RSS

ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

24 جون

ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔نہائت ظالم بادشاہ تھا۔ جسکی رعایا کسان پیشہ تھی ۔ چھوٹی موٹی کھیتی باڑی اور مویشی پال کر گزارہ کرتی تھی۔ اس راجدھانی کے بادشاہ نے رعایا پہ بے حد لگان اور محصولات لگا رکھے تھے ۔جن کو حاصل کرنے کے لئیے نہائیت ظالم اور سفاک اعمال مقرر کر رکھے تھے ۔ اعمال گھر گھر کی تلاشی لیتے ۔ جس گھر میں انکو کچھ تھوڑا سا بھی فالتو اناج نظر آتا ۔ اسے بحق سرکارضبط کر لیتے ۔ اور کبھی کبھار تو اگلی فصل آنے تک زندہ رہنے کی خاطر کھانے کے کے لئیے جوغلہ و اناج کسان اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے۔ بادشاہ کے بدنیت اعمال وہ غلہ بھی اٹھا لے جاتے اور نوبت یہاں تک آجاتی کہ لوگ بھوکوں مرنے لگتے یا مانگ تانگ کر گزارہ کرنے پہ مجبور ہوجاتے۔اسکے علاوہ کسانوں کے تندرست اور قیمتی جانور جو کسانوں نے بڑی محنت سے اس امید پالے پوسے ہوتے کہ مشکل وقت میں بیچ کر اپنا مشکل وقت ٹال لیں گے۔ بادشاہ کے بدقماش اعمال ان قیمتی جانوروں پہ بھی قبضہ جمالیتے۔بس چلتا تو کسانوں کی جوان بہو بیٹیوں کو بھی اٹھا لے جاتے۔ اور کسان خوف سے اپنی جوان بہو بیٹیوں کو بادشاہ کے بدقماش اعمال سے چھپا کر رکھتے۔ الغرض اس بادشاہ کے دور میں کوئی ایسا ظلم نہیں تھا جو رعایا پہ نہ ڈھایا جاتا رہا ہو۔ زندہ تو زندہ بادشاہ تو اپنی رعایا کے مُردوں کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ اسکی ریاست میں رعایا میں سے جو کوئی بھی مرے اسے دفنانے سے سے پہلے مُردے کو بادشاہ کے محلوں کے ارد گرد متواتر رات دن گھما کر دفن کیا جائے ۔ ایسا کرنے کومردہ خراب کرنا کہا جاتا تھا۔ مرنے والے کے بے چارے لواحقین سارا دن اور ساری رات میت کو سر پہ اٹھائے بادشاہ کے محلوں کے گرد خوار ہوتے اور تب کہیں جا کر بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہونے پہ میت دفنانے کی اجازت ملتی ۔
مخلوق خدا ا س بادشاہ سے بہت تنگ تھی ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ بیمار ہوا اور مرگ الموت نے اسے آن گھیرا۔ اِس ظالم بادشاہ کو ہر ظالم بادشاہ کی طرح یہ فکر دامن گیر ہوئی۔ کہ اُس نے ساری عمر کوئی ایسا کام نہیں کیا۔ جس پہ اسکے مرنے کے  بعد اسکی رعایا سے اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ جبکہ اس نے ایسے بہت سے اقدام البتہ ضرور کر رکھے ہیں۔ کہ اسکے مرنے کے بعد رعایا اسے ہمیشہ برے الفاظ میں یاد کرے ۔اسی فکر میں پریشاں ہو کر بادشاہ نے اپنےولیعہد شہزادے کو طلب کیا ۔اور اسے اپنا مدعا بیان کیا ۔
"کہ دیکھو میں نے اس بادشاہت کی حفاظت کے لئیے۔ جو اب تمہیں ملے گی ۔ بہت سے ایسے اقدام کئیے ہیں جن پہ رعایا مجھ سے ناخوش ہے ۔ اور اب میرا مرنے کا وقت قریب آگیا ہے ۔اسلئیے تُم پہ لازم ہے کہ میرے مرنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات اٹھانا کہ رعایا مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرے۔”
شہزادے نے جواب دیا ” بادشاہ سلامت ہماری جاں بھی آپ پہ قرباں ۔اللہ آپ کا اقبال سلامت رکھے اور آپکا سایہ ہمارے سروں پہ ہمیشہ کے لئیے سلامت رکھے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ضرور ایسے قدامات کریں گے جس سے رعایا آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرے”
اُسی رات بادشاہ مر گیا۔ ولیعہد بادشاہ بن بیٹھا ۔ ولیعہد نے بادشاہ بنتے ہی فرمان جاری کیا کہ
"آج سے ہماری ریاست کی عملداری میں جو بھی فرد مرے ۔ اسکی میت کو ننگا کرکے ۔ ایک لٹھ کے ساتھ الٹا لٹکا کر متواتر تین دن تک میرے محلات کے گرد گھُما نے کے بعد دفنایا جائے”۔
رعایا بے اختیار چیخ اُٹھی ” اس خبیث سے تو اسکا باپ ہی اچھا تھا جو مردوں کو ننگا نہیں کرتا تھا اور صرف ایک رات دن میں انکی جان چھوٹ جاتی تھی ”
راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کانام ۲۰۰۹ء میں اکتیس دسمبر تک پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں پہ اس لئیے دیا گیا کہ موصوف پہ الزام ہے ۔جب یہ وزیر بجلی تھے تو انہوں نے قوم کے خزانے سے سے کرایے کے بجلی گھروں کی مد میں اربوں روپے نکلوائے اور ان اربوں روپے کی کرپشن میں ہاتھ رنگنے کے لئیے قوم کو دو ہزار نو کی اکتیس دسمبر تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مژدہ جان افزاء سنایا اور جھوٹے وعدوں کی آڑ میں اربوں روپے پار لگا دیے اور انہی کے ہم عصر ایک وزیر نے یہ معاملہ سپریم کوٹ میں اٹھا رکھا ہے ۔
پاکستان میں اگر عام انتخابات کچھ ماہ قبل کروا دئیے جاتے تو ملک کو درپیش کئی ایک بحرانوں سے نمٹنے کی صورت نکل آتی ۔ دنیا میں کئی ایک مثالیں ملتی ہے کہ پاکستان کے حکومتی بحران سے سے بھی کہیں کم تر حکومتی بحران پہ حکومت نے نئے الیکشن کا اعلان کردیا جبکہ نئے الیکشن میں ابھی دو سال رہتے تھے۔ زرداری اور حکومتی کرتا دھرتاؤں کو بھی علم تھا کہ گیلانی کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کوئی ناگہانی یا اچانک رُونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ اس بارے حکومت بھی آگاہ تھی ۔ جبکہ اگر زرادری ملک سے خیر خواہ ہوتے تو تبھی سے انھیں ملک میں عبوری حکومت تیار رکھنی چائیے تھی اور نئے عام انتخابات کا اعلان کر دینا چاہئیے تھا ۔ مگر پاکستان کی ایسی قسمت کہاں۔ یوں ہونا ابھی  پاکستان کے نصیبوں میں نہیں۔ بجلی کے کرائے گھروں کی مد میں اربوں کی مبینہ رشوت کے الزمات کا سامنا کرنے پہ راجہ رینٹل کا نام پانے والے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنائے جانے پہ زرداری کے اس مقولے پہ قربان ہو جانے پہ دل کرتا ہے کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے” خدایا ! قوم بجلی اور توانائی کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے ۔ ہر فرد بجلی کی آرزو میں جاں بلب ہورہا ہے۔قریب ہے کہ ملک انارکی اور خانہ جنگی کا شکار ہوجائے اور ایسے میں ایک ایسے سابقہ وزیر کو وزیر اعظم بنا دینا۔جو اس سارے ڈرامے کا مرکزی مبینہ ملزم گردانا جاتا ہے۔ایسا کرنے سے تو محض یہی ثابت ہوتا ہےکہ یہ قوم سے واقعی” بہترین انتقام ” ہے ۔کہ ان سے تو شاہ گیلانی ہی اچھےتھے۔ کم ازکم گریجویٹ وزیر اعظم تو تھے۔بادشاہوں کے دور اور تاریخ میں درج "ایک دفعہ کا ذکر ہے” پاکستان کے بادشاہوں کے بارے ” کئی دفعہ کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر روز کا ذکر ہے "کہ رعایا بار بار کہتی ہے کہ زرداری سے مشرف ہی بہتر تھا۔ اور کچھ دن جاتے ہیں کہ رعایا یہ کہنے پہ مجبور ہوگی راجہ رینٹل کی بجائے شاہ گیلانی ہی اچھا وزیر اعظم تھا۔ کیونکہ بادشاہ کے ولیعہد کی طرح راجہ صاحب نے آتے ہی وزارت پانی بجلی اور اسی وساطت سے کرایے کے بجلی گھرو ں پہ نظر عنائت کی ابتداء کر دی ہے ۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق” ۔۔۔وزير اعظم کي ہدايت پر وزارت پاني و بجلي فعال” اب عنقریب قوم چیخ چیخ کر گیلانی کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔

Javed Gondal Barcelona Spain جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔اسپین ۲۴ جون دو ہزار بارہ ۲۰۱۲ء
Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

5 responses to “ننگے مُردے،بادشاہ اور راجہ ۔

  1. karakorm zone

    جون 26, 2012 at 15:28

    ۔گیلانی نااہل کرنا تھے تو اتنے سالوں تک صبر کیوں کیا؟
    عدلیہ خاموش کیوں رہی؟اور ابھی پھر زدراری کے دو عہدوں کے پیچے پڑی ہے۔اتنے سال
    صبر کیوں کیا ؟ یہ عہدیں پہلے نظر کیوں نہیں آئے ۔
    جناب من پاکستان میں کیا صرف زرداری کی حکمرانی ہے ؟ ملک کی ساری جماعتیں ان
    کے ساتھ ہیں ۔نوازشریف کیوں استفا نہیں دیتے ہیں؟اور زرداری کو کس جرم میں ۸سال قید
    میں رکھا گیا۔ کیس جج کے حکم پررکھا گیا؟
    بات در اصل یہ ہے الکشن قریب ہیں۔عدلیہ پی پی پی کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔پی پی پی
    مخالف جماعتوں کے راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ سارے مسا ئل عدلیہ کو اتنے سال بعد کیوں یاد آرہے ہیں

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      ستمبر 11, 2012 at 19:47

      محترم۔ رائے دینے کا بہت شکریہ۔ گو آپکی رائے سے اتفاق نہیں مگر آپکی رائے کا احترام کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی آپکو خوش رکھے۔

       
  2. karakorm zone

    جون 26, 2012 at 15:32

    imla ki galtiya durst farye ga

     
  3. Rashid Idrees Rana

    جولائی 3, 2012 at 06:21

    بہت حقیقت آشنا تحریر ہے جاوید بھائی، ایک شعر ہے:

    وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا بتاو کیسا لگا
    تم اگلے زخموں کو چھوڑو یہ گھاو کیسا لگا

    ساری بات اعمال کی ہے ، اور قانون قدرت بلکل واضح ہے کہ برے لوگوں کے ساتھ اچھے بھی مصیب کا شکارہوتے ہیں۔ ایک نشست میں فوج کے ایک افسر صاحب سے میں نے دریافت کیا کہ اس بد ترین حالت میں فوج کیا کر رہی ہے، تو انہوں نے دو تین بار دوہرا کر ایک ہی بات کی : "کہ جی اپنے منتخب عوامی نمائندوں سے پوچھیں” مجھے ان کے جواب کو سن کر اپنی بدقسمتی اور اس کی عقلمندی دونوں پہ افسوس ہوا۔

    بہرکیف میرا خیال ہے اور میں ہر بندے تک ایک ہی بات پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے جب تک تکیہ عوامی نمائندوں پر کرتے رہیں گے تب تک حالات بد سے بدترین ہوتے جائیں گے۔

    شکریہ

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      ستمبر 11, 2012 at 19:46

      محترم۔رانا صاحب رائے کا شکریہ اسمیں کوئی شک نہیں ہمیں اپنا احتساب خود بھی کرنا چاہئیے ۔ اللہ تعالٰی آپکو خوش رکھے۔

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: