RSS

اردو بلاگران ۔۔ ہوشیار باشد

03 فروری

اردو بلاگران ۔۔ ہوشیار باشد

فوج میں انگریزوں نے سپاہی کے بعد ”لانس نائیک“ نامی عہدہ اسلئیے قائم کیا تھا کہ جو فوجی ”سپاہی “ باقی ساتھیوں کو تنگ رکھیں۔ اور سرکشی پہ باآسانی آمادہ رہیں ۔ انھیں مفت میں ایک ”پھیتڑی“ (Insignia) لگا کر ”لانس نائیک “ بنا دیا جاتا ۔ جبکہ اصل عہدہ جسے دو”پھیتڑیاں“ لگائی جاتیں اسے نائیک کہا جاتا ۔ کہ نائیک کی ماتحتی میں ”لانس نائیک “ سمیت کچھ چند ایک سپاہی ہوتے اور نائیک کے بعد حوالدار اور حوالدار میجر وغیرہ جیسے عہدیدار آتے ۔یوں ”اوکھا “اور سرکشی پہ باآسانی آمادہ رہنے والا جوان ۔جب اسے ایک” پھیتڑی “لگ جاتی۔ اور ”لانس نائیک “کا نمائشی عہدہ مل جاتا۔ تو وہ مشقت باقی سب سپاہیوں کے برابر کرتا۔ اسے کوئی اضافی سہولت بھی نہ ملتی ۔ مگر وہ اپنی سرکشی اور شرارت بھول کر وہ ہر وقت عام سپاہیوں سے بھی زیادہ دلچسپی سے اپنے فرائض محض اسلئیے تندہی سے بجا لاتا کہ مباداہ اسکی کسی حرکت سے اسکی ”“ پھیتڑی “ نہ اتر جائے اور وہ پھر سے ایک عام سپاہی نہ بن جائے ۔
اس مندرجہ بالا مثال کے مصداق پاکستان کے تجارتی میڈیا کی طرف سے سوشل میڈیا کو لگام دینے کی وقتا فوقتا کوششیں جاری ہیں ۔ جن میں حکومت پاکستان بھی (حکومت کوئی بھی ہو سوشل میڈیا سے تنگ ہے) شامل ہے کہ سوشل میڈیا میں سے کچھ لوگوں کو گھیر گھار اپنے مرضی کے اصطبل پہ لایا جائے ۔ انکی اہمیت کسی طور کچھ بڑھا دی جائے ۔ پھر وہ” لانس نائیک“کی طرح اپنی” پھیتڑی “ یعنی اپنی بے معنی اہمیت بچانے کے چکر میں خود ہی سے تجارتی میڈیا کی اہمیت کے گُن گائیں گے۔
بلاگرانِ چمن۔ آجکل ہر طرف اس بات کا بہت چرچا ہے۔ کہ اردو روزنامے نامی ”دنیا“ میں  بلال بھائی ۔۔ ایم بلال ایم ڈاٹ کوم والے اور یاسر خواہ مخواہ بھائی ۔ کے بلاگ کی تحریریں چھپ رہی ہیں۔
ہماری رائے میں یوں ہونا۔اچھا نہیں ۔ کیونکہ بلاگرز!۔ آزاد منش لوگ ہوتے ہیں ۔ وہی لکھتے ہیں جس لکھنے کو انکا من چاہے۔ اور بہت سی پابندیوں اور خاص کر کمرشل پابندیوں سے نہ صرف آزاد ہو کر۔ بلکہ بہت بار انکی ضد پہ لکھتے ہیں۔ اور اب بلاگرز کو کمرشلائیز کیا جارہا ہے۔ اور یہ اچھی بات نہیں کہ کمرشلائز ہونے سے یارانَ بلاگرز بھی کمرشل اونچ نیچ کو مد نظر رکھ کے لکھا کریں گے۔ اور یوں وہ آزادی۔ جو سوشل میڈیا میں لکھنے والوں کا خاصہ ہے۔ وہ نہائت بُری طرح متاثر ہوگی اور نئے لکھنے والے شروع دن سے تجارتی میڈیا کے لئیے۔ براستہ سوشل میڈیا تگ دور کیا کریں گے۔یوں ابھی آپ سوشل میڈیا میں لکھنے والوں کا جو امتیاز ہے ۔ وہ ختم ہو کر رہ جائے گا اور پاکستانی عوام کو۔ سوشل میڈیا کے نام پہ جو ایک نیا آزاد زریعہ میسر ہے۔ جس سے ایک نئی آزاد سوچ تعمیر ہوتی ہے۔ وہ زریعیہ ختم ہو جائے گا۔ اور آزاد سوچ بننے بنانے کا عمل پھر سے۔ بنے بنائے سانچوں میں مقید ہو کر رہ جائے گا۔
اس طرح تحریریں چھپنے سے دو رائے بن رہی ہیں۔
1):۔ عام لوگوں کو اردو بلاگنگ اور اردو بلاگران کے بارے علم ہوگا ۔
2):۔ بلاگرز کی تحریروں کی وقعت بڑھے گی اور ممکن ہے کمرشل میڈیا۔ بدلے میں انہیں کچھ معاوضہ دے یا کسی درجے میں مستقل لکھنے والوں کے طور بھرتی کر لے۔
پہلی رائے کے بدلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا آیا ہم محض اس لئیے لکھتے ہیں ۔کہ ہمیں یا ہماری تحریروں کو اہمیت ملے؟ ۔
دوسری رائے اہم ہے ۔کہ اگر کسی میں خوبی ہے اور کمرشل میڈیا اس کی تحریر یا مواد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ صاحب تحریر کو اپنے تجارتی ادارے میں ایک مستقل کردار دینا چاہتا ہے۔ تو یہ ایک اہم بات ہے ۔کہ جسے معاشی ضرورت ہو وہ تجارتی میڈیا کے لئیے لکھنے کو ذریعیہ معاش کے طور پہ اپنائے ۔ لیکن ۔یہاں ایک اور بات ۔ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ۔ کہ کیا آیا تجارتی میڈیا خواہ وہ کوئی سا بھی ہو ۔ آپ کی ہماری۔ یعنی اردو بلاگران کی تحریریں اس وقت بھی چھاپے گا ۔جب انکا مواد ۔ ادارے کے مزکورہ معیار یا کمرشل لائن پہ پورا نہ اترتا ہوا ۔اور خاص کر اس وقت جب بلاگران کی کوئی تحریر۔ میڈیا کے مبینہ ادارے کے تجارتی اور سیاسی مفادات سے ٹکراتی ہو؟
کہیں یوں تو نہیں کہ مفت کی تحریروں کا ایک بڑا اسٹاک ۔یار لوگوں کو دستیاب ہو گیا ہے۔ جو آپ کی برسوں کی محنت میں سے ۔اپنے مطلب کی چیزیں چن کر اپنی سرکولیشن بڑھا رہے ہوں ۔ اردو بلاگران کے ذرئعیے اپنے اخبار یا میڈیا کو سوشل میڈیا میں ناصرف متعارف کروا رہے ہوں بلکہ اپنے لئیے سافٹ امیج بھی بنا رہے ہوں۔ یا آپ کو۔اپنے تجارتی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر۔ اچھا لکھنے والوں کو۔ محض اور صرف تجارتی بنیادوں کو مد نظر رکھ کر لکھنے کے لئیے آمادہ کر رہے ہوں؟۔جس کا چھوٹا سا مطالبہ سامنے آ بھی چکا ہے کہ آپ کی تحاریر کن کن موضوعات پہ کس طرز کی ہونی چاہئیں۔
ایک بات کا میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ میں دونوں طرف کے کچھ اہم ناموں کو جانتا ہوں کہ اردو بلاگز اور اردو سائٹس پہ لکھنے والوں کی اکثریت کی تعلیم ۔ مطالعہ ۔ موضوعات کا تنوع۔ اپنے موضوع کو نباہنا ۔ موضوع سے انصاف کی کوشش ۔ ریاضت ۔ اور خدادا صلاحیتیں ۔ پرنٹ میڈیا اور کمرشل میڈیاکے بہت سے لکھنے والے جغادریوں سے کہیں زیادہ اور دیانتدارانہ ہیں ۔
اردو بلاگران کی طرف سے کچھ ایسی نیاز مندی سے ۔ خاکساری سے تحسین بھرے جذبات کااور ہدیہِ عقیدت کےاظہار کا۔ شکرانہ و شکریہ ہیش کیا جارہا ہے کہ یا حیرت العجائب ۔ اور یہ تاثر ابھرتا کہ اردو بلاگران! خدانخواستہ۔ پرنٹ میڈیا یا تجارتی میڈیا کے بارے ایک طرح کے احساسِ کمتری میں مبتلاء ہوں یا متاثر ہوں جب کہ حقیقت میں معاملہ اسکے بر عکس ہے ۔ میں کئی ایک مثالیں ایسی گنوا سکتا ہوں جن میں تجارتی میڈیا میں لکھنے والے۔ پیشہ ور نام نہاد دانشور۔ سوشل میڈیا میں لکھے گئے مضامین اور تحاریر سے متاثر ہو کر انسپائر ہوئے اور انہوں نے پھر اپنے نام سے مواد کو توڑ موڑ کر تجاری میڈیا میں پیش کیا ۔
سوشل میڈیا بمقابلہ پرنٹ میڈیا ۔اگر اس ترکیب کو ذہن میں رکھا جائے ۔ تو مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اردو بلاگران! کسی نئی نویلی دلہن کی طرح شرما رہے ہیں ۔اور لجا لجا کر کہتے پائے جاتے ہیں کہ ”اوئی اللہ ۔آخر سوتن نے مجھے گلے لگا ہی لیا ۔“
تو؟

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

27 responses to “اردو بلاگران ۔۔ ہوشیار باشد

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    فروری 3, 2014 at 00:50

    بے شک جاوید بھائی آپ سو فیصد متفق ہوں۔
    اور مجھے ملنے والی کسی بھی مبارک باد کا میں نے خیرمبارک کا جملہ کہہ شکریہ ادا نہیں کیا،
    ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ جو قاری دنیا نیوز کو نیٹ کے ذریعے پڑھ رہا ہے اس تک خبر پہونچے کے اردوبلاگستان بھی کوئی شے ہے۔
    میری نظر میں یہ ایک تشہیری مہم ہے جو بغیر پیسہ لگائے ہو رہی ہے۔ اب یہ ہمارےدماغ کا بھی امتحان کے ہم کیسے اس موقع کو استعمال کرتے ہیں۔
    جہاں تک میرا معاملہ ہے۔میں تو ویسے بھی "اوکھا” بندہ ہون کسی وقت بھی پٹڑی اتر سکتا ہوں جی ؛ڈ
    نہ ہی "پیشہ ور” ہونے کا ارادہ ہے۔

     
  2. انکل ٹام

    فروری 3, 2014 at 01:24

    ویسے یاسر صاحب کے مضامین میں سے بهی اصل مکهن نکال کر چهاپا ہے اور میرے خیال سے سلیم بهائی کے مضامین بهی بغیر اجازت چهاپتے رہے ہیں

     
  3. aslamfaheem

    فروری 3, 2014 at 03:26

    لو آپ اپنے دام میں صیّا د آگیا

     
  4. نکتہ ور

    فروری 3, 2014 at 05:20

    عنیقہ ناز مرحومہ نے بھی تب بلاگ شروع کیا تھا جب ان کی تحاریر کو پرنٹ میڈیا نے توڑمروڑ کر شائع کیا

     
  5. Iftikhar Ajmal Bhopal

    فروری 3, 2014 at 06:00

    دنیا نیوز کی یکدم پذیرائی سے میرے ذہن میں کافی شکوک پیدا ہو رہے تھے جن کی تان آپ نے پکڑی ہے ۔ میرے شک کا ایک سبب ماضی قریب میں دنیا نیوز ٹٰ وی کا منافقانہ کردار بھی ہے کہ کس طر افسانے گھڑ کے بظور حقیقی واقعات پیش کئے گئے اور اب تک کئے جا رہے ہیں ۔ اگر میرا نام یا میری کوئ تحریر دنیا نیوز پر نظر پڑے تو مجھے ضرور اطلاع دیجئے گا کہ اُن کے خلاف جو چارہ جوئی ہو سکے کروں ۔

     
    • عامر خاکوانی

      فروری 6, 2014 at 21:19

      کچھ وضاحتیں ضروری ہوگئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ خاکسار ہی اردو بلاگستان کےخلاف سازش کا مرتکب ہوا ، اسے ہی اس سازش یا خفیہ منصوبے یا جو بھی اسے کہا جائے کا بانی ہے۔ مین سٹریم میڈیا کو اس کاالزام دینا زیادتی ہے۔ وہاں کےنوے پچانوے یا نناوے فیصد لوگوں کو یہ بھی علم نہ ہو کہ اردو بلاگستان کس چیز کا نام ہے اور اس کے خلاف کسی سازش کی ضرورت ہے۔
      دوسری وضاحت کہ اس سارے معاملے کا دنیا نیوز سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے دنیا نیوز ٹی وی چینل ہے اور اس میڈیا گروپ نے ڈیڑھ سال پہلے ایک اردو اخبار لانچ کیا تھا، جس کا نام روزنامہ دنیا ہے۔ اس اخبار کا بھی ایک شعبہ میگزین ہے، جس کا یہ خاکسار ایڈیٹر یعنی میگزین ایڈیٹر ہے ۔ اس لئے دنیا نیوز تو دور کی بات ہے ، خود روزنامہ دنیا کی مینجمنٹ یا اعلیٰ قیادت کو بھی اردو بلاگستان یا اردو بلاگروں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ ، ٹی وی والوں کو معلوم نہیں اردو بلاگ یا بلاگرستان کے بارے میں کچھ معلوم بھی ہے یا نہیں، امید واثق ہے کہ جب انہیں اپنے اخبار میں چھپنے والے کالموں اور رپورٹوں کے بارے میں نہیں معلوم تو جو چیز کہیں چھپتی نہیں، جس کےبارے میں کمم ہی لوگ جانتے ہیں، اس کے بارے میں وہ کیا جانتےہوں گے۔؟
      تیسری وضاحت یہ کہ جسے آپ لوگ اردو بلاگستان کہتے ہیں ، اس کے بارے میں دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی کچھ نہیں جانتا تھا، نہ ہی کہیں اس کا تذکرہ سنا یا پڑھا نہ ہی کسی بلاگ کا تذکرہ سنا یا اس کو بڑے پیمانے پر ڈسکس ہوتے دیکھا۔ میں اخبارات ، مین سٹریم میڈیا یا صحافتی حلقوں کی بات نہیں کر رہا، وہ تو یقینی طور پر کسی کو نہیں جانتے ۔ میں فیس بک کے صفحات کی بات کر رہا ہوں، وہاں پر بھی کبھی کسی کا تذکرہ سنا نہ ہی کسی نے کسی بلاگر کا بلاگ بھیجا کہ اسے پڑھیں ۔ پانچ ہزار کے قریب فیس بک فرینڈ تو میرے بھی ہیں کہ اس سے زیادہ فیس بک اجازت نہیں دیتا۔ روزانہ بہت سے دوست کوئی نہ کوئی لنک بھیجتے ہیں کسی کالم کا، کسی تحریر کا ،مگر سوائے طلعت حسین کے سچ ٹی والی ویب سائیٹ‌کے بلاگ کے، کسی اور کا بلاگ مجھے کبھی کسی نے نہیں بھیجا۔ اس کا یہ مطلب یقینی نہیں کہ ان بلاگز کو کوئی نہیں پڑھتا ہوگا یا یہ اچھے نہیں، مقصد صرف یہ بتانا ہےکہ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، اس کا مین سٹریم کو کوئی پتہ نہیں، جب علم ہی نہیں‌تو فطری طور پر سازش کس نے کرنی ہے؟
      آگے بڑھنے سے پہلے چند سطریں اپنے بارے میں ، تاکہ معاملہ پوری طرح سمجھ میں آ جائے۔
      جہاں تک ناچیز کا تعلق ہے، اخبارات پڑھنے والے ، خاص کر ای پیپر پڑھنے والے کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہوں گے میرے بارے میں۔ مختصرآ تعارف کرا دیتا ہوں۔ بہاولپور سے تعلق، دو عشروں سے صحافت کی وادی خارزار میں ہوں، اردو ڈائجسٹ، جنگ ، ایکسپریس اور اب روزنامہ دنیا۔ ایکسپریس اخبار کی جس بانی ٹیم نے بارہ سال قبل اخبار پنجاب اور کراچی کے علاوہ ملک بھر سے شروع کیا ، میں اس کے میگزین کے شعبے کا سربراہ اور کالم نگار تھا۔ ڈیڑھ سال قبل جب دنیا اخبار شروع ہوا تو اوریا مقبول جان، ہارون الرشیدد، عبداللہ طارق سہیل وغیرہ کے ساتھ میں نے بھی ایکسپریس چھوڑ کر دنیا جوائن کر لیا اور اس کا میگزین سیکشن سٹارٹ کیا۔ زنگار کے نام سے یہ خاکسار پچھلے دس برسوں سے پہلے ایکسپریس اور اب دنیا اخبار میں کالم لکھ رہا ہے۔ ہفتےمیں دو تین کالم۔ میرے کالموں کے موضوعات میں کرنٹ افئیرز کےساتھ ادب،تصوف، سیلف ہیلپ، پرسنالیٹی مینجمنٹا اور نیشن بلڈنگ شامل ہے۔ مجھےپڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ مثبت اور متوازن سوچ کو فروغ دیا، معلومات افزا،ٹھوس اور ریسرچ پر بنیاد رکھنے والے کالمز لکھنے کی کو شش کی ،اپنی بساط کے مطابق ۔ ہمیشہ امید جگائی،منفی سازشی تھیوریز کا ابطال کیا اور کلیشوں کو چیلنج کیا۔ انسپائریشنل کہانیوں کو بھی جگہ دی تاکہ نوجوانوں میں خاص کر مثبت سوچ پھیلے اور مذہب کا حقیقی تصور دلوں میں راسخ ہو۔
      ایکسپریس میں ہم نے ایک صفحہ شخصیت کے نام سے نکالا، جس میں اہم شخصیات کے انٹرویوز شائع ہوتے ہیں۔ ہم نے دو تین کام کئے، ایک تو پروفائل انٹرویو کی صنف صحافت میں مستحکم کی، یہ نیا ٹرینڈ تھا، دوسرا میں نےکرپٹ اور بدنام وزیروں ،مشیروں کے انٹرویوز کی جگہ اہل علم کو اہمیت دی۔ شاید ہی کوئی ادیب ، شاعر اور دانشور ہوگا جس کا انٹروہو اس صفحے پر شائع نہ ہوا ہو۔ اس حوالے سے ہم نے یہ بھی التزام کیا کہ جو محقق اور ریسرچ سکالرز گمنام ہیں اور جنہیں کبھی میڈیا پر جگہ نہیں ملتی، ان کے بھی انٹرویوز شائع کئے، ایک درویش اہل علم کا انٹرویو شائع کیا تو پاکستان کے دو تین بڑے اخبارات میں سے ایک اکے میگزین انچارج نے باقاعدہ گلہ کیا کہ ججس آدمی کا ہم مضمون نہیں چھاپتے ، اس کا آپ نے انٹرویو شائع کیا۔ ہم نے ایکسپریس کے اس صفحے پر ممتاز شماجی شخصیات اور حقیقی رفاحی کام کرنے والون کو بھی چھاپا، ایسے لوگ جو میڈیا پر آنا پسند نہیں کرتے تھے، جنہیں اپنی نیکی کو ضائع کرنا پسند نہیں تھا، انہیں قائل کیا کہ مقصود کی پبلسٹی نہیں بلکہ یہ بتانا ہےکہ ہمارے ہاں سب تاریک نہیں، کتنا اچھا کام ہو رہا ہے، دوسرا یہ کہ قارئین کو بھی انسپائریشن ملے گی، ان میں سے کچھ تو فالو کرنا چاہیں گے ۔ یہ باتیں گنوانے کا مقصد واللہ اپنی تعریف نہیں بلکہ اس پورے تصور کو واضح کرنا ہے، جس کی ایک کڑی میرا حالیہ قدم ہے، جس پر یہ سب ہنگامہ برپا ہوا۔
      خیر جب روزنامہ دنیا میں‌آئے تو یہ سوچا کہ کچھ مختلف کام کیا جائے، جو مثبت بھی ہو ۔ خیال ایا کہ ڈائجسٹ کے نام سے ایسا ایڈیشن شروع کیا جائے ،جہاں ریڈرز ڈائجسٹ کی طرح چھوٹی بڑی مختلف تحریریں پیش کی جائیں ۔ اس کا دائرہ کار بڑا وسیع رکھا۔ مذہب ، تصوف، روحانیت، ادب، اصلاح زبان، سائنس وٹیکنالوجی، جدید ایجادات، تاریخ، حکایات، فلسفہ، بائیوگرافیز، طب وصحت، سبزیوں،پھلوں،جڑی بوٹیوں کی افادیت وغیرہ سے لے کر سفرنامے، اثارقدیمہ، مزاح پاروں تک ،کوئی موضوع ایسا نہیں جس کے لئے جگہ نہیں۔ یہ صفحہ اس قدر مقبول ہوا کہ اب یہ ہفتے کے ساتوں دن شائع ہوتا ہے۔ اس کے لئے طبع زاد تحریریں لکھی گئیں اور تالیف بھی بہت سی ہوئی، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، واصف علی واصف، خلیل جبران، دیوان سنگھ مفتون ،قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، منٹو، ابن صفی سے لے کر ن م راشد، مجید امجد کی نظمیں، عرب کلاسیکی شعرا جیسے امرائو القیس ، زید بن ابی سلمہ، لبید وغیرہ کا کلام ، محمود درویش، نظار قبانی کی جدید عرب شاعری، فارسی کے مشہور شعرا۔ ماہرالقادری اور طالب ہاشمی کی اصلاح زبان، رشیدحسن خان کی املا، بنے بھائی سجاد ظہیر کی آپ بیتی سے حمید اختر ، ساحدلدھیانوی، سردار جعفری وغیرہ کی جدوجہد اور واقعات۔ جدید ترین گیجٹس کی تفصیل بھی شامل کی جاتی ہے۔ زندگی بدلنے والی کہانیاں، مثبت جذبے کو فروغ دینےوالی تحریریں، وہ مستقل نوعیت کی چیزیں جو سدد بہار رہتی ہیں، ہم نے دانستہ شامل کیں۔ بعض مشکل موضوعات کو دانستہ شامل کیا تاکہ قارئین کی فکری تربیت ہوسکے۔ یونانی فلاسفروں سے مسلمان فلسفہ دانوں کا مختصر تعارف ، اس کی ایک مثال ہے۔ ابھی اس حوالے سےبہت کچھ ہونے والا ہے، جتنی ہمت ہےہم کئے جا رہے ہیں۔ یہ یاد رہےکہ اخبارات میں مقبول ترین موضوعات بہت سے ہیں ، ہم نےمقبول ترین کو ترجیح نہیں دی، سیکنڈلز اور گوسپ کے بجائے ہم نے مطالعہ کا ذوق بڑھانے اور بعض ایسی مشہور کتابوں کے اقتناسات دینے کو ترجیح دی ، جو آئوٹ آف پرنٹ ہوں جیسے ناقابل فراموش حصہ دوم ،جہاں دانش حصہ دوم یا میرزا ادیب کی آپ بیتی ،نقوش کے خاص شماروں میں شامل تحریریں وغیرہ۔
      محمد سلیم ، شانتو چین کی کوئی تحریر ہمارے کراچی افس کے کسی صاحب کو دیکھنےکا موقعہ ملا، اسےشامل کیا گیا، رفتہ رفتہ محمد سلیم کی بعض اور تحریریں اور بلاگ بھی دنیا میں شائع ہوئے۔ ان دنوں روزنامہ دنیا کراچی آفس کا ڈائجسٹ صفحہ وہاں تیار ہوتا تھا، میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ صاحب چین سے ای میل کرتے ہوں گے۔ خیر کچھ عرصہ قبل کراچی کے بجائے وہ صفحہ بھی لاہور میں ،میرے کنٹرول میں اآیا۔ میں نے سلیم شانتو کے بارے میں پوچھا کہ ان صاحب کو کہیں کہ کہ اپنی تحریریں بھیجتے رہیں۔ معلوم ہوا کہ ان سے رابطہ نہیں بلکہ ان کے بلاگ سے تحریریں لی جاتی ہیں۔ ایڈریس مجھے بھیج دیا گیا، اس سے پہلے اپنی جہالت اور لاعلمی کے باعث میں یہ سمجھتا تھا کہ بلاگ صرف ایک تحریر ہی ہوتی ہے، اسے اپنی ویب سائیٹ پر لگا دیتے ہوں گے، خیر جب سلیم بھائی کا بلاگ پڑھا تو بہت اچھا لگا، ان کی سوچ بھی دل کو بھائی۔ میں ای میل ڈھونڈتا رہا، وہ تو نہ ملی ، البتہ میں نے ان کے ایک بلاگز پر تبصرہ کیا اور سراہنے کے ساتھ ساتھ وہ بلاگ چھاپنے کی اجازت مانگی۔ انہوں نے برا نہ مانا بلکہ بہت اچھے طریقے سے میرے ہر تبصرے کا جواب دیا ۔ ان کے پیج پر میں نے ان کے پسندیدہ بلاگرز کے لنک دیکھے اور وہ وزٹ کئے۔ ان میں سے آپ کا یعنی افتخار اجمل بھوپال کا بلاگ بھی شامل ہے اگرچہ اس وقت تک میں سمجھتا تھا کہ یہ صاحب بھوپال میں رہتے ہیں۔ ورنہ عام طور پر شہر کا نام لگانا تو ہو دہلوی، بھوپالی، جالندھری وغیرہ لگاتے ہیں
      انہی تحریروں میں ایم بلال محمود اور ریاض شاہد بھی شامل تھے۔ بلال کی تحریر پڑھ کر میں نے ان سے پوچھا کہ اردو بلاگستان کیا بلا ہے؟ کیا یہ کوئی ویب سائیٹ ہے ، انہوں نے بتایا کہ یہ اصطلاح ہے ۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ ان بلاگز میں سےبعض اچھے ہیں، انہیں مین سٹریم میں آنا چاہیے اور میں اپنے دنیا ڈائجسٹ صفحے میں انہیں جگہ دینے کو تیار ہوں ،مگر شرط یہ ہے کہ وہ غیر سیاسی ہوں، ہلکے پھلکے، معلومات افزا، موٹی ویشنل، زندگی بدلنے والی مثبت تحریریں جیسا کہ محمد سلیم بھائی لکھتے ہیں۔ مین بلال کے اخلاص کو سراہوں گا، اس سے کبھی ملا نہ فون پر بات ہوئی، صرف دو تین بلاگ ہی پڑھے، مگر مجھےلگا کہ وہ کھرا نوجوان ہے،اردو اور اردو بلاگروں کے لئے بڑا درد ہے اس کے دل میں ۔ خیر بلال نے اس تصور کی حوصلہ افزائی کی مگر شرط یہ رکھی کہ اسے باقاعدہ اردو بلاگستان یا بلاگروں کی دنیا کے لوگو کے ساتھ دینا چاہیے اور آخر میں بلاگ کا نام ضرور ہو۔ بات معقول تھی، اتنا تو لکھنے والے کا حق بنتا ہے کہ اس کا بھرپور تعارف کرایا جائے ۔ میں نےیہ سلسلہ شروع کر دیا۔ اس دوران ریاض شاہد اور یاسر خواہ مخوہ جاپانی بھائی سے بھی بات ہوئی، ریاض شاہد نے کہا کہ میرےبلاگ لے سکتے ہیں ،مگر بلاگ کا نام ضرور دینا ہے ۔ یاسر صاحب کا میں‌نے روس کا سفرنامہ چھاپاا
      اور پھر جاپانا والا ٹکڑا ،جس میں سے سیاست والے کمنٹس ایڈٹ کرے پڑے کہ وہ صفحے کے مزاج کے مطابق نہیں تھے۔ انہوں نے برا
      نہیں مانا، جس کے لئے میں ان کا ممنون ہوں۔

       
      • عامر خاکوانی

        فروری 6, 2014 at 21:48

        میرا خیال ہے کہ اب دو تیں باتیں تو صاف ہو گی ہوں گی، پہلی یہ کہ کسی قومی اخبار مین اردو بلاگ کا چھاپنا کویی سازش نہیں،یہ مین سٹریم میڈیا کی اجتماعی کوشش یا سازش نہیں، ایک اخبار کے ایک شعبےکےسربراہ کی ذاتی کاوش ہے، اس کا برین چاءلڈ ہے، مزید یہ کہ وہ میگزین کا سربراہ بھی کوءی پراسرار شخصیت نہیں، ایک معروف کالمسٹ ہے، جس کی اللہ کے فض وکرم سے اپنی اچھلی بھلی ریڈر شپ اور مناسب قسم کی کریڈیبلٹی ہے، جس پرکبھی کویی الزام لگایا نہ گیا نہ ہی کسی نےکبھی علمی بددیانتی کا طعنہ دیا۔
        مزید براں یہ کہ بلاگ چھاپنےکا مقصد اپنی ریٹنگ یا ریڈرشپ میں اضافہ بھی نہیں کہ ان بلاگ اور بلاگرز کو اخبارات کے قارءین جانتے ہی نہیں، اس صاف گویی پر معذرت خواہ ہوں۔ سوشل میڈیا میں بحی اخبار کو مقبولیت بڑھانےکی چنداں ضرورت نہیں، ویسےتو الا ماشا للہ اخبارات سوشل میڈیا کو ابھی پوری طرھ سمجحتے ہی نہیں، وہ صرف فیس بک ہی کو سوشل میڈیا قرار دیتے ہیں۔
        مزید در مزید یہ کہ بلاگرز کی اآزادی فکر اور آزادی تھریر سلبب کرنا ہرگز مقصود نہیں کہ مجھے تو سیاسی تھریروں میں دلچسپی ہی نہیں ۔ بحلے سے آپ جس پارٹی کو اچحا کہیں یا برا، حکومت کی ایسی کی تیسی پھیریں یا پحر اسٹینلشمنٹ کے لتے لیں، خوشی سےلیں، اآپ کا اپنا بلاگ ہے بھاءی جو مرض کرو۔ میری دلچسپی تو اس میں ہے اور خواہش ہے کہ اگر کسی نے اپنے بلاگ پر کوءی ایسی تحریر لکحی ہے جو مثبت ہے، معلومات افزا ہے، کسی کی زندگی میں تبدیلی لا سکستی ہے ،تو ہمیں بھی بحیج دیں تاکہ ہم اسےزیادہ قاریین تک پہنچا دیں ، خیر کا پیغام جہاں تک پہنچے ااحچا ہے، کسی کی زندگی بدل گءی، کسی نے اگلی زندگی میں کوءی اچحا کام کیا وہ تحریر پڑھنے کے بعد تو بلاگرکے ساتح اس گناہ گار عاجز کو بھی کچھ نہ کچھ ثواب مل ہی جاءے گا۔ ایسی تحریریں جو زندگی میں تبدیلی لا سکیں، نامایدی اور مایوسی سےنکال کر آدمی کو عمل کی طرف راغب کریں، اس کے رویے میں تبدیلی لے آءیں، یا ایسی دلچسپ تحریر جو قارءین میں ذوق مطالعہ پیدا کرے، انہیں مطالعے کے لیے اکساءیے، وہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔
        اس میں بھلا سازش کہاں سے آگیی۔ مثلاً آپ کے بلاگ پر دارچینی کی افادیت پر تحریر ہے، اگر یہ تحریر دنیا ڈاءجسٹ میں چحپا جاءے تو چند ہزار مزید قارین تک پہنچ جاءے گی، اس سےبلاگر کی حریت فکر پرکیا فرق پڑے گا یا اس کی ازادی پرکیا فرق آءے گا؟ ممکن ہے کسی کو فرق پڑ جاءے، کسی مرض سے شفا مل جاءے تو اس کے دل سےنکلی دعا لکحنے والےکو ملےگی۔ محمد سلیم کے بیشتر بلاگ ہی تبدیلی لانے والے ہیں۔ میں نے یاسر خواہ مخواہ جاپانی بھاءی سے درخواست کی کہ وہ جاپان کے بارے میں مزید لکحیں، وہاں کے نظام تعلیم، کتاب کلچر، کحانوں، فلم، وہا ں کے ٹی وی ٹاک شوز وغیرہ کے بارے میں لکھین تاکہ یہاں کے لوگوں کو نیی معلومات مل سکیں۔ آخر اس میں حرج کیا ہے؟ سیاسی موضوعات پر آپ لوگ اپنےبلاگ پرکتھارسس کرتے رہیں، اچحا ہے، اگرچہ کرنٹ افیرز پر بلاگرز کے بعض بلاگ بلاگ اچحے ہیں، کسی ادارتی صفھے پر چھپ سکتے ہیں، مگر یہ میرا شعبہ نہیں، میرا اختیار بھی نہیں، میں تو اپنے صفھے پر ہی کچھ کر سکتا ہوں۔ میں پوری عزت ، احترام اور تکریم کے ساتھ سب دوستوں کو مدعو کرتا ہوں۔ آپ کے متصر تعارف کے ساتح بلاگ کانام بھی شایع کریں گے، مگر سیاست سے ہٹ کر ، ان موضوعات پر لکھین جن سے عام آدمی کو فاءدہ ہو، عام قاری میں تبدیلی آیے، اس کی سوچ بدلے، زندگی بدلے، عمل بدلے۔ یہ زیادہ اہم کام ہے، جو صاھبان آنا چاہیں، ان کا شکریہ۔ جو نہیں آنا چاہتے ، ان کی مرضی ہے، وہ بحی خوش رہیں، بس خِدا کےلییے ہر بات میں سازش نہ نکال لیا کریں۔ ہم لوگ جانے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں، کہ رسی بھی سانپ لگتی ہے۔

         
    • عامر خاکوانی

      فروری 6, 2014 at 22:17

      جی غلطی سے آپ کی ایک تحریر شامل کر لی گیی، اس کے لے معذرت خواہ ہیں، آءندہ کے لیےاگر آپ خود اجازت دیں گے یا خود بھیجیں گے تب ہی شامل اشاعت ہوگی، انشا اللہ۔ ۔ ویسے میں نے تفصیل سے وضاھت کی ہے ، اسی سٹیٹس پر ، براہ کرم وہ پڑھ لیجیے ، آپ کے سامنے پورا تناظر آ جاءے گا۔

       
  6. Naeemullah Khan

    فروری 3, 2014 at 08:45

    میڈیا کی چکاچوند اور شہرت کے لبادے میں اُن کی اپنے مفاد میں اُردوبلاگرز کو استعمال کرنے کا خدشہ بجا ہے اور آپ کی تحریر بہت سارے لوگوں کے لئے اچھی تنبہہ بھی ہے۔ مگر یاسر بھائی کی بات بھی درست ہے کہ اُردوبلاگرز کو اپنا آپ اور اُردوبلاگستان کو متعارف کرنے کا ایک موقع ہاتھ آیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس موقعے سے کیسے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ بے شک بلاگرز اپنے دل کی بات آزادی سے لکھتے ہیں لیکن یہ بات بھی اب بہت اہم ہے کہ کیا مین سٹریم میڈیا اس آزادی کو برقرار رکھ پائے گایا اپنے اداروں کی مفاد کے لئے بلاگرز کی تحاریر کو اپنے انداز سے استعمال کریں گے؟ کیونکہ اب یہ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور باقی اشاعتی ادارے بھی اپنی رینکنگ اور اشاعت بڑھانے کے لئے بلاگرز کواستعمال کریں گے۔

     
  7. DuFFeR - ڈفر

    فروری 3, 2014 at 09:12

    بھئی ہم نے تو پہلے بھی کچھ نی کہا نہ اب کہیں گے
    ٹھرکی کے ساتھ ساتھ سڑیل اور جیلسی بھی کہلائیں گے
    لیکن اس بات پہ لڑئے گا مت اگر میں کہوں کہ ہمارے میں سے کچھ لوگ شہرت اور پیسے کے سخت بھوکے ہیں
    اور آپ ان سے کچھ بھی ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں

    جاپانی صاحب ٹھیک کہہ رہے، اشتہاری مہم کی حد تک ٹھیک ہے
    لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اس فلٹر شدہ چھپائی والی اشتہاری مہم سے آپ کو چار چھ سے زیادہ ریڈر نہیں ملنے والے

    خیر ہمیں کیا، ہم تو بولتے نہیں کسی کی بات میں 😉

     
    • razi ullah khan

      فروری 3, 2014 at 13:20

      سب کچھ بول کہ بھی بولتے نہیں کسی کی بات میں – 😀

       
      • DuFFeR - ڈفر

        فروری 7, 2014 at 11:50

        ابے یار جب کوئی سیریس نی لیتا تو دل کی بھڑاس بھی نکال لینی چاہئے نا ساتھ ہی 😉

         
  8. sheikho

    فروری 3, 2014 at 10:01

    بہت عمدہ تحریر

     
  9. رضوان خان

    فروری 3, 2014 at 17:38

    بعض لوگ یہ Lame Excuse پیش کرتے ہیں کہ کمرشل میڈیا میں چھپنے سے اردو بلاگ کو متعارف ہونے کا موقع ملے گا۔ تعجب ہے کہ اردو بلاگران کو انٹرنیٹ پر لکھتے ہوئے کم و بیش دس سال کا عرصہ ہوگیا لیکن بلاگستان ابھی تک تعارف کے مرحلے سے نکل نہیں پایا ہے۔ اگر کمرشل دکاندار اپنی دکان کی شان بڑھانے کے لئے کسی بلاگر کی تحریر کانٹ چھانٹ کربلا اجازت اپنی دکان پر سجاتے ہیں تو چند شہرت کے بھوکے بلاگر اپنی پراپرٹی کو بغیر اجازت استعمال کرنے پر باز پرس کرنے کے بجائے جی حضوری کا حلوہ پکا رہے ہیں۔ بلا شبہ بلاگ ایک کامن آدمی کی آواز ہے اور میں گوندل صاحب کی بات سے سو فیصد متفق ہو کہ کمرشل میڈیا کی یاری کرنے سے ایک بلاگر جو ایک آزاد اور عام آدمی ہے اس کی سوچ اور فکر محدود ہو جائے گی۔ احساس کمتری سے باہر نکلیں اور جی حضوری کا حلوہ پکانے والوں سے گذارش ہے کہ شہرت اور پیسوں کا شوق ہے تو کمرشل میڈیا کو جوائین کرلیں لیکن خدا را بلاگ کوبلاگ ہی رہنے دیں۔
    اردو سیارہ کے توسط سے اردو بلاگ عرصہ پانچ سال سے پڑھ رہا ہوں لیکن یہ موضوع ایسا تھا کہ پہلی بار کی بورڈ پر ہاتھ مارنے پڑے۔
    اگر میری بات کسی کو بری لگی ہو تو
    ۔
    َ۔
    ۔
    ۔
    َ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    سانوں کی !

     
  10. محمد عبداللہ

    فروری 4, 2014 at 13:35

    اپکے بیان کردہ نکات کافی اہم ہیں۔ مجھ نا چیز کی رائے میں بلاگرز کی تحاریر کا شایع ہونا ایک احسن اقدام ہے اور بلاگرز کو ان خدشات کے پیش نظر اسکا بالکل ہی بائیکاٹ نہیں کر دینا چاہیے۔ اب بلاگرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تحاریر شائع کرانے کے چکر میں مصلحت سے کام لینے ہیں یا اپنا مخصوص بے لاگ انداز برقرار رکھتے ہیں اگر اپنے بلاگی انداز میں ہی تحاریر شایع کرواتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے لیکن اگر مصلحت آڑے آئے گی تو یہ خدشات حقیقت میں بدل جائیں گے۔
    اس سلسلے میں ایک اور شرط جو رکھی جا سکتی ہے وہ یہ کہ تحریر من و عن شائع کی جائے ناکہ تحریر کی اپنی مرضی سے ترمیم کر کے شائع کی جائے جیسا کہ یاسر صاحب کی تحاریر کے ساتھ ہو چکا ہے۔

     
    • عامر خاکوانی

      فروری 6, 2014 at 22:13

      محترم یاسر صاحب کی تحریروں کے ساتھ کوی زیادتی نہیں ہویی، ان کی صرف دو تحریریں شایع ہوییی ہیں، ایک تو مکمل چھپی روس کے متعلق، دوسری جاپان کے حوالے سے تحھی، اس میں انہوں نے خود بھی اتفاق کیا کہ اس کا پہلا حصہ اگر شامل اشاعت ہے تو شایع کر دیں، وہ کر دیا گیا، اس میں کویی بات غلط نہیں تھی، جاپان کے بارے میں معلومات تھی، اس لیے براہ کرم یہ بات نہ کہیں کہ تحریر ترمیم کر کے شامل کی گیی۔

       
  11. noureen tabassum

    فروری 4, 2014 at 14:19

    تیل دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں ۔ ویسے درد مندی اور خلوص آپ کی تحریر سے عیاں ہے۔

     
  12. دہرا ح

    فروری 4, 2014 at 23:40

    جناب بلاگ آپ کا ، الحمدللہ حاصل تو پھِر ڈر کاہے کا۔ ہمارے ہاں اخبار کاروباری لوگ ہی چلا رہے مقصد پیسہ اور شہرت دونوں ہی ہیں۔ یاسر جاپانی صاحب عرصہ دراز سے جاپان میں رہتے ہیں وہ جاپان اور جاپانیوں کے مُتعلق ایک آرٹیکل لِکھتے ہیں مُجھ جیسے بہتوں کے ناقص عِلم میں وہ اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اب اُس آرٹیکل کے کُچھ حِصے کو وہ لوگ اُن کی اجازت سے چھاپتے ہیں اور یاسر صاحب کے بلاگ کا حوالہ بھی دے دیتے ییں تو اِس میں قطعا کوئی بُرائی نہیں ہے۔ ایک بندہ جِس نے کبھی کمپوٹر کی شکل نہیں دیکھی ہِجے کرکے اخبار پڑھ لیتا ہے، وہ ایک سیانے بندے کی باتوں سے فیضیاب ہوجاتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے ۔ حتی کہ اخبار کے اس ٹُکڑے پر پانچ روپے کے پکوڑے کھانے والا بھی شائد اُسے مروڑ کر پھینکنے سے پہلے شائد کُچھ پڑہ ہی لے۔
    اب ہم دوسرے رُخ سے دیکھتے ہیں آپ نے اپنی تحریر چھاپنے کے لئے دی اُسے توڑ مروڑ کر چھاپہ گیا آپ کا نُقظہ نظر غلط اندز میں پیش کیا گیا تو آپ کو پورا پورا اخیتیار ہے احتجاج کرنے کا۔ اور اس کے لئے ماشاللہ ہمارے پاس بلاگ تو موجود ہیں ہی تو ڈر کاہے کا۔
    ابھی جناب شُروعات ہیں اگر ہماری پانی نیتوں میں لالچ نامی فتور نہ ہو تو ہمیں کوئی بھی نُقصان نہیں پہنچا سکتا۔

     
  13. Haroon Azam

    فروری 5, 2014 at 20:04

    میرے خیال میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر کسی بلاگر کی تحریر اخبار میں اس کے نام کے ساتھ شائع ہورہی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ باقی بحیثیت قوم ہمیں ہر نئی چیز کی مخالفت کرنے اور اس میں سازش ڈھونڈنے کی عادت ہوچکی ہے۔ اردو بلاگرز بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

     
  14. farooqdarwaish777

    فروری 5, 2014 at 22:16

    اب کینیڈا سے آ کر لاہور میں بلاگر کانفرنسیں کروانے والے ” مومن سرپرست” وہیں سے بیٹھ کر اپنی جادوگری دکھائیں گے ۔۔ یہ میری ایک برس پہلے کی پیشین گوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھائی سٹیج تیار ہے ۔۔بس تھوڑا اور انتظار کریں۔۔۔۔۔

     
  15. Sarwat AJ

    فروری 6, 2014 at 14:13

    ابھی تک یہاں گراؤنڈ پہ، حقیقی دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو "بلاگ” کا نام سُن کے پوچھتے ہیں، "وہ کیا ہوتا ہے؟”
    صرف بلاگ پہ انحصار کرنا کوتاہ نظری ہوگی –
    اچھی بات اور حق بات، نیک نیتی سے لکھی گئی تحریر، جس بھی ذریعے سے پھیلے، اجر کی امید رکھیں-
    آگے جا کے کام آئے گی انشااللہ

     
  16. عامر خاکوانی

    فروری 6, 2014 at 21:17

    کچھ وضاحتیں ضروری ہوگئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ خاکسار ہی اردو بلاگستان کےخلاف سازش کا مرتکب ہوا ، اسے ہی اس سازش یا خفیہ منصوبے یا جو بھی اسے کہا جائے کا بانی ہے۔ مین سٹریم میڈیا کو اس کاالزام دینا زیادتی ہے۔ وہاں کےنوے پچانوے یا نناوے فیصد لوگوں کو یہ بھی علم نہ ہو کہ اردو بلاگستان کس چیز کا نام ہے اور اس کے خلاف کسی سازش کی ضرورت ہے۔
    دوسری وضاحت کہ اس سارے معاملے کا دنیا نیوز سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے دنیا نیوز ٹی وی چینل ہے اور اس میڈیا گروپ نے ڈیڑھ سال پہلے ایک اردو اخبار لانچ کیا تھا، جس کا نام روزنامہ دنیا ہے۔ اس اخبار کا بھی ایک شعبہ میگزین ہے، جس کا یہ خاکسار ایڈیٹر یعنی میگزین ایڈیٹر ہے ۔ اس لئے دنیا نیوز تو دور کی بات ہے ، خود روزنامہ دنیا کی مینجمنٹ یا اعلیٰ قیادت کو بھی اردو بلاگستان یا اردو بلاگروں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ ، ٹی وی والوں کو معلوم نہیں اردو بلاگ یا بلاگرستان کے بارے میں کچھ معلوم بھی ہے یا نہیں، امید واثق ہے کہ جب انہیں اپنے اخبار میں چھپنے والے کالموں اور رپورٹوں کے بارے میں نہیں معلوم تو جو چیز کہیں چھپتی نہیں، جس کےبارے میں کمم ہی لوگ جانتے ہیں، اس کے بارے میں وہ کیا جانتےہوں گے۔؟
    تیسری وضاحت یہ کہ جسے آپ لوگ اردو بلاگستان کہتے ہیں ، اس کے بارے میں دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی کچھ نہیں جانتا تھا، نہ ہی کہیں اس کا تذکرہ سنا یا پڑھا نہ ہی کسی بلاگ کا تذکرہ سنا یا اس کو بڑے پیمانے پر ڈسکس ہوتے دیکھا۔ میں اخبارات ، مین سٹریم میڈیا یا صحافتی حلقوں کی بات نہیں کر رہا، وہ تو یقینی طور پر کسی کو نہیں جانتے ۔ میں فیس بک کے صفحات کی بات کر رہا ہوں، وہاں پر بھی کبھی کسی کا تذکرہ سنا نہ ہی کسی نے کسی بلاگر کا بلاگ بھیجا کہ اسے پڑھیں ۔ پانچ ہزار کے قریب فیس بک فرینڈ تو میرے بھی ہیں کہ اس سے زیادہ فیس بک اجازت نہیں دیتا۔ روزانہ بہت سے دوست کوئی نہ کوئی لنک بھیجتے ہیں کسی کالم کا، کسی تحریر کا ،مگر سوائے طلعت حسین کے سچ ٹی والی ویب سائیٹ‌کے بلاگ کے، کسی اور کا بلاگ مجھے کبھی کسی نے نہیں بھیجا۔ اس کا یہ مطلب یقینی نہیں کہ ان بلاگز کو کوئی نہیں پڑھتا ہوگا یا یہ اچھے نہیں، مقصد صرف یہ بتانا ہےکہ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، اس کا مین سٹریم کو کوئی پتہ نہیں، جب علم ہی نہیں‌تو فطری طور پر سازش کس نے کرنی ہے؟
    آگے بڑھنے سے پہلے چند سطریں اپنے بارے میں ، تاکہ معاملہ پوری طرح سمجھ میں آ جائے۔
    جہاں تک ناچیز کا تعلق ہے، اخبارات پڑھنے والے ، خاص کر ای پیپر پڑھنے والے کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہوں گے میرے بارے میں۔ مختصرآ تعارف کرا دیتا ہوں۔ بہاولپور سے تعلق، دو عشروں سے صحافت کی وادی خارزار میں ہوں، اردو ڈائجسٹ، جنگ ، ایکسپریس اور اب روزنامہ دنیا۔ ایکسپریس اخبار کی جس بانی ٹیم نے بارہ سال قبل اخبار پنجاب اور کراچی کے علاوہ ملک بھر سے شروع کیا ، میں اس کے میگزین کے شعبے کا سربراہ اور کالم نگار تھا۔ ڈیڑھ سال قبل جب دنیا اخبار شروع ہوا تو اوریا مقبول جان، ہارون الرشیدد، عبداللہ طارق سہیل وغیرہ کے ساتھ میں نے بھی ایکسپریس چھوڑ کر دنیا جوائن کر لیا اور اس کا میگزین سیکشن سٹارٹ کیا۔ زنگار کے نام سے یہ خاکسار پچھلے دس برسوں سے پہلے ایکسپریس اور اب دنیا اخبار میں کالم لکھ رہا ہے۔ ہفتےمیں دو تین کالم۔ میرے کالموں کے موضوعات میں کرنٹ افئیرز کےساتھ ادب،تصوف، سیلف ہیلپ، پرسنالیٹی مینجمنٹا اور نیشن بلڈنگ شامل ہے۔ مجھےپڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ مثبت اور متوازن سوچ کو فروغ دیا، معلومات افزا،ٹھوس اور ریسرچ پر بنیاد رکھنے والے کالمز لکھنے کی کو شش کی ،اپنی بساط کے مطابق ۔ ہمیشہ امید جگائی،منفی سازشی تھیوریز کا ابطال کیا اور کلیشوں کو چیلنج کیا۔ انسپائریشنل کہانیوں کو بھی جگہ دی تاکہ نوجوانوں میں خاص کر مثبت سوچ پھیلے اور مذہب کا حقیقی تصور دلوں میں راسخ ہو۔
    ایکسپریس میں ہم نے ایک صفحہ شخصیت کے نام سے نکالا، جس میں اہم شخصیات کے انٹرویوز شائع ہوتے ہیں۔ ہم نے دو تین کام کئے، ایک تو پروفائل انٹرویو کی صنف صحافت میں مستحکم کی، یہ نیا ٹرینڈ تھا، دوسرا میں نےکرپٹ اور بدنام وزیروں ،مشیروں کے انٹرویوز کی جگہ اہل علم کو اہمیت دی۔ شاید ہی کوئی ادیب ، شاعر اور دانشور ہوگا جس کا انٹروہو اس صفحے پر شائع نہ ہوا ہو۔ اس حوالے سے ہم نے یہ بھی التزام کیا کہ جو محقق اور ریسرچ سکالرز گمنام ہیں اور جنہیں کبھی میڈیا پر جگہ نہیں ملتی، ان کے بھی انٹرویوز شائع کئے، ایک درویش اہل علم کا انٹرویو شائع کیا تو پاکستان کے دو تین بڑے اخبارات میں سے ایک اکے میگزین انچارج نے باقاعدہ گلہ کیا کہ ججس آدمی کا ہم مضمون نہیں چھاپتے ، اس کا آپ نے انٹرویو شائع کیا۔ ہم نے ایکسپریس کے اس صفحے پر ممتاز شماجی شخصیات اور حقیقی رفاحی کام کرنے والون کو بھی چھاپا، ایسے لوگ جو میڈیا پر آنا پسند نہیں کرتے تھے، جنہیں اپنی نیکی کو ضائع کرنا پسند نہیں تھا، انہیں قائل کیا کہ مقصود کی پبلسٹی نہیں بلکہ یہ بتانا ہےکہ ہمارے ہاں سب تاریک نہیں، کتنا اچھا کام ہو رہا ہے، دوسرا یہ کہ قارئین کو بھی انسپائریشن ملے گی، ان میں سے کچھ تو فالو کرنا چاہیں گے ۔ یہ باتیں گنوانے کا مقصد واللہ اپنی تعریف نہیں بلکہ اس پورے تصور کو واضح کرنا ہے، جس کی ایک کڑی میرا حالیہ قدم ہے، جس پر یہ سب ہنگامہ برپا ہوا۔
    خیر جب روزنامہ دنیا میں‌آئے تو یہ سوچا کہ کچھ مختلف کام کیا جائے، جو مثبت بھی ہو ۔ خیال ایا کہ ڈائجسٹ کے نام سے ایسا ایڈیشن شروع کیا جائے ،جہاں ریڈرز ڈائجسٹ کی طرح چھوٹی بڑی مختلف تحریریں پیش کی جائیں ۔ اس کا دائرہ کار بڑا وسیع رکھا۔ مذہب ، تصوف، روحانیت، ادب، اصلاح زبان، سائنس وٹیکنالوجی، جدید ایجادات، تاریخ، حکایات، فلسفہ، بائیوگرافیز، طب وصحت، سبزیوں،پھلوں،جڑی بوٹیوں کی افادیت وغیرہ سے لے کر سفرنامے، اثارقدیمہ، مزاح پاروں تک ،کوئی موضوع ایسا نہیں جس کے لئے جگہ نہیں۔ یہ صفحہ اس قدر مقبول ہوا کہ اب یہ ہفتے کے ساتوں دن شائع ہوتا ہے۔ اس کے لئے طبع زاد تحریریں لکھی گئیں اور تالیف بھی بہت سی ہوئی، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، واصف علی واصف، خلیل جبران، دیوان سنگھ مفتون ،قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، منٹو، ابن صفی سے لے کر ن م راشد، مجید امجد کی نظمیں، عرب کلاسیکی شعرا جیسے امرائو القیس ، زید بن ابی سلمہ، لبید وغیرہ کا کلام ، محمود درویش، نظار قبانی کی جدید عرب شاعری، فارسی کے مشہور شعرا۔ ماہرالقادری اور طالب ہاشمی کی اصلاح زبان، رشیدحسن خان کی املا، بنے بھائی سجاد ظہیر کی آپ بیتی سے حمید اختر ، ساحدلدھیانوی، سردار جعفری وغیرہ کی جدوجہد اور واقعات۔ جدید ترین گیجٹس کی تفصیل بھی شامل کی جاتی ہے۔ زندگی بدلنے والی کہانیاں، مثبت جذبے کو فروغ دینےوالی تحریریں، وہ مستقل نوعیت کی چیزیں جو سدد بہار رہتی ہیں، ہم نے دانستہ شامل کیں۔ بعض مشکل موضوعات کو دانستہ شامل کیا تاکہ قارئین کی فکری تربیت ہوسکے۔ یونانی فلاسفروں سے مسلمان فلسفہ دانوں کا مختصر تعارف ، اس کی ایک مثال ہے۔ ابھی اس حوالے سےبہت کچھ ہونے والا ہے، جتنی ہمت ہےہم کئے جا رہے ہیں۔ یہ یاد رہےکہ اخبارات میں مقبول ترین موضوعات بہت سے ہیں ، ہم نےمقبول ترین کو ترجیح نہیں دی، سیکنڈلز اور گوسپ کے بجائے ہم نے مطالعہ کا ذوق بڑھانے اور بعض ایسی مشہور کتابوں کے اقتناسات دینے کو ترجیح دی ، جو آئوٹ آف پرنٹ ہوں جیسے ناقابل فراموش حصہ دوم ،جہاں دانش حصہ دوم یا میرزا ادیب کی آپ بیتی ،نقوش کے خاص شماروں میں شامل تحریریں وغیرہ۔
    محمد سلیم ، شانتو چین کی کوئی تحریر ہمارے کراچی افس کے کسی صاحب کو دیکھنےکا موقعہ ملا، اسےشامل کیا گیا، رفتہ رفتہ محمد سلیم کی بعض اور تحریریں اور بلاگ بھی دنیا میں شائع ہوئے۔ ان دنوں روزنامہ دنیا کراچی آفس کا ڈائجسٹ صفحہ وہاں تیار ہوتا تھا، میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ صاحب چین سے ای میل کرتے ہوں گے۔ خیر کچھ عرصہ قبل کراچی کے بجائے وہ صفحہ بھی لاہور میں ،میرے کنٹرول میں اآیا۔ میں نے سلیم شانتو کے بارے میں پوچھا کہ ان صاحب کو کہیں کہ کہ اپنی تحریریں بھیجتے رہیں۔ معلوم ہوا کہ ان سے رابطہ نہیں بلکہ ان کے بلاگ سے تحریریں لی جاتی ہیں۔ ایڈریس مجھے بھیج دیا گیا، اس سے پہلے اپنی جہالت اور لاعلمی کے باعث میں یہ سمجھتا تھا کہ بلاگ صرف ایک تحریر ہی ہوتی ہے، اسے اپنی ویب سائیٹ پر لگا دیتے ہوں گے، خیر جب سلیم بھائی کا بلاگ پڑھا تو بہت اچھا لگا، ان کی سوچ بھی دل کو بھائی۔ میں ای میل ڈھونڈتا رہا، وہ تو نہ ملی ، البتہ میں نے ان کے ایک بلاگز پر تبصرہ کیا اور سراہنے کے ساتھ ساتھ وہ بلاگ چھاپنے کی اجازت مانگی۔ انہوں نے برا نہ مانا بلکہ بہت اچھے طریقے سے میرے ہر تبصرے کا جواب دیا ۔ ان کے پیج پر میں نے ان کے پسندیدہ بلاگرز کے لنک دیکھے اور وہ وزٹ کئے۔ ان میں سے آپ کا یعنی افتخار اجمل بھوپال کا بلاگ بھی شامل ہے اگرچہ اس وقت تک میں سمجھتا تھا کہ یہ صاحب بھوپال میں رہتے ہیں۔ ورنہ عام طور پر شہر کا نام لگانا تو ہو دہلوی، بھوپالی، جالندھری وغیرہ لگاتے ہیں
    انہی تحریروں میں ایم بلال محمود اور ریاض شاہد بھی شامل تھے۔ بلال کی تحریر پڑھ کر میں نے ان سے پوچھا کہ اردو بلاگستان کیا بلا ہے؟ کیا یہ کوئی ویب سائیٹ ہے ، انہوں نے بتایا کہ یہ اصطلاح ہے ۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ ان بلاگز میں سےبعض اچھے ہیں، انہیں مین سٹریم میں آنا چاہیے اور میں اپنے دنیا ڈائجسٹ صفحے میں انہیں جگہ دینے کو تیار ہوں ،مگر شرط یہ ہے کہ وہ غیر سیاسی ہوں، ہلکے پھلکے، معلومات افزا، موٹی ویشنل، زندگی بدلنے والی مثبت تحریریں جیسا کہ محمد سلیم بھائی لکھتے ہیں۔ مین بلال کے اخلاص کو سراہوں گا، اس سے کبھی ملا نہ فون پر بات ہوئی، صرف دو تین بلاگ ہی پڑھے، مگر مجھےلگا کہ وہ کھرا نوجوان ہے،اردو اور اردو بلاگروں کے لئے بڑا درد ہے اس کے دل میں ۔ خیر بلال نے اس تصور کی حوصلہ افزائی کی مگر شرط یہ رکھی کہ اسے باقاعدہ اردو بلاگستان یا بلاگروں کی دنیا کے لوگو کے ساتھ دینا چاہیے اور آخر میں بلاگ کا نام ضرور ہو۔ بات معقول تھی، اتنا تو لکھنے والے کا حق بنتا ہے کہ اس کا بھرپور تعارف کرایا جائے ۔ میں نےیہ سلسلہ شروع کر دیا۔ اس دوران ریاض شاہد اور یاسر خواہ مخوہ جاپانی بھائی سے بھی بات ہوئی، ریاض شاہد نے کہا کہ میرےبلاگ لے سکتے ہیں ،مگر بلاگ کا نام ضرور دینا ہے ۔ یاسر صاحب کا میں‌نے روس کا سفرنامہ چھاپاا
    اور پھر جاپانا والا ٹکڑا ،جس میں سے سیاست والے کمنٹس ایڈٹ کرے پڑے کہ وہ صفحے کے مزاج کے مطابق نہیں تھے۔ انہوں نے برا
    نہیں مانا، جس کے لئے میں ان کا ممنون ہوں۔

     
  17. انکل ٹام

    فروری 7, 2014 at 01:14

    عامر خاکوانی صاحب ، وضاحت کا بہت شکریہ، جہاں تھوڑی کنفیوذا پیدا ہو جائے وہاں وضاحت دینا معاملے کو حل کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ میں صرف آپکی ایک غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا کہ یہ بات غلط ہے کہ مین سٹریم میڈیا میں لوگ اردو بلاگرز یا اردو بلاگنگ کو نہیں جانتے، جہاں تک ہمارا مشاہدہ ہے بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں بلکہ انکے کام کو استعمال بھی کرتے رہے ہیں اور وہ بھی اپنے نام سے ، اب یا تو وہ خود ذاتی طور پر ایسا کرتے ہوں یا پھر انکی ’’ریسرچ ٹیم‘‘ جیسا کہ انکا دعویٰ ہے ، انکے علم کے بغیر کرتی ہو۔ میں یہاں نام نہیں لوں گا لیکن انہی جاوید گوندل صاحب کی ایک بڑی محققانہ تحریر کو کچھ عرصہ قبل ایک بڑے معروف دانشور اپنے نام سے چھاپ چکے ہیں اور ایک دو اور بلاگرز کی تحاریر کو چند ایک چیزوں کی تبدیلی کے بعد شائع کیا گیا ہے ۔

    یہ ہی نہیں بلکہ فیس بک اور انٹرنیٹ فورمز پر ہماری تحاریر کو لوگوں نے اپنے نام سے جگہ جگہ لگایا ہوا ہے ، بلکہ کئی جگہ تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ جب ان لوگوں کو شکایت کی گئی تو انہوں نے بجائے معذرت کے ہم لوگوں کو بلاک کیا ۔

    ہم آپکے اس اقدام کو سراہتے ہیں کہ آپ بلاگرز کے مضامین کو مین سٹریم میڈیا کا حصہ بنا رہے ہیں جس سے لوگوں کو کسی قدر اردو بلاگنگ کا نہ صرف علم ہو گا بلکہ تعارف بھی ہو گا ۔ گوکہ یہ مضمون جاوید بھائی کا ہے لیکن پھر بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ انکی اس تنقید کا مقصد آپ پر ذاتی طور پر تنقید یا کوئی الزام لگانا نہیں تھا بلکہ چند خدشات کا اظہار کرنا تھا جنکا پیش آنا شاید ہمارے معاشرے کا معمول ہے ۔

     
    • عامر خاکوانی

      فروری 7, 2014 at 05:56

      بہت شکریہ ۔ میرا مقصد بلاگرز کی اہمیت ختم کرنا یا انہیں بے توقیر ثابت کرنا نہیں تھا، یہ مگر حقیقت ہے کہ مین سٹریم میڈیا میں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ ممکن ہے کچھ لوگ جانتے ہوں یا ان کی ریسرچر ٹیم کے لوگ اس سے واقف ہوں۔ تاہم کسی کی تحریر کو بغیر حوالے کے استعمال نہیں کرنا چاہیے ، یہ تو کھلی بددیانتی ہے۔۔

       
  18. Fakhar Naveed

    فروری 7, 2014 at 03:28

    محترم
    اردو بلاگران کی اپنی پہچان ہے اور امید ہے کہ وہ کسی سازش کا شکار ہو کر اپنے استحکام اور تشخص کے دشمن خود بن جائیں. مین سٹریم.میڈیا ان سے وہ مفاد حاصل نہیں کر سکتا جس کی اسے خواہش ہے. یہ لوگ من موجی ہیں.

     
  19. DuFFeR - ڈفر

    فروری 7, 2014 at 12:04

    میرے خیال میں تو کسی بھی تحریر کی کانٹ چھانٹ (ایڈیٹنگ اس لئے نہیں کہہ رہا کہ کافی سارے بلاگروں کی اردو میری طرح بڑی خراب ہے اسلئے اسکی ضرورت ہو سکتی ہے) اس کے حسن میں کمی کا ہی سبب بنتی ہے۔ چونکہ ایک بلاگر کی تحریر اور کل وقتی لکھاری کی تحریر میں وجہء لکھت کا بہت بڑا فرق ہوتا ہے اس لئے یہ کانٹ چھانٹ بلاگی تحریر کو ماند کر دے اسکے چانسز دوسری تحاریر کے مقابلے میں کافی سے زیادہ ہیں
    پر ہمیں تو کوئی سیریس لیتا ہی نی اس لئے ہم بھی بولتے نہیں کسی کی بات میں، صاف بات آوے کہنے ماں

     
  20. Naeem

    فروری 7, 2014 at 17:39

    بلاگران چمن۔۔۔ نئی نویلی دلہن کی طرح شرمانا اچھی بات نہیں۔۔۔ کھوچل بڈھیوں کی طرح کھل ڈل کر ڈیل کریں۔۔۔

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: