RSS

ہمسائیگی –قرآن و سنت کی روشنی میں

06 اگست

ہمسائیگی –قرآن و سنت کی روشنی میں

.

آئیے اسلامی اخلاق اپنائیں۔ ہمسائیگی کے حقوق پہ مختصر الفاظ میں پروفیسر۔ محترم محمد عقیل صاحب! کی ایک بہترین تحریر۔ مزید پڑھنے کے لئیے۔ از راہ کرم اوپر کلک کریں۔

Advertisements
 

9 responses to “ہمسائیگی –قرآن و سنت کی روشنی میں

  1. سعید

    اگست 6, 2011 at 15:09

    جاوید بھائی ہمیں آپ کے بلاگ پہ آپ کی تحاریر پڑھنی ہیں۔ عقیل صاحب کی تحاریر تو ہم انکے بلاگ پہ جا کے پڑھ ہی لیتے ہیں

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      اگست 6, 2011 at 16:08


      سعید بھائی!

      آہکی ذرہ نوازی ہے جو آپ نے احقر کی تحریر کا تقاضا کیا ہے۔ دراصل پروفیسر ۔ محترم محمد عقیل صاحب کی یہ تحریر اسلامی اخلاق کی نسبت سے مجھے بہت عمدہ لگی۔ اور ان کی پوسٹ پہ "فیس بک ، ٹوئیٹر” اور اسطرح کی دیگر سوشل سائٹس پہ انکی کسی پوسٹ کا لنک لگانے کے لئیے ۔ باقی سوشل سائٹس کے بٹنوں کے ساتھ ساتھ”ورڑ پریس”میں ربطہ لنک دینے کا بٹن Press This انگریزی حروف میں "پریس دِس” چسپاں ہے۔ چونکہ مجھے اسلامی اخلاق اور ہم مسلمانوں کی موجودہ اسلامی اخلاق کے حوالے سے یہ تحریر اہم لگی ۔ تو میں نے اس تحریر کو فیس بک، ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ ورڈ پریس پہ اس تحریر کا لنک دیا ہے۔ اور ورڈ پریس کا بٹن "پریس دِس” دبانے سے مخصوص تحریر آپکی ورڈ پریس سائٹ پہ ایک خود کار نظام کے تحت رُونما ہو جاتی ہے، جیسا کہ محترم پروفیسر محمد عقیل کی تحریر کا رابطہ میرے بلاگ پہ نظر آرہا ہے۔ اسمیں میں نے صرف اتنا سا اضافہ کیا ہے کہ ساتھ انکے نام کا ایک نوٹ لگا دیاہے اور بس ۔

       
  2. Ghulam Murtaza Ali غلام مرتضیٰ علی

    اگست 12, 2011 at 13:40

    محترم جاوید گوندل بھائی صاحب۔۔۔۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    رمضان شریف کی مبارکباد کا شکریہ۔ اللہ پاک اسے آپ اور تمام امت مسلمہ لے لیے خیرو برکت، مغفرت اور نجات کا وسیلہ بنائے۔
    مندرجہ ذیل گزارش پوسٹ کرنےکے لیے نہیں۔ بس اسے پڑھ کر حذف کر دیں۔
    آج ہی ڈاکٹر صفدرمحمود صاحب کے تازہ مضمون کے ذریعے قائد اعظم کے آخری ایام میں اُںکے اور قائد ملت کے باہمی خوشگوار تعلقات پر خود قائد اعظم ہی کے اے ڈی سی بریگیڈیر نور احمد حسین کے حوالے سے مفید معلومات ملیں۔ ازراہِ کرم آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
    http://jang.com.pk/jang/aug2011-daily/12-08-2011/col2.htm

     
  3. Ghulam Murtaza Ali غلام مرتضیٰ علی

    اگست 12, 2011 at 13:42

    قائد اعظم کا اے ڈی سی اور زیارت کے آخری ایام…صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
    کاروان قائد کا ایک چراغ اور بجھا اور یہ چراغ تھا قائداعظم محمد علی جناح کا سابق اے ڈی سی بریگیڈیر نور حسین…بریگیڈیر صاحب کئی عہدوں پر رہے لیکن میرے نزدیک ان کا اصل اعزاز یہ تھا کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح گورنر جنرل پاکستان کے اے ڈی سی رہے۔ وہ قائد اعظم کی علالت اور زیارت میں قیام کے عینی شاہد تھے۔ یہ تفصیلات بتاتے ہوئے وہ بار بار”عظیم شخصیت“ کا لفظ استعمال کرتے اور ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ ان سے باتیں کرکے مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوا جیسے قائد اعظم کے ساتھ گزرا ہوا ان کا وقت ایک مکمل فلم کی مانند ان کے حافظے میں محفوظ ہے اور وہ لمحات کی باریکیوں سے یوں واقف ہیں جیسے یہ ابھی کل کی بات ہو۔ ہم بنیادی طور پر”علم دوست“ قوم نہیں، جب تک بریگیڈیر صاحب زندہ تھے اور ان کے جسم میں توانائی کی حرارت تھی میں مختلف اداروں سے کہتا رہا کہ ان سے تفصیلی انٹرویوز کرکے محفوظ کرلو کہ وہ ساری انفارمیشن لے کردنیا سے رخصت ہوجائیں گے لیکن مجھے علم نہیں کہ میری فریاد پر کسی نے عمل کیا یا نہیں، البتہ جب مشہور امریکی پروفیسر والپرٹ قائد اعظم پر کتاب لکھ رہا تھا تو اس نے بریگیڈیر صاحب کا کوئی بیس بائیس گھنٹوں پر مشتمل انٹرویو کیا تھا۔ میری اطلاع کے مطابق اب کاروان قائداعظم کی صرف ایک نشانی باقی ہے اور وہ ہیں رضا ربانی کے والد گرامی جناب عطاربانی صاحب جو قائداعظم کے اے ڈی سی رہے۔
    قائد اعظم سے زیارت میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ملاقات پر خاصے شکوک و شہبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ ایک سازش تھیوری تشکیل دی جاچکی ہے اس لئے مجھے اس موضوع میں خاصی دلچسپی تھی۔ کسی بحث میں الجھے بغیر یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے مشاہدے کے مطابق کسی بھی حکمران کا اے ڈی سی اس سے قریب ترین شخص سمجھا جاتا ہے جو اندرون و بیرون خانہ ہر راز سے واقف ہوتا ہے۔ چونکہ قائد اعظم کی زندگی کے آخری ایام کے دوران زیارت میں لیاقت علی خان کی ان سے ملاقات کوسازش کا رنگ دیا جاچکا ہے اس لئے میں نے ایک بار بریگیڈیر نور حسین سے اس ضمن میں تفصیلی بات کی۔ بریگیڈیر صاحب علیل تھے لیکن انہیں ایک ایک تفصیل یوں ازبر تھی جیسے کل کی بات ہو، کہنے لگے کہ قائد اعظم کے ملٹری سیکرٹری کراچی میں تھے اور میں قائد اعظم کے ساتھ زیارت میں تھا۔ ایک روز ملٹری سیکرٹری کے ذریعے پیغام ملا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان حکومت پاکستان کے سیکرٹری جنرل چودھری محمد علی کے ہمراہ گورنر جنرل سے ملاقات کے لئے وقت مانگ رہے ہیں۔ بریگیڈیر صاحب کے بقول انہوں نے خود یہ پیغام قائداعظم کو پہنچایا جس کے جواب میں قائد اعظم نے نہایت خوشی سے انہیں وقت دیا، جس روز وزیراعظم کو براستہ کوئٹہ زیارت آنا تھا، قائد اعظم نے اے ڈی سی سے ان کی آمد کی تصدیق کی اور انتظامات کے بارے میں پوچھا۔ قائد اعظم نے وزیر اعظم کی آمد اور ملاقات کواتنی اہمیت دی کہ دوپہر کے کھانے کا مینو خود طے کیا اور ان کے استقبال کے حوالے سے ہدایات دیں۔ بریگیڈیر صاحب بتارہے تھے کہ جب وزیر اعظم صاحب اور چوہدری محمد علی تشریف لے آئے تو میں نے جاکر قائد اعظم کو ان کی آمد کی اطلاع دی۔ انہوں نے فرمایا کہ مہمانوں کو میرے پاس لے آئیں۔ بریگیڈیر صاحب کا کہنا تھا کہ وہ خود وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل چودھری محمد علی کو قائداعظم کے کمرے میں لے کر گئے۔ ان دنوں قائد اعظم شدید علیل تھے اور اس قدر نحیف ہوچکے تھے کہ بازو بھی اٹھانے سے قاصر تھے لیکن لیاقت علی خان کو دیکھ کر انہوں نے مسکرا کر بازو اٹھایا اور خوش آمدید کہا۔ کچھ دیر چودھری محمد علی بھی قائد اعظم سے ملاقات میں شامل رہے پھر وہ نیچے آکر اے ڈی سی کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ یہ گورنر جنرل کی وزیر اعظم سے ون ٹو ون آخری ملاقات تھی جس میں قائد اعظم نے وزیر اعظم کو کچھ اہم ہدایات بھی دیں۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نیچے تشریف لے آئے۔ اب کمرے میں اے ڈی سی ،قائد اعظم کے معالج کرنل الٰہی بخش، چودھری محمد علی اور وزیر اعظم تھے اور چند لمحوں کے بعد مادرملت محترمہ فاطمہ جناح بھی تشریف لے آئیں کہ انہوں نے دوپہر کے کھانے میں قائد اعظم کی نمائندگی کرنا تھی۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم لیاقت علی خان قائداعظم کی صحت کے بارے میں تشویش اور تفکر کا اظہار کرتے رہے اور وہ برابر کرنل الٰہی بخش سے علاج کی تفصیلات پوچھتے رہے۔ وزیراعظم نے کرنل الٰہی بخش کو یہ پیشکش بھی کی کہ اگر وہ بیرون ملک سے کسی ماہر ڈاکٹر کو بلانا چاہتے ہیں تو بتائیں حکومت فوراً انتظامات کریگی۔ اس موقع پرلیاقت علی خان نے کہا کہ قائد اعظم ہمارے لئے محترم ترین شخصیت اور قوم کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں اسلئے انکے علاج و معالجے میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہئے۔ انہی دنوں پاکستان کے امریکہ میں سفیر اصفہانی صاحب بھی قائد اعظم کی مزاج پرسی کے لئے آئے تھے اورانہوں نے بھی امریکہ سے ماہر ڈاکٹر بھجوانے کی بات کی تھی لیکن قائد اعظم کا کہنا تھا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ ایسے اخراجات کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اس دردمندی اور سوچ کا ذرا آج کے حکمرانوں سے موازنہ کریں تو آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
    چند دنوں کے بعد جب قائد اعظم شدید ترین علالت کا شکار ہوگئے تو انہیں کراچی لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریگیڈیر نور حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہی کراچی میں گورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری کوقائد اعظم کی آمد کی اطلاع دی اور انتظامات کرنے کے لئے کہا۔بریگیڈیر صاحب کا کہنا تھا کہ آمد کی اطلاع وزیر اعظم اور کابینہ کو نہیں دی گئی تھی جیسا کہ پرائیویٹ وزٹ کے موقع پر ہوتا ہے پھر اس کے بعد وہ تکلیف دہ واقعہ پیش آیا کہ قائد اعظم کی ایمبولینس خراب ہوگئی، محترمہ فاطمہ جناح انہیں پنکھا جھلاتی رہیں اور دوسری ایمبولینس کو آنے میں کوئی نصف گھنٹہ گزر گیا۔ بریگیڈیر صاحب نے میرے سوالات کے جواب میں بتایا کہ جب وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قائد اعظم کی آمد کا پتہ چلا تو وہ کابینہ کی میٹنگ ادھوری چھوڑ کر ائر پورٹ کی جانب آئے لیکن ان کی آمد سے قبل قائد اعظم کا کارواں شہر کیلئے روانہ ہوچکا تھا ۔ بریگیڈیر صاحب عینی شاہد کی حیثیت سے صرف وہ واقعات بتارہے تھے جوانہوں نے دیکھے چنانچہ اس حوالے سے وہ بہت سے سوالات کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ مثلاً یہ کہ وزیر اعظم کو گرنرجنرل کی آمد کی اطلاع کیوں نہ دی گئی، وہ خود ائر پورٹ پرکیوں نہ آئے اور جب وہ تاخیر سے پہنچے تو وہاں سے سیدھا گورنر جنرل ہاؤس کیوں نہ گئے۔ بریگیڈیر صاحب نے دی نیوز میں قائد اعظم کی آخری ایام کے بارے میں مضمون بھی لکھا تھا جس میں وضاحت کی تھی کہ آج کے چکاچوند دور میں یہ اندازہ کرنا محال ہے کہ ان دنوں کراچی کی بے سروسامانی کا کیا حال تھااور پورے شہر میں صرف دوایمبولینس گاڑیاں تھیں۔
    بریگیڈیر صاحب سے گفتگو نے میرے دو مخمصے رفع کردئیے، اول تو یہ کہ قائد اعظم کے جانشین خواجہ ناظم الدین ہوں گے یہ فیصلہ کس نے کیا اور دوم قائداعظم کی نماز جنازہ کے بارے میں فیصلہ کیسے ہوا؟ بریگیڈیر صاحب نے مجھے بتایاکہ جب وزیر اعظم لیاقت علی خان زیارت میں قائد اعظم سے ون ٹو ون ملاقات کرکے نیچے آئے توانہوں نے آتے ہی سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان چودھری محمد علی سے کہا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو فون کرکے کہہ دیں کہ وہ کراچی میں موجود ہیں۔ اس سے بریگیڈیر صاحب یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ قائداعظم نے اپنی علالت کے پیش نظریہ ہدایات خود وزیراعظم کو آخری ملاقات میں دی تھیں۔ گویا یہ دونوں فیصلے خود قائد اعظم کے اپنے تھے۔ اے کاش! ہم نے کارواں قائد کی ایک شمع کے بجھنے سے قبل ان سے تمام معلومات اخذ کرلی ہوتیں تو اس سے ہمیں تاریخی ریکارڈ سمجھنے میں رہنمائی ملتی لیکن ہم مزاجاً علم دوست قوم نہیں اور ہمیں سازش ، تھیوریاں بھی بہت اچھی لگتی ہیں……!!

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      اگست 13, 2011 at 07:10

      محترم! غلام مرتضٰ علی بھائی!! صاحب!!!

      وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔

      دعاؤں کا شکریہ ۔ جزاک اللہ ۔ اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو بھی اس ماہ مبارک میں خیر برکت عطا فرمائے۔

      محترم بھائی!غلام مرتضٰی علی صاحب۔

      باوجود اس کے کہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا یہ کالم میں میں اس سے قبل اس روزنامے میں پڑھ چکا ہوں پھر بھی میں آپ کی توجہ اور محبت کا ممنون ہوں کہ آپ نے احقر کو یاد رکھتے ہوئے اس کالم کو ارسال کرنے کی زحمت کی۔ آپ کی اس ہدایت سے کچھ اختلاف کرونگا کہ اسے حزف کردیا جائے ۔ میری رائے میں اس یونہی چسپاں رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تانکہ کبھی کوئی قاری اپنے رائے بنانے میں دونوں طرف کی شہادتوں سے استفادہ کرسکے۔ اور کسی بہتر نتیجے پہ پہنچ سکے۔ میرے خیال میں آپ اس سے اتفاق کریں گے۔

      ڈاکٹر صفدر محمود کی ہم بہت عزت کرتے ہیں اور اور انھیں گرانقدر محقق تسلیم کرتے ہیں۔ مگر آپ نے غالبا ایک بات پہ دھیان نہیں دیا جیسا کہ وہ خود اپنے کالم میں ان الفاظ میں”۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم سے زیارت میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ملاقات پر خاصے شکوک و شہبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ ایک سازش تھیوری تشکیل دی جاچکی ہے اس لئے مجھے اس موضوع میں خاصی دلچسپی تھی۔ کسی بحث میں الجھے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "یعنی محترم ڈاکٹر صفدر محمود جنہوں نے پاکستان اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ پہ بہت تحقیق کر رکھی ہے ۔ وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ”۔ ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ملاقات پر خاصے شکوک و شہبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں” اور آخر کوئی تو وجہ رہی ہوگی جو انہوں نے شکوک شہبات کی بات کی ہے اور چاہتے ہوئے بھی اپنی بات کو کُلیتا درست قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا بھی وہی مسئلہ ہے جو آپ کا اور میرا ہے ۔ کہ ہمیں قیام پاکستان کے بارے میں پڑھاتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان کی ناگہانی موت کو کچھ اسطرح شہادت کے تقدس میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے ذہن میں بنے بنائے وہ خول توڑتے ہوئے مسئلہ ہے اور ہم چاہتے کہ اللہ کرے وہی بات درست ہو جو ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں۔قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے اس اے ڈی سی بریگیڈئر نور حسین مرحوم کے بیان میں کئی جھول ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ ان پہ ڈاکٹر صفدر محمود کی نظر کیوں نہیں گئی۔قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے اے ڈی سی بریگیڈئر نور حسین مرحوم کے بیان پہ بات کرنے سے پہلے ہم شاہد رشید کی کتاب مادر ملت سے چند ایک اقتباس ملاحظہ فرمالیں اور اس پہ بات کر لیتے ہیں۔
      “بنیادی زیادتی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ان لوگوں نے کی جو قائد اعظم کی زندگی میں نافرمان ہو گئے تھے۔ اس ٹولے نے نہ صرف قائد اعظم کو موت کے منہ میں دھکیلابلکہ مادر ملت کے سلسلے میں بھی غفلت برتی۔ اس عوام دشمن ٹولے نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا جو مقام بنتا تھا وہ جان بوجھ کر انھیں نہ دیا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم کے آخری الفاظ جو انھوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے کہے تھے وہ یہ تھے ” فاطی۔۔۔مجھے دلچسپی نہیں رہی کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں زندہ رہوں ۔ ۔ ۔ ۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے میں رخصت ہو جاؤں ۔۔۔؟”شاہد رشید مزید لکھتے ہیں۔“یہ الفاظ صاف طور پر ان کے رنجیدہ، دل برداشتہ اور دکھی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جب ان کی ہمت بندہانے کے لیے کہا:” آپ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر پُر امید ہیں۔”تو قائد نے جواب دیا۔” نہیں اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا”

      شاہد رشید مزید لکھتے ہیں ان الفاظ سے صاف طور پر قائد کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔ یہ مایوسی سے لبریز الفاظ سن کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن مادر ملت کے صبرو ضبط کی داد دینی چایہے کہ انھوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی تا دم واپسیں حرف شکایت لب پر نہیں آنے دیا۔ محض اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جبکہ کوئی سیاسی لیڈر طبعی موت بھی مر جائے تو اس کے ورثاء چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ مادر ملت نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا پر اف تک نہ کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” یہاں فاضل مصنف کا یہ جملہ “محض
      اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔” سے مراد کیا ہے آخر وہ کونسا راز ہے اور اپنوں کا وہ کونسا ٹولہ تھا جو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہی نافرمان ہو گیا تھا اور انہوں نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو موت کے منہ میں دھکیلا۔؟جولائی کے آخر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی پیشگی اطلاع دینے کا تکلف کیے بغیر زیارت پہنچ گئے تو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش سے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ صحت کی بابت دریافت کیا تو ڈاکٹر کے ذہن میں تھا کہ انھیں مادر ملت نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علاج لیے مقرر کیا ہے اور تفضیلات بتانے سے گریز کیا جس پہ لیاقت علی خان نے ” وزیر اعظم کی حیثیت سے میں ان کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہوں ” اس پر ڈاکٹرا الہٰی بخش نے نے نرمی سے جواب دیا ٹھیک ہے ۔ مگر میں مریض کی اجازت کے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتا۔”بعد میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے داکٹر الہٰی بخش سے تفضیل جانی اور لیاقت علی خان کو کو اپنی صحت کے بارے میں نہ بتانے پہ اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ مادر ملت نے بیان کیا ہے ۔قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ لیاقت علی خان کو اپنے مرض کی بابت کیوں نہیں بتانا چاہ رہے؟؟ تھے اور انہوں نے اپنے معالجوں کو بھی اس کا پابند کیوں کیا تھا ۔۔؟؟؟؟

      شاہد رشید کی لکھی کتاب ۔مادر ملت، محسنہ ملت ۔میں محترمہ فاطمہ جناح فرماتی ہیں۔”لیکن اس دن جیسا کہ پہلے سے ہدایت کر دی گئی تھی ہوائی اڈے پہ کوئی نہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایمبولنس انہیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی۔ میں اور سسٹر ڈنہم ان(قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ) کے ساتھ ایمبولنس میں بیٹھے تھے۔ ایمبولنس بہت سست روی سے چل ری تھی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولنس نے اس طرح ہچکیاں لیں جیسے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہو ۔ اور پھر وہ اچانک رک گئی۔ کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولنس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولنس کا پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ اگر چہ ڈرائیور نے ایمبولنس کے انجن سے الجھنا شروع کر دیا تھا لیکن ایمبولنس کو اسٹارٹ ہونا تھا نہ ہوئی۔ میں پھر ایمبولنس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دیا اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انھوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ عموما کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہےاور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے۔ لیکن اس دن ہوا بالکل بند تھی۔ اور گرمی ناقابل برداشت۔ ۔ ۔قائد کی بے آرامی کا سبب یہ تھا کہ بے شمار مکھیاں ان کے چہرے پہ بھنبھنا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت بھی نہ رہی تھی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے اسے اٹھا سکتے ۔سسٹر ڈنہم اور میں باری باری ان کے چہرے پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہے تھے ہم منتظر تھے کہ شاید کوئی ایمبولنس آجائے ہر لمحہ کرب واذیت کا لامتناہی لمحہ تھا۔۔۔۔ امیدو بہم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے۔قریب ھی مہاجرین ۔۔۔۔ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا وہ قائد جس نے انھیں ایک وطن لے کر دیا ہے۔ ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی پرانی ایمبولنس میں بےیارو مددگار پڑا ہے جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے۔کاریں ہارن بجاتیں قریب سے گزر رہیں تھیں۔ بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کے طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایسی ایمبولنس میں بے حس و
      حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی اور اس ایمبولنس مین ایک انتہائی قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہو رہی تھی۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔کتنی عجیب بات تھی کہ دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماڑی پور سے گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے میں لگے۔”
      کتاب کا نام: مادر ملت، محسنہ ملت

      مندرجہ بالا گواہی ڈاکٹر صفدر محمود کی برگیڈئر نور حسین کی بستر علالت پہ دئیے گئے ایک بیان سے نہائت اہم ہے۔ اول تو اس میں سارا احوال کوئی اور نہیں محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ اپنے بھائی قائد اعظم رحمتہ علیہ کے بارے بیان فرما رہیں ہیں ۔ جن کے ساتھ وہ عرصے دراز سے ساتھ ساتھ رہتی آئیں تھیں اور تحریک پاکستان کے دوران یعنی پاکستان بننے سے بھی پہلے سے وہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کی ہر ضروریات زندگی کا وہ خاص خیال رکھتیں آئیں ۔ جس کے لئیے بجا طور پہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ اور وہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے آخری ایام میں آخری وقت تک قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ رہیں۔ اور دوئم مندرجہ بالا گواہی برسوں پہلے دی گئی اور اس کا رد ڈاکٹر محمود صاحب یا کوئی دوسرا محقق نہیں لکھ سکا تو برطانوی فوج سے بارہ چودہ ماہ قبل پاکستان کے حصے میں آنے والے ایک فوجی افسر جو قائد اعظم رحمتہ علیہ کو پاکستان بننے کے بعد بطور اے ڈی سی ملے اور (بریگیڈئر نورحسین کتنے ماہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہے اس بارے میرے پاس حتمی مدت کا علم نہیں ہے ) مگر انکے علاوہ ایک اور اے ڈی سی بھی تھے جن کے بارے ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی لکھا ہے ۔ اور یہ عرصہ پاکستان کے بننے کے بعد قائد اعظم رحمتہ علیہ کی مختصر سی زندگی پہ تقسیم کیا جائے تو کچھ ماہ ہی بنتے ہیں اور خیال کیا جاسکتا ہے کہ کچھ ماہ ہی برگیڈئیر نور حسین قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہے۔ اور اتنے کم وقت قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہنے والے ایک نئے نئے پاکستانی فوجی افسر کہلوانے والے اے ڈی سی کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ کا بیان اور معلومات اور قائد کے نزدیک ہونا ہر لحاظ سے زیادہ معتبر وجود رکھتا ہے۔اوپر قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ذاتی معالج کے بیان سے بھی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ نے نہیں چاہتے تھے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کو انکی بیماری بلکہ لاچاری کا پتہ چلے۔ اسلئیے انہوں نے دوپہر کے کھانے کا مینو خود طے کیا ہوگا۔ کہ پتہ چلے کہ میزبان قائد اعظم رحمتہ علیہ ابھی مرض الموت کی اس اسٹیج پہ نہیں پہنچے جہاں وہ کھانے پینے سے یا مہمان کے لئیے اچھے بندوبست کے بارے میں بھول جائیں یا دلچسپی نہ لیں۔ اسی لئیے انہوں نے بہ قوت بازو ہلا کر نوابزادہ کو جواب دیا ۔ تانکہ نوابزادہ مرحوم قائد اعظم رحمتہ علیہ کو بلکل بے بس اور لاچار نہ سمجھ بیٹھیں۔ مگر نوابزادہ لیاقت علی خان تاڑ گئے کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ چراغ سحری ہیں۔ اب بجھے کہ تب بجھے۔اسی لئیے قائد اعظم رحمتہ علیہ سےون ٹو ون ملاقات کرکے نیچے آئے توانہوں نے آتے ہی سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان چودھری محمد علی سے کہا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو فون کرکے کراچی میں موجود رہیں تانکہ خواجہ ناظم الدین کو کارِ حکومت کے لئیے جبکہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کو قائد اعظم رحمتہ علیہ کی نماز جنازہ پڑھوانے کے لئیے ۔ جسے فوجی اے ڈی سی کے محض بیان سے جبکہ وہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس ملاقات میں وہ موجود نہیں تھے ۔ یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ یہ ہدایات قائد اعظم رحمتہ علیہ نے دی ہونگی ۔یہ نتیجہ در ست نہیں۔ کیونکہ قائد اعظم رحمتہ علیہ نے تویہاں تک نہیں چاہا تھا کہ وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو یہ پتہ چلے کہ مرض الموت کس حد تک ان پہ غالب ہوچکا ہے۔ اور اس لئیے لیاقت علی خان نے نیچے آکر اپنے طریقے سے قائد اعظم رحمتہ علیہ کےذاتی معالج سے یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ چراغ ِ حیات نو قوم کے بجھنے میں کتنا وقت جاتا ہے۔ تانکہ کار ریاست کی زمام اپنے ہاتھ میں لی جاسکے۔ اور قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ذاتی معالج کے انکار پہ نوابزادہ لیاقت علی خان نےاپنے عہدے یعنی وزیر اعظم پاکستان ہونے کا حوالہ دیا۔ کتنا دم خم تھا نئے نئے بنے وزیر اعظم پاکستان کو اپنے عہدے کا۔ اور ممکنہ طور پہ انکے اے ڈی سی نے اس گفتگو کو اپنے فوجی دماغ سے یہ جانا کہ وزیر اعظم پاکستان قائد اعظم رحمتہ علیہ کی صحت کے بارے فکر مند ہیں۔ جبکہ یہاں ڈاکٹر صفدر محمود کی یہ بات بھی اضافی ہے کہ ” انہی دنوں پاکستان کے امریکہ میں سفیر اصفہانی صاحب بھی قائد اعظم کی مزاج پرسی کے لئے آئے تھے اورانہوں نے بھی امریکہ سے ماہر ڈاکٹر بھجوانے کی بات کی تھی لیکن قائد اعظم کا کہنا تھا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ ایسے اخراجات کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اس دردمندی اور سوچ کا ذرا آج کے حکمرانوں سے موازنہ کریں تو آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔” جبکہ یہ انہی دنوں نہیں بلکہ بہت دنوں پہلے کی بات ہے اور تب لیاقت علی خان وغیرہ زیارت میں نہیں تھے ۔ بہر حال جو کچھ بھی ہوا ہو اس بات کا لیاقت علی خان کی قائد اعظم رحمتہ علیہ کی زندگی کے بارے دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی کی یہ بات بھی درست نہیں کہ نوابزادہ لیاقت علی خان وغیرہ باقاعدہ اطلاع اور اجازت سے زیارت پہنچے تھے جبکہ محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ کے مطابق وہ بغیر پیشگی اطلاع کا تکلف کئیے بغیر پہنچے تھے۔ اس بارے مجھے پکا یقین نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ میں کہیں پڑھ چکا ہوں کہ کراچی میں تب دو سے زائد ایمبولینسز تھی۔

      قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی کی یہ معلومات بھی درست نہیں دکھائی دیتیں اور ڈاکٹر صفدر محمود کے یہ الفاظ بھی اس حقیقت کا پاس نہیں کرتے کہ ایمبولنس خراب ہوگئی ۔ وہ خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ اسمیں پٹرول ہی نہیں دلوایا گیا تھا۔ اور یہ بات بھی درست نہیں کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ساتھ کوئی کارواں یا کاروں کا کوئی جلوس تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی گاڑی کا پٹرول ایمبولینس میں ڈالا جاسکتا تھا۔ یا قائد اعظم رحمتہ علیہ کو کسی دوسری گاڑی میں جیسے تیسے اس گرمی اور مکھیوں کے ماحول سے نکالا جاسکتا تھا۔ اس بات سے ائر مارشل اسغر خان کے اس بیان سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وہ اپنی کار سے اس دوران وہاں سے گزرے تھے اور اے کاش انھیں پتہ ہوتا کہ اس ایمبولنس میں قائد اعظم رحمتہ علیہ تھے تو ادہر ہی رک کر انھیں وہاں سے نکال لیتے۔ اور جیسا کہ اوپر حوالہ دیا گیا ہے کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ ایمبولنس میں ایک نرس سسٹر ڈنہم اور خود فاطمہ جناح مرحومہ تھیں ۔ تو انکے اے ڈی سی برگیڈئر نور حسین جو بقول ڈاکٹر صفدر محمود کے اس سارے معامے کے چشم دید ہیں تو وہ اس وقت کہاں تھے؟ اور انہوں نے کوئی گاڑی رکوا کر پٹرول کا بندوبست کیوں نہ کیا؟

      جو لوگ فوج میں یا مختلف ممالک کی فوج کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ فوج میں اے ڈی سی یعنی Aide de camp کا کردار کسی شخصیت کے بارے میں کتنا ہوتا ہے۔ ایک اے ڈی سی کا عہدہ پرسنل اسسٹنٹ یا سیکٹرری کی طرح ہوتا ہے۔پاکستان میں عموما جرنیلوں ۔ صدر ۔وزیراعظم۔وزرائے اعٰلی اور صوبائی گورنرز وغیرہ کو اے ڈی سی مہیاء کئیے جاتے ہیں۔ جو عام طور پہ آرمی سے ہو تو کیپٹن۔ نیوی سے ہو تو لیفٹینٹ ۔ ایر فورس سے ہو تو فلائٹ لیفٹینٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کچھ خاص اے ڈی سی بھی ہوئے ہیں ۔ اور اس بارے کچھ اشتنٰی بھی شامل ہیں۔ مثلا جب جسٹس خان حبیب اللہ خان مغربی پاکستان کے وزیر اعلٰی تھے تو انکے اے ڈی سی انکے اپنے بیٹے سنئیر بیورکریٹ کپٹن ریٹائرڈ اختر منیر مروت تھے۔ جبکہ اسی طرح پاکستان کے ایک سابق صدر جرنل ایوب خان کے اے ڈی سی انکے اپنے بیٹے کپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب خان تھے۔ سابق جرنل مشرف کے اےڈی سی حال ہی میں خودکشی کرنے والے میجر تنویر احمد تھے۔ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ کچھ لوگوں نے اس بات پہ بہت زور دے رکھا ہے کہ اگر نوابزادہ لیاقت علی خان کو قائد اعظم رحمتہ علیہ کے پائے کا یا ان سے کچھ کم درجے کا مگر قائد رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ایک مستقل مزاج اور اور ہر لالچ سے پاک رہنماء ثابت نہ کیا جاسکا تو خدا نخواستہ نظریہ پاکستان یا پاکستان کے وجود پہ کوئی آنچ آسکتی ہے۔ اس بارے گزارش ہے کہ پاکستان ایک حقیقت اور انشاءاللہ رہتی دنیا تک ایک حقیقت کے طور پہ قائم رہے گا۔ خواہ ماضی کے کسی بھی دور کی کسی بھی شخصیت کے بارے میں کیسا ہی انوکھا یا اچنھپے کا انکشاف ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اسلئیے پاکستان کی تاریخ کے جو ناگوار پہلو ہیں ان پہ بات ہونی چاہئیے ۔ بحث ہونی چاہئیے تانکہ ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں وہی غلطیاں نہ دہرائیں۔

       
      • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

        اگست 15, 2011 at 17:51

        محترم! بھائی غلام مرتضٰی علی صاحب۔

        ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حب الوطنی اور پاکستان کے لئیے خدمات اور ان خدمات کے بدلے دی قربانیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایک روز نامے میں انکے آج کے ایک آرٹیکل ۔۔”تم جس پہ نظر ڈالو۔ اس ملک کا خدا حافظ“… سحر ہونے تک از ڈاکٹر عبدالقدیرخان” میں لیاقت علی خان کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں۔
        "پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے بارے میں اَمریکہ کا جو رویّہ رہا ہے اس کو دیکھ کر پاکستان کی پرانی تاریخ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً ہی بعد لیاقت علی خان امریکہ گئے اور وہاں کی شان و شوکت دیکھ کر ایسے مرعوب ہوئے کہ آتے وقت ہماری حمیّت وہیں چھوڑ آئے۔ میں چار پانچ سال بعد کالج کا طالب علم تھا اور میں اور میرے عزیز بھو پالی دوست اقبال خان کالج کے بعد شہر میں گھوما پھرا کرتے تھے اس وقت کراچی بہت ہی صاف ستھرا شہر تھا، امن و امان تھا ، آبادی بہت کم تھی اور اشیائے خور و نوش بے حدسستی تھیں۔ لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کے بعد ہمیں بندر روڈ پر گاندھی گارڈن روڈ پر واقع بڑی عمارت کے اندر آتے جاتے لاتعداد امریکن فوجی نظر آنے لگے، کراچی اس وقت دارالحکومت تھا۔ امریکی بحری جہاز خیر سگالی دوروں پر آنے لگے۔ شہر میں ان کے ملاح گھومنے لگے اور ساتھ اعلیٰ عہدیداروں کا تانتا لگ گیا، بہت سمجھداری اور سازش سے زمین تیار کی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”

        یعنی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیاہے کہ امریکہ کے سامنے بندہِ بے دام کی طرح گھٹنے ٹیک دینے والے نوابزادہ لیاقت علی خان تھے۔ اور پھر گھٹنے ٹیکنے سے شروع ہوکر بات امریکہ کے سامنے سجدے تک پہنچی پے اور بدستور سجدے والی حالت ہے۔ یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے جس وجہ سے پاکستان سے ہمدردی اور محبت رکھنے والے لوگ نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کی، امریکہ سے بندہ بے دام غلامی اور امریکہ کو پاکستان کے حساس معاملات میں دخل اندازی کئے جانے کی اجازت کی لمبی فہرست کے موجد اور بانی لیاقت علی خان کو گردانتے ہیں۔

         
  4. ایم اے راجپوت

    اگست 24, 2011 at 02:25

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    بہترین تحریر شئیر کرنے کے لئے بہت شکریہ
    اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔۔ آمین

     

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: