RSS

Tag Archives: اہم

انقلاب کا ڈول اور پاکستان۔


انقلاب کا ڈول اور پاکستان۔


ہیں کواکب کچھ ۔نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ۔ یہ بازی گر کھلا
حکومت چھوڑ دو؟۔
اسملبیاں توڑ دی جائیں؟۔ورنہ ۔
یہ وہ مطالبات تھے جو اسلام آباد پہنچتے ہیں انقلاب کا ڈول ڈالنے والوں نے پہلے دن ہی داغنے شروع کئیے اور ان کی گھن گرج میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
یہ غیر آئینی مطالبات کس کی ایماء پہ ؟ اور کونسی طاقت کے بل بُوتے پہ کئیے جارہے تھے اور کئیے جارہےہیں ؟
وہ کون سی طاقتیں ہیں ۔ جو عمران اور طاہر القادری کو اشارہ دے چکی ہیں ۔ کہ ماحول کچھ اس طرح کا بناؤ ۔۔ کہ ہم کہنے والے ہوں کہ وزیر اعظم نواز شریف استعفی دےدیں۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لئیے علمِ سیاسیات میں ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ نواز حکومت کیوں اس مغالطے میں رہی۔ کہ یہ ایک دودن کا شور شرابہ ہے ۔اور جونہی یہ شو ختم ہوا ۔تو دیکھیں گے ان سے کیا مذاکرات کئیے جاسکتے ہیں؟۔
انبیاء علیة والسلام نے جب لوگوں کو دعوتِ دین دی۔ تو لوگ اس لئیے بھی ان پہ ایمان لے آئے کہ انبیاء علیة والسلام کا ماضی بے داغ ۔ کردار مثالی۔ فطرت میں حق گوئی وبیباکی اور اخلاق اعلیٰ ترین تھا۔ بہت سے لوگ فوراً ان کی نبوت پہ ایمان لے آتے ۔ اور دین میں شامل ہوتے چلےجاتے۔ کیونکہ لوگوں کو علم تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ۔ انکا ماضی بے داغ ہے۔ انکا کردار مثالی ہے ۔ وہ حق گوئی اور بیباکی پہ کوئی مفاہمت نہیں کرتے ۔ اور انکے اخلاق اعلٰی ترین ہیں اور ایسے لوگ (انبیاء علیة والسلام) اگر نبوت کا دعواہ کر رہے ہیں ۔تو یقناً وہ اللہ کے نبی ہونگے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کسی کی زبان پہ یقین کرنے کے لئیے اسکا کردار۔ اس کا ماضی دیکھتا ہے ۔اسکی حق گوئی و بیباکی کو پرکھتا ہے اور اسکے اخلاق کو جانچتا ہے ۔ عام طور پہ فوری یقین لانے کے لئیے ان چند صفات کو بنیاد بنا کر صاحب ِ بیان کی سچائی کو پرکھتا ہے اور اگر صاحب بیاں اس کی کسوٹی پہ اترے تووہ اس پہ یقین کر لیتا ہے کہ جو یہ کہہ رہا ہے وہ درست ہوگا۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شیخ السلام اور کپتان کا ماضی ۔ حق گوئی ۔ کردار اور اخلاق کے بارے کسی کو شائبہ ہے کہ وہ کب کب اور کیوں اپنے بیان بدلتے رہے ۔ اور انہوں نے یوٹرن لئیے ۔ اور کس کس کے سر پہ مغربی طاقتوں کا دستِ شفقت کیوں کررہا۔تو پھر ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ عوام کی ایک بڑی تعداد میں ان شیخ السلام اور ماضی میں اسکینڈلز سے آلودہ سابقہ کرکٹ کپتان پہ آنکھیں بند کر کے۔ یقین کرتے ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد کی طرف رُخ کرتی؟ ۔اور شیخ السلام کے انقلاب پہ یقین رکھتے ہوئے ان کے ہاتھ بعیت کرتی؟ ۔ اور کپتان کی فرما روا آزادی کو اپنا منشاء بناتی؟ جب کہ دونوں کا ماضی عوام کے سامنے ہے ۔ کہ ایک محدود تعداد کو تو کئی سالوں کی محنت سے اپنی حمایت میں کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔مگر لاکھوں کڑووں انسانوں کو یک دم لبیک کہنے پہ آمادہ کرنا فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اور انسانی فطرت ہے کہ وہ ایسے جانے پہچانے لوگوں پہ خُوب سوچ سمجھ کر اعتبار کرتا ہے ۔اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑہاتا ہے ۔ تو پھر انقلاب لانے کا دعواہ کرنے والوں اور انہیں اسکرپٹ تیار کر کے دینے والوں نے۔ اسکرپٹ لکھتے ہوئے یہ اہم نکتہ کیوں نہ ذہن میں رکھا؟۔تو اسکی ایک سادہ سی وضاحت ہے ۔کہ اسکرپٹ رائٹر ز کو معلوم تھا کہ اسکرپٹ میں رنگ بھرنے کے لئے چند ہزار لوگ ھی کافی ہیں ۔ کہ پچیس تیس ہزار لوگ کبھی کسی بھی دو تہائی سے زائد اکثریت رکھنے والی حکومت کے لئیے اس حد تک خطرہ نہیں ہوتے کہ وہ حکومت کو چلتا کردیں ۔لاکھوں کی تعداد کی نسبت پچیس تیس ہزار لوگوں کو رام کرنا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانا بہت آسان ہوتا ہے۔اور یوں حکومت کو بلیک میل کرتے ہوئے پس پردہ اپنے مطالبات منوانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ کہ بہ نسبت لاکھوں کے بے قابو ہجوم کے ذریعئے حکومت گرا کر اپنے مطالبات منوانے کے۔
ان دونوں مارچوں کے اسکرپٹس جس نے بھی لکھے ہیں۔ خُوب سوچ سمجھ کر لکھے ہیں۔ اور نواز شریف کی معاملہ فہمی کو مد نظر رکھ کر لکھے ہیں ۔
اور اس سارے پلان کا اسکرپٹ رائٹر یہ جانتا ہے کہ میاں نواز شریف اپنی معروف ضدی طبعیت کی وجہ ایک ہی جگہ جمیں کھڑے رہیں گے۔ اور انھیں دباؤ میں لانا آسان ہوگا۔کہ سیاست میں جم جا جانا اور ایک ہی جگہ کھڑے ہوجانا ۔ جمود کا دوسرا نام ہے ۔ اور پاکستانی سیاست میں جمود لے ڈوبتا ہے۔اور یہی اسکرپٹ رائٹر نے تاثر دینا چاہا کہ نواز شریف ۔ حکومت اور نون لیگ کے بزرجمہر اسی دھوکے اور تفاخر میں رہیں کہ یہ چند ہزار لوگ ان کا اور انکی دوتہائی اکثریتی حکومت کاکیا بگاڑ لیں گے ۔ اور وہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے اس دہوکے میں آگئے ۔ اور ترپ کے پتوں سے چالیں یوں چلی گئیں کہ شریف بردران ۔ پنجاب حکومت اور نواز شریف حکومت یکے بعد دیگرے اپنی پوزیشنیں چھوڑتی ہوئی۔ پیچھے ہٹتی چلی گئی ۔ اتنی بڑی پارٹی کی دو تہائی اکثریتی حکومت ہوتے ہوئے نہ تو وہ اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کر پائی اور نہ ہی جلد بازی میں ان سے کروائے گئے فیصلوں کے ما بعد نقصانات کو ہی سمجھ پائی ۔
کسی حکومت کی یہ ناکامی تصور کی جاتی ہے ۔ کہ لوگ اس کے خلاف سڑکوں پہ نکل آئیں۔کامیاب حکومت اسے گردانا جاتا ہے جو عوام کو سڑکوں پہ آنے سے پہلے ہی۔ انہیں راضی کرنے کا کوئی جتن کر لے۔ اس وقت پاکستانی عوام کی سب سے اولین مشکلات میں سے چند ایک مشکلات ۔ مہنگائی کا عفریت۔ توانائی کا بحران۔ بے روزگاری یا دوسرے لفظوں میں جسم اور جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لئیے ہر روز جتن کرنا ہے۔ ملک کی آدہی سے زائد آبادی کو محض دو وقت کی روٹی پوری کرنی مشکل ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کو یہ سارے مسائل زرداری حکومت سے وراثت میں ملے ہیں ۔ مگر اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ۔ کہ نون لیگ کے بلند بانگ انتخابی دعوؤں کے برعکس نون لیگ کی حکومت کے ان پندرہ سولہ ماہ میں عوام کی زندگی پہلے سے زیادہ اجیرن ثابت ھوئی ہے۔

جس ملک میں توانائی کا خوفناک بحران ہو ۔ لوگوں کے کاروبار اور روزگار ٹھپ ہوں۔ ملک کے شہری بجلی پانی گیس نہ ہونے کی وجہ سے چڑچڑے ہو رہے ہوں ۔بجلی کی عدم فراہمی پورے خاندان کی نفسیاتی ساخت و پرواخت پہ اثر اندازہو رہی ہو۔ اس ملک میں نون لیگ کے وزیر توانائی۔خواجہ آصف ۔پندرہ ماہ بر سر اقتدار آنے کے بعد۔اپنی قوم کو کسی قسم کا ریلیف دینے کی بجائے گرمی میں جلتے عوام سے یہ کہیں ۔کہ اللہ سے دعا مانگیں کہ بارش ہو اور آپ کی تکالیف میں کچھ کمی ہو۔ تو ایسی گڈ گورنس پہ کون قربان جائے؟ ۔وزیر موصوف سے یہ سوال کیا جانا چاہئیے تھا کہ اگر آپ میں اتنی اہلیت نہیں کہ آپ عوام کو کوئی ریلیف دے سکیں تو کم از کم انکے زخموں پہ نمک تو نہ چھڑکیں۔ اور اگر عوام کی تکالیف میں کمی کا انحصار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے میں ہی ہے۔ تو آپ کس خوشی میں اتنی بڑی وزات کی موجیں لُوٹ رہے ہیں۔ کسی بھی مہذب سیاستدان کی طرح استعفٰی دیں اور گھر کی راہ لیں۔ کہ ممکن ہے جو آپ کے بعد اس وزارت کو سنبھالے اس میں کچھ خداد صلاحیت آپ سے زیادہ ہو ںاور وہ عوام کو کچھ ریلیف دے سکے۔یہ تو ایک مثال ہے جو کسی لطیفہ سے کم نہیں ۔مگر پاکستان کے بے بس اور لاچار عوام کی ستم ظریفی دیکھئیے کہ ایسی مثالیں عام ہیں۔


شہباز شریف بڑے فخر سے دعواہ کرتے ہیں۔ کہ ان کا کوئی ایک بھی کرپشن کا کیس سامنے نہیں لایا جاسکتا ۔کیونکہ وہ کسی طور پہ کرپشن میں ملوث نہیں۔ مگر عوام نے پنجاب حکومت کے ایک وزیر کی ویڈیو دیکھی ہے ۔جس میں وہ ایک ایسے انسانی اسمگلر سے معاملات طے کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ جس پہ میڈیا کے مطابق ایک سو اسی سے زائد لوگوں نے دھوکہ بازی سے ۔رقم ہتیانے کے کیس کر رکھے ہیں ۔جو انٹر پول اور پتہ نہیں کس کس کو مطلوب ہے۔اور میاں صاحب نے اس ویڈیو کی حقیقت جانچنے کے لئیے ایک تین رکنی کمیٹی بنادی اور بس۔ سنا ہے بعد میں وزیر موصوف کے حمایتی یہ کہتے پائے گئے ہیں ۔کہ یہ لاکھوں روپے کی وہ رقم تھی۔ جو انہوں نے مذکورہ انسانی اسمگلر کو ادہار دے رکھی تھی ۔اور وہ انہوں نے واپس لی۔ ایک ایسا وزیر جو ایک معروف انسانی اسمگلر کے ساتھ معاملات کرتا ہے ۔ اسے رقم ادہار دیتا اور واپس لیتا ہے۔ ایسے جرم پیشہ فرد کے ساتھ معاملات کرنا تو کُجا اس کے ساتھ اگر کسی دعوت میں کسی وزیر کا کھانا کھایا جانا ثابت ہو جائے تو مہذب ممالک میں وزراء اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ جبکہ وزیر موصوف کو ایک جرائم پیشہ کے ساتھ معاملات کرنے کے باوجود بجائے اس کے وزیر موصوف سے جواب طلبی کی جاتی اور تادیبی کاروائی کی جاتی ۔ انہیں اتنی اہم وزارت دے دی؟۔ اپنی ٹیم کے بارے خبر نہ رکھنی یا لاعلم رہنا۔ یا خبر ہوتے ہوئے اس پہ کاروائی نہ کرنا ۔یہ بھی اپنے فرائض سے غفلت برتنے کے برابر ہے۔


جہاں یہ عالم ہو کہ سرکاری ملازموں کو ذاتی ملازم سمجھا جائے ۔ نوکریاں بیچی جائیں۔ سرکار دربار میں اپنے من پسند لوگوں کو لانے کے لئیے ۔پرانے ملازمین حتٰی کے چھٹی یا ساتویں گریڈ کی خواتین ملازموں کو انکے گھر بار سے دور۔ بیس بائیس کلومیٹرز دورافتادہ جگہ پہ اچانک تبادلہ کر دیا جائے ۔ بہانے بہانے سے سرکاری ملازموں کو تنگ کیا جائے ۔تانکہ وہ بددل ہو کر اپنی ملازمت چھوڑ دیں ۔اور انکی جگہ اپنے منظور نظر لوگوں کو بھرتی کیا جاسکے۔ تعینات کیا جاسکے۔ وہاں عام عوام ہی نہیں بلکہ یہ سرکاری ملازمین کو ہی اگر اجازت دے دی جائے۔ اور انہیں اپنی نوکری کے جانے کا اندیشہ نہ ہو تا۔تو ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی سرکاری ملازم ایسا ہوگا جو احتجاج میں شامل نہ ہواور سرکاری ملازمین کے احتجاج کی تعداد لاکھوں تک نہ ہو ۔ یعنی لوگ تنگ آگئے ہیں۔ انکے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ ممکن ہے نواز شریف حکومت کی ترجیجات میں لمبی ٹرم کے منصوبے ہوں ۔جن سے چند سالوں میں نتیجہ عوام کے حق میں بہتر آئے ، مگر عوام کا فی الحال مسئلہ زندہ رہنے کی جستجو کرنا ہے ۔ اور وہ موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات لگائے بیٹھے تھے ۔ اور حکومت فی الفور عوام کو کچھ دینے کی بجائے۔ مہنگائی کے سیلاب سے انکے مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بنی ہے۔


حکومت کے بارے یہ عام طور پہ کہا جاتا ہے ۔کہ میاں نواز شریف نے اندیشہ ہائے دور است کے تحت حفظِ ماتقدم کے طور پہ ۔اپنے اقتدار و اختیار کو اپنے ارد گرد کچھ معدوئے چند لوگوں میں بانٹ رکھا ہے ۔ ممکن ہے اس میں انکے کچھ اندیشے درست ہوں۔ لیکن یہ امر واقع ہے کہ اقتدار اللہ کی دی ہوئی امانت ہوتی ہے۔ اور جن حکمرانوں نے اپنا اقتدار ۔نیچے تک عام شہری تک تقسیم کیا ۔ انھیں کسی اندیشے کا ڈر نہ رہا ۔اور اور یوں کرنے سے جہاں عوام کو ریلیف ملا ۔وہیں اللہ نے ایسے حکمرانوں کے اقتدار میں برکت دی ۔

یہ حد سے بڑھی خود اعتمادی تھی یا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے نواز حکومت اخلاقی طور پہ ایسا کرنے پہ مجبور تھی کہ طاہر القادری ایک غیر سیاسی تحریک کے سربراہ اور پاکستان میں کسی بھی لیول پہ ان کا کوئی سیاسی عہدہ نہیں۔ تو پھر کس خوشی میں حکومت نے انہیں پہلے روکا تو عین آخری وقت میں ایک سیاسی اور منتخب حکومت کو غیر آئینی طور پہ حکومت گرانے کی دہمکیوں کے باوجود انہیں ملک کے دارالحکومت کی طرف ہزاروں لوگوں کے ساتھ بڑھنے دیا؟

یہ سیاسی ناعاقبت اندیشی نہیں تو کیا ہے کہ جنہیں چند ہزار افراد کہا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ لاکھوں کا دعواٰہ کرنے والے ان بیس پچیس ہزار لوگوں سے کیا تبدیلی لے آئیں گے؟ اور من پسند خوشامدی تجزئیہ نگاروں سے اپنی حکمت عملی کی داد وصول کی جاتی رہی ۔ اور اب یہ عالم ہے کہ پچیس تیس ہزار افراد کے ہجوم نے اسلام آباد میں آج ریڈ زون بھی کراس کر لیا ہے۔ اور عین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے۔ ملک کے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں۔ آن ڈیرے جمائے ہیں ۔جس سے ملک اور حکومت کی کی جگ ہنسائی ہور رہی ہے۔ اور ساری دنیا کو ریاستِ پاکستان کا ایک غلط پیغام جارہا ہے ۔ اور نواز شریف ابھی تک اپنے معدودے چند ایسے افراد کی مشاورت پہ بھروسہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر بند گلی میں کھڑے ہیں ۔

کچھ لوگوں کو یاد ہوگا کہ انقلاب کا ڈول ڈالتے ہی مشرف نے اپنے کارکنوں کو اس انقلاب اور آزادی مارچ کا ساتھ دینے کا ارشاد فرمایا۔اور نواز شریف نےایک بار پھر ایک تاریخی غلطی کی ہے۔فوج کو اس معاملے میں ملوث کرکے کے اپنے ۔ مسلم لیگ ن۔ اور جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے ہیں۔اور مستقبل میں کئی مخصوص اور حساس معاملوں میں آزادی سے فیصلے کرنے کا اختیار کھو دیا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے ۔اس سے بہتر تھا وزیر اعظم استعفٰی دے دیتے۔اور اپنی پارٹی میں سے کسی کو ویزر اعظم نامزد کر دیتے ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہوتی۔ کہ بات بات پہ اپنی زبان سے پھر جانے والے۔ آزادی و انقلابی ڈول ڈالنے والے ۔اس کے بعد کوئی نیا مطالبہ نہ کر دیتے ؟۔

تاریخ گواہ ہے۔ کہ اس طرح کے پلانٹڈ اور پلانیڈ انقلاب۔ کبھی کامیاب نہیں ہوئے ۔ان سے تبدیلی تو ہوتی ہے۔ مگر تبدیلی نہیں آتی۔ کسی حقیقی انقلاب کے لئیے عام آدمی یعنی عوام کی تربیت لازمی ہوتی ہے کہ وہ انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکے۔جو اس سارے انقلابی عمل میں کہیں نظر نہیں آتی ۔ کہ پاکستان کے عام آدمی یعنی عوام کو اس طرح لاچار کر دیا گیا ہے کہ وہ سوتے میں بھی دو وقت کی باعزت روٹی کمانے کی خاطر اور زندہ رہنے کی جستجو کے ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے اور اس قدر منتشر ہے کہ اسے سوائے اپنے حالات کے کسی اور طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ۔ تو پھر عام آدمی کی تربیت اور شمولیت کے بغیر یہ کیسا انقلاب برپا ہونے جارہا ہے؟ ۔

ایک تبدیلی وہ ہے جس کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ ”انقلاب“۔ اور ایک تبدیلی وہ ہے جو اسکرپٹ رائٹر نے اپنے من پسند طریقے سے لانی چاہی ہے۔ یعنی پہلی تبدیلی ”انقلاب “ کا جھانسہ دیکر دوسری تبدیلی ہی اصل گوہر مقصود ہے۔۔

جہاں ضامن حضرات جائز طور پہ برہم ہیں۔ وہیں لوگ اس بات پہ حیران ہیں کہ شیخ السلام اور کپتان نے مختلف سیاسی حکومتی شخصیات کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ کوئی غیر آئنی مطالبہ یا اقدام نہیں کریں گے ۔ تو پھر یہ کیوں بار بار اپنا بیان بدل رہے ہیں ۔ اور اتنی یقین دہانیوں کے باوجود غیر آئینی مطالبوں پہ اڑے ہوئے ہیں۔لیکن ان کو (عوام کو)یہ پتہ نہیں کہ جو کسی کے بھروسے پہ پہلی بار ہر حد پھلانگ جائیں ۔پھر انھیں اس کے اشارے پہ بار بار ہر حد پھلانگنی پڑتی ہے۔اتنے سالوں سے اس ملک میں کوڑھ کی فصل بیجی جارہی ہے ۔ اب یہ فصل پک چکی ہے۔کچھ طاقتیں ایسی ہیں جنہوں نے اس ملک کے تمام ستونوں کو بے بس کر رکھا ہے اور جب انھیں پاکستان کی ترقی یا استحکام کا پہیہ روکنا مقصود ہوتا ہے تو وہ اشارہ کر دیتی ہیں اور پہلے سے بنے بنائے بچے جمہورے طے شدہ پروگرام کے تحت حرکت میں آجاتے ہیں ۔اور حد یہ ہے کہ انھیں رسپانس بھی ملنا شروع ہو جاتا ہے ۔

چند ہفتے قبل کوئی سوچ سکتا تھا کہ۔ وہ لوگ جن کا پاکستان کی سیاست اور پارلیمینٹ میں وجود ہی نہیں۔ وہ آج کس زورو شور سے پورے ملک۔ کو اسکے عوام کو ۔بے یقینی کی ٹکٹکی پہ چڑہا کر تماشہ بنادیں گے؟یہ سیاسی بصیرت سے بڑھ کر کسی تیسری قوت کی اپروچ ھے۔اور جو لوگ ایک بار کسی کے ہاتھوں پہ کھیلیں ۔۔ پھر انھیں ہمیشہ انھی کے ہاتھوں کھیلنا پڑتا ہے۔

لمحہ بہ لحمہ بدلتی اس ساری صورتحال میں موجودہ حکومت کو دیوار کے ساتھ لگا کر پس پردہ اس سے وہ مطالبات منائے جائیں گے ۔ جس پہ ابھی تک ہماری حکومت بظا ہر اسٹینڈ لئیے کھڑی ہے ۔ اسمیں مشرف کی پاکستان سے غداری اور امریکہ سے وفاداری کے انعام کے طور پہ اس کی رہائی ۔ تانکہ امریکہ کے لئیے کام کرنے والے غداروں کو یہ پیغام جائے کہ وہ امریکہ کے لئیے اپنی قوم سے غداری کرنے والوں کو امریکہ تنہا نہیں چھوڑتا۔ دوسری بڑی وجہ ۔ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی ۔ اور تیسری بڑی وجہ ۔ پاکستانی عوام کو آمنے سامنے لا کر تصادم میں بدلنا ہے۔”عرب بہار“ جیسا فار مولہ بہت شاطر دماغوں نے اپنی پوری طاغوتی طاقت سے سارے وسائل بروئے کار لا کر بنا یا ہے ۔زرہ تصور کریں یہ دھرنا پروگرام کچھ طویل ہوتا ہے۔ تو دیگر جماعتیں بھی اپنے ہونے کا ثبوت دینے کے لئیے ۔اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنے پہ نکل آئیں۔ تو کارکنوں کا ملک گیر پیمانے پہ یہ تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟۔ یہ وہ کچھ پس پردہ عزائم ہیں جو عالمی طاقتیں دنیا کی واحد اسلامی نیوکلئیر ریاست کے بارے رکھتی ہیں۔ جس کے بارے میں عالمی میڈیا میں یہ تاثر دیا جائے گا ۔کہ اس ملک میں کبھی بھی۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو ایسے میں نیوکلئیر ہتیار اگر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے۔ تو دنیا کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔ اور اس تصور کو دنیا میں بڑہا چڑھا کر پیش کیا جائے گا ۔ اور ہماری بدقسمتی سے پاکستان مخالف عالمی طاقتیں پروپگنڈاہ اور دہمکی دھونس کے زور پہ ۔ایسے بے وجود سایوں کو وجود دینا جانتی ہیں۔ایسے میں پاکستان کا کیس عالمی برادری میں کمزور ہو جائیگا۔

اس بار شاید ہمیشہ کی طرح ”عزیز ہموطنو“ نہ ہو ۔کہ اب یہ فیشن بدلتا جارہا ۔ اورکچھ لوگ پہلے سے تیار کر لئیے جاتے ہیں ۔کہ جنہیں اگر نوبت آئی ۔تو انہیں آگے کر دیا جائے گا ۔ اور پس پشت”میرے ہموطنو“ پروگرام ہی ہوگا۔اس امر کا انحصار نواز شریف کی بارگینگ پاور پہ ہوگا۔ اور مارچ میں شامل کارکنوں کی تعداد اور استقلال کی بنیاد پہ ہوگا۔ کہ پس پردہ اپنی شرائط کس طرح منوائی جاسکتی ہیں۔ اگر دھرنے کے قائدین اسکرپٹ پلیئر کے اشارے پہ دھرنا اور احتجاج ختم بھی کر دیں ۔تو بہر حال ایک بات طے ہے کہ ان دھرنوں سے پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ پاکستان کی بنیادیں بھی ہل کر رہ جائیں گی ۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پھر بجٹ۔


پھر بجٹ۔

Budget (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)
دور روز قبل پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے پاکستان کا سالانہ (مالی سال جولائی 2014ء تا 2015 ء)بجٹ پیش کیا ہے ۔
یہاں حالیہ پیش کردہ بجٹ کے گورکھ دہندے پہ بحث کرنا مقصود نہیں ۔ کیونکہ یہ لچھے دار اور گنجلک بجٹ ہمیشہ سے عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر رہے ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ انہیں بابو لوگ پاکستان کے دیگر سرکاری نظام کی طرح جان بوجھ کر بھی کچھ اسطرح پیچیدہ اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز بنا دیتے ہیں تانکہ عام عوام حسبِ معمول ہمیشہ کی طرح محض سر ہلا کر ”قبول ہے“ کہنے میں ہی عافیت سمجھے ۔
بجٹ کی ایک سادہ تعریف تو یہ ہے کہ کسی بھی ذاتی یا مشترکہ نظام کو چلانے کے لئیے اس نظام پہ اٹھنے والے اخراجات اور اسکی ترجیجات کے لئیے کسی ایک خاص مدت کے لئیے دستیاب میسر وسائل کی منصوبہ بندی کرناہے۔ اسے عام طور پہ بجٹ کہا جاتا ہے ۔ بجٹ ذاتی یا گھریلو بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ جاتی یا ملکی بھی ہوتا ہے ۔ گھریلو ہو تو عام طور پہ اسے ماہانہ بنیادوں پہ سوچا جاتا ہے اور اگر ادارہ جاتی اور ملکی ہو تو اسے سالانہ بنیادوں پہ بنایا جاتا ہے ۔ جسے ملک و قوم کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پہ تیار کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پہ تقریبا سارے دنیا کے ممالک کسی نہ کسی طور سالانہ بجٹ کے تحت اپنے معاملات چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس میں مختلف مقاصد کے لئیے مخصوص رقم مقرر کی جاتی ہے اور رقم اور وسائل کی دستیابی کے لئیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔قومی ترقی۔ دفاع ۔ صحت ۔ تعلیم اور دیگر اہداف مقرر کئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں بجٹ کے آغاز سے بجٹ کے مالی سال کے اختتام تک بندر بانٹ ۔ وقتی ضرورت ۔ بد دیانتی اور دیگر کئی قسم کے جوازوں کے تحت قومی خزانے کے صندوق کا ڈھکن اٹھا دیا جاتا ہے اور بڑھے ہوئے ہاتھ ۔ قوم کی امانت رقم کو قومی ضروت سے کہیں زیادہ اپنی ذاتی اغراض کے لئیے اپنی طرف منتقل کر لیتے ہیں اور منتقلی کا یہ عمل ایسی سائنسی طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ کہ قومی خزانے کو بے دردی سے لُوٹنے والے چور بھی حلق پھاڑ پھاڑ کر ”چور“ چور“ کا شور مچاتے ہیں ۔اور مجال ہے کہ چشم دید گواہوں اور شہادتوں کے باوجود ایسی طریقہ واردات پہ کسی کو سزا دی گئی ہو۔ اور پاکستان کے نصیب میں ہمیشہ سے یوں ہی رہا ہے ۔
قوم کی امانت ۔ قومی خزانے کو خُرد بُرد ہر اور ہیرا پھیری سے اپنی جیب میں بھر لینا ۔شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں کم وسائل اور عالمی مہاجنوں کے مہنگے قرضوں۔ امداد و خیرات سے تصور کئیے گے وسائل سے (خسارے کا بجٹ) خسارے کے بجٹ پہ حکومتوں اور اداروں کے سربراہوں ، مشیروں وزیروں کے شاہی اخراجات اور ایک عام چپڑاسی سے لیکر عام اہلکاروں اور اعلٰی عہدیداروں کے حصے بقدر جثے اور دیگر اللوں تللوں سے یہ تصور محض تصور ہی رہتا ہے کہ کہ پاکستان سے غربت اور ناخواندگی ختم ہو اور قومی ترقی کی شرح میں قابل قدر اضافہ ہو۔اور مالی سال کے آخر میں وہی نتیجہ سامنے آتا ہے جو پاکستان میں پچھلی چھ دہائیوں سے متواتر آرہا ہے کہ نہ صرف غریب ۔ غریب سے غریب تر ہوتا گیا بلکہ ہر سال غریبوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ عالمی اداروں کی حالیہ حد بندیوں میں پاکستان کئی درجے نیچے کو لڑھک رہا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی Low povertyگزارنے والی آبادی نصف سے زائد ہے ۔ خود اسحق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غریبی کی آخری حد سے نیچے ۔ یعنی دو ڈالر یومیہ آمدن سے کم کماتی ہے۔ یعنی ایسے غریب جو مستقبل کے بارے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے محض اس لئیے قاصر ہیں کہ وہ اپنے یومیہ بنیادی اخراجات پورے کرنے کی جستجو میں محض زندہ رہنے کا جتن کر پاتے ہیں۔ایسے حالات میں ایک لگے بندھے بجٹ کے طریقہ کار سے حکومت اور ذمہ دار اداروں کا اپنے آپ کوقومی ذمہ داریوں سے سبک دوش سمجھ لینا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کی انتہائی غریب آبادی کی غربت اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بجٹ اجلاسوں پہ اعدو شمار پیش کئیے جاتے ہیں ۔ اور ان پہ کئی کئی دن لگاتار یوانوں میں اجلاس ہوتے ہیں ۔ جہاں حکوت بجٹ کے حق میں دلائل دیتی ہے وہیں حب اختلاف اور دیگر جماعتیں بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ حزب اختلاف کئی ایک تجاویز دیتی ہے ۔ حزب اختلاف اور حکومت سے باہر سیاسی جماعتیں حکومت کے متوازی۔ اپنے طور پہ بجٹ کے لئیے باقاعدہ تیاری کرتی ہیں ۔اور متبادل تجاویز کو کئی بار حکومت تسلیم کر لیتی ہے۔ اور ایک بار بجٹ طے پا جانے پہ اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئیے حکومت تہہ دل سےمقر ر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لئیے مطلوب وسائل مہیاء کرتی ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اور اور قومی اسمبلی کے معزز اراکین کا یہ عالم ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق قومی خزانے سے کرڑوں روپے خرچ کر کے قومی اسملی کے ارکان کے لئیے بجٹ کی دستاویز چھپوائی گئی ۔ جسے ستر فیصد سے زائد قومی اسمبلی کے معزز ارکان بغیر کھولے ہی قومی اسمبلی ہال کے ہال میں اپنی سیٹوں پہ چھوڑ گئے ۔ اس میں حکومتی ارکان بھی شامل ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار کی تقریر کے دوران بھی قومی اسمبلی کی اکثریت ۔ بیزار ۔ بور اور آپس میں بات چیت کرتی نظر آئی ۔ ہماری رائے میں پاکستان سے متعلق اتنے اہم مسئلے پہ عدم دلچسپی کے اس مظاہرے کی وجہ اراکین اسمبلی کو بھی پاکستان کی سابقہ بجٹوں کی طرح اس بجٹ پہ بے یقینی اور بجٹ پیش کرنے کی کاروائی محض ایک رسم اور ایک قومی تقاضا پورا کرنے کے مترادف لینا ہے اور دوسری بڑی وجہ معزز اراکین کی بڑی تعداد کی تعلیمی استعداد اور سوجھ بوجھ کی کمی ہوسکتی ہے ۔ تو ایسے حالات میں پاکستان جیسے غریب سے غریب تر ہوتے معاشرے کے لئیے ایک قابل عمل اور نتیجہ خیز بجٹ کے لئیے مفید اصلاحات کون پیش کرےگا؟، حکومت کے بجٹ کی خامیوں کی نشاندہی کون کرے گا؟۔اسحق ڈار کے لبوں پہ ایک فاتح کی سی معنی خیز مسکراہٹ بھی اس امر کی غمازی کر رہی تھی ۔کہ کوئی تنقید نہیں کرے گا۔ اور بجٹ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا۔ تو ایسے حالات میں پاکستانی عوام کس کا پلُو تھام کر اسطرح کے بجٹوں پہ فریاد کریں ؟۔
آجکل پاکستان میں ٹیکس گزاروں کا نیٹ ورک بڑہانے کے لئیے بہٹ شور مچا ہوا ہے ۔ بہت سے ترقی یافتہ اور ٹیکس سے چلنے والے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اور پاکستان میں ٹیکس گزاروں کی ٹیکس چور ی کو تنقید کا نشانہ بنانا عام ہے ۔ لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ اُن ممالک میں حکومتی ادارے کس طرح عوام کے ٹیکسوں سے ملکی آمدن کو سوچ سمجھ کر انتہائی ذمہ داری اور دیانتداری سے ایک مکمل منصوبہ بندی سے استعمال میں لاتےہیں جس کے نتیجے میں عام آدمی کو ہر قسم کی بنیادی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور عوام کی فلاح بہبود اور ترقی پہ ٹیکسوں کو خرچ کیا جاتا ہے ۔ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور انہیں نہ صرف کریمنل یعنی سنگین مجرم بلکہ اخلاقی مجرم بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے نام سے عام آدمی گھن کھاتا ہے اور انکا ذکر انتہائی ناگواری سے کرتا ہے ۔ اور بہت سے ممالک میں ایسے حکومتی عہدیدار اور سیاستدان اسطرح کے اسکینڈل منظر عام پہ آنے سے اپنے عہدوں سے استعفی دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اپنے مقدموں کا سامنا کرتے ہیں ۔ اور بہت سے بدنامی کے ڈر اور لوگوں کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لیتے ہیں ہیں ۔ جبکہ پاکستان میں ؟۔۔۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ کلچر عام ہے اور اسے ستائشی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ کہ جو جتنا بڑا چور ہوگا اسکے حفظ و مراتب بھی اسی حساب سے زیاد ہ ہونگے ۔ وی وی آئی پی تصور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ کسی وجہ سے اپنا عہدے سے سبک دوش ہوجائیں تو بھی انہیں ہر جگہ ۔ہر ادارے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے ۔ایسے ماحول اور معاشرے میں تو ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی طرح روپیہ کما کر جلد از جلد اہمیت پانا چاہے گا۔ خواہ اس کمائی کے حلال اور حرام ہونے پہ سو ال اٹھیں۔جبکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جن کی وجہ سے ملک کی آج یہ حالت ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کی محض روز مرہ مسائل کی وجہ سے خودکشیوں میں شرح میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے ۔ انہیں ۔ ایسے لوگوں کو حقیر جانا جاتا ۔انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ۔ اور نیک ۔ دیانتدار اور ٹیکس گزار وں کو قابل احترام سمجھا جاتا ۔ انکی حوصلہ افازئی کی جاتی تانکہ محنت سے آگے بڑھنے کا کلچر فروغ پاتا۔ عام آدمی بجائے شارٹ کٹ ڈہونڈنے کے محنت پہ یقین رکھتا۔مگر نہیں صاحب ۔ قومی چوروں کو حرام کے ۔ لُوٹ کھسوٹ اور قومی خزانے کو نقصان دے کر بنائی گئ جائیدادوں اور پیسے کی وجہ سے ہر جگہ سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔ اور جو لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں انتہائی حقارت سے دھتکار دیا جاتا ہے ۔ تو سوال یہ بنتا ہے کہ پھر آپ کس طرح اپنے ٹیکس گزاروں کے نیٹ ورک میں اضافہ کرنا چاہئیں گے ۔ اور ٹیکس نہ دینے والوں کا رونا رونے کے ساتھ اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے بھرپور کلچر کو بھی تبدیل کی جئیے ۔
وہ قومیں جو ہماری طرح شدید غربت سے دوچار نہیں وہ بھی اپنی قومی آمدنی بڑھانے کے لئیے کئی ایک حربے آزماتی اور نت نئے جتن کرتی ہیں ۔ جبکہ ہمارے ملک کے بادشاہ لوگوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایک سرمایہ کاری کا ایک مناسب اور اہم ذریعہ پاکستانی امیگرنٹس کی شکل میں بھی موجود ہے جنہیں مناسب ترغیب، اور منصوبہ بندی سے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی طرف راغب کرنا چندا مشکل نہ تھا کہ وہ قومی یا کاروباری اسکیموں میں پیسہ لگاتے اور کارپوریشنز کی طرز پہ انکے سرمایے اور منافع کی دیانتدارانہ نگرانی کی جاتی ۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ۔ روٹی ۔ روزی ۔ روزگار کی وجہ سے یا ملازمت اور کاروبار کی وجہ سے پاکستان سے باہر مقیم افراد کو جسطرح بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح پاکستانی ائر پورٹو ں پہ ان سے سلوک کیا جاتا ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر سمیت ہر قسم کے محکماتی کاؤنٹر پہ انکے ساتھ افسر مجاز انہیں کسی جیل سے بھاگے ہوئے قیدی کی طرح سوال جواب اور سلوک کرتا ہے۔ کہ دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ کہاں تو دیگر ممالک کے ائر پورٹس کاونٹر ز پہ مثالی انسانی سلوک کہ غیر قانونی دستاویزات پہ سفر کرنے والے مجبور پاکستانیوں کا جُرم پخرے جانے پہ بھی ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ اپنے ملک پاکستان سے آتے یا جاتے ہوئے ائر پورٹوں پہ اتنا انتہائی ذلت آمیز رویہ۔ کہ دماغ بھنا اٹھے۔ اور پاکستان کے اداروں کا یہ سلوک ان لوگوں سے۔ جو کئی دہائیوں سے مسلسل اپنے خُون پسینے کی کمائی سے۔ ریاستِ پاکستان کی زر مبادلہ کی کمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ۔پاکستان میں مقیم کروڑوں افراد کی کفالت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے ۔ تو آپ کیسے ان سے یہ توقع اور امید رکھیں گے کہ پاکستان میں ہر قسم کی عدم سہولتوں اور امن عامہ کی عدم موجودگی کے باوجود اور اسقدر انتہائی اہانت آمیز سلوک کے باوجود وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے؟ یہ ایک ننھی سی مثال ہے ۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے بعض اوقات ہم قومی مفادات کو بھی پس پیش ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اپنے پاس موجود وسائل کو ملکی رو میں شامل کرنے کی بجائے اسے ملکی نظام سے بدظن کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے عد توجہ اور لاپرواہی پاکستان میں گھسٹتے نظام کی ایک ادنی سی مثال ہے کہ کس طرح ہم اپنے دستیاب وسائل کو کس بے درردی سے ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے دیگر طبقوں کی مثالیں دی جاسکتیں ہے۔
ایک عام سا فطری اور مالیاتی اصول ہے کہ جس چیز کی ضرورت جتنی اشد ہو گی اسکے حصول کی لئیے کوشش بھی اسی طرح زیادہ کی جائے گی ۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا حصول اور انہیں مناسب طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔جبکہ پاکستان میں کتنے صدق دل سے اس اصول کے خلاف کوشش کی جاتی ہے ۔ پاکستان کے کسی بھی ائر پورٹ یا پورٹ کو استعمال کر کے دیکھ لیں ۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی قابل کسٹم ڈیوٹی اشیاء ۔ خواہ وہ ذاتی ہوں یا کاروباری ۔ یا تحائف ۔ پاکستانی کسٹم کا مستعد عملہ بڑی جانفشانی سے آپکے سامان کی تلاشی لے گا ۔ اور نتیجے میں اس سے برآمد ہونے والی اشیاء کے بارے نہائت تندہی اور خونخوار لہجے میں اس پہ کسٹم ڈیوٹی کی رقم بتائے گا ۔اور ایک سانس فر فر سبھی قانون قائدے بیان کردے گا۔اور محصول کی رقم اسقدر بڑھا چڑھا کر بتائے گا کہ پاکستان پہنچنے والے پریشان حال اور تھکن کے مارے۔ لاعلم۔ مسافر کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا۔پریشانی بھانپتے ہی ایک آدھ اہلکار نہائت ہمدردی سے سر گوشی کے انداز میں استفسار کرے گا صاحب سے ککہ کر کچھ کم کروا دوں؟ اور دیکھتے۔ دیکھتے سر عام بولی لگے گی ۔ مُک مکا ہوگا۔ اور وہ رقم جسے قومی خزانے میں جانا چاہےتھا ۔ جس خزانے سے کار سرکار پہیہ چلتا ہے ۔ وہ رقم ۔ قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات پانے والے ہر قسم کے حفظ و مراتب وصولنے والوں کی جیب میں چلی جائے گی ۔ گویا حکومت نے قومی خزانے سے تنخواہ اور وردی دے کر لٹیروں کو قومی وسائل کو خرد برد کرنے کے لئیے بھرتی کر رکھا ہے ۔کچھ یہی عالم پولیس اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے سبھی چھوٹے ،بڑے ۔ اہم اور غیر اہم سرکاری اداروں کا ہے ۔ محکمہ کسٹم تو محض پاکستان میں کرپشن کے گلشیئر کا نکتہ آغاز ہے ۔کبھی سوچئیے کہ اگر صرف محکمہ پولیس کا ٹریفک ڈپارٹمنٹ جرمانوں کی وہ رقم جو قومی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے پولیس اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے ۔ یہ رقم اگر قومی خزانے میں جمع ہو تو پولیس کی ماہ بھر کی تنخواہ ان سے آسانی سے دی جاسکتی ہے۔ اور نتیجتا قانون کی حکمرانی کا شعور اور رواج بھی ملک میں پھیلے گا ۔ اگر کوئی یہ کہے پاکستان کے اداروں یا کسٹم کے ادارے میں اور ائر پورٹس وغیرہ پہ مکا مکا کی بولی سر عام اور سب کے سامنے نہیں ہوتی تو ایسی حکومت اور ذمہ داروں کو اپنی بے خبری پہ ماتم کرنا چاہئیے ا لاہور ۔ اسلام آباد ۔ کراچی ہر ائر پورٹ پہ بڑے دھڑلے سے اور سر عام ہوتا ہے تو حکومت اور بدقماشی ۔ رشوت اور کرپشن روکنے والے حکومتی اداروں کو اسکی خبر نہیں ؟ ایسے بدقماش اہلکاروں کو سزا دینا۔ دلوانا اور نوکریوں سے فارغ کرنا حکومت کے دیگر فرائض میں سے ایک فرض ہوتا ہے ۔۔ پاکستان میں زکواۃ کے دنوں پاکستانی اپنی رقم بنکوں سے محض اسلئیے نکال لیتے ہیں کہ انہیں حکومت کی زکواۃ کٹوتی پہ بھی شکوک ہیں اور وہ اپنی زکواۃ خود اپنی تسلی سے دیتے ہیں ۔ حکومتی زکواۃ کمیٹیوں پہ یقین نہیں کرتے ۔ حاصل بحث اگرحکومت خود سے کچھ کرنے سے قاصر ہو اورقومی خزانے کو تیل دینے والے عام معلوم اداروں اور عہدیداروں کو کرپشن سے باز نہ رکھ سکے تو ایسے ماحول میں آپ کا ٹیکس گذار کس خوشی میں آپ کو ٹیکس دینے کو تیار ہوگا؟
پاکستان کے اقتصادی و معاشی اور معاشرتی حالات ۔ اندھے بجٹ کے ذریعئے نہیں سدھریں گے۔ اعدادہ شمار کا یہ گورکھ دھندا اگر اتنا ہی مفید ہوتا تو ہر سال غربت میں کمی ہوتی اور ملک و قوم ترقی کرتے جب کہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ ملک میں غربت اور مہنگائی کا عفریت کب کا منہ کھولے عوام کی امیدو اور خواہشوں کو ہڑپ کرچکا ہے اور کئی سالوں سے پاکستان کے غریب عوام مفلسی اور مفلوک الحالی میں محض زندہ رہنے کا جتن کرتے ہیں۔عام پاکستانی شہری کو پاکستان کے سال در سال پیش کئیے جانے والے بجٹوں سے کوئی امید اور توقع نہیں رہی۔ اور پاکستان میں ایک عام خیال جر پکڑ چکا ہے کہ ہر سال بجٹ کے ساتھ اور فورا بعد میں مہنگائی کی ایک تازہ لہر آئے گی جو شدت میں پچلی مہنگائی سے زیادہ ہوگی ۔ اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے عام آدمی کے یوں سوچنا سمجھ میں آتا ہے۔
اگر ملک کی حالت اور قوم کی تقدیر بدلنا ہے تو ۔ بڑے منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ مگر ایک حقیقی تبدیلی اورقومی اقتصادی ترقی کے لئیے ۔ اسکے ساتھ ساتھ گلی محلے سے لیکر گاؤں۔ گوٹھ۔ بستیوں اور شہروں کے لیول کی چھوٹی چھوٹی منصوبہ بندیاں کرنی پڑیگی ۔ ان منصوبوں کے لئیے وسائل ۔ سرمایہ ۔ اور دیانت دارانہ نگرانی ، اہداف کی تکمیل تک حکومت کو سرپرستی کرنا ہو گی ۔ گلی محلے سے لیکر ملکی اور قومی سطح پہ کی جانے والی منصوبہ بندی لوگوں کی مقامی ضروریات کے مطابق ۔ پاکستانی ۔ محنت کش ۔ اور ہنر مندوں کی صلاحیتوں پہ اعتماد کرتے ہوئے ۔ انکی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے کی جائے ۔ انہیں چھوٹے چھوٹے پیداواری اہداف دئیے جائیں۔ حکومتی ادارے اپنی تحقیق سے ایسے اہداف کی نشاندہی کریں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تحقیقی شعبوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اور مطلوبہ پیداوار کی عام منڈیوں میں کھپت ۔حکومت کے فعال اور دیانتدار ادارے کریں ۔ پاکستان با صلاحیت افرادی قوت سے مالامال ہے ، اسکی عمدہ مثالیں فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹریز ۔ گوجرنوالہ میں پنکھے ۔ اور واشنگ مشینیں ۔ اسٹیل کے برتن ۔ گجرات میں پنکھے ۔ فرنیچر ۔ برتن ۔ سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان ۔ لیدر جیکٹس ۔ جراہی کا سامان اور پاکستان میں کئی اور شہروں میں مختلف قسم کا سامان تیار کرنے والوں سے جڑے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور نتیجے میں وہ پیداوار ہے۔ جس سے پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے اور ان شہروں کی عام آبادی مناسب روزگار ہونے کی وجہ سے عام علاقوں کی نسبت خوشحال بھی ہے ۔ ان شہروں میں بہت سی مصنوعات کے چھوٹے چھوٹے جُز پرزے گھروں میں تیار کئیے جاتے ہیں۔ اگر اس جوہر قابل کی مناسب تربیت کر کے اسے قومی پیدوار میں شامل کیا جائے تو قوم کو بہتر نتائج ملیں گے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سی قوموں نے ننھی سطح سے سے مائیکرو منصوبہ بندی کرتے ہوئے نہ صرف پیدواری عمل بڑہایا ہے اور آج صف اول کی قوموں صف میں کھڑی ہیں ۔ بلکہ انہوں نے اسطرح اپنے شہریوں کو روزگار مہیاء کرنے کی وجہ سے ان کا معیار زندگی بھی بلند کیا ہے ۔ جبکہ پاکستان صلاحیتوں سے بھرپور اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے ۔
جب تک قومی وسائل کو بے دردی سے لُوٹنے والوں اور بودی اہلیت کے مالک منصوبہ و پالیسی سازوں سے چھٹکارہ نہیں پاتے ۔چور دورازوں کو بند نہیں کرتے ۔ پاکستان کو دستیاب وسائل کی قدر نہیں کرتے ۔ اور بھرپور طریقے سے انہیں استعمال میں نہیں لاتے ۔ بنیادی تبدیلی کے لئیے مناسب اور مائکرو منصوبہ بندی نہیں کرتے ۔ افرادی قوت کی مناسب رہنمائی اور تربیت نہیں کرتے تب تک معاشریہ ان چھوٹی بنیادوں۔ اور اکائیوں سے اوپر نہیں اٹھے گا اور تب تک ایک باعزت قوم بننے اور اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کا خوآب ادہورا رہے گا ۔ ہم خواہ کس قدر قابل عمل بجٹ بناتے رہیں نتائج وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہیں گے اور قومی ترقی کا خوآب محض خوآب ہی رہے گا۔ سال گزرتے دیر نہیں لگتی ۔ جون 2015 ء میں ایک بار پھر وہی تقریر اور لفظوں کا ہیر پھر محض ایک خانہ پری ہوگی۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔


پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔whats-your-name

ہمارے ملک میں عام طور پہ بچے کے دو نام رکھے جاتے ہیں ۔
بچے کی علیحدہ سے شناخت کے لئے۔ اسکا نام ۔اس کے والد کا نام ۔ قبیلہ ۔ اور ذات، برادری بمعہ محلہ ،بستی، گاؤں ،گوٹھ ، ڈاک خانہ ،شہر ،تحصیل و ضلع۔ لکھ دیا جاتا ہے ۔
مگر اس کے باوجود ایک ہی محلے میں ایک ہی جیسے ناموں والے دو یا تین لوگ پائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اجنبی لوگوں کو کسی خاص فرد کی تلاش و بسیار میں اور محکموں کی کسی ضروری کاروائی کے دوران بہت سے لطیفے جنم لیتے رہتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایک نام کے کئی افراد ہونے کی وجہ سے پریشان کُن اور افسوس ناک صورتحال بن جاتی ہے۔ خط ایک ہی جیسے نام والے دوسرے افراد کو پہنچ جاتا ہے ۔یا مغالطہ میں لوگ غلط فرد سے معاملات کر لیتے ہیں۔
جبکہ بہت سے ممالک میں باپ کا خاندانی (بعض ملکوں میں قبائلی) نام اور ماں کا خاندانی نام بچے کے نام کے ساتھ لازمی جز کے طور لکھا جاتا ہے جو تا حیات اس کے نام کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اور صرف نام سے ہی کسی کو الگ سے شناخت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ کیونکہ صدیوں سے رائج ایسے ناموں کے نظام میں انتہائی مشکل سے ہی شاید کبھی دو ایک جیسے نام اور باپ کا خاندانی اور ماں کا خاندانی نام یعنی یہ نام دو یا دو سے زائد افراد کے ہوں۔
یوں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر عام اداروں اور لوگوں کو بھی کسی سے رابطہ کرنے ، اور درست فرد کے ساتھ معاملات کرنے میں دشواری نہیں ہوتی ۔
پاکستان میں تو شناخت کئی طریقوں سے کروا ئی جا سکتی ہے۔ اور ایک دیسی طرز کے ہمارے نظام میں کئی لوگ کسی کی شہادت اور شناخت میں مدد گار ہوں گے۔ اور شناختی کارڈ بننے سے یہ مسئلہ کچھ بہتر ہوا ہے ۔ حالانکہ آج بھی پاکستان میں عام آدمی کم ہی کسی کو اسکی شناختی کارڈ کی وجہ سے شناخت کرتا ہے ۔ عام طور پہ ارد گرد کے لوگ ہی سوال و جواب کی صورت پتہ و مقام بتا دیتے ہیں۔
مگر جب پاکستانی اپنے ممالک سے باہر جاتے ہیں تو وہاں پہ فیملی نام نہ ہونے کی وجہ سے اور ایک ہی شہر میں ایک ہی نام سے دو سے زائد پاکستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف دہ صورتحال جنم لیتی ہیں ۔ جس میں بنکوں کے اکاؤنٹ بلاک ہونے سے لیکر مختلف محکموں کے واجبات اور بل اور جرمانے وغیرہ ان لوگوں کے اکاؤنٹ سے کٹ جاتے ہیں جو ایک جیسے نام کی وجہ سے یہ تکلیف بھگتتے ہیں اور بعدمیں صورتحال کا درست علم ہونے پہ۔متعلقہ اداروں سے اپنی رقم واپس لینے کے لئے سر پھٹول کرتے پائے جاتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو رقم کی وصولی ۔یا پاکستان رقم بھیجنے پہ محض اس لئے نہیں وصول کی گئی کہ بھیجنے والے یا وصول کرنے والے کا نام بلیک لسٹ کیے جانے والے کسی مبینہ دہشت گرد کے نام کی طرح نام تھا۔
پاکستانی اداروں اور خاص کر ۔ نادرہ ۔ کو اس صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ تانکہ بہت سے لوگ غیر ضروری طور پہ اس طرح کی صورتحال سے بچ سکیں ۔ نیز انہیں کسی سطح پہ یہ اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ دیگر ممالک کے محکمہ داخلہ کے علم میں یہ بات لائی جائے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش پہ عام طور پہ محض دو نام رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن کا خاندانی نام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بچے کے نام کے ساتھ خاندانی نام رکھنے کی پابندی نہیں اور نہ ہی اس کا رواج ہے۔ تانکہ ایک ہی جیسے نام رکھنے والے پاکستانیوں کو در پیش مشکلات میں سرکاری اداروں کو رہنمائی ہو سکے اور غیر متعلقہ لوگ عتاب یا پریشانیوں کا باعث نہ بنیں ۔
اسی طرح ایک اور مسئلہ جو بہت اہم ہے ۔ وہ ہے مقامی ، اردو، عربی اور فارسی کے ناموں کو انگریزی میں درج کرتے ہوئے انکے درست ہجوں کا ۔ مثال کے طور پہ ۔ محمد کو انگریزی میں لکھتے ہوئے ۔ بہت سے سرکاری ادارے اور خاص کر پا سپورٹ آ فسوں میں کلرک حضرات Mohammed اور Muhammad ان دو طریقوں سے لکھتے ہیں ۔ یعنی کہیں انگریزی کا حرف ”یُو“ ۔ اور کہیں انگریزی کا حرف ”او“ کے ساتھ ”محمد “ لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ پاکستان میں بہت سے ناموں کے ساتھ ہے ۔۔ جن میں ۔جاوید۔ صدیق۔ اور دیگر کئی نام آتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے کلرک بابو ۔ ایک ہی فرد کا نام ۔ پاسپورٹ۔ اور دیگر کئی دستاویزات ۔ برتھ سرٹیفیکٹ ۔ نکاح نامہ وغیرہ پہ جن کا انگریزی میں ترجمہ کروانے پہ ۔ مختلف ہجوں سے لکھ دیا جاتا ہے ۔ جس سے غیر ممالک میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔ بلکہ سائل کو کئی بار اور کئی ماہ دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور خواری الگ سے ہوتی ہے۔
ہماری ذاتی رائے میں ۔ حکومت پاکستان کی ایماء پہ۔ نادرہ پاکستان میں رائج اور مستعمل ناموں کی ایک فہرست تیار کرے اور اسے لغات کی طرز پہ اردو کے سامنے درست انگریزی نام تجویز کرے۔ اور اس فہرست کو سبھی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھیج دیا جائے اور عام افراد کے لئیے اسے نادرہ کی ویب سائٹ پہ آن لائن شائع کر دیا جائے ۔تانکہ عام افراد اور نجی ادارے بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ نیز سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو آئیندہ کے لئیے پابند کیا جائے کہ وہ نادرہ کے۔ منظور و شائع کردہ ۔درست نام کے ساتھ دستاویزات جاری کریں گے۔ تانکہ مستقبل میں ایسی الجھنوں سے بچا جاسکے۔
کسی بھی حکومت ۔ متعلقہ اداروں اور ذمہ دار افراد کے لئیے یہ ایک معمولی مسئلہ ہے ۔ جسے حل کرنا چندا ںمشکل نہیں ۔ جس سے ۔اندرون و بیرون ملک پاکستانی بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔اور ملک کی جگ ہنسائی نہیں ہوگی۔

 

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔



جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔

جاوید چوہدری صاحب!۔آپ اپنی دانست میں ۔پاکستانی میڈیا کا بھرپور دفاع کررہے تھے۔ اور جب مختلف ذرائع سے آپ کے کالم کی سابقہ تین اقساط پہ ۔اعتراضات و حقائق سامنے آنے شروع ہوئے ۔تو آپ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہوئے۔ کالم کی چوتھی اور آخری قسط میں ۔اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے آخر کار یہ تسلیم کر لیا۔کہ آپکا بیان کردہ مثالی میڈیا دودھؤوں نہایا ہوا نہیں۔ میڈیا خامیوں سے پاک نہیں ۔ میڈیا میں نالائق لوگ موجود ہیں۔آپ لوگ شرفاء و غیر شرفاء دونوں کو یکساں طور پہ بلیک میل بھی کرتے ہیں۔نیز آپ لوگوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔


بہتر ہوتا آپ کسی ایک آدھ کالی بھیڑ کی نشاندہی کرتے۔ آپ نے پاکستان کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تو نام لیکر۔ ان کے مناصب کا ذکر کر کے۔ ان کی مبینہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ جب کہ آپ کتنی سمجھداری (یا عقل کی عیاری) سے اپنی برادری کے کسی ایک فرد کو بے نقاب نہیں کر سکے؟ اور ایسا کرنے سے دیدہ و دانستہ گریز کر گئے۔آخر کیوں؟۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے دیگر ساتھی۔ جو دوسروں کو بھرے بازار میں ننگا کر دینے میں۔ غیر معمولی قدرت اورمہارت رکھتے ہیں۔ جو شرفاء کے کپڑے اتارنے میں ذراجھجک محسوس نہیں کرتے ۔اپنی ”باخبری“کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ پاتال سے سچائی ڈھونڈ لانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرنے کے اقدامات کرنے کے ارشادات کرتے ہیں۔ میڈیا کی قربانیوں کا تسلسل سے پراپگنڈاہ کرتے ہیں۔ اور جن کا آپ بے سود دفاع کر رہے۔ جن سے تعلق۔ اور جنکا ایک اہم رکن ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہے۔ وہ قلم جس کی سچائی کے بارے آپ کا طبقہ پیغمبران کے شیوہ اور سنت کا ڈھنڈوارا پیٹتا ہے۔ قلم کو نبیوں کی میراث بیان کرتے نہیں تھکتا۔ تو جب آپکی اپنی برادری کی بات آئی ۔ تو آپ کمال ہوشیاری سے کوئی ایک نام لئیے بغیر۔ کسی ایک واقعے کا تذکرہ کئیے بغیر ۔ اپنی برادری کے متعفن کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے ۔ محض از سر راہ چند ایک ”کالی بھیڑیں“ کہہ کر کے آگے نکل لئیے؟۔ آخر کیوں؟؟۔


اس کیوں کا ایک سادہ سا جواب ہے ۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے۔جسکے معانی کچھ یوں بنتے ہیں” تُم میری پیٹھ دھوؤ میں تمہاری پیٹھ دھوتا ہوں“۔ اس ضرب المثل کے عین مطابق آپ اور آپ کی برادری ۔ ایک دوسرے کو ہر جائز۔ نا جائز پہ تحفظ دیتے ہیں۔ دریا میں میں جب سبھی ننگے ہوں تو ایک دوسرے کو ننگے ہونے کا طعنہ کون دے؟۔ آپکے کاروباری مفادات۔ آپ سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کہ اپنی برادری کے کسی فرد پہ انگلی نہ اٹھائی جائے۔ آپکی برادری کے اکا دکا لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف۔ اس وقت ایک آدھ کالم لکھا ۔ جب انکے اپنے ذاتی مفادات پہ حرف آیا۔ جب انکی کسی خاص ”وفاداری“ کو مشکوک ٹہرایا گیا۔ کیا آپ کوئی ایک ایسی مثال اپنی یا اپنی برادری کی بیان کرسکتے ہیں؟ ۔ جس میں انہوں نے اپنی کسی برادری کے فرد کا نام لے کر۔ اسکے اعمال کو اسلام۔ قوم ۔ ریاست کے مفادات کے منافی قرار دیا ہو؟۔


آپ اپنی اسی کالم کی مثال دیکھ لیں ۔ اس کالم میں آپ نے موضوع سےہٹ کر۔ دوسرے کتنے طبقات و شعبہ ہا ئے جات کو رگیدا ہے ۔ ملوث کیا ہے۔ انکی مثالیں دیں ہیں۔ بعض کو برا جانا ہے۔ مگر کس لئیے؟ محض جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئیے۔ اپنی سبھی خامیوں اور غلطیوں کے درست ہونے کا جواز پیش کرنے کے لئیے۔ آپ بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا اس موضوع سے تعلق بنتا ہے۔ کہ یہ مذکورہ لوگ بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں آپ سانس لے رہیں۔ مگر حضور جاوید صاحب!۔ عوام کی عدالت میں آپ۔ اپنی اور اپنی برادری کی صفائی پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام کی اس عدالت میں۔ اس کٹہڑے میں۔ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیاہے۔ آپ بتائیں۔ کبھی آپ نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کسی عدالت میں کسی ملزم کو یہ کہتے سنا ۔ کہ جج صاحب ۔ میں نے اسلئیے قتل کیا ۔ میں نے اس لئیے چوری کی۔ میں نے اس لئیے جرم کیا ۔ کہ ہر شہر میں ۔ ہر علاقے میں قتل ہو رہے ہیں۔ چوریاں ہورہی ہیں۔ جرم ہورہے ہیں۔ اسلئیے ازخود مجھے بھی یہ سبھی جرائم کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے؟۔ حضور ۔ اسطرح تو یہ دنیا کا بودا ترین دفاع ہوگا ۔ ناقص ترین صفائی ہوگی۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس مشق سے ۔ آپ کے اس سلسے وار کالم لکھنے سے ۔ عوام ۔آپ اور آپکی برادری سے ۔ اور پاکستانی میڈیا سےمطمئن ہوگئے ہیں؟۔ آپ لوگوں کی دیانت۔پارسائی۔ شرافت۔ سچائی ۔پہ ایمان لے آئے ہیں؟۔ اگر آپ یوں سمجھتے ہیں۔ تو آپ عوام کو مذید بد گمان کر رہے ہیں۔مزید اعتراضات اٹھانے کا موقع دیں رہے ہیں۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے میڈیا کے دیگر کالم نگار و میزبان وغیرہ۔ کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتے ۔کہ وہ اپنی برادری میں سے کسی کے بارے حقائق بیان کر سکیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ اور اس دوہرے معیار کو حرف عام میں عوام ”منافت “ کہتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ وہ ایسا سمجھنے میں کیوں کر حق بجانب ہیں۔


ایک قابل صحافی جب کسی کے بارے واقعہ لکھتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے ۔ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مبینہ ملزموں کے بارے ہمیشہ ” مبینہ “ طور پہ لکھتا ہے۔ جبکہ آپ اپنے کالم کی اسی آخری قسط میں۔ یہ تسلیم کئیے ہوئے ہیں۔ یا کم از کم عوام کو یہ بالا کروانے پہ مصر ہیں۔ کہ یہ فلاں فلاں لوگ کرپٹ ہیں۔ راشی ہیں۔ مجرم ہیں۔ لہذا میڈیا کو بھی ایسا کرنے کا حق بعین پہنچتا ہے۔ یہ ایک ننھی سی مثال ہے کہ آپ اور آپ کی دیگر برادری ۔ آپکا میڈیا ۔کس طرح حقائق کو توڑ موڑ کر اپنی من مرضی کا رنگ دیتا ہے اور عوام کوغلط تاثر دیتا ہے۔ اس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی رائے عامہ کو غلط طور پہ تعمیر کرتا ہے ۔ اسکی وجہ ان مذکورہ ملزمان میں سے اکثر کے ساتھ آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری اختلافات ہوتے ہیں۔ جنھیں آپ بھرے بازار میں ننگا کر رہے ہیں ۔وہ بھی بھلا عوام کے لئیے کسی فرعون جابر سے کم نہ ہوں گے ۔ مگر بہر طور وہ فرعون۔ چور ہونے کی وجہ سے ۔کسی طور آپکے سامنے مجبور ہیں ۔ کیونکہ انکا کاروبار بھی آپ لوگوں کی معاونت اور پروپگنڈے کا محتاج ہے۔اور جسکا آپ لوگ بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انھیں بلیک میل کر کے ۔ من پسند لوگوں کے عیوب پہ پردہ ڈال کر ۔ انکے حکومتی عہدوں اور رسوخ سے من پسند مراعات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں کی ہر پوش آبادی میں آپکے لئیے کروڑوں کی مالیت کے پلاٹ کیوں کر مختتصص کئیے جاتے ہیں؟۔ پاکستانی حکومتوں کو قومی ملکیت کے قیمتی پلاٹس بندر بانٹ کے طور بانٹنے کا استحاق کسی طور پہ حاصل نہیں ہونا چاہئیے ۔ وہ قیمتی پلاٹس آپکا اور آپکی برادری کا منہ بند رکھنےنے کے لئیے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ لفافوں۔ مفت کے عمروں۔ مفت کے حجوں ۔ یوروپ و امریکہ اور دنیا میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں اقامت۔ دوروں کے شاہانہ اخراجات ۔ ذاتی رسوخ۔ پرچی اور سفارش کی بلیک میلنگ۔ انگنت مکروہات ۔ آخر آپکا ۔ آپکی برادری کا قلم ایسے گھناؤنے موضوعات پہ ۔ ایسے پلاٹوں کی بندر بانٹ پہ شعلے کیوں نہیں اگلتا؟ ۔ اور جن سے آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔ آپ انھیں پارسا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ اگر اصرار کریں گے تو کئی ایک مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ جبکہ یہاں آپکی یا کسی اور کی عزت کو کھینچنا ہمارا مقصد نہیں۔


آپکی اس منطق کے قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے ۔ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خسارے کا کاروبار کر رہاہے؟ ۔ اگر آپ کی اس بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اس ”خسارے“ کو اربوں روپے کمانے والے لوگ کہاں سے پورا کر رہے ہیں؟۔ اور کیونکر وہ خسارے کا کاروبار نباہ رہے ہیں؟ ۔ دوسو کروڑ سے ایک ٹی وی ادارہ قائم کرنے والے اور ایک اخبار جاری کرنے کے لئیے پچاس کروڑ روپے خرچ کرنے والے ۔ خسارے کا کاروبار محض پاکستانی عوام کو باعلم رکھتے ہوئے باشعور بنانے کی محبت میں کر رہیں؟۔ حضور جاوید صاحب آپ۔ ہماری اورقارئین اکرام کی ذہانت کا مذاق تو مت اڑائیں؟۔ آپ کس کو دہوکہ دینا چاہتے ہیں؟۔


حضور جاوید صاحب!۔ پاکستانی میڈیا سے چلتے اشتہارات ۔جن سے عام طور پہ فحاشی اور عریانی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ ایسے اشتہارات کا آپ نے کمال چابک دستی سے دفاع کیا ہے ۔ کیا آپ عوام کو اسقدر سادہ سمجھتے ہیں؟ یہ عوامی ذہانت کی توہین ہے۔ اس ضمن میں آپ نے اپنا سارازور بیاں اشتہارات کےکیونکر ضروری ہونے کو بنیا د بنا کر۔ اصل موضوع سے صرف نظر کرتے ہوئے ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو مارکیٹنگ پہ درس دینا چاہا ہے۔ اشتہارات کی مد میں جو نکتے آپ نے بیان کئیےہیں۔ اتنا سا نکتہ ۔اتنی سی بات تو گلی محلے کا ۔ایک عام دکاندار اور عام سی دانش کا مالک کوئی بھی فرد سمجھتا ہے ۔جبکہ آپ بھی جانتے ہیں اور میڈیا کو بھی بخوبی علم ہے۔کہ عوام کو اشتہارات پہ نہیں ۔ بلکہ فحش اور عریاں ۔ اور پاکستانی ثقافت اور رہن سہن سے میل نہ رکھنے والے اشتہارات پہ اعتراضات ہیں ۔ کیا میڈیا مالکان اور وہ انتظامیہ جن کا آپ بڑی شدو مد سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ شرافت اور اخلاق کے دائرے میں بنے اشتہارات کو شرط رکھ لیں۔ تو کیا انکی آمدن میں کمی واقع ہوجائے گی؟۔آپکے اور آپکے دلائل کے قربان جاؤں۔ کیا ایسے میڈیا مالکان۔ یا انکے چند ایک کروڑ روپوؤں کو بنیاد بنا کر عریانیت ۔ فحاشی ۔ غیر اسلامی ۔ غیر پاکستانی اور بھارتی ثقافت کو پوری قوم پہ مسلط کر کے ۔ ایک پوری ریاست ۔ پوری قوم کا ستیاءناس کرنا جائز تصور کر لیا جائے؟۔ حضور یہ ان ”کروڑوں“ روپے کی چکا چوند ممکن ہے آپ کی نظروں کوخیرہ کرتی ہو۔ مگر عوام ایسی چکا چوند جس کی بنیاد قوم فروشی ہو ۔ اس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔


آپ تسلیم کرتےہیں ۔ ۔ کہ کسی ”ایشو“ کو” نان ایشو“ بنانا۔ اور کسی” نان ایشو“ کو ”ایشو “بنانے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اور اچانک آپ نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ ۔ میڈیا کے مالکان۔ میڈیا کی انتظامیہ پہ ڈال دیا ہے ۔حضور جاوید صاحب! ۔ پھر آپ نے اس اہم مسئلے کو اپنے کسی کالم میں ۔ اپنے کسی پروگرام میں کیوں موضوع نہیں بنایا ؟۔ حسب معمول ۔ اپنی کسی ٹی وی محفل میں کیونکر میڈیا مالکان اور انتظامیہ اور فریق مخالف کو آمنے سامنے بٹھا کر ۔یعنی عوام کے ۔ معاشرے سے ۔پاکستانی شہریوں کے نمائیندوں کو مدعو کر کے۔ سوالات و جوابات اور وضاحت کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا؟۔ آخر کیوں؟۔ جب کہ کسی معمولی سے مبینہ اسکینڈل پہ آپ لوگ شرفاء کو ننگا کرنے کے لئیے فوراَ زر کثیر خرچ کر کے پلک جھپکنے میں ایسے ایسے بندوبست کر لیتے ہیں ۔ کہ عقل حیران رہ جاتی ہے؟۔ تو پھر عوام کے اعتراضات کے بجا ہونے پہ بھی ۔ آپ کو کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔


آپ کے اس سارے لمبے چوڑے کالم میں۔ ان سبھی اقساط میں جس افسانے کا ذکر نہیں۔ وہ بات ۔ اسکا تذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ اور وہ ہے۔ وہ اعتراف نامہ اور اسکے نتیجے میں عوام سے تعلقات کی تجدیدنو کا ذکر۔ جسکا آپکے کالم کی ان چار اقساط میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔اتنی لمبی چوڑی مشق کے بعد قارئین اکرام ۔ آپ سے یجا طور پہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ بیان کرتے کہ ۔ہم سے ۔ میڈیا سے۔ پاکستانی میڈیا سے جو خامیاں ۔کوتاہیاں ۔ بلیک میلنگ۔ اسلام پہ تمسخر۔علماء کا ٹھٹا اڑانا ۔ اسلامی روایات کا مذاق۔مثلا ۔حجاب ۔ نقاب۔ مولبی مولبی کہہ کر داڑھی ۔ سر ڈھانپنے کے لئیے پگڑی۔ ٹوپی وغیرہ جیسی اسلامی شناختوں اور علامتوں کا اسہتزاء اڑانا ۔پاکستانی قوم کو متواتر احساس کمتری کے ٹیکے ۔ بھارتی ثقافت کی یلغار۔ اشتہارات میں عریانی اور فحاشی۔ ناچ گانے اور اسطرح کے دیگر لغویات کو پاکستان اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کا نام دیکر مادر پدر آزاد بھونڈی تقریبات کا انعقاد۔ تسلسل کے ساتھ متواتر بے حیائی کا فروغ۔ ہر قسم کی اخلاقی قدغن سے بالا پروگرامز ۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے قومی مفادات کے لئیے پاکستانی میڈیا کو پاکستانی مفادات کے خلاف خوب استعمال کرنا ۔ اسلام دشمن تہذیبوں کو رواج دینا ۔ اور ڈرؤن حملوں میں مارے جانے والے بے کس پاکستانی عوام ۔ خواتین ۔ بزرگ اور خصوصی طور بہیمانہ طریقے سے قتل کئیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی اسی طرح ”ہائی لائٹ“ کرنے کا وعدہ۔ جس طرح آپ ۔ آپکے ساتھی۔ اور آپکا ۔ پاکستان کا میڈیا ۔امریکہ اور دیگر طاقتوں کی ایماء پہ۔ ان کے منظور نظر لوگوں کو۔ محض اسلام کو کسی طور بدنام کرنے کے لئیے ہائی لائٹ کرتا ہے۔ کوریج دیتا ہے۔ اور دیگر معاملوں پہ ۔ میڈیا کو درست کرنے کی اپنی سی کوششوں کا وعددہ کرنا۔ پاکستانی صحافیوں میں ملک قوم۔ اسلام و پاکستان کا درد رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکال کر (جو بہت سے لوگ ہیں) انہیں کسی تنظیم کی لڑی میں پرو کر۔ میڈیا مالکان ۔ میڈیا مفادات کے عیار تاجروں کو راہ راست پہ لانے کی سعی کرنا۔ آپکے اتنے لمبے چوڑے چار اقساط پہ مشتمل کالم میں اسطرح سے کسی کوشش کا کوئی ذکر۔ کوئی تذکرہ ۔کوئی اشاراتی یا واضح بات ۔ کوئی سراغ ۔ کچھ بھی تو نہیں؟۔ آپکے کالم کی پوری چار اقساط میں آپ نے پاکستان میں رائج عامیانہ طریقے سے قند مکرر کے طور اپنی ۔ اپنی براداری ۔ پاکستانی میڈیا ۔ حتٰی کہ پاکستانی میڈیا سے چلتے فحش اشتہارات تک کا دفاع کیا ہے ۔ جبکہ راست اقدام یا عوام سے محبت و تعلقات کی تجدید نو کی کسی ایسی کاوش یا کوشش کا ذکر نہیں ۔ جس سے عوام کے جائز اور ٹھوس اعتراضات کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے؟۔


آپ نے اپنے کالم میں کم ازکم ۱۸ اٹھارہ مرتبہ یہ شکوہ کیا کہ عوام آپ کو اور پاکستانی میڈیا کو یہود انصارٰی کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ کم از گیار ہ ۱۱ مرتبہ شکایت کی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو گالی دی جاتی ہے۔ محض اپنی علمیت جتانے کے لئیے۔ اور قوم کو صابن تیل کا بھاؤ بتاتے ہوئے۔ جب اچانک آپ جیسے ”باخبر“ دانشور امریکہ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”نیوز ویک“ میگزین کے بارے میں یوں ارشاد فرمائیں گے ۔” یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا “ تو آپکی ”باخبری“ اور ”دانشوری “پہ سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی آپ نے یہ جاننے کا اہتمام کیا ۔ کہ نیوزویک نے دیگر اکثر مغربی جرائد کی طرح ۔ اپنے مخصوص طریقہ کار سے۔ اسلام ۔ اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات ۔ اور اسلامی ممالک کے بارے کس قدر غلط فہمی پھیلائی ہے۔ آپ کو پاکستانی قوم کو صابن۔ تیل کا بھاؤ بتانے کے لئیے کیا اس عمدہ کوئی مثال نہیں ملی؟ ۔ اور اگر اس میگزین کا حوالہ دینا ہی ضروری ٹہرا تھا ۔ تو اسے دنیا کا ” معتبر ترین جریدہ “ کہنا اور بیان کرنا کہ اس نے” دنیا کی پچھلے اسی ۸۰ سال سے رہنمائی کی“؟۔ کیا یوں ارشاد کرنا ضروری تھا؟ ۔ حضور جاوید صاحب ! ۔ لفظ” معتبر“ کا تعلق ”اعتبار“ سے ہے۔ اور اس ”دنیا “میں ”مسلمان“ بھی شامل ہیں ۔جو اسطرح کے رسائل اور جرائد پڑھتے ضرور ہیں ۔ مگر ان سے رہنمائی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا اعتبار رکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں مشکوک جانتے ہیں۔ یہ جو آپ بڑے ”دھڑلے“ سے اسطرح رائے عامہ کو غلط معلومات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جیسے آپ نے موضوع سے ہٹ کر مسلمانوں کی نظر میں جائز طور پہ مشکوک ۔ نیوز ویک کو معتبر اور اسی ۸۰ سال سے دنیا کی رہنمائی کرنے والا جریدہ بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام کو یہ خبر ہے کہ اس سلسلے کو اگر آج نہ روکا گیا۔ پاکستانی میڈیا اور آپ جیسے دنشواران کی اسطرح کی بظاہر بے تکی مگر نہائت طریقے سے مرتب کی ہوئی کوششوں پہ مناسب ردعمل نہ دیا گیا ۔ تو پاکستانی میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کا کوئی اعتبار نہیں کہ کل کلاں کو ملعون رشدی کو کو بھی ایک عظیم رائٹر یا معتبر دانشور قرار دے دے۔ تو اسلئیے عام قاری آپ کو اور آپ جیسے افراد کو مختلف القابات و خطابات سے نوازتا ہے۔اور آپکا اس پہ چیں بہ چیں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔


عوام جانتے ہیں ۔ کہ پاکستانی میڈیا سے اسلام کو متشدد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پہ آپکا میڈیا پر امن اور با خلوص لاکھوں کے جلوس اور جلسوں کو کوریج دینے کی بجائے محض ان شرارتی اور جرم پیشہ لوگوں کی تھوڑ پھوڑ ۔ چور چکاری۔ اور چھینا جھپٹی کو بار بار ہزار بار میڈیا پہ ٹاپ ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ جبکہ آپ جیسے ”باخبر“ اور ”دانشور “ میڈیا کے لوگ یہ جانتے ہیں۔ اور یہ بات ریکارڈ پہ موجود ہے کہ اسطرح کے بڑے جلوسوں اور جلسوں میں ہماری عزت مآب ایجنسیوں کے اہلکار ۔ انکے لے پالک۔ اور جرائم پیشہ لوگ محض حکومت کی مخالفت کی ایماء پہ یا مالی مفاد کے لئیے جان بوجھ کر ایسی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ جس سے ممکن ہے کہ ان میں حکومت اور معاشرے سے شاکی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہونگے۔ اور پھر ایک خودکار نظام کے تحت سبھی چینلوں سے ایک پروگرام کے تحت ۔ اور تقریبا سبھی اخبارات میں اسلام پسندوں پہ کالموں کے کالم سیاہ کئیے جاتے ہیں۔ اسے بہانہ بنا لیا جاتا ہے ۔ محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسلام پسندوں اور علماء کو ۔ پاکستانی حکومتوں سے احتجاج کرنے والوں کو۔ خوار کرنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے علاوہ بھی کوئی بھی اسلامی یا قومی مسائل پہ ہونے والے جلسے اور جلوسوں کا کم و بیش یہی حشر بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے میں بنیادی فریق آپکے بیان کردہ مثالی میڈیا کا کردار ہوتا ہے۔

حال میں پاکستانی میڈیا سے۔ غیر ملکی طاقتوں کی گود میں کھیلنے والوں کو ۔ اپنے راتب کو جائز ثابت کرنے والوں کو ۔ دین و ملت فروشوں کو ۔ اسلام کے خلاف موضوع فراہم کرنے والوں کو ۔ شرعی حدود کو بدنام کرنے والوں کو ۔ پاکستانی عوام کو متشدد ثابت کرنے کے لئیے عالمی میڈیا اور دنیائے عالم کے عوام کو نت نئے موضوعات پہ جعلی ویڈیوز۔ خبروں۔ اور تجزئیوں کو بغیر تصدیق کئیے اس قدر کوریج دی گئی ۔ پھیلایا گیا ۔ کہ  وہ ویڈیوز ۔ تصاویر جعلی ہونے کے باوجود ۔ آج تک عالمی میڈیا میں پاکستان ۔ اور اسلام کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ حضور جاوید صاحب ۔ جس طرح نیکی اور خیر کا کےتادیر ثمر ات دینے والے کاموں کو ”صدقہ جاریہ“ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذلت کے دیرپا کاموں پہ ”ذلت جاریہ“ کی صورت میں لعنتیں برستی ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کے راتب کھانے والے اسلام فروشوں ۔ ملت فروشوں کے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دیگر لوازمات ۔ آپکے میڈیا کے پھیلانے سے وہ ساری دنیا میں ۔اسلام ۔ پاکستان ۔ پاکستان کے عوام کے خلاف ایک متواتر ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں۔ خدا جانے جس کا خمیازہ قوم کب تک بھگتی رہے گی۔ دنیا کے میڈیا میں جاری و ساری ان تمام جھوٹی اور جعلی شہادتوں کی” ذلت جاریہ“ تا قیامت اور قیامت کے بعد بھی یہ لوگ بھگتیں گے ۔ جنہوں نے ” کرڑؤں“کی چکاچوند سے متاثر ہو کر۔ قوم فروشی میں ہاتھ رنگے۔


عوام جنہیں آپ نے اپنے کالم کی اس سیریل کی پوری مشق میں۔ عقل سے عاری سمجھا ہے اور انکی ذہانت کی بار بار توہین کی ہے۔ وہ عوام ۔آپکی طرح اس بات کے پابند نہیں کہ وہی بات کہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ مجبوری ہے۔ کہ آپ جس کا کھاتے ہیں اس کے گیت گانے پہ مجبور ہیں۔ مگر عوام اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار نہ کرنے پہ مجبور نہیں۔ مارکیٹنگ کے سنہرے اصول بیان کرتے ہوئے مارکیٹ کا یہ بنیادی نکتہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں۔ جو جنس بازار میں آئے گی۔ اس پہ بھاؤ اور مول تول تو ہوگا۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جمہور تو مفت کے لنگر اور بلامعاوضہ خدمات پہ بھی چوں چرا کرنے سے باز نہیں آتا ۔تو جب آپ ایک معقول تنخواہ لیکر عوام کی توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ تو عوام کی ایسی کونسی مجبوری ہے جو وہ آپکو معاف رکھے؟۔


اگر پھر بھی آپ عوام سے۔ جمہور سے۔ قند مکرر کے طور پہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ عوام کو باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ۔ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ تو گزارش ہے اسمیں بھی آپ کا ۔ آپکی برادری کا ۔ پاکستانی میڈیا کا قصور ہے ۔ جو آزادی کے ۔ آزاد میڈیا کے دعوے تو بہت کرتا ہے ۔ مگر کسی طور عوام کی یا کم از کم اپنے قارئین اور ناظرین کی فکری تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ جب پاکستانی میڈیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پہ رقیق حملے کرنے والے امیتابھ بچن جیسے لوگوں کی بہوؤں کے حاملہ ہونے ۔ انکے دادا بن جانے کو ہی ایشو بنا کر پیش کرے گا۔ تو آپ ہی بتائیے عوام کو کیا پڑی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو سات سیلوٹ کرے۔ ممکن ہے آپ کی۔ یا آپکی طرح کے دیگر دانشوروں کی تو روٹی روزی کی ضمانت ہی اس طرح کے قوم فروشی کے ایشوز سے جڑی ہو؟۔ تو عوام کس حساب میں ۔آپ لوگوں کی تعریف و توصیف کرتے پھریں۔ حضور جاوید صاحب ! یا تو آپ بہت سادہ ہیں۔ یا بہت چالاک۔


حضور جاوید صاحب ۔آپکی یہ منطق بھی درست نہیں ۔آپ کا یہ نکتہ بھی درست نہیں۔ کہ میڈیا پاکستانی عوام کو مفت تفریح اور معلومات بہم پہنچاء کر احسان کر رہا ہے ۔یہ عوام ہی ہیں ۔ اس پاکستانی قوم ہی کی وجہ سے۔ آپکے میڈیا کو اشتہارت ملتے ہیں۔ میڈیا کا دانہ۔ پانی چلتا ہے۔ اس میں سے آپ کوبھی مشاہیرہ ملتا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کا اربوں کا نظام کاروبار چلتا ہے۔ اور آپ اور نہ آپ کا مثالی میڈیا ۔عوام کو مفت میں تفریح یا معلومات مہیاء کر رہا ہے۔ بلکہ عوام آپکے کسٹمرز ہیں اور دنیا بھر میں رائج منڈی کے اصولوں کے مطابق ۔ آپ کو ۔ آپکے دودھؤں نہائے میڈیا کو۔ اپنے کسٹمرز کے ۔ اپنے عوام کے مطالبات کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ کہ کسی طور وہ آپکی تنخواہ اور دیگر لوگوں کے معاوضوں اور منافعوں کا باعث ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو ۔ آپکی برادری کو ۔ عوام کا احسانمند ہونا چاہئیے ، کہ پاکستان کے دیگر شعبات جات کی طرح آپ بھی اپنی من مانی کر کے ۔ عوام پر ہر وہ اشتہارتی عریانی و فحاشی اور نظریاتی ۔ کالم اور پروگرام مسلط کر رہے ہیں ۔ جو عوام کے مطالبے سے یکسر متضاد ہیں۔ اور اسکے باوجود عوام آپ سے محض گلہ کر کے رہ جاتے ہیں۔


آپ نے اتنی بار عوام کی جانب سے اپنے آپ اور میڈیا کو۔ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ کہنے کی تکرار کی ہے ۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ عوام بہر حال یہ بھی جانتے ہیں۔ کہ یہود نصاریٰ بھی انھی کو اپنے مفادات کا ”ایجنٹ“ مقرر کرتے ہیں۔ جن کے پاس ”کچھ“ علم ۔ شعور ۔ اور بات کہنے کا طریقہ ہو۔ میٹھے میں زہر ملا کر پلا دینے کا فن جانتے ہوں، ۔ جوانکے مفادات کا تحفظ بہتر طور پہ کرسکتا ہو۔ یہودو نصاریٰ کو کیا پڑی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں۔ آپ جیسے یا دیگر لوگوں کو اپنا ”ایجنٹ “ بناتے پھریں؟۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو اپنے”ایجنٹس“ مقرر کرتے۔ تو وہ قومیں کبھی کی دنیا سے معدوم ہوچکی ہوتیں۔ وہ قومیں ہماری طرح عقل سے پیدل نہیں ہیں۔ اسلئیے ناحق آپ نے ۱۸ اٹھارہ مرتبہ اپنے آپ کو ”یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ“ ہونے کا۔ عوام کی طرف سے تکرار  کئیے جانے کا اعزاز لیا ہے۔جبکہ عوام اس تناظر میں۔ جیسے آپ نے بیان کیا ہے ۔ آپکو یا دیگر میڈیا کو یہودو نصاریٰ کا ” ایجنٹ “ تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتیں ۔ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے لئیے۔ کبھی کبھار اپنے حقیقی ایجنٹس سے ۔ایسے لوگوں کو مالی مراعات۔ خیرات ۔ انعام اور راتب وغیرہ پھینکتی رہتی ہیں۔ مالی مراعات جنکی مالیت عالمی طاقتوں کے لئیے کوئی معانی نہیں رکھتیں ۔مگر ضمیر فروشوں کے لئیے گنج گراں مایہ سے کم حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس وجہ سے وہ ہر روز۔ ہر موقع بے موقع پہ انکے لئیے مدح سرائی کرتے ہوئے۔ دُم ہلانے سے باز نہیں آتے۔ اور آخر کار اسی کو وسیلہِ رزق سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ بدقسمتی سی برصغیر کے مسلمانوں میں اور پاکستان میں خصوصی طور پہ ۔ ننگ ملت ۔ ننگ وطن۔ ننگ قوم۔ میر جعفر اور میر صادق کی نسل کہیں نہ کہیں ضرور تیار کی جارہی ہے۔ حرام کھانے والوں ۔ قوم فروشوں۔ اسلام فروشوں۔اور ضمیر فروشوں کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط اؤل کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط دوئم کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط سوئم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی آخری قسط چہارم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔چوتھی قسط


کولبیرٹ ازم ۔ برصغیر ہندؤستان۔ اور برئنیر رپورٹ۔ چوتھی قسط۔

برنئیر کی ہندؤستان کے بارے ۔مذہب سے لیکر خاندانی رسم و رواج ۔سیاست اور انتظامیہ کے متعلق معلومات انتہائی مفید تھیں۔ مالی اور اقتصادی مقابلے کے لئیے مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل ضروری تھا۔ کہ ہر نقطہ نظر اور ہر زاویے سے ۔ اہم معلومات کے ساتھ (کسی ممکنہ مہم جوئی کی صور ت میں )کچھ اہم امور سرانجام دئیے جائیں۔اور اسی وجہ سے ریاستوں کو ایسے معاملات میں عام افراد اور نجی فرموں پہ برتری حاصل تھی۔”سابقہ ادوار یعنی حکومتوں میں نوآبادیت سے متعلقہ مسائل میں ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ریاستوں اور کمپنیوں کے مابین ملکیت اور اختیارات کا مسئلہ تھا ۔ ملکیت اور اختیارات کے اس گنجلک مسئلے کے سیاسی اور مالی پہلو تھے ۔ اور اسے ”خصوصیت “ نام دیا گیا اور اس مسئلے کا حل”خصوصیت “ نامی نظام,( "L’exclusif” )پہ منحصر تھا۔ جسے بعد کی حکومتوں میں ”نوآبادیت معائدہ“ یعنی” کالونی پیکٹ “کا نام دیا گیا ۔(۱۴٭)۔

کمپنیوں کی کثیر جہتی سرگرمیاں عموماَ ایک تسلسل کے ساتھ ریاستوں کی مقرر کردہ سفارتی اور قانونی حدود پار کرتی رہتیں ۔ سترہویں صدی کے وسط سے (تجارتی مفادات حاصل ہونے۔ اور تجارتی مفادات کی اہمیت کے باوجود) کمپنیوں اور ریاستوں کی آپس میں ہمیشہ صلح نہیں رہتی تھی۔ یعنی آپس میں مفادات کا ٹکراؤ ہوتا تھا ۔(۱۵٭)۔

برنئیر اس ساری صورتحال کے بارے باخبر ہونے کی وجہ سے یہ جانتا تھا کہ اسکی مہیاء کردہ معلومات کسقدر اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔اسلئیے وہ تمام تفضیلات اور جزئیات بیان کرتا ہے۔برنئیر لکھتا ہے”یہ نکتہ بہت اہم اور نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مغل فرماں روا شعیہ نہیں جو علیؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور انکی آل کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں شعیہ مانتے ہیں ۔ بلکہ مغل فرماں روا محمدن ہے ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) (یعنی سُنی مسلک رکھتا ہے) اور نتیجتاَمغل باشاہ کے دربار میں سُنی درباریوں کی اکثریت ہے ۔ ترکی کے مسلمانوں کی طرح انکامسلک سُنی ہے جو عثمانؓ ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو ماننے والے ہیں ۔ اسکے علاوہ مغل فرماں روا کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ مغل بادشاہ کے آباءاجداد غیر ملکہ ہونے کی وجہ سے خود مغل بادشاہ بھی غیر ملکی سمجھا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ کا نسب تیمور لنگ سے جا ملتا ہے جو تاتار کے منگولوں کا سردار تھا ۔ مغل بادشاہ کے اجداد ۱۴۰۱ء چودہ سو ایک عیسوی میں ہندؤستان پہ حملہ آور ہوئے ۔اور ہندؤستان کے مالک بن گئے۔اسلئیے مغل فرماں روا تقریباَایک دشمن ملک میں پایا جاتاہے۔ فی مغل بلکہ فی مسلمان کے مقابلے پہ سینکڑوں کٹڑ بت پرستوں اور مشرکوں (idolaters)کی آبادی ہے۔ اسکے علاوہ مغل شہنشاہیت کے ہمسائے میں ایرانی اور ازبک بھی مغل شہنشاہ کے لئیے ا یک بڑا درد سر ہیں ۔ جسکی وجہ سے امن کا دور ہو یا زمانہ جنگ مغل شہنشاہ بہت سے دشمنوں میں گھرا رہتا ہے اور ہر وقت دشمنوں میں گھرا ہونے کی وجہ سے مغل شہنشاہ اپنے آس پاس بڑی تعداد میں اپنی افواج دارالحکومت، بڑے شہروں اور بڑے میدانوں میں اپنی ذات کے لئیے تیار رکھتا ہے۔برنئیر کے الفاظ میں”آقا ۔(مائی لارڈ) اب میں آپ کو مغل شہنشاہ کی فوج کے بارے کچھ بیان کرتا چلوں کہ فوج پہ کتنا عظیم خرچہ اٹھتا ہے ۔ تانکہ آپ کو مغل شہنشاہ کے خزانے کے بارے کسی فیصلے پہ پہنچ سکیں“ ۔(۱۶٭)۔

فوجی شان و شوکت کی نمائش بہت کشادہ اور نمایاں طور پہ کی جاتی ہے۔ ۔مالیاتی کمپنیوں کی طرف سے فیکٹریوں کے قیام کی حکمت عملی کے بعد سے۔ مغل شہنشاہ کی طرف سے اس فوجی شان و شوکت کی نمائش کی اہم مالی اور فوجی وجوہات ہیں ۔کیونکہ اسطرح
۱)۔ مغل شہنشاہ یوں اپنی دفاعی صلاحیت کا عظیم مظاہرہ کرتا ہے ۔
۲)۔ مغل شہنشاہ یوں اتنی بڑی فوج پہ اٹھنے والے اخراجات کے ذریعیے مالی استحکام کا پیغام دیتا ہے ۔
۳)۔ مغل شہنشاہ یوں مختلف قوموں کے خلاف جیتے گئے محاذوں کی کامیابیوں کی دھاک بٹھاتا ہے
۴) مغل شہنشاہ یوں اپنی افواج کی نمائش سے فوجوں میں شامل مختلف قومیتوں اور قوموں کی کثیر النسل سپاہ کی شمولیت سے سے برابری اوراتنی قوموں کے بادشاہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
۵)۔ مغل شہنشاہ اسطرح اپنے فوجی ساز و سامان کی نمائش سے کسی قسم کی ممکنہ بغاوت کو روند دینے کی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اب ملاحظہ ہو ۔ اؤل ۔وہ فوج ہے جو شہنشاہ کی سرکاری فوج ہے ۔ اور جسکی تنخواہیں اور اخراجات لازمی طور پہ بادشاہ کے خزانے سے جاتی ہیں۔(۱۷٭)۔

”پھر وہ افواج ہیں ۔جن پہ راجوں کا حکم چلتا ہے ۔ بعین جیسے جے سنگھے اور دیگر ۔ جنہیں مغل فرماں روا بہت سے عطیات دیتا رہتا ہے تانکہ راجے وغیرہ اپنی افواج کو جن میں راجپوتوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ لڑائی اور جنگ کے لئیے تیار رکھیں۔ ان راجوں وغیرہ کا مرتبہ اور رتبہ بھی بادشا ہ کے امراء کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ جو زمانہ امن میں فوجوں کے ساتھ شہروں میں اور میدان جنگ میں اپنی اپنی افواج کے ساتھ بادشاہ کی ذات کے گرد حفاظتی حصار کھینچے رکھتے ہیں ۔ان راجوں مہاراجوں کے فرائض بھی تقریباَوہی ہیں جو امراء کے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ امراء یہ فرائض قلعے کے اندر ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کہ راجے وغیرہ فصیل شہر سے باہر اپنے خیموں میں بادشاہ کی حفاظت کا کام سر انجام دیتے ہیں“۔(۱۸٭)۔

برنئیر تفضیل پیان کرتا ہے کہ کس طرح جب راجے وغیرہ قلعے کے نزدیک آتے ہیں تو وہ اکیلے نہیں ہوتے بلکہ راجوں کے ساتھ وہ خصوصی سپاہی بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت حکم ملنے پہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے لئیے تیار رہتے ہیں ۔(۱۹٭)۔

مغل فرماں روا جن وجوہات کہ بناء پہ راجوں کی سے یہ خدمات لینا ضروری سمجھتا ہے ۔وہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔:
۱)۔راجوں کی سپاہ پیشہ ورانہ تربیت اچھی ہوتی ہے اور ایسے راجے بھی ہیں جو کسی وقت بھی بادشاہ کی کسی مہم کے لئیے بیس ہزار یا اس سے زیاہ گھڑ سوارں کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

۲)۔مغل بادشاہ کو ان راجوں پہ بھروسہ ہے جو بادشاہ کے تنخوادار نہیں ۔ اور جب کوئی ان راجوں میں سے سرکشی یا بغاوت پہ آمادہ ہو ۔ یا اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی کمان میں دینے سے انکار کرے۔ یا خراج ادا کرنے سے انکار کرے ۔ تو مغل بادشاہ انکی سرکوبی کرتا ہے اور انہیں سزا دیتاہے۔اس طرح یہ راجے بادشاہ کے وفادار رہتے ہیں۔(۲۰٭)۔

دوسری ایک فوج وہ ہے جو پٹھانوں کے خلاف لڑنے یا اپنے باغی امراء اور صوبیداروں کے خلاف لڑنے کے لئیے ہے۔ اور جب گولکنڈاہ کا مہاراجہ خراج ادا کرنے سے انکار کردے ۔ یا وسا پور کے راجہ کے دفاع پہ آمادہ ہو تو اس فوج کو گولکنڈاہ کے مہاراجہ کے خلاف لڑایا جاتا ہے ۔ یا ان فوجی دستوں سے تب کام لیا جاتا ہے جب ہمسائے راجوں میں سے کسی کو اس کی راج گدی سے محروم کرنا مقصود ہو۔ یا ان راجوں کو خراج ادا کرنے کا پابند کرنا ہو تو اس فوج کے دستے حرکت میں لائے جاتے ہیں ۔ان سبھی مندرجہ بالا صورتوں میں اپنے امراء پہ بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ زیادہ تر ایرانی النسل اور شعیہ ہیں۔جو بادشاہ کے مسلک سے مختلف مسلک رکھتے ہیں ۔(۲۱٭)۔

مسلکی اور مذہبی معاملات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کیو نکہ دشمن کے مذہب یا مسلک کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طرح یا دوسری طرح کی افواج کو میدانِ جنگ میں اتارا جاتا ہے ۔ اگر ایران کے خلاف مہم درپیش ہو تو امراء کومہم سر کرنے نہیں بیجھا جاتا کیونکہ امراء کی اکثریت میر ہے اور ایران کی طرح شعیہ مسلک رکھتی ہے۔ اور شعیہ ایران کے بادشاہ کو بیک وقت امام ۔ خلیفہ ۔ اور روحانی بادشاہ ۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دامادعلیؓ (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی آل مانتے ہیں۔ اسلئیے ایران کے بادشاہ کے خلاف لڑنے کو ایک جرم اور بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ مغل بادشاہ اسطرح کی وجوہات کی بناء پہ پٹھانوں کی ایک تعداد کو فوج میں رکھنے پہ مجبور ہے۔اور آخر کار مغل بادشاہ مغلوں پہ مشتمل ایک بڑی اور بادشاہ کی بنیاد فوج کے مکمل اخراجات بھی اٹھاتا ہے ۔ مغل افواج ہندوستان کی بنیادی ریاستی فوج ہے۔جس پہ مغل فرماں روا کے بہت اخراجات اٹھتے ہیں ۔(۲۲٭)۔

اس کے علاوہ مغل فرماں روا ں کے پاس آگرہ میں ۔ دلی میں اور دونوں شہروں کے گرد و نواح میں دو سے تین ہزار گھڑ سوار کسی بھی مہم کو جانے کے لئیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔بادشاہ کی روز مرہ کی مہموں کے لئیے۔ بادشاہ کے پاس ۸۰۰ آٹھ سو سے ۹۰۰ نو سو تک کے لگ بھگ ہاتھی ہیں ۔بڑی تعداد میں خچر اور سامان کھینچنے والے گھوڑے ہیں۔ جن سے بڑے بڑے خیمے ۔ قناتیں ۔ بیگمات اور انکا سازوسامان ۔ فرنیچر ۔ مطبخ (باورچی خانہ)۔مشکیزے ۔اور سفر اور مہموں میں کام آنے والے دیگر سامان کی نقل و حرکت کا کام لیا جاتا ہے۔(۲۳٭)۔

مغل فرماں روا کے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئیے اس میں سراؤں یا محلات کے اخراجات بھی شامل کر لیں ۔جنہیں برنئیر ” ناقابل ِ یقین حد تک حیران کُن “ بیان کرتا ہے۔”اور جنہیں (اخراجات کو) آپکے اندازوں سے بڑھ کر حیرت انگیز طور پہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے“۔ یہ محل اور سرائے ایسا خلاء ہیں جس میں قیمتی پارچات ۔ سونا۔ ریشم ۔ کمخوآب ۔ سونے کے کام والےریشمی پارچات ۔غسل کے لئیے خوشبودار گوندیں اور جڑی بوٹیاں ۔امبر ۔اور موتی ان خلاؤں میں گُم ہو جاتے ہیں۔”اگر مغل فرماں روا کے ان مستقل اخراجات جنہیں مغل فرما روا ں کسی طور نظر انداز نہیں کرسکتا اگر ان مستقل اخراجات کو مدنظر رکھاجائے تو مغل شہنشاہ کے ختم نہ ہونے والے خزانوں کے بارے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ مغل شہشنشاہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے اور مغل شہنشاہ کی ناقابل تصور امارت جس کی کوئی حد نہیں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔(۲۴٭)۔”اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بادشاہ بہت بڑے خزانوں کا مالک ہے بلکہ ایران کے باشاہ اور آقا کے خزانوں کو ملانے سے بھی بڑھ کر مغل فرماں روا کے پاس ذیادہ خزانے ہیں۔(۲۴٭)۔

جاری ہے۔

(14) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., ob. cit., pág. 398.
(15) RiCH, E. E., y WILSON, C. H., pág. 399.
(16) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(17) BERNIER, ob. cit., pág. 197.
(18) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(19) BERNIER, ob. cit., pág. 198.
(20) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(21) BERNIER, ob. cit., pág. 198, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(22) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15 y 16.
(23) BERNIER, ob. cit., pág. 199, y BERNIER, Carta original, fols. 15, 16 y 17.
(24) BERNIER, ob. cit., pág. 200.

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: