RSS

مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔

13 جون

مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔

محترمہ ! حجاب ِ شب !! کے بارے میں اردو بلاگنگ پہ سیر کرنے والے اس بات کی شہادت دینگے کہ ان کی تحریریں بے ضرر سی سلجھی ہوئیں اور عام سے موضوعات پہ اپنی سادگی کی وجہ سے انتہائی دلچسپ ہوتی ہیں۔ مگر انھیں اور دیگر بلاگرز کو گالیاں لکھی جارہی ہیں۔ اور ان سے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو گا تو شاید نام نہاد روشن خیالوں کو مگر "اہمیت آپا” باوجود اپنی کم علمی اور اضافی روشن خیالی اور انکے "بغل بچے” سے یہ امید نہیں کی جاتی کہ وہ اسقدر لغو حرکت پہ اتر آئیں گے۔ ویسے بھی اختلافات اپنی جگہ سبھی اردو بلاگستان کے حسین پھول ہیں جن کے دم سے اردو بلاگستان پہ رونق ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جزاک اللہ بریگیڈ کے ساتھ انٹر نیشنل مرازئیت کو ذیادہ تکلیف ہے ۔ کیونکہ وہ بھی مولوی اور ملا سے چڑے ہوئے ہیں اور پاکستان میں اپنے عزائم کی راہ میں مولوی اور ملا صاحبان کو بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔ایسا کچھ عرصے سے بہت سے بلاگرز کےساتھ یوں ہوتا آرہا ہے۔ اور اسمیں ایک بات مشترک ہے کہ انہی بلاگرز کے ساتھ یوں ہوتا ہے جو اپنے مسلمان ہونے پہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
MULA@YAHOO.COM
174.36.29.73

اس آخری والی آئی پی سے کسی نے مجھے بھی اوپر والے نام سےغلیظ گالیاں لکھ بیجھی تھیں۔ یہ آئی پی کی رجسٹریشن "ویسٹ ڈیلاس” امریکہ میں "پارک ہاؤس اسٹریٹ” سے ساڑھے پانچ سو فٹ اور کانٹنیٹل ایو سے بمشکل پونے دو سو فٹ پہ واقع ہے۔

پوری یورپی یونین اور اسپین میں خاصکر آجکل انٹر نیٹ کو عام استعمال کی شئے بنانے کے لئیے جہاں بلاگنگ اور فورمز وغیرہ بنانے اور آزادی اظہار رائے کو قوانین کے تحت تحفظ کو مزید بہتر کیا جارہا ہے وہیں۔ کسی کو ای ۔ میل اور بلاگ یا فورم اٰیڈریس پہ جسے قوانین میں ایک طرح کی ای میل ہی سمجھا جاتا ہے کے ذریعے دھمکی دینا۔ فراڈ کرنا۔ یا گالی گلوچ یا بچوں کو ڈبل ایکس ریٹیڈ یا تشدد پہ مبنی وغیرہ لنک بیجھنے سے متعلق بہت سخت کئیے جارہے ہیں ۔

عرصہ دراز سے اسپین کی انٹر نیت سے سائینٹیفک پولیس اس بارے تفتیش میں یوروپ وغیرہ میں کلیدی رول کرتی آئی ہے۔ اور نہائت جانفشانی سے کم عمر بچون سے متعلق فاحش سائٹس اور بنکنگ فراڈ سے ۔عام آدمی کے تحفظ اور کم عمر بچوں کے انٹر نیٹ پہ حقوق کی حفاظت سے متعلق۔ اور کسی کو دھمکی ، اسپیم میلز، یا زبردستی کی کاروباری معلومات جب صارف نے منع کر رکھا ہو۔ اور گالی گلوچ ، ذاتی، سیاسی، مزھبی (اسلام، عیسائت ، یہودیت کوئی سا بھی مذھب ہو کہ تینوں مزاھب یہاں سرکاری طور پہ تسلیم شدہ مذھب ہیں) یا کسی کے عقیدے کی وجہ سے اسے ای میلز کے زرہئے توہین کرنا وغیرہ سختی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اور اس جرم کا پیچھا کرنے کی کوشش کی جاتی خواہ اسکا پتہ لگانے کے لئیے کسقدر ہی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑے اور اسکے ڈانڈے اسپین یا یوروپی یونین سے باہر کسی تیسرے ملک سے جا ملیں۔ وہاں کی پولیس کو شامل کو کیس کی تفتیش کرنے کی استدعا کی جاتی ہے۔

وجہ اسکی صرف یہ ہے کہ اسپین اور اسکے علاوہ دنیا کے بے شمار ممالک بجلی اور فون کے بلز سے لیکر بینکوں میں رقوم ٹرانسفر کرنے اور گھر بیٹھ کر اپنے اکاؤنٹس کو آپریٹ یا ہینڈل کرنا جسے آن لائن بینکنگ کا نام دیا گیا ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں یوروز کی نقل حرکت روازانہ انٹر نیٹ پہ ہوتی ہے۔ آلو ، کھیرے اور ٹماٹر جیسی روز مرہ کی باورچی خانے کے عام استعمال کی اشیاء سے لیکر ریلوے، بسوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ٹکٹس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی بھی چیز انٹر نیٹ پہ خریدنے کا رواج عام ہے۔

انتہائی مصروف وزارتوں کا بوجھ انٹرنیٹ پہ منتقل کردیا گیا ہے۔ جس پہ صارف اپنی سہولت سے گھر بیٹھے عام معاملات نمٹا لیتا ہے۔ اور مختلف قسم کے سرٹیفیکیٹس کا اجرا اور دستاویزات اپنے پرنٹ کرتے ہوئے وزارتوں کے دفاتر سے بچتا ہے وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے وہیں بڑی بڑی منسٹریز کا کام کم ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ وہاں ملازم رکھے جاتے ہیں اور عمارتوں اور سیٹنگز ہالوں سے جان چھوٹنے سے اخراجات میں کمی ہوتی ہے، یعنی سہولت اور بچت، عوام اور حکومت دونوں کے مفاد میں ہونے کی وجہ سے انٹر نیٹ کو رواج دئیے اور اسطرح کی سہولتیں یعنی ڈاکٹرز سے مشورہ۔ یا فیملی ڈاکٹر سے ملاقات کا وقات طے کرنا یہ سب انٹر نیٹ کی وجہ سے آسان اور سستا ہوگیا ہے۔

اسپین اور اسطرح کے دیگر ممالک ہر سال انٹرنیٹ کے استعمال ، اسے سادہ بنانا، صارفین کو اسکے استعمال کرنے کو قائل کرنا، وغیرہ کے لئیے ۔ یہ ممالک اپنے اہداف مقرر کرتے ہیں اور پھر اسے حاصل کرنے کے لئیے مناسب تہشیر اور بجٹ مقرر کرتے ہیں۔

اسلئیے انٹر نیت پہ گھومتی معلومات اور انکے تحفظ کے لئیے اسپین اور دیگر ممالک بہت کوشاں ہیں۔ اس حوالے سے اسپین سائبر کرائمز سے متعلق سائنٹفیک پولیس نہائت متحرک ہے اور مقبولیت اور اہلیت رکھتی ہے۔ اور اسے اردگرد کے ممالک میں بھی نہائت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انکے کام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے انٹر نیٹ پہ گھومتی لاٹری جس میں بطور خاص خواتین اور بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔کے ایک سلسلے میں سائبر جرائم سے متلق پولیس کو آگاہ کرنے کی وجہ سے بات چیت کا موقع ملا ۔ تو بہت سے امور پہ روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ صرف اسلئیے اپنی ہیرا پھریوں میں کامیاب رہتے ہیں یا دوسروں کو ای۔ میلز وغیرہ سے تنگ کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے خلاف لوگ پولیس سے رجوع کرنے کی بجائے ایسی ایسی مشکوک میلز ڈیلیٹ کر دینا ایک آسان حل سمجھتے ہییں

سائبر کرائم سے متلعقہ اسپین کی سائنٹفک پولیس کے افیسرز نے بتایا کہ "ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اگر کوئی اسے اسطرح کی حرکت کی وجہ سے تنگ کر رہا ہے تو وہ ہمیں اطلاع کرے ۔ ہم مکمل چھان بین کریں گے۔ نیز جعلی آئی پیز سے کی گئیں ای۔ میلز اور اسطرح کے دوسرے سافٹ وئیرز سے جس میں فیک یا جعلی آئی ڈی آئی پیز سے گالی گلوچ کر کے اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ وہ اپنی اصلی آئی ڈی اور آئی پی چھپا لے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ کیونکہ پولیس کے لئیے ایسی ای میل کے مبنع کا سراغ لانا قطعی مشکل نہیں ۔ اور دوسرے ممالک کی پولیس سے اس بارے کاروائی کرنے کی استدعا کرنا ہمارے فرض میں آتا ہے۔ ورنہ لوگ انٹر نیٹ کو استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے اور انکا اعتماد انٹر نیٹ پہ نہیں بڑھے گا اور حکومت کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مشکل ہوگی۔ آزادی اظہار رائے ہر انسان کا حق ہے اور کھلے عام بحث میں کوئی بھی فرد اپنے جزبات کا اظہار کر سکتا ہے ۔ مگر کسی کو دہمکی دینا یا صاحب بلاگ کا منع اور بلاک کرنے کے باوجود اسے اسپیمز سے تنگ کرنا ، یا بغیر اجازت کے کاروباری اشیاء فروخت کرنے کے لئیے تشہیر کرنا ۔ گالی گلوچ دینا جرم تصور کیا جاتاہے۔ جن میں مختلف جرمانوں سے لیکر قید تک کی سزا دی جاتی ہے”۔

اور میں سوچ رہا ہوں ۔MULA@YAHOO.COM 174.36.29.73 اسکے بارے آگاۃ کر دوں۔ یا ایک موقع اور دوں شاید یہ خباثت سے باز آجائے۔

ذیل میں وہ آئی پیز اور انکے ایڈریس ہیں جن کے بارے محترمہ حجاب نے لکھا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
xamples: 213.86.83.116 (IP address) or google.com (Website)
178.162.134.29 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.134.29 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-134-29.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
178.162.131.60 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.131.60 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-131-60.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….

174.36.29.73 IP address location & more:
IP address [?]: 174.36.29.73 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: US
IP address country: United States
IP address state: Texas
IP address city: Dallas
IP postcode: 75207
IP address latitude: 32.7825
IP address longitude: -96.8207
ISP of this IP [?]: SoftLayer Technologies
Organization: EasyTech
Host of this IP: [?]: 174.36.29.73-static.reverse.softlayer.com [Whois] [Trace]
Local time in United States: 2011-06-12 16:09

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , , , ,

11 responses to “مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جون 13, 2011 at 02:37

    سیارہ پہ بھی آپ کی یہ تحریر ایک بار آجانی چاھئے۔

     
  2. Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

    جون 13, 2011 at 03:17

    یاسر بھائی!

    اگر آپ چھاپنا چاہئیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ سیارہ کی ممبر اپنے بلاگ کے لئیے ابھی تک اپلائی نہیں کی۔

     
  3. Wasim Baig

    جون 13, 2011 at 23:44

    سلام جاوید بھائی
    بلکل آپ نے سولہ آنے سہی بات کی ہے
    لیکن ایک دو وارننگ دینی چاہئیے اگر باز نہیں آتے تو کر دو کام پولیس کے خوالے کیوں کے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے باقی میں بھی سپین میں رہتا ہوں جو آپ نے بات کی سولہ آنے سچ ہے میری معاونت کی ضرورت تو بندہ خاظر ہے
    اور یہ پوسٹ اردو سیارہ پر لگاؤ اس لیے کے دوسروں کی بھی رائے لی جا سکے

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 14, 2011 at 14:42

      محترم وسیم بیگ بھائی!!!۔

      بلاگ پہ تشریف آوری پہ خوش آمدید اور شکریہ قبول فرمائیں۔
      آپکی پیشکش کے لئیے انتہائی ممنون ہوں۔
      کوشش کرتا ہوں یہ کہ اس بلاگ کو سیارہ پہ قبول کر لیا جائے۔ یوں یہ تحریر سیارہ پہ پڑھنے کو مل سکے

       
  4. Darvesh Khurasani

    جون 14, 2011 at 17:53

    جاوید صاحب :

    آپ نے بہت اچھا کیا کی جعلی آئی پیز پر کالم لکھا ۔ ہمیں چاہئے کہ ایسے بد کردار لوگوں کو جتنا بے نقاب کرسکیں ، تو کر لیں، ایک عجیب فضاء بنی ہے گالیوں کی اور اسلام دشمنی کی ۔ یہ کام اکثر قادیانی یا **** لوگ کرتے ہیں لیکن اسلام کا لبادہ اوڑ کر تاکہ انکا اصل چہرہ چھپا ہوا ہو اور انکی اصلیت ظاہر نہ ہوسکے۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 14, 2011 at 22:21

      محترم! بھائی! درویش خراسانی صاحب!!۔

      آپکی آمد پہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں اور اپنے خیالات سے نوازنے پہ شکریہ ادا کرتا ہواں ۔

      آپکی ہر بات سے اتفاق ہے مگر ملک و قوم امہ کے بہتر مفاد میں آپکی قیمتی رائے کا صرف ایک لفظ اسٹارز کیا ہے ۔ امید ہے آپ میری اس جسارت کو در گزر فرمائیں گے۔

       
    • Darvesh Khurasani

      جون 15, 2011 at 19:24

      جاوید صاحب جیسے آپ مناسب سمجھیں۔۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔

       
  5. hijabeshab

    جون 14, 2011 at 20:47

    کوئی حل نہیں ہوتا ایسے لوگوں کا جن کو عادت ہو گالی دینے کی ، ایسے لوگ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔۔

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 14, 2011 at 22:26

      آپ کی بات درست ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ یہ ایک طرح کا نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے ۔ مگر جب انہیں یہ پتہ ہو کہ انکے خلاف تادیبی کاراوائی ہوسکتی ہے تو یہ اپنی سائیکی پہ قابو پاتے ہوئے مذید ایسی حرکات سے باز رہتے ہیں۔

       
  6. Syed Hyderabadi

    دسمبر 4, 2011 at 12:18

    درویش خراسانی صاحب کے بلاگ سے ہوتا ہوا آپ کی اس تحریر تک پہنچا ہوں۔ کافی معلوماتی ہے۔ شکریہ۔ ویسے مجھے حیرت ہے کہ ان نوسربازوں کے پاس اتنا فرصت کا وقت کہاں سے نکل آتا ہے؟

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 5, 2012 at 00:16

      محترم!۔ سید حیدرآبادی صاحب۔ بوجوہ ،تاخیر سے جواب دینے پہ معذرت خواہ ہوں۔مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو میری یہ تحریر معلوماتی محسوس ہوئی۔

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: