RSS

اردو کی ترویج میں رکاوٹ کے اصل ذمہ دار۔

06 جون

آپ نے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مگر واللہ میں حیران ہوں کہ کچھ ہفتے پہلے انٹر نیٹ پہ ایک انگلستانی ابلاغی ادارے کے اردو ایڈیشن پہ کراچی میں اردو کے حوالے سے چند روزہ اردو کی ایک انٹر نیشنل کانفرس کے بارے بتلایا جاتا رہا۔ وہ انگلستانی ابلاغی ادارہ اس میں کیوں اسقدر دلچسپی لے رہا تھا اس سے قطع نظر جو بات سب سے پہلے۔اور پہلی نظر میں کھٹکتی ہے کہ اس سارے کھڑاگ میں اردو زبان تو کہیں نظر ہی نہیں آرہی تھی۔ ابھی بھی وہ ویڈیوز انٹر نیٹ پہ موجود ہونگی۔ ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اسمیں پنڈال کے ارد گرد کانفرنس اور اسکے برے بینرز سبھی انگریزی میں لکھے ہوئے تھے۔ اسٹیج اور کوسٹر پہ اردو کے بارے اظہار خیال کرنے والے مکمل طور پہ مغربی رنگ میں رنگے بڑی روانی سے انگریزی میں بات کر رہے تھے۔ اسٹیج پہ بیٹھیں مائیاں دھڑلے سے سگریٹ نوشی فرما رہیں تھیں۔ اور اردو جس کی تذکرہ کانفرنس تھی اس پہ انگریزی میں روشنی ڈال رہیں تھیں۔ نامی گرامی دانشوران اور سامعین کی اکثر تعداد اپنا مافی الضمیر یعنی اردو کو ترقی دینے کے بارے کئیے جانے والے ضروری اقدمات پہ رائے انگریزی میں بیان کر رہی تھی۔ انکی بدن بولی اور رنگ ڈھنگ اور سر عام خواتین کی سگریٹ نوشی تو یہ پتہ ہی چلتا تھا کہ حرف عام میں یہ پاکستانی معاشرے کی خواتین و مرد دانشور ہیں جو اردو کی ترقی کے لئیے انگریزی میں دو تین روزہ انٹرنیشنل کانفرس کا اہتمام کر کے اردو کی ترقی کے لئیے کوشاں ہیں۔ اور اسقدر منافقت اور دہرا معیار دیکھ کر میں سوچ رہا تھا یا تو وہ لوگ اردو لکھتے پڑھتے اور بولنے والے اہل اردو نہیں جو پاکستان میں اور دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان کے اکثر لکھنے والے اور اردو سے متعلقہ کوششیں کرنے والے آپ جیسے لوگ شامل ہیں یا یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اردو کو وایا انگریزی ترقی دینے کے لئیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ وہ منافقت ہے جو بجائے خود اہل اردو کے ان دنشوران نے اردو کی نام نہاد ترقی کے نام پہ اردو کے ساتھ روا رکھی ہے۔ جسکا وہ کریڈٹ وہ ہر فورم پہ لیتے رہے ہیں اور کئی ایک اس کے بدلے گرانقدر مشاہیرہ اور مراعات پاتے رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کوئی ہی ادارہ یا لکھنے والا شاید ایسا ہوگا جو کمپیوٹر کسی نہ کسی مرحلے میں استعمال نہ کرتا ہو یا اسکا کام کو استعمال میں لانے کے لئیے کمپیوٹر سے اسکی اردو میں تدوین و تزئین اور لکھائی وغیرہ نہ ہوتی ہو۔ تو ایسے میں آج جو پہیے کی ایجاد اور لوہے کی دریافت کے بعد شاید کمپیوٹر اس میلنئم کی سب سے بڑی ایجاد و دریافت ہے اور اسکے ذرئیعے اردو کو ترقی دیکر اس سے بجا طور پہ پوری قوم کو علم و ترقی کی راہ دیکھائی جاسکے۔ اور اس بارے عالم یہ ہے کہ اس کے لئیے ترقی دینے کو سافٹ وئیر تیار کرنے یا کروانے والے اور تجاویز و گزارشات پیش کرنے والے آپ جیسے وہ لوگ ہیں۔ جو اردو اور قومی دردمندی کی وجہ سے اور انسانی خدمت کے جذبے سے استدعا کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں وہ جو حکومتی اور نیم حکومتی اداروں پہ قابض ہیں اور اپنے آپ کو اہل اردو کہلواتے نہیں تھکتے مگر اردو کی کمر میں نااہلی اور بدیانتی کی وجہ سے خنجر گھونپ رہے ہیں۔ اردو کی نام نہاد ترقی کے لئیے فور اور فائیو اسٹارز ہوٹلوں میں انگریزی میں اجلاس رکھتے ہیں۔ جن پہ خطیر سرمایہ اٹھتا ہے جبکہ کہ اسطرح کے ضروری سافٹ وئیر اور دیگر چیزوں کے لئیے ایسے اجلاسوں پہ اٹھنے والے خطیر سرمایے کا عشر عشیر خرچ کر کے سبھی سوفٹ وئیر تیار کروائے جاسکتے ہیں۔ یہ مشکل نہیں۔ ناممکن نہیں۔ یہ ہلکے پھلکے سوفٹ وئیر ہیں۔ پہلے سے تیار کسی پروگرام کی کمانڈز میں تھوڑا بہت ردبدل کر کے اسے اردو کا رنگ دیا جاسکتا ہے۔ مگر جو ذمہ دار ہیں اور لاکھوں کروڑوں کے عوضیانے اور بجٹ پاتے ہیں۔ ان کے کان کینچھے جانے ضروری ہیں۔ مگر کون کیھیچے ؟ کہ پاکستان میں رواج ہے کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئیے وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں اور خدا جانے کیا کیا بنا کر اپنے من پسندیدہ افراد کو بندربانٹ کا ایک نیا سلسلہ عطا کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اصل مسئلہ لوگ بھول جاتے ہیں۔ یا اسکا کوئی حل خود ہی تلاش کر لیتے ہیں۔ مگر وہ وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں قائم و دوائم رہتی ہیں پھلتی پھولتی ہیں۔ اور پیداگیری کا سفر جاری رہتا ہے۔ آپ نے اور بہت سے دوسرے لوگوں نے جو مختلف شعبوں میں اپنی صوابدید اور وسائل سے دوسروں کے لئیے کیا ہے ۔ اگر پاکستانی معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو غیرت ہوتی تو اور کچھ نہیں کبھی کسی تقریب کا انعقاد کروا کے ایک آدھ تعریفی شیلڈ ہی انعام کر دیتے۔ مگر وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے خود انکی اہلیت اور غفلت کا پول کھلتا ہے۔ اللہ آپ کے خلوص کا آپکو اجر دے۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: