RSS

Tag Archives: اخبارات

جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔


جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔

اب کیا ہوگا؟۔
کیا یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلے گا؟

اگر یوں ہوتا ہے کہ یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب واضح ہے کہ گو کہ اس سیریل کے تمام اداکار پاکستانی ہیں مگر اس سیریل کو ڈائریکٹ کہیں اور سے کیا جارہا ہے؟

جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” Friends Not Masters, میں آقاؤں کی طوطا چشمی کے شکوے کئیے ہیں اور ان کی بے وفائی کا دکھڑا بیان کیا ہے۔ اور ایوب خان کے خلاف بھی لانگ مارچ کا ہی فارمولہ آزمانے اور انہی طاقتوں کی ایماء پہ برسراقتدار آنے والے بڑے بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کے آخری ایام میں اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد اور بعد ازاں نظامِ مصطفی نامی تحریک کے زبردست دباؤ کے بعد پی ٹی وی پہ اپنی آخری تقریر میں امریکہ کو سفید ہاتھی گردانتے ہوئے یہی واویلہ کیا کہ ہائے ہائے مجھے بنانے والے مجھے گرانے پہ آمادہ ہیں۔

انہی طاقتوں کے اشارے پہ گرم سیاسی ماحول میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر تختِ اسلام آباد پہ قبضہ جمانے والے جنرل ضیاء الحق بھی اپنے آخری دنوں میں اپنے انجام سے آگاہ ہوچکے تھے کہ آقاؤں کا دستِ شفقت انکے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ آج یا کل دیر یا سویر سے اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسی لئیے وہ اپنے آخری دنوں میں امریکی سفیر اور اپنے جرنیلوں سمیت ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لئیے پھرتے تھے جس پہ انہیں اپنے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کا ذرہ بھر بھی شائبہ تھا۔ اور بہاولپور فضائی حادثے میں مارے جانے والے پاکستان کے انتہائی ذمہ دار لوگوں کے ایک ہی طیارے میں سوار ہونے کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

موجودہ دور میں پاکستانی مسنندِ اقتدار پہ قابض ہونے والوں میں سے جنرل مشرف شاید وہ واحد کردار ہے جس نے ہدایت کاروں کی ہر فرمائش ان کی توقعات سے بڑھ کر پوری کی اور جب جنرل مشرف کو مسندِ اقتدار سمیٹنے کا اشارہ ہوا تو اس نے بلا چون چرا جان کی امان پاؤں کے صدقے اپنا بوریا لپیٹا اور اُدہر کو سدھار گئے جدہر سے انہیں جائے امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ایسے ھی اچانک سے ڈرامائی طور پہ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ کیا تب صرف چند ماہ بیشتر کسی کے وہم گمان میں تھا کہ بے نظیر وزیر اعظم بننے کی بجائے زرداری پاکستان کے مختارِکُل قسم کے صدر بن جائیں گے؟۔ ہماری قومی یاداشت چونکہ کچھ کمزور واقع ہوئی ہے اگر کسی نے یاداشت تازہ کرنی ہو تو اس دور کے الیکشن سے چند ماہ قبل کے اخبارات اور ٹی وی مذاکروں کا مطالعہ و نظارہ کر لیں۔ جن میں بے نظیر کے ہوتے ہوئے زرداری کے صدر یا وزیر اعظم بننے کا خیال تک بھی کسی سیاسی جغادر کے وہم و گمان سے گزرا ہو۔ صرف چند ماہ میں زرداری پاکستان کے مختار کل قسم کے صدر تھے۔

زرداری حکومت میں نواز شریف عدلیہ بحالی کا عزم لے کر لاہور سے اسلام آباد کو ایک جمِ غفیر لے کر نکلے۔ عوام کا ٹھاٹا مارتا سمندر ساتھ تھا۔ زرداری حکومت چند دن میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ انجام پزیر ہوسکتی تھی۔ قومی یادشت کو تازہ کی جئیے کہ تب امریکی صدر اور سفیر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کے یکے بعد دیگرگوجرانوالہ نواز شریف کو فون آئے اور نواز شریف عام عوام کی توقعات اور امیدوں کے بر عکس تب گوجرانوالہ سے واپس لاہور سدھار گئے۔ سوجھ بوجھ والوں نے تب ھی فال ڈال دی کہ مک مکا ہوگئی ہے اور زردای کو ٹرم پوری کرنی دی جائے گی اور آئندہ ویز اعظم نواز شریف ہونگے۔ اور مڈٹرم کے طور یہی کلیہ نواز شریف کے خلاف مختلف مارچوں اور دھرنوں کے ذرئیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر عام عوام کی عدم دلچسپی یا آئے دن کے بے مقصد سیاسی ہنگامہ آرائی سے بیزارگی کی وجہ سے یہ ایکٹ کامیاب نہ ہوسکا۔

کسی بھی قیمت پہ اقتدار میں آنے والے جب طے شدہ شرائط پہ کام کرنے کے بعد خالص اپنے ذاتی جاہ حشمت کو برقرار رکھنے کے لئیے کنٹریکٹ کوغیر ضروری طور پہ طوالت دینے کی ضد کریں۔ یا دی گئی بولی سے انحراف کریں تو ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اقتدار کے خواب دیکھنے والے بچہ سقوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ مگر ایسے خوابوں کو پایہ تکمیل پہنچانے والی یا اقتدار کو استحکام بخشنے پہ قدرت رکھنے والی وہ طاقتیں جوبیرونِ پاکستان سے کٹھ پتلی تماشے کی ڈوریاں ہلاتی ہیں وہ کسی ایسے ڈھیلے ڈھالے کردار کو مسند اقتدار کا ایکٹ نبھانے کی اجازت دینے پہ تیار نہیں جو موجودہ دور میں پاکستانی اسٹیج پہ اپنے کردار اور ایکٹ کو زبردست عوامی پذیرائی اور عوام کی طرف سے پرجوش تالیوں کے استقبال کی اہلیت نہیں رکھتا۔

کیا پاکستان کے مفادات کے خلاف پھر سے بولی ہوگی؟ جو بڑھ کر بولی دے گا اسے مسند اقتدار بخشا جائے گا؟

کیا نئے مناسب اداکار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پرانی ٹیم نئی شرطوں اور تنخواہ پہ کام کے لئیے منتخب کی جائے گی؟
کیا ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہونگے۔اللہ کرے ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہوں۔

پردہ اٹھنے میں دیر ہی کتنی ہے؟ نئے انتخابات میں عرصہ ہی کتنا رہتا ہے؟

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جیو یا جیتا جاگتا پاکستان!۔


جیو گروپ ۔ آج یہ گروپ جو کچھ ہے۔ پاکستان کی بدولت ہے۔ اس نیٹ ورک اور اسکی ترقی پاکستان کی دین ہے۔ ایک کاروباری گروپ۔ جو کسی بھی قیمت پہ اپنی منڈی بڑھانا چاہتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ انہوں اور انکے بڑوں نے ہمیشہ صحافت کا بازو مروڑتے ہوئے اور زرد صحافت کرتے ہوئے۔ پاکستانی جائز ناجائز حکومتوں کی مدح سرائی اور کاسہ لیسی کرتے ہوئے سرکاری اشتہارات کے نام پہ زر کثیر اور سرمایہ کمایا ہے۔ اور انہی پالیسیوں سے یہ لوگ تین اورق کے اخبارات سے پاکستان اور خطے کے اتنے بڑے نیٹ ورک کے مالک بن گئے ہیں۔ اس ملک میں ابھی لاکھوں افراد اس بات کی گواہی دیں گے ۔ کہ اس گروپ نے صحافت کے نام پہ صحافت کو بیچا۔ اور اس میڈیا گروپ کو قائم کرے سے پہلے تک یہ لوگ ہمیشہ حکومت وقت کے مدح سرا رہے ہیں۔ اور ہر دور کی حکومت کی مدح سرائی کی ہے۔

اخبارات سے ٹی وی چینلز اور اب میڈیا کے ایک اور منفعت بخش میڈیم اور عوامی رائے بنانے کے ذریعے یعنی فلم بندی کے ذریعے پاکستانی فلم بینوں کو اپنی فلمز بنا کر سرمایہ کمانا اور معاشرے کی رائے عامہ تیار کرنے میں رسوخ حاصل کرنا ہے۔

اپنے کاروباری مفادات سے بڑھ کر پاکستان سے دلچسپی انھیں نہ تب تھی اور نہ اب ہے۔ اپنی مارکیٹ بڑھانے اور اپنی پراڈکٹس وسیع پیمانے پہ بیچنے کے لئیے۔ یہ گروپ چند سالوں سے بھارتی مارکیٹ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دہائیوں قبل جب انھوں نے دیگر پاکستانی اخبارات کے مقابلے پہ اپنے اخبارات کی سرکولیشن پاکستان کے اندر بڑھانا چاہی تھی اور ہر دور کی حکومتوں سے اشتہارات کے نام پہ زر خطیر اور مراعات حاصل کرنے کی خاطر ۔ تب اس گروپ کے اخبارات نے وطن پرستی اور حکومتوں کی کاسہ لیسی کو ایک پالیسی کے تحت معیار بنائے رکھا۔ مگر اب جبکہ ٹی وی چینلز جو سرحدوں کی ہر بندش سے آر پار صوتی و بصری لہروں کی صورت گزر جاتے ہیں۔ سیٹلائٹس کے ذریعیے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اور کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑتی۔ اس گروپ کو اب پاکستان کی مارکیٹ چھوٹی نظر آتی ہے۔ اور محض اپنے کاروبار ۔۔ کاروبار جس میں انکے مطمع نظر کے سامنے پاکستان کے مفادات سے وفاداری کبھی بھی مقصود نظر نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ اس کاروبار کو وسیع اور اپنی مارکیٹ پرادکٹس کو بھارت میں بیچنے کے لئیے "امن کی آشا” جیسے بے ہودہ طریقے کا خیال سوجھا ہے۔

کیونکہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملات خراب ہوتے ہیں۔ تو یہ گروپ اپنے پراڈکٹس بھارتی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرواپائے گا۔ اور اخلاقی طور پہ ہر وہ جواز کھو دے گا۔ جس سے یہ بھارتی مارکیٹ میں تجارت کر سکے۔ اور ایسی صورت میں پاکستانی کزیومرز بھی اس گروپ پہ دو لفظ بیھج دیں گے۔ بھارتی ناظر جو پاکستان اور عام پاکستانی سے حد درجہ بغض رکھتا ہے۔ اور انتہائی تنگ نظر ہے ۔ وہ اس گروپ کا نام لینا بھی گواراہ نہیں کرے گا ۔ایسے میں اس گروپ نے اس صورت کا بہترین حل جو سوچا ہے ۔۔ وہ ہے "امن کی آشا” خواہ اس کی قیمت یکطرفہ طور پہ پاکستان اور پاکستانی موقف کو قربان کر کے چکائی جائے۔ لیکن اس گروپ کے بڑوں کو شاید یہ علم نہیں کہ انہیں پھر بھی بھارتی مارکیٹ میں پزیرائی نہیں ملے گی کیونکہ بھارتی میڈیا اور عوام۔ مسلمانوں اور خاصکر پاکستان سے انتہائی درجے کا بغض رکھتے ہیں۔ جس سے اس گروپ کو نہ خدا ہی ملے گا نہ وصال صنم کے مصداق ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

مگر آنے بہانے۔ نام نہاد روشن خیالی، بھارتی فلم انڈسٹری کی بے ہودہ خبروں اور گانوں کو اسقدر پرکشش انداز میں صرف چمکنے والی بے ہودگی کو پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرکے پاکستانی عوام کو دہوکہ دینے۔ اور "امن کی آشا” کے نام پہ پاکستانی عوام کی خواہشات کے برعکس، بھارتی برتری کا ڈول ڈالنے سے۔ جو نقصانات "پاکستان” نامی کاز کو اس گروپ نے پہنچائے ہیں۔ ان نقصانات کا مداواہ کون کرے گا؟ جہاں تک امریکی آشیرباد سے دن گزارنے والے حکمرانوں کی بصیرت کا ذکر ہے کہ وہ قانون سازی یا پہلے سے موجودہ قوانین سے۔ ایسے شتر بے مہار قسم کے میڈیا کو جو اپنے مفاد کو ریاست پاکستان کے مفاد پہ ترجیج دیتا ہے ۔ وہ حکمران ایسے میڈیا اور مذکورہ گروپ کو لگام دینے کی کوشش کریں گے؟۔ ایسا سوچنا اپنے آپ کو دہوکہ دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اپنے غیر اخلاقی اقدامات کو جائز ثابت کرنے والے حکمران ایسی کسی اخلاقی جرائت سے سرے سے محروم ہیں۔ اور ایسا میڈیا ، یہ گروپ اور حکمران اس معاملے میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

یہ بات واضع ہے کہ جیو گروپ نے اپنی کاروباری ترجیجات پہ پاکستانی ترجیجات کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ ہم الزام تراشی نہیں کرتے مگر ایک خبر یہ بھی گردش میں ہے۔ کہ امریکہ ملینز ڈالر پاکستانی کے ان اداروں اور صحافیوں کو رشوت دے رہا ہے۔ جو پاکستانی رائے عامہ پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور پاکستانی موقف پہ ڈٹے رہنے کی بجائے اور امریکی مفادات کے حق میں پاکستانی رائے عامہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہماری بد قسمتی ہے۔ حکومت پہ وہ لوگ قابض ہیں۔ جو جہمور کی ۔ عوام کی جائز خواہشات کو سمجھنے اور پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ فوج جو اپنے عوام کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ جسے پاکستان کے اتحادی امریکہ کی افواج نے ایبٹ آباد حملے میں ملکی سالمیت اور سرحدوں کو روندتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ انہیں پاکستان یا پاکستانی افواج کی نہیں بلکہ صرف اپنے مفادات کی فکر ہے۔ خواہ اسکے لئیے پاکستان کی سالمیت، پاکستان کی سرحدوں کا تقدس اور ریاست پاکستان کے وقار کو ہی کیوں نہ روندنا پڑے۔ مگر بدستور افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس ننگ انسانیت نام نہاد جنگ میں اپنے آپ کو جھونک رہی ہے۔ جس سے پاکستانی فوج کے اہلکار اور عوام کی زندگیاں داؤ پہ لگ گئی ہیں۔۔ اسکے باوجود امریکی ڈراون طیارے جنہیں مار گرانا ہماری فوج کےلئیے کچھ خا ص مشکل نہیں ۔اس سے نہ صرف پاکستانی سر زمین کو آئے روز بے آبرو کیا جاتا ہے۔ بلکہ پاکستانی شہری اس میں شہید کئیے جاتے ہیں۔ اور فوج اور حکومت اسے پاکستانی سر زمین کی آبرو فاختگی تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اور میڈیا اور اسکا سب سے طاقتور گروپ ۔ جمہور یعنی عوام کی خواہشات اور رہن سہن اور اسلامی روایات کے بر عکس ہندؤ کلچر کو ہم پہ تھوپنے کی بھونڈی کوشش کرنے کی متواتر کاروائی جاری کئیے ہوئے ہے۔ اور عوام ہیں کہ کسی نشئی کی طرح بوٹی پیئے مدھوش ہیں۔ ہر تھپڑ پہ چہرے کا دوسرا رخ مزید تھپڑ کھانے کے لئیے سامنے کردیتے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے اسقدر پر امن اور مسکین عوام کو مغربی میڈیا دنیا میں کیسے "دہشت گرد” مشہور کئیے ہوئے ہے؟۔

حکومت ۔ فوج، میڈیا، ان سب شتر بے مہاروں کو صرف دیانتدار قیادت سے قابو کیا جاسکتا ہے۔

آئیں ملکر دعا کریں۔ کہ اس "اوتر نکھتر” یعنی بانجھ قوم میں اللہ اپنے ایسے نیک بندے پیدا کرے۔ مسکین عوام کو انھیں درہافت کرنے کی بصیرت عطا کرے ۔ جو اس قوم کو منجدھاروں سے نکال کر پار لگا دیں اور قوم کی آنکھیں عقل و علم، فہم و ادراک۔ ہمت و محنت کے عمل سے وا کر دیں۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: