RSS

Category Archives: دکھ

نُورا ملاح اور جے آئی ٹی


نُورا ملاح اور جے آئی ٹی ۔

نورا ملاح کشتی ”کھیہ“ رہا تھا ۔اس نے ”ونج“ کو آخری بار دریا کی تہہ میں گاڑا اور کشتی کوپتن سے لگادیا ۔ چھوٹی سی رسی سے کشتی کو دریا کنارے باندھنے کی دیر تھی کہ اس پار بکھرے دس بارہ دیہات کے اِکا دُکا مسافر جو دیر سے کشتی کا اِس پار آنے کا انتظار کررہے تھے اُچک اُچک کر جلدی جلدی کشتی میں چڑھنے لگے ۔نُورے کا گھر بھی دریا کے اِسی پار کے کچھ دُورواقع گاؤں ”وسن والا“ میں تھا،گرمیوں کی دوپہر سر پہ تھی ۔


نورے نے کشتی کا ”پُور“ (پھیرا)بھرتے سوچا یہ پچھے چار سالوں سے اسکے نصیب چمک اٹھے تھے ۔ بارہ اِس پار کے گاؤں اور بارہ چودہ اُس پار کے دیہاتوں کے لوگ بھی جوق در جوق اسکی کشتی سے اپنے ضروری کاموں سے اس یا اس پار آتے جاتے تھے ۔ اور ان سالوں میں گو ”ہاڑ“ (سیلاب) تو سر چڑھ کر آتا رہا مگر ہر بار کی مناسب پیش بندی سے اسکی کشتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ ورنہ تو پچھلے سالوں میں دو دو بار اسکے کشتی دریا کے سیلاب میں بہہ کر گُم گُما گئی تھی اور اگلے سالوں میں نُورے اور اور اسکے خاندان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر اب کی بار اللہ نے اس پہ اور اسکے خاندان پہ خاص کرم کیا تھا ۔


نُورا انہی سوچوں میں غرق اور دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوا کشتی ”کھیتا“ دریا کے درمیان پہنچ چکا تھا کہ اُس کے گاؤں ”وسن والا“ کے ”مانے“ کو پتہ نہیں کیا سُوجھی کہ اس نے کہا کہ
”نُورے میں ابھی گاؤں سے آیا ہوں اور تمہارے لئیے ایک بری خبر ہے “
نورے کی ساری خوشی کافُور ہوگئی اور وہ مانے کی طرف متوجہ ہوگیا جو بتارہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”نُورے ۔ تمہاری بیوی اپنے کسی آشناء کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے“


نورے کا رنگ فوراََ فق ہوگیا ۔ کشتی میں سوار بار ہ گاؤں کے دیہاتیوں نے چونک کر اپنی باتیں چھوڑ چھاڑ کر نظریں نُورے پہ گاڑ دیں ۔ اور نورے کو یوں لگا جیسے کسی نے اسے بھرے بازار میں ننگا کر دیا ہو۔ایک لمحے کے لئیے ”ونج“ پہ اسکی گرفت کمزور ہوئی اور کشتی لہراکر رہ گئی ۔ مگر نُورے نے دوبارہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ”ونج “ پہ اپنی گرفت مضبوط کی مگر اُسے یوں لگا جیسے کسی نے اسکے بازؤں کی طاقت سلب کر لی ہو ۔ نورا ملاح جیسے تیسے کشتی ”کھیہ“ کہ دریا کے دوسرے کنارے لگانے میں کامیاب ہوگیا ۔ کشتی کے مسافر اسے عجیب نظروں سے دیکھتے اپنے اپنے رستوں کو ہو لئیے صرف ”مانا“ رک گیا تھا اور مسافروں کے جاتے ہی نُورااپنی بربادی پہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اور اچانک ”مانا “ بے اختیار قہقے لگا کر ہنسے لگا ۔ نورے نے غم اور صدمے سے مانے کو دیکھا ۔ مانے نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
” اوئے جھلیا۔ میں تو تمہارے ساتھ دل لگی (مذاق) کر رہا تھا ۔ تمہیں پتہ تو ہے دل لگی کرنے والی میری اس پُرانی عادت کا۔ تمہاری بیوی کسی اپنے آشناء کے ساتھ بھاگ کر کہیں نہیں گئی اور وہ تمہارے گھر پہ ہی ہے۔ میں تو ایسے ہی تمہارے ساتھ دل لگی کر رہا تھا“

نُورے نے مایوسی اور غم کے ملے جُلے جذبات اور رندھے ہوئے گلے سے دور دراز راستوں پہ جانے والے کشتی کے مسافروں کو دیکھا اور ”مانے“ سے گویا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”مانے! تم نے تو دل لگی کی مگر میرا ستیا ناس کردیا۔اب یہ سمجھو کہ کہ میری بیوی واقعی گھر سے بھاگ ہی گئی ہے۔یہ بارہ گاؤں کے لوگ بارہ چودہ مختلف گاؤں کو جائیں گے اور اتنے ہی لوگوں کو بتائیں گے کہ نورے ملاح کی بیوی آج گھر سے بھاگ گئی ہے۔ نہ یہ سارا ”پُور“ دوبارہ اکھٹا ہوگا ۔ اور نہ ہی وہ تم سے یہ جاننا چاہیں گے کہ تم نے مجھ سے دل لگی کی تھی جبکہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ گھر سے نہیں بھاگی تھی۔ اور اگر اتفاق سے وہ اکھٹے ہو بھی جائیں اور تم انہیں حقیقت بتا بھی دو تو اتنے سارے دیہاتوں میں جہاں ان کے بتانے سے میری نیک نامی تار تار ہوگی وہ کیسے نیک نامی میں بدل پائے گی؟ بس ”مانے“ اب یوں سمجھوں کہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ بھاگ ہی گئی ہے اورمیری نیک نامی تواب واپس آنے سے رہی“


نواز شریف نے اگر کرپشن نہیں بھی کی تو بھی اب نواز شریف جس قدر متنازع شخصیت بن چکے ہیں اور ثابت اور غیر ثابت شدہ الزام تراشیوں میں گھر چکے ہیں ۔توانہیں چاہئیے کہ ملک و قوم کے وسیع ترمفاد میں اپنے عہدے سے استعفی دے کر بچی کچھی کچھ نیک نامی سمیٹنے اور جمہوریت کو بچانے کی کوشش کرنی چائیے۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔


جے آئی ٹی رپورٹ بھی ہوگئی۔

اب کیا ہوگا؟۔
کیا یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلے گا؟

اگر یوں ہوتا ہے کہ یہ سیریل آئندہ الیکشن تک چلتی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب واضح ہے کہ گو کہ اس سیریل کے تمام اداکار پاکستانی ہیں مگر اس سیریل کو ڈائریکٹ کہیں اور سے کیا جارہا ہے؟

جنرل ایوب خان نے اپنی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” Friends Not Masters, میں آقاؤں کی طوطا چشمی کے شکوے کئیے ہیں اور ان کی بے وفائی کا دکھڑا بیان کیا ہے۔ اور ایوب خان کے خلاف بھی لانگ مارچ کا ہی فارمولہ آزمانے اور انہی طاقتوں کی ایماء پہ برسراقتدار آنے والے بڑے بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار کے آخری ایام میں اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد اور بعد ازاں نظامِ مصطفی نامی تحریک کے زبردست دباؤ کے بعد پی ٹی وی پہ اپنی آخری تقریر میں امریکہ کو سفید ہاتھی گردانتے ہوئے یہی واویلہ کیا کہ ہائے ہائے مجھے بنانے والے مجھے گرانے پہ آمادہ ہیں۔

انہی طاقتوں کے اشارے پہ گرم سیاسی ماحول میں اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر تختِ اسلام آباد پہ قبضہ جمانے والے جنرل ضیاء الحق بھی اپنے آخری دنوں میں اپنے انجام سے آگاہ ہوچکے تھے کہ آقاؤں کا دستِ شفقت انکے سر سے اٹھ چکا ہے اور وہ آج یا کل دیر یا سویر سے اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسی لئیے وہ اپنے آخری دنوں میں امریکی سفیر اور اپنے جرنیلوں سمیت ہر اس شخص کو اپنے ساتھ لئیے پھرتے تھے جس پہ انہیں اپنے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کا ذرہ بھر بھی شائبہ تھا۔ اور بہاولپور فضائی حادثے میں مارے جانے والے پاکستان کے انتہائی ذمہ دار لوگوں کے ایک ہی طیارے میں سوار ہونے کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

موجودہ دور میں پاکستانی مسنندِ اقتدار پہ قابض ہونے والوں میں سے جنرل مشرف شاید وہ واحد کردار ہے جس نے ہدایت کاروں کی ہر فرمائش ان کی توقعات سے بڑھ کر پوری کی اور جب جنرل مشرف کو مسندِ اقتدار سمیٹنے کا اشارہ ہوا تو اس نے بلا چون چرا جان کی امان پاؤں کے صدقے اپنا بوریا لپیٹا اور اُدہر کو سدھار گئے جدہر سے انہیں جائے امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ایسے ھی اچانک سے ڈرامائی طور پہ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ کیا تب صرف چند ماہ بیشتر کسی کے وہم گمان میں تھا کہ بے نظیر وزیر اعظم بننے کی بجائے زرداری پاکستان کے مختارِکُل قسم کے صدر بن جائیں گے؟۔ ہماری قومی یاداشت چونکہ کچھ کمزور واقع ہوئی ہے اگر کسی نے یاداشت تازہ کرنی ہو تو اس دور کے الیکشن سے چند ماہ قبل کے اخبارات اور ٹی وی مذاکروں کا مطالعہ و نظارہ کر لیں۔ جن میں بے نظیر کے ہوتے ہوئے زرداری کے صدر یا وزیر اعظم بننے کا خیال تک بھی کسی سیاسی جغادر کے وہم و گمان سے گزرا ہو۔ صرف چند ماہ میں زرداری پاکستان کے مختار کل قسم کے صدر تھے۔

زرداری حکومت میں نواز شریف عدلیہ بحالی کا عزم لے کر لاہور سے اسلام آباد کو ایک جمِ غفیر لے کر نکلے۔ عوام کا ٹھاٹا مارتا سمندر ساتھ تھا۔ زرداری حکومت چند دن میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پہ انجام پزیر ہوسکتی تھی۔ قومی یادشت کو تازہ کی جئیے کہ تب امریکی صدر اور سفیر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کے یکے بعد دیگرگوجرانوالہ نواز شریف کو فون آئے اور نواز شریف عام عوام کی توقعات اور امیدوں کے بر عکس تب گوجرانوالہ سے واپس لاہور سدھار گئے۔ سوجھ بوجھ والوں نے تب ھی فال ڈال دی کہ مک مکا ہوگئی ہے اور زردای کو ٹرم پوری کرنی دی جائے گی اور آئندہ ویز اعظم نواز شریف ہونگے۔ اور مڈٹرم کے طور یہی کلیہ نواز شریف کے خلاف مختلف مارچوں اور دھرنوں کے ذرئیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر عام عوام کی عدم دلچسپی یا آئے دن کے بے مقصد سیاسی ہنگامہ آرائی سے بیزارگی کی وجہ سے یہ ایکٹ کامیاب نہ ہوسکا۔

کسی بھی قیمت پہ اقتدار میں آنے والے جب طے شدہ شرائط پہ کام کرنے کے بعد خالص اپنے ذاتی جاہ حشمت کو برقرار رکھنے کے لئیے کنٹریکٹ کوغیر ضروری طور پہ طوالت دینے کی ضد کریں۔ یا دی گئی بولی سے انحراف کریں تو ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اقتدار کے خواب دیکھنے والے بچہ سقوں کی ہمارے ہاں کمی نہیں۔ مگر ایسے خوابوں کو پایہ تکمیل پہنچانے والی یا اقتدار کو استحکام بخشنے پہ قدرت رکھنے والی وہ طاقتیں جوبیرونِ پاکستان سے کٹھ پتلی تماشے کی ڈوریاں ہلاتی ہیں وہ کسی ایسے ڈھیلے ڈھالے کردار کو مسند اقتدار کا ایکٹ نبھانے کی اجازت دینے پہ تیار نہیں جو موجودہ دور میں پاکستانی اسٹیج پہ اپنے کردار اور ایکٹ کو زبردست عوامی پذیرائی اور عوام کی طرف سے پرجوش تالیوں کے استقبال کی اہلیت نہیں رکھتا۔

کیا پاکستان کے مفادات کے خلاف پھر سے بولی ہوگی؟ جو بڑھ کر بولی دے گا اسے مسند اقتدار بخشا جائے گا؟

کیا نئے مناسب اداکار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں پرانی ٹیم نئی شرطوں اور تنخواہ پہ کام کے لئیے منتخب کی جائے گی؟
کیا ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہونگے۔اللہ کرے ہمارے خدشات محض خدشات ثابت ہوں۔

پردہ اٹھنے میں دیر ہی کتنی ہے؟ نئے انتخابات میں عرصہ ہی کتنا رہتا ہے؟

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

دعوتِ فکر


دعوتِ فکر۔۔۔
تبدیلی ناگزیر! مگر کیسے ؟۔۔۔

پاکستان میں ۔۔۔آج کے پاکستان میں۔ جس میں ہم زندہ ہیں۔ جہاں انگنت مسائل ہیں ۔ صرف دہشت گردی ہی اس ملک کا بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ دہشت گردی ایک آدھ دہائیوں سے ۔اِدہر کی پیداوار ہے۔ اور اس دہشت گردی کے جنم اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کو ۔پاکستان میں اپنے گھروں تک کھینچ لانے میں بھی۔ ہماری اپنی بے حکمتی ۔ نالائقی اور فن کاریاں شامل ہیں۔
دہشت گردی کے اس عفریت کو جنم دینے سے پہلے اور ابھی بھی۔ بدستور پاکستان کے عوام کا بڑا مسئلہ ۔ ناخواندگی ۔ جہالت۔غریبی۔ افلاس اور بے روزگاری اور امن عامہ جیسے مسائل ہیں۔ مناسب تعلیم ۔ روزگار اور صحت سے متعلقہ سہولتوں کا فقدان اور امن عامہ کی صورتحال۔ قدم قدم پہ سرکاری اور غیر سرکاری لٹیرے۔ جو کبھی اختیار اور کبھی اپنی کرسی کی وجہ سے ۔ اپنے عہدے کے اعتبار سے۔نہ صرف اس ملک کے مفلوک الحال عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔بلکہ اس ملک کی جڑیں بھی کھوکھلی کر رہے ہیں۔
اور پاکستان کے پہلے سے اوپر بیان کردہ مسائل کو مزید گھمبیر کرنے میں۔ پاکستان کے غریب عوام کی رگوں سے چوسے گئے ٹیکسز سے۔ اعلی مناصب۔ تنخواہیں اور مراعات پا کر۔ بجائے ان عوام کی حالت بدلنے میں۔ اپنے مناصب کے فرائض کے عین مطابق کردار ادا کرنے کی بجائے۔ اسی عوام کو مزید غریب ۔ بے بس۔ اور لاچار کرنے کے لئیے انکا مزید خون چوستے ہیں۔ اور انکے جائز کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
محض ریاست کے اندر ریاست بنا کر۔۔۔خاص اپنے اور اپنے محکموں اور سیاستدان حکمرانوں۔ انکی پارٹی کے کرتا دھرتاؤں اور چمچوں چیلوں کے مفادات کی آبیاری کرنے کے لئیے۔ اپنے عہدوں۔ اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں ۔ادارے جو عوام کے پیسے سے عوام کی بہتری کے لئیے قائم کئے گئے تھے ۔ اور جنہیں باقی دنیا میں رائج دستور کے مطابق صرف عوام کے مفادِ عامہ کے لئیے کام کرنا تھا ۔ وہ محکمے ۔ انکے عہدیداران ۔ اہلکار۔ الغرض پوری سرکاری مشینری ۔ حکمرانوں کی ذاتی مشینری بن کر رہ گئی ہے۔ اور جس وجہ سے انہوں نے شہہ پا کر ۔ ریاست کے اندر کئی قسم کی ریاستیں قائم کر رکھی ہیں ۔ اور اپنے مفادات کو ریاست کے مفادات پہ ترجیج دیتے ہیں۔ اپنے مفادات کو عوم کے مفادات پہ مقدم سمجھتے ہیں ۔
ستم ظریفی کی انتہاء تو دیکھیں اور طرف تماشہ یوں ہے۔ کہ ہر نئے حکمران نے بلند بانٹ دعوؤں اور بیانات سے اقتدار کی مسند حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اور اقتدار سے رخصتی کے وقت پاکستان کو ۔ پاکستان کے غریب عوام کو پہلے سے زیادہ مسائل کا تحفہ دیا۔
پاکستان کے حکمرانوں۔ وزیروں۔ مشیروں کے بیانات کا انداز یہ ہے ۔کہ صرف اس مثال سے اندازہ لگا لیں ۔کہ پاکستان کاکاروبار مملکت کس انوکھے طریقے سے چلایاجا رہا ہے ۔ پاکستان میں پٹرول کی قلت کا بحران آیا ۔ انہیں مافیاؤں نے جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ مافیا نے پٹرول کی قلت کے خود ساختہ بحران میں جہاں عوام اور اور ملک کا پہیہ چلانے والے ٹرانسپورٹرز سڑکوں اور پٹرول پمپس پہ خوار ہورہے تھے ۔ جن میں ایمولینسز ۔ مریض ۔ اسپتالوں کا عملہ ۔ خواتین۔ اسکول جانے والےبچے بھی شامل تھے۔ یعنی ہر قسم کے طبقے کو پٹرول نہیں مل رہا تھا ۔ ڈیزل کی قلت تھی ۔ مگر وہیں حکومت کی ناک کے عین نیچے۔ ریاست کے اندر قائم ریاست کی مافیا۔ اربوں روپے ان دو ہفتوں میں کمانے میں کامیاب رہی ۔اور آج تک کوئی انکوائری۔کوئی کاروائی ان کے خلاف نہیں ہوئی اور کبھی پریس یا میڈیا میں انکے خلاف کوئی بیان نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی عمل میں لائی گئ؟۔ اور اس پٹرول قلت۔ کے براہ راست ذمہ دار ۔وزیر پٹرولیم خاقان عباسی۔ کا یہ بیان عام ہوا کہ "اس پٹرول ڈیزل بحران میں۔ میں یا میری وزارت پٹرولیم کا کوئی قصور نہیں”۔ یعنی وزیر موصوف نے سرے سے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ اس سے جہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ وزیر موصوف کے نزدیک ان کا عہدہ ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہے۔ اور وہ کسی بھی مہذب ریاست کے وزیر کی طرح استعفی دینا تو کٌجا۔ وہ ریاست کو جام کر دینے میں اپنی کوئی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کرتے۔
اس سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے جو انتہائی افسوسناک اور خوفناک حقیقت ہے کہ وزارت پٹرولیم محض ایک وزارت ہے جس کے وزیر کا عہدہ محض نمائشی ہے اور اصل معاملات کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جس سے حکومت کی منظور نظر مافیاز کو یہ طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ کہ کب کس قسم کی قلت پیدا ہونے میں کس طرح کے حالات میں کب اور عوام کا خون چوس لینا ہے۔
ہمارا مطمع نظر اور اس تحریر کا مقصد محض موجودہ حکمرانوں پہ تنقید کرنا نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ موجودہ حکمرانوں کے پیشرو ۔زرداری۔ مشرف۔ شریف و بے نظیر دونوں کے دونوں ادوار ۔ اور اس سے بیشتر جب سے پاکستان پہ بودے لوگوں کا قبضہ ہوا ہے۔ سب کے طریقہ واردات پہ بات کرنا ہے۔ آج تک اسی کا تسلسل ہے کہ صورتیں بدل بدل کر عوام کو غریب سے غریب تر کرتا آیا ہے اور اپنی جیبیں بھرتا آیا ہے۔
مگر پچھلی چار یا پانچ دہایوں سے اس خون چوسنے کے عمل میں جدت آئی ہے اور حکمرانوں نے اپنے مفادات کے آبیاری کے لئیے کاروبار مملکت چلانے والے ادارے ۔اپنے ذاتی ادارے کے طور پہ اپنے استعمال میں لائے ہیں ۔ جس سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مسائل دن بدن بگڑتے گئے ہیں۔ اور آج یہ عالم ہے۔ کہ پاکستان نام آتے ہی ذہن میں ایک سو ایک مسائل تصور میں آتے ہیں ۔ جہاں پاکستان کی اکثریت آبادی جو غریب ہے۔ جس کے لئیے کوئی سہولت کوئی پناہ نہیں ۔ اور جو سفید پوشی کا بھرم لئیے ہوئے ہیں وہ بھی جان لڑا کر اپنا وقت دن کو رات اور رات کو دن کرتے ہیں۔ اور بڑی مشکل سے مہینہ آگے کرتے ہیں۔ ۔
جبکہ پاکستان جیسے غریب ملک کے مختلف اداروں کے سربراہان۔ دنیا کی کئی ایک ریاستوں کے سربراہان سے زیادہ امیر ہیں۔ اور بے انتہاء وسائل کے مالک ہیں ۔ انکے اہلکار جو سرکاری تنخواہ تو چند ہزار پاتے ہیں مگر ان کا رہن سہن اور جائدادیں انکی آمد سے کسی طور بھی میل نہیں کھاتیں اور حیرت اس بات پہ ہونی چاہئی تھی کہ وہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس وجہ سے ہے۔ کہ حکمران خود بھی انہی طور طریقوں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں جس طرح ان سے پیش رؤ چلاتے آئے ہیں۔ یعنی اپنے مالی۔ سیاسی اور گروہی مفاد کو ریاست کے مفاد پہ ترجیج دی جاتی ہے۔اور ریاست کی مشینری کے کل پرزے تو کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے وفادار نہیں تھے ۔ انہیں سونے پہ سہاگہ یہ معاملہ نہائت موافق آیا ہے۔
ریاست کی مشینری کے کل پرزے۔عوام کا کوئی مسئلہ یا کام بغیر معاوضہ یا نذرانہ کے کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی قیمت بھر سکتا ہو۔ تو منہ بولا نذرانہ دے کر براہ براہ راست عوام یا ریاست کے مفادات کے خلاف بھی جو چاہے کرتا پھرے ۔ اسے کھلی چھٹی ہے۔
ایک شریف آدمی بھرے بازار میں لٹ جانے کو تھانے کچہری جانے پہ ترجیج دیتا ہے۔ آخر کیوں؟ جب کہ ساری دنیا میں انصاف کے لئیے لوگ عام طور پہ تھانے کچہری سے رجوع کرتے ہیں اور انھیں اطمینان کی حد تک انصاف ملتا ہے۔ تو آخر پاکستان میں عام عوام کیوں یوں نہیں کرتے؟ یہ پاکستان میں عوام کی روز مرہ کی تکلیف دہ صورتحال کی صرف ایک ادنی سی حقیقت ہے۔ جو دیگر بہت سی عام حقیقتوں اور حقائق کا پتہ دیتی ہے۔اور ادراک کرتی ہے
پاکستان کے حقائق کسی کی نظر سے اوجھل نہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف پاکستان میں نا انصافی اور عدم مساوات سے سے دو قدم آگے۔ ظلم۔ استحصال اور غاصابانہ طور پہ حقوق سلب کرنے کے مظاہر و مناظر عام نظر آتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے ایک عام رواج یا چلن سمجھ لیا گیا ہے۔اور اس میں وہ لوگ ۔ ادارے اور حکمران۔ سیاستدان۔ اپوزیشن۔ عام اہلکار الغرض ساری حکومتی مشینری شامل ہے۔ حکمرانوں کا کوئی بڑے سے بڑا شاہ پرست اور درباری۔ یہ قسم نہیں دے سکتا کہ پاکستان کا کرپشن سے پاک کوئی ایک تھانہ ہی ایسا ہو کہ جس کی مثال دی جاسکتی ہو ۔ یا کوئی ادارہ جہاں رشوت۔ سفارش ۔ اور رسوخ کی بنیاد پہ حق داروں کے حق کو غصب نہ کیا جاتا ہو؟۔
ایک بوسیدہ نظام جو پاکستان کی۔ پاکستان میں بسنے والے مظلوم اور مجبور عوام کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے ۔ ایسا نظام اور اس نظام کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کے خواہشمند حکمران و سیاستدان ۔۔ اسٹیٹس کو ۔کے تحت اپنی اپنی باری کا انتظار کرنے والے۔ قانون ساز اسمبلیوں مقننہ کے رکن اور قانون کی دھجیاں اڑا دینے والے۔ اپنے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئیے کسی بھی حد تک اور ہر حد سے گزر جانے والی ریاست کے اندر ریاست کے طور کام کرنے والی جابر اور ظالم مافیاز۔ بیکس عوام کے مالک و مختارِکُل۔ ادارے۔
کیا ایسا نظام ۔ ایسا طریقہ کار۔ کاروبار مملکت کو چلانے کا یہ انداز ۔ پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے؟ کیا ایسا نظام اور اسکے پروردہ بے لگام اور بدعنوان ادارے اور انکے عہدیدار و اہل کاران پاکستان اور پاکستان کے عوام کو انکا جائز مقام اور ان کے جائزحقوق دلوا سکتے ہیں؟۔
اتنی سی بات سمجھنے کے لئیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اگر منزل مغرب میں ہو۔ تو کیا مشرق کا سفر کرنے سے منزل نزدیک آتی ہے یا دور ہوتی ہے؟
پاکستان اپنی منزل سے دور ہو رہا ہے۔ اور اس میں کسی بیرونی دشمن کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر مندرجہ بالا اندرونی دشمنوں کا ہاتھ ضرور ہے ۔اور پاکستان اور پاکستان کے عوام کو یہ دن دکھانے میں اور ہر آنے والے دن کو نا امیدی اور مایوسی میں بدلنے میں۔ انہی لوگوں کا۔کم از کم پچانوے فیصد کردار شامل ہے۔
جو حکمران یا پاکستان کے کرتا دھرتا ۔اسی بوسیدہ نظام اور اداروں کے ہوتے ہوئے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کاےبیانات اور اعلانات کرتے ہیں۔ یقین مانیں۔ وہ حکمران۔۔۔ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں ۔
تبدیلی صرف اعلانات اور بیانات سے نہیں آتی ۔ یہ اعلانات و بیانات تو پاکستان میں مزید وقت حاصل کرنے اور عوام کو دہوکہ میں رکھنے کے پرانے حربے ہیں۔ کہ کسی طرح حکمرانوں کو اپنا دور اقتدار مکمل کرنے کی مہلت مل جائے ۔ چھوٹ مل جائے ۔ اور انکی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے۔ اور وہ ادارے جنہوں نے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنا تھا۔ اور ریاست اور عوام کے مفادات کا نگران بننا تھا۔ وہ بے ایمانی۔ اور بد عنوانی میں انکے حلیف بن چکے ہیں۔ اور یہ کھیل پاکستان میں پچھلے ساٹھ سالوں سے زائد عرصے سے ہر بار مزید شدت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے ۔ اور نتیجتاً عوام مفلوک الحال اور ایک بوسیدہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ جس میں محض بنیادی ضرورتوں کو بہ احسن پورا کرنے کے لئیے ان کے حصے میں مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ جائز خواہشیں۔ حسرتوں اور مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔
جس طرح ہم پاکستان میں ان تلخ حقیقتوں کا نظارہ روز کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان حالات کو بدلنے کے ذمہ دار ہیں ۔اور اس بات کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اور یوں کرنا انکے مناصب کا بھی تقاضہ ہے ۔ اور وہ حالات بدلنے پہ قادر ہیں ۔ مگر وہ اپنے آپ کو بادشاہ اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔ اور نظام اور اداروں کو ان خامیوں سے پاک کرنے کی جرائت۔ صلاحیت و اہلیت ۔ یا نیت نہیں پاتے۔
تو سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کے عوام کے نصیب میں عزت نام کی ۔ حقوق پورے ہونے نام کی کوئی شئے نہیں؟ اور اگر یہ پاکستان اور اسکے عوام کے نصیب میں ہے کہ انھیں بھی عزت سے جینے اور انکے حقوق پورے ہونے کا سلسلہ ہونا چاہئیے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے ان دشمنوں کے لئیے۔ جن کی دہشت گردی سے پوری قوم بھکاری بن چکی ہے۔ اور ہر وہ بدعنوان شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ جس نے پاکستان کے اور پاکستان کے عوام کے مفادات خلاف اپنے مفادات کو ترجیج دی۔ ان کے لئیے کب پھانسی گھاٹ تیار ہونگے؟۔ انہیں کب فرعونیت اور رعونت کی مسندوں سے اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے گا؟۔ اور انہیں کب ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا؟ ۔ کہ مخلوق خدا پہ سے عذاب ٹلے؟
اس کے سوا عزت اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔

 

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔



اجتماعی شعور کا ارتقاء اور پاکستان کی کم ظرف اشرافیہ۔

عوام
جہاں تک سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ہے تو یہ سو فیصد دیانتداری دنیا کے عوام میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ دنیا بھر کی جیلوں میں دنیا کی سبھی قوموں کے کرپٹ لوگ بند ہیں۔
لیکن پاکستانیوں کی اکثریت اپنے پیدائشی ماحول اور اپنے ارد گرد ہر طرف پائے جانے والی بے بسی اور روز مرہ زندہ رہنے کی جستجو میں زندگی گھسیٹنے کے لئیے معاشرے اور بااثر طبقے کی طرف سے مسلط کی گئی کرپٹ اقدار اور بدعنوانی کی وجہ سے محض زندہ رہنے کے لئیے ڈہیٹ بن کر ہر قسم کے ظلم و ستم پہ بہ جبر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔
اور جب اپنی اور اپنے خاندان کا جان اور جسم کا سانس کا ناطہ آپس میں میں جوڑے رکھنا محال ہو جائے۔ اور ایسا کئی نسلوں سے نسل درنسل ہو رہا ہو اور ہر اگلی نسل کو پچھلی نسل سے زیادہ مصائب و آلام کا سامنا ہو اور اسی معاشرے کے ہر قسم کے رہنماؤں کی اکثریت جن میں مذہبی ۔ علمی۔ سیاسی۔ دینی۔ حکومتی ۔ فوجی۔ قسما قسمی کی حل المشکلات کی معجون بیچنے والے دہوکے باز۔اٹھائی گیر ہوں اور بد ترین اور بدعنوان ہوں۔ تو وہاں خالی پیٹ۔ اور بے علم۔ بے شعور عوام سے دیانتداری کا اور وہ بھی سو فیصد دیانتداری کا تقاضہ ظلم ہے۔
مندرجہ بالا بیان کردہ حالات ایسا کلٹ کلچر بنا دیتے ہیں جس میں دیانتداری کا خمیر پیدا ہی نہیں ہوتا۔جیسے رات کو دہوپ نہیں ہوتی۔ اور اس کا مظاہرہ پاکستانی معاشرے میں روزہ مرہ زندگی میں سرعام نظر آتا ہے ۔


کوڑھ کی کاشت کر کے خیر کی امید کیسے باندھی جائے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگ۔ مشہور لوگ۔ لیڈ کرنے والے لوگ۔ بااثر طبقہ سے سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ اشرافیہ۔ حکمران۔ رہنماء۔ علماء۔ جرنیل۔ اساتذہ اور اس قبیل کے دیگر لوگ مثال بنا کرتے ہیں ۔
جیسے گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی اگر سگریٹ نوشی ۔ شراب نوشی یا آوارہ گردی کرے تو سارا گھرانہ وہی عادتیں پکڑتا ہے۔مگر پاکستان کی اشرافیہ اور بااثر طبقے  کو مثالی کہنے کی بجائے کم ظرف اور تنگ دل کہنا بجا نہ ہوگا کہ جن سے پاکستانی عام  عوام  کویئ مثبت تحریک پا سکے ۔
اس کے باوجود اگر پاکستانی قوم میں کچھ اقدار باقی ہیں تو یہ شاید ان جینز کا اثر ہے جو عام عوام کے خون میں شامل ہیں۔ اور ہنوز اخلاقی بد عنوانی کے خلاف مزاحمت کر ہے ہیں۔
ہمارا معاشرہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ۔ ہزراوں سال سے غلامی میں پسنے کی وجہ سے مجبور و معذور ہےاور ہماری ذہنی بلوغت ہی  نہیں ہوسکی۔ 

ہمارے معاشرے میں۔
ہماری انفرادی معاشی خود مختاری ۔ روٹی روزی۔ بنیادی ضروریات اور گھر جیسے تحفظ کا تصور ہی اپنے صحیح معنوں میں فروغ نہیں پا سکا ۔ کیونکہ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو یہ چیزیں مکمل آزادی اور عزت نفس کو پامال کئیے بغیر نصیب ہی نہیں ہوئیں ۔ تو شخصی آزادی یا اجتماعی سوچ بھلا کیونکر فروغ پاتیں؟
آج بھی پاکستان کی  بڑی اکثریت کے لئیے۔ پٹواری۔ نیم خواندہ تھانیدار اور گھٹیا اخلاق و تربیت کے اہلکار۔ حکومت اور عام آدمی کے درمیان تعلق کا پُل ہیں۔اور ان سے آگے عام آدمی کی سوچ مفروضوں پہ قائم  اپنے ملک و قوم کا تصور رکھتی ہے۔ اگر تو کوئی تصور رکھتی ہے؟۔
اور یہ سلسلہ برصغیر کے عوام کے ساتھ ہزاروں سالوں سے روا ہے ۔ اس لئیے عام آدمی کے نزدیک ۔ آزادی۔ عزت نفس۔ اور جائز حقوق کی بازیابی کا کوئی تصور ہی نہیں  نپ سکا۔
اس لئیے وہ معاشرے میں ہر عمل اور اس کے رد عمل کے لئیے بااثر طبقے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اور اس بااثر طبقے کے عمل۔ بیانات اور منشاء کو ہی مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے وجود میں آتے ہیں اور اس سے آگے قومی شعور نہیں بڑھ پاتا۔
ان وجوہات کی بناء پہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی طبقے کبھی کا کوئی رول نہیں رہا۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس وجہ سے اکثریت کسی انقلاب یا تبدیلی میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی۔
کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں اور انیس سو سینتالیس سے آزاد ہیں۔لیکن دل پہ ہاتھ رکھ دیانتداری سے بتائیں کیا آزاد قوم اور مسلمان یوں ہوتے ہیں؟
اس کی یہ وجہ بھی وہی ہے کہ اسلام روزمرہ کی معاملگی حیثیت سے ہماری زندگیوں کا حصہ ہی نہیں بن سکا ۔ اس لئیے ہماری اخلاقی حدود و قیود عام طور پہ اسلامی اخلاق سے باہر ہوتی ہیں۔
جب عوام کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے ۔ سرداروں۔ پیروں۔ دینی رہنماؤں ۔ علماء اکرام۔ سرکاری افسروں۔ سیاسی رہنماؤں ۔ حکومت اور حکمرانوں۔ فوج اور جرنیلوں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پھر جس کی کوئی ادا ۔ کوئی بات دل کو بھا جائے اسے اپنا اپنا ہیرو مان لیتے ہیں۔
ہمارا اجتماعی شعور کبھی تھا ہی نہیں۔ اور ہمارے نصب العین ہمیشہ بااثر طبقے نے طے کئیے۔
ہماری اشرافیہ۔ ہمارا بااثر طبقہ انتہائی بے ضمیر۔ دہوکے باز۔ کم ظرف۔ سطحی شخصیت کا مالک اور اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کے لئیے کسی بھی حد تک جانے کے لئیے تیار رہتا ہے۔
اور مرے پہ سو درے ۔ اس سارے تماشے سے کچھ قوم فروش اور ابن الوقت لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی جھجھک کے اپنی ابن الوقتی اور ضمیر فروشی کو نہائت بالا نرخوں پہ فروخت کیا۔ جسے حرف عام میں پاکستان کا "میڈیا” کہا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔ کیونکہ تنزل ہماری اشرافیہ پہ طاری ہے اور عام عوام وہیں سے تحریک پاتے ہیں ۔ چند اشتنساء چھوڑ کر۔ جسے فوری طور پہ پھیلانے کا اہتمام قوم فروش میڈیا اور اسکے مالکان کرتے ہیں۔
اس لئیے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ عام آدمی کیونکر اپنے مستقبل سے مایوس ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئیے بجائے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے ۔ وہ بجائے خود اسی تنزلی میں شامل ہو رہا ہے۔
اور یہ وہ وجہ ہے کہ عام عوام میں۔ معاشرے میں۔ ہر طرف لاقانونیت۔ بد عنوانی۔ بے ایمانی۔ بد دیانتی۔ بد نظمی اور افراتفری نظر آتی ہے۔

اس لئیے پاکستان کے ان موجودہ حالات میں

 عام آدمی میں اجتماعی شعور کی تربیت کرنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک اشرافیہ۔ یعنی بااثر طبقہ۔ دینی و سیاسی رہنماء۔ جرنیل اور حکمران ۔ اور پاکستان کے وسائل پہ قابض مافیا۔اپنے انداز نہیں بدلتی۔اور بد قسمتی سے تب تک پاکستان کے عوام کا مجموعی رویہ بدلنا اور اجتماعی شعور کا فروغ پانا۔ بغیر کسی معجزے کے ممکن نظر نہیں آتا۔ اور دائرے کا معکوس سفر جاری رہے گا۔
اگر عام عوام کو اس بات کا ادراک دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک باعزت قوم ہیں اور انھیں ایک اجتماعی شعور بخشنا ہے۔ تانکہ وہ ایک قومی اخلاق اپنا کر اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ صرف حکومتی اداروں کے عام اہلکاروں اور عہدیداروں سے نااہلی ۔ بدنیتی اور بد عنوانی کا حساب نہ لیا جائے اور انھیں سلاخوں کے پیچھے بند کیا جائے کیونکہ عام اہلکاروں کو معطل کرنے یا چند ایک لوگوں کو ان کے عہدوں سے برخاست کر دینے سے۔ پاکستان کی بد عنوانی پہ قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ ایسا کرنا تو دراصل دنیا کی بدترین۔ ایک نمبر کی بدعنوان پاکستانی اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسلئیے یہ از بس ضروری ہے کہ پاکستان میں بد نیتی۔ بدیانتی اور بد عنوانی ختم کرنے کی کوشش کے لئیے لا محالہ طور پہ اس کا آغاز بالادست طبقے اور پاکستان کے وسائل پہ قابض کم ظرف اشرافیہ سے نہ کیا گیا تو ایسی ہر مہم ناکام ہو جائے گی۔ اور اجتماعی قومی شعور۔ ایک باوقار با اختیار قوم۔ اور ایک آزاد پاکستان کا تصور صرف چند ہزار لوگوں کو ناجائز تحفظ دینے کی وجہ سے محض ایک خیال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے وسائل پہ قابض چند ہزار نفوس کی کم ظرف اشرافیہ۔ یا۔ بنیادی اور ضروری سہولتوں کے مالک کروڑوں باشعور عوام کا ایک بااختیار اور آزاد پاکستان؟ جب تک یہ طے نہیں ہوتا۔ تب تک ہم ایک معکوس دائرے میں سفر کرتے رہیں گے اور بدیانت غفلت کا شکار رہیں گے۔

جاوید گوندل۔ بارسیلونا

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جلتے سراب!


جلتے سراب!

میں کچھ دیر سے پہنچا تھا۔ وہ ایک نواحی پہاڑی بستی ہے۔
میں سمجھ گیا تھا کہ رات پھر گھمسان کا رن پڑا تھا ۔ اور میدان کارِزار ۔ابھی تک گرم ہے ۔دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے رُوٹھے منہ بنائے ۔ابھی تک منہ لٹکائے ہوئے تھے ۔
جوزیبپ اور ماریہ ۔ یہ دونوں ہسپانوی میاں بیوی میرے پرانے جاننے والوں میں سے ہیں ۔عام یوروپی جوڑوں کی طرح ۔ ان کے بھی ابھی بچے نہیں ہیں۔ دونوں اعلٰی تعلیم یافتہ اور کاروباری ہیں ۔ خلوص کے بندے ہیں۔ میرے سبھی یوروپی شناسا لوگ ۔میری مسلمانی سمیت مجھے دوست رکھتے ہیں ۔ کبھی کسی نے نماز پڑھنے ۔ رمضان کے روزے رکھنے اور شراب نہ پینے اور سؤر کا گوشت نہ کھانے پہ اچھنپے کا اظہار نہیں کیا ۔ بلکہ کسی حد تک میرے دینی معاملات کا احترام کرتے ہیں ۔ خاص کر رمضان الکریم میں یورپی عادت کے مطابق دوپہر کے بعد سے بھُوک کی وجہ سے خریت پوچھتے اور دلاسہ بھی دیتے ہیں کہ بس اب روزہ افطاری میں کم وقت رہ گیا ہے۔ یا ممکن ہے یوں ہوا ہو کہ وہی لوگ میرے تعلق میں رہ گئے ہوں جو باہمی احترام کا شعور رکھتے ہیں۔ بدلے میں ، میں بھی انکے مشاغل میں مخل نہیں ہوتا اور انکی ذاتی زندگی کا ۔انکے معاملات کا احترام کرتا ہوں۔
آج کل دن بہت اجلے اور دُہلے ہوئے ہوتے ہیں۔آسمان صاف اور شفاف نظر آتا ہے۔ د ن کو ہر سُو چمکتی خوشگوار سی دھوپ آنکھوں کو بھلی محسوس ہوتی ہے ۔پیر کو مقامی چھٹی ہونے کی وجہ سے میں نے اپنا آفس جمعہ کی دوپہر کو تین دن کے لئے بند کر دیا تھا۔ ایسے میں گھرمیں اکیلے دن کو رات اور رات کو دن کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جوزیبپ اور ماریہ ۔ نے لمبے ویک اینڈ پہ ایک جنگل میں ایک راوئتی فارم ہاؤس بُک کروا رکھا تھا ۔جوزیبپ اور ماریہ نے بہ إصرار اس لمبے ویک اینڈ پہ مجھے مدعو کر رکھا تھا ۔میں انکے گھر قدرے تاخیر سے پہنچاتھا۔ جہاں سے ہم نے فارم ہاؤس جانا تھا ۔ وہاں انکے کچھ اور دوست بھی مدعو تھے۔دونوں میاں بیوی کبھی کبھار نہائت خلوص اور جوش سے ایک دوسرے کی خبر بھی لیتے ہیں۔ دونوں الگ الگ مجھ سے ملے ۔میں نے کچھ دیر سمجھایا ۔آخر کار واپس شہر لوٹ جانےکی میری دہمکی کار گر ثابت ہوئی ۔تھوڑی دیر میں دونوں شیر شکر۔اپنی گاڑی میں ضروری سامان رکھ رہے تھے۔
کہنے کو تو یہ ایک بستی ہے مگر بلا مبالغہ اس بستی کا رقبہ کسی بڑے قصبے سے کم نہیں ۔علاقہ جدی پشتی امراء کا ہے ۔ جو بدلتے وقتوں میں نئے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال کر انتظامیہ کے بڑے عہدوں پہ فائز ہیں ۔اور ہر ویک اینڈ اور چھٹی پہ اپنی بڑی بڑی حویلیوں کو لوٹ جاتے ہیں۔چند ایک ایکڑوں پہ پھیلی حویلیوں میں۔ الپائن کے بڑے بڑے درختوں کے بیچ ۔کھلی جگہ پہ انکا قومی جھنڈا ۔اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں کوئی ایسا اعلٰی حکومتی عہدیدار مقیم ہے ۔ جس کی اقامت اس بات کی متقاضی ہے ۔کہ اس اعلٰی (وی آئی پی ) حکومتی عہدیدار کے حفظ و مراتب (پروٹوکول)کے مطابق اِس ملک کا قومی جھنڈا لہرایا جانا ضروری ہے۔
ویسے تو بستی کو اور بھی راستے جاتے ہیں ۔ مگر ان میں قابل ذکر تین راستے ہیں ۔ایک تو سمندر کے ساتھ ریلوے لائن کے متوازی بہتی قومی شاہرا ہ ہے جو بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ پیچ وخم کھاتی سمندر کنارے ساحلی بستیوں اور قصبوں میں سے لہراتی ہوئی فرانس کو نکل جاتی ہے۔اس پہ جائیں تو علاقائی تجارتی مرکز سے کچھ گیارہ کلومیٹرز آگے جا کر یک دم تقریبا نوے کے زاویے پہ الٹے ہاتھ کو گھوم کر ساحل سے نسبتا کچھ دور بلندی پہ واقع چند کلومیٹرز چلتی ہوئی ۔ موٹر وے کے کے لئیے بنے پُل کے نیچے سے گزرتی ہوئی مذکورہ بستی کی مضافاتی ایکڑوں پہ پھیلی اور مختلف سرسبز درختوں سے ڈہکیں حویلیوں میں جا نکلتی ہے۔ حویلوں میں اونچے اور صدیوں پرانے چیڑھ ا یعنی لپائن کے بڑے بڑے دیو قامت درختوں نے ۔حویلوں کو اپنے اندر چھپا رکھا ہے ۔ جس وجہ سے۔ عام نظر سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے حویلی کی حدختم ہوئی اور کب جنگل شروع ہو گیا۔ کچھ حویلیوں کا بیرونی احاطہ پہاڑی نشیب فراز کے ساتھ ساتھ اونچا نیچا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ حفاظتی حصار کے طور لگائی گئی باڑھ اور ان پہ جگہ بہ جگہ الارم ۔مسلح گارڈز اور خوانخوار کتوں کی تنبیہ کی لگے بورڈوں سے پتہ چلتا ہے ۔کہ جنگل اور حویلی کی حدود کہاں ہیں۔ ایکڑوں پہ پھیلے حویلیوں کے رقبوں ۔ پہ جگہ بہ جگہ بنی روشیں اور اُن کے اس سرے پہ بنے گیٹ۔ اور دور اندر بنے نوکر پیشہ کے لئیے بنائے گئے گھرنظر آتے ہیں۔
اس بستی کو جانے کا دوسرا رستہ ۔ موٹر وے پہ ناک کی سیدھ میں چلتا۔ پچھلے علاقے کے تجاری مرکزی قصبے سے، الٹے ہاتھ کو بل کھا کر سیدھا اوپر کو اٹھتا ہے۔ اور وہاں سے ایک ذیلی راستہ۔ موٹر وے کو چھوڑ کر پھر اسی راستے سے جا ملتا ہے۔ جو بحیرہ روم کی طرف سے آنے والی سڑک ہے اور یہاں پہنچ کر وہ موٹر وے کے نیچے سے نکلتی ہے۔اور موٹر وے اوپر پُل سے گزر تا ہے۔
تیسرا رستہ وہ ہے جو شاہراہ یا موٹر وے سے نزدیکی تجارتی قصبے سے ایک سڑک کی صورت پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ متواتر اوپر چڑہتا چلا جاتا ہے اور تقریبا نصف فاصلے پہ پہنچ کر کچھ ہموار سطح پہ ۔زلفِ یار کے پیچ وخم کی طرح گول گول گھومتا ۔ہر موڑ پہ پہاڑی کے پیٹ میں سے ہو کر برآمد ہوتا ہے ۔ یہ سڑک کے اس حصے کا ٹاپ یعنی سب سے اونچی اونچائی ہے ۔ جہاں سے نیچے ترائی میں ۔ایک طرف ننھی منی پہاڑیوں کی کے ارد گرد۔ الپائن ۔ چیڑھ کے جھنڈوں اور جا بجا پھلوں اور پودوں کی نرسریوں کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا ہے ۔ جن کے اوپر سے دور بہت دور ۔ کئی کلومیٹرز کے فاصلے پہ ۔ بحیرہ رُوم کے متوازی بہتی سڑک اور ریلوے لائن کے اُس پار ہمیشہ کی طرح ساکت اور پوری آب و تاب سے صدیوں کا عینی شاہد بحیرہ رُوم کھڑا ہے ۔ خاموش مگر ہزاروں سال کی انسانی تہذیب اور تمدن کا چشم دید گواہ ۔
اس تیسرے رستے کے الٹے ہاتھ پہ گھنا اور تاریک جنگل ہے۔ جس میں گاہے گاہے ۔ اکا دُکا کچھ لوگوں نے دور کہیں جنگل کے اندر گایوں اور دیگر جانوروں کے افزائش نسل کے لئیے روائتی فارم بنا رکھے ہیں ۔ سڑک کی الٹی سمت سے ۔ان فارموں کو جاتے نیم پختہ راستے اور ان پہ لگے چھوٹے چھوٹے بورڈا ُدہر جنگل میں انسانی وجود کا پتہ دیتے ہیں۔ سڑک گول گول گھومتی ۔ یکایک پہاڑی کے پیٹ میں سے ہو کر برآمد ہوتی ہے ۔سڑک کے دورویہ قدرتی طو ر پہ اُگے پھولوں کے تختے ۔ یہاں سے وہاں تک بہار کا پتہ دیتے ہیں۔ سبزہ اور رنگ برنگے قدرتی پھول ۔ مٹی ۔پتھروں اور چھوٹی موٹی چٹانوں کو برابر اپنے وجود سے ڈھانپے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں اوپر سے رستا۔ کسی چشمے سے بہتا پانی۔ ننھی لکیر سی بناتا ، سڑک کے الٹے کنارے پہ ہی کسی زمین دوز رستے میں گُم ہو کر سڑک کے نیچے سے ۔ سیدھے ہاتھ کو ترائی میں کہیں گُم ہو جاتا ہے۔ اس سڑک پہ گاڑی پارک کرنے یا ویویو پوائنٹ کے طور مناسب جگہ بہت ہی تھوڑی ۔یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں سے روشن دنوں میں ۔ عصر کے وقت ۔ دُور نیچے سمندر کے اُس پار تک ۔ جہاں تک نظر جاتی ہے۔ سوُرج پگھلے ہوئے سونے کے سیال کی طرح۔ دل کو بھانے والی سنہری دہوپ بکھیرتا ہے۔
رات رکنے کے بعد ہر کوئی دن کو جدہر جس کے سینگ سمائے نکل گیا ۔ جنگل یا سمندر پاس ہو اور چھٹی ہو تو گھر کون بیٹھتا ہے۔
میں چپکے سے گاڑی لے کر گول گھومتی چکر دار پہاڑیوں سے نکلتا ۔ نیچے وادی میں واقع سمندر کے برابر بہتی سڑک کی طرف نکل آیا ۔
سامنے تا حدِ نگاہ بحرہ روم پھیلا ہوا تھا۔ہمیشہ کی طرح پرسکون اور اور پر اسرار۔ اپنے اندر انگنت کہانیاں اور افسانے چھپائے ہوئے۔صدیوں کو اپنے سینے میں سموئے۔ اکا دکا آبی پرندےچیخ کر سطح سمندر پہ ڈبکی لگاتے اور ابھرتے۔ کچھ ساعتوں میں، دور مغرب میں سورج غروب ہوا چاہتا تھا۔ دن کے وقت سن باتھ لینے والے کب کے جاچکے تھے۔ ساحل سمندر خالی ہوا پڑا تھا۔ ادہر ادہر کچھ جوڑے اپنی رومانی دنیا میں کھوئے راز ونیاز کر رہے تھے۔
میں نے اپنے پیچھے سڑک کے اُس طرف، دوسرے کنارے ایکڑوں پہ پھیلی ۔ چھٹی کی وجہ سے بند مارکیٹ کے ساتھ پارکنگ ایریا میں گاڑی کھڑی کی تھی۔مارکیٹ کے نزدیکی بار سے کچھ اسنیکس اور ایک مشروب کا ٹھنڈا کین خرید کر سڑک اور سڑک کے بالکل متوازی چلتے، ریلوے کے دوہرے ٹریک کو ان پہ بنےہوئے پُل کو پیدل چل کر عبور کیا اور ساحل سمند کی طرف آگیا۔
پل پیدل چلنے والوں کی سہولت کے لئیے ہے۔اوراسکی سیڑہیاں ساحلِ سمندر پہ اترتی ہیں۔ اِس طرف درختوں کے دو چار جھنڈ ہیں جن کے ساتھ ساتھ بنچوں کی قطاریں بنی ہیں اور ایک طرف کچھ فاصلے سے صاف پانی کے فوارے کی سی شکل میں شاور بنے ہیں۔ جہاں دن کو سن باتھ لینے والے گھر جاتے وقت سمندری پانی کے نمک اور ریت سے جان چھڑاتے ہیں۔
دور کہیں ڈوبتے سورج کی روپہلی کرنیں سامنے سطح سمندر پہر سونا بکھیر رہی تھیں۔نمازِ مغرب بھی کچھ دیر باقی تھی۔ یہ ساحل عام آبادی سے ہٹ کر ہے۔ ساحل پہ سوائے سمندرکی لہروں کے اضطراب اور آبی پرندوں کے کوئی آواز نہیں تھی ۔ ایک خاموشی کا سا تاثر ابھرتا تھا۔
”کن سوچوں میں کھوئے ہو؟ اداس نہ ہوا کرو۔ آسمان کے اس پار جانے والے لوٹ کر واپس نہیں آیا کرتے”۔ایک بھولی بسری شناسا سی آواز سنائی دیتی محسوس ہوئی۔
میں نے بینچ پہ بیٹھے ہوئے، اچانک چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
درختوں کے جھنڈ میں گھری حویلی ۔زمین کو چھوتی شاخوں والے آموں کے پیڑ ۔ پانی کے چھڑکاؤ سے اٹھتی مٹی کی سوندھی خوُشبؤ۔ نیم کے درخت والے دالان میں بچھی کرسیاں۔دیوار کے ساتھ ساتھ لگے رات کی رانی کے پودے سامنے آدھ کھُلے چوبی پھاٹک سے شیشم کے درختوں کے دو رویہ قطاروں کے بیچوں بیچ کھیتوں سے گزرتی بڑی سڑک کو ملاتی نیم پختہ سڑک۔ اور وہ مہربان آواز۔ آناََ فاناَ ۔ پُھر سے ۔ غائب ہوچکے تھے اور ریلوے ٹریک سے ایک سبق رفتارٹرین شور مچاتی گزر گئی تھی اور سمندر کے اس کنارے پہ پھر وہی خالی ساحل اور خاموشی تھی۔میں نے خالی کین کو بنچ کنارے لگی کوڑا سمیٹنے والی ٹوکری میں اچھال دیا۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری.


Minar-e-Pakistan-Lahore1
یوم پاکستان- انتخابات ۔ اور ہماری ذمہ داری۔

آج یوم پاکستان ہے ۔ اس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔جس کے محض سات سال بعد اس قوم نے انتھک محنت اور سچی لگن کے تحت موجودہ دنیا میں پہلا اسلامی ملک قائم کردیا تھا ۔
ایک مضبوط و توانا پاکستان قائم کرنے کے لئیے ۔اس وقت ویسی ہی قربانی اور جذبے کی ضرورت ہے ۔جیسا ۱۹۴۰ء انیس سو چالیس عیسوی میں برصغیر کے مسلمانوں میں تھا ۔
ہم سب کی عزت پاکستان سے ہے۔ اگر پاکستان ایک مضبوط اور باعزت ملک بن کر ابھرے گا ۔تو نہ صرف ہم سب کی عزت اور شان میں اضافہ ہوگا ۔ بلکہ ہماری آئیندہ نسلیں بھی شان و شوکت سے اس دنیا میں زندہ رہ سکیں گی۔
جبکہ اس وقت ہم یعنی پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت اپنے مستقبل سے مایوس نہیں تو پُر امید بھی نظر نہیں آتی۔ اور بہت سے لوگ محض اچھے مستقبل کی خاطر اپنا وطن۔ اپنی جان سے پیا را پاکستان چھوڑ آئے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کو یوں نہ کرنا پڑے تو اس کے لئیے ضروری ہے ۔ پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئیے جائیں ۔ جس میں پاکستانیوں کو محض ایک اچھے مستبقل کی خاطر غریب الوطنی کا زہر نہ پینا پڑے ۔ محض اپنے مالی حالات کی خاطر ملک چھور کر پردیس کو نہ اپنانا پڑے ۔ اور پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کا جینا ایک باعزت شہری کا ہو ۔ اور وہ دو وقت کی روٹی ۔ باعزت روزگار اور رہائش کے لئیے کسی کے محتاج نہ ہوں ۔تو اس کے لئیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں موافق حالات پیدا کریں ۔ اور پاکستان میں ایسے اچھے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یقینا یوں ہو سکتا ہے مگر اس کے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان میں اچھے حکمران ہوں۔ جن کی دلچسپی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی میں ہو۔ اور یوں ہونا تب تک ممکن نہیں ۔جب تک پکی نوکری والوں کی دال روٹی کچی نوکری والوں کی “پرچی” سے نتھی ہے۔ تب تک پاکستان کے مجموعی حالات بدلنے مشکل ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ”شخصیات“ کی بجائے ادارے مضبوط ہوں۔ اور اداروں کے اہلکار اپنے آپ کو حاکموں کی بجائے ریاست کے ملازم سمجھیں۔
ترقی یافتہ دنیا کے ممالک میں دیکھتے ہیں کہ حکومتیں بدل جاتی ہیں ۔ اور نئی سیاسی جماعتیں اور نئے لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں مگر ان کے ادارے مکمل تسلسل کے ساتھ اپنے عوام کے مسائل کو شب و روز حل کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ انکے اداروں کے ملازمین اور افسر اپنے آپ کو صرف اور صرف ریاست کے ملازمین سمجھتے ہوئے صرف ریاست کی طرف تفویض کئیے گئے فرائض کی بجا آوری ہی اپنا فرض ۔ اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں جیسے ہی نئے حکمران ۔حکومت میں آتے ہیں ۔ وہ تمام سرکاری ملازمین۔ افسران ۔ بیورو کریسی یعنی انتظامیہ کو اپنا ذاتی ملازم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ پاکستانی اداروں کے بڑے بڑے افسران بھی اپنی وفاداریاں ریاست پاکستان کے ساتھ نبھانے کی بجائے ۔ حکمرانوں۔ وزیروں ۔ مشیروں ۔ اور اسی طرح چار پانچ سال کے لئیے کچی نوکری والوں سے نباہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
اسی سال مئی میں پاکستان میں صوبائی اور قومی الیکشن ہونے والے ہیں۔ بے شک ہم دیار غیر میں رہنے والے ووٹ نہیں ڈال سکتے مگر اپنی آواز کو پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں تک تو پہنچا سکتے ہیں کہ ۔ وہ اپنی قومی امانت یعنی ووٹ اسے دیں جو پاکستان کو ایک عظیم ریاست سمجھتے ہوئے پاکستان کی عظمت بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ جو پاکستان کے وسائل کو قوم کی امانت سمجھ کر اس میں خیانت نہ کرے ۔ جو شخصیات کی بجائے پاکستان کے اداروں ۔پاکستان کے اثاثوں کو مضبوط کرے ۔ جو بڑے بڑے عہدیداروں کے عہدوں کو اپنی پرچی کا مرہون منت نہ جانیں ۔ جو پاکستانی سرکاری ملازمین میں یہ احساس اور جذبہ پیدا کر سکے کہ وہ آنے جانے والے حکمرانوں کے ملازم نہیں ۔بلکہ شخصیات کی بجائے ۔ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں ۔ جو پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق پاکستانی اداروں کو مضبوط کریں ۔
یقین مانئیے اگر پاکستان کے ادارے مضبوط ہوں گے اور انکے اہلکار اپنے آپ کو شخصیات کی بجائے ریاست پاکستان کے ملازم سمجھیں گے ۔ اور ہر صورت میں ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد مقدم جانیں گے ۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔ کہ ہماری آئیندہ آنے والی نسلیں محض پاکستانی ہونے کی وجہ سے خوار نہیں ہونگی ۔ اور وہ اقوام عالم میں باعزت قوم کے طور پہ جانی جائیں گیں ۔
میری طرف سے سب پاکستانیوں کو یوم پاکستان مبارک ہو۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

دسمبر دے دکھ ۔


 دسمبر دے دُکھ ۔

پہاڑیاں میرے سیدھے ہاتھ پہ تھیں۔ بحر روم میرے الٹے ہاتھ پہ اپنے پُر سکون اور روایتی انداز میں بہہ رہا تھا ۔  دبیز دھند بلندی سے  وادیوں پہ اتر رہی تھی ۔ پہاڑوں کے بلند سرے ا ور چوٹیاں دھند میں چھپتی جارہی تھیں۔ ظہر کا وقت گزر چکا تھا ۔عصر کا مختصر سا وقت شروع ہو رہا تھا ۔ موسم میں خنکی اچانک بڑھ گئی تھی۔ میں نے گاڑی کے ہیٹر کو معمولی سا مزید بڑھا دیا تھا ۔ یہاں سڑک سمندر کے متوازی بہتی ہے ۔ اور میری دیکھی بھالی ہے ۔ سڑک کے اس حصے پہ غالبا میں سینکڑوں مرتبہ ڈرائیو کر چکا ہوں ۔لیکن ہر مرتبہ اس سڑک پہ سفر کرتے ہوئے تازگی اور فرحت کا ایک نیا إحساس ہوتا ہے ۔ سڑک کے کنارے چھوٹی موٹی آبادیاں اور آبادی سے پرے اس طرف چیڑھ (پائن ) کے درختوں سے ہری بھری پہاڑیوں کے درمیان مختلف چھوٹے بڑے شاداب کھیتوں سے سر سبز پھیلتی سکڑتی وادیاں ۔ اس طرف سڑک کے ساتھ متوازی چلتی ریلوے لائن اور بے بیکراں تاحد نظر پھیلا ہوا بظاہر ساکت بحیرہ روم  اسقدر تغیر لئیے ہوئے ہے کہ ا س کے کناروں نے درجنوں مختلف تہذیبوں کو جنم دے ڈالا ۔ بلا مبالغہ دنیا کی گذشتہ اور موجودہ تہذیبوں میں بحرہ روم کا ایک بڑا ہاتھ ہے ۔میرا ذہن بہت مختلف سے احساسات اور سوچوں کی آمجگاہ بنا ہوا ہے ، سوچوں کا سرا کسی طور ٹوٹنے میں نہیں آتا ۔میں میکانکی انداز میں گاڑی چلا رہا تھا ۔ کبھی کبھار کسی آبادی سے پہلے یا بعد ۔کسی ”گیو وے “ یا ” اباؤٹ ٹرن“ پہ کسی دوسری گاڑی کو رستہ دیتے ہوئے سوچوں کا یہ سلسلہ کچھ دیر کے لئیے منقطع ہوتا اور پھر سے سوچیں ذہن کے پردے پہ وہیں سے عکاس ہونا شروع ہوجاتیں جہاں سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔
آج چوبیس دسمبر ہے ۔ ہر چوبیس اور پچیس دسمبر کی طرح مجھے یہ دن بہت اداس سا محسوس ہوتا ہے ۔اس سڑک پہ عام طور پہ محسوس ہونے والی روایتی تازگی اور فرحت کے إحساس کی بجائے ایک اداسی کی سی لکیر محسوس ہوتی ہے۔ جو مجھے یہاں سے وہاں تک ہر شئے سے لپٹی محسوس ہوتی ہے۔ دسمبر کے دن بھی انتہائی مختصر ہوتے ہیں۔ ادہر دوپہر ڈھلی ادہر شام سر پہ آجاتی ہے ۔ نصرانی مذہب کے پیروکار چوبیس دسمبر کی شام کو کرسمس ڈنر Christmas eve dinner اور پچیس کو کرسمس مناتے ہیں۔ عیسیٰ علیۃ والسلام سے منسُوب آخری ڈنر کی کی روایت سے شروع ہونے والے اس کرسمس ڈنر کے لئیے ۔اس رات سارا خاندان مل بیٹھتا ہے ۔ دور دراز سے سفر کر کے لوگ اپنے چاہنے والوں یعنی اپنے عزیزو أقارب سے کے ساتھ یہ مخصوص ڈنر کرتے ہیں ۔میرے ایک جاننے والی کی بہن جرمنی میں مقیم ہیں ۔ وہ تقریبا ہر سال وہاں سے یہاں اپنے بہن بھائیوں اور خاندان کے ساتھ کرسمس ڈنر پہ شامل ہوتی ہے۔اسی طرح ایک اور جاننے والے کے کچھ رشتے دار کنیڈا میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں سے کچھ دنوں کے لئیے واپس آتے ہیں ۔ کرسمس ڈنر عام طور پہ یہ ایک روایتی اور نہائت نجی تقریب ہوتی ہے ۔ جس میں داماد یا بہو ۔ یا ہونے والے داماد یا ہونے والی بہو یعنی منگیتر کے علاوہ شاید ہی کوئی غیر رشتہ دار شامل ہوتا ہو۔ نصرانی مذہب اور خاصکر نصرانی مذہب کے دیگر اکثر فرقوں کی طرح کھیتولک فرقہ بھی کرسمس ڈنر کے لئیے خوب تیاری کرتا ہے۔ جس میں ٹرکی سے لیکر سالم سؤر اورسالم بکرے تک بھون کر کھائے جاتے ہیں۔ مچھلی اور سی فوڈ کی کھانے کی میز پہ بھرمار ہوتی ہے۔درجنوں اقسام کے کیک اور مٹھائیاں میز پہ سجائی جاتی ہیں۔ لیٹروں کے حساب سے شمپئین ، وائن اور مختلف شرابوں کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ محض بہت زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔کرسمس ڈنر کی تیاری کے لئیے خصوصی طور پہ خریداری کی جاتی ہے ۔چاہنے والوں کے لئیے خصوصی تحائف خریدے جاتے ہیں ۔
عام طور پہ ان مخصوص دنوں میں شہر کے آس پاس تک ہی محدود رہتا ہوں ۔ مگر اس دفعہ ایک نواحی شہر کے ایک پرانے کسٹمر نے کچھ مال کریڈٹ پہ خرید رکھا رکھا تھا ۔جو کاروباری معاملے کی وجہ سے اس شرط پہ دے دیا تھا ۔کہ وہ ایک آدھے ہفتے کے دوران دسمبر کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے۔ تمام رقم ادا کر دے گا ۔ مجھے اس سلسلے میں رقم کی قسط لینے نواحی شہر کو آج جانا ہوا تھا ۔ اڑھائی دو گھنٹے میں، میں فارغ ہو چکا تھا ۔واپسی پہ سڑک کے کنارے ایک انٹر نیشنل چین کے کئی ایکڑوں پہ پھیلے مشہور ڈپارٹمنٹل اسٹور پہ رک کر ۔گاڑی میں فیول ڈلوایا اور اسپین کی مختلف ذائقوں اور اقسام کی روایتی مٹھائی ”تُرون“ خریدے ۔ چونکہ دفتر ۔ کاروبار سے دو دن سب کچھ بند ہونے کی وجہ سے چھٹی ہے ۔ لہذاہ اس دوران  اسٹور سے گھر کے لئیے ضروری خریداری بھی کر لی ۔
دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سرکاری یا غیرسرکاری سب اداروں میں تمام ملازموں کو ایک اضافی تنخواہ ملتی ہے ۔ جسے ”کرسمس پے “ کا نام دیا جاتا ہے ۔مگر ہر جیب میں اس دفعہ اضافی تنخواہ نہیں ۔ سرکاری ملازموں کو اس دفعہ حکومت نے اضافی تنخواہ کی کٹوتی کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مالی بحران زوروں پہ ہے ۔ مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور سہولتیں اسقدر ہیں ۔کہ انہیں ایک اضافی تنخواہ کے نہ ملنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔جب کہ ملک میں مالی بحران کے ہاتھوں پریشان لاکھوں بیروزگاروں کی جیب خالی ہے۔ حکومت مقدور بھر کوشش کرتی ہے کہ بیروزگاری الاؤنس سے بیروزگاروں کی کچھ مدد کر سکے ۔ مگر اتنے لمبے مالی بحران کی وجہ سے اب حکومت بھی بے بس اور لاچار نظر آتی ہے ۔ جب کہ نجی اداروں میں کام کرنے والوں کی اضافی تنخواہ نہیں روکی گئیں ۔ جیب میں اضافی تنخواہ ہو اور کرسمس جیسے تہوار کا معقول بہانہ ہو۔ تو مختلف سپر مارکیٹس ۔ دوکانوں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے ا۔ور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔فراغت جو مجھے کبھی کبھار نصیب ہوتی ہے ۔ اس فراغت کی وجہ سے میں کافئ دیر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے اندر گھومتا رہا ۔ آج رات کے لئیے کھانے کی ہر شئے پوری کرنے کے لئیے خریداری کی لمبی فہرستیں سنبھالے۔ خوشی سے دمکتے چہرے ۔ سالم خاندان اور جوڑوں کی شکل میں میں رنگ برنگ کے ملبوسات سجائے ۔تحائف ۔ مختلف شرابوں ۔ مٹھائیوں ۔ پھلوں ۔ خشک میوں ۔ گوشت ۔ مچھلی ۔ سی فوڈز ۔ اور انکی تیاری میں استعمال ہونے والے لوازمات سے سے لدی پھندی ٹرالیوں کے بیچ بیچ خریداری سے قبل۔ میں خالی ہاتھ گھومتا رہا ۔ بس یونہی دل کی بے نام سے بے کلی کے درماں کے لئیے ۔ کچھ دیر بعد بار میں جا بیٹھا ۔ ایک کالی اور تلخ کافی کے سِپ لینے کے دوران بھی کرسمس خریداروں کا  یہ مشاہدہ میں نے جاری رکھا ۔ ان چمکتے اور شاداب چہروں کے بیچ میں بہت سے لوگ اداس بھی نظر آئے ۔ ان میں ایک تو وہ لوگ تھے جو لمبی بیروزگاری کے ہاتھوں۔ اپنے محدود سے بجٹ کے ہاتھوں پریشان ۔ اشیاء اٹھاتے اور قیمت وغیرہ دیکھ بھال کر دوبارہ رکھ دیتے اور اس سے نسبتا کم قیمت کی شئے دوبارہ سے اٹھا کر اسکی قیمت اور اپنی جیب کا حساب لگانا شروع کر دیتے ۔ بے شک اب اس ملک میں ایسے لوگ لاکھوں کے حساب سے ہیں۔ میں انسانی ہمدردی کے تحت مقدور بھر کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی مدد کر سکوں ۔ مگر میری معمولی سی مدد اتنے بڑے سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم درجہ رکھتی ہے۔ کسی شئے کی ضد کرنے پہ ایک روتی ہوئی بچی کا باپ۔ اسے اپنی مالی حیثیت کی پہنچ نہ ہونے کا حسابی فارمولا سمجھانے کی بے سُود کوشش کر رہا تھا ۔ بچی تھی کہ ضد اور دُکھ سے روئے جارہی تھی ۔ یہ قرین انصاف نہیں کہ اکثریت تو بے جا اصراف کرے۔ اور کچھ لوگ اپنے معصوم بچوں کو معمولی اشیاء بھی نہ خرید کر دے سکیں ۔ مجھے اپنے ملک کی عید یں یاد آگئیں۔ وہاں مناطر اس سے بھی بڑھ کر تلخ ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کی بے سرو سامانی اور اپنے دیس کے مجبور لوگوں کے حالات نے کافی کی تلخی سے کہیں زیادہ تلخی میرے حلق میں گھول دی ۔
دوسری قسم کے وہ لوگ تھے ۔ جو اکیلے خریداری کر رہے تھے ۔ شاید انکا کوئی چاہنے والا اس کرسمس ڈنڑ پہ ان سے ملنے کے لئیے آنے والا نہیں تھا ۔ کیونکہ ایسا انکی انتہائی مختصر سی خریداری کی فہرست اور اسمیں مطلوبہ اشیاء کی تعداد جو عام طور پہ ایک عدد اکائی میں تھیں ۔ اور اس پہ انکا تنہاء ہونا۔ اس بات کا غماز تھا کہ وہ شاید اکیلے ہی کرسمس ڈنر کریں گے ۔ یا زیادہ سے ذیادہ ایک آدھ رشتے دار یا ساتھی ہوگا ۔ ایک تیس سالہ خاتون ایک باسکٹ میں اکا دکا اشیاء رکھ رہی تھیں ۔ دو سو گرام کا ایک تُرون (کرسمس کی رنگا رنگ مٹھائیوں میں سے ایک مٹھائی) پنیر کا ایک ٹکڑا ۔ زیتون کے کچھ اچاری دانے ۔ اور اسطرح کی کچھ اشیاء ۔ بغور جائزہ لینے سے اسطرح کے مختلف عمروں کے لوگ نظر آئے ۔ اداسی کی ایک لہر رگ و پے میرے سراپے میں دوڑ گئی ۔ ایک لمبا گھونٹ بھر کے کالی کافی کا کپ خالی کیا ۔ میں سنٹر سے باہر پارکنگ زون میں نکل آیا۔ جہاں سے سکہ ڈال کر خریداری کرنے کے لئیے ٹرالی نکالی ۔ دوبارہ سے اسٹور میں داخل ہوگیا ۔ خریداری کے دوران مختلف سوچوں نے دل و دماغ کو گھیرے رکھا۔
بحر روم پہ نگاہ دوڑائی تو سمندر اپنی عام عادت کے مطابق نہائت دھیما اور خراماں نظر آیا ۔ دہندلے سے بادلوں سے چھن کر آنے والی اکا دُکا سورج کی کرنوں سے ادہر اُدہر سے چمکتا ہوا۔یہاں سے وہاں تک بچھا ہوا ۔ یوں جیسے قدرت کے دست قلم نے نیلگوں رنگوں کو بکھیر دیا ہو ۔ مگر نہ جانے کیوں آج مجھے سمندر عام دنوں کی نسبت بہت خاموش اور اداس محسوس ہوا ۔ یا پھر شاید میرے اندر خاموشی اور اداسی کی  تنی ہوئی چادر کی  وجہ سے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا ۔  بہر حال آج کا دن بہت خاموش سا تھا ۔
بہت سے لوگ اس بات پہ متفق ہیں کہ ۔بس یہ دسمبر کا مہینہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ ایویں سا۔ سردی کے موسم میں لپٹا ہوا ۔ سال کا آخری مہینہ۔ یا پھر شاید اس کی وجہ اس ماہ کوسال کے آخر میں آنے کے وجہ سے اداس جانا جاتا ہے ۔ جب نیا سال شروع ہوتا ہے ۔ تو نہ جانے کتنے لوگ ۔ کتنے بھولے بھالے اور معصوم لوگ ۔انگنت منصوبے اور اہداف مقرر کرتے ہیں۔ جن کی بنیاد عام طور پہ امید اور نیک تمنائیں ہوتی ہیں ۔ جو سال گزرتے گزرتے ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔ سال کے گیارہ ماہ ایک دوسرے کی انگلی تھامے ہماری نظروں سے یوں اوجھل ہوجاتے ہیں ۔کہ ہمیں إحساس ہی نہیں ہوتا کہ ایک پورا سال ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجانے والا ہے ۔ معصوم معصوم خواہشوں اور امیدوں کے سارے محل زمین بوس ہونے والے ہیں ۔ دسمبر کا مہینہ ہمیں یہ إحساس دلاتا ہے کہ اس سال کو ”گیا سال“ ہونے میں ایک آدھ ہفتہ باقی ہے یہ ایک آدھ ہفتہ جو دسمبر کہلاتا ہے ۔ ہمیں سال کی محرومیوں ۔ تلخیوں ۔ اور ناکامیوں کا اچانک إحساس دلا جاتا ہے ۔ ناکامیاں جو کئی ایک کا نصیب ہوتی ہیں ۔ سال کے شروع میں سوچے منصوبوں اور مقرر کئیے گئے اہداف کو پورا کرنے کے لئیے ۔اکثر ساد ہ دل اور بھولے بھالے معصوم لوگوں کے پاس صرف نیک ارادے ۔ معصوم خواہشات ۔ امید اور حوصلے کے علاوہ کوئی خاص وسائل اور سرمایہ نہیں ہوتا ۔ دسمبر آتے ہی یہ إحساس شدید ہوجاتا ہے کہ ایک اور سال ۔ ایک پورا سال زندگی کی ناکامیوں ۔ محرومیوں اور تلخیوں میں اضافہ کر گیا ہے ۔
زمانہ لڑکپن کی بات ہے۔ میں بہتر سہولت اور پرسکون ماحول کی خاطر ہاسٹل کو چھوڑ کر ایک مکان میں اُٹھ آیا ۔ سیالکوٹ کے مجھ سے کافی سنئیر ایک لڑکے کو پتہ چلا ۔تو بہ سماجت میرے ساتھ رہنے پہ مصر ہوا۔ اسے میں نے ساتھ رکھ لیا ۔ اسکا نام اکرم تھا ۔ وہ کام کا ساتھی ثابت ہوا ۔ یہ وہ دور تھا کہ ابھی پاکستانی اتنی بڑی تعداد میں نقل مکان کر کے یوروپ کے اس حصے میں نہیں پہنچے تھے ۔ بس اکا دکا لوگ ۔ تعلیم یا کاروبار کی وجہ سے ادہر ادہر بکھرے ہوئے تھے ۔ اکرم ہر ویک اینڈ پہ ڈاؤن ٹاؤن میں گُم ہوجاتا ۔اس کی غیر نصابی سرگرمیوں کی شُد بُد مجھے ہاسٹل سے پرانے جاننے والے یوروپی لڑکے لڑکیوں سے ملتی رہتی ۔اسے لاکھ سمجھایا ۔ مگر وہ اکرم ہی کیا جو سمجھ جاتا ۔اشارے کنائے سے اس نے مجھے اپنی ڈھب پہ لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے آنکھیں دکھانے پہ اس نے فوری معذرت کر لی ۔ کم عمری کے باوجود میرا قد کاٹھ نمایاں تھا ۔ خدا نے حسن اور مردانہ وجاہت بھی خوب دے رکھی ہے ۔مگر ماما مرحومہ کے وہ الفاظ کہ ”بیٹا تمہارے پاپا اور دادا مرحوم بہت نیک لوگ ہیں ۔ بیٹا ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے خاندان کی عزت پہ حرف آئے ۔ہمیشہ یہ یاد رکھنا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اسلام کے اپنے طور طریقے ہیں “ کبھی دل میں فاسد خیال آیا نہیں تھا۔ مخلوط ماحول میں اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرف سے ہر قسم کی دعوتوں پہ اپنی والدہ مرحومہ کے الفاظ نے الحمد اللہ بدی کی بجائے ہمیشہ نیکی کے رستے پہ گامزن رکھا ۔ میں نے اکرم کو بھی وارننگ دے رکھی تھی ۔کہ جس دن مجھے وہ کسی میم کے ساتھ نظر آیا ۔اسکی مکان سے چھٹی ہوجائے گی۔ تھا وہ مجھ سے سنئیر مگر وہ میری بہت عزت کرتا تھا ۔ چھوٹی عمر اور پردیس ۔ تنہائی کا ایک ہمہ گیر إحساس رہتا ۔ ہر عید بقر عید ۔ ہر بیماری ۔ ہر پریشانی پہ اکیلے۔ کوئی رہنمائی کرنے والا ۔ تیمارداری کرنے والا ۔ نہ ہوتا۔ سخت سردی جاڑے میں سردی یا بخار سے گھر میں کوئی ایسا نہ ہوتا کہ پیاس کی صورت ایک گلاس پانی یا دوائی حلق میں انڈیل دے ۔ گھر اور گھر والے ہزاروں میل دور ۔ ایسے میں، میں اور اکرم مل جل کر جیسے تیسے ایک دوسرے کے درد کے ساتھی ہوتے ۔ اور ویک اینڈ پہ اکرم کے گُم ہو جانے کی وجہ سے تنہائی کا إحساس اسقدر شدید نہ ہوتا کیونکہ ۔ میں چھوٹی سی عمر میں ہی چائے اور کھانا بنانے میں ماہر ہو گیا تھا ۔ ویک اینڈ پہ گھر پہ کھانا بنانے کی مزے کی تراکیب لڑائی جاتیں ۔ گھر کی صفائی ستھرائی ہوتی۔ہفتے کے دروان قضا ہونے والی قضاء نمازیں پڑھی جاتیں ۔ اسلامک سنٹر جانا ہوتا ۔ٹی وی ۔ ویڈیو دیکھتے ۔ پڑھائی میں اور سوتے وقت گزرتا ۔
سمسٹر کے آخر پہ دیگر ساتھیوں سے پتہ چلتا کہ کس طرح وہ سب اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور کرسمس ڈنر پہ کون کس کا بھائی یا بہن یا ماموں کہاں سے آرہا ہے۔کرسمس کے آتے ہی اکرم اپنی کسی میم دوست کے ساتھ گُم ہوجاتا اور میں قلعہ بند ہو کر گھر میں مقیم ہوجاتا ۔ ۔ سپر مارکیٹس ۔ اسٹورز ۔ دوکانیں باہر مکمل بند ہوتیں۔ دودن مکمل چھٹی ہوتی ۔ گھر سے باہر سردی کا راج ہوتا ۔جاڑا ہر طرف بازو پھیلائے ملتا ۔ نہ کسی سے واقفیت ۔ نہ شناسائی۔ جائے تو جائے کہاں؟۔ میں گھر پہ اکیلا ہوتا ۔ ٹی وی پہ صبح صادق تک کی جانے والی نصرانی عبادات کی سروس کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔ گھر اور پاکستان بہت دور اور کوئی پُرسان حال نہیں تھا ۔ اس تنہائی نے بہت اعتماد بخشا کہ چھوٹی سی عمر سے بڑے بڑے فیصلے خود کرنے پڑے ۔ گھر سے دوری ۔ اور اس دور کی محرومی نے دل میں تنہاء لوگوں کے دکھ کا در ایسے وا کر دیا کہ جب بھی کسی کو ان خاص تہواروں پہ اکیلا پاتا ہوں۔ تو دل بہت اداس ہوتا ہے۔ اور وہ زمانہ یاد آجاتا ہے۔

سال گزر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے کئی ایک سوال اور تشنہ لمحات چھوڑ جاتے ہیں ۔ جن کے دکھ اور زخم شاید ہی روح سے مندمل ہو پاتے ہوں۔ ہم زندگی میں بہت سی کامیابیاں تو پا لیتے ہیں لیکن بدلے میں روح پہ اتنے چرکے لگ جاتے ہیں جو کبھی کبھار پھیل کر ساری روح کو درد سے ڈھانپ دیتے ہیں ۔ گرمیوں کی تعطیلات میں پنڈ (گاؤں) میں خوب گرمی پڑتی۔ بڑی سی حویلی میں گھنے اور چھتار درختوں کے نیچے درجہ حرارات کئی درجے کم محسوس ہوتا ۔ ہم بہت سے کزنز ۔بہن ۔بھائی۔ دادی اماں کے گرد گھیرا بنائے بیٹھے ہوتے کہ ایسے میں بابا حیدرا نائی (ہم بچوں پہ بڑوں کی طرف سے فرض تھا کہ ہم بابا حیدرا کی بجائے احتراماَ بابا غلام حیدر کہہ کر پکاریں )بیرونی صحن کی ڈیوڑھی کے باہر والے دیودار کے موٹے موٹے ٹکڑوں کے بنے بڑے سے پھاٹک کے باہر لٹکتی زنجیر کو کھٹکھٹاتا اور اندر آنے کی اجازت طلب کرتا ۔ دادی اماں گھر کے سب افراد کو بابا حیدرا نائی کی آمد سے خبردار کرتے ہوئے کچھ توقف سے اُسے بیرونی صحن میں آنے کی اجازت مرحمت فرماتیں ۔ بابا حیدر نائی کی پہلی پکار پہ ہی دادی اماں کے پوتے اور نواسے تتر بتر ہوجاتے اور دادی اماں انہیں پکارتی رہ جاتیں ۔ دل تو میرا بھی بہت کرتا کہ بابے غلام حیدر کی آمد پہ اِدہر اُدہر ہوجاؤں۔ مگر دادی اماں کے پکارے جانے پہ۔ میں اپنی دادی اماں کے پیار اور احترام میں بیٹھے رہ جانے کے سوا کچھ نہ کر پاتا۔ دادی اماں آواز لگاتیں ۔ حیدرا لنگھ آ(حیدرا اندر آجاؤ) اور دودھ کی طرح چٹی بھوؤں والا بابا غلام حیدر نائی بیرونی صحن اور اندرونی دروازے سے گزر کر اندرونی صحن میں آجاتا اور دادی اماں حکم صاد فرماتیں کہ ”حیدرا ! مُڑے دی ٹنڈ کر دے“۔( حیدر بچے کی چندیا صاف کر دو)۔اور بابا غلام حیدر نائی مرحوم ” رچھینی“ ( اوزاروں والا بستہ) میں سے وٹی اور استرا نکال کر استرے کو وٹی پہ مذید تیز کرنا شروع کر دیتا ۔ میں بہت احتجاج کرتا مگر میری کوئی شنوائی نہ ہوتی ۔ اور بڑی محبت سے پالے بال۔ بابا غلام حیدر نائی کے استرے کی نذر ہوجاتے۔ بابا !حیدرا !!نائی اپنی کاروائی ڈال کر چلا جاتا ۔اور میں اپنی سفید سفید نئی نویلی چندیا پہ تاسف سے ہاتھ ملتے رہ جاتا۔ دادای اماں اسی پہ بس نہ کرتیں ۔ اپنی زمین پہ اگائے۔ ” تارا میرا، کے نکلوائے ہوئے سخت کڑوئے تیل سے۔ ہماری ٹنڈ پہ خوب مالش کرتیں ۔سخت کڑوا تیل کاٹتا۔ میں خوب احتجاج کرتا جاتا ۔ مگر اٹھ کر بھاگ جانا اپنی مردانگی اور دادی اماں کے پیار اور احترام کے خلاف جانتا ۔ میرے ہر احتجاجی مظاہرے پہ دادی اماں نہایت محبت سے کہتیں ۔” بیٹا ۔ چپ کر کے آرام سے بیٹھے رہو ۔ ٹنڈ کروانے کے بعد تارے میرے کے تازہ تیل کی مالش سے گردن موٹی ہوتی ہے“۔ ماما کو ممتا کے ہاتھوں مجھ پہ بہت ترس آتا ۔مگر اس مشق میں وہ بھی دادای اماں کی ہمنوا بن جاتیں ۔ اور محض اس خیال سے دادی اماں کی ہم نوا بن جاتیں ۔کہ مبادا دادی اماں کے دل میں کہیں یہ خیال نہ آجائے ۔کہ میں پہلے ماما کا بیٹا ہوں اور بعد میں اپنی دادی اماں کا پوتا ہوں ۔ اور جب تک پوَا بھر تیل ہماری چندیا میں جذب نہ ہوجاتا۔ ہماری جان نہ چھوٹتی ۔ اب دادی مرحومہ کی میری چندیا پر کی گئی مالشوں سے واللہ علم میری گردن تو موٹی ہوئی یا نہ ہوئی ۔مگرنتیجاَ میرے سر پہ اب اسقدر خوبصورت گھنے ۔ سلکی اور مضبوط بال ہیں ۔کہ ہر نیا حجام پہلی دفعہ میرے بال بناتے حیران ضرور ہوتا ہے ۔ میں شہر کے اچھے سیلون کا ممبر ہوں اور وہاں سے اپنے بال بنواتا ہوں۔ جہاں فون کر کے وقت لینا پڑتا ہے ۔ مگر کبھی کبھار وقت کی قلت اور مصروفیت کی وجہ سے بال کٹوانے کے لئیے ۔ڈاؤن ٹاؤن میں ایک پاکستانی حجام کے پاس بھی چلا جاتا ہوں ۔ پہلی دفعہ حسبِ معمول حجام نے میرے بالوں کے گھنا اور خوبصورت ہونے کے ستائش کی۔ تو میں نے اسے اپنی دادی مرحومہ کی اس کار خیر کا واقعہ بیان کیا ۔تو حجامت بنوانے کے لئیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے ایک صاحب پھڑک اٹھے ، اور ان کے منہ سے ایک لمبی آہ نکل گئی ۔ میں نے آئینے کے عقب سے انھیں دیکھا تو وہ موصوف مجھے مخاطب کر کے گویا ہوئے کہ ”بیٹا جی ! اب تو ایسی محبتیں خوآب ہو گئیں اب کوئی دادی دادا کچھ کہے تو اپنے پوتے پوتی کو۔ بہو وہ جھگڑا اٹھائے کہ ایک زمانہ دیکھے ۔ “ اب حیران ہونے کی میری باری تھی کہ خدایا یوں بھی ہوتا ہے ؟ مگر پھر کچھ لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی اور مجھے مانتے ہی بنی ۔
ہماری دادای اماں نے اسقدر اور اتنی بار ہماری چندیا صاف کروائی ۔کہ جب ہم جنگل میں شکار کے لئیے جاتے تو میرا ایک دوست جو نہائت بے تکلف تھا ۔ اکثر کہتا ”یار تمہارے گھونسوں کا خدشہ نہ ہو تو تمہاری اس نئی نویلی ٹنڈ پہ ایک چپت رسید کرنے کو خواہ مخواہ کو دل کرتا ہے “ ۔اور اتنا کہنے پہ میں اسے ایک آدھ خطاب سے نواز دیتا۔ سر میں تارے میرے کا اتنا تیل گھسا ہوتا کہ جب دوپہر کو سورج چمکتا ۔ اور سخت دھوپ ہوتی تو تیل سر سے بہہ کر کانوں سے سے نیچے تک آرہا ہوتا ۔ دادی اماں ہم سب سے بہت محبت کرتیں تھیں ۔ مجھ سے خصوصی پیار کرتیں تھیں۔ انھیں دعواہ تھا کہ میں ان کا پیار اور احترام باقی سبھی نواسوں اور پوتوں سے بڑھ کر کرتا ہوں ۔میری دادی اماں مجھے پورے اور درست نام سے کبھی نہ پکارپائیں۔ جب انکے عدم آباد روانہ ہونے کا وقت آیا تو وہ میرا نام لے کر بے چینی سے کہتیں ”میرا جاویج(جاوید ) پُتر نئیں آیا“۔ میں یوروپ میں تھا اور چھوٹی عمر تھی۔ جب دادی جان کے اللہ کو پیارے ہونے کے کئی دنوں بعد مجھے انکے فوت ہونے کی اطلاع ملی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ؏ زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے ۔
میرے چاہنے والے بہت ہوئے ہیں۔ بہت سے ہیں۔ جو مجھے جان سے پیارا جانتے ہیں ۔ جو عمروں کے فرق کے باوجود مجھ سے اپنے دل کا ہر دکھ سکھ نہائت اعتماد سے کر لیتے ہیں ۔ جو مجھے اپنا بیٹا۔ چھوٹا بھائی ۔ بھتیجا ۔ دوست ۔ سمجھتے ہیں ۔ اس بارے میں، میں خاصا خوش نصیب واقع ہوا ہوں۔ مگر اپنے چاہنے والوں سے آخری ملاقات کے معاملے میں ، ۔میں خاصا بد نصیب واقع ہوا ہوں ۔ اس سلسلے کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ جسے بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ۔ ہمت نہیں۔ دل پکڑ کر الفاظ ادا نہیں ہو سکتے ۔ بس گذرتے سال کے ساتھ کئی بیتیں یادیں تازہ ہوجاتی ہیں ۔ کئی زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ خدا جانے اگلے دسمبر تک کونسا چہرہ دیکھنا نصیب میں نہیں ہوگا ۔اکثر لوگ دسمبر کے مہنیے کو ایک ڈیپریس اور اداس حقیقت کے طور تسلیم کر تے ہیں ۔ مگر دسمبر کی اداسیوں کی وجوہات میرے نزدیک عام افراد سے بہت مختلف ہیں۔ جسے بیان کرنا بہت دل گردے کا کام ہے ۔ جسے الفاظ میں ڈھالنا اگر ناممکن نہیں تو ناممکن جیسا مشکل ضرور ہے ۔ کسی کا ذکر کرتے جب اسکا چہرہ آنکھوں میں گھوم جائے تو ۔دل جو ایک اسفنج کی طرح بھرا رہتا ہے اور چھلک پڑنے کو تیار ۔ لیکن آنکھیں سالوں کی مشق سے ۔ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قرینوں کو چھلکنے سے باز رکھتی ہیں ۔ ایسے میں سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے اور پھر الفاظ اپنی صورت کھو دیتے ہیں ۔ اور انگلیاں ساکت ہو جاتی ہیں۔ اور دسمبر میں ایک بے نام سے اداسی چھا جاتی ہے۔

lights

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: