RSS

Tag Archives: اعمال

مہلت


مہلت۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں۔۔۔

جنرل مشرف کے دور میں اس خطےکے ممالک کے عام شہری ہی کیا۔ اچھے خاصے تجزئیہ نگار ہمیں امریکہ کی ایک سیٹلائٹ ریاست گردانتے تھے۔ آج بھی پاک امریکہ تعلقات کی تعریف کرنا اتنا آسان نہیں۔ کہیں تو یوں لگتا ہے کہ  دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں ۔اور کچھ معاملات میں دو بدو آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ پاکستان سے باہر خطے کے دیگر ممالک کے سنجیدہ سوچ رکھنے والے اور حالات حاضرہ پہ نظر رکھنے والے اچھے خاصے دانشور۔ پاکستان کے بارے میں کینفیوز ہوجاتے ہیں اور الجھ جاتے ہیں۔ کہ آیا امریکا پاکستان کا دوست ہے یا دشمن؟۔ اس ضمن میں صلالہ پوسٹ پہ حملہ۔ ایبٹ آباد کے قریب حملہ۔ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی کا اہتمام ۔اور دیگر بہت سے معاملات۔ باہمی تعلقات کی رسہ کشی کو جہاں نمایاں کرتے ہیں ۔ وہیں روز اسلام آباد کے نت نئے دوروں پہ آئے۔ امریکی اعمال اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل در معقولات۔ اسکول اساتذہ کی تربیت سے لیکر فارمی مرغیوں کے گوشت اور انڈوں کی اقسام اور ان پہ بھاؤ تاؤ اور مول تول  تک میں۔ ناک گھسیڑتے  امریکی۔ پاکستان و امریکہ کے تعلقات کی ایک پیچیدہ داستان بیان کرتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج کی دنیا ۔ بین الاقوام مفادات کی دنیا ہے ۔ جس میں کوئی  ملک کسی کا حتمی دوست نہیں ہوتا۔ اور مفادات کے تابع دوستیاں اور دشمنیاں طے ہوتی ہیں۔

ایک مشہور مغربی کہاوت ہے کہ ۔۔۔ "نئے دشمن کی نسبت ایک دیرینہ دشمن بہتر ہوتا ہے”۔۔۔۔ یعنی دیرینہ دشمن کے طریقہ واردات کو آپ سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ جب کہ نئے دشمن کے بارے میں آپ مکمل اندھیرے میں ہوتے ہیں۔امریکی۔ بشار الاسد کی امریکی شرائط ماننے پہ آمادہ حکومت کو۔  ایک کمزور حکومت کو۔ اپنے اور اسرائیل کے وسیع تر مفاد میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ داعش کا حیرت انگیز طریقے سے وجود میں آنا۔ تیزی سے ابھرنا ۔ پھیلنا اور پھر سکڑنا۔ عراقی باقاعدہ فوج کے ساتھ سنی کرد ” پیش مرگہ” کی داعش کے خلاف تیزی سے پیش قدمی۔ پھر اسے نظر انداز کرنے کی پالیسی اور عراقی و ایرانی  شعیہ ملیشیاء کا داعش کے خلاف میدان میں اترنا۔ داعش کا شامی حکومت کے خلاف اعلان جنگ ۔اور اسرائیل کی بجائے۔ بیک وقت سعودی عرب اردن اور دیگر کے خلاف صف بندیوں کی دھمکی ۔اور اقدامات۔ امریکہ کی طرف سے کچھ لوگوں کی تربیت اور امداد ۔جو بیک وقت شامی حکومت اور داعش کے خلاف امریکی مفادات کے لئیے میدان میں اتریں ۔ عرب ممالک کا بیک وقت بشار الاسد اور داعش کے خلاف صف بندی۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے اس خطے کی نئی تصویر بننے جارہی ہے۔ مگر یہ اجزائے ترکیبہ ابھی مکمل نہیں ۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں داعش اور شامی حکومت میں امریکہ کے خلاف کسی حد تک مفاہمت ہوسکتی ہے۔

اس پورے خطے کو میدان جنگ بنانے میں جس میں پاکستان کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں خام مال  کا زیادہ حصہ پاکستان سے لیا  جانا مقصود ہے اور اس خام مال کی تیاری راتوں رات نہیں ہوئی۔ بلکہ اسے کاشت کرنے اور پروان چڑھانے میں۔ آپکے دشمنوں نے کئی دہائیاں لگائی ہیں  قرضہ ۔ مدد۔ اور بھیک کی مد میں اربوں ڈالرز خرچ کئے ہیں۔ درجنوں سالوں سے منصوبہ بندی کی ہے۔ مسلمان ملکوں میں اپنی مرضی کے سربراہ مسلط کر کے قوموں کو بانجھ کیا ہے۔ قوموں کو بھیڑ اور منتشر ہجوم میں تبدیل کیا ہے۔ جو قومیں تاریخی اور پرانی تھیں  مثلاََجیسے ترکی وغیرہ  اور انہوں نے اپنے حکمران خود چنے۔ وہ آج قدرے مستحکم  اور بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ جن ممالک کے حکمرانوں نے امریکہ و مغرب کی منشاء کے سائے میں زندگی گزاری۔ آج ان ممالک اور قوموں کو ۔ غداری۔ فحاشی ۔آوارگی۔ نفرت۔ احساس محرومی۔ لاتعلقی۔اور بالآخر خانہ جنگی جیسے مسائل بھگتنے پڑ رہے ہیں اور بھگتنے پڑیں گے۔ امریکہ کے مسلط کردہ حکمرانوں نے اس خطے کی قوموں میں جوہر قابل پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ انھیں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کو دے  دی گئیں۔ اور یہ آپس میں دست و گریباں ہوئے ۔ایک کو تھپکی۔ دوسرے کو ڈانٹ اور تیسرے کو اشارہ ۔ کئی دہائیوں سے امریکہ کی اس خطے کے بارے خارجہ پالیسی یہی رہی ہے۔

پاکستان میں اسکندر مرزا ۔ایوب ۔ یحییٰ خان۔ ضیاء۔ مشرف کے لمبے آمرانہ دور اقتدار  میں۔ مقامی جوہر قابل  کو پروان چڑھنے اور  مقامی صنت و حرفت کے پھلنے پھولنے کو   بھاری امریکی منصوبوں سے روکا گیا۔ ملک میں اپنے وسائل سے ترقی کرنے ۔ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے اور خود انحصاری کے خواب کو۔ ایک بھوکے ننگے ملک کی تصویر میں بدل دیا گیا۔ پاکستان  کو امریکہ اور مغرب سے درآمد شدہ منصوبوں اور ماہرین کی درآمد سے رفتہ رفتہ ۔اور بالآخر محض ڈالروں کی آمدن تک محدود کر دیا گیا۔ جس میں امریکی چہیتوں کے لئیے تو آسانیاں اور فروانیاں تھیں۔ انہوں نے ان میلنز ڈالرز سے خوب جیبیں بھریں مگر بدقسمتی سے عام  عوام کے حصہ میں یہ قرضہ  اور اس کا سود چکانے کے لئیے بھاری ٹیکس آئے۔ اور  آئی ایم ایف  جیسے عالمی ساہوکار ادارے پاکستانی اناج  کی قیمت پہ اثر انداز ہونے لگے۔   پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت  پچاس سالوں سے مسلسل درد زہ بھگتتے بھگتتے ۔ پاکستان میں قسما قسمی کے تعصبات۔ لسانی ۔ صوبائی۔ علاقائی۔ مذہبی۔ مسلکی ۔ گروہی۔ سیاسی۔ اور دہشت گردی جیسے بھیانک مسائل پیدا کرتی چلی گئی اور  اپنے خوابوں کی تعبیر اور بنیادی سہولتوں  سے محروم ہوتی گئی۔

آج یہ عالم ہے کہ ہر شہری ۔ ہر فرد ۔ شاکی ہے اور کسی کا بھی گلا کاٹنے کو تیار ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال لاہور میں نصرانی برادی کے ہاتھوں دو زندہ جلائے جانے والے عام راہگیروں کی ایک مثال ہی کافی ہے۔ نتائج سے بے پرواہ ہو کر تشدد پہ آمادہ ہوجانے اور اچانک کسی انتہائی قدم پہ اترنے سے  پاکستانی عوام  کے مزاج میں مایوسی اور فرسٹریشن کی خوفناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ جو کہیں بھی محض کسی ایک واقعے سے ایک خوفناک تصادم میں بدل  سکتی ہے۔

یہ سب محض چند دنوں میں نہیں ہوا ۔ اسکے پیچھے عالمی طاقتوں کی پچاس سالوں سے زائد وہ حکمت عملی ہے۔جس میں ہمارے بے برکتے اور سیاسی شعور اور بصیرت سے عاری۔ بے بس حکمرانوں کی حماقتیں اور بے عملیاں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ جن  میں عوام مسلسل پسے ہیں اور ان کے احساس محرومی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ انکی عزت نفس کو قدم قدم پہ کچلا گیا ہے۔ عوام کی کئی نسلیں جوان ہو چکی ہیں اور انکے حصے میں پچھلی نسل کی نسبت پہلے سے زیادہ مایوسی آئی ہے۔ اور بدستور پاکستان میں عوام کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں کوئی بھی چارہ گر انھیں اپنے مقاصد کے لئیے دھوکے سے استعمال کر سکتا ہے ۔ جس سے مشرق وسطی جیسے حالات پاکستان میں بھی پیدا کئیے جاسکتے ہیں ۔ اس لئیے بھی پاکستانی کرتا دھرتاؤں کو چاہئیے کہ وہ اپنی بقا کی ہی خاطر سہی۔ اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کی کوششوں کو اپنی اولین ترجیج سمجھیں ۔ اور پاکستان پہ مسلط ۔ورثے میں ملے اس بوسیدہ انگریزی  نظام اور سوچ سے جان چھڑائیں۔ اور ایسی تبدیلیوں کا آغاذ کریں۔ جن سے عوام کی زندگی میں بہتری آئے اور عوام یہ بہتری ہوتے ہوئے محسوس کریں ۔ محض خالی خولی دعووں سے خالی پیٹ بھرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ورنہ کوئی وقت جاتا ہے۔ کہ حالات حکمرانوں کے بس سے باہر ہو جائیں گے خدا نخواستہ۔

پاکستان کے حالات کو ہم بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلئے پاکستان کے حالات کی مثال بیان کی ہے۔ پاکستان جیسے حالات مشرق وسطی کے بہت سے ممالک کے ہیں ۔مثلاََ  مصر  کو پاکستان کے نقش قدم پہ چلایا جارہا ہے۔ وہاں وہی پاکستان کی طرز کی امریکی پالیسیز ہیں اور السیسی جیسا فوجی جرنیل حکومت میں ہے۔ جبکہ  پاکستان میں بھی سیاسی حکومتیں ابھی تک لرزہ براندام ہیں۔

پاکستان کے اور مشرق وسطی کے منظر نامے کو جو لوگ محض مذہبی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے کے حالات محض اس لئیے بگاڑے گئے کہ عالمی طاقتیں مسلمانوں سے نفرت کرتی ہیں ۔  انھیں اس سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان طاقتوں کے لئیے ہمارا مذھب۔ اسلام ۔ایک اہم فیکٹر ضرور ہے۔ جس میں مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر وہ اپنے حق میں کئیش کروانا  چاتے ہیں ۔ مگر انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔کہ ان ممالک میں شیعہ بستے ہیں یا سنی ۔ مالکی یا حنبلی ۔ دیو بندی یا بریلوی۔ اہل حدیث یا اہل سنت ۔ عالمی طاقتوں کو محض اپنے اغراض و مقاصد سے دلچسپی ہے۔ جو بہت مختلف ہیں ۔ جہاں خطے کے وسائل سے استفادہ سے لیکر ایسی کسی ممکنہ سیاسی طاقت ۔۔۔۔۔خواہ وہ اسلامی ہو  یا نیم اسلامی مگر جو خطے کے مذھب اور مزاج کی وجہ سے اسلامی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔ ایسی کسی بڑی اور مستحکم سیاسی طاقت کو وقوع پزیر ہونے سے روکنا ہے ۔ جو عالمی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لئیے نقصان  دہ  ثابت ہوسکتی ہے۔ اور انکے  مفادات لئیے چیلنج بن جائے۔ یہ طاقتیں ہندو بنئیے کی سی سوچ رکھتی ہیں اور ہر صورت میں اپنے مفادات کے لئیے۔ دہائیوں پہ محیط منصوبوں پہ عمل درآمد کرتی ہیں ۔ وقتی مفادات کے تحت یہ وقتی یا غیر متوقع طور پہ پیدا ہونے والی صورتحال سے ممکن ہے وقتی طور پہ سمجھوتہ کر لیں ۔یا ۔ایسی صورتحال کو اپنے مفاد میں کئیش کروانے کی کوشش کریں ۔ مگر اپنے حتمی مفادات کو ہمیشہ مد نظر رکھتی ہیں ۔ اور وہ اس سارے خطے کی بے چینی اور خون خرابی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی  اپنی ایک کامیابی سمجھتی ہیں ۔کہ انہوں نے ہمیں دنیا کی ترقی و ترویج میں حصہ لینے سے روک رکھا  ہے ۔ خطے کے ممالک کے مسلمان عوام  کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ اور  دنیا میں مسلمان ممالک کے ایک بڑے خطے کو کئی دہائیوں سے باہم دست گریباں کر رکھا ہے۔ اور جہاں وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ بات نہیں بنی ۔ وہاں وہ براہ راست اپنی فوجیں اتار دیتے ہیں ۔ عراق اور افغانستان اس کی ایک مثال ہیں۔ اسلئے اس ساری صورتحال کو محض مذہب یعنی اسلام کے خلاف صف آرائی سے کچھ آگے۔ یعنی دنیا میں بنیاء ذہنیت اور اسکے مفادات  کی تکمیل کے تناظر میں دیکھنے کی اور سمجھنے کی ضرورت ہے تانکہ مکمل تصویر سامنے آسکے ۔

جس طرح مشرق وسطی میں کچھ سالوں قبل تک شام کو ایک بہت مستحکم ملک سمجھا جاتا تھا ۔ حکومت کی عوام پہ گرفت بہت مضبوط تھی ۔ شامی مخابرات لوگوں کے گھروں میں پکنے والے کھانوں تک کی تفضیلات کی خبر رکھتی تھی۔  مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ فضاء بنی کہ آج یقین ہی نہیں آتا کہ جبر کی بنیاد پہ قائم شام۔ کل تک مشرق وسطی کا سیاسی طور پہ ایک مستحکم ملک تھا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک وہی مستحکم ہوتے ہیں اور ہر قسم کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا باآسانی مقابلہ کر لیتے ہیں ۔ جن ممالک کے عوام مضبوط اور مستحکم ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنے ملک کے اندر آزادی ۔ انصاف اور تحفظ حاصل ہو۔ جہاں مسائل کا حقیقی حل ہو۔ جہاں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پالیسیز ترتیب دی جائیں ۔ مقامی طور پہ عوام کے مسائل حل کئیے جائیں ۔روزی روٹی ۔امن عامہ اور  توانائی جیسے بحران نہ ہوں۔ عوام کو احساس تحفظ ہو۔

پاکستانی عوام کے مسائل وہی بنیادی ضرورتوں کے نہ  ہونے سے متعلق ہیں ۔ جنہیں حل کرنے کی بجائے حکمران ہمیشہ دور کی کوڑی لاتے رہیں ہیں۔ اس لئیے شتر مرغ کی طرح مسائل سے اغماض برتنے کی بجائے انہیں جنگی بنیادوں پہ تیز ترین حکمت عملی کے تحت حل کیا جاناچاہئیے۔ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلوں اور اقدامات کرنے سے سے ہی حالات بہتر کئیے جاسکتے ہیں ۔
ورنہ پاکستانی عوام میں بے بسی اور مایوسی کی انتہاء کو چھوتا جو غصہ ان کے دلوں میں پل رہا ہے وہ کبھی بھی خوفناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اگر کبھی خدا نخواستہ حالات قابو سے باہر ہوئے اور حکمران طبقے کو تو ہزیمت اٹھانی ہی  پڑے گی مگر ملک و قوم کا بہت نقصان ہوگا۔
یہ ایک معجزہ ہے کہ پاکستان میں باہمی ٹکراؤ کے سارے اجزائے ترکیبی ہونے کے باوجود۔پاکستانی قوم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔ مگر  حکمرانوں کو  بھی اس معجزہ کو قدرت کی طرف سے حالات بہتر کرنے کے لئیے ایک  مہلت سمجھنا چاہئیے۔ اور عوام کے حالات بہتر کرنے کے لئیے انتھک کوشش کرنی چاہئیے۔

جاوید گوندل   ۔

۱۸ مارچ  ۲۰۱۵۔بارسیلونا  

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

والعصر


والعصر 1

والعصر
۔سورة العصر۔
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾ (العصر1-3)
ترجمہ۔
1)۔ عصر کی قسم
2)۔ بے شک انسان خسارہ میں ہے۔
3)۔ بجز اُن کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔


سورۃ والعصر ۔قرآنِ کریم کی دوسری مختصر سی سورت ہے۔ جس میں اللہ تعالٰی نے گواہی دی ۔ قسم اٹھائی ہے ۔ اور وہ زمانوں کی قسم ہے۔ وقت کی قسم ہے کہ جب کچھ بھی نہیں تھا ۔تو اللہ تعالی موجود تھا اور اللہ تعالٰی ہر زمانے کا شاہد ہے۔ گواہ ہے کہ ۔ اللہ تعالٰی سب زمانوں سے پہلے کا ہے۔ ہمیشہ سے ہے۔ اللہ تعالٰی نے سارے زمانے دیکھے ہیں اور حضرتِ انسان کو بار بار پھسلتے دیکھا ہے۔ اسی لئیے اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو زمانوں کی قسم کھا کر یہ باور کرواتا ہے کہ مجھے سارے زمانوں کی۔ وقت کی قسم ہے ۔کہ میں زمانوں سے شاہد ہوں ۔ جانتا ہوں اور مجھے علم ہے کہ یوں ہوا ہے ۔ یوں ہوتا آیا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ
انسان خسارے کا سودا کرتا ہے ۔ تھوڑے کے لئیے زیادہ چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ کام کرتا ہے جس میں خود اس کے لئیے۔ اور دوسروں کے لئیے سراسر خسارہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی یہ سب کچھ زمانوں سے یعنی ابتدائے آفرینش سے دیکھ رہا ہے۔ کہ یوں ہو رہا ہے ۔انسان خساروں کا، گھاٹے کا ۔ نقصان کا ۔ سودا کرتا ہے ۔


مگر ۔ ہاں وہ لوگ ؟۔ اور کون ہیں وہ لوگ ؟ جوخسارے کا سودا نہیں کرتے ۔جواہلِ خسارہ میں شامل نہیں ؟۔ وہ جو ۔ ایمان لاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے دین پہ ۔ اسکی بتائی ہوئی باتوں پہ ۔ اسکے احکامات پہ ۔ عمل کرتے رہے ہیں ۔ عمل کرتے ہیں۔ وہ حق بات کی تلقین کرتے ہیں، یعنی وہ حق بات کرتے ہیں ۔حق پہ عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے کا کہتے ہیں ۔
یعنی وہ اہلِ حق ہیں ۔ جھوٹ سے بچتے ہیں ۔ ہیر پھیر ۔  مکروفریب اور  دہوکہ دہی نہیں کرتے رہے ، نہیں کرتے۔ ہمیشہ سچ کہتے رہے ہیں ، سچ کہتے ہیں۔ کسی جابر ۔ کسی آمر سے نہیں ڈرتے ۔ کسی مصلحت یا دنیاوی فائدے کے لئیے سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ حق کو حق کہتے ہیں۔ خواہ اس کے لئیے کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے اور انکے ایمان ۔ اور صالح اعمال کی وجہ سے۔ اور حق کا ساتھ دینے۔ اور حق پہ ڈٹ جانے کی وجہ سے۔ جب حالات انکے ناموافق ہوجاتے ہیں۔ ان پہ جبر اور ستم کیا جاتا ہے ۔ انکا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ تو وہ زمانے کی ریت اور چلن کا ساتھ دیتے ہوئے بدکار لوگوں کاساتھ ۔ بدکار رسموں ۔ اور رواجوں کا ساتھ ۔جابر اور آمر حاکموں اور ظالموں کا ساتھ نہیں دیتے ۔انکے ظلم اور ستم پہ خاموش نہیں رہتے ۔کچھ بس میں نہ رہے ۔اورجب ان سب ستموں پہ۔ ان کا بس نہ چلے۔ کوئی پیش نہ چلے۔ تو وہ صبر کرتے ہیں اور اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں۔اور اپنے جیسوں کو صبر کرنے اور اور سچ پہ ڈٹے رہنے کی تلقین اور ہدایت کرتے ہیں۔ یعنی  وہ خود بھی ایمان لاتے ہیں۔   یقین رکھتے ہیں۔ اور نیک اعمال کرتے ہیں۔  حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ دوسروں کو یوں کرنے کا کہتے ہیں۔ اور جب پیش نہ جائے تو  برائی میں شامل نہیں ہوتے ۔ برائی کے سامنے سپر نہیں  ڈالتے اور  خود بھی صبر کرتے ہیں ۔ اور اپنے جیسوں کو بھی  ۔   حق بات کہنے پہ۔ جو نامساعد حالات سے ۔ لوگوں کے ناروا رویے سے۔ اور جوروستم  سے جب  واسطہ پڑتا ہے ۔ تو انہیں صبر سے سب  برداشت کرنے کی تلقین اور تاکید کرتے ہیں ۔ تانکہ حق بیان ہو۔ حق جاری ہو۔ اور لوگ حق کے لئیے ڈٹ جائیں۔ ڈٹے رہیں۔ اور مصیبت اور پریشانی  میں صبر سے سب کچھ برداشت کریں ۔ بس یہی وہ لوگ   ہیں۔ وہ لوگ!  جو سارے زمانوں سے آج تک خسارے میں نہیں رہے!! اور نہ کبھی خسارے میں ہونگے!!۔

اور اللہ تعالٰی عصر کی۔ زمانوں کی ۔ وقت کی ۔ انسان کی تاریخ کا گواہ ہے۔اور اللہ تعالٰی خود۔ اس وقت کی قسم کھا کر اپنی شہادت کو ۔ گواہی کو بنیاد بنا کر۔ حضرتِ انسان کو خسارے اور خسارے میں نہ رہنے والوں کے بارے بیان کر رہا ہے ۔خبردار کر رہا ہے کہ ازلوں سے ۔ زمانوں سے کون سے لوگ فائدے اور کون سے لوگ خسارے میں رہے ۔ہیں کیونکہ اللہ سب کے انجام کو جانتا ہے۔ اور اسوقت بھی جانتا تھا۔ جب ہم سے بھی پہلے کے زمانوں میں جو لوگ مختلف برائیوں  کے سامنے  جھکتے نہیں تھے۔ اور اللہ کے بتائے ہوئے حق کے رستے پہ چلتے تھے۔ اور پریشانیوں پہ صبر کرتے ۔اور دوسروں کو حق پہ چلنے۔ اور صبر کرنے کی تاکید کرتے تھے ۔ تو فائدے میں رہتے تھے۔ اور جو اس کے برعکس جو  لوگ  جو یوں نہیں کرتے تھے۔ دنیاوی فائدوں اور   مصحلتوں یا  خوف یا ڈر کی وجہ سے ۔ ایمان نہیں لاتے تھے۔ نیک عمل نہیں کرتے تھے۔ اور حق کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔ اور حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے مصائب پہ صبر کی بجائے ظلم اور برائیوں پہ خاموش ہوجاتے تھے ۔ اور نہ ہی دیگر   حق کا ساتھ دینے والے لوگوں کو۔ اور مصائب  جھیلنے پہ انہیں صبر سے۔ حوصلے کے ساتھ، برداشت کرنے کی تلقین کرتےتھے۔ تو یہ لوگ خسارے میں رہے ۔ اور خسارے میں ہیں اور ۔ خسارے میں رہیں گے ۔

اور چونکہ اللہ تعالٰی نے یہ سب ہمیشہ سے دیکھ رکھا ہے۔ اورجو ہم سے پہلے کے سارے زمانوں میں بنی نوع انسان ہو گزرے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے  ان سب کے انجام کو دیکھ رکھا  ہے ۔ انکے کئیے کے نتیجے سے واقف ہے ۔ اور وہ گواہ ہے ۔ اسلئیے انہی سارے زمانوں کی اور بنی نوع انسان کی ساری گزری نسلوں  سے انکے حالات سے انجام سے باخبر ہونے کی وجہ سے۔ اللہ تعالٰی ہمیں خبردار کر رہا ہے ۔ کہ  ہم  اسکی قسم اور گواہی پہ  یقین کرتے ہوئے سابقہ زمانوں اور آنے والے وقتوں کے خسارہ پانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوجائیں اور ہدایت پائیں۔
اس لئیے ہمارے ہاں جن برائیوں کو رواج سمجھ کر۔ یا جن پہ اپنے آپ کو بے بس سمجھ کر۔ انہیں خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ اس میں شامل ہوا جاتا ہے ۔ تو اس سورت والعصر  سے ہمیں انسانوں کی دونوں قسموں کا پتہ چلتا ہے ۔کہ خسارے یا گھاٹے والے کون ہیں۔ اور اللہ سے منافع کا سودا کرنے والے کون ہیں اور انکا طریقہ کار کیا ہے۔
اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آج کے حالات میں ہمیں کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئیے ،۔یعنی ایمان لانا اور یہ یقین ہونا کہ اللہ نے جو فرما دیا ہے۔ وہ ہی درست ہے ۔ وہی ہمارا اللہ ۔ وہی ہمارا آقا و مالک ہے ۔ اور اسی کا دین سچا ہے۔ کہ جو ہم اللہ کی خاطر اپنے دین کی خاطر اور اپنے پہ فرض ہونے کی وجہ سے اور اس فرض کی خاطر نیک عمل کریں ۔ اور حق کا ساتھ  اور  سچ کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ خواہ کتنی ہی مشکلیں درپیش کیوں نہ ہوں ۔ کسی مصلحت کے تحت جھوٹ ۔ مکاری۔ فریب اور ناجائز کام نہ کریں ۔ اور اگر ایسا کرنے میں۔ یعنی سچ کہنے اور حق کام کرنے میں مشکلات پیش آئیں کہ جو عموماً آتی ہیں۔ تو اس پہ زمانے کا رواج کہہ کر اس برائی میں شامل نہ ہوں ۔ خود بھی اور دوسروں کو بھی  تاکید کریں  کہ  ناشکرے نہ ہوں ۔ پچھتائیں نہیں ۔ بلکہ اس پہ صبر کریں اور اچھے عمل ۔ نیک عمل کرنے نہ چھوڑیں۔ اور حق کا ساتھ نہ چھوڑیں  ۔ ۔ اور یہ اللہ تعالٰی ہے جو سارے زمانوں کی بنیاد پہ اپنی گواہی اور اسکی قسم دے کر فرما رہا ہے۔کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے۔

 

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔



جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔

جاوید چوہدری صاحب!۔آپ اپنی دانست میں ۔پاکستانی میڈیا کا بھرپور دفاع کررہے تھے۔ اور جب مختلف ذرائع سے آپ کے کالم کی سابقہ تین اقساط پہ ۔اعتراضات و حقائق سامنے آنے شروع ہوئے ۔تو آپ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہوئے۔ کالم کی چوتھی اور آخری قسط میں ۔اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے آخر کار یہ تسلیم کر لیا۔کہ آپکا بیان کردہ مثالی میڈیا دودھؤوں نہایا ہوا نہیں۔ میڈیا خامیوں سے پاک نہیں ۔ میڈیا میں نالائق لوگ موجود ہیں۔آپ لوگ شرفاء و غیر شرفاء دونوں کو یکساں طور پہ بلیک میل بھی کرتے ہیں۔نیز آپ لوگوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔


بہتر ہوتا آپ کسی ایک آدھ کالی بھیڑ کی نشاندہی کرتے۔ آپ نے پاکستان کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تو نام لیکر۔ ان کے مناصب کا ذکر کر کے۔ ان کی مبینہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ جب کہ آپ کتنی سمجھداری (یا عقل کی عیاری) سے اپنی برادری کے کسی ایک فرد کو بے نقاب نہیں کر سکے؟ اور ایسا کرنے سے دیدہ و دانستہ گریز کر گئے۔آخر کیوں؟۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے دیگر ساتھی۔ جو دوسروں کو بھرے بازار میں ننگا کر دینے میں۔ غیر معمولی قدرت اورمہارت رکھتے ہیں۔ جو شرفاء کے کپڑے اتارنے میں ذراجھجک محسوس نہیں کرتے ۔اپنی ”باخبری“کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ پاتال سے سچائی ڈھونڈ لانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرنے کے اقدامات کرنے کے ارشادات کرتے ہیں۔ میڈیا کی قربانیوں کا تسلسل سے پراپگنڈاہ کرتے ہیں۔ اور جن کا آپ بے سود دفاع کر رہے۔ جن سے تعلق۔ اور جنکا ایک اہم رکن ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہے۔ وہ قلم جس کی سچائی کے بارے آپ کا طبقہ پیغمبران کے شیوہ اور سنت کا ڈھنڈوارا پیٹتا ہے۔ قلم کو نبیوں کی میراث بیان کرتے نہیں تھکتا۔ تو جب آپکی اپنی برادری کی بات آئی ۔ تو آپ کمال ہوشیاری سے کوئی ایک نام لئیے بغیر۔ کسی ایک واقعے کا تذکرہ کئیے بغیر ۔ اپنی برادری کے متعفن کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے ۔ محض از سر راہ چند ایک ”کالی بھیڑیں“ کہہ کر کے آگے نکل لئیے؟۔ آخر کیوں؟؟۔


اس کیوں کا ایک سادہ سا جواب ہے ۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے۔جسکے معانی کچھ یوں بنتے ہیں” تُم میری پیٹھ دھوؤ میں تمہاری پیٹھ دھوتا ہوں“۔ اس ضرب المثل کے عین مطابق آپ اور آپ کی برادری ۔ ایک دوسرے کو ہر جائز۔ نا جائز پہ تحفظ دیتے ہیں۔ دریا میں میں جب سبھی ننگے ہوں تو ایک دوسرے کو ننگے ہونے کا طعنہ کون دے؟۔ آپکے کاروباری مفادات۔ آپ سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کہ اپنی برادری کے کسی فرد پہ انگلی نہ اٹھائی جائے۔ آپکی برادری کے اکا دکا لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف۔ اس وقت ایک آدھ کالم لکھا ۔ جب انکے اپنے ذاتی مفادات پہ حرف آیا۔ جب انکی کسی خاص ”وفاداری“ کو مشکوک ٹہرایا گیا۔ کیا آپ کوئی ایک ایسی مثال اپنی یا اپنی برادری کی بیان کرسکتے ہیں؟ ۔ جس میں انہوں نے اپنی کسی برادری کے فرد کا نام لے کر۔ اسکے اعمال کو اسلام۔ قوم ۔ ریاست کے مفادات کے منافی قرار دیا ہو؟۔


آپ اپنی اسی کالم کی مثال دیکھ لیں ۔ اس کالم میں آپ نے موضوع سےہٹ کر۔ دوسرے کتنے طبقات و شعبہ ہا ئے جات کو رگیدا ہے ۔ ملوث کیا ہے۔ انکی مثالیں دیں ہیں۔ بعض کو برا جانا ہے۔ مگر کس لئیے؟ محض جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئیے۔ اپنی سبھی خامیوں اور غلطیوں کے درست ہونے کا جواز پیش کرنے کے لئیے۔ آپ بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا اس موضوع سے تعلق بنتا ہے۔ کہ یہ مذکورہ لوگ بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں آپ سانس لے رہیں۔ مگر حضور جاوید صاحب!۔ عوام کی عدالت میں آپ۔ اپنی اور اپنی برادری کی صفائی پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام کی اس عدالت میں۔ اس کٹہڑے میں۔ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیاہے۔ آپ بتائیں۔ کبھی آپ نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کسی عدالت میں کسی ملزم کو یہ کہتے سنا ۔ کہ جج صاحب ۔ میں نے اسلئیے قتل کیا ۔ میں نے اس لئیے چوری کی۔ میں نے اس لئیے جرم کیا ۔ کہ ہر شہر میں ۔ ہر علاقے میں قتل ہو رہے ہیں۔ چوریاں ہورہی ہیں۔ جرم ہورہے ہیں۔ اسلئیے ازخود مجھے بھی یہ سبھی جرائم کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے؟۔ حضور ۔ اسطرح تو یہ دنیا کا بودا ترین دفاع ہوگا ۔ ناقص ترین صفائی ہوگی۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس مشق سے ۔ آپ کے اس سلسے وار کالم لکھنے سے ۔ عوام ۔آپ اور آپکی برادری سے ۔ اور پاکستانی میڈیا سےمطمئن ہوگئے ہیں؟۔ آپ لوگوں کی دیانت۔پارسائی۔ شرافت۔ سچائی ۔پہ ایمان لے آئے ہیں؟۔ اگر آپ یوں سمجھتے ہیں۔ تو آپ عوام کو مذید بد گمان کر رہے ہیں۔مزید اعتراضات اٹھانے کا موقع دیں رہے ہیں۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے میڈیا کے دیگر کالم نگار و میزبان وغیرہ۔ کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتے ۔کہ وہ اپنی برادری میں سے کسی کے بارے حقائق بیان کر سکیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ اور اس دوہرے معیار کو حرف عام میں عوام ”منافت “ کہتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ وہ ایسا سمجھنے میں کیوں کر حق بجانب ہیں۔


ایک قابل صحافی جب کسی کے بارے واقعہ لکھتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے ۔ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مبینہ ملزموں کے بارے ہمیشہ ” مبینہ “ طور پہ لکھتا ہے۔ جبکہ آپ اپنے کالم کی اسی آخری قسط میں۔ یہ تسلیم کئیے ہوئے ہیں۔ یا کم از کم عوام کو یہ بالا کروانے پہ مصر ہیں۔ کہ یہ فلاں فلاں لوگ کرپٹ ہیں۔ راشی ہیں۔ مجرم ہیں۔ لہذا میڈیا کو بھی ایسا کرنے کا حق بعین پہنچتا ہے۔ یہ ایک ننھی سی مثال ہے کہ آپ اور آپ کی دیگر برادری ۔ آپکا میڈیا ۔کس طرح حقائق کو توڑ موڑ کر اپنی من مرضی کا رنگ دیتا ہے اور عوام کوغلط تاثر دیتا ہے۔ اس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی رائے عامہ کو غلط طور پہ تعمیر کرتا ہے ۔ اسکی وجہ ان مذکورہ ملزمان میں سے اکثر کے ساتھ آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری اختلافات ہوتے ہیں۔ جنھیں آپ بھرے بازار میں ننگا کر رہے ہیں ۔وہ بھی بھلا عوام کے لئیے کسی فرعون جابر سے کم نہ ہوں گے ۔ مگر بہر طور وہ فرعون۔ چور ہونے کی وجہ سے ۔کسی طور آپکے سامنے مجبور ہیں ۔ کیونکہ انکا کاروبار بھی آپ لوگوں کی معاونت اور پروپگنڈے کا محتاج ہے۔اور جسکا آپ لوگ بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انھیں بلیک میل کر کے ۔ من پسند لوگوں کے عیوب پہ پردہ ڈال کر ۔ انکے حکومتی عہدوں اور رسوخ سے من پسند مراعات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں کی ہر پوش آبادی میں آپکے لئیے کروڑوں کی مالیت کے پلاٹ کیوں کر مختتصص کئیے جاتے ہیں؟۔ پاکستانی حکومتوں کو قومی ملکیت کے قیمتی پلاٹس بندر بانٹ کے طور بانٹنے کا استحاق کسی طور پہ حاصل نہیں ہونا چاہئیے ۔ وہ قیمتی پلاٹس آپکا اور آپکی برادری کا منہ بند رکھنےنے کے لئیے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ لفافوں۔ مفت کے عمروں۔ مفت کے حجوں ۔ یوروپ و امریکہ اور دنیا میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں اقامت۔ دوروں کے شاہانہ اخراجات ۔ ذاتی رسوخ۔ پرچی اور سفارش کی بلیک میلنگ۔ انگنت مکروہات ۔ آخر آپکا ۔ آپکی برادری کا قلم ایسے گھناؤنے موضوعات پہ ۔ ایسے پلاٹوں کی بندر بانٹ پہ شعلے کیوں نہیں اگلتا؟ ۔ اور جن سے آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔ آپ انھیں پارسا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ اگر اصرار کریں گے تو کئی ایک مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ جبکہ یہاں آپکی یا کسی اور کی عزت کو کھینچنا ہمارا مقصد نہیں۔


آپکی اس منطق کے قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے ۔ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خسارے کا کاروبار کر رہاہے؟ ۔ اگر آپ کی اس بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اس ”خسارے“ کو اربوں روپے کمانے والے لوگ کہاں سے پورا کر رہے ہیں؟۔ اور کیونکر وہ خسارے کا کاروبار نباہ رہے ہیں؟ ۔ دوسو کروڑ سے ایک ٹی وی ادارہ قائم کرنے والے اور ایک اخبار جاری کرنے کے لئیے پچاس کروڑ روپے خرچ کرنے والے ۔ خسارے کا کاروبار محض پاکستانی عوام کو باعلم رکھتے ہوئے باشعور بنانے کی محبت میں کر رہیں؟۔ حضور جاوید صاحب آپ۔ ہماری اورقارئین اکرام کی ذہانت کا مذاق تو مت اڑائیں؟۔ آپ کس کو دہوکہ دینا چاہتے ہیں؟۔


حضور جاوید صاحب!۔ پاکستانی میڈیا سے چلتے اشتہارات ۔جن سے عام طور پہ فحاشی اور عریانی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ ایسے اشتہارات کا آپ نے کمال چابک دستی سے دفاع کیا ہے ۔ کیا آپ عوام کو اسقدر سادہ سمجھتے ہیں؟ یہ عوامی ذہانت کی توہین ہے۔ اس ضمن میں آپ نے اپنا سارازور بیاں اشتہارات کےکیونکر ضروری ہونے کو بنیا د بنا کر۔ اصل موضوع سے صرف نظر کرتے ہوئے ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو مارکیٹنگ پہ درس دینا چاہا ہے۔ اشتہارات کی مد میں جو نکتے آپ نے بیان کئیےہیں۔ اتنا سا نکتہ ۔اتنی سی بات تو گلی محلے کا ۔ایک عام دکاندار اور عام سی دانش کا مالک کوئی بھی فرد سمجھتا ہے ۔جبکہ آپ بھی جانتے ہیں اور میڈیا کو بھی بخوبی علم ہے۔کہ عوام کو اشتہارات پہ نہیں ۔ بلکہ فحش اور عریاں ۔ اور پاکستانی ثقافت اور رہن سہن سے میل نہ رکھنے والے اشتہارات پہ اعتراضات ہیں ۔ کیا میڈیا مالکان اور وہ انتظامیہ جن کا آپ بڑی شدو مد سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ شرافت اور اخلاق کے دائرے میں بنے اشتہارات کو شرط رکھ لیں۔ تو کیا انکی آمدن میں کمی واقع ہوجائے گی؟۔آپکے اور آپکے دلائل کے قربان جاؤں۔ کیا ایسے میڈیا مالکان۔ یا انکے چند ایک کروڑ روپوؤں کو بنیاد بنا کر عریانیت ۔ فحاشی ۔ غیر اسلامی ۔ غیر پاکستانی اور بھارتی ثقافت کو پوری قوم پہ مسلط کر کے ۔ ایک پوری ریاست ۔ پوری قوم کا ستیاءناس کرنا جائز تصور کر لیا جائے؟۔ حضور یہ ان ”کروڑوں“ روپے کی چکا چوند ممکن ہے آپ کی نظروں کوخیرہ کرتی ہو۔ مگر عوام ایسی چکا چوند جس کی بنیاد قوم فروشی ہو ۔ اس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔


آپ تسلیم کرتےہیں ۔ ۔ کہ کسی ”ایشو“ کو” نان ایشو“ بنانا۔ اور کسی” نان ایشو“ کو ”ایشو “بنانے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اور اچانک آپ نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ ۔ میڈیا کے مالکان۔ میڈیا کی انتظامیہ پہ ڈال دیا ہے ۔حضور جاوید صاحب! ۔ پھر آپ نے اس اہم مسئلے کو اپنے کسی کالم میں ۔ اپنے کسی پروگرام میں کیوں موضوع نہیں بنایا ؟۔ حسب معمول ۔ اپنی کسی ٹی وی محفل میں کیونکر میڈیا مالکان اور انتظامیہ اور فریق مخالف کو آمنے سامنے بٹھا کر ۔یعنی عوام کے ۔ معاشرے سے ۔پاکستانی شہریوں کے نمائیندوں کو مدعو کر کے۔ سوالات و جوابات اور وضاحت کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا؟۔ آخر کیوں؟۔ جب کہ کسی معمولی سے مبینہ اسکینڈل پہ آپ لوگ شرفاء کو ننگا کرنے کے لئیے فوراَ زر کثیر خرچ کر کے پلک جھپکنے میں ایسے ایسے بندوبست کر لیتے ہیں ۔ کہ عقل حیران رہ جاتی ہے؟۔ تو پھر عوام کے اعتراضات کے بجا ہونے پہ بھی ۔ آپ کو کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔


آپ کے اس سارے لمبے چوڑے کالم میں۔ ان سبھی اقساط میں جس افسانے کا ذکر نہیں۔ وہ بات ۔ اسکا تذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ اور وہ ہے۔ وہ اعتراف نامہ اور اسکے نتیجے میں عوام سے تعلقات کی تجدیدنو کا ذکر۔ جسکا آپکے کالم کی ان چار اقساط میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔اتنی لمبی چوڑی مشق کے بعد قارئین اکرام ۔ آپ سے یجا طور پہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ بیان کرتے کہ ۔ہم سے ۔ میڈیا سے۔ پاکستانی میڈیا سے جو خامیاں ۔کوتاہیاں ۔ بلیک میلنگ۔ اسلام پہ تمسخر۔علماء کا ٹھٹا اڑانا ۔ اسلامی روایات کا مذاق۔مثلا ۔حجاب ۔ نقاب۔ مولبی مولبی کہہ کر داڑھی ۔ سر ڈھانپنے کے لئیے پگڑی۔ ٹوپی وغیرہ جیسی اسلامی شناختوں اور علامتوں کا اسہتزاء اڑانا ۔پاکستانی قوم کو متواتر احساس کمتری کے ٹیکے ۔ بھارتی ثقافت کی یلغار۔ اشتہارات میں عریانی اور فحاشی۔ ناچ گانے اور اسطرح کے دیگر لغویات کو پاکستان اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کا نام دیکر مادر پدر آزاد بھونڈی تقریبات کا انعقاد۔ تسلسل کے ساتھ متواتر بے حیائی کا فروغ۔ ہر قسم کی اخلاقی قدغن سے بالا پروگرامز ۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے قومی مفادات کے لئیے پاکستانی میڈیا کو پاکستانی مفادات کے خلاف خوب استعمال کرنا ۔ اسلام دشمن تہذیبوں کو رواج دینا ۔ اور ڈرؤن حملوں میں مارے جانے والے بے کس پاکستانی عوام ۔ خواتین ۔ بزرگ اور خصوصی طور بہیمانہ طریقے سے قتل کئیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی اسی طرح ”ہائی لائٹ“ کرنے کا وعدہ۔ جس طرح آپ ۔ آپکے ساتھی۔ اور آپکا ۔ پاکستان کا میڈیا ۔امریکہ اور دیگر طاقتوں کی ایماء پہ۔ ان کے منظور نظر لوگوں کو۔ محض اسلام کو کسی طور بدنام کرنے کے لئیے ہائی لائٹ کرتا ہے۔ کوریج دیتا ہے۔ اور دیگر معاملوں پہ ۔ میڈیا کو درست کرنے کی اپنی سی کوششوں کا وعددہ کرنا۔ پاکستانی صحافیوں میں ملک قوم۔ اسلام و پاکستان کا درد رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکال کر (جو بہت سے لوگ ہیں) انہیں کسی تنظیم کی لڑی میں پرو کر۔ میڈیا مالکان ۔ میڈیا مفادات کے عیار تاجروں کو راہ راست پہ لانے کی سعی کرنا۔ آپکے اتنے لمبے چوڑے چار اقساط پہ مشتمل کالم میں اسطرح سے کسی کوشش کا کوئی ذکر۔ کوئی تذکرہ ۔کوئی اشاراتی یا واضح بات ۔ کوئی سراغ ۔ کچھ بھی تو نہیں؟۔ آپکے کالم کی پوری چار اقساط میں آپ نے پاکستان میں رائج عامیانہ طریقے سے قند مکرر کے طور اپنی ۔ اپنی براداری ۔ پاکستانی میڈیا ۔ حتٰی کہ پاکستانی میڈیا سے چلتے فحش اشتہارات تک کا دفاع کیا ہے ۔ جبکہ راست اقدام یا عوام سے محبت و تعلقات کی تجدید نو کی کسی ایسی کاوش یا کوشش کا ذکر نہیں ۔ جس سے عوام کے جائز اور ٹھوس اعتراضات کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے؟۔


آپ نے اپنے کالم میں کم ازکم ۱۸ اٹھارہ مرتبہ یہ شکوہ کیا کہ عوام آپ کو اور پاکستانی میڈیا کو یہود انصارٰی کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ کم از گیار ہ ۱۱ مرتبہ شکایت کی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو گالی دی جاتی ہے۔ محض اپنی علمیت جتانے کے لئیے۔ اور قوم کو صابن تیل کا بھاؤ بتاتے ہوئے۔ جب اچانک آپ جیسے ”باخبر“ دانشور امریکہ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”نیوز ویک“ میگزین کے بارے میں یوں ارشاد فرمائیں گے ۔” یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا “ تو آپکی ”باخبری“ اور ”دانشوری “پہ سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی آپ نے یہ جاننے کا اہتمام کیا ۔ کہ نیوزویک نے دیگر اکثر مغربی جرائد کی طرح ۔ اپنے مخصوص طریقہ کار سے۔ اسلام ۔ اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات ۔ اور اسلامی ممالک کے بارے کس قدر غلط فہمی پھیلائی ہے۔ آپ کو پاکستانی قوم کو صابن۔ تیل کا بھاؤ بتانے کے لئیے کیا اس عمدہ کوئی مثال نہیں ملی؟ ۔ اور اگر اس میگزین کا حوالہ دینا ہی ضروری ٹہرا تھا ۔ تو اسے دنیا کا ” معتبر ترین جریدہ “ کہنا اور بیان کرنا کہ اس نے” دنیا کی پچھلے اسی ۸۰ سال سے رہنمائی کی“؟۔ کیا یوں ارشاد کرنا ضروری تھا؟ ۔ حضور جاوید صاحب ! ۔ لفظ” معتبر“ کا تعلق ”اعتبار“ سے ہے۔ اور اس ”دنیا “میں ”مسلمان“ بھی شامل ہیں ۔جو اسطرح کے رسائل اور جرائد پڑھتے ضرور ہیں ۔ مگر ان سے رہنمائی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا اعتبار رکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں مشکوک جانتے ہیں۔ یہ جو آپ بڑے ”دھڑلے“ سے اسطرح رائے عامہ کو غلط معلومات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جیسے آپ نے موضوع سے ہٹ کر مسلمانوں کی نظر میں جائز طور پہ مشکوک ۔ نیوز ویک کو معتبر اور اسی ۸۰ سال سے دنیا کی رہنمائی کرنے والا جریدہ بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام کو یہ خبر ہے کہ اس سلسلے کو اگر آج نہ روکا گیا۔ پاکستانی میڈیا اور آپ جیسے دنشواران کی اسطرح کی بظاہر بے تکی مگر نہائت طریقے سے مرتب کی ہوئی کوششوں پہ مناسب ردعمل نہ دیا گیا ۔ تو پاکستانی میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کا کوئی اعتبار نہیں کہ کل کلاں کو ملعون رشدی کو کو بھی ایک عظیم رائٹر یا معتبر دانشور قرار دے دے۔ تو اسلئیے عام قاری آپ کو اور آپ جیسے افراد کو مختلف القابات و خطابات سے نوازتا ہے۔اور آپکا اس پہ چیں بہ چیں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔


عوام جانتے ہیں ۔ کہ پاکستانی میڈیا سے اسلام کو متشدد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پہ آپکا میڈیا پر امن اور با خلوص لاکھوں کے جلوس اور جلسوں کو کوریج دینے کی بجائے محض ان شرارتی اور جرم پیشہ لوگوں کی تھوڑ پھوڑ ۔ چور چکاری۔ اور چھینا جھپٹی کو بار بار ہزار بار میڈیا پہ ٹاپ ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ جبکہ آپ جیسے ”باخبر“ اور ”دانشور “ میڈیا کے لوگ یہ جانتے ہیں۔ اور یہ بات ریکارڈ پہ موجود ہے کہ اسطرح کے بڑے جلوسوں اور جلسوں میں ہماری عزت مآب ایجنسیوں کے اہلکار ۔ انکے لے پالک۔ اور جرائم پیشہ لوگ محض حکومت کی مخالفت کی ایماء پہ یا مالی مفاد کے لئیے جان بوجھ کر ایسی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ جس سے ممکن ہے کہ ان میں حکومت اور معاشرے سے شاکی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہونگے۔ اور پھر ایک خودکار نظام کے تحت سبھی چینلوں سے ایک پروگرام کے تحت ۔ اور تقریبا سبھی اخبارات میں اسلام پسندوں پہ کالموں کے کالم سیاہ کئیے جاتے ہیں۔ اسے بہانہ بنا لیا جاتا ہے ۔ محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسلام پسندوں اور علماء کو ۔ پاکستانی حکومتوں سے احتجاج کرنے والوں کو۔ خوار کرنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے علاوہ بھی کوئی بھی اسلامی یا قومی مسائل پہ ہونے والے جلسے اور جلوسوں کا کم و بیش یہی حشر بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے میں بنیادی فریق آپکے بیان کردہ مثالی میڈیا کا کردار ہوتا ہے۔

حال میں پاکستانی میڈیا سے۔ غیر ملکی طاقتوں کی گود میں کھیلنے والوں کو ۔ اپنے راتب کو جائز ثابت کرنے والوں کو ۔ دین و ملت فروشوں کو ۔ اسلام کے خلاف موضوع فراہم کرنے والوں کو ۔ شرعی حدود کو بدنام کرنے والوں کو ۔ پاکستانی عوام کو متشدد ثابت کرنے کے لئیے عالمی میڈیا اور دنیائے عالم کے عوام کو نت نئے موضوعات پہ جعلی ویڈیوز۔ خبروں۔ اور تجزئیوں کو بغیر تصدیق کئیے اس قدر کوریج دی گئی ۔ پھیلایا گیا ۔ کہ  وہ ویڈیوز ۔ تصاویر جعلی ہونے کے باوجود ۔ آج تک عالمی میڈیا میں پاکستان ۔ اور اسلام کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ حضور جاوید صاحب ۔ جس طرح نیکی اور خیر کا کےتادیر ثمر ات دینے والے کاموں کو ”صدقہ جاریہ“ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذلت کے دیرپا کاموں پہ ”ذلت جاریہ“ کی صورت میں لعنتیں برستی ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کے راتب کھانے والے اسلام فروشوں ۔ ملت فروشوں کے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دیگر لوازمات ۔ آپکے میڈیا کے پھیلانے سے وہ ساری دنیا میں ۔اسلام ۔ پاکستان ۔ پاکستان کے عوام کے خلاف ایک متواتر ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں۔ خدا جانے جس کا خمیازہ قوم کب تک بھگتی رہے گی۔ دنیا کے میڈیا میں جاری و ساری ان تمام جھوٹی اور جعلی شہادتوں کی” ذلت جاریہ“ تا قیامت اور قیامت کے بعد بھی یہ لوگ بھگتیں گے ۔ جنہوں نے ” کرڑؤں“کی چکاچوند سے متاثر ہو کر۔ قوم فروشی میں ہاتھ رنگے۔


عوام جنہیں آپ نے اپنے کالم کی اس سیریل کی پوری مشق میں۔ عقل سے عاری سمجھا ہے اور انکی ذہانت کی بار بار توہین کی ہے۔ وہ عوام ۔آپکی طرح اس بات کے پابند نہیں کہ وہی بات کہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ مجبوری ہے۔ کہ آپ جس کا کھاتے ہیں اس کے گیت گانے پہ مجبور ہیں۔ مگر عوام اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار نہ کرنے پہ مجبور نہیں۔ مارکیٹنگ کے سنہرے اصول بیان کرتے ہوئے مارکیٹ کا یہ بنیادی نکتہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں۔ جو جنس بازار میں آئے گی۔ اس پہ بھاؤ اور مول تول تو ہوگا۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جمہور تو مفت کے لنگر اور بلامعاوضہ خدمات پہ بھی چوں چرا کرنے سے باز نہیں آتا ۔تو جب آپ ایک معقول تنخواہ لیکر عوام کی توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ تو عوام کی ایسی کونسی مجبوری ہے جو وہ آپکو معاف رکھے؟۔


اگر پھر بھی آپ عوام سے۔ جمہور سے۔ قند مکرر کے طور پہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ عوام کو باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ۔ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ تو گزارش ہے اسمیں بھی آپ کا ۔ آپکی برادری کا ۔ پاکستانی میڈیا کا قصور ہے ۔ جو آزادی کے ۔ آزاد میڈیا کے دعوے تو بہت کرتا ہے ۔ مگر کسی طور عوام کی یا کم از کم اپنے قارئین اور ناظرین کی فکری تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ جب پاکستانی میڈیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پہ رقیق حملے کرنے والے امیتابھ بچن جیسے لوگوں کی بہوؤں کے حاملہ ہونے ۔ انکے دادا بن جانے کو ہی ایشو بنا کر پیش کرے گا۔ تو آپ ہی بتائیے عوام کو کیا پڑی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو سات سیلوٹ کرے۔ ممکن ہے آپ کی۔ یا آپکی طرح کے دیگر دانشوروں کی تو روٹی روزی کی ضمانت ہی اس طرح کے قوم فروشی کے ایشوز سے جڑی ہو؟۔ تو عوام کس حساب میں ۔آپ لوگوں کی تعریف و توصیف کرتے پھریں۔ حضور جاوید صاحب ! یا تو آپ بہت سادہ ہیں۔ یا بہت چالاک۔


حضور جاوید صاحب ۔آپکی یہ منطق بھی درست نہیں ۔آپ کا یہ نکتہ بھی درست نہیں۔ کہ میڈیا پاکستانی عوام کو مفت تفریح اور معلومات بہم پہنچاء کر احسان کر رہا ہے ۔یہ عوام ہی ہیں ۔ اس پاکستانی قوم ہی کی وجہ سے۔ آپکے میڈیا کو اشتہارت ملتے ہیں۔ میڈیا کا دانہ۔ پانی چلتا ہے۔ اس میں سے آپ کوبھی مشاہیرہ ملتا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کا اربوں کا نظام کاروبار چلتا ہے۔ اور آپ اور نہ آپ کا مثالی میڈیا ۔عوام کو مفت میں تفریح یا معلومات مہیاء کر رہا ہے۔ بلکہ عوام آپکے کسٹمرز ہیں اور دنیا بھر میں رائج منڈی کے اصولوں کے مطابق ۔ آپ کو ۔ آپکے دودھؤں نہائے میڈیا کو۔ اپنے کسٹمرز کے ۔ اپنے عوام کے مطالبات کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ کہ کسی طور وہ آپکی تنخواہ اور دیگر لوگوں کے معاوضوں اور منافعوں کا باعث ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو ۔ آپکی برادری کو ۔ عوام کا احسانمند ہونا چاہئیے ، کہ پاکستان کے دیگر شعبات جات کی طرح آپ بھی اپنی من مانی کر کے ۔ عوام پر ہر وہ اشتہارتی عریانی و فحاشی اور نظریاتی ۔ کالم اور پروگرام مسلط کر رہے ہیں ۔ جو عوام کے مطالبے سے یکسر متضاد ہیں۔ اور اسکے باوجود عوام آپ سے محض گلہ کر کے رہ جاتے ہیں۔


آپ نے اتنی بار عوام کی جانب سے اپنے آپ اور میڈیا کو۔ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ کہنے کی تکرار کی ہے ۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ عوام بہر حال یہ بھی جانتے ہیں۔ کہ یہود نصاریٰ بھی انھی کو اپنے مفادات کا ”ایجنٹ“ مقرر کرتے ہیں۔ جن کے پاس ”کچھ“ علم ۔ شعور ۔ اور بات کہنے کا طریقہ ہو۔ میٹھے میں زہر ملا کر پلا دینے کا فن جانتے ہوں، ۔ جوانکے مفادات کا تحفظ بہتر طور پہ کرسکتا ہو۔ یہودو نصاریٰ کو کیا پڑی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں۔ آپ جیسے یا دیگر لوگوں کو اپنا ”ایجنٹ “ بناتے پھریں؟۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو اپنے”ایجنٹس“ مقرر کرتے۔ تو وہ قومیں کبھی کی دنیا سے معدوم ہوچکی ہوتیں۔ وہ قومیں ہماری طرح عقل سے پیدل نہیں ہیں۔ اسلئیے ناحق آپ نے ۱۸ اٹھارہ مرتبہ اپنے آپ کو ”یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ“ ہونے کا۔ عوام کی طرف سے تکرار  کئیے جانے کا اعزاز لیا ہے۔جبکہ عوام اس تناظر میں۔ جیسے آپ نے بیان کیا ہے ۔ آپکو یا دیگر میڈیا کو یہودو نصاریٰ کا ” ایجنٹ “ تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتیں ۔ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے لئیے۔ کبھی کبھار اپنے حقیقی ایجنٹس سے ۔ایسے لوگوں کو مالی مراعات۔ خیرات ۔ انعام اور راتب وغیرہ پھینکتی رہتی ہیں۔ مالی مراعات جنکی مالیت عالمی طاقتوں کے لئیے کوئی معانی نہیں رکھتیں ۔مگر ضمیر فروشوں کے لئیے گنج گراں مایہ سے کم حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس وجہ سے وہ ہر روز۔ ہر موقع بے موقع پہ انکے لئیے مدح سرائی کرتے ہوئے۔ دُم ہلانے سے باز نہیں آتے۔ اور آخر کار اسی کو وسیلہِ رزق سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ بدقسمتی سی برصغیر کے مسلمانوں میں اور پاکستان میں خصوصی طور پہ ۔ ننگ ملت ۔ ننگ وطن۔ ننگ قوم۔ میر جعفر اور میر صادق کی نسل کہیں نہ کہیں ضرور تیار کی جارہی ہے۔ حرام کھانے والوں ۔ قوم فروشوں۔ اسلام فروشوں۔اور ضمیر فروشوں کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط اؤل کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط دوئم کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط سوئم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی آخری قسط چہارم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ذوالفقار مرزا فرمودات اور حقائق کا جبر


ذوالفقار مرزا نے جو کہا اور اس پہ معافی مانگی ۔ یہ "ارشادات” جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ سندھی رہنماؤں کی تنگ نظر ذہنیت کا پتہ دیتے ہیں ، وہیں جبر کے اس دور کا شاخسانہ ہیں۔ "جبر ” جو سندھ باالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم نامی تنظیم اپنا آبائی حق سمجھ کر اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے ۔ ذوالفقار مرزا کے بیان سے اتفاق رائے یا اختلاف رائے سے قطع نظر ۔ یہ وہ رد عمل ہے۔ جو ایم کیو ایم کی کراچی میں طرز حکمرانی اور تشدد کی سیاست کے خلاف دلوں میں پل رہا ہے۔ بڑھ رہا ہے۔

عقل مند لوگ اس شاخ کو نہیں کاٹتے جس پہ بسیرا ہو،۔ جبکہ اپنے آپ کو سیاسی تنظیم کہلوانے والی ایم کیو ایم یہ کام لاکھ جتن اور بد تدبیری کر تے ہوئے انجام دے رہی ہے۔ یعنی کراچی اور سندھ کے جن عوام سے(سندھی، پنجابی، پٹھان بلوچی اور دیگر قومیں جو کراچی میں بستی ہیں وہ وہاں کے عوام ہیں)اس کا سامنا ہے ۔جن عوام سے اسکا روز مرہ کا مرنا جینا ہے ۔ ایم کیو ایم ، کمال بد تدبیری سے انہیں اپنا دشمن بنائے رہتی ہے۔

بر صغیر میں وہ دور گزر چکا۔ جب ریاستیں اور انکی حکومتیں۔ کسی ایک خاندان یا حکمران کی ملکیت ہوتیں تھیں۔ اسی طرح سیاسی تنظیموں اور پارٹیوں پہ بھی کسی ایک شخص کا قبضہ، ایک فرسودہ نظریہ ہے۔ پاکستان میں جو لوگ اور سیاسی پارٹیاں ایسے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر انقلابی کبھی نہیں ہوسکتے۔ اور یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے۔ جو ایم کیو ایم کو ایک انقلابی تنظیم میں تبدیل ہونے میں مانع ہے۔ جسے بادی النظر میں۔ ایم کیو ایم سمجھنے سے قاصر ہے۔

ذوالفقار مرزا کے بے وقوفانہ اور الاؤ بھڑکانے کے بیان کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں مگر کیا آپ اور وہی منیر بلوچ جنکا کالم آپ نے بصد شوق اپنے بلاگ پہ چسپاں کیا ہے ۔ کیا آپ دونوں میرے کچھ سوالوں کا جواب دینا پسند کریں گے۔ کہ ذوالفقار مرزا کے مذکورہ بیان کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں میں مارے گئے لوگ کیا انسان نہیں تھے؟۔ انکا کیا قصور تھا؟۔ کیا ایک بیان کے بدلے درجنوں بے گناہ اور راہ چلتے لوگوں کی جان اسقدر انتہائی کم قیمت رکھتی تھی کہ انھہں خون میں نہلا دیا گیا؟۔کیا انکے قاتل پکڑے گئے؟ کیا اس قتل و غارت سے لوگوں کے دلوں میں الطاف حسین سے محبت میں اضافہ ہوا ہوگا؟۔

منیر بلوچ نے کالم کے آغاز میں جس جذباتی طریقے سے تنبو یعنی خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدمے کی روداد کی ادھوری کہانی جذباتی انداز میں لکھی ہے۔ اس سے منیر بلوچ نے مجرمانہ غفلت سے کام لیتے ہوئے یک طرفہ طور پہ کراچی کے وسائل اور سیاست پہ قابض مخصوص لوگوں کے جذبات کی تسکین کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اور پاکستان کی مقامی آبادی نے پورے پاکستان میں جس ایثار ، اخوت اور قربانی کا مظاہرہ اپنے مہاجر بھائیوں کے لئیے کیا ۔ جس سے انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی ۔اسے یکطرفہ نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ایک ایسے واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا ہے جس کا فیصلہ موصوف نے لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ اور دلوں میں مزید نفرتیں ڈالنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کی ہے ۔ جس سے غلط فہمیوں اور نفرتوں کو رواج تو ہوسکتا ہے مگر اس سے کسی کا بھلا ہونا ناممکن ہے۔

اور اگر اُس دور میں پاکستان کی نوزائیدہ حکومت جسکے کرتا دھرتا مہاجر ۔ اسکے اعمال مہاجر اور وزیر اعظم بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور کسی ایک مہاجر کے ساتھ یوں ہوا تو اس میں بھی قصور وار حکومت تھی نہ کہ وہ عام آدمی جس کی بّلی ہر روز درجنوں کی تعداد میں کراچی میں چڑھائی جاتی ہے، عام آدمی جن میں سے اکثر کو سیاست کی الف وبے کا علم نہیں ہوتا اور وہ اپنے گھر سے کوسوں دور محض روزی روٹی کی خاطر کراچی کے کارخانوں اور عام آدمی کی خدمت بجا لا رہے ہوتے ہیں۔ ان جیتے جاگتے انسانوں کو الطاف حسین کی عظمت و رفعت ثابت کرنے کے لئیے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔خدایا ۔ یہ کیسی عظمت ہے؟۔ یہ کیسی رفعت ہے؟۔ جو زندہ انسانوں کی قربانی مانگتی ہے؟ ۔ایسا تو ہنود بھی نہیں کرتے ۔ وہ بھی اپنے کسی بت یا دیوتا کو خوش کرنے کے لئیے کبھی سالوں میں کسی ایک آدھ انسان کو قربان کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمانی اور مکے کے مہاجرین کے ہم رتبہ ہونے کا دعواہ کرنے والے۔ درجنوں گھروں کے چراغ محض ایک بیان پہ بجھا دیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جسے کسی بھی سیاسی اور جذباتی رو سے۔ دنیا میں کہیں بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ملک میں اور کچھ سال قبل تک کچھ ایسی ہی بنیادوں پہ مہاجر ہونے والوں کی طرف سے، یوں ہونا انتہائی قابل افسوس ہے ۔اسکے باوجود اگر کسی کو تنبو یا خیمے کا کپڑا اپنا جسم چھپانے کے لئیے استعمال کرنا پڑا۔ تو اسکا الزام بھی لیاقت علی خان کو ہی جاتا ہے ۔جس نے اپنوں کو نوازا ۔اور جو حقیقی مہاجر تھے انکے کلیم بھی وہ لوگ لے اڑے جو نوابزادے کے پسندیدہ لوگ تھے ۔ یہ خفیہ اور راز کی باتیں نہیں بلکہ انھیں سارا زمانہ اور خاص کر کراچی کے عام لوگ بھی جانتے ہیں ۔ آپ ذرا پتہ تو کریں۔

خیمے کے کپڑے کے ٹوٹے کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ بھی آپ کو اور منیر بلوچ کو علم ہوگا؟ ۔ جبکہ یہاں انسانی جانوں کو محض اس لئیے بلی چڑھا دیا گیا کہ زوالفقار مرزا اور اور انکے حماتیوں کو یہ باور رہے کہ ایسا کہنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔اور افسوس ہے اسکے باوجود آپ نے ساٹھ سال سے زیادہ پرانے ایک مقدمے پہ لکھے گئے یکطرفہ کالم کو بنیاد بنا کر یہاں چھاپ دیا۔ اور جو واقعتا کل پرسوں جان سے ہارے اور بے گناہ لوگ تھے انکا ذکر ہی نہیں۔ ذوالفقار مرزا کے بیان کے رد عمل میں جن درجنوں لوگوں کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ انکی مظلومیت پہ کچھ لکھا جاتا ؟۔

خدا گواہ ہے۔آپ لوگ حقیقت کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ سورج بلند ہوتا ہے تو اسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ آپ ہار جائیں گے اور سورج جیت جائے گا۔ حقائق اور سچ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ آپ ہار جائیں گے اور سچ اپنا آپ منوا کر رہے گا۔ یہ جو کل پرسوں بے گناہ لوگ قتل کر دئیے گئے ۔ انکے بیوی بچے ہونگے ۔ ان میں سے کئی ایک اپنے خاندان کے واحد کفیل ہونگے ۔ جب وہ گھروں کو نہیں لوٹے ہونگے ۔ ان معصوم بچوں کے کاندھوں پہ گھر کا بار کفالت کا بوجھ پڑے گا۔ وہ اسی کراچی شہر میں تلاش معاش کو نکلیں گے۔ تو کئی ایک اپنی بے بسی کا بدلہ مزید لوگوں سے لیں گے ۔

جو نفرتیں آج بیجی جارہی ہیں۔ اسکی فصل کچھ سالوں تک اہل کراچی کو کاٹنی پڑیں گی ۔تب ساٹھ ستر سال کے خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدموں کی جذباتی روداد کسی کو روک نہ سکے گی۔ انتقام اور اپنی بے بسیوں کا حساب چاق کرنے کے لئیے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑنا ناممکن ہوگا۔

جبکہ اُس دور میں۔آغاز پاکستان میں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور انہوں نے مقامی سندھیوں کے خلاف انکا استہزاء اڑاتے ہوئے فرمایا "ان گدھا گاڑیاں چلانے والوں کا علم سے کیا تعلق ؟”۔ اور سندھ یونی ورسٹی کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا۔ اور کراچی میں کراچی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ سندھیوں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی بدتدبیر سیاست سے لیاقت علی خان نے گانٹھ ڈال دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کراچی کی سیاست اور وسائل پہ سوائے اپنے مخصوص لوگوں کو جن میں سبھی مہاجر شامل نہیں ۔ کراچی کے ان وسائل کو صرف اپنا حق سمجھ کر دوسری قومیتوں بشمول وہ مہاجر جو ایم کیو ایم کو نہیں مانتے ان مہاجرو ں کو ، پٹھانوں کو ،سندھیوں کو، پنجابیوںکو، بلوچوں کو اور دیگر قومیتوں کو متواتر نطر انداز کیا جارہا ہے۔ جو شدید ردعمل کا جواز بنتا ہے اور بنتا رہے گا ۔ تا وقتیکہ کہ کراچی کے وسائل منصفانہ طریقے سے سے عام آدمی کے لئیے تقسیم نہ ہوں ۔ اس وقت تک دلوں میں رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔ اور شدید ردعمل زبانی اور عملی سامنے آتا رہے گا۔ دانش کا تقاضہ یہ ہے جس شاخ پہ بسیرا ہو اسے کبھی نہ کاٹا جائے۔ بلکہ اس شاخ اور شجر کو توانا کیا جائے۔ مگر ایم کیو نے ماضی اور حال سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔اور آپ جیسے سمجھدار اور فہم رکھنے والے لوگ بھی اتنے گھمبیر مسئلے کو اپنے مخصوص اور دلپسند رنگ اور اینگل سے دیکھتے ہوئے۔ اسطرح کے کالم چسپاں کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے مہاجر ہونے کا حق نمک ادا کر دیا ۔ جبکہ ہم اسے مسائل سے چشم پوشی کا نام دیتے ہیں۔کیونکہ جب تک کسی مسئلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اور اسے حل کرنے کی تدبیر نہیں کی جاتی۔ اسوقت تک نہ صرف مسئلہ موجود رہے گا ۔ بلکہ وہ اپنے اندر کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ر ہےگا۔ جو نہائت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نفرت کا جن ایک دفعہ بوتل سے باہر آجائے تو اپنے پرائے کی تمیز کھو جاتی ہے۔آئیں مل جل کر کوشش کریں کہ نفرت کا یہ جن بے قابو نہ ہو۔ اور کراچی و پاکستان باہمی برداشت اور عدل و انصاف کو رواج دیا جاسکے ۔ جس سے لوگوں کے مسائل کا حل ہونا ایک عام قاعدہ ہو۔ جو عام آدمی کا حق ہو۔ نہ کہ کسی عطیم لیڈر یا پارٹی کی بخشیش ہو۔ یہی مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: