RSS

شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔

13 جنوری

شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔

کیا شیخ کوا س لئے میدان میں اتارا گیا ہے کہ ایک اور المیہ وجود میں آئے اور خدا نخواستہ مشرقی پاکستان کی طرح بلوچستان کا ٹنٹنا ختم کرتے ہوئے ریاست پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے؟۔

ایک عام رائے یہ ہے کہ شیخ کے پیچھے افواج پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہے۔ جو شیخ پاکستان کا موجودہ جمہوری نظام ملیا میٹ کرنے کا مطالبہ الیکشن کمیشن کو منسوخ کرنے کا ایک نکتہ فائر کرنے کے بعد باقی چھ نکتے اسلام آباد میں ظاہر کرنے کی دھمکی لگا کر عازمِ اسلام آباد ہوئے ہیں۔ افواج پاکستان سے غیر ضروری طور پہ ہمدردی کئیے بغیر ۔ ہماری رائے میں افواج پاکستان اس وقت ایک سخت اور کٹھن دور سے گزر رہی ہیں۔ جس کے چاروں اطراف قسما قسمی کے مختلف رنگ روپ کے بھیڑیے اور لکڑ بھگے غرا رہے ہیں ۔ اور مشرقی سرحدوں پہ ازلی دشمن نے بھی اپنی ازلی کمینگی کا ایک بار پھر ثبوت دیتے ہوئے ۔ بغیر کسی وجہ کے مدتوں بعد ۔کنٹرول لائن جنگ بندی۔ نامی معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ نہ صرف یکے بعد دیگرے پاکستان آرمی کے دو جوان شہید کر دئیے ہیں۔ بلکہ ہنوز سرحد پار سے گیدڑ بھھبکیاں اور دہمکیاں لگا رہا ہے۔اس لئیے خیال یہ ہے کہ افواج پاکستان ان حالات پہ کبھی بھی نہیں چاہیں گی۔ کہ پاکستان کے اندر حکومتی کاروبار کی بلا بھی ان کے سر آپڑے ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوت و وسائل کے وہ کونسے خفیہ و اعلانیہ سر چشمے ہیں جن کی بناء پہ شیخ ۔اسلام آباد پہ غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پہ چڑھ دوڑے ہیں؟۔

شیخ کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچانک پاکستان وارد ہوں اور غیر آئنی طور پہ وہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے نکل کھڑے ہوں۔ وہ بھی اس صورت پہ جب انتخابات کا ڈول ڈالے جانے والا ہے۔ پاکستان کی انتخاباتی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سول حکومت دوسری سول حکومت کو اختیار و اقتدار منتقل کرے گی؟۔ وہ کونسا ایساقانون ہے جو شیخ کو اپنے ذاتی نظریات کے زور پہ پاکستان میں انتشار پھیلانے اور عوام کو بے سُود ہیجان میں مبتلاء کرنے کی اجازت دیتا ہے؟۔

شیخ۔ کامل اتنے سالوں سے کنیڈا کی شہریت سمیت ۔کنیڈا میں اپنی ذاتی تنظیم منہاج القرآن کی تنظیم و تدوین و ترغیب میں مصروف رہے۔ ذاتی اس لئیے کہ شیخ موصوف اسکے بانی اور صاحبزادہ گان اور بہوئیں اور زوجہ محترمہ اسکے ڈائریکٹر ز ہیں ۔ اور ایک ہاتھ کی انگلیوں پہ گنے جانے والے۔ شیخ کے منظور نظر چند باہر کے افراد شیخ کے نامزدہ ہیں۔اور جمہوریت نام کی شئے کی انکی تنظیم میں کوئی جگہ نہیں۔ ان سالوں میں جب شیخ اور شیخ کے ماننے والے ہر اسلامی اور غیر اسلامی طریقوں سے اور مغرب کے لئیے دلآویز ناموں اور طور طریقوں سے اپنی نامی تنظیم کو پاپولر بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔تو اسوقت شیخ کو پاکستان کی محبت کیوں نہ جاگی؟ جبکہ ایک وقت تھا کہ شیخ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رُکن تھے اور شیخ چاہتے تو پاکستان میں رہ کر جمہوری طور طریقوں سے پاکستان کی خدمت ۔لانگ مارچ۔ نامی ہیجان اور انتشار برپا کئیے بغیر زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے تھے ۔ یوں اچانک پاکستان وارد ہونا اور عین اسوقت پہ جب جمہوری طریقے سے قوم کو اپنی تاریخ میں پہلی بار نئے نمائندوں کو نااہل اور سابقہ نمائندوں سے بدل ڈالنے کا موقع ملنے والا ہے۔تو شیخ کے پاس کونسا اختیار اور اخلاقی جواز بنتاہے جس کی بناء پہ وہ چھ خفیہ نکات لیکر پورے ملک کے جمہوری نظام کو لپیٹنے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟۔

شیخ نے اپنے لانگ مارچ کو کئی ایک شاعرانہ اور دل خوش کُن نام دینے کے بعد ”جمہوریت بچاؤ“نامی نام دیا ہے۔ جبکہ شیخ کی اپنی ذاتی تنظیم میں جمہوریت نامی کوئی شئے نہیں۔ اور شیخ کے نزدیک مختلف ممالک میں وہی لوگ شیخ کے لئیے کارآمد ہیں۔ جو انکی تنظیم کے لئیے مفید ثابت ہوں اور غیر مشروط طور پہ انھیں ہر طور اسلامی اور غیر اسلامی طور پہ شیخ تسلیم کریں۔ غیر اسلامی کی کوئی حد نہیں ۔ شیخ کے منظور نظر اور یوروپ کے ممالک میں تحریک منہاج القرآن کے کرتا دھرتا یہ لوگ تنظیم منہاج القرآن کے لئیے یوروپی ممالک میں یوروپی بنکوں سے سود پہ قرضہ لے کر۔ اپنی تنظیم کے نام سے مساجد اور مرکز قائم کرنے میں ذرا بھر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔نماز جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں سادہ لوح پاکستانی اور مختلف ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو حقیقت بتلائے بغیر صفوں کے سامنے سے تھیلے بھر بھر کر رقومات مسجد کے لئیے اکٹھی کرتے ہیں اور اس سے بنکوں کے سودی قرضے بھی چکائے جاتے ہیں۔ اور سود پہ مساجد بنانے کے بارے سوال پوچھے جانے پہ برملا اپنے انٹرویوز اور نماز جمعہ اور نماز عیدین پہ مساجد بنانے کے لئیے سود پہ قرضہ لینا جائز بیان کرتے ہیں ۔انکی تنظیم شاید وہ واحد تنظیم ہے جو نائن الیون کے ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد مغربی ممالک میں زیر عتاب نہیں ہوئی بلکہ کئی طور پہ مراعات اور یوروپی سیاستدانوں کی توجہ پاتی رہی ہے ۔یہاں تک بعض یوروپی ممالک میں انہوں نے منہاج القرآن نامی تنظیم کو ”پیس وے “ یعنی ”امن کا راستہ“ نامی نام سے متعارف کروایا ہے تانکہ نائن الیون کو ٹوئن ٹاورز کے المیے کے بعد یہ تاثر عام ہو کہ منہاج القرآن نامی تنظیم ہی وہ تنظیم ہے جو مغرب کے لئیے فائدہ مند ہونے کی وجہ سے منظور نظر ہوسکتی ہے۔

شیخ کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ہم اس پہ روشنی ڈالیں۔ مقصد شیخ کے پس پردہ مقاصد سے پردہ اٹھانے کی اپنی سی کوشش کرنا ہے۔ شیخ کے خوابوں ۔ شہدا کو جگانے ۔ اور قوالی کی اس محفل جس کے بول ” بت خانہ ہو یا کعبہ۔ طاہر سجدے تجھے ہم کئیے جائینگے“ جیسی محفلوں میں سجدہ کروانے ۔ پاؤں چومے جانے پہ کسی طور بغیر نادم ہوئے یا منع کئیے بغیر ۔ نفس کی تسکین کے ہلکورے لیتے مناظر کے ویڈیوز ۔ پاکستان میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نامی قانون کے بنائے جانے کا اور اس قانون کے تحت مسلم اور غیر مسلم و کافر کو کتے کی طرح مار دئیے جانے کا کریڈیٹ لینا اورڈنمارک کے ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو کے میں کیمرہ کے سامنے۔ اس قانون کے بننے بنائے جانے کے عمل سے مکمل طور پہ برائت کا اعلان اور اس قانون کے ناقص عمل کا بیان اور شیخ موصوف کےاسطرح کے دیگر ویڈیوز۔ یو ٹیوب۔ فیس بُک اور دیگر میڈیا کی سائٹس پہ تھوڑی سی جستجو کے بعد سینکڑوں کے حساب سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جن سے صرف ایک ہی بات کا پتہ ملتا ہے کہ شیخ کو اپنے نفس کی تسکین سے والہانہ دلچسپی ہے ۔ جن میں شیخ کی خود پسندی ہر طور۔ہر انداز میں جھلکتی نظر آتی ہے۔
آخر ایسے آدمی کو ایسی کیا سوجھی کہ وہ پاکستان کے خاردار سیاست میں کود پڑا ؟۔ خیال ہے کہ شیخ جن دنوں کنیڈا میں تزکیہ نفس کا عندیہ دے رہے تھے۔ عین انھی دنوں میں کچھ ایسی طاقتیں جو روز اول سے پاکستان کے وجود کے در پے ہیں۔ شیخ کو اپنے مفادات کے لئیے بھرتی کر چکی تھیں ۔اور شیخ کو پاکستانی جذباتی عوام کے سامنے مسحیا کے طور پیش کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں ۔ بعین اسی طرح جس طرح انہوں نے الطاف حسین اور عمران خان کو یکے بعد دیگر میدان میں اتارا اور بوجہ انتہائی ناکامی کے شیخ طاہر القادی کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ انکی اسلامی چھاپ کی مضبوط تنظیم اور ان سےعقیدتمندوں کا والہانہ اسلامی شوق دیکھ کر کیا۔ اور شیخ ایک عام مولوی اور لیکچرار سے اتنی تیزی سے ترقی کرنے کے بعد اپنے روایتی خود پسند نفس کے ہاتھوں اپنے آپ کو ریاست پاکستان کے سربراہ بننے کے خوآب آنکھوں میں سجائے اس لانگ مارچ کا ڈول ڈالنے پہ تیار ہو گئے ۔قطع نظر اس کے کہ انکے اس لانگ مارچ سے پاکستان کی سالمیت کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عالمی سامراج یہ تجربہ اس سے قبل مشرقی پاکستان کو توڑنے کے لئیے کر چکا ہے ۔

ایک رائے ہے کہ امریکہ افغانستان کی بے مقصد جنگ سے نکلنے پہ مجبور ہونے کی وجہ سے ۔ افغانستان سے نکلنے سے قبل اور نکلنے کے عمل کے دوران ۔اپنے پرانے مربی بھارت کو آزاد بلوچستان کی صورت میں یاکم از کم بلوچستان میں بھرپور شورش کی صورت میں۔ بھارت کو اسکی چاپلوسیوں کا انعام دینا چاہتا ہے ۔ اور امریکہ میں کچھ لوگ یہ تصور کئیے اور خار کھائےبیٹھے ہیں۔ کہ جب تک ایک مضبوط اور جمہوری پاکستان کا وجود باقی ہے۔ تب تک افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کی کھلم کھلا تکمیل ہونا ناممکن ہے ۔ امریکہ اسی صورت میں افغانستان پہ اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے اگر مفادات کے ”کچھ لو اور کچھ دو “ کے معروف لین دین کے عالمی پیمانے میں پاکستان کو کسی طور کہیں سے مجبور کیا جاسکے۔ تانکہ پاکستان افغانستان میں سے اپنی دلچسپی ختم کر کے۔ اپنی بقاء کی بھیک عالمی گماشتوں سے مانگنے پہ مجبور ہو جائے ۔ عالمی گماشتوں کی نظر میں پاکستان کے بڑے شہروں میں امن و امان کی صورتحال ۔ گیس ۔ پانی ۔ بجلی ۔ کے خطرناک بحران اور ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی نظام کی تباہی کے علاوہ ۔بلوچستان میں شورش کا بڑھانا شامل ہے ۔ شورش !جس میں بھارتی تربیت اور وسائل استعمال کیئے جارہے ہیں۔ جوں جوں افغانستان سے امریکی افواج منظر عام سے گُم ہونگی ۔افغانستان میں طالبان کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ افغانستان میں بھارتی مفادات پہ کاری ضرب پڑے گی ۔اسلئیے عالمی طاقت اور بھارت کی نظر میں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں تاریخی تبدیلی اقتدار ممکن ہونے جارہا ہے ۔ پاکستان کو فوری طور پہ غیر مستحکم کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہو گیا ہے ۔ تانکہ پاکستان میں نمائیندہ اور عوامی و جمہوری حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے روز بروز پاکستان کے وجود کو لاحق ہونے والے خطرات سے بچاؤ کے فیصلے کرنا۔ ایک غیر جمہوری حکومت کے لئیے ناممکن ہوگا ۔ کیونکہ ایک غیر جمہوری حکومت کا اول آخر مقصد۔ محض اپنے وجود کا جواز پیدا کرنا اور اسے بچانا ہوتا ہے۔ ایسے میں قومی مفادات پس منظر میں چلےجاتے ہیں اور انکی حیثیت ثانوی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ غیر جمہوری حکومت کا بازو مروڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے لینا۔ عالمی استعمار کے لئیے بہت آسان ہوگا ۔ یہ تجربہ عالمی طاقت پاکستان میں بار ہا دہرا چکی ہے ہے اور اسمیں ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جمہوریت دنیا کا بہترین نظام حکومت نہیں۔ مگر آمرانہ طرز حکومت کے مقابلے پہ ایک بہتر نظام ہے۔ جس طرح تیل کو بار بار چھاننی سے چھانے جانے کے بعد ہر بار آلائشوں سے پاک اور صاف تیل سامنے آتا ہے ۔ اسی طرح کسی ملک میں جمہوری نظام کے چلتے رہنے سے نئے ۔ اچھے لوگ ۔ اور دیانتدار قیادت سامنے آنے کے امکانات دیگر فی زمانہ رائج الوقت نظاموں سے کہیں ذیادہ ہیں ۔ اور جتنی دفعہ اتنخابات ہونگے عوام میں شعور بڑھتا جائیگا ۔ اور ایک دن وہ خود ہی اپنے لئیے ایک بہترین نظام چننے میں کامیاب ہوجانئگے۔یہ وہ وجہ ہے کہ اس جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئیے ۔ عالمی گماشتوں نے طاہر القادری کو میدان میں اتارا ہے ۔ اور اس مقصد کے لئیے پہلے سے پاکستان کے اندر ان طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کے لئیے ان عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے لوگوں کو پہلے سے ہی اشارہ کر دیا گیا ہے ۔ جو طاہر القادری کا لانگ مارچ کامیاب ہونے کی صورت میں اپنی کوششوں کا آغاز کرنا ہے ۔اور عین ممکن ہے کہ امن و عامہ کی صورتحال ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر حکومت کی نالائقی پہ فوج کو میدان میں اترنا پڑے اور جمہوریت کی بساط ایک دفعہ پھر لپیٹ دی جائے۔ جو بلوچستان میں شورش کو علیحدگی کی حد تک بڑھا دینے کا نکتہ آغاز ہو گا۔ اگر حکومت پاکستان اپنی نالائقی سے کوئٹہ میں اس حد تک مجبور ہوجاتی ہے کہ وزیر اعلٰی کو فارغ کر دیا جاتا ہے ۔تو یہ شیخ کے دھرنے کے کے لئیے مہمیز ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں انتہائی سنگدلی سے اٹھاسی افراد کی ہلاکت ۔ حکومت کی نالائقی ۔ دھرنا۔ اور بلوچستان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ اور شہر فوج کے حوالے کرنے کا اصرار۔ پاکستان کی مشرقی سرحدوں پہ چھیڑ چھاڑ ۔ مغربی سرحدوں پہ فوج پہ بم حملوں میں اضافہ ۔ ایسے میں شیخ کے لانگ مارچ کی ٹائمنگ حیران کُن ہے۔ 

عوام اب اس حد تک باشعور ہو چکے ہیں کہ اب کسی ابن الوقت کے ہاتھوں میں کھیلنے کو تیار نہیں ۔ اور انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ تبدیلی یا انقلاب وہی دیرپا ہوتا ہے جو پُر امن ہو اور اس دفعہ عوام کو کامل پانچ سال بعد تاریخ میں پہلی بار تبدیلی قیادت کا موقع مل رہا ۔ ہماری نظر میں لانگ مارچ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ایک مرد قلندر نے کہا تھا۔ عالمی استعمار کا یجینڈا اپنی جگہ لیکن مشیت ایزدی کی منصوبہ بندی بہر حال اس پہ فوقیت رکھتی ہے ۔اور شاید اس دفعہ مشیت ایزدی پاکستان کے ساتھ ہے۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

15 responses to “شیخ السلام ؟ طاہر القا دری ۔لانگ مارچ ۔بلوچستان اور پس پردہ عزائم ۔

  1. Dr Jawwad Khan

    جنوری 13, 2013 at 22:26

    بہت عمدہ جناب۔۔۔۔
    مجھے اس لعین طاہر پادری سے شدید نفرت ہے جسکی وجہ اس خبیث کا بدعتی ، جھوٹا یا منافق ہونا نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کذب بیانیاں کرنا ہے یہ ایک نفسیاتی جھوٹا اور لنگوٹ چور قسم کا شخص ہے۔ جسے جہلاء کے علاوہ کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پرواہ مجھے اس نظام اور اس معاشرے کی ہے جو بسوں میں منجن اور تیل بیچنے والوں کو قومی ہیرو بنادیتا ہے۔
    مجھے اس نظام اور اس ملک کے رکھوالوں سے نفرت ہے جن کی وجہ سے طاہر پادری جیسے جھوٹے ، مکار اور کمینے قومی سلامتی سے کھلواڑ کرنے پر بخوشی تیار ہوجاتے ہیں۔
    آپ نے بلوچستان کے حوالے سے ملکی سلامتی پر اظہار خیال کیا۔۔۔ کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردیوں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں کیا بنیادی فرق ہے؟۔۔۔ فرق بہت واضع ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی اپنے ابتدائی اور مختصر عروج کے بعد رفتہ رفتہ دم توڑ چکی ہے جبکہ پاکستان میں یہ روز بروز توانا ہو رہی ہے۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اسکی وجہ کیا ہے؟؟
    اسکی وجہ سیدھی سی ہے پاکستان کے محافظوں نے دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔
    میرا خیال ہے کہ پاکستان کے محافظین خاص طور پاکستان آرمی کے جنرلز کمپرومائزڈ سیکیورٹی کے حوالے سے۔ شاید یہی وجہ کہ پرویز مشرف کا روحانی جانشین پرویز کیانی جونیئر اور سینئر کیڈر کے درمیان بڑھتی ہوئی تفریق سے پریشان نظر آتا ہے۔
    آپ مانیں یا نا مانیں پاکستان آرمی کا اس وقت واحد مقصد صرف اور صرف اپنے جنرلز کے مفادات کا تحفظ کرنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
    خونی انقلاب کی اس وقت جتنی شدید ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      مارچ 23, 2013 at 21:53


      محترم! ڈاکٹر جواد احمد بھائی صاحب!
      میں آپ کی رائے کا جواب کچھ تاخیر سے دے رہا ہوں۔ جس کے لئیے پیشگی معذرت قبول فرمائیں۔
      اس میں کوئی شک نہیں قوم نے آج کل بسوں میں منجن اور تیل بیچنے والوں جیسوں کو اپنا قومی رہنماء مان رکھا ہے۔ جس دن ہمارے عوام باشعور ہوگئے اس دن ملک و قوم کی ترقی خود بخود شروع ہوجائے گی۔

       
  2. esperidr

    جنوری 13, 2013 at 22:35

    شیخ کہ ممہیز دینے کےلئے بلوچستان کی نالائق حکومت فارغ کردی گئی ہے، اب صرف شیخ نہیں بلکہ دیگر پارٹیاں بھی دھرنا دیں گی، اور دیکھ لینا ہمارے ملک میں سیاہ ست دانوں کو جوتے پڑنے شروع ہوگئے ہیں، جیسے شرجیل میمن اور شاہ جی کو پڑے۔

    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، ابھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      مارچ 23, 2013 at 21:55


      محترم! راجہ صاحب!!۔
      میری ذاتی رائے میں جب تک قوم نام نہاد سیاسی رہنماؤں کو انکے گھر کا رستہ نہیں دکھاتیں تب تک پاکستان میں یہ اسطرح کے ٹوپی ڈرامے ہونہی چلتے رہیں گے۔

       
  3. Riaz Shahid

    جنوری 14, 2013 at 01:32

    گذرتے وقت کا زیاں تو ہوتا ہے لیکن وقت ہر ایک کے چہرے سے پردہ ضرور ہٹاتا چلا جاتا ہے ۔ یہی وقت کی خوبی ہے

     
    • Ajanbi Hope

      مارچ 23, 2013 at 21:57


      محترم! ریاض شاہد صاحب!!۔ آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کچھ وقت تو لگتا ہے مگر اصل صورتیں اور حقیقتیں بالآخر عیاں ہو کر رہتی ہیں

       
  4. محمد سلیم

    جنوری 14, 2013 at 04:53

    جاوید بھائی، اس قدر پر مغز مقالہ لکھنے پر شکریہ قبول کریں۔
    مجھے شیخ صاحب کی وہ والی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں شیخ صاحب نے اپنے خوابوں والے بیانات کا دفاع کیا کہ بعض اوقات کسی بات کے معنی کسی اور طرح سے لینے پڑتے ہیں۔ اچھی بات تھی۔ مگر جب ہم شیخ صاحب کی وہ والی وہڈیو دیکھیں جس مین وہ ایک مردے کو کلمہ پڑھوا رہے ہیں اس آیت کے مصداق کہ مردے کو اپنے جاتے ہوئے اقارب کے قدموں کی آوازیں سنوائی جاتی ہیں۔ (اس کا مطلب ہر صاحب شعور نے یہ بتایا کہ مردے پر واضح کر دیا جاتا ہے کہ سن لے اب اس دنیا سے تیرا ہر رابظہ ختم اور ہر امید دم توڑ ہو چکی ہے) مگر شیخ صاحب نے اس کا بچگانہ مطلب کیوں لیا کہ ابھی بھی مردہ سن سکتا ہے تو سن کر کلمہ بھی پڑھ سکتا ہے۔
    شیخ کی تضادات بھری زندگی ویسے تو سب پر عیاں ہے مگر عقیدت کے مارے تو الطاف بھائی کو بھی سب کچھ جانتے اور بوجھتے ہوئے قبول کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کے جیالے ہر حال میں امپورٹڈ لوگوں اور سرداروں وڈیروں کو مانتے ہیں بالکل اسی طرح قادری صاحب کے معتقدین بھی ان کو قبول کرتے رہیں گے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

     
    • Ajanbi Hope

      مارچ 23, 2013 at 22:02


      محترم! محمد سلیم بھائی!!
      تعریف کا شکریہ
      آپ کے مذکورہ ویڈیو میری نظر سے بھی گزرے ہیں اور ان میں وہ سجدہ کرنے والا ویڈیو بھی خاصا عبرتناک ہے۔ ہماری اکثریت لاعلم اور مروت کی ماری ہوئی ہے ۔ اور وہ غلط کو غلط کہنے کی عادت اور جرائت نہیں رکھتے۔

       
  5. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جنوری 14, 2013 at 06:07

    عوام کو ایک لمبے عرصے کی ضرورت ہے۔۔اس شخصیت پرستی سے جان چھڑانے کیلئے

     
    • Ajanbi Hope

      مارچ 23, 2013 at 21:59


      یاسر بھائی! ۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے لوگوں کی اکثریت شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلاء ہے

       
  6. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جنوری 14, 2013 at 06:08

    عوام کو ایک لمبا عرصہ شخصیت پرستی سے جان چھڑانے کیلئے چاہئے۔

     
  7. Iftikhar Ajmal Bhopal

    جنوری 14, 2013 at 08:50

    آپ نے کافی محنت کی ہے اور بجا فرمایا کہ اس شخص کو سرف اپنے نفس سے محبت ہے ۔ اور اپنے نفس سے محبت کرنے والا میری نظر میں مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ پسِ پردہ عزائم کے سلسلہ میں آپ کی تحریر میں میں اتنا اضافہ کروں گا کہ امریکا کو موجودہ حکومت سے خطرہ نہیں ۔ یہ تو امرکا کی باجگزار ہے اور مُلک کی تناہی کرنے کیلئے 5 سال میں جو کام اس نے کیا ہے وہ امرکا کا غلام پرویز مشرف 8 سال میں اس کا آدھا نہیں کر سکا تھا ۔ امرکا کو خدشہ صرف یہ ہے کہ یہ حکومت عوام کے دلوں میں اپنے لئے نفرت پیدا کر چکی ہے ۔ خدشہ ہے کہ اگلی حکومت عوام دوست ہو گی ۔ چنانچہ پہلے الطاف کو چھوڑ رکھا تھا پھر عمران سونامی لے کر آیا اور اب طاہر القادری ۔ اس سب کی منصوبہ بندی کئی سال پہلے کی گئی ہو گی ۔ ان تینوں کی قدرِ مشترک نواز شریف اور پنجاب کی حکومت کو گالیاں دینا ہے ۔

     
    • Ajanbi Hope

      مارچ 23, 2013 at 22:06


      محترم! افتخار اجمل بھوپال صاحب!
      تشریف آوری کا شکریہ ۔
      آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ یکے بعد دیگرے ریس کے گھوڑے پاکستان میں اتارے جارہے ہیں۔ جب سب پہ ایک طاقت کا ہاتھ ہے کہ جو بھی گھوڑا ریس جیتے وہ اپنا ہی ہوگا۔

       
  8. haqiqatehaq

    جنوری 14, 2013 at 11:08

    اسلام علیکم!
    پاک فوج نے حال ہی میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شاید "عالمی استعمار” اب دوبارہ آرمی کو ماضی کی طرح استعمال نہیں کر سکے گا۔ اس لیے آئے روز "شیخ” جیسے ڈرامے رچائے جا رہے ہیں۔ ورنہ موجودہ حکومت نے کئی بار مارشل لاُ کے لیے موافق ماحول فراہم کیا ہے۔آرمی کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ آرمی سیاسی معاملات سے دور رہے۔ "شیخ” تو ابھی آغاز ہے، میرے خیال سے، ابھی سیٹ پر بہت کچھ آنا باقی ہے۔ باقی آنے والے وقت کا حال تو اللہ ھی بہتر جانتا ھے۔

     
    • Ajanbi Hope

      مارچ 23, 2013 at 22:08


      وعلیکم السلام۔
      تشریف آوری کا شکریہ۔
      اسمیں کوئی شک نہیں ۔ کہ ڈرامے کے سبھی کرداروں میں سے ابھی کئی ایک کا کردار ادا ہونا باقی ہے

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: