RSS

Category Archives: غم روزگار

دسمبر دے دکھ ۔


 دسمبر دے دُکھ ۔

پہاڑیاں میرے سیدھے ہاتھ پہ تھیں۔ بحر روم میرے الٹے ہاتھ پہ اپنے پُر سکون اور روایتی انداز میں بہہ رہا تھا ۔  دبیز دھند بلندی سے  وادیوں پہ اتر رہی تھی ۔ پہاڑوں کے بلند سرے ا ور چوٹیاں دھند میں چھپتی جارہی تھیں۔ ظہر کا وقت گزر چکا تھا ۔عصر کا مختصر سا وقت شروع ہو رہا تھا ۔ موسم میں خنکی اچانک بڑھ گئی تھی۔ میں نے گاڑی کے ہیٹر کو معمولی سا مزید بڑھا دیا تھا ۔ یہاں سڑک سمندر کے متوازی بہتی ہے ۔ اور میری دیکھی بھالی ہے ۔ سڑک کے اس حصے پہ غالبا میں سینکڑوں مرتبہ ڈرائیو کر چکا ہوں ۔لیکن ہر مرتبہ اس سڑک پہ سفر کرتے ہوئے تازگی اور فرحت کا ایک نیا إحساس ہوتا ہے ۔ سڑک کے کنارے چھوٹی موٹی آبادیاں اور آبادی سے پرے اس طرف چیڑھ (پائن ) کے درختوں سے ہری بھری پہاڑیوں کے درمیان مختلف چھوٹے بڑے شاداب کھیتوں سے سر سبز پھیلتی سکڑتی وادیاں ۔ اس طرف سڑک کے ساتھ متوازی چلتی ریلوے لائن اور بے بیکراں تاحد نظر پھیلا ہوا بظاہر ساکت بحیرہ روم  اسقدر تغیر لئیے ہوئے ہے کہ ا س کے کناروں نے درجنوں مختلف تہذیبوں کو جنم دے ڈالا ۔ بلا مبالغہ دنیا کی گذشتہ اور موجودہ تہذیبوں میں بحرہ روم کا ایک بڑا ہاتھ ہے ۔میرا ذہن بہت مختلف سے احساسات اور سوچوں کی آمجگاہ بنا ہوا ہے ، سوچوں کا سرا کسی طور ٹوٹنے میں نہیں آتا ۔میں میکانکی انداز میں گاڑی چلا رہا تھا ۔ کبھی کبھار کسی آبادی سے پہلے یا بعد ۔کسی ”گیو وے “ یا ” اباؤٹ ٹرن“ پہ کسی دوسری گاڑی کو رستہ دیتے ہوئے سوچوں کا یہ سلسلہ کچھ دیر کے لئیے منقطع ہوتا اور پھر سے سوچیں ذہن کے پردے پہ وہیں سے عکاس ہونا شروع ہوجاتیں جہاں سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔
آج چوبیس دسمبر ہے ۔ ہر چوبیس اور پچیس دسمبر کی طرح مجھے یہ دن بہت اداس سا محسوس ہوتا ہے ۔اس سڑک پہ عام طور پہ محسوس ہونے والی روایتی تازگی اور فرحت کے إحساس کی بجائے ایک اداسی کی سی لکیر محسوس ہوتی ہے۔ جو مجھے یہاں سے وہاں تک ہر شئے سے لپٹی محسوس ہوتی ہے۔ دسمبر کے دن بھی انتہائی مختصر ہوتے ہیں۔ ادہر دوپہر ڈھلی ادہر شام سر پہ آجاتی ہے ۔ نصرانی مذہب کے پیروکار چوبیس دسمبر کی شام کو کرسمس ڈنر Christmas eve dinner اور پچیس کو کرسمس مناتے ہیں۔ عیسیٰ علیۃ والسلام سے منسُوب آخری ڈنر کی کی روایت سے شروع ہونے والے اس کرسمس ڈنر کے لئیے ۔اس رات سارا خاندان مل بیٹھتا ہے ۔ دور دراز سے سفر کر کے لوگ اپنے چاہنے والوں یعنی اپنے عزیزو أقارب سے کے ساتھ یہ مخصوص ڈنر کرتے ہیں ۔میرے ایک جاننے والی کی بہن جرمنی میں مقیم ہیں ۔ وہ تقریبا ہر سال وہاں سے یہاں اپنے بہن بھائیوں اور خاندان کے ساتھ کرسمس ڈنر پہ شامل ہوتی ہے۔اسی طرح ایک اور جاننے والے کے کچھ رشتے دار کنیڈا میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں سے کچھ دنوں کے لئیے واپس آتے ہیں ۔ کرسمس ڈنر عام طور پہ یہ ایک روایتی اور نہائت نجی تقریب ہوتی ہے ۔ جس میں داماد یا بہو ۔ یا ہونے والے داماد یا ہونے والی بہو یعنی منگیتر کے علاوہ شاید ہی کوئی غیر رشتہ دار شامل ہوتا ہو۔ نصرانی مذہب اور خاصکر نصرانی مذہب کے دیگر اکثر فرقوں کی طرح کھیتولک فرقہ بھی کرسمس ڈنر کے لئیے خوب تیاری کرتا ہے۔ جس میں ٹرکی سے لیکر سالم سؤر اورسالم بکرے تک بھون کر کھائے جاتے ہیں۔ مچھلی اور سی فوڈ کی کھانے کی میز پہ بھرمار ہوتی ہے۔درجنوں اقسام کے کیک اور مٹھائیاں میز پہ سجائی جاتی ہیں۔ لیٹروں کے حساب سے شمپئین ، وائن اور مختلف شرابوں کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ محض بہت زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔کرسمس ڈنر کی تیاری کے لئیے خصوصی طور پہ خریداری کی جاتی ہے ۔چاہنے والوں کے لئیے خصوصی تحائف خریدے جاتے ہیں ۔
عام طور پہ ان مخصوص دنوں میں شہر کے آس پاس تک ہی محدود رہتا ہوں ۔ مگر اس دفعہ ایک نواحی شہر کے ایک پرانے کسٹمر نے کچھ مال کریڈٹ پہ خرید رکھا رکھا تھا ۔جو کاروباری معاملے کی وجہ سے اس شرط پہ دے دیا تھا ۔کہ وہ ایک آدھے ہفتے کے دوران دسمبر کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے۔ تمام رقم ادا کر دے گا ۔ مجھے اس سلسلے میں رقم کی قسط لینے نواحی شہر کو آج جانا ہوا تھا ۔ اڑھائی دو گھنٹے میں، میں فارغ ہو چکا تھا ۔واپسی پہ سڑک کے کنارے ایک انٹر نیشنل چین کے کئی ایکڑوں پہ پھیلے مشہور ڈپارٹمنٹل اسٹور پہ رک کر ۔گاڑی میں فیول ڈلوایا اور اسپین کی مختلف ذائقوں اور اقسام کی روایتی مٹھائی ”تُرون“ خریدے ۔ چونکہ دفتر ۔ کاروبار سے دو دن سب کچھ بند ہونے کی وجہ سے چھٹی ہے ۔ لہذاہ اس دوران  اسٹور سے گھر کے لئیے ضروری خریداری بھی کر لی ۔
دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی سرکاری یا غیرسرکاری سب اداروں میں تمام ملازموں کو ایک اضافی تنخواہ ملتی ہے ۔ جسے ”کرسمس پے “ کا نام دیا جاتا ہے ۔مگر ہر جیب میں اس دفعہ اضافی تنخواہ نہیں ۔ سرکاری ملازموں کو اس دفعہ حکومت نے اضافی تنخواہ کی کٹوتی کا اعلان کر رکھا ہے ۔ مالی بحران زوروں پہ ہے ۔ مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور سہولتیں اسقدر ہیں ۔کہ انہیں ایک اضافی تنخواہ کے نہ ملنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔جب کہ ملک میں مالی بحران کے ہاتھوں پریشان لاکھوں بیروزگاروں کی جیب خالی ہے۔ حکومت مقدور بھر کوشش کرتی ہے کہ بیروزگاری الاؤنس سے بیروزگاروں کی کچھ مدد کر سکے ۔ مگر اتنے لمبے مالی بحران کی وجہ سے اب حکومت بھی بے بس اور لاچار نظر آتی ہے ۔ جب کہ نجی اداروں میں کام کرنے والوں کی اضافی تنخواہ نہیں روکی گئیں ۔ جیب میں اضافی تنخواہ ہو اور کرسمس جیسے تہوار کا معقول بہانہ ہو۔ تو مختلف سپر مارکیٹس ۔ دوکانوں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے ا۔ور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔فراغت جو مجھے کبھی کبھار نصیب ہوتی ہے ۔ اس فراغت کی وجہ سے میں کافئ دیر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے اندر گھومتا رہا ۔ آج رات کے لئیے کھانے کی ہر شئے پوری کرنے کے لئیے خریداری کی لمبی فہرستیں سنبھالے۔ خوشی سے دمکتے چہرے ۔ سالم خاندان اور جوڑوں کی شکل میں میں رنگ برنگ کے ملبوسات سجائے ۔تحائف ۔ مختلف شرابوں ۔ مٹھائیوں ۔ پھلوں ۔ خشک میوں ۔ گوشت ۔ مچھلی ۔ سی فوڈز ۔ اور انکی تیاری میں استعمال ہونے والے لوازمات سے سے لدی پھندی ٹرالیوں کے بیچ بیچ خریداری سے قبل۔ میں خالی ہاتھ گھومتا رہا ۔ بس یونہی دل کی بے نام سے بے کلی کے درماں کے لئیے ۔ کچھ دیر بعد بار میں جا بیٹھا ۔ ایک کالی اور تلخ کافی کے سِپ لینے کے دوران بھی کرسمس خریداروں کا  یہ مشاہدہ میں نے جاری رکھا ۔ ان چمکتے اور شاداب چہروں کے بیچ میں بہت سے لوگ اداس بھی نظر آئے ۔ ان میں ایک تو وہ لوگ تھے جو لمبی بیروزگاری کے ہاتھوں۔ اپنے محدود سے بجٹ کے ہاتھوں پریشان ۔ اشیاء اٹھاتے اور قیمت وغیرہ دیکھ بھال کر دوبارہ رکھ دیتے اور اس سے نسبتا کم قیمت کی شئے دوبارہ سے اٹھا کر اسکی قیمت اور اپنی جیب کا حساب لگانا شروع کر دیتے ۔ بے شک اب اس ملک میں ایسے لوگ لاکھوں کے حساب سے ہیں۔ میں انسانی ہمدردی کے تحت مقدور بھر کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی مدد کر سکوں ۔ مگر میری معمولی سی مدد اتنے بڑے سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم درجہ رکھتی ہے۔ کسی شئے کی ضد کرنے پہ ایک روتی ہوئی بچی کا باپ۔ اسے اپنی مالی حیثیت کی پہنچ نہ ہونے کا حسابی فارمولا سمجھانے کی بے سُود کوشش کر رہا تھا ۔ بچی تھی کہ ضد اور دُکھ سے روئے جارہی تھی ۔ یہ قرین انصاف نہیں کہ اکثریت تو بے جا اصراف کرے۔ اور کچھ لوگ اپنے معصوم بچوں کو معمولی اشیاء بھی نہ خرید کر دے سکیں ۔ مجھے اپنے ملک کی عید یں یاد آگئیں۔ وہاں مناطر اس سے بھی بڑھ کر تلخ ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کی بے سرو سامانی اور اپنے دیس کے مجبور لوگوں کے حالات نے کافی کی تلخی سے کہیں زیادہ تلخی میرے حلق میں گھول دی ۔
دوسری قسم کے وہ لوگ تھے ۔ جو اکیلے خریداری کر رہے تھے ۔ شاید انکا کوئی چاہنے والا اس کرسمس ڈنڑ پہ ان سے ملنے کے لئیے آنے والا نہیں تھا ۔ کیونکہ ایسا انکی انتہائی مختصر سی خریداری کی فہرست اور اسمیں مطلوبہ اشیاء کی تعداد جو عام طور پہ ایک عدد اکائی میں تھیں ۔ اور اس پہ انکا تنہاء ہونا۔ اس بات کا غماز تھا کہ وہ شاید اکیلے ہی کرسمس ڈنر کریں گے ۔ یا زیادہ سے ذیادہ ایک آدھ رشتے دار یا ساتھی ہوگا ۔ ایک تیس سالہ خاتون ایک باسکٹ میں اکا دکا اشیاء رکھ رہی تھیں ۔ دو سو گرام کا ایک تُرون (کرسمس کی رنگا رنگ مٹھائیوں میں سے ایک مٹھائی) پنیر کا ایک ٹکڑا ۔ زیتون کے کچھ اچاری دانے ۔ اور اسطرح کی کچھ اشیاء ۔ بغور جائزہ لینے سے اسطرح کے مختلف عمروں کے لوگ نظر آئے ۔ اداسی کی ایک لہر رگ و پے میرے سراپے میں دوڑ گئی ۔ ایک لمبا گھونٹ بھر کے کالی کافی کا کپ خالی کیا ۔ میں سنٹر سے باہر پارکنگ زون میں نکل آیا۔ جہاں سے سکہ ڈال کر خریداری کرنے کے لئیے ٹرالی نکالی ۔ دوبارہ سے اسٹور میں داخل ہوگیا ۔ خریداری کے دوران مختلف سوچوں نے دل و دماغ کو گھیرے رکھا۔
بحر روم پہ نگاہ دوڑائی تو سمندر اپنی عام عادت کے مطابق نہائت دھیما اور خراماں نظر آیا ۔ دہندلے سے بادلوں سے چھن کر آنے والی اکا دُکا سورج کی کرنوں سے ادہر اُدہر سے چمکتا ہوا۔یہاں سے وہاں تک بچھا ہوا ۔ یوں جیسے قدرت کے دست قلم نے نیلگوں رنگوں کو بکھیر دیا ہو ۔ مگر نہ جانے کیوں آج مجھے سمندر عام دنوں کی نسبت بہت خاموش اور اداس محسوس ہوا ۔ یا پھر شاید میرے اندر خاموشی اور اداسی کی  تنی ہوئی چادر کی  وجہ سے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا ۔  بہر حال آج کا دن بہت خاموش سا تھا ۔
بہت سے لوگ اس بات پہ متفق ہیں کہ ۔بس یہ دسمبر کا مہینہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ ایویں سا۔ سردی کے موسم میں لپٹا ہوا ۔ سال کا آخری مہینہ۔ یا پھر شاید اس کی وجہ اس ماہ کوسال کے آخر میں آنے کے وجہ سے اداس جانا جاتا ہے ۔ جب نیا سال شروع ہوتا ہے ۔ تو نہ جانے کتنے لوگ ۔ کتنے بھولے بھالے اور معصوم لوگ ۔انگنت منصوبے اور اہداف مقرر کرتے ہیں۔ جن کی بنیاد عام طور پہ امید اور نیک تمنائیں ہوتی ہیں ۔ جو سال گزرتے گزرتے ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔ سال کے گیارہ ماہ ایک دوسرے کی انگلی تھامے ہماری نظروں سے یوں اوجھل ہوجاتے ہیں ۔کہ ہمیں إحساس ہی نہیں ہوتا کہ ایک پورا سال ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجانے والا ہے ۔ معصوم معصوم خواہشوں اور امیدوں کے سارے محل زمین بوس ہونے والے ہیں ۔ دسمبر کا مہینہ ہمیں یہ إحساس دلاتا ہے کہ اس سال کو ”گیا سال“ ہونے میں ایک آدھ ہفتہ باقی ہے یہ ایک آدھ ہفتہ جو دسمبر کہلاتا ہے ۔ ہمیں سال کی محرومیوں ۔ تلخیوں ۔ اور ناکامیوں کا اچانک إحساس دلا جاتا ہے ۔ ناکامیاں جو کئی ایک کا نصیب ہوتی ہیں ۔ سال کے شروع میں سوچے منصوبوں اور مقرر کئیے گئے اہداف کو پورا کرنے کے لئیے ۔اکثر ساد ہ دل اور بھولے بھالے معصوم لوگوں کے پاس صرف نیک ارادے ۔ معصوم خواہشات ۔ امید اور حوصلے کے علاوہ کوئی خاص وسائل اور سرمایہ نہیں ہوتا ۔ دسمبر آتے ہی یہ إحساس شدید ہوجاتا ہے کہ ایک اور سال ۔ ایک پورا سال زندگی کی ناکامیوں ۔ محرومیوں اور تلخیوں میں اضافہ کر گیا ہے ۔
زمانہ لڑکپن کی بات ہے۔ میں بہتر سہولت اور پرسکون ماحول کی خاطر ہاسٹل کو چھوڑ کر ایک مکان میں اُٹھ آیا ۔ سیالکوٹ کے مجھ سے کافی سنئیر ایک لڑکے کو پتہ چلا ۔تو بہ سماجت میرے ساتھ رہنے پہ مصر ہوا۔ اسے میں نے ساتھ رکھ لیا ۔ اسکا نام اکرم تھا ۔ وہ کام کا ساتھی ثابت ہوا ۔ یہ وہ دور تھا کہ ابھی پاکستانی اتنی بڑی تعداد میں نقل مکان کر کے یوروپ کے اس حصے میں نہیں پہنچے تھے ۔ بس اکا دکا لوگ ۔ تعلیم یا کاروبار کی وجہ سے ادہر ادہر بکھرے ہوئے تھے ۔ اکرم ہر ویک اینڈ پہ ڈاؤن ٹاؤن میں گُم ہوجاتا ۔اس کی غیر نصابی سرگرمیوں کی شُد بُد مجھے ہاسٹل سے پرانے جاننے والے یوروپی لڑکے لڑکیوں سے ملتی رہتی ۔اسے لاکھ سمجھایا ۔ مگر وہ اکرم ہی کیا جو سمجھ جاتا ۔اشارے کنائے سے اس نے مجھے اپنی ڈھب پہ لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے آنکھیں دکھانے پہ اس نے فوری معذرت کر لی ۔ کم عمری کے باوجود میرا قد کاٹھ نمایاں تھا ۔ خدا نے حسن اور مردانہ وجاہت بھی خوب دے رکھی ہے ۔مگر ماما مرحومہ کے وہ الفاظ کہ ”بیٹا تمہارے پاپا اور دادا مرحوم بہت نیک لوگ ہیں ۔ بیٹا ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے خاندان کی عزت پہ حرف آئے ۔ہمیشہ یہ یاد رکھنا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور اسلام کے اپنے طور طریقے ہیں “ کبھی دل میں فاسد خیال آیا نہیں تھا۔ مخلوط ماحول میں اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرف سے ہر قسم کی دعوتوں پہ اپنی والدہ مرحومہ کے الفاظ نے الحمد اللہ بدی کی بجائے ہمیشہ نیکی کے رستے پہ گامزن رکھا ۔ میں نے اکرم کو بھی وارننگ دے رکھی تھی ۔کہ جس دن مجھے وہ کسی میم کے ساتھ نظر آیا ۔اسکی مکان سے چھٹی ہوجائے گی۔ تھا وہ مجھ سے سنئیر مگر وہ میری بہت عزت کرتا تھا ۔ چھوٹی عمر اور پردیس ۔ تنہائی کا ایک ہمہ گیر إحساس رہتا ۔ ہر عید بقر عید ۔ ہر بیماری ۔ ہر پریشانی پہ اکیلے۔ کوئی رہنمائی کرنے والا ۔ تیمارداری کرنے والا ۔ نہ ہوتا۔ سخت سردی جاڑے میں سردی یا بخار سے گھر میں کوئی ایسا نہ ہوتا کہ پیاس کی صورت ایک گلاس پانی یا دوائی حلق میں انڈیل دے ۔ گھر اور گھر والے ہزاروں میل دور ۔ ایسے میں، میں اور اکرم مل جل کر جیسے تیسے ایک دوسرے کے درد کے ساتھی ہوتے ۔ اور ویک اینڈ پہ اکرم کے گُم ہو جانے کی وجہ سے تنہائی کا إحساس اسقدر شدید نہ ہوتا کیونکہ ۔ میں چھوٹی سی عمر میں ہی چائے اور کھانا بنانے میں ماہر ہو گیا تھا ۔ ویک اینڈ پہ گھر پہ کھانا بنانے کی مزے کی تراکیب لڑائی جاتیں ۔ گھر کی صفائی ستھرائی ہوتی۔ہفتے کے دروان قضا ہونے والی قضاء نمازیں پڑھی جاتیں ۔ اسلامک سنٹر جانا ہوتا ۔ٹی وی ۔ ویڈیو دیکھتے ۔ پڑھائی میں اور سوتے وقت گزرتا ۔
سمسٹر کے آخر پہ دیگر ساتھیوں سے پتہ چلتا کہ کس طرح وہ سب اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اور کرسمس ڈنر پہ کون کس کا بھائی یا بہن یا ماموں کہاں سے آرہا ہے۔کرسمس کے آتے ہی اکرم اپنی کسی میم دوست کے ساتھ گُم ہوجاتا اور میں قلعہ بند ہو کر گھر میں مقیم ہوجاتا ۔ ۔ سپر مارکیٹس ۔ اسٹورز ۔ دوکانیں باہر مکمل بند ہوتیں۔ دودن مکمل چھٹی ہوتی ۔ گھر سے باہر سردی کا راج ہوتا ۔جاڑا ہر طرف بازو پھیلائے ملتا ۔ نہ کسی سے واقفیت ۔ نہ شناسائی۔ جائے تو جائے کہاں؟۔ میں گھر پہ اکیلا ہوتا ۔ ٹی وی پہ صبح صادق تک کی جانے والی نصرانی عبادات کی سروس کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔ گھر اور پاکستان بہت دور اور کوئی پُرسان حال نہیں تھا ۔ اس تنہائی نے بہت اعتماد بخشا کہ چھوٹی سی عمر سے بڑے بڑے فیصلے خود کرنے پڑے ۔ گھر سے دوری ۔ اور اس دور کی محرومی نے دل میں تنہاء لوگوں کے دکھ کا در ایسے وا کر دیا کہ جب بھی کسی کو ان خاص تہواروں پہ اکیلا پاتا ہوں۔ تو دل بہت اداس ہوتا ہے۔ اور وہ زمانہ یاد آجاتا ہے۔

سال گزر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے کئی ایک سوال اور تشنہ لمحات چھوڑ جاتے ہیں ۔ جن کے دکھ اور زخم شاید ہی روح سے مندمل ہو پاتے ہوں۔ ہم زندگی میں بہت سی کامیابیاں تو پا لیتے ہیں لیکن بدلے میں روح پہ اتنے چرکے لگ جاتے ہیں جو کبھی کبھار پھیل کر ساری روح کو درد سے ڈھانپ دیتے ہیں ۔ گرمیوں کی تعطیلات میں پنڈ (گاؤں) میں خوب گرمی پڑتی۔ بڑی سی حویلی میں گھنے اور چھتار درختوں کے نیچے درجہ حرارات کئی درجے کم محسوس ہوتا ۔ ہم بہت سے کزنز ۔بہن ۔بھائی۔ دادی اماں کے گرد گھیرا بنائے بیٹھے ہوتے کہ ایسے میں بابا حیدرا نائی (ہم بچوں پہ بڑوں کی طرف سے فرض تھا کہ ہم بابا حیدرا کی بجائے احتراماَ بابا غلام حیدر کہہ کر پکاریں )بیرونی صحن کی ڈیوڑھی کے باہر والے دیودار کے موٹے موٹے ٹکڑوں کے بنے بڑے سے پھاٹک کے باہر لٹکتی زنجیر کو کھٹکھٹاتا اور اندر آنے کی اجازت طلب کرتا ۔ دادی اماں گھر کے سب افراد کو بابا حیدرا نائی کی آمد سے خبردار کرتے ہوئے کچھ توقف سے اُسے بیرونی صحن میں آنے کی اجازت مرحمت فرماتیں ۔ بابا حیدر نائی کی پہلی پکار پہ ہی دادی اماں کے پوتے اور نواسے تتر بتر ہوجاتے اور دادی اماں انہیں پکارتی رہ جاتیں ۔ دل تو میرا بھی بہت کرتا کہ بابے غلام حیدر کی آمد پہ اِدہر اُدہر ہوجاؤں۔ مگر دادی اماں کے پکارے جانے پہ۔ میں اپنی دادی اماں کے پیار اور احترام میں بیٹھے رہ جانے کے سوا کچھ نہ کر پاتا۔ دادی اماں آواز لگاتیں ۔ حیدرا لنگھ آ(حیدرا اندر آجاؤ) اور دودھ کی طرح چٹی بھوؤں والا بابا غلام حیدر نائی بیرونی صحن اور اندرونی دروازے سے گزر کر اندرونی صحن میں آجاتا اور دادی اماں حکم صاد فرماتیں کہ ”حیدرا ! مُڑے دی ٹنڈ کر دے“۔( حیدر بچے کی چندیا صاف کر دو)۔اور بابا غلام حیدر نائی مرحوم ” رچھینی“ ( اوزاروں والا بستہ) میں سے وٹی اور استرا نکال کر استرے کو وٹی پہ مذید تیز کرنا شروع کر دیتا ۔ میں بہت احتجاج کرتا مگر میری کوئی شنوائی نہ ہوتی ۔ اور بڑی محبت سے پالے بال۔ بابا غلام حیدر نائی کے استرے کی نذر ہوجاتے۔ بابا !حیدرا !!نائی اپنی کاروائی ڈال کر چلا جاتا ۔اور میں اپنی سفید سفید نئی نویلی چندیا پہ تاسف سے ہاتھ ملتے رہ جاتا۔ دادای اماں اسی پہ بس نہ کرتیں ۔ اپنی زمین پہ اگائے۔ ” تارا میرا، کے نکلوائے ہوئے سخت کڑوئے تیل سے۔ ہماری ٹنڈ پہ خوب مالش کرتیں ۔سخت کڑوا تیل کاٹتا۔ میں خوب احتجاج کرتا جاتا ۔ مگر اٹھ کر بھاگ جانا اپنی مردانگی اور دادی اماں کے پیار اور احترام کے خلاف جانتا ۔ میرے ہر احتجاجی مظاہرے پہ دادی اماں نہایت محبت سے کہتیں ۔” بیٹا ۔ چپ کر کے آرام سے بیٹھے رہو ۔ ٹنڈ کروانے کے بعد تارے میرے کے تازہ تیل کی مالش سے گردن موٹی ہوتی ہے“۔ ماما کو ممتا کے ہاتھوں مجھ پہ بہت ترس آتا ۔مگر اس مشق میں وہ بھی دادای اماں کی ہمنوا بن جاتیں ۔ اور محض اس خیال سے دادی اماں کی ہم نوا بن جاتیں ۔کہ مبادا دادی اماں کے دل میں کہیں یہ خیال نہ آجائے ۔کہ میں پہلے ماما کا بیٹا ہوں اور بعد میں اپنی دادی اماں کا پوتا ہوں ۔ اور جب تک پوَا بھر تیل ہماری چندیا میں جذب نہ ہوجاتا۔ ہماری جان نہ چھوٹتی ۔ اب دادی مرحومہ کی میری چندیا پر کی گئی مالشوں سے واللہ علم میری گردن تو موٹی ہوئی یا نہ ہوئی ۔مگرنتیجاَ میرے سر پہ اب اسقدر خوبصورت گھنے ۔ سلکی اور مضبوط بال ہیں ۔کہ ہر نیا حجام پہلی دفعہ میرے بال بناتے حیران ضرور ہوتا ہے ۔ میں شہر کے اچھے سیلون کا ممبر ہوں اور وہاں سے اپنے بال بنواتا ہوں۔ جہاں فون کر کے وقت لینا پڑتا ہے ۔ مگر کبھی کبھار وقت کی قلت اور مصروفیت کی وجہ سے بال کٹوانے کے لئیے ۔ڈاؤن ٹاؤن میں ایک پاکستانی حجام کے پاس بھی چلا جاتا ہوں ۔ پہلی دفعہ حسبِ معمول حجام نے میرے بالوں کے گھنا اور خوبصورت ہونے کے ستائش کی۔ تو میں نے اسے اپنی دادی مرحومہ کی اس کار خیر کا واقعہ بیان کیا ۔تو حجامت بنوانے کے لئیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے ایک صاحب پھڑک اٹھے ، اور ان کے منہ سے ایک لمبی آہ نکل گئی ۔ میں نے آئینے کے عقب سے انھیں دیکھا تو وہ موصوف مجھے مخاطب کر کے گویا ہوئے کہ ”بیٹا جی ! اب تو ایسی محبتیں خوآب ہو گئیں اب کوئی دادی دادا کچھ کہے تو اپنے پوتے پوتی کو۔ بہو وہ جھگڑا اٹھائے کہ ایک زمانہ دیکھے ۔ “ اب حیران ہونے کی میری باری تھی کہ خدایا یوں بھی ہوتا ہے ؟ مگر پھر کچھ لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی اور مجھے مانتے ہی بنی ۔
ہماری دادای اماں نے اسقدر اور اتنی بار ہماری چندیا صاف کروائی ۔کہ جب ہم جنگل میں شکار کے لئیے جاتے تو میرا ایک دوست جو نہائت بے تکلف تھا ۔ اکثر کہتا ”یار تمہارے گھونسوں کا خدشہ نہ ہو تو تمہاری اس نئی نویلی ٹنڈ پہ ایک چپت رسید کرنے کو خواہ مخواہ کو دل کرتا ہے “ ۔اور اتنا کہنے پہ میں اسے ایک آدھ خطاب سے نواز دیتا۔ سر میں تارے میرے کا اتنا تیل گھسا ہوتا کہ جب دوپہر کو سورج چمکتا ۔ اور سخت دھوپ ہوتی تو تیل سر سے بہہ کر کانوں سے سے نیچے تک آرہا ہوتا ۔ دادی اماں ہم سب سے بہت محبت کرتیں تھیں ۔ مجھ سے خصوصی پیار کرتیں تھیں۔ انھیں دعواہ تھا کہ میں ان کا پیار اور احترام باقی سبھی نواسوں اور پوتوں سے بڑھ کر کرتا ہوں ۔میری دادی اماں مجھے پورے اور درست نام سے کبھی نہ پکارپائیں۔ جب انکے عدم آباد روانہ ہونے کا وقت آیا تو وہ میرا نام لے کر بے چینی سے کہتیں ”میرا جاویج(جاوید ) پُتر نئیں آیا“۔ میں یوروپ میں تھا اور چھوٹی عمر تھی۔ جب دادی جان کے اللہ کو پیارے ہونے کے کئی دنوں بعد مجھے انکے فوت ہونے کی اطلاع ملی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ؏ زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے ۔
میرے چاہنے والے بہت ہوئے ہیں۔ بہت سے ہیں۔ جو مجھے جان سے پیارا جانتے ہیں ۔ جو عمروں کے فرق کے باوجود مجھ سے اپنے دل کا ہر دکھ سکھ نہائت اعتماد سے کر لیتے ہیں ۔ جو مجھے اپنا بیٹا۔ چھوٹا بھائی ۔ بھتیجا ۔ دوست ۔ سمجھتے ہیں ۔ اس بارے میں، میں خاصا خوش نصیب واقع ہوا ہوں۔ مگر اپنے چاہنے والوں سے آخری ملاقات کے معاملے میں ، ۔میں خاصا بد نصیب واقع ہوا ہوں ۔ اس سلسلے کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ جسے بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں ۔ ہمت نہیں۔ دل پکڑ کر الفاظ ادا نہیں ہو سکتے ۔ بس گذرتے سال کے ساتھ کئی بیتیں یادیں تازہ ہوجاتی ہیں ۔ کئی زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ خدا جانے اگلے دسمبر تک کونسا چہرہ دیکھنا نصیب میں نہیں ہوگا ۔اکثر لوگ دسمبر کے مہنیے کو ایک ڈیپریس اور اداس حقیقت کے طور تسلیم کر تے ہیں ۔ مگر دسمبر کی اداسیوں کی وجوہات میرے نزدیک عام افراد سے بہت مختلف ہیں۔ جسے بیان کرنا بہت دل گردے کا کام ہے ۔ جسے الفاظ میں ڈھالنا اگر ناممکن نہیں تو ناممکن جیسا مشکل ضرور ہے ۔ کسی کا ذکر کرتے جب اسکا چہرہ آنکھوں میں گھوم جائے تو ۔دل جو ایک اسفنج کی طرح بھرا رہتا ہے اور چھلک پڑنے کو تیار ۔ لیکن آنکھیں سالوں کی مشق سے ۔ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قرینوں کو چھلکنے سے باز رکھتی ہیں ۔ ایسے میں سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے اور پھر الفاظ اپنی صورت کھو دیتے ہیں ۔ اور انگلیاں ساکت ہو جاتی ہیں۔ اور دسمبر میں ایک بے نام سے اداسی چھا جاتی ہے۔

lights

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔



جاوید چوہدری صاحب۔ آخرکار !۔

جاوید چوہدری صاحب!۔آپ اپنی دانست میں ۔پاکستانی میڈیا کا بھرپور دفاع کررہے تھے۔ اور جب مختلف ذرائع سے آپ کے کالم کی سابقہ تین اقساط پہ ۔اعتراضات و حقائق سامنے آنے شروع ہوئے ۔تو آپ نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہوئے۔ کالم کی چوتھی اور آخری قسط میں ۔اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے آخر کار یہ تسلیم کر لیا۔کہ آپکا بیان کردہ مثالی میڈیا دودھؤوں نہایا ہوا نہیں۔ میڈیا خامیوں سے پاک نہیں ۔ میڈیا میں نالائق لوگ موجود ہیں۔آپ لوگ شرفاء و غیر شرفاء دونوں کو یکساں طور پہ بلیک میل بھی کرتے ہیں۔نیز آپ لوگوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔


بہتر ہوتا آپ کسی ایک آدھ کالی بھیڑ کی نشاندہی کرتے۔ آپ نے پاکستان کے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے تو نام لیکر۔ ان کے مناصب کا ذکر کر کے۔ ان کی مبینہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ جب کہ آپ کتنی سمجھداری (یا عقل کی عیاری) سے اپنی برادری کے کسی ایک فرد کو بے نقاب نہیں کر سکے؟ اور ایسا کرنے سے دیدہ و دانستہ گریز کر گئے۔آخر کیوں؟۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے دیگر ساتھی۔ جو دوسروں کو بھرے بازار میں ننگا کر دینے میں۔ غیر معمولی قدرت اورمہارت رکھتے ہیں۔ جو شرفاء کے کپڑے اتارنے میں ذراجھجک محسوس نہیں کرتے ۔اپنی ”باخبری“کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ پاتال سے سچائی ڈھونڈ لانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرنے کے اقدامات کرنے کے ارشادات کرتے ہیں۔ میڈیا کی قربانیوں کا تسلسل سے پراپگنڈاہ کرتے ہیں۔ اور جن کا آپ بے سود دفاع کر رہے۔ جن سے تعلق۔ اور جنکا ایک اہم رکن ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہے۔ وہ قلم جس کی سچائی کے بارے آپ کا طبقہ پیغمبران کے شیوہ اور سنت کا ڈھنڈوارا پیٹتا ہے۔ قلم کو نبیوں کی میراث بیان کرتے نہیں تھکتا۔ تو جب آپکی اپنی برادری کی بات آئی ۔ تو آپ کمال ہوشیاری سے کوئی ایک نام لئیے بغیر۔ کسی ایک واقعے کا تذکرہ کئیے بغیر ۔ اپنی برادری کے متعفن کرتوتوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے ۔ محض از سر راہ چند ایک ”کالی بھیڑیں“ کہہ کر کے آگے نکل لئیے؟۔ آخر کیوں؟؟۔


اس کیوں کا ایک سادہ سا جواب ہے ۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے۔جسکے معانی کچھ یوں بنتے ہیں” تُم میری پیٹھ دھوؤ میں تمہاری پیٹھ دھوتا ہوں“۔ اس ضرب المثل کے عین مطابق آپ اور آپ کی برادری ۔ ایک دوسرے کو ہر جائز۔ نا جائز پہ تحفظ دیتے ہیں۔ دریا میں میں جب سبھی ننگے ہوں تو ایک دوسرے کو ننگے ہونے کا طعنہ کون دے؟۔ آپکے کاروباری مفادات۔ آپ سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ کہ اپنی برادری کے کسی فرد پہ انگلی نہ اٹھائی جائے۔ آپکی برادری کے اکا دکا لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف۔ اس وقت ایک آدھ کالم لکھا ۔ جب انکے اپنے ذاتی مفادات پہ حرف آیا۔ جب انکی کسی خاص ”وفاداری“ کو مشکوک ٹہرایا گیا۔ کیا آپ کوئی ایک ایسی مثال اپنی یا اپنی برادری کی بیان کرسکتے ہیں؟ ۔ جس میں انہوں نے اپنی کسی برادری کے فرد کا نام لے کر۔ اسکے اعمال کو اسلام۔ قوم ۔ ریاست کے مفادات کے منافی قرار دیا ہو؟۔


آپ اپنی اسی کالم کی مثال دیکھ لیں ۔ اس کالم میں آپ نے موضوع سےہٹ کر۔ دوسرے کتنے طبقات و شعبہ ہا ئے جات کو رگیدا ہے ۔ ملوث کیا ہے۔ انکی مثالیں دیں ہیں۔ بعض کو برا جانا ہے۔ مگر کس لئیے؟ محض جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئیے۔ اپنی سبھی خامیوں اور غلطیوں کے درست ہونے کا جواز پیش کرنے کے لئیے۔ آپ بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کا اس موضوع سے تعلق بنتا ہے۔ کہ یہ مذکورہ لوگ بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں آپ سانس لے رہیں۔ مگر حضور جاوید صاحب!۔ عوام کی عدالت میں آپ۔ اپنی اور اپنی برادری کی صفائی پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام کی اس عدالت میں۔ اس کٹہڑے میں۔ اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیاہے۔ آپ بتائیں۔ کبھی آپ نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کسی عدالت میں کسی ملزم کو یہ کہتے سنا ۔ کہ جج صاحب ۔ میں نے اسلئیے قتل کیا ۔ میں نے اس لئیے چوری کی۔ میں نے اس لئیے جرم کیا ۔ کہ ہر شہر میں ۔ ہر علاقے میں قتل ہو رہے ہیں۔ چوریاں ہورہی ہیں۔ جرم ہورہے ہیں۔ اسلئیے ازخود مجھے بھی یہ سبھی جرائم کرنے کا استحقاق حاصل ہوجاتا ہے؟۔ حضور ۔ اسطرح تو یہ دنیا کا بودا ترین دفاع ہوگا ۔ ناقص ترین صفائی ہوگی۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس مشق سے ۔ آپ کے اس سلسے وار کالم لکھنے سے ۔ عوام ۔آپ اور آپکی برادری سے ۔ اور پاکستانی میڈیا سےمطمئن ہوگئے ہیں؟۔ آپ لوگوں کی دیانت۔پارسائی۔ شرافت۔ سچائی ۔پہ ایمان لے آئے ہیں؟۔ اگر آپ یوں سمجھتے ہیں۔ تو آپ عوام کو مذید بد گمان کر رہے ہیں۔مزید اعتراضات اٹھانے کا موقع دیں رہے ہیں۔


حضور جاوید صاحب۔ آپ اور آپکے میڈیا کے دیگر کالم نگار و میزبان وغیرہ۔ کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتے ۔کہ وہ اپنی برادری میں سے کسی کے بارے حقائق بیان کر سکیں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ اور اس دوہرے معیار کو حرف عام میں عوام ”منافت “ کہتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی سمجھ گئے ہونگے کہ وہ ایسا سمجھنے میں کیوں کر حق بجانب ہیں۔


ایک قابل صحافی جب کسی کے بارے واقعہ لکھتا ہے۔ یا بیان کرتا ہے ۔ وہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مبینہ ملزموں کے بارے ہمیشہ ” مبینہ “ طور پہ لکھتا ہے۔ جبکہ آپ اپنے کالم کی اسی آخری قسط میں۔ یہ تسلیم کئیے ہوئے ہیں۔ یا کم از کم عوام کو یہ بالا کروانے پہ مصر ہیں۔ کہ یہ فلاں فلاں لوگ کرپٹ ہیں۔ راشی ہیں۔ مجرم ہیں۔ لہذا میڈیا کو بھی ایسا کرنے کا حق بعین پہنچتا ہے۔ یہ ایک ننھی سی مثال ہے کہ آپ اور آپ کی دیگر برادری ۔ آپکا میڈیا ۔کس طرح حقائق کو توڑ موڑ کر اپنی من مرضی کا رنگ دیتا ہے اور عوام کوغلط تاثر دیتا ہے۔ اس پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی رائے عامہ کو غلط طور پہ تعمیر کرتا ہے ۔ اسکی وجہ ان مذکورہ ملزمان میں سے اکثر کے ساتھ آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری اختلافات ہوتے ہیں۔ جنھیں آپ بھرے بازار میں ننگا کر رہے ہیں ۔وہ بھی بھلا عوام کے لئیے کسی فرعون جابر سے کم نہ ہوں گے ۔ مگر بہر طور وہ فرعون۔ چور ہونے کی وجہ سے ۔کسی طور آپکے سامنے مجبور ہیں ۔ کیونکہ انکا کاروبار بھی آپ لوگوں کی معاونت اور پروپگنڈے کا محتاج ہے۔اور جسکا آپ لوگ بھرپور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انھیں بلیک میل کر کے ۔ من پسند لوگوں کے عیوب پہ پردہ ڈال کر ۔ انکے حکومتی عہدوں اور رسوخ سے من پسند مراعات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں کی ہر پوش آبادی میں آپکے لئیے کروڑوں کی مالیت کے پلاٹ کیوں کر مختتصص کئیے جاتے ہیں؟۔ پاکستانی حکومتوں کو قومی ملکیت کے قیمتی پلاٹس بندر بانٹ کے طور بانٹنے کا استحاق کسی طور پہ حاصل نہیں ہونا چاہئیے ۔ وہ قیمتی پلاٹس آپکا اور آپکی برادری کا منہ بند رکھنےنے کے لئیے بانٹے جاتے ہیں ۔ ۔ لفافوں۔ مفت کے عمروں۔ مفت کے حجوں ۔ یوروپ و امریکہ اور دنیا میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں اقامت۔ دوروں کے شاہانہ اخراجات ۔ ذاتی رسوخ۔ پرچی اور سفارش کی بلیک میلنگ۔ انگنت مکروہات ۔ آخر آپکا ۔ آپکی برادری کا قلم ایسے گھناؤنے موضوعات پہ ۔ ایسے پلاٹوں کی بندر بانٹ پہ شعلے کیوں نہیں اگلتا؟ ۔ اور جن سے آپکے سیاسی۔ منصبی ۔ اور کاروباری مفادات وابستہ ہیں۔ آپ انھیں پارسا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ اگر اصرار کریں گے تو کئی ایک مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ جبکہ یہاں آپکی یا کسی اور کی عزت کو کھینچنا ہمارا مقصد نہیں۔


آپکی اس منطق کے قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے ۔ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خسارے کا کاروبار کر رہاہے؟ ۔ اگر آپ کی اس بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ اس ”خسارے“ کو اربوں روپے کمانے والے لوگ کہاں سے پورا کر رہے ہیں؟۔ اور کیونکر وہ خسارے کا کاروبار نباہ رہے ہیں؟ ۔ دوسو کروڑ سے ایک ٹی وی ادارہ قائم کرنے والے اور ایک اخبار جاری کرنے کے لئیے پچاس کروڑ روپے خرچ کرنے والے ۔ خسارے کا کاروبار محض پاکستانی عوام کو باعلم رکھتے ہوئے باشعور بنانے کی محبت میں کر رہیں؟۔ حضور جاوید صاحب آپ۔ ہماری اورقارئین اکرام کی ذہانت کا مذاق تو مت اڑائیں؟۔ آپ کس کو دہوکہ دینا چاہتے ہیں؟۔


حضور جاوید صاحب!۔ پاکستانی میڈیا سے چلتے اشتہارات ۔جن سے عام طور پہ فحاشی اور عریانی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ ایسے اشتہارات کا آپ نے کمال چابک دستی سے دفاع کیا ہے ۔ کیا آپ عوام کو اسقدر سادہ سمجھتے ہیں؟ یہ عوامی ذہانت کی توہین ہے۔ اس ضمن میں آپ نے اپنا سارازور بیاں اشتہارات کےکیونکر ضروری ہونے کو بنیا د بنا کر۔ اصل موضوع سے صرف نظر کرتے ہوئے ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو مارکیٹنگ پہ درس دینا چاہا ہے۔ اشتہارات کی مد میں جو نکتے آپ نے بیان کئیےہیں۔ اتنا سا نکتہ ۔اتنی سی بات تو گلی محلے کا ۔ایک عام دکاندار اور عام سی دانش کا مالک کوئی بھی فرد سمجھتا ہے ۔جبکہ آپ بھی جانتے ہیں اور میڈیا کو بھی بخوبی علم ہے۔کہ عوام کو اشتہارات پہ نہیں ۔ بلکہ فحش اور عریاں ۔ اور پاکستانی ثقافت اور رہن سہن سے میل نہ رکھنے والے اشتہارات پہ اعتراضات ہیں ۔ کیا میڈیا مالکان اور وہ انتظامیہ جن کا آپ بڑی شدو مد سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ شرافت اور اخلاق کے دائرے میں بنے اشتہارات کو شرط رکھ لیں۔ تو کیا انکی آمدن میں کمی واقع ہوجائے گی؟۔آپکے اور آپکے دلائل کے قربان جاؤں۔ کیا ایسے میڈیا مالکان۔ یا انکے چند ایک کروڑ روپوؤں کو بنیاد بنا کر عریانیت ۔ فحاشی ۔ غیر اسلامی ۔ غیر پاکستانی اور بھارتی ثقافت کو پوری قوم پہ مسلط کر کے ۔ ایک پوری ریاست ۔ پوری قوم کا ستیاءناس کرنا جائز تصور کر لیا جائے؟۔ حضور یہ ان ”کروڑوں“ روپے کی چکا چوند ممکن ہے آپ کی نظروں کوخیرہ کرتی ہو۔ مگر عوام ایسی چکا چوند جس کی بنیاد قوم فروشی ہو ۔ اس پہ لعنت بھیجتے ہیں۔


آپ تسلیم کرتےہیں ۔ ۔ کہ کسی ”ایشو“ کو” نان ایشو“ بنانا۔ اور کسی” نان ایشو“ کو ”ایشو “بنانے میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ اور اچانک آپ نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ ۔ میڈیا کے مالکان۔ میڈیا کی انتظامیہ پہ ڈال دیا ہے ۔حضور جاوید صاحب! ۔ پھر آپ نے اس اہم مسئلے کو اپنے کسی کالم میں ۔ اپنے کسی پروگرام میں کیوں موضوع نہیں بنایا ؟۔ حسب معمول ۔ اپنی کسی ٹی وی محفل میں کیونکر میڈیا مالکان اور انتظامیہ اور فریق مخالف کو آمنے سامنے بٹھا کر ۔یعنی عوام کے ۔ معاشرے سے ۔پاکستانی شہریوں کے نمائیندوں کو مدعو کر کے۔ سوالات و جوابات اور وضاحت کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا؟۔ آخر کیوں؟۔ جب کہ کسی معمولی سے مبینہ اسکینڈل پہ آپ لوگ شرفاء کو ننگا کرنے کے لئیے فوراَ زر کثیر خرچ کر کے پلک جھپکنے میں ایسے ایسے بندوبست کر لیتے ہیں ۔ کہ عقل حیران رہ جاتی ہے؟۔ تو پھر عوام کے اعتراضات کے بجا ہونے پہ بھی ۔ آپ کو کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہئیے۔


آپ کے اس سارے لمبے چوڑے کالم میں۔ ان سبھی اقساط میں جس افسانے کا ذکر نہیں۔ وہ بات ۔ اسکا تذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ اور وہ ہے۔ وہ اعتراف نامہ اور اسکے نتیجے میں عوام سے تعلقات کی تجدیدنو کا ذکر۔ جسکا آپکے کالم کی ان چار اقساط میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔اتنی لمبی چوڑی مشق کے بعد قارئین اکرام ۔ آپ سے یجا طور پہ یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ بیان کرتے کہ ۔ہم سے ۔ میڈیا سے۔ پاکستانی میڈیا سے جو خامیاں ۔کوتاہیاں ۔ بلیک میلنگ۔ اسلام پہ تمسخر۔علماء کا ٹھٹا اڑانا ۔ اسلامی روایات کا مذاق۔مثلا ۔حجاب ۔ نقاب۔ مولبی مولبی کہہ کر داڑھی ۔ سر ڈھانپنے کے لئیے پگڑی۔ ٹوپی وغیرہ جیسی اسلامی شناختوں اور علامتوں کا اسہتزاء اڑانا ۔پاکستانی قوم کو متواتر احساس کمتری کے ٹیکے ۔ بھارتی ثقافت کی یلغار۔ اشتہارات میں عریانی اور فحاشی۔ ناچ گانے اور اسطرح کے دیگر لغویات کو پاکستان اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کا نام دیکر مادر پدر آزاد بھونڈی تقریبات کا انعقاد۔ تسلسل کے ساتھ متواتر بے حیائی کا فروغ۔ ہر قسم کی اخلاقی قدغن سے بالا پروگرامز ۔ امریکہ اور دیگر طاقتوں کے قومی مفادات کے لئیے پاکستانی میڈیا کو پاکستانی مفادات کے خلاف خوب استعمال کرنا ۔ اسلام دشمن تہذیبوں کو رواج دینا ۔ اور ڈرؤن حملوں میں مارے جانے والے بے کس پاکستانی عوام ۔ خواتین ۔ بزرگ اور خصوصی طور بہیمانہ طریقے سے قتل کئیے جانے والے معصوم بچوں کو بھی اسی طرح ”ہائی لائٹ“ کرنے کا وعدہ۔ جس طرح آپ ۔ آپکے ساتھی۔ اور آپکا ۔ پاکستان کا میڈیا ۔امریکہ اور دیگر طاقتوں کی ایماء پہ۔ ان کے منظور نظر لوگوں کو۔ محض اسلام کو کسی طور بدنام کرنے کے لئیے ہائی لائٹ کرتا ہے۔ کوریج دیتا ہے۔ اور دیگر معاملوں پہ ۔ میڈیا کو درست کرنے کی اپنی سی کوششوں کا وعددہ کرنا۔ پاکستانی صحافیوں میں ملک قوم۔ اسلام و پاکستان کا درد رکھنے والوں کو ڈھونڈ نکال کر (جو بہت سے لوگ ہیں) انہیں کسی تنظیم کی لڑی میں پرو کر۔ میڈیا مالکان ۔ میڈیا مفادات کے عیار تاجروں کو راہ راست پہ لانے کی سعی کرنا۔ آپکے اتنے لمبے چوڑے چار اقساط پہ مشتمل کالم میں اسطرح سے کسی کوشش کا کوئی ذکر۔ کوئی تذکرہ ۔کوئی اشاراتی یا واضح بات ۔ کوئی سراغ ۔ کچھ بھی تو نہیں؟۔ آپکے کالم کی پوری چار اقساط میں آپ نے پاکستان میں رائج عامیانہ طریقے سے قند مکرر کے طور اپنی ۔ اپنی براداری ۔ پاکستانی میڈیا ۔ حتٰی کہ پاکستانی میڈیا سے چلتے فحش اشتہارات تک کا دفاع کیا ہے ۔ جبکہ راست اقدام یا عوام سے محبت و تعلقات کی تجدید نو کی کسی ایسی کاوش یا کوشش کا ذکر نہیں ۔ جس سے عوام کے جائز اور ٹھوس اعتراضات کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے؟۔


آپ نے اپنے کالم میں کم ازکم ۱۸ اٹھارہ مرتبہ یہ شکوہ کیا کہ عوام آپ کو اور پاکستانی میڈیا کو یہود انصارٰی کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ کم از گیار ہ ۱۱ مرتبہ شکایت کی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو گالی دی جاتی ہے۔ محض اپنی علمیت جتانے کے لئیے۔ اور قوم کو صابن تیل کا بھاؤ بتاتے ہوئے۔ جب اچانک آپ جیسے ”باخبر“ دانشور امریکہ سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”نیوز ویک“ میگزین کے بارے میں یوں ارشاد فرمائیں گے ۔” یہ دنیا کا معتبر ترین جریدہ تھا‘ یہ 80 سال سے پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا تھا “ تو آپکی ”باخبری“ اور ”دانشوری “پہ سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی آپ نے یہ جاننے کا اہتمام کیا ۔ کہ نیوزویک نے دیگر اکثر مغربی جرائد کی طرح ۔ اپنے مخصوص طریقہ کار سے۔ اسلام ۔ اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات ۔ اور اسلامی ممالک کے بارے کس قدر غلط فہمی پھیلائی ہے۔ آپ کو پاکستانی قوم کو صابن۔ تیل کا بھاؤ بتانے کے لئیے کیا اس عمدہ کوئی مثال نہیں ملی؟ ۔ اور اگر اس میگزین کا حوالہ دینا ہی ضروری ٹہرا تھا ۔ تو اسے دنیا کا ” معتبر ترین جریدہ “ کہنا اور بیان کرنا کہ اس نے” دنیا کی پچھلے اسی ۸۰ سال سے رہنمائی کی“؟۔ کیا یوں ارشاد کرنا ضروری تھا؟ ۔ حضور جاوید صاحب ! ۔ لفظ” معتبر“ کا تعلق ”اعتبار“ سے ہے۔ اور اس ”دنیا “میں ”مسلمان“ بھی شامل ہیں ۔جو اسطرح کے رسائل اور جرائد پڑھتے ضرور ہیں ۔ مگر ان سے رہنمائی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا اعتبار رکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں مشکوک جانتے ہیں۔ یہ جو آپ بڑے ”دھڑلے“ سے اسطرح رائے عامہ کو غلط معلومات بہم پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جیسے آپ نے موضوع سے ہٹ کر مسلمانوں کی نظر میں جائز طور پہ مشکوک ۔ نیوز ویک کو معتبر اور اسی ۸۰ سال سے دنیا کی رہنمائی کرنے والا جریدہ بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام کو یہ خبر ہے کہ اس سلسلے کو اگر آج نہ روکا گیا۔ پاکستانی میڈیا اور آپ جیسے دنشواران کی اسطرح کی بظاہر بے تکی مگر نہائت طریقے سے مرتب کی ہوئی کوششوں پہ مناسب ردعمل نہ دیا گیا ۔ تو پاکستانی میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کا کوئی اعتبار نہیں کہ کل کلاں کو ملعون رشدی کو کو بھی ایک عظیم رائٹر یا معتبر دانشور قرار دے دے۔ تو اسلئیے عام قاری آپ کو اور آپ جیسے افراد کو مختلف القابات و خطابات سے نوازتا ہے۔اور آپکا اس پہ چیں بہ چیں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔


عوام جانتے ہیں ۔ کہ پاکستانی میڈیا سے اسلام کو متشدد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پہ آپکا میڈیا پر امن اور با خلوص لاکھوں کے جلوس اور جلسوں کو کوریج دینے کی بجائے محض ان شرارتی اور جرم پیشہ لوگوں کی تھوڑ پھوڑ ۔ چور چکاری۔ اور چھینا جھپٹی کو بار بار ہزار بار میڈیا پہ ٹاپ ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ جبکہ آپ جیسے ”باخبر“ اور ”دانشور “ میڈیا کے لوگ یہ جانتے ہیں۔ اور یہ بات ریکارڈ پہ موجود ہے کہ اسطرح کے بڑے جلوسوں اور جلسوں میں ہماری عزت مآب ایجنسیوں کے اہلکار ۔ انکے لے پالک۔ اور جرائم پیشہ لوگ محض حکومت کی مخالفت کی ایماء پہ یا مالی مفاد کے لئیے جان بوجھ کر ایسی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ جس سے ممکن ہے کہ ان میں حکومت اور معاشرے سے شاکی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہونگے۔ اور پھر ایک خودکار نظام کے تحت سبھی چینلوں سے ایک پروگرام کے تحت ۔ اور تقریبا سبھی اخبارات میں اسلام پسندوں پہ کالموں کے کالم سیاہ کئیے جاتے ہیں۔ اسے بہانہ بنا لیا جاتا ہے ۔ محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسلام پسندوں اور علماء کو ۔ پاکستانی حکومتوں سے احتجاج کرنے والوں کو۔ خوار کرنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کے علاوہ بھی کوئی بھی اسلامی یا قومی مسائل پہ ہونے والے جلسے اور جلوسوں کا کم و بیش یہی حشر بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے میں بنیادی فریق آپکے بیان کردہ مثالی میڈیا کا کردار ہوتا ہے۔

حال میں پاکستانی میڈیا سے۔ غیر ملکی طاقتوں کی گود میں کھیلنے والوں کو ۔ اپنے راتب کو جائز ثابت کرنے والوں کو ۔ دین و ملت فروشوں کو ۔ اسلام کے خلاف موضوع فراہم کرنے والوں کو ۔ شرعی حدود کو بدنام کرنے والوں کو ۔ پاکستانی عوام کو متشدد ثابت کرنے کے لئیے عالمی میڈیا اور دنیائے عالم کے عوام کو نت نئے موضوعات پہ جعلی ویڈیوز۔ خبروں۔ اور تجزئیوں کو بغیر تصدیق کئیے اس قدر کوریج دی گئی ۔ پھیلایا گیا ۔ کہ  وہ ویڈیوز ۔ تصاویر جعلی ہونے کے باوجود ۔ آج تک عالمی میڈیا میں پاکستان ۔ اور اسلام کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ حضور جاوید صاحب ۔ جس طرح نیکی اور خیر کا کےتادیر ثمر ات دینے والے کاموں کو ”صدقہ جاریہ“ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذلت کے دیرپا کاموں پہ ”ذلت جاریہ“ کی صورت میں لعنتیں برستی ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کے راتب کھانے والے اسلام فروشوں ۔ ملت فروشوں کے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور دیگر لوازمات ۔ آپکے میڈیا کے پھیلانے سے وہ ساری دنیا میں ۔اسلام ۔ پاکستان ۔ پاکستان کے عوام کے خلاف ایک متواتر ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں۔ خدا جانے جس کا خمیازہ قوم کب تک بھگتی رہے گی۔ دنیا کے میڈیا میں جاری و ساری ان تمام جھوٹی اور جعلی شہادتوں کی” ذلت جاریہ“ تا قیامت اور قیامت کے بعد بھی یہ لوگ بھگتیں گے ۔ جنہوں نے ” کرڑؤں“کی چکاچوند سے متاثر ہو کر۔ قوم فروشی میں ہاتھ رنگے۔


عوام جنہیں آپ نے اپنے کالم کی اس سیریل کی پوری مشق میں۔ عقل سے عاری سمجھا ہے اور انکی ذہانت کی بار بار توہین کی ہے۔ وہ عوام ۔آپکی طرح اس بات کے پابند نہیں کہ وہی بات کہیں جو آپ سننا چاہتے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ مجبوری ہے۔ کہ آپ جس کا کھاتے ہیں اس کے گیت گانے پہ مجبور ہیں۔ مگر عوام اپنے آزادانہ خیالات کا اظہار نہ کرنے پہ مجبور نہیں۔ مارکیٹنگ کے سنہرے اصول بیان کرتے ہوئے مارکیٹ کا یہ بنیادی نکتہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں۔ جو جنس بازار میں آئے گی۔ اس پہ بھاؤ اور مول تول تو ہوگا۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جمہور تو مفت کے لنگر اور بلامعاوضہ خدمات پہ بھی چوں چرا کرنے سے باز نہیں آتا ۔تو جب آپ ایک معقول تنخواہ لیکر عوام کی توقعات پہ پورا نہیں اترتے۔ تو عوام کی ایسی کونسی مجبوری ہے جو وہ آپکو معاف رکھے؟۔


اگر پھر بھی آپ عوام سے۔ جمہور سے۔ قند مکرر کے طور پہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ عوام کو باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ۔ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ تو گزارش ہے اسمیں بھی آپ کا ۔ آپکی برادری کا ۔ پاکستانی میڈیا کا قصور ہے ۔ جو آزادی کے ۔ آزاد میڈیا کے دعوے تو بہت کرتا ہے ۔ مگر کسی طور عوام کی یا کم از کم اپنے قارئین اور ناظرین کی فکری تعمیر کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ جب پاکستانی میڈیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پہ رقیق حملے کرنے والے امیتابھ بچن جیسے لوگوں کی بہوؤں کے حاملہ ہونے ۔ انکے دادا بن جانے کو ہی ایشو بنا کر پیش کرے گا۔ تو آپ ہی بتائیے عوام کو کیا پڑی ہے کہ آپ کو اور میڈیا کو سات سیلوٹ کرے۔ ممکن ہے آپ کی۔ یا آپکی طرح کے دیگر دانشوروں کی تو روٹی روزی کی ضمانت ہی اس طرح کے قوم فروشی کے ایشوز سے جڑی ہو؟۔ تو عوام کس حساب میں ۔آپ لوگوں کی تعریف و توصیف کرتے پھریں۔ حضور جاوید صاحب ! یا تو آپ بہت سادہ ہیں۔ یا بہت چالاک۔


حضور جاوید صاحب ۔آپکی یہ منطق بھی درست نہیں ۔آپ کا یہ نکتہ بھی درست نہیں۔ کہ میڈیا پاکستانی عوام کو مفت تفریح اور معلومات بہم پہنچاء کر احسان کر رہا ہے ۔یہ عوام ہی ہیں ۔ اس پاکستانی قوم ہی کی وجہ سے۔ آپکے میڈیا کو اشتہارت ملتے ہیں۔ میڈیا کا دانہ۔ پانی چلتا ہے۔ اس میں سے آپ کوبھی مشاہیرہ ملتا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کا اربوں کا نظام کاروبار چلتا ہے۔ اور آپ اور نہ آپ کا مثالی میڈیا ۔عوام کو مفت میں تفریح یا معلومات مہیاء کر رہا ہے۔ بلکہ عوام آپکے کسٹمرز ہیں اور دنیا بھر میں رائج منڈی کے اصولوں کے مطابق ۔ آپ کو ۔ آپکے دودھؤں نہائے میڈیا کو۔ اپنے کسٹمرز کے ۔ اپنے عوام کے مطالبات کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ کہ کسی طور وہ آپکی تنخواہ اور دیگر لوگوں کے معاوضوں اور منافعوں کا باعث ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو ۔ آپکی برادری کو ۔ عوام کا احسانمند ہونا چاہئیے ، کہ پاکستان کے دیگر شعبات جات کی طرح آپ بھی اپنی من مانی کر کے ۔ عوام پر ہر وہ اشتہارتی عریانی و فحاشی اور نظریاتی ۔ کالم اور پروگرام مسلط کر رہے ہیں ۔ جو عوام کے مطالبے سے یکسر متضاد ہیں۔ اور اسکے باوجود عوام آپ سے محض گلہ کر کے رہ جاتے ہیں۔


آپ نے اتنی بار عوام کی جانب سے اپنے آپ اور میڈیا کو۔ یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ کہنے کی تکرار کی ہے ۔ جو درست نہیں۔ کیونکہ عوام بہر حال یہ بھی جانتے ہیں۔ کہ یہود نصاریٰ بھی انھی کو اپنے مفادات کا ”ایجنٹ“ مقرر کرتے ہیں۔ جن کے پاس ”کچھ“ علم ۔ شعور ۔ اور بات کہنے کا طریقہ ہو۔ میٹھے میں زہر ملا کر پلا دینے کا فن جانتے ہوں، ۔ جوانکے مفادات کا تحفظ بہتر طور پہ کرسکتا ہو۔ یہودو نصاریٰ کو کیا پڑی ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں۔ آپ جیسے یا دیگر لوگوں کو اپنا ”ایجنٹ “ بناتے پھریں؟۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو اپنے”ایجنٹس“ مقرر کرتے۔ تو وہ قومیں کبھی کی دنیا سے معدوم ہوچکی ہوتیں۔ وہ قومیں ہماری طرح عقل سے پیدل نہیں ہیں۔ اسلئیے ناحق آپ نے ۱۸ اٹھارہ مرتبہ اپنے آپ کو ”یہودو نصاریٰ کا ایجنٹ“ ہونے کا۔ عوام کی طرف سے تکرار  کئیے جانے کا اعزاز لیا ہے۔جبکہ عوام اس تناظر میں۔ جیسے آپ نے بیان کیا ہے ۔ آپکو یا دیگر میڈیا کو یہودو نصاریٰ کا ” ایجنٹ “ تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتیں ۔ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے لئیے۔ کبھی کبھار اپنے حقیقی ایجنٹس سے ۔ایسے لوگوں کو مالی مراعات۔ خیرات ۔ انعام اور راتب وغیرہ پھینکتی رہتی ہیں۔ مالی مراعات جنکی مالیت عالمی طاقتوں کے لئیے کوئی معانی نہیں رکھتیں ۔مگر ضمیر فروشوں کے لئیے گنج گراں مایہ سے کم حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس وجہ سے وہ ہر روز۔ ہر موقع بے موقع پہ انکے لئیے مدح سرائی کرتے ہوئے۔ دُم ہلانے سے باز نہیں آتے۔ اور آخر کار اسی کو وسیلہِ رزق سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ بدقسمتی سی برصغیر کے مسلمانوں میں اور پاکستان میں خصوصی طور پہ ۔ ننگ ملت ۔ ننگ وطن۔ ننگ قوم۔ میر جعفر اور میر صادق کی نسل کہیں نہ کہیں ضرور تیار کی جارہی ہے۔ حرام کھانے والوں ۔ قوم فروشوں۔ اسلام فروشوں۔اور ضمیر فروشوں کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط اؤل کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط دوئم کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی قسط سوئم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

جاوید چوہدری صاحب کے کالم کی آخری قسط چہارم  کا بیرونی رابطہ لنک۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جاوید چوہدری صاحب !۔


جاوید چوہدری صاحب!۔

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے پاکستان کے میڈیا مالکان۔ میڈیا سے اپنی مطلب براری کے لئیے میڈیا کے ڈونرز۔ پالیسی سازوں۔ایڈیٹروں۔ کالم نگارروں۔ ٹی وی میزبان ۔ نت نئے شوشے چھوڑنے والوں اور نان ایشوز کو ایشوز بنا کر قوم کو پیش کرنے والوں کا مقدمہ لڑتے ہوئے آپ نے اپنے کیس کو مضبوط بنانے کے لئیے سارے میڈیا کو ایک فریق بنا لیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے ۔ اپنے مقدمے میں میڈیا سے متعلق سبھی شعبہ جات کو ملوث کر لیا ہے۔ جبکہ پاکستان کے قارئین و ناظرین کے اعتراضات میں میڈیا سے متعلق سبھی لوگ شامل نہیں۔ اور معدودئے چند ایسے لوگ ابھی بھی پاکستان میں ہیں جو حقائق کا دامن نہیں چھوڑے ہوئے اور ایسے قابل احترام کالم نگار اور میزبان اور جان جوکھوں میں ڈال کر رپوٹنگ کرنے والے رپوٹر حضرات (جنہیں بجائے خود میڈیا مالکان انکی جان کو لاحق خطرات کے لئیے کام آنے والی مختلف سہولیات بہم پہنچانے میں ناکام رہے ہیں) اور حقائق عوام تک پہنچانے والے یہ رپورٹرز عوام کے اعتراضات میں شامل نہیں۔ جسطرح ہر شعبے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح میڈیا سے متعلق ان لوگوں پہ عوام کو اعتراضات ہیں۔ جن کا بے مقصد دفاع آپ کر رہے ہیں۔

آپکی یہ منطق ہی سرے سے غلط ہے کہ اس ملک(پاکستان) میں سب چلتا ہے۔ اور تقریبا سبھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی ایک لوگ۔ جائز یا ناجائزطریقوں سے کیا کچھ نہیں کما رہے۔ اور اسی منطق کے تحت اگر میڈیا اور صحافت سے تعلق رکھنے والے بھی وہی طریقہ کار اپنا رہے ہیں تو اس میں حرج کیا ہے؟۔ اسکا مطلب تو عام الفاظ میں یہی بنتا ہے کہ صحافت بھی ایک کاروبار ہے اور پاکستان میں رائج جائز ناجائزسبھی معروف طریقوں سے صحافت میں مال اور رسوخ کمانا بھی درست سمجھاجائےَ؟۔ تو حضور جب آپ یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دہونے کا حق بشمول میڈیا سبھی کو حاصل ہے۔ تو پھر عوام حق بجانب ہیں جو آپ اور آپ کے مثالی کردار کے میڈیا پہ اعتراضات کرتے ہیں۔ تو پھر آپ کو اتنا بڑھا سیریل وار کالم لکھنے کی کیا سوجھی؟۔

آپ نے اپنی برادری  کے وسیع المطالعہ ہونے کا تاثر دیا ہے۔ اپنی برادری کو پاکستان کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد حتیٰ کے عام آدمی تو کیا علماء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں سے بڑھ کر اپنے وسیع المطالعہ ہونے کا دعواہ کیا ہے اور مطالعے کے لئیے مختلف کتابوں پہ اٹھنے والے اخراجات کا ڈھنڈورہ پیٹا ہے۔ پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونے کے اعزاز کا چرچا کیا ہے۔

حضور جاوید صاحب۔ پاکستان کے تنخواہ دار میڈیا کے چند ایک نہائت قابل افراد کو چھوڑ کر باقی کے وسیع المطالعہ ہونے کا اندازہ ان کے کالم اور تحریرو تقریر سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ وہ اقوام عالم اور دور حاضر میں اسلام یا پاکستان کے بارے کسقدر باخبر ہیں۔ اور تاریخ وغیرہ کی تو بات ہی جانے دی جئیے۔ اس لئیے آپکا یہ دعواہ نمائشی اور فہمائشی تو ہوسکتا ہے ۔ مگر اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ کیونکہ علم خود اپنا آپ بتا دیتا ہے۔ علم اپنا تعارف خود ہوتا ہے۔

آپ نے اپنی برادری کی پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے حاصل کی جانے والی لٹریسی ڈگریزکا ذکر کیا ہے ۔ ان میں پاکستان کی یونیورسٹیز جنہیں آپ بہترین بیان کر رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیز کو دنیا کی بہترین چھ سو یونیورسٹیزکے کسی شمار میں نہیں رکھا جاتا۔ نہ اب اور نہ پہلے کبھی کسی شمار میں رکھا گیا ہے ۔ لیکن کیا آپ کے علم میں ہے؟ ۔ کہ پاکستان میں اور بیرون پاکستان جو قارئین اور ناظرین آپ کے میڈیا کو دیکھتے ہیں اور گھن کھاتے ہیں۔ اور پاکستانی میڈیا پہ اعتراضات جڑتے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آپ سے بھی اہم اور پیچیدہ موضوعات پہ ڈگریز رکھتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہیں۔اور گرانقدر تجربہ ان کے پاس ہے۔

ایسے ایسے نابغہ روزگار اور اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ۔ بلاگنگ۔ فیس بک۔ سوشل میڈیا پہ صرف اس لئیے اپنی صلاحتیں بلا معاضہ پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے آپکے مثالی کردار میڈیا سے بیزار ہی نہیں بلکہ مایوس ہوچکے ہیں۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے بہترین موضوعات پہ ڈگریز لے رکھی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟؟ ۔ یہ ڈگریز کا حوالہ اور تذکرہ محض آپکی کالم نگاری کے جواب میں ہے ۔ ورنہ لازمی نہیں کہ محض ڈگریز کے حصول سے ہی کوئی فرد زیادہ قابل بن جائے۔

ملک کے جن اٹھارہ کروڑ عوام سے آپ نے گلے شکوے کئیے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے ۔ آپکے دیگر ساتھیوں۔ یعنی بہ حیثیت میڈیا کبھی یہ جاننے کی تکلیف گوارہ کی کہ وہی اٹھارہ کروڑ عوام آپ سے کسقدر مطمئن اور خوش ہیں۔ اس بارے آپ کے قابل قدر میڈیا نے کوئی سروے کیا ہو؟ ۔ عوام سے کبھی رائے مانگی ہو؟؟۔


حال میں۔ جعلی اور فرضی خبریں جنہیں آپ۔ آپ کے ساتھیوں اور پاکستانی میڈیا نے ان فرضی اور جعلی واقعات کو ٹاپ ایشوز بنا کرقوم کے سامنے پیش کیا۔ قوم کو ورغلایا۔ غلط طور پہ رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں موڑنے کی کوشش کی۔ اور جب جب جھوٹ ثابت ہوجانے پہ سوشل میڈیا سے اور دیگر ذرائع سے شوروغوغا اٹھا۔ تو آپ کے بیان کردہ پاکستانی مثالی میڈیا کو اسقدر توفیق نہ ہوئی کے اس بارے اسی شدو مد سے وضاحت جاری کرتا۔

جاوید صاحب! آپ اس بات کا جواب دینا پسند کریں گے کہ میڈیا پہ میڈیا کے پروردہ اور منتخب دانشور جو جعلی واقعات اور جھوٹی خبروں پہ جس غیض غضب کا مظاہرہ اسلام اور شرعی حدود کے خلاف کرتے رہے ہیں ۔ آخر کار اسطرح کی خبریں جھوٹی ہونے پہ آپکے بیان کردہ مثالی اینکرز اور خود آپ نے کبھی انھی افراد کو دوبارہ بلوا کر جھوٹ کا پردہ آشکارا ہونے پہ دوبارہ اسی طرح کسی مباحثے کا اہتمام کیا؟ ۔ جس سے میڈیا کی طرف سے قوم کو اسلام اور شرحی حدود کے بارے ورغلائے جانے پہ انھیں یعنی عوام کو اصلی حقائق کے بارے پتہ چلتا؟۔

پاکستان کے عام قاری کو اس بات سے غرض نہیں۔ کہ آپ معاوضہ کیوں لیتے ہیں۔ انکا اعتراض اس بات پہ ہے کہ حکومتی مدح سرائی کے بدلے سرکاری اشتہاروں سے ملنے والے کروڑوں روپے کے معاوضوں سے دواوراق کے اخبارات سے دیکھتے ہی دیکھتے اربوں روپے کے نیٹ ورک کا مالک بن جانے والے میڈیا ٹائکونز نے آپ جیسے لوگوں   کو لاکھوں رؤپے کے مشاہیرے پہ کس لئیے ملازم رکھا ہوا ہے؟۔  آپ اپنا رزق حلال کرنے کے لئیے وہی بات پھیلاتے ہیں۔ جس کا اشارہ آپ کے مالکان آپ کو کرتے ہیں۔ اور آپ اور آپ کی برادری بے لاگ حقائق کو بیان کرنا کبھی کا چھوڑ چکی۔ جس کا شاید آپ کو اور آپکی برادری کو ابھی تک احساس نہیں ہوا۔

آپ سے مراد آپکی برادری کے اینکرز و پروگرام میزبان و کالم نگاروں کی اکثریت اس”آپ“ میں شامل ہے۔ اس ضمن میں صرف دو مثالیں دونگا۔ پہلی مثال۔ وہ مشہور کالم نگار ۔ جس نے مبینہ ناجائز طور پہ حاصل کردہ اپنے پلاٹ کا ذکر کرنے پہ اپنی ہی برادری کے ایک صاحب کو ننگی ننگی گالیاں دیں۔ دوسری مثال ۔ حال ہی میں پاکستان کے ایک توپ قسم کے ٹی وی میزبان نے پاکستانی عوام کی امیدوں کے آخری سہارے چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری صاحب کو دیوار کے ساتھ لگانے کے لئیے ایک دوسری خاتون میزبان سے ملکر رئیل اسٹیٹ کی ایک متنازعہ شخصیت کا پلانٹڈ انٹرویو لیا۔

ایسی ان گنت مثالیں گنوائی جاسکتی ہیں حیرت ہوتی ہے۔ آپ میڈیا کو پوتر ثابت کرتے ہوئے کیسے ناک کے سامنے نظر آنے والی  ایسی گھناؤنی مثالوں اور زندہ حقائق کو نظر انداز کر گئے ہیں؟۔

آپ اپنی برادری کی پارسائی ۔ دیانتداری کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ جبکہ عوام پوچھتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے امریکہ کے لئیے نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئیے معاوضے یا رشوت کے طور پہ میڈیا کو میلینز ڈالرز کے الزامات کا جواب ، تردید یا وضاحت کیوں نہیں کی جاتی؟۔

بھارتی ثقافت کی یلغار جس سے ایک عام آدمی بھی بے چین ہے۔ اور آپ جیسے پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ڈگری ہولڈرز کو کیوں نظر نہیں آتی۔ اگر پاکستانی میڈیا پہ محض کاروباری لالچ میں بھارتی میڈیا کی یلغار نظر آتی ہے تو آپ جیسے لوگ کیوں اسکے خلاف کمر بستہ نہیں ہوتے؟۔ اور اگر آپ کو ایسا کچھ نہیں نظر آتا یا نہیں لگتا تو آپ پاکستان کے ایک عام ناظر یا قاری کے جذبات سے کوسوں دور ہیں تو آپ انکے اعتراضات کیسے سمجھ سکتے ہیں؟۔

پاکستان میں آزاد میڈیا کے بجائے جانے والے ترانوں پہ صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا۔ کہ دنیا کے ان سبھی ممالک کی تاریخ گواہ ہے جہاں میڈیا حکومتی تسلط سے آزاد ہوا وہاں عوام نے آزاد میڈیا کو سینے سے لگایا۔ انکی ستائش کی اور جب میڈیا نے من مانی کرنا چاہی تو میڈیا پہ عوام نے اعتراضات کئیے اور میڈیا کو اپنی سمت درست کرنی پڑی۔ جبکہ پاکستانی میڈیا کو ایولیشن کے ایک معروف عمل کے تحت آزادی ملی تو میڈیا نے بے سروپا اور بے ھنگم طریقوں کو محض کاروباری حیثیت کو مضبوط کرنے کے لئیے استعمال کیا۔ اور چند ایک مخصوص کالم نگاروں کا جو کریڈٹ آپ نے وصولنے کی کوشش کی ہے کہ انکی جان کو خطرے درپیش ہوئے ۔ ایجنسیوں نے انھیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں۔ وغیرہ۔ آپ کیا یہ بتانا پسند کریں گے ۔ کہ اگر وہ یہ سب نہ لکھتے تو پاکستان کے میڈیا کا کونسا گروپ انہیں منہ لگاتا؟۔ تو حضور یہ لکھنا ہی انکا فن اور پیشہ ٹہرا جس کا وہ ان گنت معاوضہ لیتے رہے ہیں اور بدستور بہت سی شکلوں میں تا حال وصول کر رہے ہیں۔

آپ نے ڈائنو سار کے قدموں سے اپنی روزی نکالنے کا ذکر کیا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھیں ۔ پاکستان کی اکثریت کس طرح اپنے تن سے سانس کا رشتہ جوڑے ہوئے ہیں ۔ اور ایک تصوارتی ڈائنو سار کے پاؤں سے نہیں ۔۔ بلکہ اس نظام کے ہاتھوں اپنی عزت نفس گنوا کر دو وقت کی روٹی بمشکل حاصل کر پاتے ہیں۔ جس نظام کو تقویت دینے میں ایک ستون آپ اور آپ کا میڈیا ہے۔

عوام کو شکوہ ہے کہ پاکستانی میڈیا عوام کے ناتواں جسم و جان میں پنچے گاڑے نظام کے مخالف فریق کی بجائے اسی نظام کا ایک حصہ ایک ستون ہے۔

نوٹ:۔ یہ رائے عجلت میں لکھ کر جاوید چوہدری کے کالم پہ رائے کے طور بھیجنے کی بارہا کوششوں  میں ناکام ہونے کے بعد اسے یہاں نقل کردیا ہے۔ موصوف کے آن لائن اخبار پہ انکے کالم پہ لکھنے کی صورت میں اسپیم کی اجازت نہیں وغیرہ لکھا آتا ہے۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ڈاکٹر محترم جواد احمد خان صاحب!


ہمارے نہائت عزیز اور محترم! ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب۔ جن سے ہمیں قلبی تعلق ہے۔ اور انھیں میری گزشتہ تحریر سے رنجش پہنچی۔ واللہ جو ہمارا ارادہ قطعی طور پہ نہیں تھا۔ میں ایسا ہر گز نہیں چاہوں گا۔ کیونکہ ان سے یہ قلبی تعلق ہمیں بہر حال بہت عزیز ہے۔ مندرجہ ذیل تحریر انھیں مخاطب کر کے لکھی گئی ہے۔ مگر اس سے ہر اس فرد کو مخاطب سمجھا جائے۔ جس کو گزشتہ تحریر کے مآخذ اور وجوہات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے۔ کوئی شکوہ یا شکایت پیدا ہوئی ہو۔ امید کرتا ہوں ۔اب کسی کو یہ شکایت نہیں ہونی چاہئیے۔

محترم جواد بھائی!

واللہ میرا ارادہ آپ کا یا کسی اور کا دل دکھانا ہر گز مقصود نہیں تھا۔ ذوالفقار مرزا کا مذکورہ بیان جس کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں۔ اور میری رائے میں ہر عقل سلیم رکھنے والے پاکستانی کو ذوالفقار مرزا کے بیان اور اسکے الفاظ سے گھن آئی ہے۔ اور افسوس ہوا ہے۔

مگر اس ردعمل میں۔ جو بے گناہ اور راہ چلتے لوگ مارے گئے۔ ان کا المیہ کسی نے نہیں لکھا۔ کسی نے بیان نہیں کیا ۔ اور فرحان دانش صاحب نے اپنے بلاگ پہ منیر احمد بلوچ کا ایک ایسا کالم تو ضرور چسپاں کیا ہے۔ جس میں ڈرامائی طور پہ ایک مقدمے کی ادہوری روداد کا بیان ہے ۔ جبکہ اس مقدمے کے فیصلے کے بارے میں جان بوجھ کر نہیں لکھا گیا۔ اگر تب چند افراد کو تن بدن چھپانے کے لئیے۔ اسطرح کی افسوسناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جو پاکستان کے نئے نئے بننے کے بعد پیش آئی۔ تو اسے جواز بنا کر یکطرفہ طور پہ اپنے آپ کو مظلوم اور انصارِ مدینہ جیسے ایثار کی کوشش کرنے والے سبھی پاکستانیوں کو جو آج اس دنیا میں نہیں، جن کے علاقے پاکستان میں ہونے کی وجہ سے انھیں ہجرت نہیں کرنی پڑی تھی۔ ان کو ظالم کے روپ میں پیش کرنے کا تاثر ابھرتا ہے۔ جیسے مذکورہ میاں بیوی کی جسم کے کپڑوں کے پھٹے کپڑوں کے ذمہ دار وہ لوگ تھے۔ جنہوں نے انصار مدینہ کی روشن مثال کی پیروی کی۔ کیونکہ اگر یہ تاثر دینا مقصود نہ ہوتا تو۔ اس ڈرامائی کالم میں۔ ایسے کسی مقدمے کی ادہوری روداد لکھنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ایسے ڈرامائی انداز میں واقعات کو درست طریقے سے بیان نہ کرنے کو غلو سے کام لینا کہا جاتا ہے۔ عام فہم سے مسائل کو جو اسطرح کی ناگہانی مصائب میں پاکستان جیسے ممالک میں اکثر پیش آتے ہیں ۔ جس کی ایک مثال ہے کہ پچھلے سال پاکستان میں سیلاب میں وسیع پیمانے پہ ہونے والی تباہی سے سیلاب متاثرین اور انکی مستورات نے مہینوں ایک ایک ہی کپڑوں کے گندے جوڑے میں گزارہ کیا۔ جو سیلاب کے وقت اچانک اپنا گھر بار چھوڑتے ہوئے انکے تن بدن پہ تھا۔ کہ مرد کہیں اور تھے۔ اور سیلاب نے سوائے بچوں کے کچھ اٹھانے کا موقع نہ دیا۔ اور اسطرح کے کئی واقعے اور داستانیں نہائت خوشحال خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آئیں کہ جن کی مستورات کا منہ زندگی میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئیے ایک ایک روٹی کے لئیے قطاروں میں چھینا چھپٹی کے دوران مجبوری سے بھاگتی پھریں ۔ لیکن اگر اس ناگہانی آفت سے پیدا ہونے والے وقتی مسائل کو جواز بنا کر۔ ان علاقوں کے رہنے والوں کے ساتھ بغض پال لیا جائے۔ جن میں سیلاب نہیں آیا تھا۔ تو یہ بھی مناسب نہیں اور قرین انصاف نہ ہوگا۔ خواہ مخواہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے۔ دلوں میں مذید نفرتیں جنم لیتیں ہیں۔ جبکہ اُس دور میں پاکستان کی حکومت جو مہاجرین کو بحال کرنے اور بسانے کی ذمہ دار تھی۔ وہ اور اسکے تقریبا سبھی اعلٰی عہدیدار بجائے خود مہاجرین تھے۔ آخر وہ کیوں چاہتے کہ کسی مہاجر میاں بیوی کے ساتھ یوں ہو؟ اور انہوں نے اور انصار پاکستان نے مل جل کر۔ اتنے بڑے اور تاریخی ہجرت سے پیدا ہونے والے مسائل پہ قابو پا بھی لیا تھا ۔ اگر پھر بھی کسی کوتاہی پہ کسی کو ذمہ دار ٹہرایا جائے کہ مذکورہ میاں بیوی تنِ برہنہ کو تنبو یا خیمے کے کپڑے کو استعمال کرنے پہ مجبور ہونے۔ تو اس وقت کی حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا جائے۔ نہ کہ ڈرامائی قسم کے کالموں سے اور قندَ مکرر کے طور پہ اسے ایک بلاگ کی زینت بنا کر ایسے حالات سے گزرنے کی ذمہ داری عام مقامی لوگوں پہ ڈال دی جائے۔ جس سے نفرتوں کے اس دور میں۔ بے گناہ لوگوں کی جان کو نشانہ بنانے کا جواز مزید پختہ ہو۔ کیونکہ جو اس سے قبل جو بے گناہ مارے گئے۔ کیا وہ کافی نہیں تھے کہ اسطرح کے کالم لکھنے کی اور اسے بلاگ پہ چسپاں کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔ اگر ذوالفقار مرزا نے بے ہودہ بیان دیا ہے اور مقامی لوگوں کے جذبات مہاجر برادری کے خلاف بھڑکائے ہیں تو اسطرح کے کالم بھی سستی اور زرد صحافت میں آتے ہیں۔جن سے مہاجر برادری کے دل میں سندھیوں یا دیگر کے خلاف کدورت اور نفرت کے الاؤ کو بھڑکانا بھی کہا جاسکتا ہے۔

محترم جواد بھائی! فرحان دانش صاحب۔ نے منیر احمد بلوچ کے مذکورہ ڈرامائی کالم کو اپنے بلاگ "اٹھو جاگو پاکستان” پہ۔ ہو بہو چسپاں کرتے ہوئے۔ اس تاثر کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ کہ ہاں ہم مظلوم اور پاکستان کے انصار ظالم تھے۔ اور آج ساٹھ سالوں بعد بھی ظالم ہیں۔ جبکہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ذرا تصور کریں۔ پچھلے سال کے سیلاب متاثرین سال در سال چلتے۔ اور انکی اولادیں اور پھر انکی اولادیں۔ ساٹھ پینسٹھ سالوں بعد بھی۔ اسی بات کو جواز بنا کر کہ انکے آباء سیلاب کی وجہ سے مختلف مصائب کا شکار ہوئے۔ جبکہ جہاں سیلاب نے تباہی نہیں مچائی تھی وہاں کے رہنے والوں کی۔ کسی بھی بلکہ ہر خدمت اور ایثار سے انکار کرتے ہوئے۔ کسی خاتون کے تن پہ ایک ڈیڑھ ماہ تک ایک ہی جوڑے میں گزارا کرنے۔ کو جواز بنا کر کمر ٹھونک کر۔ جہاں سیلاب نہیں آیا تھا۔ انھی سبھی علاقوں کے مکینوں کے خلاف ایک محاذ بنا کر۔ انکے ہر ایثار اور خدمت پہ انگلی پھیر دیں۔
تو ایسا کرنے سے کیا دلوں کو جوڑنے اور آپس میں محبت میں اضافہ ہوگا؟ نہیں قطعی طور پہ یقینا ایسا نہیں ہوگا بلکہ کراچی کے سلگتے موجودہ حالات میں ایسے کالموں سے نفرتیں مزید پختہ ہونگی۔ اور بے گناہ ایسی نفرتوں کا حساب چکائیں گے۔ بے گناہ اور عام عوام جن کی زبان کوئی بھی ہو اور جلد کی رنگت کیسی بھی ہو مگر خون کا رنگ ایک ہی ہوگا۔ آگ جب بھڑکتی ہے تو اپنے پرائے کی تمیز نہیں کرتی۔

محترم جواد بھائی! بات یہاں تک بھی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی ۔ مگر ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد جو بے گناہ لوگ ایک رات میں بھون دئیے گئے ۔ کیا انکی جانیں اسقدر ارزاں تھیں انکی زندگی اسقدر بے اہمیت تھی کہ انھیں محض مرزا کے بیان کی قمیت چکانے کے لئیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؟ اور لوگ بھی ایسے بے گناہ لوگ جنہیں گولی آرپار ہوتے ہوئے۔ موت کے پنجے کی گرفت میں جاتے ہوئے موت کی وجہ معلوم نہ ہوئی۔ تقریبا ساری دنیا میں سزائے موت کے مجرموں کو کم از کم انھیں انکی موت کی سزا کی وجہ ضرور بیان کر دی جاتی ہے۔ جبکہ ایک لیڈر کے بیان پہ دوسرے لیڈر کی عظمت ثابت کرنے کے لئیے بھینٹ چڑھائے جانے والے بے گناہ ، غریب اور بے بس لوگ تھے۔ اگر اسے ایک عام بات سمجھ لیا جائے کہ ایک سیاسی لیڈر کے بیان پہ دوسرے سیاسی لیڈر کی شان ثابت کرنے کے لئیے کسی بھی راہ چلتے کو بھینٹ چڑھایا جاسکتا ہے تو پھر وہ ہمارے بلند بانگ آدرش کیا ہوئے؟ جس میں ہم اللہ اور اسکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے دیتے ہیں کہ "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے”؟ کیونکہ اسلام کے نزدیک اور دنیا کے تقریبا سبھی قوانین میں سبھی انسان برابر ہوتے ہیں۔

محترم جواد بھائی! فرحان دانش صاحب کا بلاگ اور منیر احمد بلوچ کے کالم جن کا لنک بھی اصل تحریر میں موجود ہے ۔ جن میں نہ فرحان دانش صاحب نے اور نہ ہی ڈارامائی کالم نگار منیر احمد بلوچ نے ایسے بے گناہوں اور راہ چلتے غریب لوگوں کے بارے جو کہ اصل واقعہ ہیں۔ جو اصل المیہ ہیں ۔ جن کی جانیں گئیں۔ وہ دوبارہ کیسے واپس آئیں گی ، جن کے سروں کا سایہ کھو گیا۔ وہ کیسے اپنا راستہ تلاش کریں گے؟ انکے بارے میں کسی نے دو الفاظ تک لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ کسی کو تو انکا دردر، انکا المیہ بیان کرنا چاہئیے۔ جبکہ آخری اطلاعات کے مطابق لیڈران ایک بار پھر اپنی اپنی پارٹیوں سمیت پھر سے شیرو شکر ہو رہے ہیں۔ جبکہ ہم بہ حیثیت ایک قوم، اخلاقی طور پہ اس حد تک گر چکے ہیں۔ کہ بے گناہ انسانی جانوں کے اسقدر ضیاع کو۔ اگر ایک حادثہ ہی سمجھ لیا جائے تو بھی۔ اس حادثے پہ کسی لکھنے والے کی آنکھ سے یا کسی سیاستدان کی آنکھ میں سے ایک آنسو نہیں گرا۔ کسی کے سینے سے رکی ہوئی ایک آہ نہیں نکلی۔ تو کیا ہمیں سبھی کو اس پہ چپ رہنا چاہئیے؟ اور صرف اور صرف اپنے اپنے گروپ اور گروہ بندیوں کے گیت اور المیے رقم کرنے چاہئیں؟

محترم جواد بھائی! امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے پرائے سبھی دکھوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں گے ۔ اور مضمون مذکورہ کو ایک بار پھر سے پڑھیں گے۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

غمِ یار و غمِ روزگار۔


جو لوگ یورپ، امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک میں معاشی مجبوریوں کی وجہ سے پھنس چکے ہیں۔ ان میں سے ننانوے فیصد کے بچے بلکہ نسلیں اب کبھی بھی دوبارہ لوٹ کر پاکستان میں آباد نہیں ہونگی۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔

جس طرح ، جن لوگوں نے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھائے۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لیا۔ کبھی گنے توڑ کر چوس لیے۔ نہر پہ نہا لیا۔ دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مکئ کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔

الغرض ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو ہر ایک اپنے ماحول کے لحاظ سے اپنے اپنے دور میں بچپن اور لڑکپن میں ملیں۔ جن سے انھوں نے بھرپور لطف اٹھایا ۔ بس نمبر اچھے آئے۔ یا شریک برادری میں کسی کا لڑکا کسی فارن کنٹری کیا گیا، باپ یا بڑے بھائی نے اپنے بیٹے کو بھی جیسے تیسے کر کے یورپ بجھوا دیا ۔ امریکہ کا ویزا لے دیا۔ اس ویزے کی خاطر ، بسا اوقات ماں نے اپنے زیور بیچے، باپ نے کچھ زمیں گروی رکھ کر ادھار لیا۔ آبائی زمین اونے پونے بیچ ڈالی۔ بس پھر کیا تھا بیٹا باہر چلا گیا، تعلیم مکمل کی۔ پاکستان اسے بہت چھوٹا نظر آیا۔ وہاں مواقع نہیں۔ معقول جابز نہیں۔ ہر شاخ پہ ایک ایک الؤ بیٹھا نظر آیا اور گلستان کے انجام سے زیادہ اپنے انجام کی فکر دامن گیر ہوئی۔ باہر ہی اچھی جاب کی آفر آگئی ۔ بعضوں کو آفر کے ساتھ ساتھ نینسی نے بھی اپنے آپ کو پیش کردیا۔ بس پھر کیا تھا مزے ہی مزے، اچھی جاب، گرم خون، چڑھتی جوانی، بھری جیب، نینسی کا ساتھ یا پاکستان میں گھر والوں کا دیا گیا وی آئی پی پروٹوکول، نشہ ہی نشہ۔ کہاں تو بچہ پاکستان میں کسی پھٹے والے کے پاس تین ہزار روپے میں سارا دن ویلڈنگ سے آنکھیں خراب کرتا تھا اور کہاں یورپ امریکہ وغیرہ میں ہر مہینہ پاکستانی ایک لاکھ کی بچت پاکستان جانے لگی۔ کچے مکانوں سے جان چھوٹی۔ مکان پکے اور پھر کوٹھی میں تبدیل ہوگئے۔ پہلے پہل پچاس سی سی کا نیا ھنڈا آیا۔ پھر سارے گاؤں میں واحد سکینڈ ہینڈ کار گھومتی نظر آنے لگی۔ شریک جل کر زیر لب دو تین ننگی گالیاں دیتے اور ملنے پہ بظاہر مسکرا دیتے ۔اس دوران ماں کو چاند سی بہو لانے کا شوق اٹھا بس پھر کیا تھا۔ لڑکا جی باہر ہے ۔ کوئی ایسی ویسی بات ہے ۔ میرا بیٹا ایک لاکھ پاکستانی گھر بھیجتا ہے ۔ خیر بہو بھی مل گئی اور شادی پہ بگھیوں پہ بارات گئی۔ پورا گاؤں کئی ماہ بعد بھی تزکرے کرتا رہا کہ خیر سے جی ولیمے پہ پچاس پچاس کاریں آئیں تھیں۔ شہر کا مشہور میرج ہال ( گاؤں والوں کے نزدیک شادی حال) بُک کروا لیا گیا نو قسم کے کھانے سولہ مصالحوں کے ساتھ کھلائے گئے ۔ پورے گاؤں میں ڈولی(دلہن کو بیاہ کر لائے جانے کی) کی ایک کلو مٹھائی فی گھرانہ بانٹی گئی۔ بے بے ہر آتی جاتی ملنے والی سے بات کرتے ہوئے نوٹوں کی ایک دتھی (گڈی)ہاتھ میں لے کر قسم قسم کے مانگنے والیوں میں کمال نخوت سے باٹنے لگی۔

شادی ہوگئی ، بہو رہ گئی، بیٹا عازمِ سفر ہوا۔ پہلے بے بے کی مدھانی بجلی کی آئی تھی اور باپ کے کلف لگے کپڑے پریس کرنے کے لئیے استری آئی تھی۔ اب بہو کے لئے ہئیر ڈرائیر، ڈیجیٹل کیمرہ ، سیمی کمپیوٹر موبائل ٹیلی فون۔ مووی کیمرہ اور برانڈنڈ پرفیوم اور کاسمیٹکس آنے لگا ۔ بہور ہر روز روز اول کی طرح سجنے دھجنے لگی۔

بے بے اپنے لاڈلے کی کمائی میں اچانک ایک نئی حصے دار کو دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گی ۔ یہ تو ماں کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ لاڈلے کی کمائی میں کوئی اچانک دعویدار بھی پیدا ہوجائے گا اور دعویدار بھی خود سے تلاش کی ہوئی چاند سی بہو۔ بیٹے کی فضول خرچیاں اور بہو کے انداز دیکھ کر ماں سر پیٹ کر رہ گئی۔ پہلے پہل بیٹے کو فوں پہ دبے لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔ بات بہو پہ بھی آشکارہ ہونے لگی ۔ بیٹا دو کشتیوں کا مسافر پھنس کر رہ گیا۔ بیوی کو اپنا درد بتایا، بیوی ساس سے لڑ کر روٹھ کر میکے جابیٹھی۔ بیچ بچاؤ کرنے والوں نے پوری کوشش کی مگر لڑکی والے اڑ گئے کہ بیٹی اب یہاں سے تبھی جائے گی جب اس کا خاوند اس کا باہر کا ویزاہ بیھج دے گا۔ ورنہ ہمیں کوئی بوجھ تھوڑا ہے ۔ نہ ہمیں اپنی بیٹی بھاری ہے۔ بیچ بچاؤ کرانے والوں نے بہت کوشش کی، بات نہ بنی۔ آخر کار چاند سی بہو باہر ہی گئی۔

لڑکے کے ماں باپ کو کبھی کبھار کچھ رقم ملنے لگی۔ پہلا پوتا کوئی سال بھر باہر ہی ہوا ۔ اسکا نام شازل رکھا ۔ دوسرے سال نازل رکھا چوتھے سال بہو بیٹا پاکستان ملنے آئے تو شازل نازل کے علاوہ گودی میں کچھ ماہ کی نازلی بھی تھی۔ پاکستان اور گاؤں کی فضا، مکھیاں، مچھر، گرمی، حبس، ماحول کی گھُٹن، بجلی کی آنکھ مچولی، نوٹوں سے بھرا پرس (بٹوا) مگر اشیاء ندادر، شہر دور، بہو بیٹے کا تین ماہ کا پاکستان پروگرام بڑی مشکل سے پچیس دن چل سکا اور وہ واپس لوٹ گئے ۔ شازل نازل کا اسکول نازلی کی لگاتار مزید دو بہنوں کی آمد اپنا مکان خریدنے کی فکر نے اگلے پانچ سال صرف فون پہ ماں کی ٹھنڈی آہیں سنوائیں۔ بوڑھا باپ مزید بوڑھا ہوگیا۔ بہو نے بھی باہر کے رنگ ڈھنگ اپنا لیے واک، پارک، مارکیٹس، ذاتی گاڑی، ذاتی مکان، بچوں کی پڑھائی، اتنے اخراجات، اُف ہر ماہ یہ رسید وہ رسید یہ بل وہ مکان کی قسط۔ بوڑھے ماں باپ کا ملنے کا اصرار، بہن کی شادی، جیسے تیسے بہو بیٹا بمع اپنے پانچوں بچوں کے باہر سے آئے (یہ باہر امریکہ یورپ وغیرہ کا کوئی بھی ملک یا کوئی بھی صارف ملک یعنی کنزیوم سوسائٹی ہو سکتی ہے)۔ پانچوں باہر کے اچھے ماحول اچھی خوراک کے پروردہ نازک سے پھولوں کو پھپھو کی شادی پہ رلتے دیکھ کر بہو کا کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ بڑی مشکل سے شادی کی رسومات ختم ہوئیں۔ ہفتے دس دن بعد بچوں کی تعلیم کا بہانہ کر کے بہو واپس لوٹ گئی۔ بیٹے نے کمر خمیدہ بوڑھے ماں باپ کو اپنے ساتھ لے جانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے ۔ آخر کار بڑی منت سماجت سے وہ بیٹے کے ساتھ محض اس لئے باہر چلے گئے کہ اب انھیں سنبھالنے والا کوئی خاص نہیں تھا۔ بیٹا بار بار آ نہیں سکتا۔ باہر بوڑے ماں باپ ہر وقت اپنے گاؤں اور رشتے داروں کو یاد کر کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ، بہو کا غصہ بھی ہر وقت ناک پہ اڑا رہتا اور بہو تنی رہتی۔ ماں باپ نے منت سماجت کر کے بیٹے کے مامے کے پاس واپس جانے کی ٹکٹیں کروا لیں۔ وہ پاکستان چلے گئے ۔ ایک دن مامے کا فوں آیا تمہاری ماں سخت بیمار ہے اگر منہ دیکھنا ہے تو فوراً آجاؤ۔ بڑی مشکل سے ٹکٹ لیکر بیٹا روتا پیٹتا رستے میں تھا کہ فون آیا ماں قضائے الہٰی سے مر گئی ۔ برف لگا دی گئی ہے منہ دیکھنا ہے تو پہنچ جاؤ۔ دوسال گزرے پھر باپ بھی لقمہِ اجل ہوگیا۔

اب شازل نازل گریجوئیشن کر رہے ہیں۔ انکے دوست ڈیوڈ ، اسمتھ، لزا۔ روزی ہیں۔ وہ باہر ہی پلے بڑھے ہیں ۔انکے ہیرو مکی ماؤس سے ہوتے ہوئے انتونیو بندیرا ہیں۔ وہ برگر کنگ اور مکڈولنڈ جیسی فاسٹ فوڈ پہ اپنے دوستوں سے ملتے ہیں۔ کوک پیتے اور جمعہ کے جمعہ اور کسی کسی ویک اینڈ پہ باپ کے ساتھ مسجد اور اسلامک سنٹر جاتے ہیں ۔ شام کے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ اور عربی میں خطبہ سنتے ہیں۔ چھ میں سے چار کلمے اور پوری نماز بڑی مشکل سے جانتے ہیں۔ اپنی بہنوں نازلی شازلی وغیرہ کو گھر پہنچ کر انگریزی میں روز کے نئے نئے تجربے بیان کرتے ہیں۔

ابا بوڑھا ہو چکا ہے اسے اپنے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھانا۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لینا، کبھی گنے توڑ کر چوس لیے، نہر پہ نہا لیا، دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مک کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔ سب بہت شدت سے یاد آتا ہے۔ مگر شازل نازل کا بچپن ویڈیو گیمز اور سپائیڈرمین کے اسٹیکر چینج کرتے، اسکول کالج کے لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیتے گزرا ہے۔ وہ باپ کی پاکستان، پاکستان کی گردان پہ باپ کو عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ باپ کے بہت اصرار پہ بیزارگی سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا گھستے ہیں۔

اب ان بچوں کے ماں یا باب کے دارِ فانی ہونے پہ زیادہ سے زیادہ انکی میت(ڈیڈ باڈی) لکڑی اور لوہے کے ٹھنڈے تابوت میں، جس کے اوپر چہرے کے سامنے چوکور شیشہ لگا ہوگا اور تابوت کو کسی بھی صورت نہ کھولنے کی ہدایت ہوگی، اس تابوت میں بند کروا کے ماں باپ کے جاننے والے انہی جیسے دوست یا علاقے کے لوگ چندہ اکھٹا کر کے انکے آخری سفر پہ پاکستان بیجھیں گے۔ گاؤں کی مسجد میں اعلان کیا جائے گا۔ جہاں گاؤں والے ایک ٹھنڈی قبر کے پاس آدھی رات کو باہر سے آنے والی میت (ڈیڈ باڈی) جسے چند بڑے بوڑھوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہوگا ۔ اس کی قبر پہ آدھی رات کو گاؤں کے لوگ بیزارگی سے انتظار کر رہے ہوں گے کہ صبح صادق جنازہ پڑھا کر اس ناخوشگوار فرض کو پورا کر سکیں۔

اس ماں اور باپ کے بعد (اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد) ان بچوں کو، انکے بچوں، بچوں کے بچوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ انکی کوئی یاد پاکستان یا اپنے آبائی گاؤں سے وابستہ نہیں ہوگی۔ انکے بیر، بانٹے، ٹھنڈے تربوز کی یادیں سب باہر ہی ہونگی۔ وہ باہر جس کا سفر شریک برادری کو نیچا دکھانے کے لئے یا بچے کے اچھے نمبر آنے سے شروع ہوا تھا ۔ وہ باہر اپنے ساتھ ایک نسل ہی نہیں بلکہ آئیندہ پوری نسلیں ہی ساتھ لے گیا۔

جس بستی کے مان سنوارنے نکلا تھا
لوٹا ، تو وہ بستی ہی نہیں تھی

نوٹ۔: میری یہ تحریر افضل جاوید صاحب نے اپنے بلاگ "میرا پاکستان” پہ چھاپی ہے اور انگلینڈ میں اردو کے ایک پرنٹ میڈیا اخبار پہ بھی چھپی ہے۔ میں کبھی کبھار کوشش کرونگا کہ ادہر ادہر بکھری ہوئی اپنی تحریریں یہاں چھاپ دیا کروں۔

 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , ,

 
%d bloggers like this: