RSS

ذوالفقار مرزا فرمودات اور حقائق کا جبر

19 جولائی

ذوالفقار مرزا نے جو کہا اور اس پہ معافی مانگی ۔ یہ "ارشادات” جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ سندھی رہنماؤں کی تنگ نظر ذہنیت کا پتہ دیتے ہیں ، وہیں جبر کے اس دور کا شاخسانہ ہیں۔ "جبر ” جو سندھ باالخصوص کراچی میں ایم کیو ایم نامی تنظیم اپنا آبائی حق سمجھ کر اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے ۔ ذوالفقار مرزا کے بیان سے اتفاق رائے یا اختلاف رائے سے قطع نظر ۔ یہ وہ رد عمل ہے۔ جو ایم کیو ایم کی کراچی میں طرز حکمرانی اور تشدد کی سیاست کے خلاف دلوں میں پل رہا ہے۔ بڑھ رہا ہے۔

عقل مند لوگ اس شاخ کو نہیں کاٹتے جس پہ بسیرا ہو،۔ جبکہ اپنے آپ کو سیاسی تنظیم کہلوانے والی ایم کیو ایم یہ کام لاکھ جتن اور بد تدبیری کر تے ہوئے انجام دے رہی ہے۔ یعنی کراچی اور سندھ کے جن عوام سے(سندھی، پنجابی، پٹھان بلوچی اور دیگر قومیں جو کراچی میں بستی ہیں وہ وہاں کے عوام ہیں)اس کا سامنا ہے ۔جن عوام سے اسکا روز مرہ کا مرنا جینا ہے ۔ ایم کیو ایم ، کمال بد تدبیری سے انہیں اپنا دشمن بنائے رہتی ہے۔

بر صغیر میں وہ دور گزر چکا۔ جب ریاستیں اور انکی حکومتیں۔ کسی ایک خاندان یا حکمران کی ملکیت ہوتیں تھیں۔ اسی طرح سیاسی تنظیموں اور پارٹیوں پہ بھی کسی ایک شخص کا قبضہ، ایک فرسودہ نظریہ ہے۔ پاکستان میں جو لوگ اور سیاسی پارٹیاں ایسے نظریے پہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر انقلابی کبھی نہیں ہوسکتے۔ اور یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے۔ جو ایم کیو ایم کو ایک انقلابی تنظیم میں تبدیل ہونے میں مانع ہے۔ جسے بادی النظر میں۔ ایم کیو ایم سمجھنے سے قاصر ہے۔

ذوالفقار مرزا کے بے وقوفانہ اور الاؤ بھڑکانے کے بیان کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں مگر کیا آپ اور وہی منیر بلوچ جنکا کالم آپ نے بصد شوق اپنے بلاگ پہ چسپاں کیا ہے ۔ کیا آپ دونوں میرے کچھ سوالوں کا جواب دینا پسند کریں گے۔ کہ ذوالفقار مرزا کے مذکورہ بیان کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں میں مارے گئے لوگ کیا انسان نہیں تھے؟۔ انکا کیا قصور تھا؟۔ کیا ایک بیان کے بدلے درجنوں بے گناہ اور راہ چلتے لوگوں کی جان اسقدر انتہائی کم قیمت رکھتی تھی کہ انھہں خون میں نہلا دیا گیا؟۔کیا انکے قاتل پکڑے گئے؟ کیا اس قتل و غارت سے لوگوں کے دلوں میں الطاف حسین سے محبت میں اضافہ ہوا ہوگا؟۔

منیر بلوچ نے کالم کے آغاز میں جس جذباتی طریقے سے تنبو یعنی خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدمے کی روداد کی ادھوری کہانی جذباتی انداز میں لکھی ہے۔ اس سے منیر بلوچ نے مجرمانہ غفلت سے کام لیتے ہوئے یک طرفہ طور پہ کراچی کے وسائل اور سیاست پہ قابض مخصوص لوگوں کے جذبات کی تسکین کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اور پاکستان کی مقامی آبادی نے پورے پاکستان میں جس ایثار ، اخوت اور قربانی کا مظاہرہ اپنے مہاجر بھائیوں کے لئیے کیا ۔ جس سے انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی ۔اسے یکطرفہ نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ایک ایسے واقعے کو مثال بنا کر پیش کیا ہے جس کا فیصلہ موصوف نے لکھنا گواراہ نہیں کیا۔ اور دلوں میں مزید نفرتیں ڈالنے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر تاریخ کو جھٹلانے کی کوشش کی ہے ۔ جس سے غلط فہمیوں اور نفرتوں کو رواج تو ہوسکتا ہے مگر اس سے کسی کا بھلا ہونا ناممکن ہے۔

اور اگر اُس دور میں پاکستان کی نوزائیدہ حکومت جسکے کرتا دھرتا مہاجر ۔ اسکے اعمال مہاجر اور وزیر اعظم بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور کسی ایک مہاجر کے ساتھ یوں ہوا تو اس میں بھی قصور وار حکومت تھی نہ کہ وہ عام آدمی جس کی بّلی ہر روز درجنوں کی تعداد میں کراچی میں چڑھائی جاتی ہے، عام آدمی جن میں سے اکثر کو سیاست کی الف وبے کا علم نہیں ہوتا اور وہ اپنے گھر سے کوسوں دور محض روزی روٹی کی خاطر کراچی کے کارخانوں اور عام آدمی کی خدمت بجا لا رہے ہوتے ہیں۔ ان جیتے جاگتے انسانوں کو الطاف حسین کی عظمت و رفعت ثابت کرنے کے لئیے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔خدایا ۔ یہ کیسی عظمت ہے؟۔ یہ کیسی رفعت ہے؟۔ جو زندہ انسانوں کی قربانی مانگتی ہے؟ ۔ایسا تو ہنود بھی نہیں کرتے ۔ وہ بھی اپنے کسی بت یا دیوتا کو خوش کرنے کے لئیے کبھی سالوں میں کسی ایک آدھ انسان کو قربان کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمانی اور مکے کے مہاجرین کے ہم رتبہ ہونے کا دعواہ کرنے والے۔ درجنوں گھروں کے چراغ محض ایک بیان پہ بجھا دیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جسے کسی بھی سیاسی اور جذباتی رو سے۔ دنیا میں کہیں بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ملک میں اور کچھ سال قبل تک کچھ ایسی ہی بنیادوں پہ مہاجر ہونے والوں کی طرف سے، یوں ہونا انتہائی قابل افسوس ہے ۔اسکے باوجود اگر کسی کو تنبو یا خیمے کا کپڑا اپنا جسم چھپانے کے لئیے استعمال کرنا پڑا۔ تو اسکا الزام بھی لیاقت علی خان کو ہی جاتا ہے ۔جس نے اپنوں کو نوازا ۔اور جو حقیقی مہاجر تھے انکے کلیم بھی وہ لوگ لے اڑے جو نوابزادے کے پسندیدہ لوگ تھے ۔ یہ خفیہ اور راز کی باتیں نہیں بلکہ انھیں سارا زمانہ اور خاص کر کراچی کے عام لوگ بھی جانتے ہیں ۔ آپ ذرا پتہ تو کریں۔

خیمے کے کپڑے کے ٹوٹے کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ بھی آپ کو اور منیر بلوچ کو علم ہوگا؟ ۔ جبکہ یہاں انسانی جانوں کو محض اس لئیے بلی چڑھا دیا گیا کہ زوالفقار مرزا اور اور انکے حماتیوں کو یہ باور رہے کہ ایسا کہنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔اور افسوس ہے اسکے باوجود آپ نے ساٹھ سال سے زیادہ پرانے ایک مقدمے پہ لکھے گئے یکطرفہ کالم کو بنیاد بنا کر یہاں چھاپ دیا۔ اور جو واقعتا کل پرسوں جان سے ہارے اور بے گناہ لوگ تھے انکا ذکر ہی نہیں۔ ذوالفقار مرزا کے بیان کے رد عمل میں جن درجنوں لوگوں کو اگلے چوبیس گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ انکی مظلومیت پہ کچھ لکھا جاتا ؟۔

خدا گواہ ہے۔آپ لوگ حقیقت کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ سورج بلند ہوتا ہے تو اسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ آپ ہار جائیں گے اور سورج جیت جائے گا۔ حقائق اور سچ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ آپ ہار جائیں گے اور سچ اپنا آپ منوا کر رہے گا۔ یہ جو کل پرسوں بے گناہ لوگ قتل کر دئیے گئے ۔ انکے بیوی بچے ہونگے ۔ ان میں سے کئی ایک اپنے خاندان کے واحد کفیل ہونگے ۔ جب وہ گھروں کو نہیں لوٹے ہونگے ۔ ان معصوم بچوں کے کاندھوں پہ گھر کا بار کفالت کا بوجھ پڑے گا۔ وہ اسی کراچی شہر میں تلاش معاش کو نکلیں گے۔ تو کئی ایک اپنی بے بسی کا بدلہ مزید لوگوں سے لیں گے ۔

جو نفرتیں آج بیجی جارہی ہیں۔ اسکی فصل کچھ سالوں تک اہل کراچی کو کاٹنی پڑیں گی ۔تب ساٹھ ستر سال کے خیمے کے کپڑے کی چوری کے مقدموں کی جذباتی روداد کسی کو روک نہ سکے گی۔ انتقام اور اپنی بے بسیوں کا حساب چاق کرنے کے لئیے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑنا ناممکن ہوگا۔

جبکہ اُس دور میں۔آغاز پاکستان میں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور انہوں نے مقامی سندھیوں کے خلاف انکا استہزاء اڑاتے ہوئے فرمایا "ان گدھا گاڑیاں چلانے والوں کا علم سے کیا تعلق ؟”۔ اور سندھ یونی ورسٹی کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا۔ اور کراچی میں کراچی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ سندھیوں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی بدتدبیر سیاست سے لیاقت علی خان نے گانٹھ ڈال دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کراچی کی سیاست اور وسائل پہ سوائے اپنے مخصوص لوگوں کو جن میں سبھی مہاجر شامل نہیں ۔ کراچی کے ان وسائل کو صرف اپنا حق سمجھ کر دوسری قومیتوں بشمول وہ مہاجر جو ایم کیو ایم کو نہیں مانتے ان مہاجرو ں کو ، پٹھانوں کو ،سندھیوں کو، پنجابیوںکو، بلوچوں کو اور دیگر قومیتوں کو متواتر نطر انداز کیا جارہا ہے۔ جو شدید ردعمل کا جواز بنتا ہے اور بنتا رہے گا ۔ تا وقتیکہ کہ کراچی کے وسائل منصفانہ طریقے سے سے عام آدمی کے لئیے تقسیم نہ ہوں ۔ اس وقت تک دلوں میں رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔ اور شدید ردعمل زبانی اور عملی سامنے آتا رہے گا۔ دانش کا تقاضہ یہ ہے جس شاخ پہ بسیرا ہو اسے کبھی نہ کاٹا جائے۔ بلکہ اس شاخ اور شجر کو توانا کیا جائے۔ مگر ایم کیو نے ماضی اور حال سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔اور آپ جیسے سمجھدار اور فہم رکھنے والے لوگ بھی اتنے گھمبیر مسئلے کو اپنے مخصوص اور دلپسند رنگ اور اینگل سے دیکھتے ہوئے۔ اسطرح کے کالم چسپاں کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے مہاجر ہونے کا حق نمک ادا کر دیا ۔ جبکہ ہم اسے مسائل سے چشم پوشی کا نام دیتے ہیں۔کیونکہ جب تک کسی مسئلے کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اور اسے حل کرنے کی تدبیر نہیں کی جاتی۔ اسوقت تک نہ صرف مسئلہ موجود رہے گا ۔ بلکہ وہ اپنے اندر کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ر ہےگا۔ جو نہائت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نفرت کا جن ایک دفعہ بوتل سے باہر آجائے تو اپنے پرائے کی تمیز کھو جاتی ہے۔آئیں مل جل کر کوشش کریں کہ نفرت کا یہ جن بے قابو نہ ہو۔ اور کراچی و پاکستان باہمی برداشت اور عدل و انصاف کو رواج دیا جاسکے ۔ جس سے لوگوں کے مسائل کا حل ہونا ایک عام قاعدہ ہو۔ جو عام آدمی کا حق ہو۔ نہ کہ کسی عطیم لیڈر یا پارٹی کی بخشیش ہو۔ یہی مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔

Advertisements
 

ٹيگ: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

34 responses to “ذوالفقار مرزا فرمودات اور حقائق کا جبر

  1. Asif

    جولائی 19, 2011 at 17:49

    بہت اچھا لکھا ہے۔ امید ہے مہاجر بھائی حقیقت پسند نظروں سے اسے پڑھیں گے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 19, 2011 at 23:11


      محترم! آصف صاحب!!۔

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔


      اس تحریر کے پیرہن میں ایم کیو ایم کو مہاجر سمجھ کر نہیں۔ بلکہ ایم کیو ایم کو بہ حیثیت سیاسی پارٹی مخاطب کیا گیا ہے۔ ہم تمام مہاجروں کا بہ حیثیت مہاجر ہو کر آنے والوں کے نہائت احترام کرتے ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہے تو ایم کیو ایم کے طرز سیاست سے صرف۔

       
  2. Ghulam Murtaza Ali غلام مرتضیٰ علی

    جولائی 19, 2011 at 18:01

    آپ نے فرمایا "جبکہ اُس دور میں۔آغاز پاکستان میں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جو بجائے خود مہاجر تھے ۔ اور انہوں نے مقامی سندھیوں کے خلاف انکا استہزاء اڑاتے ہوئے فرمایا “ان گدھا گاڑیاں چلانے والوں کا علم سے کیا تعلق ؟”۔ اور سندھ یونی ورسٹی کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کردیا۔ اور کراچی میں کراچی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ سندھیوں کے پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی بدتدبیر سیاست سے لیاقت علی خان نے گانٹھ ڈال دی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ”
    سب سے پہلے یہ وضاحت کہ میں ایک پاکستانی ہوں، مہاجر، سندھی یا پنجابی وغیرہ قوم پرستی پر یقین نہیں رکھتا۔ یہ سب ہماری وقتی، عارضی اور دنیاوی شناختیں ہیں اور ہماری نجات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ ان پر ضرورت سے زیادہ زور ہی ہماری تباہی کا باعث ہے۔ ہماری نجات کا واحد ذریعہ یعنی دینِ اسلام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ اس ملک کا خواب دیکھنے والے عظیم مفکر نے بھی اپنے کلام میں یہی درس دیا۔ اس ملک کے عظیم بانی نے بھی آخر دم تک ان عصبیتوں سے گریز کرنے پر زور دیا۔ اور اسی بابائے قوم کے معتمد اور جانباز ساتھی شہید ملت لیاقت علی خان کے آخری الفاظ بھی کچھ اور نہیں بلکہ "برادرانِ اسلام” تھے۔
    آپ نے اس پوسٹ کا عنوان حقائق کا جبر رکھا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ مندرجہ بالا اقتباس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپکے پاس اس کا کوئی دستاویزی حوالہ ہے تو پیش فرمائیے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1935 تک سندھ بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ رہا۔ اس وقت تک بہت سے دیگر اداروں کی طرح یہاں کسی یونیورسٹی کا بھی کوئی وجود نہ تھا۔ یہاں کے گنتی کے چند کالج بمبئی یونیورسٹی سے ملحق تھے۔ صوبہ بننے کے بعد بھی بارہ سال تک یہاں کوئی یونیورسٹی نہ بن سکی اور ان کالجوں کے طلبہ بمبئی یونیورسٹی سے ہی گریجویشن کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہاں بہت بڑا تعلیمی بحران پیدا ہو گیا۔ چنانچہ یہاں کے طلبہ کے امتحانات لینے کے لیے سندھ یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت پیش ۤآئی۔ اس وقت کراچی سندھ کا دارالحکومت تھا۔ بابائے قوم کی ہدایت پر اسے ملکی دارالحکومت بنایا گیا تھا ۔ سندھی بھائیوں نے نہ صرف ہندوستان سے آنے والے مہاجروں کی ہر ممکن مدد کی بلکہ قائد کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر تے ہوئےکراچی میں موجود سندھ کے تمام اداروں بشمول سندھ اسمبلی وسیکرٹریٹ کی عمارتیں وفاقی دارالحکومت کے لیے خالی کر دیں۔ کراچی کے وفاقی علاقہ قرار پانے کی وجہ سے سندھ کا دارالحکومت حیدر آباد منتقل کر دیا گیا۔ جب دارالحکومت حیدرآباد منتقل ہوا تو اس وقت تک صرف ایک امتحانی بورڈ کی حیثیت رکھنے والی سندھ یونیورسٹی بھی وہیں منتقل ہو گئی۔ بعد ازاں وفاقی دارالحکومت کی تعلیمی ضروریات کے پیش نظر یہاں وفاقی کراچی یونیورسٹی قائم کی گئی۔ دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے بعد 1960 میں ایک قانون کے ذریعے اسے مغربی پاکستان کی صوبائی حکومت کے حوالے کردیا گیا۔ 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد یہ سندھ کی صوبائی حکومت کے تحت آگئی۔
    باقی شہید ملت کی سیاست کی بدتدبیری کی تو میں اس سے زیادہ کیا کہوں کہ انھیں خود قائد اعظم نے 1936 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اعزازی سیکرٹری جنرل مقرر کیا تھا اور وہ اس عہدے پر قیام پاکستان تک فائز رہے۔ ہماری ملـی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں انھیں عظیم قائد کا بھر پور اعتماد حاصل رہا۔ انھیں پاکستان کے سب سے بڑے انتظامی عہدے پر بھی انھوں نے ہی مقرر کیا۔ گویا وہ مسلمانوں کے مدبر ترین قائد کا انتخاب تھے۔ واضح رہے کہ قائد اعظم کسی نا اہل آدمی کو کوئی اہم ذمہ داری نہ سونپا کرتے تھے۔ خان صاحب شہید نے بے سروسامانی کے باوجود اس ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کر کے قائد کے انتخاب کو درست قرار دیا۔ وہ قائد کی وفات کے بعد پاکستان پر قبضے کے خواہشمند طالع ازماوں کی راہ میں سب سے بڑی دیوار تھے۔ ان کی شہادت کے بعد
    دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
    آخری لیکن بہت اہم بات کہ شہید ملت نے اس قوم سے کچھ لیا نہیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر اس کی خدمت کرنے آئے اور خدمت کرتے کرتے شہید ہوگئے۔
    باقی رہی قیام پاکستان کے وقت سندھ کی تعلیمی حالت اور مہاجروں کے آنے کے بعد اس کی زبردست کایا کلپ کی بات، تو اس سلسلے میں ذوالفقار مرزا ہی کے تایا سسر اور سندھ کے اولین وزرائے تعلیم میں سے ایک قاضی اکبر مرحوم (جنھوں نے جی ایم سید کو شکست دی تھی) کی یہ شہادت ملاحظہ فرمائیے:
    "ہمیں تم (مہاجروں) سے بہت شکایتیں ہیں لیکن ایک بات تسلیم شدہ ہے کہ سندھ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے تھا لیکن تمہارے آنے سے سندھ نے تعلیم کے میدان میں جو جست لگائی وہ دو سو سال میں بھی نہیں لگائی جا سکتی تھی۔”
    http://jang.com.pk/jang/jul2011-daily/17-07-2011/col12.htm

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 20, 2011 at 01:19

      محترم! غلام مرتضٰی علی صاحب!!

      آپ نے بجا فرمایا کہ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا چاہئیے۔ اور سندھی، پنجابی، مہاجر، پٹھان، بلوچی وغیرہ اس طرح کے تمام لسانی، صوبائی اور مسلکی اختلافات سے بہت اوپر ہو کر پاکستان کے بارے سوچنا چاہئیے۔ اور اس بارے یہ عرض ہے کہ یہ تحریر دانش صاحب کے بلاگ پہ یک طرفہ طور پہ صرف مخصوص لوگوں کو خوش کرنے کے لئیے منیر بلوچ کا ڈرامائی انداز میں لکھے گئے کالم کو چسپاں دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ وہ بے چارے جو آجکل میں مارے گئے خواہ وہ کسی بھی صوبے یا لسانی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں کیا ان کے بارے میں بھی کچھ لکھا جانا قرین انصاف نہیں تھا؟ ۔ میں نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان بے گناہ لوگوں کے بارے کچھ بھی نہ لکھے جانے کو یاد کروایا ہے۔ بے گناہ لوگ جن میں اردو بولنے والے ، پٹھان، پنجابی اور خدا جانے کون کون سی قومیتوں کے لوگ شامل ہونگے۔ کیا ایک مسلمان ملک میں عام اور بے گناہ مسلمانوں کی زندگی اتنی ہی سستی ہو گئی ہے کہ محض ایک بیان پہ خفا ہو کر راہ چلتے راہگیروں کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جبکہ بیان دینے والے اور اس پہ برانگخیتہ ہونے والے اپنے گھروں میں محفوظ بیٹھے ہوں؟۔

      وہ قومیں ختم ہوجاتی ہیں جہاں کمزور اور طاقتور کے لئیے انصاف کے الگ الگ پیمانے ہوں۔ یہ قانون فطرت ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں۔ کیا ہم اجتماعی خود کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟ اسطرح کے وہ بہت سے سوالات تھے جنہوں نے مجھے اس تحریر کو لکھنے پہ مجبور کیا۔ اور وہ غریب اور بے گناہ لوگ جو مارے گئے اور جن کا کوئی والی وارث بننے کو تیار نہیں ۔ نہ درود نہ فاتحہ ۔ نہ انکا ذکر خیر۔ نہ میڈیا میں کوئی رپوٹ۔ کچھ بھی تو کہیں نہیں انکے بارے کہا گیا۔ تو کیا پاکستان میں عام آدمی ہونے کی یہ سزا ہے کہ جب چاہیں اسے موت کے گھاٹ اتار دیں؟ اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو؟۔

      ہمیں لیاقت علی خان سے مسئلہ نہیں کیونکہ جو ہوچکا سو چکا ۔ مسئلہ موجودہ بگڑے حالات سے ہے۔ جن میں پوری پاکستانی قوم ایک الاؤ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اس تحریر میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا زکر ضمنا تھا جو روانی میں لکھا گیا۔ اسس سے نفس مضمون پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسا کرنے سے گڑے مردے اکھاڑنے یا کسی کی دل آزاری مقصود نہیں تھی۔آپ نے اصرار کیا ہے تو چند حوالے لکھ رہا ہوں۔ اسکے بعد لیاقت علی کے موضوع پہ کوئی بات کرنے سے قاصر ہونگا۔ کیو نکہ ایسا کرنے سے جوآب آں غزل کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ جس سے اس مندرجہ بالا تحریر کا وہ مقصد فوت ہوجائے گا جس کے لئیے یہ تحریر لکھی گئی اور موضوع کسی نئی بحث کی طرف جا نکلے گا۔

      لیاقت علی نے بنگالی اور سندھی قیادت کو کمال نخوت سے کبھی اپنے برابر نہیں سمجھا تھا ۔

      حوالے کے لیے دیکھیئے

      the Political History of Pakistan: Hasan Jafar Zaidi

      کچھ لوگ لیاقت علی خان کو پنجابی قرار دیتے ہوئے اپنی عادت کے مطابق اصل حقیقت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر نوابزادہ لیاقت علی خان پنجابی تھے ۔تو انھیں کیا پڑی تھی ۔ اصل حقدار مہاجروں کو پس پست ڈالتے ہوئے ،کراچی میں ایسے لوگوں کو بے جا نوازتے جن سے انکا اپنا تعلق نہیں بنتا تھا ۔تو پروفیسر ضیاء الدین احمد اپنی کتاب،لیاقت علی خان بلڈر آف پاکستان۔ کے صحفہ نمر ستائیس پہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے یو پی اتر پردیش کے ساتھ گہرا تعلق ہونے کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں۔

      “The family, Before settling down in Karnal in the Punjab in the 19th century, lived on the other side of the Jamna in Muzaffarnagar (U.P., India) for some generations, where they owned bigestates. Even after he settled down in Delhi, he took keen interestin the amelioratin and betterment of the Muslims of Muzaffarnagar.”

      p.27 of book by Prof. Ziauddin Ahmad , Liaquat Ali Khan: builder of Pakistan

      تحریکِ پاکستان کے نمایاں رہنماء اور قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے معتبر ساتھی سرادر شوکت حیات خان اپنی کتاب۔ دی نیشن دیٹ لاسٹ اٹس سول۔ کے پیج نمبر 178 پہ لیاقت علی خان کے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پہ ترجیج دینے۔ اور اتر پردیش کے لوگوں کو کراچی میں ہر قانون قاعدہ توڑتے ہوئے، محض اپنا حلقہ انتخاب بنانے کے لیے یو پی والوں کو کراچی میں بسانے کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تحریک پاکستان کے ہروال دستے کے ایک رہنماء اور قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ایک معتمد خاص ساتھی کے الفاظ ہیں۔

      “He (Liaqat Ali Khan) delayed the completion of the Constitution to avoid elections which he could not win because he had no seat in Pakistan and had to be elected by East Pakistan. He, on the advice of officers belonging to the United Provinces, broke the Liaqat-Nehru Pact about the agreed areas for migration from India to Pakistan, requiring the record of property to be exchanged officially. He, quite against the agreement permitted inhabitants of UP and Rajasthan to enter via Khokhrapar – thus opening floodgates endangering the stability of the already overloaded boat of Pakistan. I objected to this in the assembly. This action of Liaqat was quite partial allowing only people from his old Province and the adjoining areas to migrate unfairly into Pakistan in rder to create a seat for himself in Karachi. The people of the rest of the India were left to stew in their own juice. This act of his created a lot of confusion with people getting allotments in Sindh, without records on each other’s dubious evidence. This led to the problems of MQM and their hatred by Sindhis. These refugees got a monopoly of jobs in the cities and deprived local Pakistanis of their rightful share. The political instability still persists.”
      (source: Page 178 from the “Nation that lost its soul”, enclosed as Vol 2.5 in
      the document)

      مزید یہ دیکھیں

      This action of Liaqat was quite partial allowing only people from his old Province and the adjoining areas to migrate unfairly into Pakistan in rder to create a seat for himself in Karachi. The people of the rest of the India were left to stew in their own juice.

      یہ الفاظ تحریک پاکستان کے ایک معتبر رہنماء کے ہیں ۔ اور یہاں from his old Province

      سے مراد انکا آبائی صوبہ اتر پردیش مراد ہے

      جلد نمبر 4 پولیٹیکل ہسٹری آف پاکستان۔ ادرارہ مطالعہ تاریخ پیج نمبر 185-187 پہ حسن جعفر زیدی، نوابزادہ لیاقت علی خان کی اصولوں سے ہٹ کر ذاتی پسند اور نا پسند کی داتی مفادات کی سیاست پہ لکھتے ہیں ۔

      “Punjabi chauvinism and Liaqat Ali Khan’s favoritism was at each others throat. The fight was furious and Mr. Khan was not a gentleman either. Mr. Khan was desperate to build his political base in the newly formed state. He could go to any length to achieve his personal goals”

      Political History of Pakistan, Vol. 4, edited by Hasan Jafar Zaidi, Idara-Mutala-i-Tarikh. pp 185-187

      وہ مزید لکھتے ہیں ۔

      Liaqat Ali Khan with nepotism, and commenting on the appointments Liaqat Ali Khan had made……….
      Hashim Raza, administrator Karachi; his brother Kazim Raza, IG police; Aal-e-Raza, also brother of Hashim, Public Prosecutor; Superintendent CID; Home Secretary Punjab, all of them from UP. Liaqat Ali Khan did all this to secure his political success from Karachi at least…………
      ………………… The commander of army in Bengal was (you guessed it right) Maj. General Ayub Khan was from Hazar…. They never gave the respect to political leadership of Bengal either.

      the Political History of Pakistan: Hasan Jafar Zaidi

      لیاقت علی خان کی رقص و شراب کی محفلیں اور دلچسپیوں کے بارے میں وجاہت مسعود، لاہور سے بعنوان لیاقت علی خان کا قتل میں لیاقت علی خاں کون تھے؟ میں یوں رقم طراز ہیں۔

      “شخصی زندگی میں لیاقت علی روشن خیال اور مجلسی مزاج رکھتے تھے۔ وہ رقص، شراب اور عمدہ سگرٹوں سے محظوظ ہوتے تھے مگر عوامی سطح پر ان کی سیاست مذہبی حوالوں سے بھرپور ہوتی تھی۔ ۔۔۔لیاقت علی نے بنگال کے مقبول رہنما حسین سہروردی کے بارے میں اسمبلی میں سخت کلمات ادا کیے تھے جبکہ سندھی قیادت کے بارے میں ان کے درشت کلمات زبان زد عام تھے۔۔۔”

      لیاقت علی خان نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے عہدوں کی بندر بانٹ کی اور پاکستان میں اداروں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی رسم ستم ایجاد کی
      ۔

      حوالے کے لیے دیکھیے ،

      the Political History of Pakistan: Hasan Jafar Zaidi

      نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم رعنا لیاقت کا پورا کرسچئن نام

      Ranana Sheila Irene Pant تھا ۔ حوالہ دیکھ لیں
      Professor Roger D. Long with a foreword by Stanely Wolpert. Oxford University Press, Karachi. Pages 328. V.N. Datta

      اور بیگم صاحبہ کی 1948ء میں ویمن والذی سروس اور 1949 مین قائم کی گئی اپوا نامی تنظیم کے کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اس بارے میں کسی بھی نیک اور صالح مسلمان سے رائے لے لیں ۔

      ہیکٹر بولائتھو نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ پہ اپنی کتاب ۔محمد علی جناح میں ۔ایک واقعہ لکھا ہے کہ 1942 کے بعد لیاقت علی خان کی دہلی میں بھولا بھائی ڈیسائی کے ساتھ پاور اور اقتدار شئیر کرنے کے ایک منصوبے کی تفضیل دی ہے جسے بقول ہیکٹر بھولائتھو جب یہ بات قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علم میں آئی تو انہوں نے سختی سے اس بات کا نوٹس لیا اور کہا کہ ہم آزادی سے کم کسی چیز پہ راضی نہیں ہونگے ۔

      شاہد رشید کے کتاب مادر ملت سے چند ایک اقتباس پیش کرؤنگا۔
      “بنیادی زیادتی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ان لوگوں نے کی جو قائد اعظم کی زندگی میں نافرمان ہو گئے تھے۔ اس ٹولے نے نہ صرف قائد اعظم کو موت کے منہ میں دھکیلا

      بلکہ مادر ملت کے سلسلے میں بھی غفلت برتی۔ اس عوام دشمن ٹولے نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا جو مقام بنتا تھا وہ جان بوجھ کر انھیں نہ دیا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم کے آخری الفاظ جو انھوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے کہے تھے وہ یہ تھے ” فاطی۔۔۔مجھے دلچسپی نہیں رہی کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں زندہ رہوں ۔ ۔ ۔ ۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے میں رخصت ہو جاؤں ۔۔۔؟”

      شاہد رشید مزید لکھتے ہیں۔

      “یہ الفاظ صاف طور پر ان کے رنجیدہ، دل برداشتہ اور دکھی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔

      مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جب ان کی ہمت بندہانے کے لیے کہا:

      ” آپ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر پُر امید ہیں۔”

      تو قائد نے جواب دیا۔

      ” نہیں اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا”

      شاہد رشید مزید لکھتے ہیں

      ان الفاظ سے صاف طور پر قائد کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔ یہ مایوسی سے لبریز الفاظ سن کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن مادر ملت کے صبرو ضبط کی داد دینی چایہے کہ انھوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی تا دم واپسیں حرف شکایت لب پر نہیں آنے دیا۔ محض اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جبکہ کوئی سیاسی لیڈر طبعی موت بھی مر جائے تو اس کے ورثاء چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ مادر ملت نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا پر اف تک نہ کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”

      کتاب کا نام: مادر ملت، محسنہ ملت

      مصنف: شاہد رشید

      یہاں فاضل مصنف کا یہ جملہ “محض اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔” سے مراد کیا ہے آخر وہ کونسا راز ہے اور اپنوں کا وہ کونسا ٹولہ تھا جو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہی نافرمان ہو گیا تھا اور انہوں نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو موت کے منہ میں دھکیلا۔؟

      جولائی کے آخر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی پیشگی اطلاع دینے کا تکلف کیے بغیر زیارت پہنچ گئے تو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش سے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ صحت کی بابت دریافت کیا تو ڈاکٹر کے ذہن میں تھا کہ انھیں مادر ملت نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علاج لیے مقرر کیا ہے اور تفضیلات بتانے سے گریز کیا جس پہ لیاقت علی خان نے ” وزیر اعظم کی حیثیت سے میں ان کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہوں ” اس پر ڈاکٹرا الہٰی بخش نے نے نرمی سے جواب دیا ٹھیک ہے ۔ مگر میں مریض کی اجازت کے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتا۔”

      بعد میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے داکٹر الہٰی بخش سے تفضیل جانی اور لیاقت علی خان کو کو اپنی صحت کے بارے میں نہ بتانے پہ اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ مادر ملت نے بیان کیا ہے ۔

      قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ لیاقت علی خان کو اپنے مرض کی بابت کیوں نہیں بتانا چاہ رہے؟؟ تھے اور انہوں نے اپنے معالجوں کو بھی اس کا پابند کیوں کیا تھا ۔۔؟؟؟؟

      شاہد رشید کی لکھی کتاب ۔مادر ملت، محسنہ ملت ۔میں محترمہ فاطمہ جناح فرماتی ہیں۔”لیکن اس دن جیسا کہ پہلے سے ہدایت کر دی گئی تھی ہوائی اڈے پہ کوئی نہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایمبولنس انہیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی۔ میں اور سسٹر ڈنہم ان(قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ) کے ساتھ ایمبولنس میں بیٹھے تھے۔ ایمبولنس بہت سست روی سے چل ری تھی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولنس نے اس طرح ہچکیاں لیں جیسے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہو ۔ اور پھر وہ اچانک رک گئی۔ کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولنس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولنس کا پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ اگر چہ ڈرائیور نے ایمبولنس کے انجن سے الجھنا شروع کر دیا تھا لیکن ایمبولنس کو اسٹارٹ ہونا تھا نہ ہوئی۔ میں پھر ایمبولنس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دیا اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انھوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ عموما کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہےاور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے۔ لیکن اس دن ہوا بالکل بند تھی۔ اور گرمی ناقابل برداشت۔ ۔ ۔

      قائد کی بے آرامی کا سبب یہ تھا کہ بے شمار مکھیاں ان کے چہرے پہ بھنبھنا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت بھی نہ رہی تھی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے اسے اٹھا سکتے ۔سسٹر ڈنہم اور میں باری باری ان کے چہرے پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہے تھے ہم منتظر تھے کہ شاید کوئی ایمبولنس آجائے ہر لمحہ کرب واذیت کا لامتناہی لمحہ تھا۔۔۔۔ امیدو بہم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے۔

      قریب ھی مہاجرین ۔۔۔۔ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا وہ قائد جس نے انھیں ایک وطن لے کر دیا ہے۔ ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی پرانی ایمبولنس میں بےیارو مددگار پڑا ہے جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے۔

      کاریں ہارن بجاتیں قریب سے گزر رہیں تھیں۔ بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کے طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایسی ایمبولنس میں بے حس و حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی اور اس ایمبولنس مین ایک انتہائی قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہو رہی تھی۔۔ ۔ ۔ ۔

      ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کتنی عجیب بات تھی کہ دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماڑی پور سے گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے میں لگے۔”

      کتاب کا نام: مادر ملت، محسنہ ملت

      مصنف: شاہد رشید

      مندرجہ بالا الفاظ مادر ملت فاطمہ جناح کے ہیں اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی وزارت عظمٰی میں مریض کوئی اور نہیں بلکہ بانی پاکستان اور پاکستان کے گورنر جنرل قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

      شاہد رشید مادر ملت کے بارے میں رقم طراز ہیں ” بجائے اس کے کہ وہ عوام دشمنوں سے محاز آراء ہو کر ساری توانائی بھائی کے دشمنوں اور قاتلوں کے چہرے سے نقاب اتارنے میں صرف کرتیں اور عمر اس مطالبے میں گزار دیتیں کہ میرے بھائی کو موت سے ہمکنار کرنے والے ٹولے کو قرار واقعی سزا دی جائے انہوں نے اس صدمے کو پی لیا۔۔۔۔

      کتاب کا نام: مادر ملت، محسنہ ملت

      مصنف: شاہد رشید

      وہ قاتل ٹولہ کون تھا اور ان کا سر غنہ کون تھا؟ ہمیں لیاقت علی کان سے بغض نہیں ۔ بلکہ واقعات کو درست تناظر میں پیش کرن کی ادنی سی کوشش کی ہے ۔نوابزادہ لیاقت علی خان کو آخر کار اسی عالمی طاقت نے ایک سازش کے ذریعئے انہی لوگوں کے ہاتھوں قتل کروا دیا ۔جنکا اپنا انجام بھی آخر کارعبرتناک ہوا۔

      وینکٹ رامانی نے ۔پاکستان میں امریکہ کا کردار۔کے بارے یوں لکھا ہے۔امریکی محکمۂ خارجہ، محکمۂ دفاع، سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی کونسل کی خفیہ دستاویزات کے مطابق انیس سو اکیاون تک امریکہ کی پاکستان میں ترجیجات یہ تھیں کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ ٹالی جاسکے۔ پاکستان کو فوجی امداد فراہم کی جائے۔ اور اسی مفاہمت کی جاسکے جو امریکہ کو پاکستان میں فضائی اڈے رکھنے کے قابل بنا دے۔

      ضروری وضاحت۔

      مندرجہ بالا تحریر میں یو پی سے ہجرت کر کے آئے ہوئے مہاجر بھائیوں یا کسی اور مہاجر یا غیر مہاجر طبقے کا میں تہہ دل سے احترام کرتا ہوں اور میرے نزدیک تمام پاکستانی قابل صد احترام ہیں ۔ چونکہ لیاقت علی خان نے تب کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے یو پی کے مہاجروں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہا اس لئیے وہ حوالے ضروری تھے۔

       
  3. ڈاکٹر جواد احمد خان

    جولائی 19, 2011 at 19:12

    آپکا یہ مضمّون پڑھ کر دکھ ہوا۔۔۔

     
  4. fikrepakistan

    جولائی 19, 2011 at 23:19

    میری آج تک سمجھہ میں نہیں آیا کے جاوید صاحب کو شہید ملت لیاقت علی خان سے کیس بات کا بغض ہے، اس سے پہلے بھی کئی بار جاوید صاحب شہید ملت لیاقت علی خان صاحب کے بارے میں گمراہ کن کلمات کہہ چکے ہیں جنکہ نا انکے پاس کوئی دستاویزی ثبوت ہوتا ہے اور نہ ہی دلیل۔ شہد ملت لیاقت علی خان صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جنکا مسلمانوں اور پاکستانیوں پر عظیم احسان ہے جو کوئی بھی پاکستانی اپنی جان دے کر بھی نہیں چکا سکتا۔ لیکن پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول یاد آجاتا ہے تو دل کو قرار مل جاتا ہے کہ۔ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو ۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 20, 2011 at 01:56

      فکر پاکستان صاحب!

      غلام مرتضٰی علی صاحب کے تبصرے کا جواب پڑھ لیں۔ مندرجہ بالا تحریر میں نوابزادہ لیاقت علی خان کا زکر ضمنا ہے۔ جبکہ نفس مضمون سے نوابزادہ کا تعلق نہیں۔ اور کسی کی دل آزاری مقصود نہیں بہرحال پھر بھی ہمیں جذباتی قسم کے اور مقدس تانے گئے دبیز پردوں کے پیچھے سے حقائق جانچتے رہنا چاہئیے۔

       
  5. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جولائی 20, 2011 at 05:02

    لیاقت علی خاں صاحب کی قتل کی وجوہات پر کچھ معلومات تلاش کی جائیں تو
    شاید۔۔۔گوندل صاحب کی لہجے تلخی سمجھ آجائے۔
    بحرحال گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
    ہمیں اس وقت صرف مسلمان اور پاکستانی ہو کر حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔
    گوندل ساحب معلوماتی تحریر کیلئے شکریہ

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 16:51

      محترم یاسر بھائی!آپ نے درست فرمایا ہے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کا تحریک پاکستان میں ایک اہم مقام ضرور ہے مگر جہاں نوابزادہ نے پاکستان کے حکمران ہونے کے ناطے جہاں پھنسایا۔ اور جس طرز سیاست کو ایک نوازائیدہ ریاست میں ہوا دی۔ اسکا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اب تو قوم اپنی شناخت تک بھولتی جارہی ہے۔ اور خدا جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟۔

       
  6. ضیاءالحسن خان

    جولائی 20, 2011 at 08:03

    لیاقت علی کے بارے میں اسطرح لکھنا سراسر نا انصافی ہے

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 17:11

      لیاقت علی کے بارے میں اسطرح لکھنا سراسر نا انصافی ہے

      محترم! ضیاء الحسن بھائی صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      اور جو لیاقت علی نے پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ کیا۔ کیا وہ ذیادتی نہیں تھی؟۔

       
  7. khalidhameed

    جولائی 20, 2011 at 09:38

    بہترین اور معلوماتی تحریر ہے۔
    پڑھ کر دکھ بھی ہوا۔
    چلیں جو ہوا سو ہوا۔ لیکن اب کیا ہوگا اور کیسے ہوگا۔؟
    یہ سمجھ نہیں آتا

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 17:34

      محترم! خالد حمید صاحب!! تعریف کے لئیے ۔شکریہ۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے۔ جب تک ہم گروہی۔ لسانی ، مسلکی، صوبائی، علاقائی، قبیلے اور برادری کے مفادات پہ۔ ریاست اور قوم کے مفاد کو۔ ترجیج نہیں دیتے ۔ تب تک یوں ہی خوار رہیں گے۔ اور گروہی۔ لسانی ، مسلکی، صوبائی، علاقائی، قبیلے اور برادری کے مفادات بھی دوسروں کے ساتھ کینھچا تانی کی وجہ سے تکمیل نہیں ہونگے۔

       
  8. محمد سلیم

    جولائی 20, 2011 at 12:35

    اصل تحریر ذوالفقار مرزا کے بارے میں ہے جس نے بیٹھک کے اندر کی جانے والی گفتگو کو سر عام کیا ہے۔ اس شخص کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظوں نے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق خون کی ہولی کھیلنے والوں کو ایک اور ہولی کھیلنے کا موقع دیدیا۔ شاید نا عاقبت اندیش کے القاب اسی جیسے آدمی کیلئے ایجاد ہوئے ہونگے!!!

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 17:51

      محترم! محمد سلیم صاحب۔ آپ نے بجا فرمایا کہ اصل موضوع کراچی میں جان سے گزار دئیے گئے بے گناہ اور عام آدمی سے متعلق ہے۔ مگر کچھ دوست موضوع پہ بات کرنے کی بجائے صرف بے جا الزام تراشی سے کام لے کر موضوع کا رخ بدل دیتے ہیں۔ موضوع پہ بات ہوتی تو شاید ہم سب کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔ اللہ تعالٰی آپ کے فہم و فکر کا جلا بخشے ۔

       
  9. Wafa Anjum

    جولائی 20, 2011 at 13:25

    very informative post…….

     
  10. fikrepakistan

    جولائی 20, 2011 at 13:27

    جاوید صاحب کے نقطہ نظر سے لیاقت علی خان صاحب قائد اعظم کے قاتل بھی تھے، مفاد پرست بھی تھے، تعصبی بھی تھے، شرابی کبابی بھی تھے، رقص و سرور کی محفلوں کے دل دادہ بھی تھے۔ حوالے کے لئیے جن صآحب کی کتاب کا ذکر کیا ہے یعنی جس کتاب پر جاوید صاحب قرآن کی طرح ایمان لے آئے ہیں زرا اسکے مصنف کی ہسٹری بھی بتا دیں یہ بھی بتا دیں کے اس کتاب کے مصنف نے پاکستان کی تکمیل کے لئیے کیا کیا قربانیاں دیں؟ شہید لیاقت علی خان صاحب کی طرح اپنی کتنی جائداد ہدہوستان میں چھوڑ کر آئے یہ صاحب؟۔ اور جہاں تک رہی ایسے بدبو دار مصنفوں کی بات تو میں آپکو ایسی ایسی کتابوں کے ریفرنس پیش کرسکتا ہوں جنہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہہ کے خلاف کیا کچھہ غلاضتیں نہیں لکھیں، ایسے بھی مصنف ہیں جنہوں نے اہل بیت کے اوپر کیثڑ اچھالی ہے، تو اگر اسطرح ہر کتاب اور اسکے مصنف پر یقین کرنا ہے تو پھر ان سب کتابوں پر بھی یقین کرنا ہوگا۔ جو جو شوق جاوید صاحب نے شہید لیاقت علی خان صاحب کے گنوائے ہیں اگر یہ ہی سب شوق پورے کرنے تھے تو پھر وہ کھبی بھی پاکستان بنانے والوں میں شامل نہ ہوتے اس کام کے لئیے تو ہندوستان سے بہتر کوئی مقام مل ہی نہیں سکتا تھا انہیں۔ ہحرحال صاف ظاہر ہے کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے لکھا گیا ہے اور اگر تعصب کی یہ ہی حالت رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے اتنے ٹکڑے ہونگے کے لوگ گننے سے بھی قاصر ہونگے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 18:01

      فکرپاکستان صاحب!

      آپکی اطلاع کے لئیے عرض کر دوں۔ کہ موضوع نوابزادہ لیاقت علی خان نہیں۔ نوابزادہ کا ذکر ضمنا ہے۔ آپ چونکہ کراچی میں رہتے ہیں ۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا آپ اپنے فرمودات میں کراچی میں مارے گئے بے گناہوں کے بارے بھی روشنی ڈالتے؟۔ اگر آپ نے صرف لیاقت علی خان پہ بات کرنی تھی تو اس بارے میں بھی کوئی دلیل دیتے۔جیسا کہ محترم! غلام مرتضی علی صاحب!! نے کیا ہے ۔ کہ چلیں ہمارے علم میں بھی اضافہ ہوتا؟ نوابزادہ کے بارے ان حقائق کا ایک معمولی سا حصہ بیان کیا ہے۔ حقائق جو میں نے نہیں دوسروں نے بیان کئیے ہیں۔

       
  11. محمد سعید پالن پوری

    جولائی 20, 2011 at 15:17

    کیا ہی اچھا ہو کہ مصنف نے جو حوالے دئیے ان کا جواب دیا جائے اور ان کو توڑا جائے۔ بجائے مصنف کی ذات پہ کیچڑ اچھالنے کے۔ دلائل کی روشنی میں اگر بات کی جائے گی تو مجھے نہیں لگتا کہ مصنف کو خواہ مخواہ اپنی بات پہ قائم رہنے کا شوق ہوگا۔ اس طرح چپ کرنے کے بجائے میرے خیال سے معروضی دلائل پیش کرنے چاہئیے۔ اگرچہ اس کیلئے محنت کرنی پڑے گی لیکن مصنف کو اس کے بعد ہی علی وجہ البصیرت قائل کیا جاسکے گا

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 18:38

      محترم! محمد سعید!! پالن پوری ۔ صاحب۔

      بھائی صاحب! آپکی بات نہائت مناسب اور بر وقت ہے۔ باہمی تبادلہ خیال سے کسی مسئلے کے وہ پہلو بھی سامنے آجاتے ہین جو کسی وجہ سے پوشیدہ ہوں۔

       
  12. Abdullah

    جولائی 20, 2011 at 15:23

    فکر پاکستان یہ آدمی جن کے پے رول پر ہے ان کا ایجینڈہ ہی یہ ہے کہ نفرتیں پھیلاؤ اور حکومت کرو اور پاکستان رہے تو ہمارے قبضے میں رہے ورنہ تباہ ہوجائے،
    یہ سارے سوالات میں بھی اس شخص سے بہت پہلے کر چکا ہوں اور ان کے جواب میں اسے سانپ سونگھ جاتا ہے!!!

     
  13. Abdullah

    جولائی 20, 2011 at 15:34

    فکر پاکستان یہ آدمی جن کے پے رول پر ہے ان کا ایجینڈہ ہی یہ ہے کہ نفرتیں پھیلاؤ اور حکومت کرو اور پاکستان رہے تو ہمارے قبضے میں رہے ورنہ تباہ ہوجائے،
    یہ سارے سوالات میں بھی اس شخص سے بہت پہلے کر چکا ہوں اور ان کے جواب میں اسے سانپ سونگھ جاتا ہے!!!

    باقی محبان وطن کی حب الوطنی اور اسلام پسندوں کا اسلام بھی صاف صاف دکھائی دے رہاہے،
    پتہ نہیں کب تک یہ اپنے زہریلے تعصب کو ان پردوں میں چھپانےکی کوشش کرتے رہیں گے،ھالانکہ وہ رہ رہ کر ان ہی کے ہاتھوں اظہر من الشمس ہوتا رہتا ہے!!!

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 19:21

      محترم! عبداللہ صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      آپکے دونوں تبصرے ایک جیسے ہیں۔ بلکہ دوسرے تبصرے کا کچھ حصہ پہلے تبصرے کا پورا مضمون ہے۔ اور میں نے اسپیم سے برآمد کر کے دونوں تبصرے تحریر کے بارے چسپاں کر دئیے ہیں۔ حالانکہ پہلا تبصرہ حذف کر دئیے جانے سے آپکی بات پوری تھی اور اسکی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ اور نہ صرف دونوں آپکے دونوں تبصرے یہاں لگا دیے ہیں۔ بلکہ ان پہ اتنے دن اپنی رائے نہیں دی۔ کہ آپ کو یہ گلہ نہ پیدا ہو۔ کہ شاید ہم آزادی اظہار رائے پہ یقین نہیں رکھتے۔ یوں آپ کو تعصب اور زہریلے تعصب کی بے فائدہ گردان نہ کرنی پڑے۔ اس وضاحت کے بعد۔ ۔ ۔ ۔

      صرف اتنی سی گزارش کرنا چاہوں گا ۔ کہ فضول قسم کی الزام تراشی اور سوقیانہ زبان سے پرہیز کیا کریں۔ کہ اس سے آپ کا اصل مدعا گُم ہوجاتا ہے۔ اور آپکا پیغام قاری کو متاثر نہیں کر پاتا۔ نیز آپکو ایک زبردست غلط فہمی ہے۔ کہ آپ نے لایعنی باتیں تو بہت سی کی ہیں جیسے ان دونوں تبصروں میں۔ مگر کسی موضوع سے متعلق سوال کرنا اور جواب پہ غور کرنا ۔ اور دلیل سے قائل کرنا یا قائل ہونا ۔ یہ جھجھنٹ آپ نے کبھی نہیں پالا۔ اور نہ ہی آپکے سوال "توپ” ہونگے کہ جواب دینے والوں کو سانپ سونگھ جائے؟۔معقول بات کی جئیے انشاءاللہ معقول جواب ملے گا۔ ورنہ آپکا تبصرہ ایڈٹ کر دیا جائے گا۔ اور طرز تکلم مناسب نہ ہونے پہ حذف کر دیا جائے گا۔

      ویسے بائی داوے۔ آپ الریاض سے اتنی دور لق دق بیابانوں میں کیا کرتے ہیں؟

       
  14. عمران اقبال

    جولائی 20, 2011 at 18:30

    جو حقیقت جاوید گوندل صاحب نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے نام نہاد رہنماوں کے لیے لکھی ہے۔۔۔ وہ سو فیصد سچ ہے۔۔۔ لیکن درمیان میں لیاقت علی خان کو رگڑا دینا، کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جولائی 23, 2011 at 19:44

      عمران بھائی! نوابزادہ کو رگڑا لگانا مقصود نہیں تھا۔ بس انھیں کیھنچ تان کر سارے موضوع پہ حاوی کردیا گیا ہے اور جوآب آں غزل کا سلسہ کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ 🙂

       
  15. khalidhameed

    جولائی 21, 2011 at 07:27

    سعید صاحب نے سہی کہا۔
    اگر مدلل گفتگو کی جائے تو سب کو فائدہ ہوگا۔

     
  16. احمر

    اگست 12, 2011 at 09:38

    جو اصحاب لیاقت علی خان اور قاید اعظم کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ، شاید اس کالم سے انہیں کو مدد مل سکے
    http://jang.com.pk/jang/aug2011-daily/12-08-2011/col2.htm

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      اگست 13, 2011 at 07:27

      محترم! احمر!! صاحب!!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      چونکہ آپ نے بھی وہی لنک بیجھا ہے جو اس سے پہلے محترم بھائی ۔ جناب غلام مرتضٰی علی صاحب بھی مجھے ارسال کر چکے ہیں۔ جن کا جواب بھی میں یہیں کسی پوسٹ میں دے چکا ہوں لہٰذا وہی اپنی رائے آپ کو بھی بیجھ رہا ہوں جو انھیں لکھ بیجھی تھی۔

      باوجود اس کے کہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا یہ کالم میں میں اس سے قبل اس روزنامے میں پڑھ چکا ہوں پھر بھی میں آپ کی توجہ اور محبت کا ممنون ہوں کہ آپ نے احقر کو یاد رکھتے ہوئے اس کالم کو ارسال کرنے کی زحمت کی۔۔

      ڈاکٹر صفدر محمود کی ہم بہت عزت کرتے ہیں اور اور انھیں گرانقدر محقق تسلیم کرتے ہیں۔ مگر آپ نے غالبا ایک بات پہ دھیان نہیں دیا جیسا کہ وہ خود اپنے کالم میں ان الفاظ میں”۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم سے زیارت میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ملاقات پر خاصے شکوک و شہبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ ایک سازش تھیوری تشکیل دی جاچکی ہے اس لئے مجھے اس موضوع میں خاصی دلچسپی تھی۔ کسی بحث میں الجھے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "یعنی محترم ڈاکٹر صفدر محمود جنہوں نے پاکستان اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ پہ بہت تحقیق کر رکھی ہے ۔ وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ”۔ ۔ ۔ ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ملاقات پر خاصے شکوک و شہبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں” اور آخر کوئی تو وجہ رہی ہوگی جو انہوں نے شکوک شہبات کی بات کی ہے اور چاہتے ہوئے بھی اپنی بات کو کُلیتا درست قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا بھی وہی مسئلہ ہے جو آپ کا اور میرا ہے ۔ کہ ہمیں قیام پاکستان کے بارے میں پڑھاتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان کی ناگہانی موت کو کچھ اسطرح شہادت کے تقدس میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے ذہن میں بنے بنائے وہ خول توڑتے ہوئے مسئلہ ہے اور ہم چاہتے کہ اللہ کرے وہی بات درست ہو جو ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں۔قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے اس اے ڈی سی بریگیڈئر نور حسین مرحوم کے بیان میں کئی جھول ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ ان پہ ڈاکٹر صفدر محمود کی نظر کیوں نہیں گئی۔قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے اے ڈی سی بریگیڈئر نور حسین مرحوم کے بیان پہ بات کرنے سے پہلے ہم شاہد رشید کی کتاب مادر ملت سے چند ایک اقتباس ملاحظہ فرمالیں اور اس پہ بات کر لیتے ہیں۔
      “بنیادی زیادتی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ان لوگوں نے کی جو قائد اعظم کی زندگی میں نافرمان ہو گئے تھے۔ اس ٹولے نے نہ صرف قائد اعظم کو موت کے منہ میں دھکیلابلکہ مادر ملت کے سلسلے میں بھی غفلت برتی۔ اس عوام دشمن ٹولے نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا جو مقام بنتا تھا وہ جان بوجھ کر انھیں نہ دیا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم کے آخری الفاظ جو انھوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے کہے تھے وہ یہ تھے ” فاطی۔۔۔مجھے دلچسپی نہیں رہی کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں زندہ رہوں ۔ ۔ ۔ ۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے میں رخصت ہو جاؤں ۔۔۔؟”شاہد رشید مزید لکھتے ہیں۔“یہ الفاظ صاف طور پر ان کے رنجیدہ، دل برداشتہ اور دکھی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جب ان کی ہمت بندہانے کے لیے کہا:” آپ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر پُر امید ہیں۔”تو قائد نے جواب دیا۔” نہیں اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا”

      شاہد رشید مزید لکھتے ہیں ان الفاظ سے صاف طور پر قائد کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔ یہ مایوسی سے لبریز الفاظ سن کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن مادر ملت کے صبرو ضبط کی داد دینی چایہے کہ انھوں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی تا دم واپسیں حرف شکایت لب پر نہیں آنے دیا۔ محض اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جبکہ کوئی سیاسی لیڈر طبعی موت بھی مر جائے تو اس کے ورثاء چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ مادر ملت نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا پر اف تک نہ کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” یہاں فاضل مصنف کا یہ جملہ “محض
      اس لئیے کہ اس طرح ملت میں خلفشار پیدا ہوگا۔ اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔” سے مراد کیا ہے آخر وہ کونسا راز ہے اور اپنوں کا وہ کونسا ٹولہ تھا جو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہی نافرمان ہو گیا تھا اور انہوں نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو موت کے منہ میں دھکیلا۔؟جولائی کے آخر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی پیشگی اطلاع دینے کا تکلف کیے بغیر زیارت پہنچ گئے تو قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش سے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ صحت کی بابت دریافت کیا تو ڈاکٹر کے ذہن میں تھا کہ انھیں مادر ملت نے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے علاج لیے مقرر کیا ہے اور تفضیلات بتانے سے گریز کیا جس پہ لیاقت علی خان نے ” وزیر اعظم کی حیثیت سے میں ان کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہوں ” اس پر ڈاکٹرا الہٰی بخش نے نے نرمی سے جواب دیا ٹھیک ہے ۔ مگر میں مریض کی اجازت کے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتا۔”بعد میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے داکٹر الہٰی بخش سے تفضیل جانی اور لیاقت علی خان کو کو اپنی صحت کے بارے میں نہ بتانے پہ اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ مادر ملت نے بیان کیا ہے ۔قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ لیاقت علی خان کو اپنے مرض کی بابت کیوں نہیں بتانا چاہ رہے؟؟ تھے اور انہوں نے اپنے معالجوں کو بھی اس کا پابند کیوں کیا تھا ۔۔؟؟؟؟

      شاہد رشید کی لکھی کتاب ۔مادر ملت، محسنہ ملت ۔میں محترمہ فاطمہ جناح فرماتی ہیں۔”لیکن اس دن جیسا کہ پہلے سے ہدایت کر دی گئی تھی ہوائی اڈے پہ کوئی نہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایمبولنس انہیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی۔ میں اور سسٹر ڈنہم ان(قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ) کے ساتھ ایمبولنس میں بیٹھے تھے۔ ایمبولنس بہت سست روی سے چل ری تھی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولنس نے اس طرح ہچکیاں لیں جیسے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آرہی ہو ۔ اور پھر وہ اچانک رک گئی۔ کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولنس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولنس کا پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ اگر چہ ڈرائیور نے ایمبولنس کے انجن سے الجھنا شروع کر دیا تھا لیکن ایمبولنس کو اسٹارٹ ہونا تھا نہ ہوئی۔ میں پھر ایمبولنس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دیا اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انھوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ عموما کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہےاور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے۔ لیکن اس دن ہوا بالکل بند تھی۔ اور گرمی ناقابل برداشت۔ ۔ ۔قائد کی بے آرامی کا سبب یہ تھا کہ بے شمار مکھیاں ان کے چہرے پہ بھنبھنا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت بھی نہ رہی تھی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے اسے اٹھا سکتے ۔سسٹر ڈنہم اور میں باری باری ان کے چہرے پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہے تھے ہم منتظر تھے کہ شاید کوئی ایمبولنس آجائے ہر لمحہ کرب واذیت کا لامتناہی لمحہ تھا۔۔۔۔ امیدو بہم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے۔قریب ھی مہاجرین ۔۔۔۔ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھے مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا وہ قائد جس نے انھیں ایک وطن لے کر دیا ہے۔ ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی پرانی ایمبولنس میں بےیارو مددگار پڑا ہے جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے۔کاریں ہارن بجاتیں قریب سے گزر رہیں تھیں۔ بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کے طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایسی ایمبولنس میں بے حس و
      حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی اور اس ایمبولنس مین ایک انتہائی قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہو رہی تھی۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔کتنی عجیب بات تھی کہ دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماڑی پور سے گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے میں لگے۔”
      کتاب کا نام: مادر ملت، محسنہ ملت

      مندرجہ بالا گواہی ڈاکٹر صفدر محمود کی برگیڈئر نور حسین کی بستر علالت پہ دئیے گئے ایک بیان سے نہائت اہم ہے۔ اول تو اس میں سارا احوال کوئی اور نہیں محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ اپنے بھائی قائد اعظم رحمتہ علیہ کے بارے بیان فرما رہیں ہیں ۔ جن کے ساتھ وہ عرصے دراز سے ساتھ ساتھ رہتی آئیں تھیں اور تحریک پاکستان کے دوران یعنی پاکستان بننے سے بھی پہلے سے وہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کی ہر ضروریات زندگی کا وہ خاص خیال رکھتیں آئیں ۔ جس کے لئیے بجا طور پہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ اور وہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے آخری ایام میں آخری وقت تک قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ رہیں۔ اور دوئم مندرجہ بالا گواہی برسوں پہلے دی گئی اور اس کا رد ڈاکٹر محمود صاحب یا کوئی دوسرا محقق نہیں لکھ سکا تو برطانوی فوج سے بارہ چودہ ماہ قبل پاکستان کے حصے میں آنے والے ایک فوجی افسر جو قائد اعظم رحمتہ علیہ کو پاکستان بننے کے بعد بطور اے ڈی سی ملے اور (بریگیڈئر نورحسین کتنے ماہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہے اس بارے میرے پاس حتمی مدت کا علم نہیں ہے ) مگر انکے علاوہ ایک اور اے ڈی سی بھی تھے جن کے بارے ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی لکھا ہے ۔ اور یہ عرصہ پاکستان کے بننے کے بعد قائد اعظم رحمتہ علیہ کی مختصر سی زندگی پہ تقسیم کیا جائے تو کچھ ماہ ہی بنتے ہیں اور خیال کیا جاسکتا ہے کہ کچھ ماہ ہی برگیڈئیر نور حسین قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہے۔ اور اتنے کم وقت قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی رہنے والے ایک نئے نئے پاکستانی فوجی افسر کہلوانے والے اے ڈی سی کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ کا بیان اور معلومات اور قائد کے نزدیک ہونا ہر لحاظ سے زیادہ معتبر وجود رکھتا ہے۔اوپر قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ذاتی معالج کے بیان سے بھی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ نے نہیں چاہتے تھے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کو انکی بیماری بلکہ لاچاری کا پتہ چلے۔ اسلئیے انہوں نے دوپہر کے کھانے کا مینو خود طے کیا ہوگا۔ کہ پتہ چلے کہ میزبان قائد اعظم رحمتہ علیہ ابھی مرض الموت کی اس اسٹیج پہ نہیں پہنچے جہاں وہ کھانے پینے سے یا مہمان کے لئیے اچھے بندوبست کے بارے میں بھول جائیں یا دلچسپی نہ لیں۔ اسی لئیے انہوں نے بہ قوت بازو ہلا کر نوابزادہ کو جواب دیا ۔ تانکہ نوابزادہ مرحوم قائد اعظم رحمتہ علیہ کو بلکل بے بس اور لاچار نہ سمجھ بیٹھیں۔ مگر نوابزادہ لیاقت علی خان تاڑ گئے کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ چراغ سحری ہیں۔ اب بجھے کہ تب بجھے۔اسی لئیے قائد اعظم رحمتہ علیہ سےون ٹو ون ملاقات کرکے نیچے آئے توانہوں نے آتے ہی سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان چودھری محمد علی سے کہا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو فون کرکے کراچی میں موجود رہیں تانکہ خواجہ ناظم الدین کو کارِ حکومت کے لئیے جبکہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کو قائد اعظم رحمتہ علیہ کی نماز جنازہ پڑھوانے کے لئیے ۔ جسے فوجی اے ڈی سی کے محض بیان سے جبکہ وہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس ملاقات میں وہ موجود نہیں تھے ۔ یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ یہ ہدایات قائد اعظم رحمتہ علیہ نے دی ہونگی ۔یہ نتیجہ در ست نہیں۔ کیونکہ قائد اعظم رحمتہ علیہ نے تویہاں تک نہیں چاہا تھا کہ وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو یہ پتہ چلے کہ مرض الموت کس حد تک ان پہ غالب ہوچکا ہے۔ اور اس لئیے لیاقت علی خان نے نیچے آکر اپنے طریقے سے قائد اعظم رحمتہ علیہ کےذاتی معالج سے یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ چراغ ِ حیات نو قوم کے بجھنے میں کتنا وقت جاتا ہے۔ تانکہ کار ریاست کی زمام اپنے ہاتھ میں لی جاسکے۔ اور قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ذاتی معالج کے انکار پہ نوابزادہ لیاقت علی خان نےاپنے عہدے یعنی وزیر اعظم پاکستان ہونے کا حوالہ دیا۔ کتنا دم خم تھا نئے نئے بنے وزیر اعظم پاکستان کو اپنے عہدے کا۔ اور ممکنہ طور پہ انکے اے ڈی سی نے اس گفتگو کو اپنے فوجی دماغ سے یہ جانا کہ وزیر اعظم پاکستان قائد اعظم رحمتہ علیہ کی صحت کے بارے فکر مند ہیں۔ جبکہ یہاں ڈاکٹر صفدر محمود کی یہ بات بھی اضافی ہے کہ ” انہی دنوں پاکستان کے امریکہ میں سفیر اصفہانی صاحب بھی قائد اعظم کی مزاج پرسی کے لئے آئے تھے اورانہوں نے بھی امریکہ سے ماہر ڈاکٹر بھجوانے کی بات کی تھی لیکن قائد اعظم کا کہنا تھا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ ایسے اخراجات کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اس دردمندی اور سوچ کا ذرا آج کے حکمرانوں سے موازنہ کریں تو آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔” جبکہ یہ انہی دنوں نہیں بلکہ بہت دنوں پہلے کی بات ہے اور تب لیاقت علی خان وغیرہ زیارت میں نہیں تھے ۔ بہر حال جو کچھ بھی ہوا ہو اس بات کا لیاقت علی خان کی قائد اعظم رحمتہ علیہ کی زندگی کے بارے دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی کی یہ بات بھی درست نہیں کہ نوابزادہ لیاقت علی خان وغیرہ باقاعدہ اطلاع اور اجازت سے زیارت پہنچے تھے جبکہ محترمہ فاطمہ جناح مرحومہ کے مطابق وہ بغیر پیشگی اطلاع کا تکلف کئیے بغیر پہنچے تھے۔ اس بارے مجھے پکا یقین نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ میں کہیں پڑھ چکا ہوں کہ کراچی میں تب دو سے زائد ایمبولینسز تھی۔

      قائد اعظم رحمتہ علیہ کے اے ڈی سی کی یہ معلومات بھی درست نہیں دکھائی دیتیں اور ڈاکٹر صفدر محمود کے یہ الفاظ بھی اس حقیقت کا پاس نہیں کرتے کہ ایمبولنس خراب ہوگئی ۔ وہ خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ اسمیں پٹرول ہی نہیں دلوایا گیا تھا۔ اور یہ بات بھی درست نہیں کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ کے ساتھ کوئی کارواں یا کاروں کا کوئی جلوس تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی گاڑی کا پٹرول ایمبولینس میں ڈالا جاسکتا تھا۔ یا قائد اعظم رحمتہ علیہ کو کسی دوسری گاڑی میں جیسے تیسے اس گرمی اور مکھیوں کے ماحول سے نکالا جاسکتا تھا۔ اس بات سے ائر مارشل اسغر خان کے اس بیان سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وہ اپنی کار سے اس دوران وہاں سے گزرے تھے اور اے کاش انھیں پتہ ہوتا کہ اس ایمبولنس میں قائد اعظم رحمتہ علیہ تھے تو ادہر ہی رک کر انھیں وہاں سے نکال لیتے۔ اور جیسا کہ اوپر حوالہ دیا گیا ہے کہ قائد اعظم رحمتہ علیہ ایمبولنس میں ایک نرس سسٹر ڈنہم اور خود فاطمہ جناح مرحومہ تھیں ۔ تو انکے اے ڈی سی برگیڈئر نور حسین جو بقول ڈاکٹر صفدر محمود کے اس سارے معامے کے چشم دید ہیں تو وہ اس وقت کہاں تھے؟ اور انہوں نے کوئی گاڑی رکوا کر پٹرول کا بندوبست کیوں نہ کیا؟

      جو لوگ فوج میں یا مختلف ممالک کی فوج کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ فوج میں اے ڈی سی یعنی Aide de camp کا کردار کسی شخصیت کے بارے میں کتنا ہوتا ہے۔ ایک اے ڈی سی کا عہدہ پرسنل اسسٹنٹ یا سیکٹرری کی طرح ہوتا ہے۔پاکستان میں عموما جرنیلوں ۔ صدر ۔وزیراعظم۔وزرائے اعٰلی اور صوبائی گورنرز وغیرہ کو اے ڈی سی مہیاء کئیے جاتے ہیں۔ جو عام طور پہ آرمی سے ہو تو کیپٹن۔ نیوی سے ہو تو لیفٹینٹ ۔ ایر فورس سے ہو تو فلائٹ لیفٹینٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کچھ خاص اے ڈی سی بھی ہوئے ہیں ۔ اور اس بارے کچھ اشتنٰی بھی شامل ہیں۔ مثلا جب جسٹس خان حبیب اللہ خان مغربی پاکستان کے وزیر اعلٰی تھے تو انکے اے ڈی سی انکے اپنے بیٹے سنئیر بیورکریٹ کپٹن ریٹائرڈ اختر منیر مروت تھے۔ جبکہ اسی طرح پاکستان کے ایک سابق صدر جرنل ایوب خان کے اے ڈی سی انکے اپنے بیٹے کپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب خان تھے۔ سابق جرنل مشرف کے اےڈی سی حال ہی میں خودکشی کرنے والے میجر تنویر احمد تھے۔ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ کچھ لوگوں نے اس بات پہ بہت زور دے رکھا ہے کہ اگر نوابزادہ لیاقت علی خان کو قائد اعظم رحمتہ علیہ کے پائے کا یا ان سے کچھ کم درجے کا مگر قائد رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ایک مستقل مزاج اور اور ہر لالچ سے پاک رہنماء ثابت نہ کیا جاسکا تو خدا نخواستہ نظریہ پاکستان یا پاکستان کے وجود پہ کوئی آنچ آسکتی ہے۔ اس بارے گزارش ہے کہ پاکستان ایک حقیقت اور انشاءاللہ رہتی دنیا تک ایک حقیقت کے طور پہ قائم رہے گا۔ خواہ ماضی کے کسی بھی دور کی کسی بھی شخصیت کے بارے میں کیسا ہی انوکھا یا اچنھپے کا انکشاف ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اسلئیے پاکستان کی تاریخ کے جو ناگوار پہلو ہیں ان پہ بات ہونی چاہئیے ۔ بحث ہونی چاہئیے تانکہ ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں وہی غلطیاں نہ دہرائیں۔

       
      • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

        اگست 15, 2011 at 18:01

        محترم! احمر صاحب۔

        ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حب الوطنی اور پاکستان کے لئیے خدمات اور ان خدمات کے بدلے دی قربانیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایک روز نامے میں انکے آج کے ایک آرٹیکل ۔۔”تم جس پہ نظر ڈالو۔ اس ملک کا خدا حافظ“… سحر ہونے تک از ڈاکٹر عبدالقدیرخان” میں لیاقت علی خان کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں۔
        "پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے بارے میں اَمریکہ کا جو رویّہ رہا ہے اس کو دیکھ کر پاکستان کی پرانی تاریخ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً ہی بعد لیاقت علی خان امریکہ گئے اور وہاں کی شان و شوکت دیکھ کر ایسے مرعوب ہوئے کہ آتے وقت ہماری حمیّت وہیں چھوڑ آئے۔ میں چار پانچ سال بعد کالج کا طالب علم تھا اور میں اور میرے عزیز بھو پالی دوست اقبال خان کالج کے بعد شہر میں گھوما پھرا کرتے تھے اس وقت کراچی بہت ہی صاف ستھرا شہر تھا، امن و امان تھا ، آبادی بہت کم تھی اور اشیائے خور و نوش بے حدسستی تھیں۔ لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کے بعد ہمیں بندر روڈ پر گاندھی گارڈن روڈ پر واقع بڑی عمارت کے اندر آتے جاتے لاتعداد امریکن فوجی نظر آنے لگے، کراچی اس وقت دارالحکومت تھا۔ امریکی بحری جہاز خیر سگالی دوروں پر آنے لگے۔ شہر میں ان کے ملاح گھومنے لگے اور ساتھ اعلیٰ عہدیداروں کا تانتا لگ گیا، بہت سمجھداری اور سازش سے زمین تیار کی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”

        یعنی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیاہے کہ امریکہ کے سامنے بندہِ بے دام کی طرح گھٹنے ٹیک دینے والے نوابزادہ لیاقت علی خان تھے۔ اور پھر گھٹنے ٹیکنے سے شروع ہوکر بات امریکہ کے سامنے سجدے تک پہنچی پے اور بدستور سجدے والی حالت ہے۔ یہ وہ ایک بڑی وجہ ہے جس وجہ سے پاکستان سے ہمدردی اور محبت رکھنے والے لوگ نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کی، امریکہ سے بندہ بے دام غلامی اور امریکہ کو پاکستان کے حساس معاملات میں دخل اندازی کئے جانے کی اجازت کی لمبی فہرست کے موجد اور بانی لیاقت علی خان کو گردانتے ہیں۔

         

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: