RSS

Tag Archives: ایکٹ

جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔


جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔

اب کیا ہوگا؟۔
کیا یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلے گا؟

اگر یوں ہوتا ہے کہ یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب واضح ہے کہ گو کہ اس سیریل کے تمام اداکار پاکستانی ہیں مگر اس سیریل کو ڈائریکٹ کہیں اور سے کیا جارہا ہے؟

جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” Friends Not Masters, میں آقاؤں کی طوطا چشمی کے شکوے کئیے ہیں اور ان کی بے وفائی کا دکھڑا بیان کیا ہے۔ اور ایوب خان کے خلاف بھی لانگ مارچ کا ہی فارمولہ آزمانے اور انہی طاقتوں کی ایماء پہ برسراقتدار آنے والے بڑے بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کے آخری ایام میں اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد اور بعد ازاں نظامِ مصطفی نامی تحریک کے زبردست دباؤ کے بعد پی ٹی وی پہ اپنی آخری تقریر میں امریکہ کو سفید ہاتھی گردانتے ہوئے یہی واویلہ کیا کہ ہائے ہائے مجھے بنانے والے مجھے گرانے پہ آمادہ ہیں۔

انہی طاقتوں کے اشارے پہ گرم سیاسی ماحول میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر تختِ اسلام آباد پہ قبضہ جمانے والے جنرل ضیاء الحق بھی اپنے آخری دنوں میں اپنے انجام سے آگاہ ہوچکے تھے کہ آقاؤں کا دستِ شفقت انکے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ آج یا کل دیر یا سویر سے اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسی لئیے وہ اپنے آخری دنوں میں امریکی سفیر اور اپنے جرنیلوں سمیت ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لئیے پھرتے تھے جس پہ انہیں اپنے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کا ذرہ بھر بھی شائبہ تھا۔ اور بہاولپور فضائی حادثے میں مارے جانے والے پاکستان کے انتہائی ذمہ دار لوگوں کے ایک ہی طیارے میں سوار ہونے کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

موجودہ دور میں پاکستانی مسنندِ اقتدار پہ قابض ہونے والوں میں سے جنرل مشرف شاید وہ واحد کردار ہے جس نے ہدایت کاروں کی ہر فرمائش ان کی توقعات سے بڑھ کر پوری کی اور جب جنرل مشرف کو مسندِ اقتدار سمیٹنے کا اشارہ ہوا تو اس نے بلا چون چرا جان کی امان پاؤں کے صدقے اپنا بوریا لپیٹا اور اُدہر کو سدھار گئے جدہر سے انہیں جائے امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ایسے ھی اچانک سے ڈرامائی طور پہ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ کیا تب صرف چند ماہ بیشتر کسی کے وہم گمان میں تھا کہ بے نظیر وزیر اعظم بننے کی بجائے زرداری پاکستان کے مختارِکُل قسم کے صدر بن جائیں گے؟۔ ہماری قومی یاداشت چونکہ کچھ کمزور واقع ہوئی ہے اگر کسی نے یاداشت تازہ کرنی ہو تو اس دور کے الیکشن سے چند ماہ قبل کے اخبارات اور ٹی وی مذاکروں کا مطالعہ و نظارہ کر لیں۔ جن میں بے نظیر کے ہوتے ہوئے زرداری کے صدر یا وزیر اعظم بننے کا خیال تک بھی کسی سیاسی جغادر کے وہم و گمان سے گزرا ہو۔ صرف چند ماہ میں زرداری پاکستان کے مختار کل قسم کے صدر تھے۔

زرداری حکومت میں نواز شریف عدلیہ بحالی کا عزم لے کر لاہور سے اسلام آباد کو ایک جمِ غفیر لے کر نکلے۔ عوام کا ٹھاٹا مارتا سمندر ساتھ تھا۔ زرداری حکومت چند دن میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ انجام پزیر ہوسکتی تھی۔ قومی یادشت کو تازہ کی جئیے کہ تب امریکی صدر اور سفیر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کے یکے بعد دیگرگوجرانوالہ نواز شریف کو فون آئے اور نواز شریف عام عوام کی توقعات اور امیدوں کے بر عکس تب گوجرانوالہ سے واپس لاہور سدھار گئے۔ سوجھ بوجھ والوں نے تب ھی فال ڈال دی کہ مک مکا ہوگئی ہے اور زردای کو ٹرم پوری کرنی دی جائے گی اور آئندہ ویز اعظم نواز شریف ہونگے۔ اور مڈٹرم کے طور یہی کلیہ نواز شریف کے خلاف مختلف مارچوں اور دھرنوں کے ذرئیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر عام عوام کی عدم دلچسپی یا آئے دن کے بے مقصد سیاسی ہنگامہ آرائی سے بیزارگی کی وجہ سے یہ ایکٹ کامیاب نہ ہوسکا۔

کسی بھی قیمت پہ اقتدار میں آنے والے جب طے شدہ شرائط پہ کام کرنے کے بعد خالص اپنے ذاتی جاہ حشمت کو برقرار رکھنے کے لئیے کنٹریکٹ کوغیر ضروری طور پہ طوالت دینے کی ضد کریں۔ یا دی گئی بولی سے انحراف کریں تو ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اقتدار کے خواب دیکھنے والے بچہ سقوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ مگر ایسے خوابوں کو پایہ تکمیل پہنچانے والی یا اقتدار کو استحکام بخشنے پہ قدرت رکھنے والی وہ طاقتیں جوبیرونِ پاکستان سے کٹھ پتلی تماشے کی ڈوریاں ہلاتی ہیں وہ کسی ایسے ڈھیلے ڈھالے کردار کو مسند اقتدار کا ایکٹ نبھانے کی اجازت دینے پہ تیار نہیں جو موجودہ دور میں پاکستانی اسٹیج پہ اپنے کردار اور ایکٹ کو زبردست عوامی پذیرائی اور عوام کی طرف سے پرجوش تالیوں کے استقبال کی اہلیت نہیں رکھتا۔

کیا پاکستان کے مفادات کے خلاف پھر سے بولی ہوگی؟ جو بڑھ کر بولی دے گا اسے مسند اقتدار بخشا جائے گا؟

کیا نئے مناسب اداکار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پرانی ٹیم نئی شرطوں اور تنخواہ پہ کام کے لئیے منتخب کی جائے گی؟
کیا ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہونگے۔اللہ کرے ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہوں۔

پردہ اٹھنے میں دیر ہی کتنی ہے؟ نئے انتخابات میں عرصہ ہی کتنا رہتا ہے؟

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

شیخ طاہر القادری ۔زرادری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔



شیخ طاہر القادری ۔ذرداری ۔ طے شدہ اسکرپٹ ۔ پتے کُھلتے ہیں۔

کیا ؟ ۔شیخ کا ڈرامہ ۔ زرداری اور سیاسی گرگوں کے مذاکرات ۔ ایک طے شدہ پلان تھا؟ ۔ کیا ڈارمے کا اختتام ہو چکا ؟ یا ابھی اس ڈرامے کے مذید ایکٹ سامنے آنا باقی ہیں؟۔
پاکستان کی تاریخ میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے (اگر تو سبھی مارچوں کو لانگ مارچ کہا جاسکتا ہے ) کچھ ناکام اور کچھ اپنے مقاصد کی نوعیت کے اعتبار سے کامیاب ٹہرائے گئے ۔ مگر شاید تاریخ میں یہ مخمصہ ہمیشہ بر قرار رہے گا کہ شیخ کا ڈرامہ مارچ کامیاب رہا یا ناکام ہوا؟ ۔ کچھ لوگ اسے سخت ناکام قرار دیتے ہیں اور انکی رائے بھی اپنی جگہ درست اور نیت ٹھیک ہے ۔ بادی النظر میں یہ لانگ مارچ ڈرامہ ناکام ہوا اور شیخ بڑی مشکل سے عزت بچا کر واپس لوٹے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یوں ہی ہوا ہے جیسا بظاہر سب نظر آتا ہے یا ہمارے کچھ بھولے بھالے سیاستدان اس ڈرامے میں اپنی مرضی کا رنگ بھرکر اسے ناکام قراردے رہے ہیں ۔جبکہ لگتا یوں ہے کہ اس لانگ مارچ ڈرامے کے اسکرپٹ رائٹرز نے ابھی فی الحال پہلا ایکٹ کھیلا ہے ۔ اور انکے مدنظر مقاصد میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں اور اسلئیے لانگ مارچ ڈرامے کو ناکام نہیں کہا جاسکتا۔جہاں کہیں اس سارے پروگرام کے تانے بارے بُنیں گئے ہیں ۔ وہیں سے اب اگلی کاروائی کے بارے سوچ بچار جاری ہوگی۔
ایک اسیے وقت میں جب دوہری شہریت پہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا اور صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے غیر ملکی پاسپورٹس رکھنے والے اراکین کو اپنے متعقلہ قانون ساز اداروں سے اپنی سیٹیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں۔ ایسے میں جب کہ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو معینہ مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات کے بعد اقتدار منتقل کرے گی ۔ ایک ایسے فرد کا جسکی قومیت کنیڈین ہے ۔ جو پاکستان کا شہری نہیں۔ جو خار زرا سیاست کے کوچے کو خیر آباد کہتے ہوئے ۔ غیر ملک میں جابسا تھا۔ جو اپنی تنظیم میں جمہوریت نام کی کسی شئے کا قائل نہیں۔ جو سیاسی سے زیادہ مذہبی زور بیاں پہ ایک خاص ذاتی قسم کی ایک منظم تنظیم بنائے ہوئے ہے۔ جس کا ہر دوسرا بیان پہلے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جس کی سیاسی اور مذہبی قلابازیاں تاریخ کے ریکارڈ پہ ہیں ۔ ایسے شخص کا اچانک پاکستان وارد ہونا ۔ نا معلوم طریقے سے حاصل کئیے اربوں روپے۔ اپنے جلسے اور لانگ مارچ کی تشہیر پہ لگا دینا ۔ اور ایک ایسی ریاست بچانے کا دعواہ کرنا ۔ جس میں پاکستان کے آئین کے مطابق شیخ ۔غیر ملکی شہری ہونے کی وجہ سے ایک عام امیداور کے طور انتخاب نہیں لڑ سکتے ۔ طاہر القادری !۔ایسے مشکوک حالات میں ریاست بچانے۔ جمہوریت بچانے ۔ آئین بچانے کے لئیے ہر غیر قانونی ۔ غیر آئینی قدام اٹھانے کے مطالبات سر عام کرتے نظر آتے ہیں ۔جبکہ اخلاقی طور پہ انہیں ایسے کسی اقدام کا کوئی حق نہیں۔ نیز جس طرح شیخ کو ہر معاملے میں فری ہینڈ دیا گیا ۔ اس سے یہ سارا معاملہ شروع ہی سے مشکوک تھا ۔ ایک ایسا مارچ ۔جس کے مقاصد اور مطالبات شروع ہی سے واضح نہیں تھے اور ہر آن شیخ کا مؤقف بدلتا رہا ۔ اسے اسقدر اہمیت دینا کہ مارچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک حکومت کے درجہ اؤل کی شخصیات شیخ سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے کو بے تاب نظر آئیں۔
ایک رائے یہ تھی کہ حالات سے تنگ آئے عام عوام قطع نظر کسی سیاسی و مذہبی وابستگی سے شیخ کے ہجوم میں شامل ہوجائیں گے اور ہجوم اسقدر بڑھ جائیگا کہ تعداد چالیس ہزار سے چار لاکھ یا اس سے تجاوز کر جائے گی۔اور اس صورت میں شیخ اور حکومت کی ملی بھگت سے عام انتخابات سے فرار حاصل کرتے ہوئے ۔ پاکستان دشمن طاقتوں کے مفاد میں ۔ ایک نئی طرح کی حکومت ایجاد کی جاسکے گی۔ مگر عام عوام نے بالغ النظری کا ثبوت دیا اور شیخ اور شیخ کے مارچ کا تو بغور اور متواتر جائزہ لیتے رہے ۔مگر شیخ کے چالیس ہزارہ مارچ میں مزید اضافہ نہیں کیا۔
اسکے علاوہ ایک بڑا سیٹ اپ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ۔نواز شریف کی رہائش گاہ میں ایک فوری اجلاس منعقد کر کے۔ شیخ کے لانگ مارچ ڈرامہ کے ہدایتکاروں اور حکومتی گرگوں کو یہ واضح پیغام دیا ۔کہ آئین سے بالا کسی مُک مُکا کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کہ نیز حکومت ۔شیخ کے سامنے بلیک میلنگ کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ الیکشن سیٹ اپ میں کسی تبدیلی کی مجاز نہیں۔ اور اگر کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ تو پاکستان کی حزب مخالف اور عوام اسے کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔ حزب مخالف کا فوری اجلاس اور ایک متفقہ رائے کی وجہ سے حکومت اور اس ڈرامے کے ہدایت کاروں کو اس مارچ میں مناسب ردوبدل کرنے پہ مجبور کر گئے۔
کچھ لوگوں کی رائے میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ۔ غیر ضروری طور پہ ۔شیخ اور لانگ مارچ کے بارے میں عدم تعلق کا بار ہا یہ بیان دینا۔ جس کے بعد شیخ کا قسمیں اٹھا اٹھا کر امریکی سفارتخانے کے بیان کو اپنے حق میں گواہی اور شہادت کے طور پہ پیش کرنا بھی اس معاملے کو مشکوک کرتا ہے۔
عمران خان اپنی تحریک انصاف کے ساتھ شیخ کے ممکنہ ساتھی ہونے تھے۔مگر پاکستان حزب مخالف کے بر وقت اقدام کی وجہ سے انھیں طاہر القادری کو مایوس کرنا پڑا۔
ایم کیو ایم نے پہلے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر محض اخلاقی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے لانگ مارچ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔
یہ حسن اتفاق ہے یکے بعد دیگرے پاکستانی سیاسی میدان میں انقلاب کا لنگوٹ کس کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں اترنے والے۔ اپنے نام میں تحریک اور انقلاب کا زوروشور سے ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے آئیں۔ ایک نظر اس معائدے کو دیکھ لیں جو تحریک منہاج القرآن کے بانی و رہنماء شیخ طاہر القادری اور حکومت اور حکومت کے اتحادہ برزجمہروں کے درمیان ہوا۔ معائدہ درج ذیل ہے۔
” 1: قومی اسمبلی کو 16 مارچ سے پہلے تحلیل کیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی اس ایوان کی معینہ مدت ہے، تاکہ اس کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔ اس سے قبل ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کے تحت نامزد ہونے والے نمائندگان کی نامزدگی سے پہلے چھانٹی کی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن ان افراد کی اہلیت کا جائزہ لے سکے، کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔2: حکومت اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر پیش کریں گے۔3: الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار 27 جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ میں ہی ہوں گے۔آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون ایک اجلاس مندرجہ ذیل وکلاء ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسن کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک 27 جنوری کے اجلاس سے پہلے قانونی صلاح و مشورے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔4: انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلے آئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اے: آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور 82 جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔سی: سپریم کورٹ کے 2011 کی قانونی درخواستوں پر 8 جون 2012 کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔5: لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دونوں جانب ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے“۔

دستخط : وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف چیئرمین پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری،سربراہ وفد چوہدری شجاعت حسین ،وزیر قانون فاروق ایچ نائیک،مخدوم امین فہیم ، پی پی پی،سید خورشید شاہ ، پی پی پی پی ،قمر زمان کائرہ ، پی پی پی پی ،فاروق ایچ نائیک ، پی پی پی پی ،مشاہد حسین ، پی ایم ایل کیو ،ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم ،بابر غوری ، ایم کیو ایم ،افراسیاب خٹک، اے این پی،سینیٹر عباس آفریدی، فاٹا

اس سارے معائدے کے ہر دو فریق اس معائدے کا کوئی آئینی و قانونی حق نہیں رکھتے۔

اس معائدے کی شق نمبر ایک۔ کے مطابق ممکنہ امیدواروں کی آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208بی: آئین کے سیکشن 77 اور82 پہ پورا اترنے کی اہلیت جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔ کا اختیار ۔ شیخ اور رخصت ہوتی حکومت کے تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کے پاس آجائیں گے ۔ جبکہ اس سے قبل امیدواروں کی مذکور ممکنہ اہلیت جانچنے کا یہ اختیار عدلیہ کے پاس تھا۔

اس معائدے کی شق نمبر دو۔ کا ایک فریق عوامی تحریک نگران وزیر اعظم کا نام منتخب کرنے یا پیش کرنے کا کوئی آئینی ۔قانونی اور اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ اگر یوں ہوتا ہے توذرا تصور کریں ۔ چالیس کی بجائے چارلاکھ معتقدین ۔ مریدین۔ اور سیاسی اراکین رکھنے والے ”کس اور کیا کچھ “کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟۔ اور ایک ایسا طوفان بدتمیزی سر اٹھائے گا کہ الامان الحفیظ۔

اس معائدے کی شق نمبر تین۔ کے مطابق ۔ اس سے قبل تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو متازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے معاملات الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔الیکشن کمیشن کی متفقہ تشکیل ہوچکی ۔ جس پہ پاکستان کی تقریبا سبھی سیاسی پارٹیاں اور عدلیہ متفق ہو چکے ہیں ۔اس تشکیل شدہ الیکشن کمیشن کو مشکوک کرنا ۔ متنازعہ قرار دینا محض الیکشن میں تاخیر یا منسوخ کرنا ہے ۔ یا الیکشن کے بعد اسکے نتائج کو مشکوک و متنازعہ قرار دینا ہے ۔ یہ بارود کے ڈھیر پہ دیا سلائی رکھنے کے مترادف ہے۔
یہ بھی بہت ممکن ہے کوئی دردمند شہری اس معائدے کی آئینی و قانونی حیثیت کو اعلٰی عدلیہ میں چیلنج کردے اور یہ معائدہ سرے سے ہی کالعدم قرار پائے۔
پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیاں اور حزب اختلاف اس پہ اعتراضات اٹھائے گی جس سے انتشار اور عدم استحکام کا ایک نیا محاذ پاکستان کے اندر کھل جائے گا ۔
یہ معائدہ اپنے وجود کے اندر پاکستان کے استحکام کے لئیے خوفناک مسائل لئیے ہوئے ہے۔ ۔ ایک ایسی حکومت جس نے پورے ملک کو اپنی اس پوری مدت میں میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ بغیر کسی وجہ کے گیس ۔ بجلی اور پانی کا بحران حل نہیں کیا۔ بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیکٹریوں سے لیکر گھروں کے چولھے تک بند پڑے ہیں اور پوری ایک قوم کو ان سالوں میں پتھر کے دور میں دھکیلنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا گیا۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے نہیں تھکتے اور حکمران اپنی ذاتی سیکورٹی کے سوا سیکورٹی کے متعلق کوئی دوسرا قدم اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ عام امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے عام شہری سر شام ہی گھروں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرٹ کا قتل کیا جارہا ہے ایک عام سی نوکری لاکھوں روپے میں بک رہی ہے۔ ہر طرف کرپشن ۔ لُوٹ کھسوٹ اور چور بازاری گرم ہے ۔ اربوں روپے کی کرپشن ہور رہی ہے۔ اعٰلی عدلیہ حکومتی سودوں میں اربوں روپے کے گھپلوں کی نشاندھی کر چکی ہے ۔ مگر حکومت میں شامل کسی کی ناک پہ ایک بال تک نہیں پھڑکا ۔ اسی حکومت کا ایک ایسے چالیس ھزاری مجمع کے لانگ مارچ اور دھرنے کے سربراہ ایک غیر ملکی شہریت کے حامل اور ایک عام شخصیت کی بلیک میلنگ ( جو در حقیقت بلیک میلنگ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ ایک ایکٹ ہے کہ بلیک میلنگ کا تاثر دیا جائے) کے سامنے اتنے ادب و احترام سے جھک جانا ۔ یہ کسی ذی شعور پاکستانی کی عقل میں نہ آنے والی بات ہے۔شیخ کا پہلے سے طے شدہ اوقات کار کے مطابق چند ماہ کی مہمان حکومت کو دھمکیاں اور واننگ دینا ۔اور ایسا معائدہ کرنا جسکا کوئی آئینی ۔ قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔

یہ سب باتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا۔ اور ابھی یہ ڈرامہ ختم نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ اس ڈرامے کا آغاز ہے اور اسکی انتہاء ۔ پاکستان میں کسی طور ایک غیر آئینی حکومت کا نفاذ ہے ۔ ۔جو اس سارے ڈرامے کی ہدایت کار غیر ملکی طاقت کے ایجینڈے میں اسکی مرضی کے رنگ بھر سکے ۔ جس کے تانے بانے بہر حال پاکستان کو دو ہزار پندرہ تک زبردست قسم کی انارکی کا شکار بنانے سے جا ملتے ہیں ۔ اور بلوچستان کے حوالے سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں ۔ اگر کوئی غیر جمہوری (جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت بھی ہو سکتی ہے ) سیٹ اپ بنتا ہے ۔ تو ممکن ہے کہ افواج پاکستان کواسکی بی ٹیم کے طور پہ کام کرنے کے لئیے کہا جائے۔ کیا پاکستان کے بارے مکرو ہ عزائم رکھنے والی طاقتیں کامیاب ہوں گی ۔یا پاکستان کے عوام بالغ النظری اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاغوتی طاقتوں کو انکے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔ اور قرائن یہ بتاتے ہیں ۔ کہ اس دفعہ شاید مشیت ایزدی کا ایجینڈا پاکستان کے ساتھ ہے ۔ پاکستان اور قوم دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انشاءاللہ۔ لیکن فی الوقت پاکستان میں انتشار مزید بڑھتا نظر آتا ہے اور جسکے بنیادی کردار طاہر القادری اور موجودہ حکومت ہیں۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: