RSS

Tag Archives: انیس

اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔



اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔

عوام
جہاں تک سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ہے تو یہ سو فیصد دیانتداری دنیا کے عوام میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں دنیا کی سبھی قوموں کے کرپٹ لوگ بند ہیں۔
لیکن پاکستانیوں کی اکثریت اپنے پیدائشی ماحول اور اپنے ارد گرد ہر طرف پائے جانے والی بے بسی اور روز مرہ زندہ رہنے کی جستجو میں زندگی گھسیٹنے کے لئیے معاشرے اور بااثر طبقے کی طرف سے مسلط کی گئی کرپٹ اقدار اور بدعنوانی کی وجہ سے محض زندہ رہنے کے لئیے ڈہیٹ بن کر ہر قسم کے ظلم و ستم پہ بہ جبر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔
اور جب اپنی اور اپنے خاندان کا جان اور جسم کا سانس کا ناطہ آپس میں میں جوڑے رکھنا محال ہو جائے۔ اور ایسا کئی نسلوں سے نسل درنسل ہو رہا ہو اور ہر اگلی نسل کو پچھلی نسل سے زیادہ مصائب و آلام کا سامنا ہو اور اسی معاشرے کے ہر قسم کے رہنماؤں کی اکثریت جن میں مذہبی ۔ علمی۔ سیاسی۔ دینی۔ حکومتی ۔ فوجی۔ قسما قسمی کی حل المشکلات کی معجون بیچنے والے دہوکے باز۔اٹھائی گیر ہوں اور بد ترین اور بدعنوان ہوں۔ تو وہاں خالی پیٹ۔ اور بے علم۔ بے شعور عوام سے دیانتداری کا اور وہ بھی سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ظلم ہے۔
مندرجہ بالا بیان کردہ حالات ایسا کلٹ کلچر بنا دیتے ہیں جس میں دیانتداری کا خمیر پیدا ہی نہیں ہوتا۔جیسے رات کو دہوپ نہیں ہوتی۔ اور اس کا مظاہرہ پاکستانی معاشرے میں روزہ مرہ زندگی میں سرعام نظر آتا ہے ۔


کوڑھ کی کاشت کر کے خیر کی امید کیسے باندھی جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگ۔ مشہور لوگ۔ لیڈ کرنے والے لوگ۔ بااثر طبقہ سے سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اشرافیہ۔ حکمران۔ رہنماء۔ علماء۔ جرنیل۔ اساتذہ اور اس قبیل کے دیگر لوگ مثال بنا کرتے ہیں ۔
جیسے گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی اگر سگریٹ نوشی ۔ شراب نوشی یا آوارہ گردی کرے تو سارا گھرانہ وہی عادتیں پکڑتا ہے۔مگر پاکستان کی اشرافیہ اور بااثر طبقے  کو مثالی کہنے کی بجائے کم ظرف اور تنگ دل کہنا بجا نہ ہوگا کہ جن سے پاکستانی عام  عوام  کویئ مثبت تحریک پا سکے ۔
اس کے باوجود اگر پاکستانی قوم میں کچھ اقدار باقی ہیں تو یہ شاید ان جینز کا اثر ہے جو عام عوام کے خون میں شامل ہیں۔ اور ہنوز اخلاقی بد عنوانی کے خلاف مزاحمت کر ہے ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ۔ ہزراوں سال سے غلامی میں پسنے کی وجہ سے مجبور و معذور ہےاور ہماری ذہنی بلوغت ہی  نہیں ہوسکی۔ 

ہمارے معاشرے میں۔
ہماری انفرادی معاشی خود مختاری ۔ روٹی روزی۔ بنیادی ضروریات اور گھر جیسے تحفظ کا تصور ہی اپنے صحیح معنوں میں فروغ نہیں پا سکا ۔ کیونکہ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو یہ چیزیں مکمل آزادی اور عزت نفس کو پامال کئیے بغیر نصیب ہی نہیں ہوئیں ۔ تو شخصی آزادی یا اجتماعی سوچ بھلا کیونکر فروغ پاتیں؟
آج بھی پاکستان کی  بڑی اکثریت کے لئیے۔ پٹواری۔ نیم خواندہ تھانیدار اور گھٹیا اخلاق و تربیت کے اہلکار۔ حکومت اور عام آدمی کے درمیان تعلق کا پُل ہیں۔اور ان سے آگے عام آدمی کی سوچ مفروضوں پہ قائم  اپنے ملک و قوم کا تصور رکھتی ہے۔ اگر تو کوئی تصور رکھتی ہے؟۔
اور یہ سلسلہ برصغیر کے عوام کے ساتھ ہزاروں سالوں سے روا ہے ۔ اس لئیے عام آدمی کے نزدیک ۔ آزادی۔ عزت نفس۔ اور جائز حقوق کی بازیابی کا کوئی تصور ہی نہیں  نپ سکا۔
اس لئیے وہ معاشرے میں ہر عمل اور اس کے رد عمل کے لئیے بااثر طبقے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اور اس بااثر طبقے کے عمل۔ بیانات اور منشاء کو ہی مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے وجود میں آتے ہیں اور اس سے آگے قومی شعور نہیں بڑھ پاتا۔
ان وجوہات کی بناء پہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی طبقے کبھی کا کوئی رول نہیں رہا۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اکثریت کسی انقلاب یا تبدیلی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں اور انیس سو سینتالیس سے آزاد ہیں۔لیکن دل پہ ہاتھ رکھ دیانتداری سے بتائیں کیا آزاد قوم اور مسلمان یوں ہوتے ہیں؟
اس کی یہ وجہ بھی وہی ہے کہ اسلام روزمرہ کی معاملگی حیثیت سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہی نہیں بن سکا ۔ اس لئیے ہماری اخلاقی حدود و قیود عام طور پہ اسلامی اخلاق سے باہر ہوتی ہیں۔
جب عوام کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے ۔ سرداروں۔ پیروں۔ دینی رہنماؤں ۔ علماء اکرام۔ سرکاری افسروں۔ سیاسی رہنماؤں ۔ حکومت اور حکمرانوں۔ فوج اور جرنیلوں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پھر جس کی کوئی ادا ۔ کوئی بات دل کو بھا جائے اسے اپنا اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔
ہمارا اجتماعی شعور کبھی تھا ہی نہیں۔ اور ہمارے نصب العین ہمیشہ بااثر طبقے نے طے کئیے۔
ہماری اشرافیہ۔ ہمارا بااثر طبقہ انتہائی بے ضمیر۔ دہوکے باز۔ کم ظرف۔ سطحی شخصیت کا مالک اور اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کے لئیے کسی بھی حد تک جانے کے لئیے تیار رہتا ہے۔
اور مرے پہ سو درے ۔ اس سارے تماشے سے کچھ قوم فروش اور ابن الوقت لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی جھجھک کے اپنی ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کو نہائت بالا نرخوں پہ فروخت کیا۔ جسے حرف عام میں پاکستان کا "میڈیا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ تنزل ہماری اشرافیہ پہ طاری ہے اور عام عوام وہیں سے تحریک پاتے ہیں ۔ چند اشتنساء چھوڑ کر۔ جسے فوری طور پہ پھیلانے کا اہتمام قوم فروش میڈیا اور اسکے مالکان کرتے ہیں۔
اس لئیے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ عام آدمی کیونکر اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئیے بجائے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے ۔ وہ بجائے خود اسی تنزلی میں شامل ہو رہا ہے۔
اور یہ وہ وجہ ہے کہ عام عوام میں۔ معاشرے میں۔ ہر طرف لاقانونیت۔ بد عنوانی۔ بے ایمانی۔ بد دیانتی۔ بد نظمی اور افراتفری نظر آتی ہے۔

اس لئیے پاکستان کے ان موجودہ حالات میں

 عام آدمی میں اجتماعی شعور کی تربیت کرنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک اشرافیہ۔ یعنی بااثر طبقہ۔ دینی و سیاسی رہنماء۔ جرنیل اور حکمران ۔ اور پاکستان کے وسائل پہ قابض مافیا۔اپنے انداز نہیں بدلتی۔اور بد قسمتی سے تب تک پاکستان کے عوام کا مجموعی رویہ بدلنا اور اجتماعی شعور کا فروغ پانا۔ بغیر کسی معجزے کے ممکن نظر نہیں آتا۔ اور دائرے کا معکوس سفر جاری رہے گا۔
اگر عام عوام کو اس بات کا ادراک دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک باعزت قوم ہیں اور انھیں ایک اجتماعی شعور بخشنا ہے۔ تانکہ وہ ایک قومی اخلاق اپنا کر اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ صرف حکومتی اداروں کے عام اہلکاروں اور عہدیداروں سے نااہلی ۔ بدنیتی اور بد عنوانی کا حساب نہ لیا جائے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے کیونکہ عام اہلکاروں کو معطل کرنے یا چند ایک لوگوں کو ان کے عہدوں سے برخاست کر دینے سے۔ پاکستان کی بد عنوانی پہ قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ ایسا کرنا تو دراصل دنیا کی بدترین۔ ایک نمبر کی بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسلئیے یہ از بس ضروری ہے کہ پاکستان میں بد نیتی۔ بدیانتی اور بد عنوانی ختم کرنے کی کوشش کے لئیے لا محالہ طور پہ اس کا آغاز بالادست طبقے اور پاکستان کے وسائل پہ قابض کم ظرف اشرافیہ سے نہ کیا گیا تو ایسی ہر مہم ناکام ہو جائے گی۔ اور اجتماعی قومی شعور۔ ایک باوقار با اختیار قوم۔ اور ایک آزاد پاکستان کا تصور صرف چند ہزار لوگوں کو ناجائز تحفظ دینے کی وجہ سے محض ایک خیال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے وسائل پہ قابض چند ہزار نفوس کی کم ظرف اشرافیہ۔ یا۔ بنیادی اور ضروری سہولتوں کے مالک کروڑوں باشعور عوام کا ایک بااختیار اور آزاد پاکستان؟ جب تک یہ طے نہیں ہوتا۔ تب تک ہم ایک معکوس دائرے میں سفر کرتے رہیں گے اور بدیانت غفلت کا شکار رہیں گے۔

جاوید گوندل۔ بارسیلونا

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

یومِ تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏۔


youm e khtam e naboowaut

youm e khtam e naboowaut


یومِ تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏۔
فتنہِ قادیانیت اور پاکستان


7 ستمبر 1974ء ۔سات ستمبر انیس چوہتر سنہ ء کا دن۔ پاکستان کی تاریخ کا تابناک دن ہے ۔جس دن قادیانیوں ، المعروف مرزائیوں۔ المعروف احمدیوں بشمول لاہوری گروپ کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے متفقہ طور پہ آئین کی رُو سے کافر قرار دیا گیا تھا ۔اور اس مرحلے تک پہنچنے کے لئیے مسلمانوں نے اپنی ان گنت جانوں کا نذارنہ پیش کیا تھا۔ اور ایک نہائیت لمبی ۔ کھٹن اور صبر آزماجدو جہد کی تھی ۔اور اگر اس طویل جد و جہد پہ روشنی ڈالی جائے ۔تو بلا مبالغہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئیے کی گئی کوششوں کو بیان کرنے کے لئیے ۔کئی صخیم کتب لکھنی درکار ہونگی ۔ اسلئیے ہم کوشش کریں گے کہ دین اسلام کے اس موجودہ اور تاریخ اسلام کے غالباً سب سے بڑے فتنے ” قادیانیت“  پہ اپنی سی حد تک روشنی ڈالیں۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ اسلام کی اساسی بنیاد کھڑی ہے ۔اگر عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ آنچ آتی ہے تو براہِ راست ایمان اور اسلام پہ آنچ آتی ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور دو سو سے زائد احادیثِ نبوی ﷺ موجود ہیں۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کے دعویدار پہ فرض اور یومِ قیامت کو نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا باعث ہے۔
عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ پوری مسلمان امت کا قرون ِ اولٰی سے یہ اجماع رہاہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ اور نبوت نبی کریم محمد ﷺ پہ ختم ہے ۔ اور تحفظِ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے کے لئیے مسلمانوں کو بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئیے ۔

تحفظ ختمِ نبوتﷺ ‏ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہے کہ خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران اسلام کی خاطر جان دینے والے۔ بشمول بڑے ۔ بچے ۔ خواتین اورضعیفوں  کے۔  شہداءکی کل تعداد دو سو اناسٹھ 259 تھی ۔ کفار کے جہنم واصل ہونے والوں کی کل تعداد سات سو اناسٹھ 759 تھی۔ جو کل ملا کر ایک ہزار ایک سو اٹھارہ 1018 بنتی ہے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں جب مسلیمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعواہ کیا ۔تو عقیدہ ختم ِ نبوت کے تحفظ کی خاطر جنگ میں بائیس ہزار 22000 مرتدین کو تہہ تہیغ کیا گیا۔ اور بارہ سو کے قریب 1200کے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جامِ شہادت نوش کیا ۔ جن میں سے چھ سو 600 قران کریم کے حافظ اور قاری رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ اس جنگ میں غزوہ بدر کے غازی اصحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ یعنی اس بات سے اندازہ لگایا جائے کہ تحفظ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی خاطر صرف ایک جنگ میں نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں شہید ہونے والے کل شہداء  سے  کئی گنا زائد مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے۔ اور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں جہنم واصل ہونے والے  کافروں  سے  کئی گنا زائد مرتد  محض اس  ایک جنگ میں قتل ہوئے ۔

عقیدہ ختم نبوت ﷺ مسلمانوں کے نزدیک اس قدر حساس عقیدہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺکے بعد نبوت کے کسی مدعی سے اسکی نبوت کی دلیل یا معجزہ مانگنا بھی اس قدر بڑا گناہ ہے کہ اسے کفر قرار دیا ہے۔ یعنی ایک مسلمان کا عقیدہ ختم نبوت ﷺ پہ اس قدر ایمان مضبوط ہونا چاہئیے کہ وہ نبوت کے دعویداروں سے اسکی نبوت کی دلیل یا معجزہ نہ مانگے ۔ بلکہ نبوت کے جھوٹے دعویدار کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق سزا دے ۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے لئیے اپنا کردار ادا کرے ۔ نئی نسل اور آئیندہ نسلوں کے ایمان کی حفاظت کی خاطر قادیانیت کے کفر اور ارتداد کا پردہ چاک کرے تانکہ روز قیامت سرخرو ہو اور خاتم الانبیاء نبی کریم ﷺ کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

قادیانی اپنے آپ کو’’ احمدی ‘‘کہلواتے ہیں ۔ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر شمار کرتے ہیں ۔ اور اس رُو سے قادیانی نہ صرف کافر ہیں بلکہ زندیق بھی ہیں ۔ جو اپنے کفر کو دہوکے سے اسلام اور اسلام کو کفر بیان کرتے ہیں۔ اور یوں مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔قادیانیوں کے نزدیک جس دین میں نبوت جاری نہ ہو وہ دین مردہ دین ہے۔اور یوں قادیانی ۔ اسلام کو نعوذ باللہ مردہ دین قرار دیتے ہیں۔قادیانیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر لٹکا ئے گئے۔ قادیانی مکہ مکرمہ کی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دیتے ہیں ۔انگریز کی اطاعت کو واجب قرار دیتے ہیں ۔اور انگریزوں کی ہدایت پہ مرزا نے جہاد کو غداری قرار دیا ۔قادیانی جہاد کے خلاف ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیان کے بارے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ستمبر 1951 ء میں کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔ ”تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے۔ اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قدوقامت میں تناسب نہ تھا۔ اخلاق کا جنازہ تھا۔ کریکٹر کی موت تھی۔ سچ کبھی نہ بولتا تھا۔ معاملات کا درست نہ تھا۔بات کا پکا نہ تھا۔ بزدل اور ٹوڈی تھا۔تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری بھی نہ ہوتی۔ وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا ۔قویٰ میں تناسب ہوتا۔چھاتی45 انچ کی۔کمر ایسی کہ سی آئی ڈی کو بھی پتہ نہ چلتا۔ بہادر بھی ہوتا۔کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا۔ شاعر ہوتا۔ فردوسی وقت ہوتا۔ابوالفضل اس کا پانی بھرتا۔خیام اس کی چاکری کرتا۔غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا۔انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ میاں! آقا ﷺکے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں ۔جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج نبوت و رسالتﷺجس کے سر پر ناز کرے“۔

فتنہ ِ قادیانیت کا بانی اور اسکے جانشین ۔
فتنہ ِ قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد کذاب انگریزی دور میں موجودہ بھارت میں واقع قادیان (تحصیل بٹالہ ،ضلع گورداسپور،مشرقی پنجاب ، بھارت) میں اٹھارہ سو انتالیس یا چالیس 1939 یا 1940 سنہ عیسوی میں پیدا ہوا۔اور اسی قادیان کی مناسبت کی وجہ سے قادیانی اور اسکے فتنے کو قادیانی فتنہ یا قادیانیت قرار دیا گیا ۔جبکہ مرزا ئی ۔ قادیانی اپنے آپ کو احمدی کہلوانے پہ مصر ہیں۔ اور ان میں بھی دو فرقے ہیں ۔ قادیانیوں کا دوسرا فرقہ لاہوری گروپ ہے۔
برصغیر ہندؤستان پہ قابض انگریزوں کی چھتری تلے مرزا غلام احمد قادیان نے 1883ء سے 1908ء تک اپنے آپ کو بتدریج مُلھم۔ محدث۔ مامور مِن اﷲ۔ امام مہدی ۔مثیلِ مسیح۔مسیح ابن مریم۔نبی۔حاملِ صفات باری تعالی ۔ا ور اس کے علاوہ بھی بہت سے لغو۔ متضاد اور اگنت دعوے کئیے ۔ اور دو مئی انیس سو آٹھ 2 مئی 1908 کو ہیضے میں مبتلاء ہو کر لاہور میں ہلاک ہوا۔ جسکے بعد حکیم نور دین اس فتنے کا  جانشین اول (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ اول)ٹہرا۔اور تین مارچ انیس سو چودہ 3 مارچ 1914 سنہ ء کو نوردین کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ قادیان جو اس فتنہِ خباثت کا مرکز تھا۔ اس پہ مرزا غلام احمد قادیان کے بیٹے مرزا محمود نے قبضہ جما لیا۔ اور قادیانی حصے کے دوسرے دھڑے کا سربراہ مرزا محمد علی ٹہرا اور مرزا محمد علی نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا۔

پاک بھارت باؤنڈ ری کمیشن ریڈ کلف کو۔ قادیانیوں نے اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے الگ ظاہر کرتے ہوئے۔ ایک فائل بنا کر دی  کہ  ہم مسلمانوں سے الگ ہیں۔ لہٰذاہ ہمیں قادیان میں الگ ریاست دی جائے ۔ جس پہ پاک بھارت باؤنڈ ری کمیشن نے انکار کر دیا۔ انکار کے بعد مرزا غلام احمد قادیان کے بیٹے مرزا محمود (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ دوئم ) نے پاکستان کے ضلع چنیوٹ میں ایک مقام (چناب نگر) کو ”ربوہ“ کا نام دے کر اسے قادیانیت کا مرکز بنایا۔ مرزا کے جانشین دوئم کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے مرزا ناصر (قادیانیوں کے نزدیک خلیفہ سوئم )نے قادیانیوں کی  جانشینی سنبھالی ۔

10اپریل 1974ء کو رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کو متفقہ طور پہ کافر قرار دیا۔

7ستمبر 1974ء کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی دونوں جماعتوں ۔ قادیانی اور لاہوری گروپ کو ہر دو گروہوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا متفقہ دستوری اور تاریخ ساز فیصلہ کیا ۔ اور آئین کی رُو سے قادیانیوں ۔ بشمول قادیانیوں کے لاہوری گروپ کو کافر قرار دیا ۔اور آئین کی رُو سے قادیانیوں پہ انکے کفر کی وجہ سے  ریاستِ پاکستان میں کلیدی عہدوں پہ پابندی لگا دی گئی۔

9جون 1982ء کو مرزا ناصر کے مرنے کے بعد اس کا چھوٹا بھائی مرزا طاہر قادیانی کفریہ جماعت کا چوتھا سربراہ بنا۔

آئین پاکستان کی رُو سے کافر قرار دئیے جانے کے باوجود قادیانی مرزا غلام احمد قادیان کی پیروی اور اپنی فطرت کے عین مطابق اپنے آپ کو مسلمان قرار دے کر اور مسلمانوں کو کافر قرار دے کر بدستور سادہ لوح مسلمانوں کو دہوکے سے  ورغلاتے رہے ۔ اور اپنے اثر رسوخ میں اضافہ کرنے کی کوششوں سے باز نہ آئے ۔ تو قادیانیوں کو ان کے مذموم کفرانہ عزائم سے باز رکھنے کے لئیے ۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے چھبیس اپریل انیس سو چوراسی ۔26 اپریل1984ء کو’’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘‘ نامی آڑدیننس جاری کیا۔ تو ٹھیک چار دن بعد

یکم مئی 1984ء یکم مئی انیس سو چوراسی کو کو مرزا طاہرپاکستان سے لندن بھاگ گیا اور 18اپریل 2003ء  کو مرنے کے بعد اسے وہیں دفنایا گیا۔

جہاں سے قادیانی بڑے زور شور سے مسلمانوں اور اور خاصکر پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے خلاف متواتر جھوٹا پروپگنڈاہ کرتے ہیں ۔ سادہ لوح مسلمانوں کودہوکہ دے کر  اپنے جال میں پھنساتے ہیں ۔ انہیں باہر سیٹ کروانے کا لالچ دے کر۔ اسلام سے بر گشتہ کرتے ہیں۔ اور قادیانیت کے نام پہ مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ جس سے، جہاں قادیانی کفریہ جماعت کی جھوٹی مظلومیت کا خُوب پروپگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ وہیں کم علم ۔ سادہ اور غریب مسلمانوں کودہوکے سے  ورغلا کر قادیانی اپنی جماعت میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ قادیانیت کے پاکستان کے خلاف مذموم سازشوں کے تانے بانے بھارت اور اسرائیل سے جا ملتے ہیں۔انٹر نیٹ پہ بھی خوب فعال ہیں ۔ لیکن اب دین سے محبت کرنے والے بہت سے مسلمان نوجوانوں نے قادیانیت کے خلاف اور اس کے سدباب کے لئیے بہت سے فوروم اسلام کی حقانیت خاطر  ۔ قادیانیت کے خلاف قائم کر لئیے ہیں ۔ جہاں سے شب و روز قادیانیت کا بھانڈاہ پھوڑنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔اور جب قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دی جائے تو لاجواب ہو کر آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ اور ایک نظام کے تحت تربیتی طور پہ موضوع کو ادہر ادہر گھمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملا اور مولوی صاحبان چونکہ پاکستان میں فتنہ قادیانیت کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ تو قادیانی ملا اور مولوی کی سخت تضحیک کرتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو مولوی اور ملا کے دین کا طعنہ دیتے ہیں۔

قادیانی بھیس بدل کر اور ڈھکے چھپے ابھی تک پاکستان میں اپنے کفرانہ عزائم کا پرچار کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکومتوں میں سیاسی وِ ل ۔ سیاسی خود اعتمادی اور دین سے مکمل شعف نہ ہونے کی وجہ اور عالمی استعمار سے پاکستان کی حکومتوں کا خوفزدہ ہونے کی وجہ سے ۔قادیانی پاکستان میں ابھی تک کُھل کھیل رہے ہیں۔ صرف ایک اس واقعہ سے اندازہ لگا لیں کہ قادیانی پاکستان میں کس قدر مضبوط تھے (اور ابھی تک ہیں ) کہ  مولانا سید ابو اعلٰی موددیؒ کو قادیانیت کے خلاف ”قادیانی مسئلہ “ نامی چھوٹی سی کتاب لکھنے پہ پاکستان میں  مولانا سید مودودی ؒ کو سزائے موت سنائی گئی ۔ جسے اندرونی اور عالمی دباؤ کی وجہ سے عدالت عالیہ نے منسوخ کر دیا ۔ اور مولانا سید ابو اعلٰی موددیؒ نے دو سال گیارہ ماہ جیل کاٹنے کے بعد رہائی پائی ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ چونکہ قادیانی اگر انٹرنیٹ پہ اسلامی اور مسلمان ناموں کے پردے میں مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔ تو یہ معاملہ ریاست پاکستان کی روز مرہ کی زندگی میں اور بھی زیادہ شدید ہوجاتا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے عام مسلمان قادیانیوں سے دہوکہ کھا جاتے ہیں۔ اور اسے مسئلے کو مستقل بنیادوں پہ حل کیا جانا بہت ضروری ہے۔
قادیانی نہ صرف کافر ہیں ۔بلکہ اسلام کے پردے کے پیچھے چھپ کر منافقت کرنے والے منافق ہیں ۔اور مسلمانوں کو دہوکہ دیتے ہیں ۔ اور صرف اسی پہ بس نہیں بلکہ یہ اپنے کفر کو اسلام اور مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں ۔ اس لئیے زندیق ہیں۔ یعنی جو کافر اپنے آپ کو مسلمان کہلوا کر مسلمان کو کافر کہے۔یوں سادہ لوح مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اسلام کا جھانسہ دے کر ۔دہوکے سے اپنے کفر میں شامل کرتے ہیں۔
قادیانیت مذہب نہیں بلکہ مافیا کارٹیل ہے۔ جو مسلمانوں اور باالخصوص پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئیے پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر نہائت سرگرمی سے مصروف عمل ہے۔ اور اپنے ان مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئیے اس قادیانیت کے ڈانڈے بھارت اور اسرائیل سے جاملتے ہیں۔

چونکہ یہ فتنہ ارتداد اور جھوٹی نبوت کی لعنت انگریزوں کی چھتری تلےبرصغیر میں پیدا ہوئی۔ اور پاکستان بننے کے بعد اس لعنت نے پاکستان میں پرورش پائی۔ اسلئیے آزاد اور اسلامی پاکستان کا یہ فرض بنتا تھا۔ اور بنتا ہے ۔ اور جیسا کہ آئین پاکستان کی رُو سے مرزا غلام احمد قادیانی، مرزائی ۔ المعروف احمدی بشمول لاہوری گروپ ۔ کافر ہیں اور اپنی عبادتگاہوں کو مساجد نہیں کہلوا سکتے۔ کہ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اور اس طرح کی دیگر پابندیاں۔ ان پہ انکے کفر کی وجہ سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی نہ ماننے کی وجہ سے ہیں۔ اسی طرح یہ پاکستان اور پاکستانی مسلم عوام کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری میں آتا تھا۔ اور آتا ہے۔ کہ قادیانیوں ۔ مرزائیوں المعروف احمدیوں کو دین اسلام کے نام پہ انکے کفر اور دہوکہ دہی سے نہ صرف روکا جائے ۔بلکہ باقی دنیا کو انکے بارے مناسب طور پہ آگاہ کیا جائے۔ تانکہ یہ اپنی اسلام دشمنی اور کفر کو اسلام کا نام دے کر۔ سادح لوح مسلمانوں اور غیر مسلموں کو مزیددہوکہ نہ دے سکیں۔

دنیا کے سبھی مذاہب ۔اپنےناموں کی ترتیب کچھ یوں رکھتے ہیں۔ کہ پڑھنے سننے والوں کو انکے بارے علم ہو جاتا ہے ۔کہ وہ کونسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔اور چونکہ بر صغیر میں صدیوں سے مختلف مذاہب رہتے آئے ہیں۔ اور ان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا روز مرہ زندگی میں آپس میں واسطہ پڑنے پہ کسی کے مذہب کے بارے غلط فہمی سے بچنے کے لئیے – اس مسئلے کا حل سبھی مذاہب کے پیروکاروں نے۔ اپنے اپنے مذہب کا برملا اعتراف کرتے ہوئے ۔عوامی سطح پہ حل نکالا ۔کہ اپنے نام اپنے مذاہب کی زبان میں ۔اور اپنی مذہبی کتب میں پائے جانے والے ناموں کو رکھنے میں نکالا ۔مثلا ہنود نے ہندی میں نام رکھے۔ اور مسلمانوں نے عربی یا فارسی کے نام اپنائے۔ اور جہاں مشترکہ ناموں کی وجہ سے دہوکے ہونے کا خدشہ ہوا ۔ وہاں اپنے نام کے ساتھ اپنے مذہب کا لاحقہ لگا دیا ۔ مثلا سکھوں نے سنگھ ،جیسے اقبال سنگھ۔ گلاب سنگھ۔ اور نصرانیوں نے مسیح کا لاحقہ ۔استعمال کیا جیسے ،اقبال مسیح اور یونس مسیح وغیرہ۔ اور ایسا کرنے کے لئیے نہ تو کسی کو مجبور کیا گیا۔ اور نہ ہی یوں کرنے میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں نے اسے اپنے لئیے باعث پریشانی یا ندامت سمجھا ۔بلکہ اپنے اپنے مذہب پہ یقین کی وجہ سے انہیں ایسا کرنے میں کبھی کوئی تامل نہیں ہوا۔جبکہ اسلام دشمن قادیانی ۔ مرزائی المعروف احمدی اسلام اور آئین پاکستان کی رُو سے کافر اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ہونےکے باوجود پاکستان میں ہی مسلمانوں کے نام رکھ کر مسلمانوں کو اپنے کافرانہ عزائم خفیہ رکھتے ہوئے دہوکہ دیتے ہیں۔ اس لئیے


اسلام اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لئیے ہمارا مطالبہ ہے :۔
کہ ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام پہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قادیانیوں المعروف مرزئیوں کو مسلمانوں کے نام رکھنے ۔ لکھنے۔ بیان کرنے سے منع کرے ۔ اگر یوں فوری طور پہ ممکن نہ ہو تو انہیں اپنے ناموں کے ساتھ قادیانی لکھنے۔ اور قادیانی بتانے کا پابند کرے ۔ تانکہ مسلمان ناموں کے پردوں میں چھپ کر قادیانی۔ پاکستانی مسلمانوں کو دہوکہ نہ دے سکیں۔اس کے لئیے ضروری ہے کہ دین ِ اسلام اور اللہ کے آخر ی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے کے تحت آئین پاکستان کی رُو سے آئین میں یہ واضح طور پہ درج کیا جائے ۔ کہ جس طرح پاکستان میں دیگر بسنے والے مذاہب اپنے بارے میں محض نام سے ہی واضح کر دیتے ہیں کہ وہ کونسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تانکہ معاشرے میں روز مرہ آپس کے معاملات میں کسی فرد کو دوسرے کے مذہب کے بارے مغالطہ نہ لگے ۔ اسی طرح قادیانی بھی اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھنے کی پابندی کریں۔

عقیدہ ختم ِ نبوتﷺ کے لئیے عالم اسلام اور بر صغیر کی انگنت شخصیات اور علمائے اکرام نے انتھک محنت کی اور کر رہے ہیں۔ جن سب کا فردا فردا نام گنوانا یہاں ناممکن ہے ۔

قادیانیت کے سدِ باب کے لئیے کام کرنے والی تنظیمیں۔

  • ختم نبوتﷺ فورم :۔
    انٹر نیٹ پہ  ” ختم نبوت ﷺ فورم “ ختمِ نبوت کی تمام تنظیموں  کا ترجمان فورم ہے ۔ اور اس پہ گرانقدر اور بے بہاء اور بہت لگن اور محنت سے نہائت قیمتی کام کیا گیا ہے ۔ اس فورم پہ دلائل کی روشنی میں قادیانیت کے ہر پہلو کو کا پردہ چاک کیا گیا ہے اور قادیانیت کے منہ سے مکر فریب اور دہوکے کا نقاب نوچ کر قادیانیت کا اصل چہر مسلمانوں کو دکھایا گیا ہے ۔عقیدہ تحفظِ ختمِ نبوتﷺ پہ ہر موضوع سے متعقلہ کتابوں کا بے بہا اور گرانقدر خزانہ بھی موجود ہے ۔
  • اسلامک اکیڈمی مانچسٹر ( برطانیہ)۔:
    یہ تنظیم علامہ داکٹر خالد محمود کی نگرانی اور سربراہی میں ۔یوروپی ممالک میں ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کے لئیے کام کرتی ہے۔
  • ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ :۔
    چنیوت میں فتنہ ارتداد قادیانیت کے سدِ باب کے لئیے "جامعہ عربیہ “ کے بانی مولانا منظور احمد چینوٹی ؒ نے ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ قائم کیا اور اسکی ایک شاخ ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد چنیوٹ واشنگٹن میں بھی قائم ہے ۔
  • عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتﷺ :۔
    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ اور جنرل سیکرٹری مولانا محمد علی جالندھری منتخب ہوئے تھے ۔مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور منکرین ختم نبوت کے مقابل ختم نبوت کی تبلیغ کرتی ہے ۔ اس کی صدارت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ نے بھی فرمائی۔ایک ہفتہ روزہ ’’ختم نبوت‘‘شائع ہوتا ہے ۔پاکستان اور پاکستان س ے باہر لندن میں انکے دفاتر موجود ہیں۔تحریری مواد اور تحقیقی کام کے حوالے سےحضرت انورشاہ کشمیری ۔ شہید اسلام مولا نامحمدیوسف لدھیانوی اور مولانا اﷲ وسایا کے اسمائے گرامی بہت نمایاں ہیں۔موجودہ امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی ہیں۔
    تحریک تحفظ ختم نبوتﷺ :۔ اکیس اور بائیس ۔ 21 اور 22 جولائی 1934ء کوعالمی مجلس احرار اسلام نے مولاناحبیب الرحمن لدھیانوی کے زیر قیادت ختم نبوت کے تحفظ کیلئے قادیان میں پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی ۔جس کی صدارت امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ نے کی تھی۔عالمی مجلس احرار اسلام کا کام ابھی تک موجودہ دور میں فعال ہے اور اب اس کو تحریک تحفظ ختم نبوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔
  • انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹﷺ :۔
    14 اگست1995ء مورخہ 17ربیع الاول 1416ھ کو ’’انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ ‘‘قائم کی گئی جس کا مرکزی دفتر لندن میں واقع ہے۔
  • ختم نبوتﷺ اکیڈیمی :۔(انگلینڈ)
    جسکے سربراہ مولانا سہیل باوا ہیں۔
  • آل انڈیا مجلس تحفظ ختم نبوت ﷺدیوبند (بھارت)
  • مجلس تحفظ ختم نبوتﷺ ڈھاکہ (بنگلہ دیش)
  • انجمن فدایان ختم نبوت ملتان(پاکستان)
  • تحریک پاسبان ختم نبوت (جرمنی)

اسکے علاوہ پاکستان کے اندر اور باہر بہت سی شخصیات اور تنظیمیں فتنہ ارتداد و کفر ”قادیانیت“ کے سدِ باب کے لئیے کام کر رہی ہیں ۔ مگر پاکستانی حکومتوں کی سیاسی ول اور سیاسی خود اعتمادی میں کمی اور قادیانیت کے خلاف پاکستان کے آئین کو بروئے کار لانے میں پس و پیش کی وجہ سے قادیانیت کا فتنہ ۔اسلام اور پاکستان کے خلاف پاکستان کے اندر اور باہر بدستور سازشیں کر رہا ہے ۔ اسلئیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت پہ پاکستانی عوام دباؤ ڈالیں تانکہ تحفظ ختم نبوت ﷺ کے لئیے آئین اور اسلام کی روح کے مطابق آئین پاکستان پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے ۔

ختم نبوت  ﷺ فورم  کا لنک  http://khatmenbuwat.org/

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری.


Minar-e-Pakistan-Lahore1
یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری۔

آج یوم پاکستان ہے ۔ اس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔جس کے محض سات سال بعد اس قوم نے انتھک محنت اور سچی لگن کے تحت موجودہ دنیا میں پہلا اسلامی ملک قائم کردیا تھا ۔
ایک مضبوط و توانا پاکستان قائم کرنے کے لئیے ۔اس وقت ویسی ہی قربانی اور جذبے کی ضرورت ہے ۔جیسا ۱۹۴۰ء انیس سو چالیس عیسوی میں برصغیر کے مسلمانوں میں تھا ۔
ہم سب کی عزت پاکستان سے ہے۔ اگر پاکستان ایک مضبوط اور باعزت ملک بن کر ابھرے گا ۔تو نہ صرف ہم سب کی عزت اور شان میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ ہماری آئیندہ نسلیں بھی شان و شوکت سے اس دنیا میں زندہ رہ سکیں گی۔
جبکہ اس وقت ہم یعنی پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت اپنے مستقبل سے مایوس نہیں تو پُر امید بھی نظر نہیں آتی۔ اور بہت سے لوگ محض اچھے مستقبل کی خاطر اپنا وطن۔ اپنی جان سے پیا را پاکستان چھوڑ آئے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کو یوں نہ کرنا پڑے تو اس کے لئیے ضروری ہے ۔ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئیے جائیں ۔ جس میں پاکستانیوں کو محض ایک اچھے مستبقل کی خاطر غریب الوطنی کا زہر نہ پینا پڑے ۔ محض اپنے مالی حالات کی خاطر ملک چھور کر پردیس کو نہ اپنانا پڑے ۔ اور پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کا جینا ایک باعزت شہری کا ہو ۔ اور وہ دو وقت کی روٹی ۔ باعزت روزگار اور رہائش کے لئیے کسی کے محتاج نہ ہوں ۔تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں موافق حالات پیدا کریں ۔ اور پاکستان میں ایسے اچھے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یقینا یوں ہو سکتا ہے مگر اس کے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان میں اچھے حکمران ہوں۔ جن کی دلچسپی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی میں ہو۔ اور یوں ہونا تب تک ممکن نہیں ۔جب تک پکی نوکری والوں کی دال روٹی کچی نوکری والوں کی “پرچی” سے نتھی ہے۔ تب تک پاکستان کے مجموعی حالات بدلنے مشکل ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ”شخصیات“ کی بجائے ادارے مضبوط ہوں۔ اور اداروں کے اہلکار اپنے آپ کو حاکموں کی بجائے ریاست کے ملازم سمجھیں۔
ترقی یافتہ دنیا کے ممالک میں دیکھتے ہیں کہ حکومتیں بدل جاتی ہیں ۔ اور نئی سیاسی جماعتیں اور نئے لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں مگر ان کے ادارے مکمل تسلسل کے ساتھ اپنے عوام کے مسائل کو شب و روز حل کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ انکے اداروں کے ملازمین اور افسر اپنے آپ کو صرف اور صرف ریاست کے ملازمین سمجھتے ہوئے صرف ریاست کی طرف تفویض کئیے گئے فرائض کی بجا آوری ہی اپنا فرض ۔ اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں جیسے ہی نئے حکمران ۔حکومت میں آتے ہیں ۔ وہ تمام سرکاری ملازمین۔ افسران ۔ بیورو کریسی یعنی انتظامیہ کو اپنا ذاتی ملازم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ پاکستانی اداروں کے بڑے بڑے افسران بھی اپنی وفاداریاں ریاست پاکستان کے ساتھ نبھانے کی بجائے ۔ حکمرانوں۔ وزیروں ۔ مشیروں ۔ اور اسی طرح چار پانچ سال کے لئیے کچی نوکری والوں سے نباہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
اسی سال مئی میں پاکستان میں صوبائی اور قومی الیکشن ہونے والے ہیں۔ بے شک ہم دیار غیر میں رہنے والے ووٹ نہیں ڈال سکتے مگر اپنی آواز کو پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک تو پہنچا سکتے ہیں کہ ۔ وہ اپنی قومی امانت یعنی ووٹ اسے دیں جو پاکستان کو ایک عظیم ریاست سمجھتے ہوئے پاکستان کی عظمت بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ جو پاکستان کے وسائل کو قوم کی امانت سمجھ کر اس میں خیانت نہ کرے ۔ جو شخصیات کی بجائے پاکستان کے اداروں ۔پاکستان کے اثاثوں کو مضبوط کرے ۔ جو بڑے بڑے عہدیداروں کے عہدوں کو اپنی پرچی کا مرہون منت نہ جانیں ۔ جو پاکستانی سرکاری ملازمین میں یہ احساس اور جذبہ پیدا کر سکے کہ وہ آنے جانے والے حکمرانوں کے ملازم نہیں ۔بلکہ شخصیات کی بجائے ۔ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں ۔ جو پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق پاکستانی اداروں کو مضبوط کریں ۔
یقین مانئیے اگر پاکستان کے ادارے مضبوط ہوں گے اور انکے اہلکار اپنے آپ کو شخصیات کی بجائے ریاست پاکستان کے ملازم سمجھیں گے ۔ اور ہر صورت میں ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد مقدم جانیں گے ۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔ کہ ہماری آئیندہ آنے والی نسلیں محض پاکستانی ہونے کی وجہ سے خوار نہیں ہونگی ۔ اور وہ اقوام عالم میں باعزت قوم کے طور پہ جانی جائیں گیں ۔
میری طرف سے سب پاکستانیوں کو یوم پاکستان مبارک ہو۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: