RSS

سلیم شہزاد کا افسوسناک قتل اور پاک فوج پہ الزام تراشیاں۔

06 جون

پتہ نہیں کیوں ہم ہر بات کو ہیر پھیر کر پاکستان کے دفاعی شعبوں پہ ڈال کر اپنے سارے فرائض سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔  بغیر کسی ثبوت کے اس سے پہلے کچھ لوگ افواج پاکستان کو بہ حیثیت مجموعی غدار کہہ چکے ہیں۔ جب بغیر کسی ثبوت و تصدیق کے ایسے افراد جنہیں ایک آزاد ملک میں آزاد میڈیا اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے بعد ایک آزاد رائے قائم کرنے میں اسقدر مسئلہ ہے تو پاکستان کے اندر رہنے والے ایک عام آدمی کو پاکستان کے بے ہودہ میڈیا اور پاکستان پہ اپنی خصوصی نطر کرم رکھنے والے این جی اوز غیر ملکی اداروں کے اردو ایڈیشنز جن کا مقصد ہی پاکستانی شہری کو اپنے صحفات پہ خصوصی ایجنڈے کے تحت۔ جن پہ اکثر بیشتر خبر دینے اور تجزئیہ نگار کا نام تک نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو انہی مخصوص لوگوں کا نام ہوتا ہے جنہیں پاکستان سے شدید بغض ہے جسکی ایک وجہ ایسے لوگوں کی قادیانیت سے ہمدردی بھی ہے۔ ان کے ذریعے پاکستانی نوجوان طبقے اور فارووڈ مائنڈ کو مایوسی اور ناکامی کا پیغام دینا ہے۔ تو ایسے بہت سے لوگ بغیر کسی مستند حوالہ جات کے زمانے کے چلن کے مطابق چند لائینیں اور کچھ جملو ں میں لکے آدھے صحفے کے اعلان میں فوج کو غدار اور سلیم شہزاد کا قاتل آئی ایس کو قرار دے کر بھارت امریکہ اور پاکستان کے دیگر دشمن ممالک کا کام آسان کر دیتے ہیں۔ ایک آرام دہ کرسی پہ محفوظ بیٹھ کر کمپیوٹر سے آدھ صحفہ لکھ کر چاند تارے توڑ لانے کا  زبانی کلامی عزم رکھنے والے جذباتی لوگوں کی اپنے ہی اداروں کو بغیر کسی ثبوت اور پیشگی تحقیق سے لکھے گئے الفاظ سے پاکستان کے اندرونی دشمنوں کے پاکستان کے خلاف زہریلے پروپگنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ ان اندرونی دشمنوں اور دنیا کی انتہائی تربیت یافتہ اور مالی اور تکنیکی وسائل سے مالامال خفیہ ایجینسیوں اور پاکستان کے دشمن ممالک کے مفادات پاکستان کی سالمیت کے خلاف ایک ہونے کی وجہ سے اکھٹے ہوگئے ہیں۔

 شاید بہت لوگوں کو علم نہیں ہوگا۔ کہ اس وقت پاکستان کے اندر مشرف کی وجہ اور اجازت سے سی آئی اے۔ ایم فائیو۔ را۔ موساد۔ خاد۔ خلق اور پتہ نہیں کون کون ایجینسیوں کے ذہین ترین اور انتائی تربیت یافتہ لوگ پاکستان میں پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کر رہے ہیں۔ اور ہمارے سیاسیتدان جو دوسری یا تیسری کے بچوں کی طرح ہر آئے دن امریکن ایمبیسڈر کو شکائیتیں۔ وضاحتیں اور درخواستیں لگاتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھی ان ایجنسیوں کے ایک قسم کے مراعات یافتہ اور تنخواہ دار ایجینٹوں کی طرح اپنی ذاتی اور گھٹیا مفادات کی خاطر پاکستان کے مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی سالمیت کی خاطر جان کی بازی لگانے والوں کو اپنے :۔” کھل کھیلنے “۔: میں (پاکستان کے اچھے یا برے لیکن) پاکستان کے دفاعی اداروں کو دیوار کے ساتھ لگا دینا چاہتے اور اگر یوں ہوتا ہے تو پاکستانی قوم جدید تاریخ کی شاید پہلی قوم ہوگی جو اپنے وجود کو محض ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی وجہ سے منتشر اور مفقود ہوجائے گی۔ اور پاکستان کے دشمن یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔ اور ہر وہ صحافی ۔ ادارہ ، وکیل۔ قادیانی، یا بکاؤ مال جو محض اپنے ذاتی معاملات کی وجہ سے پاکستان سے بغض رکھتا ہے وہ پاکستان کے خلاف ان طاقتوں کے پے رول لسٹ پہ ہے۔

پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ جسے یہ پاکستان آرمی کی یونٹوں کی فارمیشن تک کے بارے علم نہیں وہ بھی قسم قسم کے ٹی وی اینکرز اور غیر معروف صحافی ہر قسم کے قومی مفاد کو پس پشت دالتے ہوئے محض نمبر بنانے کی بے وقوفانہ دوڑ میں شامل اور کچھ اپنے آقاؤں کو خوش رکھنے کی خاطر۔ پاکستان دفاعی اداروں اور حال میں کراچی کے نیول بیس پہ اپنی جان لڑا کر رات کے اندھیرے میں حملہ آور وہنے والے انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد کمانڈوز کو انکے مذموم مقاصد کی تکمیل میں جان دینے والے شہداء تک پہ انگلیاں اٹھانے اور الزام تراشی سے باز نہیں آئے۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پہ جنہوں نے انکی خاطر جان سے گزر جانے والے شہدا تک کو الزام تراشیوں سے نہیں بخشا۔ جبکہ انکی اپنی حب الوطنی اور اپنے اخبارات و ٹی وی چینلز سے وفاداری کا یہ عالم ہے کہ محض انہیں کچھ زیادہ معاوضے کا لالچ دے کر کبھی خریدا جاسکتا ہے ۔ جس کے لئیے وہ اپنے پچھلے ٹی وی چینل کے ساتھ کسی بھی معائدے کو روند کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور روپے کی خاطر ایسی اخلاقیات کے مالک لوگوں سے قومی مفاد کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اور ان کی یاوہ گوئیاں دیکھ کر انٹر نیٹ کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ہر تیسرا فرد ان سے بھی بڑھ کر دور کی کوڑی چھاپ رہا ہے۔ اسکی عمدہ مثال کچھ بلاگرز کے بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے الزام تراشیاں دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ الزام تراشی کرنے والے پہ اخلاقی اور قانونی طور پہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے الزام کی صحت میں کوئی شہادت ، ثبوت، دلیل، یا واقعہ وغیرہ پیش کرے۔ مگر نہیں صاحب جسے بڑی مشکل سے اردو کے درست ہجے تک نہیں لکھنے آتے وہ بھی اپنے آپ کو دانشوروں کے ذمرے میں شمار کرتا ہے۔ بے شک کرتا رہے واللہ ہمیں اس پہ بھی اعتراض نہیں۔ مگر وہ اپنی داشوری کے اظہار کے لئیے آغاز اسلام ،نظریہ پاکستان ۔ پاکستان۔ افواج پاکستان۔ پاکستانی خفیہ دفاعی ادارے۔ بھارت ماتا کے ترانے و نغمے ۔ امریکہ درآمد مادر پدر آزاد روشن خیالی۔ سے کرتا ہے۔ جیسے پاکستان اور پاکستانی قوم کے مزھبی جزبات کا کوئی نانی نانا ہی نہ ہوا اور غریب کی جورو کی طرح جسکا دل چاہتا ہے اسے سے ٹھٹھہ مخول کرنے انٹر نیٹ پہ چڑھائی کرتے ہوئے اپنی بے وقوفی یعنی پاکستان کے رواج کے مطابق اپنی دانشوری کا اعلان کر دیتا ہے۔

اگر فریق مخالف جن پہ یہ اپنی لعن طعن سے اپنی داشوری کی بنیاد کا آغاز کرتے ہیں ۔ ایسے تمام نام نہاد دانشوروں میں سے صرف چند ایک گوشمالی کرنے پہ اتر آئے تو یقین مانیں نناوے فیصد دانشور مصلے پہ نظر آئیں اور ہر کسی کو انتائی عزت کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ شریف آدمی کبھی اسطرح کی حرکات نہیں کرتا یہ صرف شر سے لبریز اور شریر لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ اور شریر لوگوں کو شر سے باز رکھنے کے ضابطے دنیا کی ہر قوم نے مقرر کر رکھے ہیں۔

پاکستان میں دن میں سینکروں قتل ہوتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہر قتل میں آئی ایس آئی ملوث ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں ریمینڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو ایسے افراد کا پتہ ہو۔افراد جنہیں ماضی میں واقعتا حکومتی اداروں کی طرف سے قومی سلامتی کے بارے بریف کیا گیا ہو کہ کس طرح ان کی بے تکی دانشوریاں جو درحقیقت ان میں اکثر پاکستانی صحافیوں کی کسی نہ کسی طرف سے دانہ ملنے کی وجہ سے اپنے اپنے آقاؤں اور بتوں سے وفاداری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور ایسے افراد کو بریف اور ڈی بریف کرنا اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے مکر فریب یا جان کے خوف یا اپنے اندیدہ آقاؤں کے اشارے پہ جان کی دھمکی ظاہر کرتے رہے ہوں ۔ اور اس سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی اداروں کو مزید کلفژر میں مبتلاء کرنے اور دباؤ میں لانے کے لئیے ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ انھیں پار لگا  دیا ہو۔ اور اپنے باقی میڈیا ایجینٹوں کو اشارہ کر دیں کہ شور مچانا شروع کردو۔

فوج  سے ہمیں بھی شکایات ہیں اور فوج پہ تنقید بھی کرتے رہے ہیں مگر اس دور میں جبکہ پاکستان سخت مشکلات سے دوچار آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اپنے اخراجات کی وجہ سے اور لیبیا جیسے نسبتا کم خرچ اور بہت ہی بالا ترین تیل کی وجہ سے اس طرف توجہ کر رہا ہے۔ ویسے بھی امریکہ کی جنگ جوئی تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ کسی بھی قوم پہ اپنا قبضہ دیرپا قائم نہیں کرسکا۔ اور وہ آج نہیں تو کل یعنی ایک دو سالوں سے افغانستان سے اسے نکلتے بنے گی۔ مگر وہ جانے سے پہلے بھارت کو علاقے کی بالا طاقت اور افغانستان کو پاکستان کے شمال میں ایک بڑے حریف اور کرزئی جیسے  شخص کو افغانستان کا حاکم چھوڑ کر جانا جاتا ہے اور بھارت اور خود امریکہ پاکستان پہ اسی صورت میں بالا دستی قائم کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتیار انھیں ھدف تک پہنچانے کے لئیے مزائیل وغیرہ کو کسی طرح ناقابل استعمال بنا دینا چاہتا ہے ۔ یا ممکن ہو تو پاکستان کی جوہری تنصیبات کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہتا ہے۔یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان اندرونی طور پہ خلفشار کا شکار ہو کر کمزور ہوچکا ہوگا۔

ہمیں آنکھیں کھولنی چاہئیے اور قطار اندر قطار اپنی صحفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہئیے تانکہ اقوام عالم اور خاصکر پاکستان کے دشمنوں کو یہ پیغام جائے کہ کہ پاکستانی قوم اپنے مشکل وقت میں متحد ہے اور پاکستان کے وجود پہ کسی بھی بری نظر ڈالنے والے کے دانت کھٹے کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

Advertisements
 

ٹیگز: , , , , , , , , , ,

4 responses to “سلیم شہزاد کا افسوسناک قتل اور پاک فوج پہ الزام تراشیاں۔

  1. میرا پاکستان

    جون 7, 2011 at 12:13

    معاف کیجئے گا جناب ہماری پوسٹ "آپنی فوج ہی غدار” پاک فوج پر نہیں تھی بلکہ ان مقبوضہ ملکوں کی افواج پر تھی جن پر قابضین قبضہ برقرار رکھنے کیلیے انہی ممالک کی فوج کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

     
  2. Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

    جون 9, 2011 at 01:59

    افضل صاحب!۔

    محترم !

    خوش آمدید-
    میں نے الزام نہیں رکھا ۔ بلکہ آپ کی اصل پوسٹ کا لنک بھی دیا ہے۔ میں آپ پہ کسی قسم کی الزام تراشی نہیں کر رہا۔ صرف اتنی گزارش کر رہا ہوں کہ ہمیں قوم کو درپیش مشکل دور میں آپس میں اپنی صفیں اور اتحاد قائم رکھنا چاہئیے اور کچھ بھی لکھنے سے پہلے اپنے قاری کے بارے سوچنا چاہئیے کہ ہماری تحاریر سے اسکے رائے پہ مثبت یا منفی اثر پڑ رہا ہے تو کیوں؟۔ بس اتنی سی گزارش ہے۔

     
  3. ڈاکٹر جواد احمد خان

    جون 10, 2011 at 12:35

    جناب جاوید گوندل صاحب ،
    نیا بلاگ مبارک ہو بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بلاگ کا ریوایول مبارک ہو. خوش آمدید .آپکی آمد سے بلاگستان میں ضرور رونق آئے گی اور قارئین کو عمدہ اور پر مغز تحاریر پڑھنے کو ملیں گی ..موضوع پر کچھ کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ آپکی پاک فوج سےجذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور میرے جذبات اس فوج کے لئے اچھے نہیں ہیں.

     
    • Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل

      جون 10, 2011 at 16:03

      محترم ڈاکٹر جواد احمد صاحب!

      احقر بلاگ پہ آپکو خوش آمدید کہتا ہے۔

      پاک فوج سے نہ وابستگی ہے نہ غیر وابستگی۔ نہ اسکے خلاف ہوں نہ حمایت میں۔ اگر کوئی تعلق بنتا ہے تو محض اتنا سا جتنا کسی بھی پاکستانی کا پاکستان کے ایک نسبتا منظم ادار سے بنتا ہے۔فوج پہ شدید اعتراضات اور تحفظات رہے ہیں۔ مگر جب پاکستان اور پاکستان پہ حکومت اور فوج کی حماقتوں کی وجہ سے مسلط کئے گئے حلات کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں۔ کہ فوج سے اعتراضات و تحفظات کے باوجود عین اسی طرح جس طرح پاکستان میں موجودہ حکومتی ناہل مربع سے پاکستان پہ حکومت کرنے کی انکی اہلیت سے تحفظات ہیں مگر پاکستان کے سبھی فہم و ادارک کے حامل لوگ اور سیاستدان موجودہ حکومت کو اپنا دور پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے۔ کیونکہ ملک و قوم ایسی صورت میں مزید منتشر ہوگی اور پاکستان کسی ایسے ایدونچر کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ بعین اسی طرح فوج جیس بھی ہے۔ کم ازکم ایک یوار کھڑی ہے۔ جو پاکستان اور پاکستان کے دشمنوں کے درمیان حائل ہے۔ یو کہہ لیں کہ یہ ہماری مجبوری ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے غلامی کے مہیب دن دیکھ رکھیں ہیں۔ جو قومیں غیر ملکی افواج کے قبضے سے گزر رہے ہیں۔ جن پہ غیر ملکی قبضہ رہا ہے یا بدستور ہے۔ انکے حالات اور پاکستانی عوام کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

      اسلئیے اگر پاکستانی فوج کسی وجہ سے دیوار کے ساتھ لگا دی گئی تو خدا نخواستہ ہمارا انجام دوسری مقبوضہ قوموں سے زہادہ خوار ہوگا۔ کیونکہ ہمارے دشمن کمینگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔

      البتہ فوج کے گیر نصابی یعنی اپنی حداود سے تجاورز کرنے کو دنیا کی باقی ساری اقوام کی طرح سخت چیک ہونا چاہئیے۔

       

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: