RSS

حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

18 جون

حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پہ کشمیر بے شک ایک متنازعہ خطہ ہے جسکا الحاق بھارت یا پاکستان سے ہونےکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔اسلئیے ہر دو ریاستیں بھارت اور پاکستان اپنے نقشے میں ہر فورم اور ہر جگہ کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل رکھتی ہیں ۔ مگر اس بلاگرز سمٹ میں پاکستان کے نقشے میں کشمیر کا نقشہ جان بوجھ کر نہیں دکھایا گیا ۔ جو بھارتی موقف سے زیادہ نزدیک اور پاکستانی موقف کے خلاف ہے ۔ پاکستان میں اور پاکستانی کریم یعنی پاکستانی بلاگرز کی موجودگی میں یوں ہوا ہے۔جس پہ ہمارے علم کے مطابق ماسوائے ایک بلاگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ کسی بلاگر کی طرف سے اس بارے کچھ کہا گیا ہو۔ اور پاکستانی میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہوا ہے مجال ہے میڈیا کی طرف سے کوئی احتجاج یا بیان جاری ہوا ہو؟

پاکستان میں سال میں بلا مبالغہ ہزاروں قتل ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ مارنے والے کون تھے؟۔ مرنے والا کون تھا؟ ۔ پھر موضوع سے براہ راست متعلق نہ ہونے کے باوجود سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کیوں؟ محض اسلئیے کہ ۔۔ ۔ تیرے خواب میری خواہشیں ہے کہ۔۔ تیرے نام سے جڑا ہے نام میرا۔۔ کے مصداق اس ناحق قتل جسکی پاکستان کے ہر زی ہوش انسان نے مذمت کی ہے۔ اس ناحق قتل کے محض گھنٹوں بعد اس ناحق قتل میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا۔

امریکی قونصلر نے پاکستان میں قونصل خانے سے باہر پاکستان کے ایک ہوٹل میں جس میں غیر ملکی بھی موجود تھے ۔ سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کرتے ہوئے۔ سلیم شہزاد کے قتل کی وجہ حق لکھنے کی سزا بیان کرتے ہوئے جہاں کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں بر سرعام مداخلت کرتے ہوئے سفارتی آداب کو پامال کیا ہے۔ وہیں سلیم شہزاد کے قتل کو حق لکھنے کی سزا بیان فرما یا ہے ۔ سزا؟ کیوں؟کس نے دی؟؟ پہلے ہیولوں کو وجود دیا گیا پھر ہر طرف ہاہا کار مچائی گئی کسی اندیدہ قوت کے اشارے پہ اس ناحق قتل پہ پاکستانی خفیہ ایجنسی اور بہت سوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتی پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑتی، پاکستان کے خلاف سازشوں کا توڑ کرتی، عالمی معیار کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی جس کا تعلق پاکستانی افواج سے جا بنتا ہے اس پہ سلیم شہزاد کے قتل کا ملبہ ڈالا گیا۔

پاکستان کی اٹوٹ بٹوٹ این جی اوز مخصوص مقاصد رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی میڈیا کے ذریعئے ۔ اس قتل کے فورا بعد اگلے دن ہی پاکستان کے خلاف یو این و یعنی اقوام متحدہ سے پاکستان کے خلاف ریزولیشن لانے اور اس پہ پابندیان لگانے کی فرمائیش کی گئی اور کچھ نہیں تو پاکستان کو عالمی کریمنل کورٹ میں گھسیٹا جائے۔ ان دیدہ قوتیں جنکا اپنا ریکارڈ انسانی حقوق کے حوالے سے شرمناک حد تک خراب ہے ۔ انہیں سلیم شہزاد کے قتل یا اسکے ناحق قتل سے لین دین نہیں۔ مگر "بچُو اب بتاؤ ۔ زیادہ اکڑ دکھاؤ گے تو ہم یہ بھی کرنا جانتے ہیں۔” یہ پیغام تھا پاکستان کو جو اپنی سالمیت کے خلاف پے در پے واقعات کی وجہ سے بھنایا ہوا ہے۔ اور اگر اندیکھی قوتیں ہمارے حکمرانوں کو مزید لولی پاپ دینے میں ناکام رہیں تو بہت ممکن ہے پاکستان انکے اثر رسوخ سے نکل جائے۔ اور کئی دہائیوں سے کھوئی وہئ آزادی پا لے جو ویسے بھی دو تین سالوں تک افغانستانیوں کی مستقل مزاجی اور حریت کی وجہ سےخطے سے ان طاقتوں کے عزائم ختم ہونے کے بعد پاکستان کے بکاؤ مال کوچوسی ہوئی ہڈی کی طرح نکال باہر پھینک دیا جائے گا۔ مگر یہ طاقتیں تب تک پاکستان پہ اپنا مکمل رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

چند ایک مخصوص ذرائع ابلاغ کے مخصوص عالمی ادارے اور اردو ایڈیشن کے حامل غیر ملکی ابلاغی ادارے نے اس پہ حسب عادت خوب خوب روشنی فرمائی۔ ہم فوج کی ترجمانی نہیں کر رہے اور نہ ہی افواج پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی دکھا رہے ہیں ۔مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان نے بھی اس کیس کی عدالتی کمیشن بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ تانکہ ائی ایس آئی پہ لگا ئے گئے الزام کی حقیقت سامنے آسکےاور دودھ کا دود پانی کا پانی ہوسکے جبکہ پاکستانی حکومت اس بارے لعیت و لعل سے کام لیتی رہی ہے جس سےکنفیوژن برابر قائم رہے گا ۔ تو کیا ہر اسطرح کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی اٹھا دینا کیا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟ اور قابل شرم بات یہ ہے کہ اسمیں مشکوک ماضی رکھنے والے پاکستانی میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ کیا یہ اس ایڈ کا شاخسانہ ہے جو ایسے صحافیوں کو امریکہ اپنی پالیسز کے بارے نرم رائے رکھنے ۔ نرم رائے بنانے کے لئیے دے رہا ہے۔

ذرا تصور کریں ۔ نیو یارک میں پاکستانی سفیر یا کوئی پاکستانی قونصلر امریکی زرائع ابلاغ یا امریکہ کے کسی طور نمائندہ لوگوں کو مدعو کرے۔ انکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ابو غریب جیل میں بے گناہ مظلوم لوگوں پہ ڈھائے گئے حیوانی مظالم کے باوجود بھی انکی زندگی میں دلچسپی کو دنیا کی گنی چنی کامیاب کاوشوں میں قرار دے۔ جو بے شک ایک جائز بات کہی جاسکتی ہے ۔ مگر اسی وقت مدعوعین پاکستانی سفارتکار کو آڑے ہاتھوں لیتے کہ پاکستانی سفارتکار کو وہاں سے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ۔اور اگر سفارتکار میں اڑنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہوتی توکم از کم امریکن مدعوین دعوت پہ دو لفظ بیجھتے ہوئے واک آؤٹ کر جاتے اور اگلے دن اس سے اگلے دن اور آنے والے ہفتوں میں پاکستانی سفارتکار کو سفارتی آداب سکھانے کے لئیے میڈیا پہ اور میڈیا سے باہروہ طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا کہ اس سفارتکار کو امریکہ چھوڑتے ہی بنتی۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر امریکہ بدر کر دیا جاتا۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ اکثریت بڑی مشکل سے اپنا گزارہ کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے سات کروڑ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہنے پہ مجبور ہیں ۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے کا مطلب کہ غریب وہ ہوتا ہے جسے دوقت کا کھانا مل جاتا ہے۔ جس کے پاس غریب ہی سہی مگر مستقبل کی ایک منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ مگر غریبی کی لکیر سے نیچے چلے جانے کا مطلب روٹی روزی دوائی دارو جیسی سخت ناگزیر ضرورتوں کے لئیے بھی بے یقینی ہونا ہے کہ اگر ایک وقت کا کھا مل گیا ہے تو اگلے وقت کے کھانےکاجتن کیسے ہوگا۔ بچے بیمار ہے تو دوائی کے لئیے دوسرے بچوں کی روٹی کے لئیے رقم نہیں ۔

ایسے ملک میں کمپیوٹر ، انٹر نیٹ کنیکشن اور کچھ کہنے کی خواہش رکھنے والے ، لکھنے والے ، بلاگنگ جیسی سوجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی فہم و ادراک رکھنے اور اسے الفاظ کا جامہ پہنانے اور اور دوسروں سے شئیر کرنے میں۔ وسائل میں، اور سب سے اہم وجہ رسوخ رکھنے میں۔ دیگر عام پاکستانیوں سے بدرجہا بہتر اور انتہائی آگے ہیں۔ اسلئیے انھیں زیر بار کرنے ا ور انہیں مخصوص نتائج کے حوالے سے ۔ نئی جہتیں فراہم کرنے اور کم از کم پاکستان سے سوقیانہ رویہ رکھنے والی طاقتوں کا خیرخواہ بناے کی اس مشق میں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ کسی پاکستانی بلاگر کو عزت مآب قونصلر سے اس بارے بات کرنے سوال کرنے۔ یا اپنی باری آنے پہ یہ پوچھنے کی توفیق نہ ہوئی کہ مائی باپ آپ پاکستان کے ایک ایسے قضئیے کو موضوع سے متعلق نہ ہونے کے باوجود جوڑ رہے ہیں جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس ناحق قتل کے محرکات کیا تھے۔ اور کن لوگوں نے یہ مذموم قدم اٹھایا اور ہر صورت میں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ۔ کیا ہوا ہماری حکومت کسی وجہ سے آپ کے سامنے نہیں سر اٹھاتی مگر ہم آزاد بلاگرز پاکستان کے آزاد شہری آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ حق کس نے بخشا ہے کہ آپ ہمیں آزاد بلاگری کا سبق پڑھاتے ہوئے ۔ ہمارے ملک میں ہمارے سامنے پاکستان کے اندرونی متنازعہ معاملات پہ بیان بازی کر رہے ہیں۔نیز آپ کشمیر کے نقشے کے بغیر پاکستان میں پاکستانی نقشے کی کانٹ چھانٹ کس استحقاق کی بنیاد پہ کی ہے؟ کیوں جب سے آپ کے اقتدار کا سایہ پاکستان پہ پڑا ہے تب سے پاکستان نامی پودا شاد باغ ہونا بھول چکا ہے۔ فرض کر لیں ہمارے عزت مآب بلاگرز کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی یا رزق کو حلال کرنے کی عادت کے ہاتھوں فوری طور پہ کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تو کیا بعد میں اپنے بلاگز پہ اس ساری مشق اور شو کے بارے لکھتے ہوئے بھی رزق کا حلال کرنا ہاتھ باندھ رہا تھا؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں کچھ کہنے کا حق صرف حاتم کو ہی ہوتا ہے۔

امریکی قونصلر کی وہ لاکھوں بلکہ ملینز بلاگز یا پاکستانی بلاگرز کبھی ہم بھی ڈھوند نکالیں گے۔ اگر کبھی موقع ملا تو۔ یوں تو نہیں کہ عزت مآب قونصلر کی خواہش کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔۔۔۔ کہ ملیئنز کے حساب آزاد خیال ۔۔روشن خیال ۔۔ پاکستانی بلاگز ہوں اور بلاگرز وہ کچھ کر دکھائیں جو کھمبیوں کی طرح پاکستان میں ہر طرف اُگی غیر ملکی سرمایہ سمیٹتی لاڈلی اور "گواہی” دیتیں ۔پاکستان کے اندر، پاکستان کے خلاف مہاراج "تھانیدار”کے سفید پوش کا کرادر ادا کرتیں قسما قسم کی این جی اوز باوجود مہاراج کی سخت مشق کے پاکستان کے خلاف مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکیں؟۔ بہر حال خیال اچھا ہے ۔ ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑے کر دئیے گئے اور اتنے زیر بار کہ کسی نے یہ تکلیف نہیں کی کہ پوچھ ہی لیں حضور آخر آپ اتنی زحمت جو کر رہے ہیں۔ اس میں آپ کا بھی کوئی منافع ہے اور اگر ہے تو حضور کتنا اور کس سمت سے ہے۔

اکھٹے ہوئے کھایا پیا گپ شپ لگائی اور جن کا کھایا ہو انکی گیت نہ بھی گائے تو ان پہ انگلی اٹھانے سے باز رہیں گے۔ رزق حلال کرنا پاکستانی قوم کا پرانا شیوہ ہے۔ انکے ایک ہزار ایک وہ عمل جن پہ پہلے انگلی اٹھائی جاسکتی تھی اب کون اٹھائے گا؟۔

کیا ہم امید رکھیں کہ پاکستانی بلاگرز آزاد ہونے کا حق ادا کرتے رہے گے یا ہم یہ سمجھ لیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کسی نے سچ کہا تھا کہ۔” حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں دستر خوانی کو حاتم کے قصیدے کہنے پڑتے ہیں”۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , ,

34 responses to “حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

  1. dr Iftikhar Raja

    جون 18, 2011 at 19:17

    پاکستانیوں کی تو مت ہی مری ہوئی ہے جی، ہم اب کیا کہیں، بلاگر تو دور کی بات حکومت تک کچھ نہین کرتی، صرف زرداریون اور گیلانیوں کا کھابا بانا ہوا ہے جس میں اب چمہوریت کے چوہدری اور پھجے متحدہ کے ساتھ باجماعت گلچرے اڑا رہے ہیں

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 17:28

      محترم! ڈاکٹر افتخار راجہ صاحب!!۔

      بلاگ پہ آپکی تشریف آوری پہ آپکو خوش آمدید اور آپکا شکریہ۔

      جس طرح ہر عروج کو ایک زوال ہوتا ہے۔ اور انتہاء کے بعد ابتداء ہوتی ہے۔ اسی طرح ازمنہ وسطٰٰی کی راجواڑیوں کی طرز پہ موجودہ حکمرانوں کا طرز حکومت ایک دن نہیں رہے گا اور ریاست اپنے باشندوں کی زمہ داری نباہے گی۔ مگر اسکے لئیے ضروری ہے کہ سب مل کر اور خاص کر وہ لوگ جو فہم وادراک رکھتے ہیں وہ بلاتفریق تمام پاکستانیوں کے لئیے پر عزم ہوں۔ یہ عزم ہر میدان میں ہو ۔ نظر آئے اور اسکے نتائج سے عامتہ الناس مستفید ہوں۔ تنکہ لوگ جوک دور جوک ترقی و عزت کے اس کارواں میں شامل ہوں۔

      پاکستان میں دنیا کی ذہین ترین۔ شریف ترین، اور محنتی قوم بستی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انکی مناسب رہنمائی کی جائے۔ انہیں ایک سمت عطا کی جائے۔ اور علم کو عام کیا جائے۔ جب یہ آغاز ہوجائے گا اندھیرے چھٹنے لگیں اور باطل بھاگ جائے گا۔ آج ہمارے ملک پہ اندھیروں کا راج ہے۔ اسلئیے آپ کو ہر طرف باطلقوتیں سرگرم نظر آتی ہیں۔ جب روشنی ہوگی امید کے چراغ جلیں گے تو غیر نمائیندہ سازشی اور بدیانت لوگوں کو چھپ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

       
  2. منیر عباسی

    جون 18, 2011 at 19:40

    آج انٹرنیٹ پہ کہیں رشیا ٹوڈے کی ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور وہاں مدعو تجزیہ نگار کی گفتگو سے مجھے علم ہوا کہ امریکی حکومت نے پاکستانی میڈیا میں پائے جانے والے امریکہ مخالف جذبات کو کم کرنے کے لئے پچاس ملیں ڈالر کی رقم اس سال مختص کی ہے۔ کہیں یہ کانفرنس اسی مقصد کے لئے تو نہیں منعقد کی گئی تھی؟

    اب چاہنے والے اس کو کانسپیریسی تھیوری کہیں یا کانسپیریسی پکوڑے، غالبا چچا غالب نے بھی تو کہا تھا نا کہ

    مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام

    ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

    بلاگروں پر امریکہ بہادر کی اتنی مہربانی۔ کچھ سمجھ نہیں آتی۔ اوپر سے شامی انقلابی بلاگر خاتون بھی ایک امریکی مرد نکلا۔ اب بلاگنگ ایک بڑا پراپیگنڈہ ٹول بننے والی ہے۔ دیکھئے ہمارے دہرئے دوست کیا کرتے ہیں۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 19:57

      محترم! ڈاکٹر منیر عباسی صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      آپ کا خدشہ درست محسوس ہوتا ہے۔ آپ کی مذکورہ ویڈیو میں نے بھی دیکھ رکھی ہے۔ ضرورت اس بارے ہے کہ امریکی حکومت ہو یا کوئی دوسرا ملک ۔ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ وہ اسطرح کے معاملات پہ سنجدیگی کا مظاہرہ ککرے اور اسے اپنے کاروبار حکومت میں مداخلت تصور کرے۔ اور اس پہ امریکہ سے احتجاج کرتے ہوئے۔پاکستان کے اندرونی حالات بہتر اور درست کرے۔

       
    • Saad

      جون 21, 2011 at 05:19

      امریکہ کو اتنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ یہاں ان کے نمک حلال یہ کام مفت ہی کر رہے تھے

       
      • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

        جون 21, 2011 at 10:35

        محترم! سعد بھائی صاحب!!۔

        بلاگ پہ تشریف آوری پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

        برصغیر کے باشندوں اور خاصکر برصغیر پاکک، ہند، و بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی تاریخی بدقسمتی رہی ہے کہ اغیار کو انمیں اس طرح کے کافی "نمک حلال” جاتے رہے ہیں۔ اور جیسے آپ نے فرمایا ہے ۔ بہت دفعہ تو محض نام و نمود کی خاطر مفت ہی مل جایا کرتے ہیں۔

        ، ملک و قوم کے مفادات کے مقابلے پہ محض اپنی ذات کے لئیے غیر ذمہ داری ، نام نمود، نمک حلالی حتٰی کہ غداری جن لوگوں کے "جنین” میں شامل ہے جن کے خون میں اہنی ذات اور مفادات کو قومی مفادات پہ مقدم رکھنے کے جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ اسیے لوگوں کا سختی سے قانونی، اخلاقیاور سماجی محاسبہ کیا جائے اور انہیں کسی طور نمایاں نہ ہونے دیا جائے۔اورنمیاں عہدے ۔ مرتبے اور حیثیت نہ دی جائے۔

         
  3. ڈاکٹر جواد احمد خان

    جون 18, 2011 at 20:53

    کانفرنسوں کے سلسلے میں دنیا بھر میں ایک اصول منا جاتا ہے کہ جسکا پس لگے گا بات اسی ہوگی. ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوگرز کی اپنی ایک ایسوسی ایشن ہو جو خود فنڈ اکھٹا کرے اور خود ہی کانفرنس کرے .اتنے اہم کام کو امریکن قونصل خانہ پر نہ چھوڑے.

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 20:02

      محترم!ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب!!

      آپ کی بات سے اتفاق ہے مگر اسکے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر بلاگنگ کرنے والوں کا کوئی ایک یا کئی ایک پلیٹ فارم ہوں۔ جہاں سے وہ اسطرح کی ایکٹوٹیز کو انجام دے سکیں اور تنظیم سازی کرتے ہوئے اپنی آواز بہتر طریقے سے اٹھا سکیں۔ جس میں کسی حکومت یا دوسرے کسی ادارے کا عمل دخل نہ ہو۔ اور ار ہو تو بہت کم واجبی سا ہو۔

       
  4. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جون 19, 2011 at 00:30

    شاید پچھلے ماہ کی بات ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی مخالف جذبات سے سختی سے نبٹا جائے۔
    اس دفعہ اجتماع کروایا گیا ہے۔
    یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
    مغرب کے اعلی و ارفع ہونے کے گن گانے والے اب ایسی چکا چوند سے ہپناٹائیز ہو کر امریکہ کے گن گانا شروع ہو جائیں گے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 20:44

      یاسر بھائی!

      امریکہ کو پاکستان سے الٹے سیدھے جیسے "ڈو مور” جیسے مطالبے کرنے کی بجائے۔ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے پاکستان میں دخل رر معقولات سے ہاتھ کینچھ لے۔ اور پاکستان سے برابری کی سطح پہ سلوک کرے۔ پاکستان میں حکومت سازی کا اختیار پاکستانی عوام کو لوٹا دے کہ وہ جسے چاہئیں منتخب کریں۔ اگر ہوسکے تو پاکستان کے حقیقی مسائل جو امریکی حلیف ہونے کے زعم میں ہمارے حکمران امریکہ کی وفاداری اور عوام سے بددیانتی کرتے ہوئے ۔ اپنی عدم توجہی کے باعث حل کرنے میں ناکام ہیں۔ جن میں توانائی کا بحران۔ امن و عامہ۔ غزائی اجناس کی مصنوعی قلت۔ روزگار،صحت، اور اعلٰی تعلیم وغیرہ میں مدد ہیں تو یہ امریکہ مخالف جزبات کافی کم ہوسکتے ہیں۔۔ اگر ان حقیقی مسائل میں امریکہ کچھ کرنے سے قاصر ہے یا کرنا نہیں چاہتا اور اور دہشت گردی کی اس جنگ میں جہاں پاکستان کا جانی مالی نقصان سبھی سے بڑھ کر ہے اور بدلے میں ابیٹ آباد جیسا سا واقعہ جس سے پاکستان کی سرحوں کو عملا پامال کیا گیا۔ ریمنڈ دیوس جیسا واقعہ۔ آئے روز ڈرون حملے اور ہمیشہ کی طرح مطلب نکل جانے پہ پاکستان سے آنھکیں پھیر لینا۔ خود طالبان سے مذکرات کرنا اور پاکستان اگر اپنے ملک کے ناراض عناصر سے بات چیت کرنا چاہئے تو امریکی میڈیا اور پاکستان کے اندر اپنے چیہتوں سے پاکستان کے خلاف طوفان بدتمیزی اٹھا دینا۔ پاکستان لہو لہو ہے اور اگر کسی سے بات چیت کے زریعے پاکستان کے ناراض عناصر سے رابطہ کرے تو آئی ایس آئی کے رابطے طالبان کے ساتھ ہونے کا شوروغوغا مچا دینا۔ امریکہ میں جسے پاکستان کی صحیح لوکیشن کا بھی نہیں پتہ وہ بھی۔ باقاعدہ معائدوں کے زرئعیے کچل لو کچھ دو کے تحت پاکستانی امدادا (اس امداد کے حق میں۔۔ میں بہر حال نہیں ہوں کہ اس سے وطن فروشی کی بو آتی ہے) پہ پابندیاں لگانے کا مطالبہ کردے جبکہ خود اقوام متحدہ میں طالبان کو اچھے بچے تسلیم کروانے کے لئیے ریزولیشن پاس کروانے کی کوششیں کرے۔۔ ۔ ۔ تو اسطرح کے یہ وہ حالات ہیں جنکی وجہ سے امریکہ پاکستانی حکومت کو کتنی بھی سختی سے امریکی جذبات کم کروانے حکمنامے بیجھتا رہے۔ مگر عوام میں امریکہ مخالف جزبات بڑھ تو رہے ہیں مگر کم نہیں ہونگے۔

       
  5. وقاراعظم

    جون 19, 2011 at 08:46

    جی ہاں جناب آپ بالکل درست تجزیہ کیا ہے آپ نے، جب پہلے پہلے مجھے ٹویٹر پہ ان مخصوص نظریات رکھنے والوں کے ٹویٹس میں ایس ایم ایس پی کے کے ٹیگ نظر آنے لگے تو معلوم ہوا کہ پاکستانی بلاگرز کی نمائندہ کانفرنس ہورہی ہے۔ بی بی سی پر اس کے بارے میں پڑھ کر اور تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر تو صاف نظر آرہا تھا کہ یہ کن لوگوں کو پاکستانی بلاگرز کے نمائندوں کے طور پر منتخت کیا گیا ہے۔ اور پاکستان کے تقشے میں سے کشمیر تو چھوڑیں آزاد کشمیر تک غائب تھا۔ وہاں موجود کسی بلاگر کو اس کانفرنس میں اس مسئلے کو اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اور تو اور بزعم خود کراچی کے اردو بلاگرز کی نمائندگی کرنے اور قسط وار تفصیلی روداد لکھنے والوں کو ابھی اس کا احساس نہ ہوسکا اور وہ بڑے مزے سے امریکی قونصل خانے کے اہلکاروں سے ملاقات کا احوال فخریہ بیان کرتے رہے۔ افسوس۔۔۔۔۔۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 20:47

      وقار بھائی!

      پاکستان بلاگرز کا کوئی ایک یا کئی ایک پلیٹ فارم ہونے چاہئیں جہاں سے وہ اپنی نمائیندگی کر سکیں۔

       
      • Muhammad Yasir Ali

        جون 20, 2011 at 06:02

        جی جاوید بھائٰی میں بھی اسی بات کے حق میں ہوں آخر ابلاغ ِ عامہ کے ہر شبعہ کے لیے ان کی تنظیمیں اور ادارے ہیں جو مطلقہ شبعہ کے افراد کو پلیٹ فارم مہیاء کرتی ہیں جہاں وہ اپنے مسائل وغیرہ بیان کر سکیں

         
        • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

          جون 21, 2011 at 01:30

          یاسر بھائی!

          بلکل انٹر نیٹ بلاگرز کی بھی اپنی تنظیمیں ہونی چاہئیں ۔ جن سے بلاگرز کی آواز موثر طریقے سے سنی جائے گی۔ اور جو انکی مناسب تشہیر بھی کر سکے ۔

           
    • Muhammad Yasir Ali

      جون 20, 2011 at 06:07

      بھائی کیوں دل جلاتے ہو ہم سب بے حس ہیں اگر کوئی خوبی ہے تو یہ کہ
      جس کا کھانا اسی کے گھن گانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر تب تک جب تک ملتا رہے جب نہ ملے تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       
      • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

        جون 21, 2011 at 01:33

        یاسر بھائی!

        ہم سے سے زندگی میں کبھی نہ کبھی کوتاہی ہو جاتی ہے۔ اور کسی اپنے کی طرف سے اسکی نشاندہی سے مستقبل میں ہمیشہ بہرتی کا امکان ہوتا ہے۔

         
  6. sheikho

    جون 19, 2011 at 11:26

    واقع میں بے لاگ ہی لکھتے ہیں آپ ۔۔۔ ایسے ہی لکھتے رہئے شاید کہ ہم پاکستانی ایک ہوجائیں

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 20:50

      محترم! شیخو صاحب!!

      بلاگ پہ خوش امدید اور شکریہ۔

      یہ آپ کی اچھائی ہے ورنہ بندہ اس قابل کہاں؟۔ پاکستانیوں کے متحد ہونے کی دعا اللہ کرے۔ اللہ تعالٰی قبول فرما لیں۔

       
  7. Ibn -e- Zia

    جون 19, 2011 at 14:32

    بہت عمدہ اور بے لاگ تجزیہ ہے۔ میں یہاں وقار اعظم کی دو باتوں کی وضاحت کرنا ضروری سمجھوں گا۔
    پہلی بات کہ ’’تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر تو صاف نظر آرہا تھا کہ یہ کن لوگوں کو پاکستانی بلاگرز کے نمائندوں کے طور پر منتخت کیا گیا ہے۔‘‘ میں اس جملے کو حقیقت سے زیادہ جذباتیت قرار دوں گا۔ دراصل بیشتر انگریزی بلاگرز تو مختلف ذریعوں سے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اس لیے ہر تقریب میں اُن کو دعوت نامہ ارسال کرنا منتظمین کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ گوگل کے منعقدہ کراچی بلاگرز میٹ۔اپ کی جب ہمیں خبر ملی تھی تو ہم چند اردو بلاگرز نے رجسٹریشن کرواکر اس میں شرکت کی تھی۔ یوں CIO Pakistan وغیرہ کو اُن ہی چند اردو بلاگرز کا رابطہ بھی مل گیا۔ لہٰذا اس کے بعد سے جو تقریب ہوتی ہے، اس میں ان اردو بلاگرز کو بھی دعوت نامہ ارسال کردیا جاتا ہے۔ اب اگر انگریزی بلاگرز کی بڑی تعداد ایک خاص طبقے سے تعلق رکھتی ہے تو اس پر یہ کہنا کہ کن لوگوں کو پاکستانی بلاگرز کے نمائندوں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، کچھ غلط ہوگا۔ انھوں نے کسی پر پابندی نہیں لگائی تھی۔ میں، شعیب صفدر، شہزاد افضل اور ایسے بہت سے لوگ وہاں موجود تھے جو ان لوگوں سے بہت مختلف بھی تھے، یہاں تک کہ باحجاب خواتین بھی موجود تھیں۔

    دوسری بات یہ کہ ’’اور تو اور بزعم خود کراچی کے اردو بلاگرز کی نمائندگی کرنے اور قسط وار تفصیلی روداد لکھنے والوں کو ابھی اس کا احساس نہ ہوسکا اور وہ بڑے مزے سے امریکی قونصل خانے کے اہلکاروں سے ملاقات کا احوال فخریہ بیان کرتے رہے۔ افسوس‘‘۔۔۔۔ اس میں بہ زعمِ خود والی بات پر تو میں تبصرہ نہیں کروں گا، لیکن قسط وار تفصیلی روداد کے سلسلے میں عرض ہے کہ میرا کام روداد لکھنا تھا، تجزیہ کرنا نہیں۔ شعیب صفدر نے اس تقریب کا مختصر تجزیہ کیا ہے۔ اور امریکی سفارت خانے کے اہل کاروں سے ملاقات کا احوال فخریہ یا مزے لے کر بیان کرنا تبصرہ نگار کا اپنا تخیل ہے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 20:58

      محترم! ابن ضیاء صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      آپ نے مذکورہ سمٹ کی روداد لکھی جس سے بہت سارے بلاگرز کو اس سمٹ کے بارے "فرسٹ ہینڈ انفارمیشن” ملی اور جو میرے خیال میں آپ نے بہتر طور پہ لکھی۔اور باقی سبھی باتوں پہ مختلف رائے ہوسکتی ہیں مگر کشمیر کا نقشہ پاکستان کے نقشے کے ساتھ نہ دکھانا۔ عام پاکستانی کی ذہانت کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے اور اسکی توہین ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اسطرح کے واقعات صرف پاکستان میں ہی کئیے جاتے ہیں اور اب ان واقعات میں تواتر آتا جارہا ہے اور جو ذمہ دار ہیں وہ آنکھیں بند کئیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہر کسی نے پاکستان کو کسی غریب کی جورو سمجھ رکھا ہے کہ جس کا جو جی آئے وہ اس سے ٹھٹھہ مذاق کرنے پہ اترا آیا ہے؟

       
      • Ibn -e- Zia

        جون 20, 2011 at 20:02

        لیکن جاوید بھائی، یہ بات توجہ طلب ہے کہ جو پریزینٹیشن وہاں چل رہی تھی وہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ کانفرنس کے منتظمین کی تیار کردہ تھی اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ سمٹ کے آغاز میں CIO Pakistan کی ایڈیٹر رابعہ غریب نے یہ بتایا تھا کہ اس ویڈیو کو بنانے کے لیے ٹی۔بریک کے دوستوں کا شکریہ جنھوں نے اعداد و شمار جمع کیے اور اس ویڈیو میں کافی کمی ہے جسے بعد میں پورا کردیا جائے گا۔۔۔ کچھ اس طرح کی بات کہی گئی تھی۔ گویا، اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں۔

         
        • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

          جون 21, 2011 at 02:12

          محترم! ابن ضیاء بھائی صاحب!!۔

          عام طور پہ اسطرح کی تقریبات میں ایک آدھ اور بعض اوقات ایک سے بڑھ کر کوآرڈینیٹر ہوتے ہیں جو اس طرح کی تقریبات کو کوآرڈینیٹ کرتے ہیں۔ آپس میں باہم مربوط کرتے ہیں۔ اسلئیے ۔ کسی نہ کسی مرحلے میں پاکستان کے نقشے کے ساتھ کشمیر کا نقشہ نہ دکھا کر کسی نے دیدہ و دانستہ کوتاہی یا غفلت برتی ہے۔جو بہرحال منتظمین(خواہ وہ کوئی بھی ہوں) کی یکساں ذمہ داری گنی جائیگی۔ لیکن جس کا کردار تقریب میں زیادہ ہوگا خواہ وہ ادارہ ہو یا فرد اسے زیادہ قصوروار مانا جائے گا۔ بعین اسی طرح جیسے اسطرح کی تقاریب یا فنکشنز کا کریڈیٹ سب منتظمین کو بانٹا جاتا ہے۔

          منتظمیں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نشاندہی کریں کہ کس کی کوتائی یا غفلت سے یوں ہوا۔ اگر منتظمین اس بارے خاموش رہیں تو مدعوین اور دیگر میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ اس بارے سوال اٹھائیں۔

          جہاں تک سی او پاکستان کی ایڈیٹر محترمہ رابعہ غریب کے بارے جو آپ نے بیان کیا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس بارے پیشگی علم تھا کہ ویڈیو میں (صرف کمی ہی نہیں بلکہ) کافی کمی ہے۔ جس سے مراد کہ مزکورہ ویڈیو درست نہیں۔ اور اسکے باوجود ایک غلط ویڈیو کو پیش کیا گیا۔ اور بعد میں اس ویڈیو کو درست یا اسکی کمی کو پورا کیا جائیگا۔ یہ بات لطیفہ سی لگتی ہے۔ عید کے بعد عید کے لئیے کپڑے کون خریدتا ہے؟

          کیونکہ بقول محترم شعیب صفدر صاحب اس سماجی میدیا سمٹ کے بارے مواد پی سی ورلڈ جو اس سمٹ کے ایک اہم ارگنائزر تھے انکی یعنی پی سی ورلڈ کی ویب سائٹ سے اس بارے مواد ہٹایا جاچکاہے ۔ جیسے یہ کبھی ہوئی ہی نہ ہو۔ واللہ علم

          تو اب کوئی لاکھ ویڈیو درست کرتا رہے مگر جو دل آزاری ہونی تھی وہ ہوچکی۔ اب اگر کوئی کرسکتا ہے تو اتنا کرے کہ اس بارے جواب طلبی کرے کہ ایسا کیوں ہوا؟۔ اور میں سمجھتا ہوں اس بارے سب کو لکھنا چاہئیے اور میڈیا کو بھی اسمیں دلچسپی لینی چاہئیے کیونکہ یہ ایک ایسا سنجیدہ واقعہ ہے جو پاکستان کی سرزمین پہ ہوا ہے۔ اور اسطرح نہیں ہونا چاہئیے تھا۔

           
  8. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جون 19, 2011 at 15:28

    میرا تبصرہ غائب ہے۔۔وجہ نامعلوم

     
  9. Shah Faisal

    جون 19, 2011 at 17:52

    حاتم صاحب آپ کونسی دنیا میں رہتے ہیں؟
    "ایجنسیوں کو بدنام کرنے کی سازش” والی بات ہضم نہیں ہوتی، انکے ماضی کو پس منظر میں رکھیں تو۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 19, 2011 at 21:05

      محترم! شاہ فیصل صاحب!!

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      اگر تو حاتم کہہ کر آپ نے مجھے مخاطب کیا ہے تو فیصل بھائی آپکی دنیا میں رہتا ہوں 🙂 ۔

      آپکی بات سمجھ میں آتی ہے اور ایجنسیز کے ماضی کو سامنے رکھا جائے تو ۔ پاکستان میں بار بار بنتی ٹوٹتی حکومتیں اور پاکستانی عوام کو حکومت سازی نہ کرنے دیئیے جانے میں جہاں لوٹے، لفافے، تھالی کے بینگن سیاہ ست دانوں کی نااہلی اور ناکامی تھی وہیں اس سے بڑھ کر اس میں ایجینسیوں کا قصور تھا۔ مگر اب اگر ایجینسیز ایسا کرنے سے باز آئیں ہیں تو انھیں ایک موقع تو دیا جانا چاہئیے۔ یا نہیں؟

       
      • Shah Faisal

        جون 21, 2011 at 03:13

        جی میں جلدی میں یہی سمجھا تھا کہ حاتم طائی آپ خود کو کہہ رہے ہیں۔ معذرت۔
        آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایجنسیاں باز آ گئی ہیں یا سدھر گئی ہیں؟ میرا فوج سے تھوڑا بہت تعلق رہا ہے اور ملکی قوانین کی جتنی پروا یہ لوگ کرتے ہیں، میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ افسوس کہ اس تاثر کو دور ہونے میں بھی کئی دہائیاں لگیں گی، چاہے یہ باز بھی آ گئے ہوں تو۔

         
        • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

          جون 21, 2011 at 10:40

          فیصل بھائی!!

          حضور! معزرت کر کے آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ ویسے میں سمجھ گیا تھا کہ آپ کو روانی میں غلطی لگ گئی ہے۔

          ” اس تاثر کو دور ہونے میں بھی کئی دہائیاں لگیں گی”

          اللہ کرے کہ ایسا ہو سہی یہ دہائیاں بھی گزر ہی جائیں گی۔

           
  10. محمد یاسرعلی

    جون 20, 2011 at 05:57

    جاوید بھائی آپ کی تحریریں واقعی میں بے لاگ ہوتی ہیں سچی اور دل کو چھو لینے والی حالانکہ سچی بات ہضم کرنا ذرا مشکل ہوتی ہے

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 21, 2011 at 01:28

      محترم! بھائی یاسر علی صاحب!!

      بلاگ پہ تشریف آوری پہ خوش آمدید اور شکریہ

      بس یہ آپکی محبت کا کمال ہے ورنہ یہ ناچیز اس قابل کہاں؟۔

       
  11. احمد عرفان شفقت

    جون 23, 2011 at 09:23

    ارے یہ دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی کہ آپ کا بلاگ بھی ہے اور ۲۰۰۷ سے ہے۔ اس سے قبل تو آپ کے نام پر کلک کرتے تھے تو کسی غزلوں کی سائٹ پر پہنچ جایا کرتے تھے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 23, 2011 at 12:03

      محترم! احمد عرفان شفقت صاحب!!۔

      بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      وہ شاعری اور یہ نثر ہے۔ بس 🙂 ۔ آپ کو خوشی ہوئی ۔ یہ میرے لئیے اعزاز سے کم نہیں۔

       
  12. فریدون

    جون 23, 2011 at 15:58

    السلام علیکم
    عمدہ حضور۔۔ مگر یہ بھی تو دیکھئیے سلیم شہزاد محوم روشن راہوں پہ مارے گئے۔۔ بنکہ اکثر لوگ تاریک راہوں کے مقتوم ہوتے ہیں۔۔۔ اس پہ بحث تو نہیں بنتی نا

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 25, 2011 at 00:53

      محترم! فریدوں صاحب!!۔

      بلاگ پہ تشریف آوری پہ خوش آمدید اور شکریہ۔

      آپکی زرہ نوازی ہے کہ آپ نے عمدہ کہا۔ تعریف کی، ورنہ بندہ اس قابل کہاں۔

      وقت پیچھے گھوم نہیں سکتا۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے تلخیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ جو مارے گئے۔ شہید ہوئے۔ وہ کسی بھی طرف سے تھے۔ جیسے بھی تھے۔ سبھی میری مٹی کے بیٹے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی تو اسمیں ہماری ناکامی ہے۔ قصوروار خواہ کوئی فریق ہو۔ ہم ریاست کو ایک ماں کا مان نہیں دے پائے جو اپنی اولاد کو زمانے کے ہر گرم سرد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: