: SoftLayer Technologies
Organization: EasyTech
Host of this IP: [?]: 174.36.29.73-static.reverse.softlayer.com [Whois] [Trace]
Local time in United States: 2011-06-12 16:09

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: