RSS

Tag Archives: انگریزی

اردو



اردو۔۔۔
انتہائی توجہ طلب قومی فریضہ۔۔۔


چین کے ایک صدر کے بارے ایک واقعہ عام بیان کیا جاتا ہے ۔ کہ انہوں نے انگریزی زبان جانتے ہوئے بھی انگریزی زبان کی بجائے چینی زبان میں بات کرنے کو یہ کہہ کر ترجیج دی کہ” چین گونگا نہیں“ ۔
جن قوموں کی اپنی زبان نہیں ہوتی۔ وہ گونگی اور بہری قرار دی جاتی ہیں ۔اور تاریخ شاہد ہے کہ گونگی اور بہری بے زبان قومیں تاریخ کے دہندلکوں میں گم ہوگئیں اور ان کا نام نشان بھی اب نہیں ملتا۔
پاکستان میں باقاعدہ ایک مسلسل سازش اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اردو کو سرکاری زبان نافذ کرنے میں پس و پیش کی جارہی ہے۔ جب کہ پاکستان کا آئین بھی اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اردو زبان کو سرکاری اور کاروبارِمملکت کی زبان کے طور پہ نافذ کیا جائے ۔ مگر پاکستان میں انتہائی مراعات یافتہ انگریزی طبقہ ۔ اردو اور پاکستان کی دیگر زبانیں جاننے والی پاکستان کی اٹھانوے فیصد سے زائد اکثریت کو رعایا سمجھتا ہے ۔اور اپنے آپ کو پاکستان کا مالک اور حاکم بااختیار سمجھتا ہے ۔ اور نہیں چاہتا کہ پاکستان کے عوام بھی ترقی کر کے اس فرق کو ختم کردیں ۔جو اس انگریزی کلب اور عام پاکستانی عوام کے میعار زندگی اور اختیار و بے بسی میں ہے۔ اور یوں اس انگریزی کلب کی حاکمیت اور خصوصیت کا امتیاز ختم ہوجائے ۔
جہاں تک پاکستان کے سیاست دانوں اور کرتا دہرتاؤں کا تعلق ہے ۔جنہیں پاکستان میں اردو کو نافذ کرنے کا اپنا منصبی فرض پورا کرنا ہے ۔ ان کو یعنی حکمرانوں کو یہ انگریزی طبقہ غلط طور پہ تاویلات پیش کر کے ۔ اردو کو سرکاری اور پاکستان میں کاروبار ریاست کی زبان قرا ردینے کی بجائے۔ الٹا سرکاری سطح پہ انگریزی کو زرئعیہ تعلیم (میڈیم )قرار دینے پہ زور دیتا آیا ہے ۔
عام طور پہ پاکستان کےحکمران طبقہ کا تعلق چونکہ انگریزی کلب سے ہونے کی وجہ سے۔ یہ طبقہ اردو کے بارے انتہائی کم معلومات رکھتا ہے اور اردو سے کسی حد نابلد ہوتا ہے۔ اس لئیے اردو زبان کو حکمران طبقہ ایک مشکل مسئلہ سمجھتا ہے ۔ اور اردو کو درخود اعتناء نہیں سمجھتا۔ اور انگریزی کلب کی تاویلات سے متاثر ہوکر انگریزی کلب کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتا ہے ۔ اور انگریزی زبان کو اپنا اور ریاست کا اوڑنا بچھونا بنائے رکھنے میں عافیت محسوس کرتا ہے ۔
ستم ظریفی کی حد ہے ایک ایسے معاشرے میں جس میں اٹھانوے فیصد آبادی انگریزی سمجھتی اور بولتی نہیں ۔ اس میں پہلی جماعت سے انگریزی کو زرئعیہ تعلیم قرار دیا گیا ہے ۔ جس کا فوری نقصان یہ ہوا کہ سالانہ نتائج میں پاکستان کی اکثریت غریب عوام کے بچوں کی کامیابی کی شرح اوسط مزید گر گئی ہے۔
مضمونِ ہذاہ میں ہم ان تاویلات کا تجزئیہ کرنے اور ان تاویلات کی منافقت سامنے لانے کی کوشش کریں گے ۔ تانکہ قارئن اکرام کو واضح ہو کہ پاکستان میں قومی زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ نہ کر کے پاکستان اور پاکستان کے عوام کوکس قدر نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
قیام پاکستان کے شروع سے لیکر اور پاکستان بن جانے کے بہت سالوں بعد ۔کمپیوٹر کے عام ہونے تک اردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے خلاف ۔جو تاویل بڑی شدو مد سے انگریزی کلب بیان کرتا تھا۔ وہ یہ تھی ۔ کہ دفاتر میں تائپ رائٹنگ کے لئیے انگریزی زبان کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ حروف تہجی اور انگریزی رسم الخط کی وجہ سے انگریزی ٹائپنگ میں بہت آسانی اور روانی رہتی ہے۔ جبکہ اردو میں ٹائپنگ کے لئیے ایک اردو ٹائپ رائٹر مشین میں اردو کے حروف تہجی جوڑنے اور الفاظ کی شکل دینے کے لئیے کم از کم تین سو سے زائد کیز والی ٹائپ رائٹنگ کی ضرورت پڑے گی۔ جو عملی طور پہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے ٹائپ رائٹرز کو سرکاری دفاتر میں استعما ل کرنا نا ممکن کام ہے ۔ اور یوں حکومتوں نے بھی تجاہل عارفانہ سے کام لے کر اردو کو سرکاری اور دفتری زبان قرار دینے میں اغماض برتا جو قومی مفادات سے غداری کے مترادف سمجھا جانا چاہئیے ۔
مگر کمپیوٹر کی کرشماتی ایجاد اور اسکے عام ہونے کے معجزہ نے ۔انگریزی کلب کی اس تاویل کی ہوا نکال دی ۔ اور ٹائپ رائٹنگ مشینیں قصہ پارنیہ ہویئں۔ اور پاکستان کی قومی اور عوامی زبان۔۔ اردو لکھنا ۔اردو جاننے والوں کے لئیے انتہائی سہل ہوگیا ہے ۔ اس کے باوجود سرکاری سطح پہ اردو زبان کو ترقی دینے کے لئیے قیمتی بجٹ سے گرانقدر مشاہرہ اور مراعات سے جو ادارے قائم کئیے گئے۔ انکی عمارتیں اور اخراجات اور ہٹو بچو قسم کے سربراہ اور عہدیداران تو بہت تھے ۔مگر اردو کی خدمات کے حوالے سے ان کا کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ بلکہ اردو کو ترقی دینے کے لئیے قائم کئیے گئے ان حکومتی اداروں کے نام تک انگریزی میں ہیں ۔اور انکے سالانہ اجلاس اور اردو کی ترویج و تشیہر کے لئیے بلائی گئی کانفرسوں کا مواد اور اشتہارات اور ویب سائٹس پہ مواد اردو کی بجائے انگریزی میں ہوتا ہے۔
یہ اردو۔۔۔ جو آپ کمپیوٹرز اور مختلف مصنوعات پہ پڑھ لکھ رہے ہیں ۔اسے اس حد تک ترقی دینے میں حسب معمول بہت سے لائقِ تحسین عام پاکستانی رضا کاروں کی انتھک کوششوں کا ثمر ہے۔ جنہوں نے محض اسے ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اور بغیر کسی معاوضے کے انتھک محنت سے اردو کی خدمت کی ہے۔ جس میں عام اردو کے دیدہ زیب فاؤنٹس سے لیکر مختلف پرگرام اور ایپس اردو میں متعارف کروائی ہیں اور اور اس وجہ سے پاکستانی اور دیگر دنیا کے اردو جاننے والے ۔ اپنے کمیپوٹر وں۔ موبائل فون اور دیگر مصنوعات پہ کسی دوسری زبان کی بجائے۔ اپنی زبان اردو کواستعمال کرنے کو ترجیج دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج کمپیوٹر بنانے والی اور دیگر مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اور فرمیں اردو زبان کو اپنی مصنوعات کی رابطہ زبانوں میں شامل کرتی ہیں ۔ جبکہ پاکستان کی حکومتوں اور پاکستانی عوام کے ٹیکسز سے قائم کئیے گئے بڑے بڑے اداروں جن کا واحد مقصد اردو کو ترقی دینا تھا ۔ ان کا اس معاملے میں کردار صفر کے برابر ہے ۔
ان مذکورہ اداروں کو اردو کی ترقی اور ترویج کا فریضہ دیا گیا تو انہوں نے انگریزی میں مروجہ اصطلاحات کو اسقدر مشکل ۔ غیر مستعمل۔ غیر عوامی۔ اور غیر زبانوں کے الفاظ سے اسقدر پیچیدہ ۔ ثقیل ۔ اور مضحکہ خیز بنا کر پیش کیا اور یہ ساری مشق اور قوم کا سرمایہ کا مصرف بیکار گیا۔ ہماری رائے میں ایسا کرنا اور حکومتی ادراے کے من پسندیدہ افراد کو نوازتے ہوئے یہ بجائے خود اردو کے خلاف ایک سازش ثابت ہوئی اور اردو سے اچھا خاصہ لگاؤ رکھنے والے نفیس لوگوں نے اسے اپنانے سے انکار کردیا ۔ اور پھر سے اس کا حل مکمل انگریزی اختیار کرنے میں نکالا گیا۔
مستعار اصطلاحات و ترکیبات اور مشکل الفاظ یا کوئی متبادل لفظ نہ ہونے کی صورت میں زبانیں اپنا رستہ خود بخود بنا لیتی ہیں۔ اور یہ مسئلہ دنیا بھر کی سبھی زبانوں کے ساتھ رہا ہے۔ اور ہے۔ خود انگریزی میں فرنچ اور دیگر لاطینی زبانوں کے بے شمار مستعار لفظ مستعمل ہیں۔ مثلا ”کیمرہ“۔۔ یہ بنیادی طور پہ یہ لاطینی لفظ ہے۔ جس کے معانی ہیں ڈبہ یا ڈبہ نما کوئی ایسے شئے جو اندر سے خالی ہو۔ اور انگریزی میں ہزاروں الفاظ کی ہم مثال یہاں دے سکتے ہیں ۔جو بنیادی طور پہ لاطینی ۔ فرانسیسی اور اسپانوی الفاظ ہیں ۔ اور انگریزی سے قدیم ہیں ۔ اور انگریزی نے اسے اپنا لیا ہے۔ اور اسے اپنا خاص انگریزی کا تلفظ دے ڈالا ہے۔ جس سے وہ ایک الگ صوتی شناخت پا گئے ہیں ۔
“اسی طرح کچھ خاص پہلوؤں سے عربی زبان اور دنیا کی دیگر زبانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ جو دنیا کی فصیح و بلیغ زبان اور قدیم اور انتہائی ترقی یافتہ زبان ہے۔عربی زبان سے بڑھ کر کوئی بھی زبان کسی بھی صورت حال یا شئے کو واضح کرنے کے لئیے اپنے اندر اتنی صلاحیت نہیں رکھتی۔جتنی صلاحیت عربی زبان میں ہے۔ انگریز اور مغرب نے طیارہ ایجاد کیا۔ اور اسے ”ائیر پلین“۔ یا ا”ئر کرافٹ “یا دیگر نام دئیے جو بجائے خود دو ناموں کا مجموعہ ہیں۔مگر عربی نے اسے سیدھا سادا انداز میں ”طائرۃ“ کا نام دیا ۔ جو زیادہ ترقی یافتہ لفظ ہے۔ اور اس فصحات و بلاغت کے باوجود یونانی فاتح ۔جسے انگریزی نے ”الیگزینڈر“ کہہ کر پکارا ۔عربی نے اسے ”اسکندر“ کہا۔اور اسی مناسبت سے مصر کے مشہور شہر ”اسکندریہ“ کا نام عربی زبان کی مناسبت سے وجود میں آیا۔۔۔ لیبا کا مشہور شہر کا نام ”طرابلس” ۔ ”ٹریپولی “ نام کی وجہ سے وجود میں آیا۔ مگر اسے عربی نے اپنے انداز میں ”طرابلس“ کا نام دیا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ دنیا میں رائج قدیم ترین زبانوں میں سے رائج ایک زبان اسپانوی کے ساتھ بھی ہے۔ عربی کے بعد ماہرینِ لسانیات عام طور پہ اسپانوی زبان کو دنیا کی دوسری فصیح و بلیغ زبان گردانتے ہیں ۔ مسلم اسپانیہ کے دور کے مشہور شہروں کے نام” اشییلیہ“۔”قرطبہ“۔ ”غرناطہ۔” مالقہ“۔”سرقسطہ“۔قادسیہ” وغیرہ اسپانوی زبان میں باالترتیب ۔ ”اِس بیا“۔ ”قوردبہ“۔ ”گارانادا“۔”مالاگا۔”ژاراگوثہ“۔ ”قادس۔ وغیرہ میں بدل گئے اور تلفظ بدلنے سے۔ امریکن قرطبہ کو ۔”کارڈواہ” کہہ کر پکارتے ہیں کیوں کہ وہ قرطبہ شہر کے نام کو انگریزی حروف تہجی Córdvba تلفظ بگڑ جانے سے یوں ”کارڈواہ“ پکارتے ہیں۔ مگر اس سے مراد قرطبہ شہر ہی ہے یعنی نام کوئی بھی دے دیا جائے۔ یا کسی طرح بھی اسے پکارا جائے۔ مراد وہی مخصوص شہر ۔معانی یا شئے ہوتی ہے۔ اسی طرح قدیم عربی کے ہزاروں الفاظ اسپانوی میں اتنی صدیوں بعد بھی عربی تلفظ کے ساتھ اور انہی معانوں میں مستعمل ہیں۔ مثلا ”قندیل“۔ ”بلبل“ وغیرہ ہیں ۔ سقوطِ غرناطہ کو پانچ سے زائد صدیاں گزرجانے کے بعد بھی اسپانوی رائل ڈکشنری یعنی شاہی لغت میں ایک ہزار کے لگ بھگ الفاظ قدیم عربی زبان کے ملتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اسپانوی زبان میں کسی نئے لفظ کو شامل کرنے یا نئی اصطلاحات اور ترکیبات شامل یا متروک الفاظ کو خارج کرنے کے لئیے اسپانوی زبان کی شاہی کونسل کا باقاعدہ بورڈکا اجلاس ہوتا ہے جس میں اسپانوی زبان کے ماہر ترین اور اسپانوی زبان میں ڈاکٹری کا اعزاز رکھنے والے اس کے باقاعدہ ممبر کسی لفظ کے متروک یا شامل کرنے پہ نہائت غوروص کے بعد اسے شامل یا متروک کرتے ہیں ۔تو اگر رائل اسپانوی لغت میں بدستور ایک ہزار کے لگ بھگ الفاظ تقریبا اپنی اصل حالت اور معانی میں شامل ہیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روز مرہ کی زندگی میں استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔ اور اسپانوی حکومت اور عوام کو ان پہ کوئی اعتراض نہیں کہ وہ زبردستی سے ان الفاظ کا متبادل اپنی زبان اسپانوی میں مسلط کرتے ۔
خود اردو زبان میں بہت سے انگریزی زبان کے کئی الفاظ مثلاً ”فون “۔”بس“۔ ”ٹرک“۔ ”ڈاکٹر“۔ ”انجئنیر“۔ ”نرس“۔” ہاکی“۔ ”جنگل“۔”ٹیم“۔ وغیرہ یوں مستعمل ہوئے کہ انہیں ادا کرنے کے لئیے انگریزی سے واقفیت ہونا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح اردو نے عربی۔ فارسی۔ ہندی۔ ترکی اور دیگر بہت سی زبانوں کے الفاظ اپنائے ہیں جن کے بارے یہ جانے بغیر کہ یہ کون سی زبان کے الفاظ ہیں اور ان کا درست تلفظ کونسا ہے۔ ان الفاظ کو سمجھنے ۔ بولنے اور ادا کرنے میں عام آدمی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
اردو چونکہ دیگر زبانوں کے مقابلے میں نئی زبان ہے۔ اس لئیے اردو میں دیگر زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت حیرت انگیز ہے۔ اور یہی اردو کی ترقی کا راز بھی ہے۔ کہ اردو اتنے کم وقت میں اتنے کڑوڑوں انسانوں نے اسے اپنا لیا ہے اور انہیں اردو کو بولنے ۔ سمجھنے اور ادا کرنے میں پریشانی نہیں ہوتی ۔
جہاں تک مخصوص سائنسی اصطلاحات کا زکر ہے تو ان میں سے بیشتر یونانی اور لاطینی سے انگریزی میں منتقل ہوئیں ہیں ۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔ کہ اگر آپ ان سائنسی اصطلاحات کو اگر جوں کا توں بھی اردو میں اپنا لیں تو جمہورِ اردو خود بخود ایک دن انہیں اپنے سے تلفظ اور نام دے دے گا ۔ جیسے ٹریپولی کو عربوں نے طرابلس کا نام میں بدل ڈالا یا الیگزینڈر کو اسکندر۔ اور آج عام عرب یونان کے مشہور فاتح کو اسکندر کے نام سے ہی جانتے ہیں ۔ اور اسی طرح جیسے مندرجہ نالا مثالوں میں مختلف خطوں اور زبانوں کے جمہورِ نے مختلف زبانوں کے الفاظ کو اپنی ضرورت کے تحت اپنے تلفظ یا صورت میں اپنا لیا تو کیا وجہ ہے کہ اردو کے ساتھ یوں نہیں سکتا؟ جبکہ اردو کا ظرف اور دامن بہت وسیع ہے۔مثال کے طور پہ جیسے فون لفظ اب اردو میں اور پاکستان میں عام مستعمل ہے اسے ” صوتی آلہ“ بلانے لکھنے پہ زور دینا ایک نامناسب بات ہے ۔ ا
حاصلِ بحث یہ ہے جن الفاظ۔ ترکیبات اور سائنسی یا دیگر ناگزیر اصطلاحات کا فوری طور پہ اردو میں آسان ترجمہ نہ ہوسکے۔ تو انھیں انکی اصلی حالت میں ہی حالت اردو رسم الخط میں لکھ دینے سے اور باقی نفس مضمون اردو میں لکھ دینے سے ان کی ماہیئت نہیں بدلے گی ۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے جو ناگزیر الفاظ اردو میں لکھے جاسکتے ہیں ۔ انہیں اردو رسم الخط میں لکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
ناعاقبت اندیش لوگ ایک اورتاویل ا انگریزی کے حق میں یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ مادی ترقی کے لئیے انگریزی جاننا ضروری ہے ۔ کیونکہ کہ انگریزی امریکا اور برطانیہ کی ترقی یافتہ اقوام کی زبان ہے ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین جو اپنی چینی زبان سمیت اتنی تیزی سے ترقی کر کے۔ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے۔ اور کچھ وقت جاتا ہے کہ وہ امریکہ کومعاشی ترقی میں پیچھے چھوڑ دے گا ۔ تو پھر کی اس کلئیے کے تحت پاکستان کے پورے نظام اور اسکی آبادی کو چینی زبان سیکھنی اور اپنانی پڑے گی ؟ ترقی اپنی زبان کے استعمال اور نفاذسے ہوتی ہے۔ مستعار زبانوں سے کبھی ترقی نہیں ہوا کرتی۔
جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بین الاقوامی زبان چونکہ انگریزی ہے تو ہمیں انگریزی سیکھنی چاہیئے انکا یہ استدلال اپنی جگہ مگر چند ہزار افراد کی انگریزی میں مہارت کے لئیے پوری ایک قوم کو بے زبان کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ کیا اسکے لئیے یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ اپنے ان افراد کو جنہیں بین الاقوامی معاملے کرنے ہوتے ہیں۔ انھیں بہترین معیار کی انگریزی اور دیگر مغربی و مشرقی زبانیں سکھانے پہاکتفاء کر لیں اور باقی پچانوے فیصد پاکستانی قوم پہ انگریزی مسلط کرنے میں جو توانائی اور وسائل برباد کر کے۔ پوری قوم کو ٹکٹکی پہ لٹکا رکھا ہے۔ اس سے پاکستانی قوم کو معافی دے دیں ۔
انگریزی زبان کو ذرئعیہ تعلیم قرار دینے کی ایک اور بڑی خرابی جو پاکستانی معاشرے بگاڑ پیدا کرنا کر رہی ہے اور آیندہ اگلے سالوں میں مزید بگاڑ پیدا کرے گی وہ خرابی انگریزی کی نصابی کتب اور انکے پیچھے چھپی مخصوص سوچ ہیں ۔ کیونکہ عام طور پہ انہیں لکھنے والوں ۔ ترتیب دینے والوں کیاکثریت یا تو سیکولر غیر ملکی مواد کو نقل کرتے ہیں یا وہ اپنے مخصوص اسیکولر نکتہ نظر سے مضامین اور کتب لکھتے ۔ جو پاکستانی قوم کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف ہے ۔ ایسے سیکولر نصاب میں پاکستانی قومیت اور اسلامی و مشرقی اقدار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ دین و ملت سے بیزار نظر آتا ہے۔ کیونکہ انہیں اسلامی اخلاق ۔ مشرقی اقدار یا قومی جذبات کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ کیونکہ انگریزی نکتہ نظر سے یہ سب دقیانوسیت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ انگریزی نصاب جو لوگ ترتیب دیتے ہیں وہ انگریزی نصاب سے صرف انگریزی کی نہیں بلکہ اپنے انگریزی خیالات کی بھی ترویج کرتے ہیں۔ اور ملکی و قومی افکار کی۔ دین و ملت سے محبت کی اس میں گنجائش نہیں رکھی جاتی ۔ انگریزی ایک برآمدی زبان ہے جو کلچر انگریزوں کے ہاں آج رائج ہے۔ اسی کی جھلکیاں آپ کو انکی برآمدی زبان میں نظر آئینگی۔ جو کچے ذہنوں کو متاثر کرتی ہیں اور اور ویسی ہی ترغیب دیتی ہیں ۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ بات طے ہے کہ ہر انسان اپنی مادری زبان میں سوچتا ہے۔ جس کے تحت اسکے خیالات ترتیب پاتے ہیں۔ جسے وہ عملی شکل دے کر ۔عام روز مرہ کے معاملات سے لیکر محیر العقول دریافتیں۔ ایجادات اور پیچیدہ مسائل کا حل ڈہونڈ نکالتا ہے۔ اور سوچنے کا یہ عمل اگر ایک انسان چاہے تو کسی ایسی دوسری زبان میں سوچ بھی سکتا ہے جو اسکے لئیے آسان اور سہل اور عام فہم ہو۔ جیسے مثال کے طور پہ اگر معاشرے میں دو یا دو سے زائد زبانیں رائج ہوں ۔ یا اسے دوسری زبانوں پہ عبور ہو ۔ جس طرح کنیڈا میں بہت سے لوگ انگریزی اور فرانسیسی پہ عبور رکھتے ہیں ۔اسپانیہ کے صوبہ ”قتئلونیہ“ میں ”قئتلان“ اور” اسپانوی“ پہ ۔اسپین کے صوبہ” گالی سیا “میں” گالیگو “اور ”اسپانوی “پہ عبور رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں ”پنجاب“ میں ”پنجابی“ اور ”اردو“ کے ساتھ ۔ اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں دیگر صوبوں کی زبانوں اور اردو کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔تو یہ لوگ ہر دو زبانوں میں سے کسی ایک زان میں سوچ کر اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ مذکورہ زبانیں ان کے لئیے اجنبی اور پیچیدہ زبانیں نہیں ۔ اور اس لئیے وہ اپنی صلاحیتوں کو اپنی زبانوں کے ذریئعے زیادہ بہت طور پہ اجاگر کر سکتے ہیں ۔ جبکہ انگریزی زبان پاکستان کے عوام کے لئیے قطعی برآمدی زبان ہے ۔سائنس یہ بات تسلیم کرتی ہے۔ اور زبان کو انسانی سوچ کے لئیے کو مادری یا دوسری معلوم اور عبور رکھنے والی زبان کو بنیاد مانتی ہے جس سے وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا تا ہے یوں کسی معاشرے میں اسکی اپنی زبان ترقی و تمدن میں بنیادی اورمسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔
شاعری ۔ نثر ۔اور روز مرہ مسائل کے حل کے لئیے سوچنے۔تخیل دوڑانے اور تصور کرنے کے لئیے انسان اپنی بنیادی یا عام فہم سمجھنے والی زبان سے کام لیتا ہے۔
ہم اس تصور کو ایک اور مثال سے واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرا تصور کریں۔ میر ۔ غالب۔نظیر اکبر الہ آبادی۔ اقبال رح۔ فیض یا دیگر شعراءنےجو اردو وغیرہ میں کلام کیا ہے وہ سب انھیں انگریزی میں سوچنے۔ اور ڈھالنے کے لئیے۔انگریزی میں اس پائے کا کلام کرنے کے لئیے ۔کتنا عرصہ انگریزی سوچنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئیے درکارتھا؟ اور کیا اس کے بعد بھی وہی نتائج سامنے آتے۔اور ان کا وہی معیار ہوتا ۔جو آج دیوانِ غالب اور کلیاتِ اقبال یا بانگ درا کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں ؟ بعین اسی طرح کا معاملہ ان خداد ذہین انسانوں کے ساتھ بھی ہے جو چٹکی بجانے میں بڑے سے بڑا مسئلہ حل کردیتے ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک ایجاد کرتے ہیں ۔ مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں ۔ یا اپنی کسی خاص دلچسپی میں مہارت رکھتے ہیں۔ اگر انھیں ایک غیر ملکی زبان انگریزی سیکھنے اور پھر اسی خاص زبان انگریزی کے تحت اپنے خیالات کو عملی جامہ اپنانے پہ پابند کر دیا جائے ۔جب کہ خداد تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگ ویسے بھی عام طور پہ۔ اپنی فطری ساخت کی وجہ سے اپنے پہ مسلط بے جاضابطوں سے کسی حد تک باغی ہوتے ہیں ۔ تو کیا ان کی قابل قدر صلاحیتیں ایک ایسی زبان پہ صرف ہو جانی چاہئیں۔ جس میں وہ بددل ہو کر سارے سلسلے سے ہی ہاتھ اٹھا کر دنیا کی بھیڑ بھاڑ میں گم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ انگریزی سیکھنے میں کامیاب ہو بھی جائیں۔ تو بہت سا قیمتی وقت وہ ایک ایسے عمل پہ خرچ کر چکے ہوتے ہیں جو ضروری نہیں تھا۔ اور یہ تماشہ پاکستان کے جوہر قابل اور ذہین طلبہ کے ساتھ عام ہوتا ہے کہ خواہ وہ کس قدر ہی کیوں نہ لائق اور ذہین فطین ہوں لیکن بد قسمتی سے ۔یا۔ اردو میڈیم ہونے کی وجہ سے۔اگر ایک برآمدی زبان انگریزی میں انکا ہاتھ تنگ ہے ۔ تو جہاں انکے لئیے آگے بڑھنے کے مواقع معدوم ہوجاتے ہیں۔ وہیں پاکستان اور پاکستان کے عوام ذہین اور قابل لوگوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔
ملک میں خداد جوہر قابل کو محض انگریزی زبان کو لازمی قرار دینے سے ضائع ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں عام آدمی کو پاکستان کی ترقی میں کوئی موقع نہیں ملتا اور آخر کار وہ مایوس ہو کر اپنے آپ کو قومی سو چ اور قومی دھارے سے الگ کر لیتا ہے ۔جس سے معاشرے میں امن و عامہ سے لیکر کئی قسم کے تعصبات اور انکے نتیجہ میں مسائل جنم لے رہےہیں۔
اس لئیے صرف یہ کہہ کر ٹال دینا کہ اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ اسلئیے نافذ نہیں کیا جاسکتا کہ اردو ایک ترقی یافتہ زبان نہیں ۔ یا۔ اردو زبان میں لاطینی یا انگریزی کی سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ مشکل ہے۔ اور اسے سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ نہ کرنا۔ محض بد نیتی کے سوا کچھ نہیں۔
جو لوگ انگریزی کو محض اس لئیے اپنانے پہ اصرار کرتے ہیں اور بضد ہیں کہ اردو کی قربانی دے کر انگریزی زبان کو اپنانا ترقی کے لئیے ضروری ہے۔ انکی یہ توجہیہ درست نہیں ۔ کیونکہ اس خاص انگریزی طبقے کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو پھر اپنی زبانوں میں مشرق و مغرب میں۔ ترقی کرنے والے ممالک ۔ جاپان۔ چین۔جرمنی۔روس۔ فرانس وغیرہ کو آپ کس کھاتے میں رکھیں گے؟ یورپ کے ننھے ننھے ترقی یافتہ ممالک ڈنمارک۔ ناروے۔ سویڈن۔ سوئٹزرلینڈ۔ہالینڈ۔ لکسمبرگ ۔ یوروپ کے بڑے ممالک روس اسپین ۔ فرانس۔ اٹلی۔ جرمنی۔ وغیرہ کسی ملک کی سرکاری زبان انگریزی نہیں۔ معاشی طور پہ تیزی سے ابھرتے ہوئے ممالک۔ برازیل ۔ انڈونیشا ۔ ملائشیاء ۔وغیرہ۔ ان میں سے کسی ملک کی زبان انگریزی نہیں۔ اور ان تمام ملکوں۔ کی زبانیں انکی اپنے ملک میں رائج جمہور کی۔ عوام کی۔ زبانیں سرکاری طور پہ نافذ ہیں۔ اس لئیے ترقی کرنے کے لئیے۔ پاکستان کی دیگر بہت سی خرابیاں درست کرنے کی ضرورت ہے ۔جن کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر پا رہا اور اس بد حالی کی ایک بڑی وجہ بھی پاکستان کی جمہور کی۔ عوام کی آواز اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ نہ نافذ کرنا ہے۔
پاکستان کی اٹھانوے فیصد آبادی اپنا مدعا اور منشاء انگریزی میں ادا کرنے کی اسطاعت نہیں رکھتی۔ پاکستان کے انگریزی دان طبقے کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انگریزی پہ زور دینے والا یہ طبقہ انگریزی ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کے حوالے سے نثر ۔ نظم ۔ ناول یا ادب کی دیگر کسی صنف میں کوئی نمایاں کارنامہ سر انجام نہیں دے سکا ۔ اور سائنسی اور تکنیکی علوم میں انگریزی کلب کا ہاتھ مزید تنگ ہوجاتا ہے ۔تو کیا پاکستان کے انگریزی کلب کے سامنے محض اس لئیے سر تسلیم خم کر دیا جائے کہ وہ انگریزی جانتے ہیں؟ اور انگریزی زبان جاننا قدر مشترک ہونے کی وجہ سے۔ انگریزی کلب پاکستان کے نظام پہ حاوی رہے؟ ۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی دان طبقہ پاکستان میں انگریزی زبان کا تسلط اس لئیے نہیں رکھنا چاہتا کہ انگریزی سے اہلیت بڑھتی ہے اور انگریزی کے تسلط سے پاکستان ترقی کر جائے گا ۔ بلکہ پاکستان کا انگریزی کلب۔ پاکستانی عوام اور وسائل کو انگریزی زبان کے ذرئعیے پاکستان میں اپناتسلط قائم رکھنا چاہتا ہے ۔
پاکستان کے مسائل کی ایک بہت بڑی وجہ عام بول چال اور سمجھ میں آنے والی جمہورِ کی زبان اردو کے ساتھ یہ یتیمانہ سلوک ہے۔ اگر اسے سرکاری طور پہ نافذ کر دیا جائے تو پاکستان کی بے مہار اورانگریزی کلب کی پیداوار بیورکریسی جو محض انگریزی زبان کی وجہ سے جمہورِ پاکستان سے اپنے آپ کو الگ شناخت کرتی ہے۔ اپنے آپ کو خاص اور عوام کو اپنی رعایا سمجھتی ہے۔ اردو کو سرکاری زبان نافذ کرنے سے پاکستان اور پاکستان کے عوام کی جان چھوٹ جائے گی۔جب پاکستان میں اعلی عہدوں کے لئیے مقابلہ کے امتحانات اردو میں ہونگے اور اردو کو سرکاری طور پہ اوڑنا بچھونا بنایا جائے گا۔ تو انگریزی اور پاکستان جیسے مشرقی اور مسلمان ملک میں انگریزی بودوباش باش کا امتیاز و اعزاز خود بخود ختم ہو جائیگا۔ اور اردو وہ عزت پائے گی جس کی وہ مستحق ہے ۔ کیونکہ اردو کے عزت پانے سے پاکستانی قوم عزت پائے گی۔ کاروبارِ مملکت اردو میں ہونے سے عام فہم اور سہل ہوگا ۔
اردو سمجھنے والوں میں بے شمار خداد صلاحیتوں کے حامل اور اہل لوگوں کو کاروبار ریاستِ پاکستان چلانے کا موقع ملے گا ۔ عوام اور خاص کی ایک ہی زبان ہونے سے عوام اور خاص میں فاصلہ کم ہوگا ۔ ریاستی اور دفتری امور کو سمجھنے میں عام آدمی کو آسانی ہوگی۔
اس لیے پہلے گزارش کر چکے ہیں مستعار اصطلاحات و ترکیبات اور مشکل الفاظ یا کوئی متبادل لفظ نہ ہونے کی صورت میں زبانیں اپنا رستہ خود بخود بنا لیتی ہیں ۔دریا کے سامنے وقتی طور پہ بند باندھ کر۔ اس کا پانی روکا جاسکتا ہے ۔ مگر ہمیشہ کے لئیے یوں کرنا ناممکن ہے۔۔۔۔ اور اردو۔۔۔اس ملک ۔پاکستان میں وہ سیل رواں ہے۔ کہ اس کے سامنے جو رکاوٹ بن کر آیا۔ وہ خس خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ کیونکہ اردو زبان پاکستان کے عوام کی۔ جمہور کی زبان ہے۔ اور جمہور اپنا رستہ خود بنا لیا کرتا ہے۔
بس کچھ سالوں کی بات ہے ۔ یا پھر ہماری قیادت کو قومی غیرت کا ادراک ہوجائے۔ تو اردو کو فی الفور سرکاری زبان کا درجہ دے کر۔ اسے سرکاری طور پہ نافذ کرے۔ اسی کو تعلیم کا ذرئعیہ (میڈیم) بنائے۔۔۔اتنی بڑی آبادی کے ملک کے لئیے۔ قومی ہی کیا۔ عالمی ناشران بھی اردو میں کتابیں چھاپنے پہ مجبور ہونگے ۔۔ اور جو نہیں چھاپیں گے وہ خسارے میں رہیں گے ۔ شروع میں ایک حد تک حکومت تراجم کی سہولت خود بھی مہیاء کر سکتی ہے۔ بعد ازاں سب اردو میں کتب لے کر بھاگے آئیں گے۔ کہ ہم سے بہت ہی کئی درجہ چھوٹے ممالک میں انکی اپنی زبانوں میں تعلیم ہونے کی وجہ سے عالمی ناشران انہی زبانوں میں بھی کتب چھاپتے ہیں۔ کہ یہ ایک کاروبار ہے۔ کسی زبان پہ احسان نہیں۔
اگر حکومت نہ بھی دلچسپی دکھائے تو بھی ایک بات تو طے ہے کہ اردو کا مستقبل پاکستان میں روشن ہے اور ایک روشن اور ترقی یافتہ پاکستان کے لئیے اردو زبان کو بطور سرکاری زبان اپنانا اور سرکاری طور پہ نافذ کرنا۔ نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ ایک لازمی قومی فریضہ ہے ۔
جاوید گوندل
پچیس فروری سنہ دو ہزار پندرہ
۲۵۔۰۲۔۲۰۱۵ ء

 

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اردو


اردو۔۔۔
انتہائی توجہ طلب قومی فریضہ۔۔۔


حصہ اول۔
چین کے ایک صدر کے بارے ایک واقعہ عام بیان کیا جاتا ہے ۔ کہ انہوں نے انگریزی زبان جانتے ہوئے بھی انگریزی زبان کی بجائے چینی زبان میں بات کرنے کو یہ کہہ کر ترجیج دی کہ” چین گونگا نہیں“ ۔
جن قوموں کی اپنی زبان نہیں ہوتی۔ وہ گونگی اور بہری قرار دی جاتی ہیں ۔اور تاریخ شاہد ہے کہ گونگی اور بہری بے زبان قومیں تاریخ کے دہندلکوں میں گم ہوگئیں اور ان کا نام نشان بھی اب نہیں ملتا۔
پاکستان میں باقاعدہ ایک مسلسل سازش اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اردو کو سرکاری زبان نافذ کرنے میں پس و پیش کی جارہی ہے۔ جب کہ پاکستان کا آئین بھی اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اردو زبان کو سرکاری اور کاروبارِمملکت کی زبان کے طور پہ نافذ کیا جائے ۔ مگر پاکستان میں انتہائی مراعات یافتہ انگریزی طبقہ ۔ اردو اور پاکستان کی دیگر زبانیں جاننے والی پاکستان کی اٹھانوے فیصد سے زائد اکثریت کو رعایا سمجھتا ہے ۔اور اپنے آپ کو پاکستان کا مالک اور حاکم بااختیار سمجھتا ہے ۔ اور نہیں چاہتا کہ پاکستان کے عوام بھی ترقی کر کے اس فرق کو ختم کردیں ۔جو اس انگریزی کلب اور عام پاکستانی عوام کے میعار زندگی اور اختیار و بے بسی میں ہے۔ اور یوں اس انگریزی کلب کی حاکمیت اور خصوصیت کا امتیاز ختم ہوجائے ۔
جہاں تک پاکستان کے سیاست دانوں اور کرتا دہرتاؤں کا تعلق ہے ۔جنہیں پاکستان میں اردو کو نافذ کرنے کا اپنا منصبی فرض پورا کرنا ہے ۔ اان کو یعنی حکمرانوں کو یہ انگریزی طبقہ غلط طور پہ تاویلات پیش کر کے ۔ اردو کو سرکاری اور پاکستان میں کاروبار ریاست کی زبان قرا ردینے کی بجائے۔ الٹا سرکاری سطح پہ انگریزی کو زرئعیہ تعلیم (میڈیم )قرار دینے پہ زور دیتا آیا ہے ۔
عام طور پہ پاکستان کےحکمران طبقہ کا تعلق چونکہ انگریزی کلب سے ہونے کی وجہ سے۔ یہ طبقہ اردو کے بارے انتہائی کم معلومات رکھتا ہے اور اردو سے کسی حد نابلد ہوتا ہے۔ اس لئیے اردو زبان کو حکمران طبقہ ایک مشکل مسئلہ سمجھتا ہے ۔ اور اردو کو درخود اعتناء نہیں سمجھتا۔ اور انگریزی کلب کی تاویلات سے متاثر ہوکر انگریزی کلب کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتا ہے ۔ اور انگریزی زبان کو اپنا اور ریاست کا اوڑنا بچھونا بنائے رکھنے میں عافیت محسوس کرتا ہے ۔
ستم ظریفی کی حد ہے ایک ایسے معاشرے میں جس میں اٹھانوے فیصد آبادی انگریزی سمجھتی اور بولتی نہیں ۔ اس میں پہلی جماعت سے انگریزی کو زرئعیہ تعلیم قرار دیا گیا ہے ۔ جس کا فوری نقصان یہ ہوا کہ سالانہ نتائج میں پاکستان کی اکثریت غریب عوام کے بچوں کی کامیابی کی شرح اوسط مزید گر گئی ہے۔
مضمونِ ہذاہ میں ہم ان تاویلات کا تجزئیہ کرنے اور ان تاویلات کی منافقت سامنے لانے کی کوشش کریں گے ۔ تانکہ قارئن اکرام کو واضح ہو کہ پاکستان میں قومی زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ نہ کر کے پاکستان اور پاکستان کے عوام کوکس قدر نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
قیام پاکستان کے شروع سے لیکر اور پاکستان بن جانے کے بہت سالوں بعد ۔کمپیوٹر کے عام ہونے تک اردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے خلاف ۔جو تاویل بڑی شدو مد سے انگریزی کلب بیان کرتا تھا۔ وہ یہ تھی ۔ کہ دفاتر میں تائپ رائٹنگ کے لئیے انگریزی زبان کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ حروف تہجی اور انگریزی رسم الخط کی وجہ سے انگریزی ٹائپنگ میں بہت آسانی اور روانی رہتی ہے۔ جبکہ اردو میں ٹائپنگ کے لئیے ایک اردو ٹائپ رائٹر مشین میں اردو کے حروف تہجی جوڑنے اور الفاظ کی شکل دینے کے لئیے کم از کم تین سو سے زائد کیز والی ٹائپ رائٹنگ کی ضرورت پڑے گی۔ جو عملی طور پہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے ٹائپ رائٹرز کو سرکاری دفاتر میں استعما ل کرنا نا ممکن کام ہے ۔ اور یوں حکومتوں نے بھی تجاہل عارفانہ سے کام لے کر اردو کو سرکاری اور دفتری زبان قرار دینے میں اغماض برتا جو قومی مفادات سے غداری کے مترادف سمجھا جانا چاہئیے ۔
مگر کمپیوٹر کی کرشماتی ایجاد اور اسکے عام ہونے کے معجزہ نے ۔انگریزی کلب کی اس تاویل کی ہوا نکال دی ۔ اور ٹائپ رائٹنگ مشینیں قصہ پارنیہ ہویئں۔ اور پاکستان کی قومی اور عوامی زبان۔۔ اردو لکھنا ۔اردو جاننے والوں کے لئیے انتہائی سہل ہوگیا ہے ۔ اس کے باوجود سرکاری سطح پہ اردو زبان کو ترقی دینے کے لئیے قیمتی بجٹ سے گرانقدر مشاہرہ اور مراعات سے جو ادارے قائم کئیے گئے۔ انکی عمارتیں اور اخراجات اور ہٹو بچو قسم کے سربراہ اور عہدیداران تو بہت تھے ۔مگر اردو کی خدمات کے حوالے سے ان کا کام نہ ہونے کے برابر تھا۔ بلکہ اردو کو ترقی دینے کے لئیے قائم کئیے گئے ان حکومتی اداروں کے نام تک انگریزی میں ہیں ۔اور انکے سالانہ اجلاس اور اردو کی ترویج و تشیہر کے لئیے بلائی گئی کانفرسوں کا مواد اور اشتہارات اور ویب سائٹس پہ مواد اردو کی بجائے انگریزی میں ہوتا ہے۔
یہ اردو۔۔۔ جو آپ کمپیوٹرز اور مختلف مصنوعات پہ پڑھ لکھ رہے ہیں ۔اسے اس حد تک ترقی دینے میں حسب معمول بہت سے لائقِ تحسین عام پاکستانی رضا کاروں کی انتھک کوششوں کا ثمر ہے۔ جنہوں نے محض اسے ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اور بغیر کسی معاوضے کے انتھک محنت سے اردو کی خدمت کی ہے۔ جس میں عام اردو کے دیدہ زیب فاؤنٹس سے لیکر مختلف پرگرام اور ایپس اردو میں متعارف کروائی ہیں اور اور اس وجہ سے پاکستانی اور دیگر دنیا کے اردو جاننے والے ۔ اپنے کمیپوٹر وں۔ موبائل فون اور دیگر مصنوعات پہ کسی دوسری زبان کی بجائے۔ اپنی زبان اردو کواستعمال کرنے کو ترجیج دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج کمپیوٹر بنانے والی اور دیگر مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اور فرمیں اردو زبان کو اپنی مصنوعات کی رابطہ زبانوں میں شامل کرتی ہیں ۔ جبکہ پاکستان کی حکومتوں اور پاکستانی عوام کے ٹیکسز سے قائم کئیے گئے بڑے بڑے اداروں جن کا واحد مقصد اردو کو ترقی دینا تھا ۔ ان کا اس معاملے میں کردار صفر کے برابر ہے ۔
ان مذکورہ اداروں کو اردو کی ترقی اور ترویج کا فریضہ دیا گیا تو انہوں نے انگریزی میں مروجہ اصطلاحات کو اسقدر مشکل ۔ غیر مستعمل۔ غیر عوامی۔ اور غیر زبانوں کے الفاظ سے اسقدر پیچیدہ ۔ ثقیل ۔ اور مضحکہ خیز بنا کر پیش کیا اور یہ ساری مشق اور قوم کا سرمایہ کا مصرف بیکار گیا۔ ہماری رائے میں ایسا کرنا اور حکومتی ادراے کے من پسندیدہ افراد کو نوازتے ہوئے یہ بجائے خود اردو کے خلاف ایک سازش ثابت ہوئی اور اردو سے اچھا خاصہ لگاؤ رکھنے والے نفیس لوگوں نے اسے اپنانے سے انکار کردیا ۔ اور پھر سے اس کا حل مکمل انگریزی اختیار کرنے میں نکالا گیا۔
مستعار اصطلاحات و ترکیبات اور مشکل الفاظ یا کوئی متبادل لفظ نہ ہونے کی صورت میں زبانیں اپنا رستہ خود بخود بنا لیتی ہیں۔ اور یہ مسئلہ دنیا بھر کی سبھی زبانوں کے ساتھ رہا ہے۔ اور ہے۔ خود انگریزی میں فرنچ اور دیگر لاطینی زبانوں کے بے شمار مستعار لفظ مستعمل ہیں۔ مثلا ”کیمرہ“۔۔ یہ بنیادی طور پہ یہ لاطینی لفظ ہے۔ جس کے معانی ہیں ڈبہ یا ڈبہ نما کوئی ایسے شئے جو اندر سے خالی ہو۔ اور انگریزی میں ہزاروں الفاظ کی ہم مثال یہاں دے سکتے ہیں ۔جو بنیادی طور پہ لاطینی ۔ فرانسیسی اور اسپانوی الفاظ ہیں ۔ اور انگریزی سے قدیم ہیں ۔ اور انگریزی نے اسے اپنا لیا ہے۔ اور اسے اپنا خاص انگریزی کا تلفظ دے ڈالا ہے۔ جس سے وہ ایک الگ صوتی شناخت پا گئے ہیں ۔
“اسی طرح کچھ خاص پہلوؤں سے عربی زبان اور دنیا کی دیگر زبانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ جو دنیا کی فصیح و بلیغ زبان اور قدیم اور انتہائی ترقی یافتہ زبان ہے۔عربی زبان سے بڑھ کر کوئی بھی زبان کسی بھی صورت حال یا شئے کو واضح کرنے کے لئیے اپنے اندر اتنی صلاحیت نہیں رکھتی۔جتنی صلاحیت عربی زبان میں ہے۔ انگریز اور مغرب نے طیارہ ایجاد کیا۔ اور اسے ”ائیر پلین“۔ یا ا”ئر کرافٹ “یا دیگر نام دئیے جو بجائے خود دو ناموں کا مجموعہ ہیں۔مگر عربی نے اسے سیدھا سادا انداز میں ”طائرۃ“ کا نام دیا ۔ جو زیادہ ترقی یافتہ لفظ ہے۔ اور اس فصحات و بلاغت کے باوجود یونانی فاتح ۔جسے انگریزی نے ”الیگزینڈر“ کہہ کر پکارا ۔عربی نے اسے ”اسکندر“ کہا۔اور اسی مناسبت سے مصر کے مشہور شہر ”اسکندریہ“ کا نام عربی زبان کی مناسبت سے وجود میں آیا۔۔۔ لیبا کا مشہور شہر کا نام ”طرابلس” ۔ ”ٹریپولی “ نام کی وجہ سے وجود میں آیا۔ مگر اسے عربی نے اپنے انداز میں ”طرابلس“ کا نام دیا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ دنیا میں رائج قدیم ترین زبانوں میں سے رائج ایک زبان اسپانوی کے ساتھ بھی ہے۔ عربی کے بعد ماہرینِ لسانیات عام طور پہ اسپانوی زبان کو دنیا کی دوسری فصیح و بلیغ زبان گردانتے ہیں ۔ مسلم اسپانیہ کے دور کے مشہور شہروں کے نام” اشییلیہ“۔”قرطبہ“۔ ”غرناطہ۔” مالقہ“۔”سرقسطہ“۔قادسیہ” وغیرہ اسپانوی زبان میں باالترتیب ۔ ”اِس بیا“۔ ”قوردبہ“۔ ”گارانادا“۔”مالاگا۔”ژاراگوثہ“۔ ”قادس۔ وغیرہ میں بدل گئے اور تلفظ بدلنے سے۔ امریکن قرطبہ کو ۔”کارڈوباہ” کہہ کر پکارتے ہیں کیوں کہ وہ قرطبہ شہر کے نام کو انگریزی حروف تہجی Córdoba میں تلفظ بگڑ جانے سے یوں ”کارڈوباہ“ پکارتے ہیں۔مگر اس سے مراد قرطبہ شہر ہی ہے یعنی نام کوئی بھی دے دیا جائے۔ یا کسی طرح بھی اسے پکارا جائے۔ مراد وہی مخصوص شہر ۔معانی یا شئے ہوتی ہے۔ اسی طرح قدیم عربی کے ہزاروں الفاظ اسپانوی میں اتنی صدیوں بعد بھی عربی تلفظ کے ساتھ اور انہی معانوں میں مستعمل ہیں۔ مثلا ”قندیل“۔ ”بلبل“ وغیرہ ہیں ۔ سقوطِ غرناطہ کو پانچ سے زائد صدیاں گزرجانے کے بعد بھی اسپانوی رائل ڈکشنری یعنی شاہی لغت میں ایک ہزار کے لگ بھگ الفاظ قدیم عربی زبان کے ملتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اسپانوی زبان میں کسی نئے لفظ کو شامل کرنے یا نئی اصطلاحات اور ترکیبات شامل یا متروک الفاظ کو خارج کرنے کے لئیے اسپانوی زبان کی شاہی کونسل کا باقاعدہ بورڈکا اجلاس ہوتا ہے جس میں اسپانوی زبان کے ماہر ترین اور اسپانوی زبان میں ڈاکٹری کا اعزاز رکھنے والے اس کے باقاعدہ ممبر کسی لفظ کے متروک یا شامل کرنے پہ نہائت غوروص کے بعد اسے شامل یا متروک کرتے ہیں ۔تو اگر رائل اسپانوی لغت میں بدستور ایک ہزار کے لگ بھگ الفاظ تقریبا اپنی اصل حالت اور معانی میں شامل ہیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روز مرہ کی زندگی میں استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔ اور اسپانوی حکومت اور عوام کو ان پہ کوئی اعتراض نہیں کہ وہ زبردستی سے ان الفاظ کا متبادل اپنی زبان اسپانوی میں مسلط کرتے ۔
خود اردو زبان میں بہت سے انگریزی زبان کے کئی الفاظ مثلاً ”فون “۔”بس“۔ ”ٹرک“۔ ”ڈاکٹر“۔ ”انجئنیر“۔ ”نرس“۔” ہاکی“۔ ”جنگل“۔”ٹیم“۔ وغیرہ یوں مستعمل ہوئے کہ انہیں ادا کرنے کے لئیے انگریزی سے واقفیت ہونا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح اردو نے عربی۔ فارسی۔ ہندی۔ ترکی اور دیگر بہت سی زبانوں کے الفاظ اپنائے ہیں جن کے بارے یہ جانے بغیر کہ یہ کون سی زبان کے الفاظ ہیں اور ان کا درست تلفظ کونسا ہے۔ ان الفاظ کو سمجھنے ۔ بولنے اور ادا کرنے میں عام آدمی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
اردو چونکہ دیگر زبانوں کے مقابلے میں نئی زبان ہے۔ اس لئیے اردو میں دیگر زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت حیرت انگیز ہے۔ اور یہی اردو کی ترقی کا راز بھی ہے۔ کہ اردو اتنے کم وقت میں اتنے کڑوڑوں انسانوں نے اسے اپنا لیا ہے اور انہیں اردو کو بولنے ۔ سمجھنے اور ادا کرنے میں پریشانی نہیں ہوتی ۔
جہاں تک مخصوص سائنسی اصطلاحات کا زکر ہے تو ان میں سے بیشتر یونانی اور لاطینی سے انگریزی میں منتقل ہوئیں ہیں ۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔ کہ اگر آپ ان سائنسی اصطلاحات کو اگر جوں کا توں بھی اردو میں اپنا لیں تو جمہورِ اردو خود بخود ایک دن انہیں اپنے سے تلفظ اور نام دے دے گا ۔ جیسے ٹریپولی کو عربوں نے طرابلس کا نام میں بدل ڈالا یا الیگزینڈر کو اسکندر۔ اور آج عام عرب یونان کے مشہور فاتح کو اسکندر کے نام سے ہی جانتے ہیں ۔ اور اسی طرح جیسے مندرجہ نالا مثالوں میں مختلف خطوں اور زبانوں کے جمہورِ نے مختلف زبانوں کے الفاظ کو اپنی ضرورت کے تحت اپنے تلفظ یا صورت میں اپنا لیا تو کیا وجہ ہے کہ اردو کے ساتھ یوں نہیں سکتا؟ جبکہ اردو کا ظرف اور دامن بہت وسیع ہے۔مثال کے طور پہ جیسے فون لفظ اب اردو میں اور پاکستان میں عام مستعمل ہے اسے ” صوتی آلہ“ بلانے لکھنے پہ زور دینا ایک نامناسب بات ہے ۔
حاصلِ بحث یہ ہے جن الفاظ۔ ترکیبات اور سائنسی یا دیگر ناگزیر اصطلاحات کا فوری طور پہ اردو میں آسان ترجمہ نہ ہوسکے۔ تو انھیں انکی اصلی حالت میں ہی حالت اردو رسم الخط میں لکھ دینے سے اور باقی نفس مضمون اردو میں لکھ دینے سے ان کی ماہیئت نہیں بدلے گی ۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے جو ناگزیر الفاظ اردو میں لکھے جاسکتے ہیں ۔ انہیں اردو رسم الخط میں لکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

حصہ دوئم۔
ناعاقبت اندیش لوگ ایک اورتاویل ا انگریزی کے حق میں یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ مادی ترقی کے لئیے انگریزی جاننا ضروری ہے ۔ کیونکہ کہ انگریزی امریکا اور برطانیہ کی ترقی یافتہ اقوام کی زبان ہے ۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین جو اپنی چینی زبان سمیت اتنی تیزی سے ترقی کر کے۔ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے۔ اور کچھ وقت جاتا ہے کہ وہ امریکہ کومعاشی ترقی میں پیچھے چھوڑ دے گا ۔ تو پھر کی اس کلئیے کے تحت پاکستان کے پورے نظام اور اسکی آبادی کو چینی زبان سیکھنی اور اپنانی پڑے گی ؟ ترقی اپنی زبان کے استعمال اور نفاذسے ہوتی ہے۔ مستعار زبانوں سے کبھی ترقی نہیں ہوا کرتی۔
جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بین الاقوامی زبان چونکہ انگریزی ہے تو ہمیں انگریزی سیکھنی چاہیئے انکا یہ استدلال اپنی جگہ مگر چند ہزار افراد کی انگریزی میں مہارت کے لئیے پوری ایک قوم کو بے زبان کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ کیا اسکے لئیے یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ اپنے ان افراد کو جنہیں بین الاقوامی معاملے کرنے ہوتے ہیں۔ انھیں بہترین معیار کی انگریزی اور دیگر مغربی و مشرقی زبانیں سکھانے پہاکتفاء کر لیں اور باقی پچانوے فیصد پاکستانی قوم پہ انگریزی مسلط کرنے میں جو توانائی اور وسائل برباد کر کے۔ پوری قوم کو ٹکٹکی پہ لٹکا رکھا ہے۔ اس سے پاکستانی قوم کو معافی دے دیں ۔
انگریزی زبان کو ذرئعیہ تعلیم قرار دینے کی ایک اور بڑی خرابی جو پاکستانی معاشرے بگاڑ پیدا کرنا کر رہی ہے اور آیندہ اگلے سالوں میں مزید بگاڑ پیدا کرے گی وہ خرابی انگریزی کی نصابی کتب اور انکے پیچھے چھپی مخصوص سوچ ہیں ۔ کیونکہ عام طور پہ انہیں لکھنے والوں ۔ ترتیب دینے والوں کیاکثریت یا تو سیکولر غیر ملکی مواد کو نقل کرتے ہیں یا وہ اپنے مخصوص اسیکولر نکتہ نظر سے مضامین اور کتب لکھتے ۔ جو پاکستانی قوم کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف ہے ۔ ایسے سیکولر نصاب میں پاکستانی قومیت اور اسلامی و مشرقی اقدار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ دین و ملت سے بیزار نظر آتا ہے۔ کیونکہ انہیں اسلامی اخلاق ۔ مشرقی اقدار یا قومی جذبات کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ کیونکہ انگریزی نکتہ نظر سے یہ سب دقیانوسیت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ انگریزی نصاب جو لوگ ترتیب دیتے ہیں وہ انگریزی نصاب سے صرف انگریزی کی نہیں بلکہ اپنے انگریزی خیالات کی بھی ترویج کرتے ہیں۔ اور ملکی و قومی افکار کی۔ دین و ملت سے محبت کی اس میں گنجائش نہیں رکھی جاتی ۔ انگریزی ایک برآمدی زبان ہے جو کلچر انگریزوں کے ہاں آج رائج ہے۔ اسی کی جھلکیاں آپ کو انکی برآمدی زبان میں نظر آئینگی۔ جو کچے ذہنوں کو متاثر کرتی ہیں اور اور ویسی ہی ترغیب دیتی ہیں ۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ بات طے ہے کہ ہر انسان اپنی مادری زبان میں سوچتا ہے۔ جس کے تحت اسکے خیالات ترتیب پاتے ہیں۔ جسے وہ عملی شکل دے کر ۔عام روز مرہ کے معاملات سے لیکر محیر العقول دریافتیں۔ ایجادات اور پیچیدہ مسائل کا حل ڈہونڈ نکالتا ہے۔ اور سوچنے کا یہ عمل اگر ایک انسان چاہے تو کسی ایسی دوسری زبان میں سوچ بھی سکتا ہے جو اسکے لئیے آسان اور سہل اور عام فہم ہو۔ جیسے مثال کے طور پہ اگر معاشرے میں دو یا دو سے زائد زبانیں رائج ہوں ۔ یا اسے دوسری زبانوں پہ عبور ہو ۔ جس طرح کنیڈا میں بہت سے لوگ انگریزی اور فرانسیسی پہ عبور رکھتے ہیں ۔اسپانیہ کے صوبہ ”قتئلونیہ“ میں ”قئتلان“ اور” اسپانوی“ پہ ۔اسپین کے صوبہ” گالی سیا “میں” گالیگو “اور ”اسپانوی “پہ عبور رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں ”پنجاب“ میں ”پنجابی“ اور ”اردو“ کے ساتھ ۔ اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں دیگر صوبوں کی زبانوں اور اردو کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔تو یہ لوگ ہر دو زبانوں میں سے کسی ایک زان میں سوچ کر اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ مذکورہ زبانیں ان کے لئیے اجنبی اور پیچیدہ زبانیں نہیں ۔ اور اس لئیے وہ اپنی صلاحیتوں کو اپنی زبانوں کے ذریئعے زیادہ بہت طور پہ اجاگر کر سکتے ہیں ۔ جبکہ انگریزی زبان پاکستان کے عوام کے لئیے قطعی برآمدی زبان ہے ۔سائنس یہ بات تسلیم کرتی ہے۔ اور زبان کو انسانی سوچ کے لئیے کو مادری یا دوسری معلوم اور عبور رکھنے والی زبان کو بنیاد مانتی ہے جس سے وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا تا ہے یوں کسی معاشرے میں اسکی اپنی زبان ترقی و تمدن میں بنیادی اورمسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔
شاعری ۔ نثر ۔اور روز مرہ مسائل کے حل کے لئیے سوچنے۔تخیل دوڑانے اور تصور کرنے کے لئیے انسان اپنی بنیادی یا عام فہم سمجھنے والی زبان سے کام لیتا ہے۔
ہم اس تصور کو ایک اور مثال سے واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرا تصور کریں۔ میر ۔ غالب۔نظیر اکبر الہ آبادی۔ اقبال رح۔ فیض یا دیگر شعراءنےجو اردو وغیرہ میں کلام کیا ہے وہ سب انھیں انگریزی میں سوچنے۔ اور ڈھالنے کے لئیے۔انگریزی میں اس پائے کا کلام کرنے کے لئیے ۔کتنا عرصہ انگریزی سوچنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئیے درکارتھا؟ اور کیا اس کے بعد بھی وہی نتائج سامنے آتے۔اور ان کا وہی معیار ہوتا ۔جو آج دیوانِ غالب اور کلیاتِ اقبال یا بانگ درا کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں ؟ بعین اسی طرح کا معاملہ ان خداد ذہین انسانوں کے ساتھ بھی ہے جو چٹکی بجانے میں بڑے سے بڑا مسئلہ حل کردیتے ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک ایجاد کرتے ہیں ۔ مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں ۔ یا اپنی کسی خاص دلچسپی میں مہارت رکھتے ہیں۔ اگر انھیں ایک غیر ملکی زبان انگریزی سیکھنے اور پھر اسی خاص زبان انگریزی کے تحت اپنے خیالات کو عملی جامہ اپنانے پہ پابند کر دیا جائے ۔جب کہ خداد تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگ ویسے بھی عام طور پہ۔ اپنی فطری ساخت کی وجہ سے اپنے پہ مسلط بے جاضابطوں سے کسی حد تک باغی ہوتے ہیں ۔ تو کیا ان کی قابل قدر صلاحیتیں ایک ایسی زبان پہ صرف ہو جانی چاہئیں۔ جس میں وہ بددل ہو کر سارے سلسلے سے ہی ہاتھ اٹھا کر دنیا کی بھیڑ بھاڑ میں گم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ انگریزی سیکھنے میں کامیاب ہو بھی جائیں۔ تو بہت سا قیمتی وقت وہ ایک ایسے عمل پہ خرچ کر چکے ہوتے ہیں جو ضروری نہیں تھا۔ اور یہ تماشہ پاکستان کے جوہر قابل اور ذہین طلبہ کے ساتھ عام ہوتا ہے کہ خواہ وہ کس قدر ہی کیوں نہ لائق اور ذہین فطین ہوں لیکن بد قسمتی سے ۔یا۔ اردو میڈیم ہونے کی وجہ سے۔اگر ایک برآمدی زبان انگریزی میں انکا ہاتھ تنگ ہے ۔ تو جہاں انکے لئیے آگے بڑھنے کے مواقع معدوم ہوجاتے ہیں۔ وہیں پاکستان اور پاکستان کے عوام ذہین اور قابل لوگوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔
ملک میں خداد جوہر قابل کو محض انگریزی زبان کو لازمی قرار دینے سے ضائع ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں عام آدمی کو پاکستان کی ترقی میں کوئی موقع نہیں ملتا اور آخر کار وہ مایوس ہو کر اپنے آپ کو قومی سو چ اور قومی دھارے سے الگ کر لیتا ہے ۔جس سے معاشرے میں امن و عامہ سے لیکر کئی قسم کے تعصبات اور انکے نتیجہ میں مسائل جنم لے رہےہیں۔
اس لئیے صرف یہ کہہ کر ٹال دینا کہ اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ اسلئیے نافذ نہیں کیا جاسکتا کہ اردو ایک ترقی یافتہ زبان نہیں ۔ یا۔ اردو زبان میں لاطینی یا انگریزی کی سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ مشکل ہے۔ اور اسے سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ نہ کرنا۔ محض بد نیتی کے سوا کچھ نہیں۔
جو لوگ انگریزی کو محض اس لئیے اپنانے پہ اصرار کرتے ہیں اور بضد ہیں کہ اردو کی قربانی دے کر انگریزی زبان کو اپنانا ترقی کے لئیے ضروری ہے۔ انکی یہ توجہیہ درست نہیں ۔ کیونکہ اس خاص انگریزی طبقے کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو پھر اپنی زبانوں میں مشرق و مغرب میں۔ ترقی کرنے والے ممالک ۔ جاپان۔ چین۔جرمنی۔روس۔ فرانس وغیرہ کو آپ کس کھاتے میں رکھیں گے؟ یورپ کے ننھے ننھے ترقی یافتہ ممالک ڈنمارک۔ ناروے۔ سویڈن۔ سوئٹزرلینڈ۔ہالینڈ۔ لکسمبرگ ۔ یوروپ کے بڑے ممالک روس اسپین ۔ فرانس۔ اٹلی۔ جرمنی۔ وغیرہ کسی ملک کی سرکاری زبان انگریزی نہیں۔ معاشی طور پہ تیزی سے ابھرتے ہوئے ممالک۔ برازیل ۔ انڈونیشا ۔ ملائشیاء ۔وغیرہ۔ ان میں سے کسی ملک کی زبان انگریزی نہیں۔ اور ان تمام ملکوں۔ کی زبانیں انکی اپنے ملک میں رائج جمہور کی۔ عوام کی۔ زبانیں سرکاری طور پہ نافذ ہیں۔ اس لئیے ترقی کرنے کے لئیے۔ پاکستان کی دیگر بہت سی خرابیاں درست کرنے کی ضرورت ہے ۔جن کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر پا رہا اور اس بد حالی کی ایک بڑی وجہ بھی پاکستان کی جمہور کی۔ عوام کی آواز اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پہ نہ نافذ کرنا ہے۔
پاکستان کی اٹھانوے فیصد آبادی اپنا مدعا اور منشاء انگریزی میں ادا کرنے کی اسطاعت نہیں رکھتی۔ پاکستان کے انگریزی دان طبقے کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انگریزی پہ زور دینے والا یہ طبقہ انگریزی ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کے حوالے سے نثر ۔ نظم ۔ ناول یا ادب کی دیگر کسی صنف میں کوئی نمایاں کارنامہ سر انجام نہیں دے سکا ۔ اور سائنسی اور تکنیکی علوم میں انگریزی کلب کا ہاتھ مزید تنگ ہوجاتا ہے ۔تو کیا پاکستان کے انگریزی کلب کے سامنے محض اس لئیے سر تسلیم خم کر دیا جائے کہ وہ انگریزی جانتے ہیں؟ اور انگریزی زبان جاننا قدر مشترک ہونے کی وجہ سے۔ انگریزی کلب پاکستان کے نظام پہ حاوی رہے؟ ۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی دان طبقہ پاکستان میں انگریزی زبان کا تسلط اس لئیے نہیں رکھنا چاہتا کہ انگریزی سے اہلیت بڑھتی ہے اور انگریزی کے تسلط سے پاکستان ترقی کر جائے گا ۔ بلکہ پاکستان کا انگریزی کلب۔ پاکستانی عوام اور وسائل کو انگریزی زبان کے ذرئعیے پاکستان میں اپناتسلط قائم رکھنا چاہتا ہے ۔
پاکستان کے مسائل کی ایک بہت بڑی وجہ عام بول چال اور سمجھ میں آنے والی جمہورِ کی زبان اردو کے ساتھ یہ یتیمانہ سلوک ہے۔ اگر اسے سرکاری طور پہ نافذ کر دیا جائے تو پاکستان کی بے مہار اورانگریزی کلب کی پیداوار بیورکریسی جو محض انگریزی زبان کی وجہ سے جمہورِ پاکستان سے اپنے آپ کو الگ شناخت کرتی ہے۔ اپنے آپ کو خاص اور عوام کو اپنی رعایا سمجھتی ہے۔ اردو کو سرکاری زبان نافذ کرنے سے پاکستان اور پاکستان کے عوام کی جان چھوٹ جائے گی۔جب پاکستان میں اعلی عہدوں کے لئیے مقابلہ کے امتحانات اردو میں ہونگے اور اردو کو سرکاری طور پہ اوڑنا بچھونا بنایا جائے گا۔ تو انگریزی اور پاکستان جیسے مشرقی اور مسلمان ملک میں انگریزی بودوباش باش کا امتیاز و اعزاز خود بخود ختم ہو جائیگا۔ اور اردو وہ عزت پائے گی جس کی وہ مستحق ہے ۔ کیونکہ اردو کے عزت پانے سے پاکستانی قوم عزت پائے گی۔ کاروبارِ مملکت اردو میں ہونے سے عام فہم اور سہل ہوگا ۔
اردو سمجھنے والوں میں بے شمار خداد صلاحیتوں کے حامل اور اہل لوگوں کو کاروبار ریاستِ پاکستان چلانے کا موقع ملے گا ۔ عوام اور خاص کی ایک ہی زبان ہونے سے عوام اور خاص میں فاصلہ کم ہوگا ۔ ریاستی اور دفتری امور کو سمجھنے میں عام آدمی کو آسانی ہوگی۔
اس لیے پہلے گزارش کر چکے ہیں مستعار اصطلاحات و ترکیبات اور مشکل الفاظ یا کوئی متبادل لفظ نہ ہونے کی صورت میں زبانیں اپنا رستہ خود بخود بنا لیتی ہیں ۔دریا کے سامنے وقتی طور پہ بند باندھ کر۔ اس کا پانی روکا جاسکتا ہے ۔ مگر ہمیشہ کے لئیے یوں کرنا ناممکن ہے۔۔۔۔ اور اردو۔۔۔اس ملک ۔پاکستان میں وہ سیل رواں ہے۔ کہ اس کے سامنے جو رکاوٹ بن کر آیا۔ وہ خس خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ کیونکہ اردو زبان پاکستان کے عوام کی۔ جمہور کی زبان ہے۔ اور جمہور اپنا رستہ خود بنا لیا کرتا ہے۔
بس کچھ سالوں کی بات ہے ۔ یا پھر ہماری قیادت کو قومی غیرت کا ادراک ہوجائے۔ تو اردو کو فی الفور سرکاری زبان کا درجہ دے کر۔ اسے سرکاری طور پہ نافذ کرے۔ اسی کو تعلیم کا ذرئعیہ (میڈیم) بنائے۔۔۔اتنی بڑی آبادی کے ملک کے لئیے۔ قومی ہی کیا۔ عالمی ناشران بھی اردو میں کتابیں چھاپنے پہ مجبور ہونگے ۔۔ اور جو نہیں چھاپیں گے وہ خسارے میں رہیں گے ۔ شروع میں ایک حد تک حکومت تراجم کی سہولت خود بھی مہیاء کر سکتی ہے۔ بعد ازاں سب اردو میں کتب لے کر بھاگے آئیں گے۔ کہ ہم سے بہت ہی کئی درجہ چھوٹے ممالک میں انکی اپنی زبانوں میں تعلیم ہونے کی وجہ سے عالمی ناشران انہی زبانوں میں بھی کتب چھاپتے ہیں۔ کہ یہ ایک کاروبار ہے۔ کسی زبان پہ احسان نہیں۔
اگر حکومت نہ بھی دلچسپی دکھائے تو بھی ایک بات تو طے ہے کہ اردو کا مستقبل پاکستان میں روشن ہے اور ایک روشن اور ترقی یافتہ پاکستان کے لئیے اردو زبان کو بطور سرکاری زبان اپنانا اور سرکاری طور پہ نافذ کرنا۔ نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ ایک لازمی قومی فریضہ ہے ۔
جاوید گوندل
پچیس فروری سنہ دو ہزار پندرہ
۲۵۔۰۲۔۲۰۱۵ ء

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔


پاکستانی نام۔ ایک اہم مسئلہ۔whats-your-name

ہمارے ملک میں عام طور پہ بچے کے دو نام رکھے جاتے ہیں ۔
بچے کی علیحدہ سے شناخت کے لئے۔ اسکا نام ۔اس کے والد کا نام ۔ قبیلہ ۔ اور ذات، برادری بمعہ محلہ ،بستی، گاؤں ،گوٹھ ، ڈاک خانہ ،شہر ،تحصیل و ضلع۔ لکھ دیا جاتا ہے ۔
مگر اس کے باوجود ایک ہی محلے میں ایک ہی جیسے ناموں والے دو یا تین لوگ پائے جا سکتے ہیں۔ جس سے اجنبی لوگوں کو کسی خاص فرد کی تلاش و بسیار میں اور محکموں کی کسی ضروری کاروائی کے دوران بہت سے لطیفے جنم لیتے رہتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایک نام کے کئی افراد ہونے کی وجہ سے پریشان کُن اور افسوس ناک صورتحال بن جاتی ہے۔ خط ایک ہی جیسے نام والے دوسرے افراد کو پہنچ جاتا ہے ۔یا مغالطہ میں لوگ غلط فرد سے معاملات کر لیتے ہیں۔
جبکہ بہت سے ممالک میں باپ کا خاندانی (بعض ملکوں میں قبائلی) نام اور ماں کا خاندانی نام بچے کے نام کے ساتھ لازمی جز کے طور لکھا جاتا ہے جو تا حیات اس کے نام کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اور صرف نام سے ہی کسی کو الگ سے شناخت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ کیونکہ صدیوں سے رائج ایسے ناموں کے نظام میں انتہائی مشکل سے ہی شاید کبھی دو ایک جیسے نام اور باپ کا خاندانی اور ماں کا خاندانی نام یعنی یہ نام دو یا دو سے زائد افراد کے ہوں۔
یوں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر عام اداروں اور لوگوں کو بھی کسی سے رابطہ کرنے ، اور درست فرد کے ساتھ معاملات کرنے میں دشواری نہیں ہوتی ۔
پاکستان میں تو شناخت کئی طریقوں سے کروا ئی جا سکتی ہے۔ اور ایک دیسی طرز کے ہمارے نظام میں کئی لوگ کسی کی شہادت اور شناخت میں مدد گار ہوں گے۔ اور شناختی کارڈ بننے سے یہ مسئلہ کچھ بہتر ہوا ہے ۔ حالانکہ آج بھی پاکستان میں عام آدمی کم ہی کسی کو اسکی شناختی کارڈ کی وجہ سے شناخت کرتا ہے ۔ عام طور پہ ارد گرد کے لوگ ہی سوال و جواب کی صورت پتہ و مقام بتا دیتے ہیں۔
مگر جب پاکستانی اپنے ممالک سے باہر جاتے ہیں تو وہاں پہ فیملی نام نہ ہونے کی وجہ سے اور ایک ہی شہر میں ایک ہی نام سے دو سے زائد پاکستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف دہ صورتحال جنم لیتی ہیں ۔ جس میں بنکوں کے اکاؤنٹ بلاک ہونے سے لیکر مختلف محکموں کے واجبات اور بل اور جرمانے وغیرہ ان لوگوں کے اکاؤنٹ سے کٹ جاتے ہیں جو ایک جیسے نام کی وجہ سے یہ تکلیف بھگتتے ہیں اور بعدمیں صورتحال کا درست علم ہونے پہ۔متعلقہ اداروں سے اپنی رقم واپس لینے کے لئے سر پھٹول کرتے پائے جاتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو رقم کی وصولی ۔یا پاکستان رقم بھیجنے پہ محض اس لئے نہیں وصول کی گئی کہ بھیجنے والے یا وصول کرنے والے کا نام بلیک لسٹ کیے جانے والے کسی مبینہ دہشت گرد کے نام کی طرح نام تھا۔
پاکستانی اداروں اور خاص کر ۔ نادرہ ۔ کو اس صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ تانکہ بہت سے لوگ غیر ضروری طور پہ اس طرح کی صورتحال سے بچ سکیں ۔ نیز انہیں کسی سطح پہ یہ اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ دیگر ممالک کے محکمہ داخلہ کے علم میں یہ بات لائی جائے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش پہ عام طور پہ محض دو نام رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن کا خاندانی نام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بچے کے نام کے ساتھ خاندانی نام رکھنے کی پابندی نہیں اور نہ ہی اس کا رواج ہے۔ تانکہ ایک ہی جیسے نام رکھنے والے پاکستانیوں کو در پیش مشکلات میں سرکاری اداروں کو رہنمائی ہو سکے اور غیر متعلقہ لوگ عتاب یا پریشانیوں کا باعث نہ بنیں ۔
اسی طرح ایک اور مسئلہ جو بہت اہم ہے ۔ وہ ہے مقامی ، اردو، عربی اور فارسی کے ناموں کو انگریزی میں درج کرتے ہوئے انکے درست ہجوں کا ۔ مثال کے طور پہ ۔ محمد کو انگریزی میں لکھتے ہوئے ۔ بہت سے سرکاری ادارے اور خاص کر پا سپورٹ آ فسوں میں کلرک حضرات Mohammed اور Muhammad ان دو طریقوں سے لکھتے ہیں ۔ یعنی کہیں انگریزی کا حرف ”یُو“ ۔ اور کہیں انگریزی کا حرف ”او“ کے ساتھ ”محمد “ لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ پاکستان میں بہت سے ناموں کے ساتھ ہے ۔۔ جن میں ۔جاوید۔ صدیق۔ اور دیگر کئی نام آتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے کلرک بابو ۔ ایک ہی فرد کا نام ۔ پاسپورٹ۔ اور دیگر کئی دستاویزات ۔ برتھ سرٹیفیکٹ ۔ نکاح نامہ وغیرہ پہ جن کا انگریزی میں ترجمہ کروانے پہ ۔ مختلف ہجوں سے لکھ دیا جاتا ہے ۔ جس سے غیر ممالک میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔ بلکہ سائل کو کئی بار اور کئی ماہ دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور خواری الگ سے ہوتی ہے۔
ہماری ذاتی رائے میں ۔ حکومت پاکستان کی ایماء پہ۔ نادرہ پاکستان میں رائج اور مستعمل ناموں کی ایک فہرست تیار کرے اور اسے لغات کی طرز پہ اردو کے سامنے درست انگریزی نام تجویز کرے۔ اور اس فہرست کو سبھی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھیج دیا جائے اور عام افراد کے لئیے اسے نادرہ کی ویب سائٹ پہ آن لائن شائع کر دیا جائے ۔تانکہ عام افراد اور نجی ادارے بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ نیز سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو آئیندہ کے لئیے پابند کیا جائے کہ وہ نادرہ کے۔ منظور و شائع کردہ ۔درست نام کے ساتھ دستاویزات جاری کریں گے۔ تانکہ مستقبل میں ایسی الجھنوں سے بچا جاسکے۔
کسی بھی حکومت ۔ متعلقہ اداروں اور ذمہ دار افراد کے لئیے یہ ایک معمولی مسئلہ ہے ۔ جسے حل کرنا چندا ںمشکل نہیں ۔ جس سے ۔اندرون و بیرون ملک پاکستانی بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں گے ۔اور ملک کی جگ ہنسائی نہیں ہوگی۔

 

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔



جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔

جاوید چوہدری صاحب!۔آپ اپنی دانست میں ۔پاکستانی میڈیا کا بھرپور دفاع کررہے تھے۔ اور جب مختلف ذرائع سے آپ کے کالم کی سابقہ تین اقساط پہ ۔اعتراضات و حقائق سامنے آنے شروع ہوئے ۔تو آپ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہوئے۔ کالم کی چوتھی اور آخری قسط میں ۔اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے آخر کار یہ تسلیم کر لیا۔کہ آپکا بیان کردہ مثالی میڈیا دودھؤوں نہایا ہوا نہیں۔ میڈیا خامیوں سے پاک نہیں ۔ میڈیا میں نالائق لوگ موجود ہیں۔آپ لوگ شرفاء و غیر شرفاء دونوں کو یکساں طور پہ بلیک میل بھی کرتے ہیں۔نیز آپ لوگوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔


بہتر ہوتا آپ کسی ایک آدھ کالی بھیڑ کی نشاندہی کرتے۔ آپ نے پاکستان کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تو نام لیکر۔ ان کے مناصب کا ذکر کر کے۔ ان کی مبینہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ جب کہ آپ کتنی سمجھداری (یا عقل کی عیاری) سے اپنی برادری کے کسی ایک فرد کو بے نقاب نہیں کر سکے؟ اور ایسا کرنے سے دیدہ و دانستہ گریز کر گئے۔آخر کیوں؟۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے دیگر ساتھی۔ جو دوسروں کو بھرے بازار میں ننگا کر دینے میں۔ غیر معمولی قدرت اورمہارت رکھتے ہیں۔ جو شرفاء کے کپڑے اتارنے میں ذراجھجک محسوس نہیں کرتے ۔اپنی ”باخبری“کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ پاتال سے سچائی ڈھونڈ لانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرنے کے اقدامات کرنے کے ارشادات کرتے ہیں۔ میڈیا کی قربانیوں کا تسلسل سے پراپگنڈاہ کرتے ہیں۔ اور جن کا آپ بے سود دفاع کر رہے۔ جن سے تعلق۔ اور جنکا ایک اہم رکن ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہے۔ وہ قلم جس کی سچائی کے بارے آپ کا طبقہ پیغمبران کے شیوہ اور سنت کا ڈھنڈوارا پیٹتا ہے۔ قلم کو نبیوں کی میراث بیان کرتے نہیں تھکتا۔ تو جب آپکی اپنی برادری کی بات آئی ۔ تو آپ کمال ہوشیاری سے کوئی ایک نام لئیے بغیر۔ کسی ایک واقعے کا تذکرہ کئیے بغیر ۔ اپنی برادری کے متعفن کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے ۔ محض از سر راہ چند ایک ”کالی بھیڑیں“ کہہ کر کے آگے نکل لئیے؟۔ آخر کیوں؟؟۔


اس کیوں کا ایک سادہ سا جواب ہے ۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے۔جسکے معانی کچھ یوں بنتے ہیں” تُم میری پیٹھ دھوؤ میں تمہاری پیٹھ دھوتا ہوں“۔ اس ضرب المثل کے عین مطابق آپ اور آپ کی برادری ۔ ایک دوسرے کو ہر جائز۔ نا جائز پہ تحفظ دیتے ہیں۔ دریا میں میں جب سبھی ننگے ہوں تو ایک دوسرے کو ننگے ہونے کا طعنہ کون دے؟۔ آپکے کاروباری مفادات۔ آپ سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کہ اپنی برادری کے کسی فرد پہ انگلی نہ اٹھائی جائے۔ آپکی برادری کے اکا دکا لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف۔ اس وقت ایک آدھ کالم لکھا ۔ جب انکے اپنے ذاتی مفادات پہ حرف آیا۔ جب انکی کسی خاص ”وفاداری“ کو مشکوک ٹہرایا گیا۔ کیا آپ کوئی ایک ایسی مثال اپنی یا اپنی برادری کی بیان کرسکتے ہیں؟ ۔ جس میں انہوں نے اپنی کسی برادری کے فرد کا نام لے کر۔ اسکے اعمال کو اسلام۔ قوم ۔ ریاست کے مفادات کے منافی قرار دیا ہو؟۔


آپ اپنی اسی کالم کی مثال دیکھ لیں ۔ اس کالم میں آپ نے موضوع سےہٹ کر۔ دوسرے کتنے طبقات و شعبہ ہا ئے جات کو رگیدا ہے ۔ ملوث کیا ہے۔ انکی مثالیں دیں ہیں۔ بعض کو برا جانا ہے۔ مگر کس لئیے؟ محض جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئیے۔ اپنی سبھی خامیوں اور غلطیوں کے درست ہونے کا جواز پیش کرنے کے لئیے۔ آپ بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا اس موضوع سے تعلق بنتا ہے۔ کہ یہ مذکورہ لوگ بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں آپ سانس لے رہیں۔ مگر حضور جاوید صاحب!۔ عوام کی عدالت میں آپ۔ اپنی اور اپنی برادری کی صفائی پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام کی اس عدالت میں۔ اس کٹہڑے میں۔ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیاہے۔ آپ بتائیں۔ کبھی آپ نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کسی عدالت میں کسی ملزم کو یہ کہتے سنا ۔ کہ جج صاحب ۔ میں نے اسلئیے قتل کیا ۔ میں نے اس لئیے چوری کی۔ میں نے اس لئیے جرم کیا ۔ کہ ہر شہر میں ۔ ہر علاقے میں قتل ہو رہے ہیں۔ چوریاں ہورہی ہیں۔ جرم ہورہے ہیں۔ اسلئیے ازخود مجھے بھی یہ سبھی جرائم کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے؟۔ حضور ۔ اسطرح تو یہ دنیا کا بودا ترین دفاع ہوگا ۔ ناقص ترین صفائی ہوگی۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس مشق سے ۔ آپ کے اس سلسے وار کالم لکھنے سے ۔ عوام ۔آپ اور آپکی برادری سے ۔ اور پاکستانی میڈیا سےمطمئن ہوگئے ہیں؟۔ آپ لوگوں کی دیانت۔پارسائی۔ شرافت۔ سچائی ۔پہ ایمان لے آئے ہیں؟۔ اگر آپ یوں سمجھتے ہیں۔ تو آپ عوام کو مذید بد گمان کر رہے ہیں۔مزید اعتراضات اٹھانے کا موقع دیں رہے ہیں۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے میڈیا کے دیگر کالم نگار و میزبان وغیرہ۔ کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتے ۔کہ وہ اپنی برادری میں سے کسی کے بارے حقائق بیان کر سکیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ اور اس دوہرے معیار کو حرف عام میں عوام ”منافت “ کہتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ وہ ایسا سمجھنے میں کیوں کر حق بجانب ہیں۔


ایک قابل صحافی جب کسی کے بارے واقعہ لکھتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے ۔ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مبینہ ملزموں کے بارے ہمیشہ ” مبینہ “ طور پہ لکھتا ہے۔ جبکہ آپ اپنے کالم کی اسی آخری قسط میں۔ یہ تسلیم کئیے ہوئے ہیں۔ یا کم از کم عوام کو یہ بالا کروانے پہ مصر ہیں۔ کہ یہ فلاں فلاں لوگ کرپٹ ہیں۔ راشی ہیں۔ مجرم ہیں۔ لہذا میڈیا کو بھی ایسا کرنے کا حق بعین پہنچتا ہے۔ یہ ایک ننھی سی مثال ہے کہ آپ اور آپ کی دیگر برادری ۔ آپکا میڈیا ۔کس طرح حقائق کو توڑ موڑ کر اپنی من مرضی کا رنگ دیتا ہے اور عوام کوغلط تاثر دیتا ہے۔ اس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی رائے عامہ کو غلط طور پہ تعمیر کرتا ہے ۔ اسکی وجہ ان مذکورہ ملزمان میں سے اکثر کے ساتھ آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری اختلافات ہوتے ہیں۔ جنھیں آپ بھرے بازار میں ننگا کر رہے ہیں ۔وہ بھی بھلا عوام کے لئیے کسی فرعون جابر سے کم نہ ہوں گے ۔ مگر بہر طور وہ فرعون۔ چور ہونے کی وجہ سے ۔کسی طور آپکے سامنے مجبور ہیں ۔ کیونکہ انکا کاروبار بھی آپ لوگوں کی معاونت اور پروپگنڈے کا محتاج ہے۔اور جسکا آپ لوگ بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انھیں بلیک میل کر کے ۔ من پسند لوگوں کے عیوب پہ پردہ ڈال کر ۔ انکے حکومتی عہدوں اور رسوخ سے من پسند مراعات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں کی ہر پوش آبادی میں آپکے لئیے کروڑوں کی مالیت کے پلاٹ کیوں کر مختتصص کئیے جاتے ہیں؟۔ پاکستانی حکومتوں کو قومی ملکیت کے قیمتی پلاٹس بندر بانٹ کے طور بانٹنے کا استحاق کسی طور پہ حاصل نہیں ہونا چاہئیے ۔ وہ قیمتی پلاٹس آپکا اور آپکی برادری کا منہ بند رکھنےنے کے لئیے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ لفافوں۔ مفت کے عمروں۔ مفت کے حجوں ۔ یوروپ و امریکہ اور دنیا میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں اقامت۔ دوروں کے شاہانہ اخراجات ۔ ذاتی رسوخ۔ پرچی اور سفارش کی بلیک میلنگ۔ انگنت مکروہات ۔ آخر آپکا ۔ آپکی برادری کا قلم ایسے گھناؤنے موضوعات پہ ۔ ایسے پلاٹوں کی بندر بانٹ پہ شعلے کیوں نہیں اگلتا؟ ۔ اور جن سے آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔ آپ انھیں پارسا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ اگر اصرار کریں گے تو کئی ایک مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ جبکہ یہاں آپکی یا کسی اور کی عزت کو کھینچنا ہمارا مقصد نہیں۔


آپکی اس منطق کے قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے ۔ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خسارے کا کاروبار کر رہاہے؟ ۔ اگر آپ کی اس بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اس ”خسارے“ کو اربوں روپے کمانے والے لوگ کہاں سے پورا کر رہے ہیں؟۔ اور کیونکر وہ خسارے کا کاروبار نباہ رہے ہیں؟ ۔ دوسو کروڑ سے ایک ٹی وی ادارہ قائم کرنے والے اور ایک اخبار جاری کرنے کے لئیے پچاس کروڑ روپے خرچ کرنے والے ۔ خسارے کا کاروبار محض پاکستانی عوام کو باعلم رکھتے ہوئے باشعور بنانے کی محبت میں کر رہیں؟۔ حضور جاوید صاحب آپ۔ ہماری اورقارئین اکرام کی ذہانت کا مذاق تو مت اڑائیں؟۔ آپ کس کو دہوکہ دینا چاہتے ہیں؟۔


حضور جاوید صاحب!۔ پاکستانی میڈیا سے چلتے اشتہارات ۔جن سے عام طور پہ فحاشی اور عریانی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ ایسے اشتہارات کا آپ نے کمال چابک دستی سے دفاع کیا ہے ۔ کیا آپ عوام کو اسقدر سادہ سمجھتے ہیں؟ یہ عوامی ذہانت کی توہین ہے۔ اس ضمن میں آپ نے اپنا سارازور بیاں اشتہارات کےکیونکر ضروری ہونے کو بنیا د بنا کر۔ اصل موضوع سے صرف نظر کرتے ہوئے ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو مارکیٹنگ پہ درس دینا چاہا ہے۔ اشتہارات کی مد میں جو نکتے آپ نے بیان کئیےہیں۔ اتنا سا نکتہ ۔اتنی سی بات تو گلی محلے کا ۔ایک عام دکاندار اور عام سی دانش کا مالک کوئی بھی فرد سمجھتا ہے ۔جبکہ آپ بھی جانتے ہیں اور میڈیا کو بھی بخوبی علم ہے۔کہ عوام کو اشتہارات پہ نہیں ۔ بلکہ فحش اور عریاں ۔ اور پاکستانی ثقافت اور رہن سہن سے میل نہ رکھنے والے اشتہارات پہ اعتراضات ہیں ۔ کیا میڈیا مالکان اور وہ انتظامیہ جن کا آپ بڑی شدو مد سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ شرافت اور اخلاق کے دائرے میں بنے اشتہارات کو شرط رکھ لیں۔ تو کیا انکی آمدن میں کمی واقع ہوجائے گی؟۔آپکے اور آپکے دلائل کے قربان جاؤں۔ کیا ایسے میڈیا مالکان۔ یا انکے چند ایک کروڑ روپوؤں کو بنیاد بنا کر عریانیت ۔ فحاشی ۔ غیر اسلامی ۔ غیر پاکستانی اور بھارتی ثقافت کو پوری قوم پہ مسلط کر کے ۔ ایک پوری ریاست ۔ پوری قوم کا ستیاءناس کرنا جائز تصور کر لیا جائے؟۔ حضور یہ ان ”کروڑوں“ روپے کی چکا چوند ممکن ہے آپ کی نظروں کوخیرہ کرتی ہو۔ مگر عوام ایسی چکا چوند جس کی بنیاد قوم فروشی ہو ۔ اس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔


آپ تسلیم کرتےہیں ۔ ۔ کہ کسی ”ایشو“ کو” نان ایشو“ بنانا۔ اور کسی” نان ایشو“ کو ”ایشو “بنانے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اور اچانک آپ نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ ۔ میڈیا کے مالکان۔ میڈیا کی انتظامیہ پہ ڈال دیا ہے ۔حضور جاوید صاحب! ۔ پھر آپ نے اس اہم مسئلے کو اپنے کسی کالم میں ۔ اپنے کسی پروگرام میں کیوں موضوع نہیں بنایا ؟۔ حسب معمول ۔ اپنی کسی ٹی وی محفل میں کیونکر میڈیا مالکان اور انتظامیہ اور فریق مخالف کو آمنے سامنے بٹھا کر ۔یعنی عوام کے ۔ معاشرے سے ۔پاکستانی شہریوں کے نمائیندوں کو مدعو کر کے۔ سوالات و جوابات اور وضاحت کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا؟۔ آخر کیوں؟۔ جب کہ کسی معمولی سے مبینہ اسکینڈل پہ آپ لوگ شرفاء کو ننگا کرنے کے لئیے فوراَ زر کثیر خرچ کر کے پلک جھپکنے میں ایسے ایسے بندوبست کر لیتے ہیں ۔ کہ عقل حیران رہ جاتی ہے؟۔ تو پھر عوام کے اعتراضات کے بجا ہونے پہ بھی ۔ آپ کو کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔


آپ کے اس سارے لمبے چوڑے کالم میں۔ ان سبھی اقساط میں جس افسانے کا ذکر نہیں۔ وہ بات ۔ اسکا تذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ اور وہ ہے۔ وہ اعتراف نامہ اور اسکے نتیجے میں عوام سے تعلقات کی تجدیدنو کا ذکر۔ جسکا آپکے کالم کی ان چار اقساط میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔اتنی لمبی چوڑی مشق کے بعد قارئین اکرام ۔ آپ سے یجا طور پہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ بیان کرتے کہ ۔ہم سے ۔ میڈیا سے۔ پاکستانی میڈیا سے جو خامیاں ۔کوتاہیاں ۔ بلیک میلنگ۔ اسلام پہ تمسخر۔علماء کا ٹھٹا اڑانا ۔ اسلامی روایات کا مذاق۔مثلا ۔حجاب ۔ نقاب۔ مولبی مولبی کہہ کر داڑھی ۔ سر ڈھانپنے کے لئیے پگڑی۔ ٹوپی وغیرہ جیسی اسلامی شناختوں اور علامتوں کا اسہتزاء اڑانا ۔پاکستانی قوم کو متواتر احساس کمتری کے ٹیکے ۔ بھارتی ثقافت کی یلغار۔ اشتہارات میں عریانی اور فحاشی۔ ناچ گانے اور اسطرح کے دیگر لغویات کو پاکستان اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کا نام دیکر مادر پدر آزاد بھونڈی تقریبات کا انعقاد۔ تسلسل کے ساتھ متواتر بے حیائی کا فروغ۔ ہر قسم کی اخلاقی قدغن سے بالا پروگرامز ۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے قومی مفادات کے لئیے پاکستانی میڈیا کو پاکستانی مفادات کے خلاف خوب استعمال کرنا ۔ اسلام دشمن تہذیبوں کو رواج دینا ۔ اور ڈرؤن حملوں میں مارے جانے والے بے کس پاکستانی عوام ۔ خواتین ۔ بزرگ اور خصوصی طور بہیمانہ طریقے سے قتل کئیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی اسی طرح ”ہائی لائٹ“ کرنے کا وعدہ۔ جس طرح آپ ۔ آپکے ساتھی۔ اور آپکا ۔ پاکستان کا میڈیا ۔امریکہ اور دیگر طاقتوں کی ایماء پہ۔ ان کے منظور نظر لوگوں کو۔ محض اسلام کو کسی طور بدنام کرنے کے لئیے ہائی لائٹ کرتا ہے۔ کوریج دیتا ہے۔ اور دیگر معاملوں پہ ۔ میڈیا کو درست کرنے کی اپنی سی کوششوں کا وعددہ کرنا۔ پاکستانی صحافیوں میں ملک قوم۔ اسلام و پاکستان کا درد رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکال کر (جو بہت سے لوگ ہیں) انہیں کسی تنظیم کی لڑی میں پرو کر۔ میڈیا مالکان ۔ میڈیا مفادات کے عیار تاجروں کو راہ راست پہ لانے کی سعی کرنا۔ آپکے اتنے لمبے چوڑے چار اقساط پہ مشتمل کالم میں اسطرح سے کسی کوشش کا کوئی ذکر۔ کوئی تذکرہ ۔کوئی اشاراتی یا واضح بات ۔ کوئی سراغ ۔ کچھ بھی تو نہیں؟۔ آپکے کالم کی پوری چار اقساط میں آپ نے پاکستان میں رائج عامیانہ طریقے سے قند مکرر کے طور اپنی ۔ اپنی براداری ۔ پاکستانی میڈیا ۔ حتٰی کہ پاکستانی میڈیا سے چلتے فحش اشتہارات تک کا دفاع کیا ہے ۔ جبکہ راست اقدام یا عوام سے محبت و تعلقات کی تجدید نو کی کسی ایسی کاوش یا کوشش کا ذکر نہیں ۔ جس سے عوام کے جائز اور ٹھوس اعتراضات کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے؟۔


آپ نے اپنے کالم میں کم ازکم ۱۸ اٹھارہ مرتبہ یہ شکوہ کیا کہ عوام آپ کو اور پاکستانی میڈیا کو یہود انصارٰی کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ کم از گیار ہ ۱۱ مرتبہ شکایت کی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو گالی دی جاتی ہے۔ محض اپنی علمیت جتانے کے لئیے۔ اور قوم کو صابن تیل کا بھاؤ بتاتے ہوئے۔ جب اچانک آپ جیسے ”باخبر“ دانشور امریکہ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”نیوز ویک“ میگزین کے بارے میں یوں ارشاد فرمائیں گے ۔” یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا “ تو آپکی ”باخبری“ اور ”دانشوری “پہ سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی آپ نے یہ جاننے کا اہتمام کیا ۔ کہ نیوزویک نے دیگر اکثر مغربی جرائد کی طرح ۔ اپنے مخصوص طریقہ کار سے۔ اسلام ۔ اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات ۔ اور اسلامی ممالک کے بارے کس قدر غلط فہمی پھیلائی ہے۔ آپ کو پاکستانی قوم کو صابن۔ تیل کا بھاؤ بتانے کے لئیے کیا اس عمدہ کوئی مثال نہیں ملی؟ ۔ اور اگر اس میگزین کا حوالہ دینا ہی ضروری ٹہرا تھا ۔ تو اسے دنیا کا ” معتبر ترین جریدہ “ کہنا اور بیان کرنا کہ اس نے” دنیا کی پچھلے اسی ۸۰ سال سے رہنمائی کی“؟۔ کیا یوں ارشاد کرنا ضروری تھا؟ ۔ حضور جاوید صاحب ! ۔ لفظ” معتبر“ کا تعلق ”اعتبار“ سے ہے۔ اور اس ”دنیا “میں ”مسلمان“ بھی شامل ہیں ۔جو اسطرح کے رسائل اور جرائد پڑھتے ضرور ہیں ۔ مگر ان سے رہنمائی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا اعتبار رکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں مشکوک جانتے ہیں۔ یہ جو آپ بڑے ”دھڑلے“ سے اسطرح رائے عامہ کو غلط معلومات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جیسے آپ نے موضوع سے ہٹ کر مسلمانوں کی نظر میں جائز طور پہ مشکوک ۔ نیوز ویک کو معتبر اور اسی ۸۰ سال سے دنیا کی رہنمائی کرنے والا جریدہ بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام کو یہ خبر ہے کہ اس سلسلے کو اگر آج نہ روکا گیا۔ پاکستانی میڈیا اور آپ جیسے دنشواران کی اسطرح کی بظاہر بے تکی مگر نہائت طریقے سے مرتب کی ہوئی کوششوں پہ مناسب ردعمل نہ دیا گیا ۔ تو پاکستانی میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کا کوئی اعتبار نہیں کہ کل کلاں کو ملعون رشدی کو کو بھی ایک عظیم رائٹر یا معتبر دانشور قرار دے دے۔ تو اسلئیے عام قاری آپ کو اور آپ جیسے افراد کو مختلف القابات و خطابات سے نوازتا ہے۔اور آپکا اس پہ چیں بہ چیں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔


عوام جانتے ہیں ۔ کہ پاکستانی میڈیا سے اسلام کو متشدد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پہ آپکا میڈیا پر امن اور با خلوص لاکھوں کے جلوس اور جلسوں کو کوریج دینے کی بجائے محض ان شرارتی اور جرم پیشہ لوگوں کی تھوڑ پھوڑ ۔ چور چکاری۔ اور چھینا جھپٹی کو بار بار ہزار بار میڈیا پہ ٹاپ ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ جبکہ آپ جیسے ”باخبر“ اور ”دانشور “ میڈیا کے لوگ یہ جانتے ہیں۔ اور یہ بات ریکارڈ پہ موجود ہے کہ اسطرح کے بڑے جلوسوں اور جلسوں میں ہماری عزت مآب ایجنسیوں کے اہلکار ۔ انکے لے پالک۔ اور جرائم پیشہ لوگ محض حکومت کی مخالفت کی ایماء پہ یا مالی مفاد کے لئیے جان بوجھ کر ایسی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ جس سے ممکن ہے کہ ان میں حکومت اور معاشرے سے شاکی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہونگے۔ اور پھر ایک خودکار نظام کے تحت سبھی چینلوں سے ایک پروگرام کے تحت ۔ اور تقریبا سبھی اخبارات میں اسلام پسندوں پہ کالموں کے کالم سیاہ کئیے جاتے ہیں۔ اسے بہانہ بنا لیا جاتا ہے ۔ محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسلام پسندوں اور علماء کو ۔ پاکستانی حکومتوں سے احتجاج کرنے والوں کو۔ خوار کرنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے علاوہ بھی کوئی بھی اسلامی یا قومی مسائل پہ ہونے والے جلسے اور جلوسوں کا کم و بیش یہی حشر بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے میں بنیادی فریق آپکے بیان کردہ مثالی میڈیا کا کردار ہوتا ہے۔

حال میں پاکستانی میڈیا سے۔ غیر ملکی طاقتوں کی گود میں کھیلنے والوں کو ۔ اپنے راتب کو جائز ثابت کرنے والوں کو ۔ دین و ملت فروشوں کو ۔ اسلام کے خلاف موضوع فراہم کرنے والوں کو ۔ شرعی حدود کو بدنام کرنے والوں کو ۔ پاکستانی عوام کو متشدد ثابت کرنے کے لئیے عالمی میڈیا اور دنیائے عالم کے عوام کو نت نئے موضوعات پہ جعلی ویڈیوز۔ خبروں۔ اور تجزئیوں کو بغیر تصدیق کئیے اس قدر کوریج دی گئی ۔ پھیلایا گیا ۔ کہ  وہ ویڈیوز ۔ تصاویر جعلی ہونے کے باوجود ۔ آج تک عالمی میڈیا میں پاکستان ۔ اور اسلام کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ حضور جاوید صاحب ۔ جس طرح نیکی اور خیر کا کےتادیر ثمر ات دینے والے کاموں کو ”صدقہ جاریہ“ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذلت کے دیرپا کاموں پہ ”ذلت جاریہ“ کی صورت میں لعنتیں برستی ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کے راتب کھانے والے اسلام فروشوں ۔ ملت فروشوں کے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دیگر لوازمات ۔ آپکے میڈیا کے پھیلانے سے وہ ساری دنیا میں ۔اسلام ۔ پاکستان ۔ پاکستان کے عوام کے خلاف ایک متواتر ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں۔ خدا جانے جس کا خمیازہ قوم کب تک بھگتی رہے گی۔ دنیا کے میڈیا میں جاری و ساری ان تمام جھوٹی اور جعلی شہادتوں کی” ذلت جاریہ“ تا قیامت اور قیامت کے بعد بھی یہ لوگ بھگتیں گے ۔ جنہوں نے ” کرڑؤں“کی چکاچوند سے متاثر ہو کر۔ قوم فروشی میں ہاتھ رنگے۔


عوام جنہیں آپ نے اپنے کالم کی اس سیریل کی پوری مشق میں۔ عقل سے عاری سمجھا ہے اور انکی ذہانت کی بار بار توہین کی ہے۔ وہ عوام ۔آپکی طرح اس بات کے پابند نہیں کہ وہی بات کہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ مجبوری ہے۔ کہ آپ جس کا کھاتے ہیں اس کے گیت گانے پہ مجبور ہیں۔ مگر عوام اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار نہ کرنے پہ مجبور نہیں۔ مارکیٹنگ کے سنہرے اصول بیان کرتے ہوئے مارکیٹ کا یہ بنیادی نکتہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں۔ جو جنس بازار میں آئے گی۔ اس پہ بھاؤ اور مول تول تو ہوگا۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جمہور تو مفت کے لنگر اور بلامعاوضہ خدمات پہ بھی چوں چرا کرنے سے باز نہیں آتا ۔تو جب آپ ایک معقول تنخواہ لیکر عوام کی توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ تو عوام کی ایسی کونسی مجبوری ہے جو وہ آپکو معاف رکھے؟۔


اگر پھر بھی آپ عوام سے۔ جمہور سے۔ قند مکرر کے طور پہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ عوام کو باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ۔ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ تو گزارش ہے اسمیں بھی آپ کا ۔ آپکی برادری کا ۔ پاکستانی میڈیا کا قصور ہے ۔ جو آزادی کے ۔ آزاد میڈیا کے دعوے تو بہت کرتا ہے ۔ مگر کسی طور عوام کی یا کم از کم اپنے قارئین اور ناظرین کی فکری تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ جب پاکستانی میڈیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پہ رقیق حملے کرنے والے امیتابھ بچن جیسے لوگوں کی بہوؤں کے حاملہ ہونے ۔ انکے دادا بن جانے کو ہی ایشو بنا کر پیش کرے گا۔ تو آپ ہی بتائیے عوام کو کیا پڑی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو سات سیلوٹ کرے۔ ممکن ہے آپ کی۔ یا آپکی طرح کے دیگر دانشوروں کی تو روٹی روزی کی ضمانت ہی اس طرح کے قوم فروشی کے ایشوز سے جڑی ہو؟۔ تو عوام کس حساب میں ۔آپ لوگوں کی تعریف و توصیف کرتے پھریں۔ حضور جاوید صاحب ! یا تو آپ بہت سادہ ہیں۔ یا بہت چالاک۔


حضور جاوید صاحب ۔آپکی یہ منطق بھی درست نہیں ۔آپ کا یہ نکتہ بھی درست نہیں۔ کہ میڈیا پاکستانی عوام کو مفت تفریح اور معلومات بہم پہنچاء کر احسان کر رہا ہے ۔یہ عوام ہی ہیں ۔ اس پاکستانی قوم ہی کی وجہ سے۔ آپکے میڈیا کو اشتہارت ملتے ہیں۔ میڈیا کا دانہ۔ پانی چلتا ہے۔ اس میں سے آپ کوبھی مشاہیرہ ملتا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کا اربوں کا نظام کاروبار چلتا ہے۔ اور آپ اور نہ آپ کا مثالی میڈیا ۔عوام کو مفت میں تفریح یا معلومات مہیاء کر رہا ہے۔ بلکہ عوام آپکے کسٹمرز ہیں اور دنیا بھر میں رائج منڈی کے اصولوں کے مطابق ۔ آپ کو ۔ آپکے دودھؤں نہائے میڈیا کو۔ اپنے کسٹمرز کے ۔ اپنے عوام کے مطالبات کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ کہ کسی طور وہ آپکی تنخواہ اور دیگر لوگوں کے معاوضوں اور منافعوں کا باعث ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو ۔ آپکی برادری کو ۔ عوام کا احسانمند ہونا چاہئیے ، کہ پاکستان کے دیگر شعبات جات کی طرح آپ بھی اپنی من مانی کر کے ۔ عوام پر ہر وہ اشتہارتی عریانی و فحاشی اور نظریاتی ۔ کالم اور پروگرام مسلط کر رہے ہیں ۔ جو عوام کے مطالبے سے یکسر متضاد ہیں۔ اور اسکے باوجود عوام آپ سے محض گلہ کر کے رہ جاتے ہیں۔


آپ نے اتنی بار عوام کی جانب سے اپنے آپ اور میڈیا کو۔ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ کہنے کی تکرار کی ہے ۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ عوام بہر حال یہ بھی جانتے ہیں۔ کہ یہود نصاریٰ بھی انھی کو اپنے مفادات کا ”ایجنٹ“ مقرر کرتے ہیں۔ جن کے پاس ”کچھ“ علم ۔ شعور ۔ اور بات کہنے کا طریقہ ہو۔ میٹھے میں زہر ملا کر پلا دینے کا فن جانتے ہوں، ۔ جوانکے مفادات کا تحفظ بہتر طور پہ کرسکتا ہو۔ یہودو نصاریٰ کو کیا پڑی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں۔ آپ جیسے یا دیگر لوگوں کو اپنا ”ایجنٹ “ بناتے پھریں؟۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو اپنے”ایجنٹس“ مقرر کرتے۔ تو وہ قومیں کبھی کی دنیا سے معدوم ہوچکی ہوتیں۔ وہ قومیں ہماری طرح عقل سے پیدل نہیں ہیں۔ اسلئیے ناحق آپ نے ۱۸ اٹھارہ مرتبہ اپنے آپ کو ”یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ“ ہونے کا۔ عوام کی طرف سے تکرار  کئیے جانے کا اعزاز لیا ہے۔جبکہ عوام اس تناظر میں۔ جیسے آپ نے بیان کیا ہے ۔ آپکو یا دیگر میڈیا کو یہودو نصاریٰ کا ” ایجنٹ “ تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتیں ۔ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے لئیے۔ کبھی کبھار اپنے حقیقی ایجنٹس سے ۔ایسے لوگوں کو مالی مراعات۔ خیرات ۔ انعام اور راتب وغیرہ پھینکتی رہتی ہیں۔ مالی مراعات جنکی مالیت عالمی طاقتوں کے لئیے کوئی معانی نہیں رکھتیں ۔مگر ضمیر فروشوں کے لئیے گنج گراں مایہ سے کم حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس وجہ سے وہ ہر روز۔ ہر موقع بے موقع پہ انکے لئیے مدح سرائی کرتے ہوئے۔ دُم ہلانے سے باز نہیں آتے۔ اور آخر کار اسی کو وسیلہِ رزق سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ بدقسمتی سی برصغیر کے مسلمانوں میں اور پاکستان میں خصوصی طور پہ ۔ ننگ ملت ۔ ننگ وطن۔ ننگ قوم۔ میر جعفر اور میر صادق کی نسل کہیں نہ کہیں ضرور تیار کی جارہی ہے۔ حرام کھانے والوں ۔ قوم فروشوں۔ اسلام فروشوں۔اور ضمیر فروشوں کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط اؤل کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط دوئم کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط سوئم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی آخری قسط چہارم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔


غلط فہمی۔رنجش اور اعتراضات۔

نوٹ:۔ اس تحریر کے وجود میں آنے کا فوری سبب محترم اجمل بھوپال صاحب کے بلاگ پہ محترم عبدالرؤف صاحب کی رائے ہے۔

صحت مند مباحث ہی صحت مند معاشروں کی ضامن ہوتی ہے۔ مباحثت ہوتی رہے تو اصل مسائل اور حقائق کا پتہ چلاتے ہوئے مناسب اور جائز حل تجویز کئے جاسکتے ہیں۔ ورنہ دائروں میں بند ہوکر۔ دائروں کے سفر سے۔ قوموں اور افراد کی ذہنی بالیدگی نہ صرف رک جاتی ہے۔ بلکہ وہ خوفناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جوبدقسمتی سے پچھلے پیسنٹھ سالوں سے دائروں میں بند سفر کے نتیجے میں آجکل پاکستان میں ظاہر ہورہی ہے۔ خولوں میں بند ہوجانے سے اور کسی قسم کا اخراج نہ ہونے کی وجہ سے اچانک حادثات اور سماجی دھماکے ہوتے ہیں اور ہم حیران ہو کر پکار اٹھتے ۔”نہیں۔ جناب یہ تو ناممکن ہے ۔ ایسے نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسے ہوا؟خبر کی صداقت میں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے ۔ بھلا کوئی یوں بھی کرسکتا ہے؟۔” جب کہ یوں ہوا ہوتا ہے اور عقل اسے تسلیم کرنے سے عاری ہوتی ہے۔ غصے،لاعلمی ، اندھی جذباتیت، اور ریاستی بے حسی کی سے وجہ لوگ ایک فاترالعقل اور مجنوں شخص کو پولیس کے ہاتھوں سے چھڑوا کر ہزاروں کے مجمع کی شکل میں اسے پکڑ کر  چوک کے بیچ میں زندہ جلا دیتے ہیں۔ اور وہ بھی قرآن کریم ۔ اس کلام پاک کی مبینہ بے حرمتی کو جواز بنا کر جس کے ذریعے دین اسلام پھیلا اور لوگ امن اور رحمت کی پناہ میں آئے۔ اور اس طرح کسی انسان کو زندہ جلا دینا اسلام کی تعلیمات اور عظمت کے نہ صرف منافی ہے ۔بلکہ ایسے کسی فعل کو اسلام نے نہ صرف جرم قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پہ سزا اور حدود مقرر کی ہیں۔ مگر صدمے اور افسوس کی حد ہے کہ ایسے خوفناک اور مکروہ فعل میں حصہ لینے والوں نے اسی قرآن اور دین اسلام کو جواز بنایا۔ جبکہ اسلام انسانوں کو زندہ جلانے جیسی کسی حرکت کی اجازت دینا تو درکنار بلکہ اس پہ سخت حدود مقرر کرتا ہے۔ اور ہماری اخلاقی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں کے مجمع میں سے کسی کو اس ظلم پہ آواز بلند کرنے کی توفیق اور جرائت نہ ہوئی۔ ایسے واقعات میں ریاست بھی برابر کی قصور وار ہے۔ اگرریاست ایسے واقعات پہ از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتوں سے ”حساس“ معاملوں میں مجرم لوگوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کا چلن رکھتی۔ توشاید لوگوں میں حساسیت اور جزباتیت کا یہ عالم نہ ہوتا کہ وہ خود ہی اشتغاثہ، قاضی اور جلاد کے فرائض سرانجام دیتے۔ دائروں میں میں بند ہونے اور نتیجاً انسانی برداشت کے بند ٹوٹنے کی یہ ادنٰی سی مثال ہے اور اجتماعی خود کشی کی ایک علامت ہے ۔ ڈائیلاگ ۔ بات چیت اور کسی لیول پہ بھی کوئی شنوائی نہ ہونے پہ۔ بے بس اور دیوانگی کی حدود کو چھوتے غصے میں لوگ کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔

اسلئیے کم ازکم ایک صحت مند معاشرے کے لئیے ہر لیول پہ صحت مند مباحثت کا ہونا از بس ضروری ہے۔ دہائیوں پہ مشتمل محرومیوں اور بے بس لوگ جب کسی کے ساتھ۔ آپ کے ساتھ۔۔ یا اور کے ساتھ مباحثت یا بات چیت کا آغاز کریں گے۔ تو انکی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ عام طور پہ ہر دو پارٹیاں شروع میں تلخ گوئی سے معاملات شروع کرکے عموما دہیمی اور سلجھی گفتگو پہ اتفاق کرتی ہیں۔ اور مسائل کے حل کے لئیے قابل قبول سمجھوتے پہ اتفاق کر لیتی ہیں۔ اسلئیے آپکی تلخی یا اسی طرح پاکستانی قوم کے حقوق سے محروم کسی دیگر طبقے یا افراد کی تلخی سمجھ میں آنے والی بات ہے اور میری رائے میں اس میں تعصب کا پہلو نہیں نکلتا۔
میرے پہلے تبصرے میں فوج یا کسی ریاستی ادارے کی بے جا توصیف تحسین قطعی طور پہ نہیں تھی۔ بلکہ جس تبصرے کے جواب میں، میں نے لکھا تھا ۔ اس تبصرے میں ایک بچگانہ ضد کے طور پہ جان بوجھ کر فوج اور پنجاب کو لازم ملزوم کرنے کی بھونڈی سی کوشش کی گئی ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب بھی پاکستان میں فوج یعنی جنرل ایوب ۔ جنرل یحیٰحی۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف نے غیرآئینی اور فوجی حکومتیں بنائیں۔ تو ایسی حکومتوں اور فوجی جرنیلوں کے خلاف پنجاب کے عوام نے سب سے زیادہ مزاحمت کی اور قربانیاں دیں۔ اسلئیے اہل پنجاب پہ یہ الزام تھوپنا کہ فوجی جرنیل۔ وطن عزیز کی اصطلاح کو محض پنجاب کے لئیے استعمال کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں انھیں ملک کے دوسرے حصوں کے کوئی غرض نہیں۔ نیز اہل پنجاب کو اسکا ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ تو یہ نہائت بے ہودہ اور دل آزار رویہ ہے اور اہل پنجاب کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اس لئیے اپنی حماقتوں۔ ناکامیوں کواور اپنے مکروہ مفادات کی تشنہ تکمیل کو خواہشات کا نام دیتے ہوئے اہل پنجاب یا کسی بھی دوسرے صوبے یا قومیت پہ ملبہ ڈال دینا احسن اقدام نہیں۔ جبکہ پنجاب سے بغض رکھنے والے یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک مشرف کی فوجی حکومت میں شریک تھے۔ اس کی حکومت حصہ دار تھے اور اقتدار کے کیک میں سے اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ کاٹنے والوں کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے پہ اپنا گند اچھالیں۔
اسمیں پنجابی، سندھی، پٹھان یا بلوچ کی کوئی بحث نہیں مندرجہ بالا پیرائیوں میں اصل صورت حال بیان کرنے اور شکوک کم کرنے کی ایک ادنٰی سی کوشش ہے۔
نیزآپکی اس بات سے قطعی طور پہ اتفاق نہیں کہ پنجاب یا خیبر پختوان خواہ یا پاکستان کے کسی بھی دیگر علاقے یا صوبوں میں کراچی ۔ سندھ یا بلوچستان یا پاکستان کے کسی بھی دیگر حصے سے محض اسلئیے دلچسپی ہے کہ اسے ساحل سمند ر کی ضرورت ہے یا کسی دیگر ضرورت کی وجہ سے یوں ہے۔ بلکہ دنیا کی سابقہ تاریخ اور دنیا میں رائج الوقت ریاستی اصولوں کے مطابق پاکستان کے تمام جملہ قدرتی وسائل پہ پاکستان کے سبھی حصوں اور شہریوں کا برابر کا حق ہے۔ اگر کہیں کسی وجہ سے کچھ اختلافات ہیں تو انہین باہمی گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہئیے۔
میری ذاتی رائے میں اپنے مسائل کی وجوہات کو ایک دوسرے کے سر منڈھنے کی بے فائدہ کوششوں کی بجائے، ہمیں ان وجوہات کی جڑیں تلاش کرنی چاہئیں اور ان استحصالی قوتوں کا احتساب کرنا چاہئیے۔ جنہوں نے پاکستان بنتے ہی بار بار چہرے بدل کر پاکستان کو لوُٹا ۔کھسوٹا۔ نچوڑااور جی بھر کے عیش کی ۔ ملک و قوم کے نام پہ اپنی تجوریاں بھریں۔ اپنے اثرو رسوخ اور اقتدار و اختیار کو دوام بخشا۔ یہ طبقہ ہمیشہ سے پاکستان میں موجود رہا ہے اور دن بدن ترقی کرتے ہوئے اب پاکستان کے لئیے نہ صرف ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ بلکہ پاکستان کی سالمیت کے لئیے بھی نہائت خطرناک ہوچکا ہے۔ اور پاکستانی عوام کے ہر قسم کے حقوق چھنینے کے بعد اب ان کے منہ سے روزی روٹی اور آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتا ہے۔ تانکہ بے کس۔ بے بس اور بے ہمت عوام اس طبقے کے ہاتھوں بے چون چرا ہر قسم کے ظلم پہ آنکھیں بند کر لیں۔ اس طبقے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ اپنے مفادات کے لئیے کبھی بھی۔ کوئی سی بھی شکل اپنا لینے میں باق ہے ۔ خواہ وہ شکل فوجی جرنیل کی ہو یا سیاستدان کی۔ نودولتئے ہوں یا نام نہاد قائد یا رہنماء ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپس میں رشتے داریاں کرتے ہیں۔ تانکہ یہ مافیاز مذید مضبوط ہوں۔ اور انگریزی محاورے کے طور ایک دوسرے کی پیٹھ کی حفاظت کرتے ہوئے اسے مضبوط کر سکیں۔ اس طبقے میں جرنیل۔ جاگیردار۔سردار۔ میڈیا اور بزنس کے ٹائی کون۔ بیورکریٹس۔ سیاہ ست دان ۔ پاکستان میں فرقہ، فرقہ کا کھیل کھیلنے والے۔ نام نہاد رہنماء اور قائد یا بوری بند لاشوں کے مافیا سربراہ ۔ جنہوں نے قوم کو لیر لیر کر دیا ہے۔کپڑے کی کترنوں کی طرح کانٹ چھانٹ کے رکھ دیا ہے۔ جو سادہ لوگوں کو جھوٹے نعروں اور بھوکوں کو پیٹ بھر کر روٹی کے خواب دکھلا کر پوری قوم کر باہم دست بہ گریبان کئیے ہوئے ہیں۔
فرض کر لیں بلوچستان ہی نہیں پاکستان کا ہر صوبہ۔ ہر ضلع ۔ تحصیل بلکہ تھانے تک آزاد ہوجائیں اور خدانخواستہ پاکستان کا وجود تک نہ رہے۔ تو کیا پاکستان میں دودھ اور شہد کی بہنے لگیں گی؟۔ دودھ اور شہد کی نہریں بہنا تو کجا بلکہ میرے۔ آپکے اور پاکستان کے عام آدمی کے۔عام عوام کے۔ حالات بدلنے کی بجائے انکے لئیے کئی نئی قسم کے فساد جنم لیں گے۔ اور اس صورت میں بھی وسائل اور لوگوں کی قسمت کا مالک وہی طبقہ ہوگا۔ جو اس فساد کا ذمہ دار ہے۔ یعنی مسئلے کا حل ملک کے کسی حصے کی علحیدگی میں نہیں ۔ ملک کی تقسیم کوئی حل نہیں۔ بلکہ یہ بجائے خود ایک مسئلہ اور بالادست طبقے کے ھاتھ مضبوط کرنے کا جواز ہے۔ اور یہی انکی سازش ہے کہ اگر پاکستان میں چار صوبے ہیں تو انہیں آٹھ کر لو کہ چلو۔ بندر بانٹ سے چار نئے وزاءاعلٰی۔ گورنرز۔ ہزاروں آسامیاں اور نئی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے سینکڑوں رکن ۔ تو فائدہ کس کو ہوا؟ اسی طبقے کو!۔ جو آج بھی مندرجہ بالا تمام سبھی عہدوں کا بلاشرکت غیرے حصہ دار اور قابض ہے۔ خواہ اسکا نام اور پارٹی یا ادارہ کوئی سا بھی ہو۔ یعنی موجاں ہی موجاں ۔
اس لئیے ضروری ہوگیا ہے کہ اگر جدو جہد کرنی ہے تو ایسے لوگوں یا طبقات کے خلاف علم بلند کی جئیے۔ جو آج پاکستان کے ھر حصے میں عام عوام کی محرومی کا سبب ہیں۔اور یہ جدو جہد پُرامن ہونی چاہئیے ۔ جس میں تشدد کا پہلو یا عنصر نہ ہو۔ تشدد کا ویسے بھی فی زمانہ دور نہیں۔ اور تشدد کے ذریعے حاصل کئیے گئے نتائج کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ علم کو عام کی جئیے۔ لوگوں میں بیداری اور آگہی کی مہم کا آغاز کی جئیے۔ برادشت اور تحمل کو فروغ اور رواج دیں۔ یہ رستہ بظاہر ناممکن کی حد تک مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو قوموں کو دوام بخشتا ہے۔ اور جو قومیں اس رستے سے ادہر ادہر ہوئیں وہ قصہ پارینہ بن گئیں۔
خوش رہئیے۔
نوٹ:۔ اس تحریر کا مقصد صوبائی۔ لسانی۔ علاقائی یا دیگر کسی تعصب کو ہوا دینا نہیں ہے۔ کسی صوبے، یا کسی قومیت کو کسی دوسرے صوبے یا قومیت سے برتر یا کم تر ثابت کرنا نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسی کسی لا یعنی بحث کو چھیڑنا ہے جس سے کسی قسم کے تعصب کی بُو ائے۔ البتہ ایک بہتر ڈائیلاگ اور بات چیت کو اپنانا مقصود ہے۔ہمارے لئیے پاکستان کے سبھی صوبے اور اسکے عوام قابل احترام ہیں۔

 
2 تبصرے

Posted by پر ستمبر 12, 2012 in Pakistan

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: