RSS

بونے، دیو، اور ٹھگ۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کسی جگہ بھلے مانسوں کے کچھ گروہ نسلوں سے رہتے آرہے تھے۔ انکا پیشہ کھیتی باڑی کرنا تھا۔ ان میں کچھ ٹھگ بھی رہتے تھے۔ٹھگوں نے انہیں نسل درنسل یہ احساس دلا دیا تھا کہ وہ بھلے مانس تو “بونے “۔ ہیں۔ اسلئیے انھیں باقی دنیا اور اسکے بدلتے حالات سے کیا لینا دینا۔ جبکہ وہ بھلے مانس واقعی میں اپنے آپ کو بونا سمجھنے لگے۔اسلئیے انھیں بھی اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا کہ باقی دنیا بھی انھیں “بونے “۔ کہہ کر پکارے۔

بونے تو سارا دن کام کاج اور مشقت کرتے۔ جبکہ ٹھگ سارا دن اس ہیر پھر میں رہتے کہ بونوں کی سخت مشقت اور محنت کا پھل کسی طرح ھتیا سکیں۔ بونے بہت بھولے بھالے لوگ تھے۔ عقل اور دانش جو تھی وہ خداد داد تھی۔ دنیا اور تجربے سے انہیں فہم و دانش کشید کرنے کا نہ موقع ملا اور نہ ہی انہوں نے اسے اپنے لئے لائق اشتناء جانا۔

جبکہ ٹھگ بظاہر تو بونوں سے قدرے کچھ زیادہ فہم کے مالک تھے۔ مگر وہ اپنے تجربوں اور ہیراپھیریوں کو آپس میں بیان کرتے۔ اسطرح ٹھگنے کے نت نئے طریقوں اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہتا۔ جو بدلتے زمانے میں ان کے بڑا کام آتیں۔ ٹھگ بڑے سمجھدار تھے اگر سمجھدار نہ ہوتے تو ٹھگ نہ ہوتے۔ جبکہ بونے فہم و ادراک بانٹنے یا تجربے سے حاصل کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کو بیان کرنے، تقسیم کرنے کو اپنی شیخی خوری کی وجہ سے سے ایک کمتر عمل سمجھتے تھے۔ بونوں کو کوتاہ قامتی کے احساس نے کہیں کا نہ رکھا تھا۔ جس کے باعث ان میں ٹھگوں کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہ پیدا ہوسکی۔

شمال اور مغرب سے چلنے والی تند و تیز آندھیوں کے ساتھ کچھ بادشاہ بھی کبھی کبھار بونوں پہ حملہ آور ہوتے۔ اور غیر قومیں بونوں کے کھیت کھلیانوں پہ قبضہ کر لیتیں۔ بونوں سے بیگار لیتیں۔ ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیتیں۔ جو بونے بچ پاتے وہ پہاڑوں یا دور دارز کے علاقوں میں بھاگ جاتے۔ اب ایسے میں ٹھگ کیا کرتے تھے؟۔ ٹھگ اس دوران ادہر ادھر ہوجاتے اور حالات معمول پہ آجانے کے بعد پھر سے بونوں کو نئے طریقوں سے لوٹنا اور ٹھگنا شروع کردیتے۔

جب بھی نیا حملہ آور حملہ کرتا ٹھگوں کے بھاگ بھی جاگنے لگے۔ نئے لوگوں کو بونوں کے بارے سب معلومات اور انکے کھیت ۔ کھلیانوں اور اناج نیز ہر اس شئے سے جس سے حملہ آوروں کو فائدہ ہو، اس بارے جاننے کے لئیے ٹھگوں کی ضرورت پڑتی۔ اور ٹھگ جو اپنے تجربے سے گھاگ ہوچکے تھے۔ وہ جہاں پناہ اور جہاں پناہ کرتے انعامات کے طور بڑی بڑی زمینوں اور حد نظر سے آگے بڑی بڑی جاگیریں اور ان میں بسنے والے بونوں کی جان مال اور عزت کا اختیار حاصل کرتے کرتے خود سے چھوٹے موٹے بادشاہ سے بن گئے۔ اور اوپر سے ٹھگ۔

بونوں کے گھر میں ایک دن ایک دیو قامت پیدا ہوا۔ دیکھنے میں تو وہ باقیوں جیسا لگتا مگر وہ فولاد حوصلہ تھا۔ اس نے بونوں سے کہا “بھئی بات ہے یوں تم لوگ صدیوں سے بھگتتے اور جان چھپاتے پھرتے ہو۔ کھیتیاں تم کاشت کرتے ہو۔ محنت کرتے ہو اور پھل، دور دیس کا بادشاہ لے جاتا ہے۔ اپنے اندر ہمت پیدا کرو۔ آخر کب تک یوں ہوتا رہے گا؟۔ آؤ دنیا کے باقی لوگوں کی طرح ایک باقاعدہ ایک ریاست اور حکومت بناؤ اور اغیار کے طوق غلامی کو اتار پھینکو۔” ٹھگوں کو پتہ چلا کہ ریاست کے ساتھ حکومت بھی ہوگی۔ انھیں ریاست میں تو کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی مگر اسکی بادشاہی بھلی لگی۔ جس کے سامنے انھیں اپنی جاگیریں اور زمین داریاں ننھی منی نظر آنے لگیں۔ ٹھگ تو وہ تھے ہی انہوں نے فٹ چولا بدلا اور بونوں کے ہمدردوں کے طور پہ اس دیو سے جاملے کہ ہمیں بھی اس مہم میں شامل کر لیا جائے۔

جبکہ بونے مان کے ہی نہیں دے رہے تھے کہ وہ اپنی کوتاہ قامتی کے باعث دنیا کے باعزت لوگوں کی طرح کچھ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس دیو قامت کو بڑی پریشانی ہوئی۔ جسکا احساس ان کچھ لوگوں کو بھی تھا جو نہ تو ٹھگ تھے اور نہ ہی اپنے آپ کو بونا سمجھتے تھے۔ مگر سوائے درد رکھنے کے کچھ کر نہیں پارہے تھے۔ ان دردمندوں میں ایک ایسا “جادوگر” بھی تھا جسکا جادو اسکی شاعری تھی۔ جو پانی میں بھی آگ لگا دیتی۔ ایک دن وہ اس دیو قامت کی خدمت حاضر ہوا اور بونوں کو انکے قد کا احساس دلانے کی ذمہ داری میں اسکا ہاتھ بٹانے کی درخواست کی۔ پھر کیا تھا اسکی شاعری اور دیو قامت کی فولادی مستقل مزاجی۔ بونوں کو اپنی کوتاہ قامتی کے احساس کمتری سے نجات ملنے لگی۔ جادوگر کی لگائی آگ نے بونوں کو انکے قد کا احساس دلانا شروع کر دیا اور دیو نے اپنے فولادی عزم سے بونوں کو ایک ریاست تشکیل کردی۔ جہاں بونے آزاد تھے۔بونوں کو اپنی طویل قامتی کا احساس ہونے لگا تھا۔ اور شمال مغرب سے کوئی بادشاہ ان پہ حملہ نہیں کرسکتا تھا۔

ٹھگوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ وہ چولا بدل کر نئی حکومت سے حصہ بقدر جثہ پانے پہ راضی نہیں تھے۔ وہ تو بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ انہوں نے مغرب کی ایک راجدھانی سے ساز باز کر کے دیو کو زہر دلوا دیا۔ اس راجدھانی سے نیاز حاصل کر کے خود بونوں کے بادشاہ بن بیٹھے۔ اور بونوں کو یہ احساس دلا دیا کہ انکی طویل القامتی محض دیو کے طلسم کا جادو تھا جو دیو کے مرنے کے ساتھ ہی ٹوٹ گیا۔ اور بونے وہ وہی صدیوں پرانے نسل در نسل بونے ہیں۔

ٹھگوں کی موجاں ہی موجاں تھیں۔ جو ٹھگ مر جاتے وہ جانے سے پہلے اپنی نسل میں سے کامل ٹھگ کو جو دوسروں کی نسبت “ٹھگی” میں زیادہ مہارت رکھتا۔ اُس کو آئیندہ بادشاہی کے لئیے ولی عہد کے طور مقرر کر جاتے۔ بونوں کو بے وقوف بنائے رکھنے کے لئیے ٹھگ آپس میں ایک دوسرے کو دشمن کہتے اور بدل بدل کر بادشاہ بھی بنتے۔ جو باقاعدہ خاندانوں کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ دور دیس کی راجدھانی نے کبھی ایک ٹھگ اور کبھی دوسرے ٹھگ کو بادشاہ بنائے رکھنے کا معاملہ کرنے کے لئیے۔ ان سے جو قیمت اور حصہ وصولنا شروع کیا تھا۔ اسے آئے دن نت نئ شرائط کے ساتھ ذیادہ سے ذیادہ وصولنا شروع کردیا۔ جسے پورا کرنے کے لئیے ٹھگوں نے بونوں سے اور زیادہ بیگار لینی شروع کردی۔ اور اسمیں سے اپنا اور اُس “راجدھانی” کا حصہ بڑے آرام سے وصول لیتے۔ مگر وہ بونوں کے لئیے کچھ نہ چھوڑتے۔ بونے اپنا اناج ٹھگوں کو اٹھا دیتے اور خود بھوک سے لاغر ہوتے گئے۔ کچھ نے بھوک سے تنگ آکر خود کشی کر لی ۔ کچھ خود کش بن گئے۔ بچے بکتے گئے۔ بھوک سے مرتے گئے مگر بونوں کو اپنی کوتاہ قامتی کے وہم نے کہیں کا نہ رکھا۔ وہ ٹھگوں کے سامنے اپنی آواز کبھی بھی بلند نہ کرسکے۔

کبھی کبھار ان بونوں میں ایک آدھ دیو قامت قاضی یا ایک آدھ دیو قامت ایماندار جو ٹھگوں کی لوٹی ہوئی دولت بونوں کو واپس دلوانے کی سعی کرتا۔ مگر ٹھگوں نے۔ ٹھگوں کے بڑے بڑے خاندانوں نے ان دونوں اور اسطرح کے چند دیو قامت لوگوں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا۔ ایک دیو قامت قاضی اور ایک دیو ایماندار اہلکار بونوں کے لئیے جان لڑانے پہ اتر آیا مگر بونوں میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے حق کے لئیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اور قاضی اور اہلکار کا ساتھ دیتے۔ ان کی کوتاہ قامتی کے وہم نے ان سے ہمت اور جرائت چھین لی۔ ورنہ چند ٹھگ انکے گھروں کے چراغ نہ بجھا پاتے اور نہ بونوں کے پیٹ کمر سے جالگتے۔ بونے ایک دوسرے کو ٹُکر ٹُکر دیکھتے رہتے۔ اپنی کوتاہ قامتی کے وہم پہ شاکر۔

ایک دفعہ کا ذکر پاکستان میں ہر روز کا ذکر ہے۔

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,

غمِ یار و غمِ روزگار۔


جو لوگ یورپ، امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک میں معاشی مجبوریوں کی وجہ سے پھنس چکے ہیں۔ ان میں سے ننانوے فیصد کے بچے بلکہ نسلیں اب کبھی بھی دوبارہ لوٹ کر پاکستان میں آباد نہیں ہونگی۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔

جس طرح ، جن لوگوں نے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھائے۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لیا۔ کبھی گنے توڑ کر چوس لیے۔ نہر پہ نہا لیا۔ دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مکئ کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔

الغرض ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو ہر ایک اپنے ماحول کے لحاظ سے اپنے اپنے دور میں بچپن اور لڑکپن میں ملیں۔ جن سے انھوں نے بھرپور لطف اٹھایا ۔ بس نمبر اچھے آئے۔ یا شریک برادری میں کسی کا لڑکا کسی فارن کنٹری کیا گیا، باپ یا بڑے بھائی نے اپنے بیٹے کو بھی جیسے تیسے کر کے یورپ بجھوا دیا ۔ امریکہ کا ویزا لے دیا۔ اس ویزے کی خاطر ، بسا اوقات ماں نے اپنے زیور بیچے، باپ نے کچھ زمیں گروی رکھ کر ادھار لیا۔ آبائی زمین اونے پونے بیچ ڈالی۔ بس پھر کیا تھا بیٹا باہر چلا گیا، تعلیم مکمل کی۔ پاکستان اسے بہت چھوٹا نظر آیا۔ وہاں مواقع نہیں۔ معقول جابز نہیں۔ ہر شاخ پہ ایک ایک الؤ بیٹھا نظر آیا اور گلستان کے انجام سے زیادہ اپنے انجام کی فکر دامن گیر ہوئی۔ باہر ہی اچھی جاب کی آفر آگئی ۔ بعضوں کو آفر کے ساتھ ساتھ نینسی نے بھی اپنے آپ کو پیش کردیا۔ بس پھر کیا تھا مزے ہی مزے، اچھی جاب، گرم خون، چڑھتی جوانی، بھری جیب، نینسی کا ساتھ یا پاکستان میں گھر والوں کا دیا گیا وی آئی پی پروٹوکول، نشہ ہی نشہ۔ کہاں تو بچہ پاکستان میں کسی پھٹے والے کے پاس تین ہزار روپے میں سارا دن ویلڈنگ سے آنکھیں خراب کرتا تھا اور کہاں یورپ امریکہ وغیرہ میں ہر مہینہ پاکستانی ایک لاکھ کی بچت پاکستان جانے لگی۔ کچے مکانوں سے جان چھوٹی۔ مکان پکے اور پھر کوٹھی میں تبدیل ہوگئے۔ پہلے پہل پچاس سی سی کا نیا ھنڈا آیا۔ پھر سارے گاؤں میں واحد سکینڈ ہینڈ کار گھومتی نظر آنے لگی۔ شریک جل کر زیر لب دو تین ننگی گالیاں دیتے اور ملنے پہ بظاہر مسکرا دیتے ۔اس دوران ماں کو چاند سی بہو لانے کا شوق اٹھا بس پھر کیا تھا۔ لڑکا جی باہر ہے ۔ کوئی ایسی ویسی بات ہے ۔ میرا بیٹا ایک لاکھ پاکستانی گھر بھیجتا ہے ۔ خیر بہو بھی مل گئی اور شادی پہ بگھیوں پہ بارات گئی۔ پورا گاؤں کئی ماہ بعد بھی تزکرے کرتا رہا کہ خیر سے جی ولیمے پہ پچاس پچاس کاریں آئیں تھیں۔ شہر کا مشہور میرج ہال ( گاؤں والوں کے نزدیک شادی حال) بُک کروا لیا گیا نو قسم کے کھانے سولہ مصالحوں کے ساتھ کھلائے گئے ۔ پورے گاؤں میں ڈولی(دلہن کو بیاہ کر لائے جانے کی) کی ایک کلو مٹھائی فی گھرانہ بانٹی گئی۔ بے بے ہر آتی جاتی ملنے والی سے بات کرتے ہوئے نوٹوں کی ایک دتھی (گڈی)ہاتھ میں لے کر قسم قسم کے مانگنے والیوں میں کمال نخوت سے باٹنے لگی۔

شادی ہوگئی ، بہو رہ گئی، بیٹا عازمِ سفر ہوا۔ پہلے بے بے کی مدھانی بجلی کی آئی تھی اور باپ کے کلف لگے کپڑے پریس کرنے کے لئیے استری آئی تھی۔ اب بہو کے لئے ہئیر ڈرائیر، ڈیجیٹل کیمرہ ، سیمی کمپیوٹر موبائل ٹیلی فون۔ مووی کیمرہ اور برانڈنڈ پرفیوم اور کاسمیٹکس آنے لگا ۔ بہور ہر روز روز اول کی طرح سجنے دھجنے لگی۔

بے بے اپنے لاڈلے کی کمائی میں اچانک ایک نئی حصے دار کو دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گی ۔ یہ تو ماں کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ لاڈلے کی کمائی میں کوئی اچانک دعویدار بھی پیدا ہوجائے گا اور دعویدار بھی خود سے تلاش کی ہوئی چاند سی بہو۔ بیٹے کی فضول خرچیاں اور بہو کے انداز دیکھ کر ماں سر پیٹ کر رہ گئی۔ پہلے پہل بیٹے کو فوں پہ دبے لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔ بات بہو پہ بھی آشکارہ ہونے لگی ۔ بیٹا دو کشتیوں کا مسافر پھنس کر رہ گیا۔ بیوی کو اپنا درد بتایا، بیوی ساس سے لڑ کر روٹھ کر میکے جابیٹھی۔ بیچ بچاؤ کرنے والوں نے پوری کوشش کی مگر لڑکی والے اڑ گئے کہ بیٹی اب یہاں سے تبھی جائے گی جب اس کا خاوند اس کا باہر کا ویزاہ بیھج دے گا۔ ورنہ ہمیں کوئی بوجھ تھوڑا ہے ۔ نہ ہمیں اپنی بیٹی بھاری ہے۔ بیچ بچاؤ کرانے والوں نے بہت کوشش کی، بات نہ بنی۔ آخر کار چاند سی بہو باہر ہی گئی۔

لڑکے کے ماں باپ کو کبھی کبھار کچھ رقم ملنے لگی۔ پہلا پوتا کوئی سال بھر باہر ہی ہوا ۔ اسکا نام شازل رکھا ۔ دوسرے سال نازل رکھا چوتھے سال بہو بیٹا پاکستان ملنے آئے تو شازل نازل کے علاوہ گودی میں کچھ ماہ کی نازلی بھی تھی۔ پاکستان اور گاؤں کی فضا، مکھیاں، مچھر، گرمی، حبس، ماحول کی گھُٹن، بجلی کی آنکھ مچولی، نوٹوں سے بھرا پرس (بٹوا) مگر اشیاء ندادر، شہر دور، بہو بیٹے کا تین ماہ کا پاکستان پروگرام بڑی مشکل سے پچیس دن چل سکا اور وہ واپس لوٹ گئے ۔ شازل نازل کا اسکول نازلی کی لگاتار مزید دو بہنوں کی آمد اپنا مکان خریدنے کی فکر نے اگلے پانچ سال صرف فون پہ ماں کی ٹھنڈی آہیں سنوائیں۔ بوڑھا باپ مزید بوڑھا ہوگیا۔ بہو نے بھی باہر کے رنگ ڈھنگ اپنا لیے واک، پارک، مارکیٹس، ذاتی گاڑی، ذاتی مکان، بچوں کی پڑھائی، اتنے اخراجات، اُف ہر ماہ یہ رسید وہ رسید یہ بل وہ مکان کی قسط۔ بوڑھے ماں باپ کا ملنے کا اصرار، بہن کی شادی، جیسے تیسے بہو بیٹا بمع اپنے پانچوں بچوں کے باہر سے آئے (یہ باہر امریکہ یورپ وغیرہ کا کوئی بھی ملک یا کوئی بھی صارف ملک یعنی کنزیوم سوسائٹی ہو سکتی ہے)۔ پانچوں باہر کے اچھے ماحول اچھی خوراک کے پروردہ نازک سے پھولوں کو پھپھو کی شادی پہ رلتے دیکھ کر بہو کا کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ بڑی مشکل سے شادی کی رسومات ختم ہوئیں۔ ہفتے دس دن بعد بچوں کی تعلیم کا بہانہ کر کے بہو واپس لوٹ گئی۔ بیٹے نے کمر خمیدہ بوڑھے ماں باپ کو اپنے ساتھ لے جانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے ۔ آخر کار بڑی منت سماجت سے وہ بیٹے کے ساتھ محض اس لئے باہر چلے گئے کہ اب انھیں سنبھالنے والا کوئی خاص نہیں تھا۔ بیٹا بار بار آ نہیں سکتا۔ باہر بوڑے ماں باپ ہر وقت اپنے گاؤں اور رشتے داروں کو یاد کر کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ، بہو کا غصہ بھی ہر وقت ناک پہ اڑا رہتا اور بہو تنی رہتی۔ ماں باپ نے منت سماجت کر کے بیٹے کے مامے کے پاس واپس جانے کی ٹکٹیں کروا لیں۔ وہ پاکستان چلے گئے ۔ ایک دن مامے کا فوں آیا تمہاری ماں سخت بیمار ہے اگر منہ دیکھنا ہے تو فوراً آجاؤ۔ بڑی مشکل سے ٹکٹ لیکر بیٹا روتا پیٹتا رستے میں تھا کہ فون آیا ماں قضائے الہٰی سے مر گئی ۔ برف لگا دی گئی ہے منہ دیکھنا ہے تو پہنچ جاؤ۔ دوسال گزرے پھر باپ بھی لقمہِ اجل ہوگیا۔

اب شازل نازل گریجوئیشن کر رہے ہیں۔ انکے دوست ڈیوڈ ، اسمتھ، لزا۔ روزی ہیں۔ وہ باہر ہی پلے بڑھے ہیں ۔انکے ہیرو مکی ماؤس سے ہوتے ہوئے انتونیو بندیرا ہیں۔ وہ برگر کنگ اور مکڈولنڈ جیسی فاسٹ فوڈ پہ اپنے دوستوں سے ملتے ہیں۔ کوک پیتے اور جمعہ کے جمعہ اور کسی کسی ویک اینڈ پہ باپ کے ساتھ مسجد اور اسلامک سنٹر جاتے ہیں ۔ شام کے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ اور عربی میں خطبہ سنتے ہیں۔ چھ میں سے چار کلمے اور پوری نماز بڑی مشکل سے جانتے ہیں۔ اپنی بہنوں نازلی شازلی وغیرہ کو گھر پہنچ کر انگریزی میں روز کے نئے نئے تجربے بیان کرتے ہیں۔

ابا بوڑھا ہو چکا ہے اسے اپنے بچپن میں اسکول آتے جاتے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ اسلم کے ڈیرے سے بیر توڑ کر کھانا۔ رستے میں آتے جاتے آنکھ بچا کر مکئی کا بھٹہ توڑ لینا، کبھی گنے توڑ کر چوس لیے، نہر پہ نہا لیا، دن کو دیکھے اور تاڑے گئے بالُو کے کھیت کے پکے پکے تربوزوں پہ رات کو شب خون مار لیا۔ چپکے سے گھر کی چھتوں سے اترے اور آدھی آدھی رات تک جنگل میں بے فائدہ سؤر کے شکار میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اسکول کالج سے آنے کے بعد بھینسوں کو پانی چارہ ۔ نہلا دھلا ، دودھ دھلوا، ڈیرے پہ رات کو کتوں کو کھلا چھوڑنا۔ سخت گرمی کی دوپہروں کو ساگ پات دال سبزی اچار چٹنی مک کی روٹی مکھن گھی کی دوستوں کے ساتھ دعوتِ شیراز۔ گاؤں محلے کی چوپال پہ بڑے بوڑھوں کی ہزار دفعہ سنی سنائی بے مقصد باتیں۔ عید بقرعید پہ چوری چھپے سینما دیکھنا۔ سب بہت شدت سے یاد آتا ہے۔ مگر شازل نازل کا بچپن ویڈیو گیمز اور سپائیڈرمین کے اسٹیکر چینج کرتے، اسکول کالج کے لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیتے گزرا ہے۔ وہ باپ کی پاکستان، پاکستان کی گردان پہ باپ کو عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ باپ کے بہت اصرار پہ بیزارگی سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا گھستے ہیں۔

اب ان بچوں کے ماں یا باب کے دارِ فانی ہونے پہ زیادہ سے زیادہ انکی میت(ڈیڈ باڈی) لکڑی اور لوہے کے ٹھنڈے تابوت میں، جس کے اوپر چہرے کے سامنے چوکور شیشہ لگا ہوگا اور تابوت کو کسی بھی صورت نہ کھولنے کی ہدایت ہوگی، اس تابوت میں بند کروا کے ماں باپ کے جاننے والے انہی جیسے دوست یا علاقے کے لوگ چندہ اکھٹا کر کے انکے آخری سفر پہ پاکستان بیجھیں گے۔ گاؤں کی مسجد میں اعلان کیا جائے گا۔ جہاں گاؤں والے ایک ٹھنڈی قبر کے پاس آدھی رات کو باہر سے آنے والی میت (ڈیڈ باڈی) جسے چند بڑے بوڑھوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہوگا ۔ اس کی قبر پہ آدھی رات کو گاؤں کے لوگ بیزارگی سے انتظار کر رہے ہوں گے کہ صبح صادق جنازہ پڑھا کر اس ناخوشگوار فرض کو پورا کر سکیں۔

اس ماں اور باپ کے بعد (اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد) ان بچوں کو، انکے بچوں، بچوں کے بچوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ انکی کوئی یاد پاکستان یا اپنے آبائی گاؤں سے وابستہ نہیں ہوگی۔ انکے بیر، بانٹے، ٹھنڈے تربوز کی یادیں سب باہر ہی ہونگی۔ وہ باہر جس کا سفر شریک برادری کو نیچا دکھانے کے لئے یا بچے کے اچھے نمبر آنے سے شروع ہوا تھا ۔ وہ باہر اپنے ساتھ ایک نسل ہی نہیں بلکہ آئیندہ پوری نسلیں ہی ساتھ لے گیا۔

جس بستی کے مان سنوارنے نکلا تھا
لوٹا ، تو وہ بستی ہی نہیں تھی

نوٹ۔: میری یہ تحریر افضل جاوید صاحب نے اپنے بلاگ “میرا پاکستان” پہ چھاپی ہے اور انگلینڈ میں اردو کے ایک پرنٹ میڈیا اخبار پہ بھی چھپی ہے۔ میں کبھی کبھار کوشش کرونگا کہ ادہر ادہر بکھری ہوئی اپنی تحریریں یہاں چھاپ دیا کروں۔

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , , ,

حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔


حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔

ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پہ کشمیر بے شک ایک متنازعہ خطہ ہے جسکا الحاق بھارت یا پاکستان سے ہونےکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔اسلئیے ہر دو ریاستیں بھارت اور پاکستان اپنے نقشے میں ہر فورم اور ہر جگہ کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل رکھتی ہیں ۔ مگر اس بلاگرز سمٹ میں پاکستان کے نقشے میں کشمیر کا نقشہ جان بوجھ کر نہیں دکھایا گیا ۔ جو بھارتی موقف سے زیادہ نزدیک اور پاکستانی موقف کے خلاف ہے ۔ پاکستان میں اور پاکستانی کریم یعنی پاکستانی بلاگرز کی موجودگی میں یوں ہوا ہے۔جس پہ ہمارے علم کے مطابق ماسوائے ایک بلاگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ کسی بلاگر کی طرف سے اس بارے کچھ کہا گیا ہو۔ اور پاکستانی میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہوا ہے مجال ہے میڈیا کی طرف سے کوئی احتجاج یا بیان جاری ہوا ہو؟

پاکستان میں سال میں بلا مبالغہ ہزاروں قتل ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ مارنے والے کون تھے؟۔ مرنے والا کون تھا؟ ۔ پھر موضوع سے براہ راست متعلق نہ ہونے کے باوجود سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کیوں؟ محض اسلئیے کہ ۔۔ ۔ تیرے خواب میری خواہشیں ہے کہ۔۔ تیرے نام سے جڑا ہے نام میرا۔۔ کے مصداق اس ناحق قتل جسکی پاکستان کے ہر زی ہوش انسان نے مذمت کی ہے۔ اس ناحق قتل کے محض گھنٹوں بعد اس ناحق قتل میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا۔

امریکی قونصلر نے پاکستان میں قونصل خانے سے باہر پاکستان کے ایک ہوٹل میں جس میں غیر ملکی بھی موجود تھے ۔ سلیم شہزاد کے ناحق قتل کا ذکر کرتے ہوئے۔ سلیم شہزاد کے قتل کی وجہ حق لکھنے کی سزا بیان کرتے ہوئے جہاں کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں بر سرعام مداخلت کرتے ہوئے سفارتی آداب کو پامال کیا ہے۔ وہیں سلیم شہزاد کے قتل کو حق لکھنے کی سزا بیان فرما یا ہے ۔ سزا؟ کیوں؟کس نے دی؟؟ پہلے ہیولوں کو وجود دیا گیا پھر ہر طرف ہاہا کار مچائی گئی کسی اندیدہ قوت کے اشارے پہ اس ناحق قتل پہ پاکستانی خفیہ ایجنسی اور بہت سوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتی پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑتی، پاکستان کے خلاف سازشوں کا توڑ کرتی، عالمی معیار کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی جس کا تعلق پاکستانی افواج سے جا بنتا ہے اس پہ سلیم شہزاد کے قتل کا ملبہ ڈالا گیا۔

پاکستان کی اٹوٹ بٹوٹ این جی اوز مخصوص مقاصد رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی میڈیا کے ذریعئے ۔ اس قتل کے فورا بعد اگلے دن ہی پاکستان کے خلاف یو این و یعنی اقوام متحدہ سے پاکستان کے خلاف ریزولیشن لانے اور اس پہ پابندیان لگانے کی فرمائیش کی گئی اور کچھ نہیں تو پاکستان کو عالمی کریمنل کورٹ میں گھسیٹا جائے۔ ان دیدہ قوتیں جنکا اپنا ریکارڈ انسانی حقوق کے حوالے سے شرمناک حد تک خراب ہے ۔ انہیں سلیم شہزاد کے قتل یا اسکے ناحق قتل سے لین دین نہیں۔ مگر “بچُو اب بتاؤ ۔ زیادہ اکڑ دکھاؤ گے تو ہم یہ بھی کرنا جانتے ہیں۔” یہ پیغام تھا پاکستان کو جو اپنی سالمیت کے خلاف پے در پے واقعات کی وجہ سے بھنایا ہوا ہے۔ اور اگر اندیکھی قوتیں ہمارے حکمرانوں کو مزید لولی پاپ دینے میں ناکام رہیں تو بہت ممکن ہے پاکستان انکے اثر رسوخ سے نکل جائے۔ اور کئی دہائیوں سے کھوئی وہئ آزادی پا لے جو ویسے بھی دو تین سالوں تک افغانستانیوں کی مستقل مزاجی اور حریت کی وجہ سےخطے سے ان طاقتوں کے عزائم ختم ہونے کے بعد پاکستان کے بکاؤ مال کوچوسی ہوئی ہڈی کی طرح نکال باہر پھینک دیا جائے گا۔ مگر یہ طاقتیں تب تک پاکستان پہ اپنا مکمل رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

چند ایک مخصوص ذرائع ابلاغ کے مخصوص عالمی ادارے اور اردو ایڈیشن کے حامل غیر ملکی ابلاغی ادارے نے اس پہ حسب عادت خوب خوب روشنی فرمائی۔ ہم فوج کی ترجمانی نہیں کر رہے اور نہ ہی افواج پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی دکھا رہے ہیں ۔مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان نے بھی اس کیس کی عدالتی کمیشن بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ تانکہ ائی ایس آئی پہ لگا ئے گئے الزام کی حقیقت سامنے آسکےاور دودھ کا دود پانی کا پانی ہوسکے جبکہ پاکستانی حکومت اس بارے لعیت و لعل سے کام لیتی رہی ہے جس سےکنفیوژن برابر قائم رہے گا ۔ تو کیا ہر اسطرح کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی اٹھا دینا کیا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے؟ اور قابل شرم بات یہ ہے کہ اسمیں مشکوک ماضی رکھنے والے پاکستانی میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ کیا یہ اس ایڈ کا شاخسانہ ہے جو ایسے صحافیوں کو امریکہ اپنی پالیسز کے بارے نرم رائے رکھنے ۔ نرم رائے بنانے کے لئیے دے رہا ہے۔

ذرا تصور کریں ۔ نیو یارک میں پاکستانی سفیر یا کوئی پاکستانی قونصلر امریکی زرائع ابلاغ یا امریکہ کے کسی طور نمائندہ لوگوں کو مدعو کرے۔ انکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ابو غریب جیل میں بے گناہ مظلوم لوگوں پہ ڈھائے گئے حیوانی مظالم کے باوجود بھی انکی زندگی میں دلچسپی کو دنیا کی گنی چنی کامیاب کاوشوں میں قرار دے۔ جو بے شک ایک جائز بات کہی جاسکتی ہے ۔ مگر اسی وقت مدعوعین پاکستانی سفارتکار کو آڑے ہاتھوں لیتے کہ پاکستانی سفارتکار کو وہاں سے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ۔اور اگر سفارتکار میں اڑنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہوتی توکم از کم امریکن مدعوین دعوت پہ دو لفظ بیجھتے ہوئے واک آؤٹ کر جاتے اور اگلے دن اس سے اگلے دن اور آنے والے ہفتوں میں پاکستانی سفارتکار کو سفارتی آداب سکھانے کے لئیے میڈیا پہ اور میڈیا سے باہروہ طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا کہ اس سفارتکار کو امریکہ چھوڑتے ہی بنتی۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر امریکہ بدر کر دیا جاتا۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ اکثریت بڑی مشکل سے اپنا گزارہ کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے سات کروڑ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہنے پہ مجبور ہیں ۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے کا مطلب کہ غریب وہ ہوتا ہے جسے دوقت کا کھانا مل جاتا ہے۔ جس کے پاس غریب ہی سہی مگر مستقبل کی ایک منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ مگر غریبی کی لکیر سے نیچے چلے جانے کا مطلب روٹی روزی دوائی دارو جیسی سخت ناگزیر ضرورتوں کے لئیے بھی بے یقینی ہونا ہے کہ اگر ایک وقت کا کھا مل گیا ہے تو اگلے وقت کے کھانےکاجتن کیسے ہوگا۔ بچے بیمار ہے تو دوائی کے لئیے دوسرے بچوں کی روٹی کے لئیے رقم نہیں ۔

ایسے ملک میں کمپیوٹر ، انٹر نیٹ کنیکشن اور کچھ کہنے کی خواہش رکھنے والے ، لکھنے والے ، بلاگنگ جیسی سوجھ بوجھ رکھنے والے پاکستانی فہم و ادراک رکھنے اور اسے الفاظ کا جامہ پہنانے اور اور دوسروں سے شئیر کرنے میں۔ وسائل میں، اور سب سے اہم وجہ رسوخ رکھنے میں۔ دیگر عام پاکستانیوں سے بدرجہا بہتر اور انتہائی آگے ہیں۔ اسلئیے انھیں زیر بار کرنے ا ور انہیں مخصوص نتائج کے حوالے سے ۔ نئی جہتیں فراہم کرنے اور کم از کم پاکستان سے سوقیانہ رویہ رکھنے والی طاقتوں کا خیرخواہ بناے کی اس مشق میں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ کسی پاکستانی بلاگر کو عزت مآب قونصلر سے اس بارے بات کرنے سوال کرنے۔ یا اپنی باری آنے پہ یہ پوچھنے کی توفیق نہ ہوئی کہ مائی باپ آپ پاکستان کے ایک ایسے قضئیے کو موضوع سے متعلق نہ ہونے کے باوجود جوڑ رہے ہیں جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اس ناحق قتل کے محرکات کیا تھے۔ اور کن لوگوں نے یہ مذموم قدم اٹھایا اور ہر صورت میں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ۔ کیا ہوا ہماری حکومت کسی وجہ سے آپ کے سامنے نہیں سر اٹھاتی مگر ہم آزاد بلاگرز پاکستان کے آزاد شہری آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ حق کس نے بخشا ہے کہ آپ ہمیں آزاد بلاگری کا سبق پڑھاتے ہوئے ۔ ہمارے ملک میں ہمارے سامنے پاکستان کے اندرونی متنازعہ معاملات پہ بیان بازی کر رہے ہیں۔نیز آپ کشمیر کے نقشے کے بغیر پاکستان میں پاکستانی نقشے کی کانٹ چھانٹ کس استحقاق کی بنیاد پہ کی ہے؟ کیوں جب سے آپ کے اقتدار کا سایہ پاکستان پہ پڑا ہے تب سے پاکستان نامی پودا شاد باغ ہونا بھول چکا ہے۔ فرض کر لیں ہمارے عزت مآب بلاگرز کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی یا رزق کو حلال کرنے کی عادت کے ہاتھوں فوری طور پہ کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تو کیا بعد میں اپنے بلاگز پہ اس ساری مشق اور شو کے بارے لکھتے ہوئے بھی رزق کا حلال کرنا ہاتھ باندھ رہا تھا؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں کچھ کہنے کا حق صرف حاتم کو ہی ہوتا ہے۔

امریکی قونصلر کی وہ لاکھوں بلکہ ملینز بلاگز یا پاکستانی بلاگرز کبھی ہم بھی ڈھوند نکالیں گے۔ اگر کبھی موقع ملا تو۔ یوں تو نہیں کہ عزت مآب قونصلر کی خواہش کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔۔۔۔ کہ ملیئنز کے حساب آزاد خیال ۔۔روشن خیال ۔۔ پاکستانی بلاگز ہوں اور بلاگرز وہ کچھ کر دکھائیں جو کھمبیوں کی طرح پاکستان میں ہر طرف اُگی غیر ملکی سرمایہ سمیٹتی لاڈلی اور “گواہی” دیتیں ۔پاکستان کے اندر، پاکستان کے خلاف مہاراج “تھانیدار”کے سفید پوش کا کرادر ادا کرتیں قسما قسم کی این جی اوز باوجود مہاراج کی سخت مشق کے پاکستان کے خلاف مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکیں؟۔ بہر حال خیال اچھا ہے ۔ ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑے کر دئیے گئے اور اتنے زیر بار کہ کسی نے یہ تکلیف نہیں کی کہ پوچھ ہی لیں حضور آخر آپ اتنی زحمت جو کر رہے ہیں۔ اس میں آپ کا بھی کوئی منافع ہے اور اگر ہے تو حضور کتنا اور کس سمت سے ہے۔

اکھٹے ہوئے کھایا پیا گپ شپ لگائی اور جن کا کھایا ہو انکی گیت نہ بھی گائے تو ان پہ انگلی اٹھانے سے باز رہیں گے۔ رزق حلال کرنا پاکستانی قوم کا پرانا شیوہ ہے۔ انکے ایک ہزار ایک وہ عمل جن پہ پہلے انگلی اٹھائی جاسکتی تھی اب کون اٹھائے گا؟۔

کیا ہم امید رکھیں کہ پاکستانی بلاگرز آزاد ہونے کا حق ادا کرتے رہے گے یا ہم یہ سمجھ لیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کسی نے سچ کہا تھا کہ۔” حاتم اور دسترخوانی کے رشتے میں دستر خوانی کو حاتم کے قصیدے کہنے پڑتے ہیں”۔

 

Tags: , , , , , , , , , , ,

مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔


مشکوک آئی پیز۔ گالم گلوچ اور قانون۔

محترمہ ! حجاب ِ شب !! کے بارے میں اردو بلاگنگ پہ سیر کرنے والے اس بات کی شہادت دینگے کہ ان کی تحریریں بے ضرر سی سلجھی ہوئیں اور عام سے موضوعات پہ اپنی سادگی کی وجہ سے انتہائی دلچسپ ہوتی ہیں۔ مگر انھیں اور دیگر بلاگرز کو گالیاں لکھی جارہی ہیں۔ اور ان سے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو گا تو شاید نام نہاد روشن خیالوں کو مگر “اہمیت آپا” باوجود اپنی کم علمی اور اضافی روشن خیالی اور انکے “بغل بچے” سے یہ امید نہیں کی جاتی کہ وہ اسقدر لغو حرکت پہ اتر آئیں گے۔ ویسے بھی اختلافات اپنی جگہ سبھی اردو بلاگستان کے حسین پھول ہیں جن کے دم سے اردو بلاگستان پہ رونق ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جزاک اللہ بریگیڈ کے ساتھ انٹر نیشنل مرازئیت کو ذیادہ تکلیف ہے ۔ کیونکہ وہ بھی مولوی اور ملا سے چڑے ہوئے ہیں اور پاکستان میں اپنے عزائم کی راہ میں مولوی اور ملا صاحبان کو بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔ایسا کچھ عرصے سے بہت سے بلاگرز کےساتھ یوں ہوتا آرہا ہے۔ اور اسمیں ایک بات مشترک ہے کہ انہی بلاگرز کے ساتھ یوں ہوتا ہے جو اپنے مسلمان ہونے پہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
MULA@YAHOO.COM
174.36.29.73

اس آخری والی آئی پی سے کسی نے مجھے بھی اوپر والے نام سےغلیظ گالیاں لکھ بیجھی تھیں۔ یہ آئی پی کی رجسٹریشن “ویسٹ ڈیلاس” امریکہ میں “پارک ہاؤس اسٹریٹ” سے ساڑھے پانچ سو فٹ اور کانٹنیٹل ایو سے بمشکل پونے دو سو فٹ پہ واقع ہے۔

پوری یورپی یونین اور اسپین میں خاصکر آجکل انٹر نیٹ کو عام استعمال کی شئے بنانے کے لئیے جہاں بلاگنگ اور فورمز وغیرہ بنانے اور آزادی اظہار رائے کو قوانین کے تحت تحفظ کو مزید بہتر کیا جارہا ہے وہیں۔ کسی کو ای ۔ میل اور بلاگ یا فورم اٰیڈریس پہ جسے قوانین میں ایک طرح کی ای میل ہی سمجھا جاتا ہے کے ذریعے دھمکی دینا۔ فراڈ کرنا۔ یا گالی گلوچ یا بچوں کو ڈبل ایکس ریٹیڈ یا تشدد پہ مبنی وغیرہ لنک بیجھنے سے متعلق بہت سخت کئیے جارہے ہیں ۔

عرصہ دراز سے اسپین کی انٹر نیت سے سائینٹیفک پولیس اس بارے تفتیش میں یوروپ وغیرہ میں کلیدی رول کرتی آئی ہے۔ اور نہائت جانفشانی سے کم عمر بچون سے متعلق فاحش سائٹس اور بنکنگ فراڈ سے ۔عام آدمی کے تحفظ اور کم عمر بچوں کے انٹر نیٹ پہ حقوق کی حفاظت سے متعلق۔ اور کسی کو دھمکی ، اسپیم میلز، یا زبردستی کی کاروباری معلومات جب صارف نے منع کر رکھا ہو۔ اور گالی گلوچ ، ذاتی، سیاسی، مزھبی (اسلام، عیسائت ، یہودیت کوئی سا بھی مذھب ہو کہ تینوں مزاھب یہاں سرکاری طور پہ تسلیم شدہ مذھب ہیں) یا کسی کے عقیدے کی وجہ سے اسے ای میلز کے زرہئے توہین کرنا وغیرہ سختی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اور اس جرم کا پیچھا کرنے کی کوشش کی جاتی خواہ اسکا پتہ لگانے کے لئیے کسقدر ہی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑے اور اسکے ڈانڈے اسپین یا یوروپی یونین سے باہر کسی تیسرے ملک سے جا ملیں۔ وہاں کی پولیس کو شامل کو کیس کی تفتیش کرنے کی استدعا کی جاتی ہے۔

وجہ اسکی صرف یہ ہے کہ اسپین اور اسکے علاوہ دنیا کے بے شمار ممالک بجلی اور فون کے بلز سے لیکر بینکوں میں رقوم ٹرانسفر کرنے اور گھر بیٹھ کر اپنے اکاؤنٹس کو آپریٹ یا ہینڈل کرنا جسے آن لائن بینکنگ کا نام دیا گیا ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں یوروز کی نقل حرکت روازانہ انٹر نیٹ پہ ہوتی ہے۔ آلو ، کھیرے اور ٹماٹر جیسی روز مرہ کی باورچی خانے کے عام استعمال کی اشیاء سے لیکر ریلوے، بسوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ٹکٹس کے علاوہ کسی قسم کی کوئی بھی چیز انٹر نیٹ پہ خریدنے کا رواج عام ہے۔

انتہائی مصروف وزارتوں کا بوجھ انٹرنیٹ پہ منتقل کردیا گیا ہے۔ جس پہ صارف اپنی سہولت سے گھر بیٹھے عام معاملات نمٹا لیتا ہے۔ اور مختلف قسم کے سرٹیفیکیٹس کا اجرا اور دستاویزات اپنے پرنٹ کرتے ہوئے وزارتوں کے دفاتر سے بچتا ہے وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچ جاتا ہے وہیں بڑی بڑی منسٹریز کا کام کم ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ وہاں ملازم رکھے جاتے ہیں اور عمارتوں اور سیٹنگز ہالوں سے جان چھوٹنے سے اخراجات میں کمی ہوتی ہے، یعنی سہولت اور بچت، عوام اور حکومت دونوں کے مفاد میں ہونے کی وجہ سے انٹر نیٹ کو رواج دئیے اور اسطرح کی سہولتیں یعنی ڈاکٹرز سے مشورہ۔ یا فیملی ڈاکٹر سے ملاقات کا وقات طے کرنا یہ سب انٹر نیٹ کی وجہ سے آسان اور سستا ہوگیا ہے۔

اسپین اور اسطرح کے دیگر ممالک ہر سال انٹرنیٹ کے استعمال ، اسے سادہ بنانا، صارفین کو اسکے استعمال کرنے کو قائل کرنا، وغیرہ کے لئیے ۔ یہ ممالک اپنے اہداف مقرر کرتے ہیں اور پھر اسے حاصل کرنے کے لئیے مناسب تہشیر اور بجٹ مقرر کرتے ہیں۔

اسلئیے انٹر نیت پہ گھومتی معلومات اور انکے تحفظ کے لئیے اسپین اور دیگر ممالک بہت کوشاں ہیں۔ اس حوالے سے اسپین سائبر کرائمز سے متعلق سائنٹفیک پولیس نہائت متحرک ہے اور مقبولیت اور اہلیت رکھتی ہے۔ اور اسے اردگرد کے ممالک میں بھی نہائت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انکے کام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے انٹر نیٹ پہ گھومتی لاٹری جس میں بطور خاص خواتین اور بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔کے ایک سلسلے میں سائبر جرائم سے متلق پولیس کو آگاہ کرنے کی وجہ سے بات چیت کا موقع ملا ۔ تو بہت سے امور پہ روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ صرف اسلئیے اپنی ہیرا پھریوں میں کامیاب رہتے ہیں یا دوسروں کو ای۔ میلز وغیرہ سے تنگ کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے خلاف لوگ پولیس سے رجوع کرنے کی بجائے ایسی ایسی مشکوک میلز ڈیلیٹ کر دینا ایک آسان حل سمجھتے ہییں

سائبر کرائم سے متلعقہ اسپین کی سائنٹفک پولیس کے افیسرز نے بتایا کہ “ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اگر کوئی اسے اسطرح کی حرکت کی وجہ سے تنگ کر رہا ہے تو وہ ہمیں اطلاع کرے ۔ ہم مکمل چھان بین کریں گے۔ نیز جعلی آئی پیز سے کی گئیں ای۔ میلز اور اسطرح کے دوسرے سافٹ وئیرز سے جس میں فیک یا جعلی آئی ڈی آئی پیز سے گالی گلوچ کر کے اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ وہ اپنی اصلی آئی ڈی اور آئی پی چھپا لے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ کیونکہ پولیس کے لئیے ایسی ای میل کے مبنع کا سراغ لانا قطعی مشکل نہیں ۔ اور دوسرے ممالک کی پولیس سے اس بارے کاروائی کرنے کی استدعا کرنا ہمارے فرض میں آتا ہے۔ ورنہ لوگ انٹر نیٹ کو استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے اور انکا اعتماد انٹر نیٹ پہ نہیں بڑھے گا اور حکومت کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مشکل ہوگی۔ آزادی اظہار رائے ہر انسان کا حق ہے اور کھلے عام بحث میں کوئی بھی فرد اپنے جزبات کا اظہار کر سکتا ہے ۔ مگر کسی کو دہمکی دینا یا صاحب بلاگ کا منع اور بلاک کرنے کے باوجود اسے اسپیمز سے تنگ کرنا ، یا بغیر اجازت کے کاروباری اشیاء فروخت کرنے کے لئیے تشہیر کرنا ۔ گالی گلوچ دینا جرم تصور کیا جاتاہے۔ جن میں مختلف جرمانوں سے لیکر قید تک کی سزا دی جاتی ہے”۔

اور میں سوچ رہا ہوں ۔MULA@YAHOO.COM 174.36.29.73 اسکے بارے آگاۃ کر دوں۔ یا ایک موقع اور دوں شاید یہ خباثت سے باز آجائے۔

ذیل میں وہ آئی پیز اور انکے ایڈریس ہیں جن کے بارے محترمہ حجاب نے لکھا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
xamples: 213.86.83.116 (IP address) or google.com (Website)
178.162.134.29 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.134.29 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-134-29.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….
178.162.131.60 IP address location & more:
IP address [?]: 178.162.131.60 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: DE
IP address country: Germany
IP address state: n/a
IP address city: n/a
IP address latitude: 51.0000
IP address longitude: 9.0000
ISP of this IP [?]: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Organization: Leaseweb Germany GmbH (previously netdirekt e. K.)
Host of this IP: [?]: 178-162-131-60.local [Whois] [Trace]

……..— …… —– …… —– ……………— …… —– …… —– …….

174.36.29.73 IP address location & more:
IP address [?]: 174.36.29.73 [Whois] [Reverse IP]
IP country code: US
IP address country: United States
IP address state: Texas
IP address city: Dallas
IP postcode: 75207
IP address latitude: 32.7825
IP address longitude: -96.8207
ISP of this IP [?]: SoftLayer Technologies
Organization: EasyTech
Host of this IP: [?]: 174.36.29.73-static.reverse.softlayer.com [Whois] [Trace]
Local time in United States: 2011-06-12 16:09

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , ,

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔


ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔

خدایا۔ اب اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان پہ چڑھائی کردیتا ہے اور قبضہ کرلیتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے عوام کو ئی مزاحمت نہیں کریں گے کہ ہم اسی قابل ہیں ۔ ہم انسانیت کے ہر معیار سے گرچکے ہیں۔ سیالکوٹ کے واقعہ میں دو حافظ برادران کا قتل ۔ اخروٹ اباد میں غیرمسلح مسافر فیملی کا سفاک قتل۔ سلیم شہزاد کا نیوی کی اہلیت پہ سوال اٹھائے جانے کی وجہ سے سلیم شہزاد کا مشکوک قتل جس کا شک پاکستانی خفیہ دفاعی اداروں پہ کیا جارہا ہے۔جو ممکن ہے غلط ہو ۔مگر کچھ لوگ اس بارے بڑے وثوق سے بات کرتے ہیں اور آخر میں اس سترہ سالے لڑکے کا قتل۔ خواہ اس سے نقلی پستول ہی کیوں نہ برآمد ہوا ہو اور اسکی نیت پارک میں کسی واردات کی ہی کیوں نہ تھی۔ مگر ایک ایسے جرم کی سزا بغیر کسی قاضی۔ شہادت ۔ گواہی۔ مقدمے۔اور صفائی کا موقع دئیے بغیر جرم کی سنگینی سے کہیں زیادہ سزا یعنی سفاک قتل ۔ خدا ہمیں بہ حیثیت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے معاف کرے۔ وہ منت کرتا رہا ۔ ہسپتال لے جانے کی سماجت کرتا رہا ۔ گولی چلائے جانے سے قبل اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تھی۔ اسطرح کسی ماں کی آغوش اجاڑ دینا ظلم ہے اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔

ممکن ہے اس بدنصیب نے محسوس کر لیا ہو کہ اسے اب جان سے مار دیا جائے گا اور وہ لڑکا گولی چلانے والے اہلکار کی طرف بڑہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ اہلکار اس حرکت کو رائفل چھینے پہ منبطق کرتا ہے اور وہ ایک دفاعی ادارے کا تربیت یافتہ ملازم ہونے کے باوجود محض خوفزدہ ہوتے ہوئے گولی چلا دیتا ہے ۔ تو وہی بات آتی ہے کیا وہ لڑکا اتنا بے وقوف تھا کہ اتنے اہلکاروں کی موجودگی میں ایک رینجر کی رائفل چھیننے کی کوشش کرے؟۔ جس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ رینجرز کے اتنے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے اگر انہیں غصہ ہی تھا تو اسکو چند تھپڑ مار لیتے۔ بوٹوں سے ٹھوکریں اور ٹھڈے مار لیتے۔ مگر جب کہ اتنے لوگ اگر اسے دو دو چانٹے ہی لگا دیتے وہ ویسے ہی ادھ مواء ہوجاتا ۔ پھر وہ نہتا تھا اس کی تلاشی لیکر اسے ہتکڑی لگا سکتے تھے۔ اسے مارتے جو کہ پاکستانی پولیس اور اسطرح کے اداروں کا عام رویہ ہے مگر یوں اتنی سنگدلی سے وہ جان سے گزر گیا اور اتنے وردی پوشوں کا دل نہ پسیچا کہ اسے ہسپتال ہی پہنچا دیں۔ کچھ وقت کے لئیے مان لیتے ہیں ۔ تصور کر لیتے ہیں ۔ کہ اس نے رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔ اسنے نہتے ہاتھوں مقابلہ کرنا چاہا ۔ کہ ایک مرے ہوئے پہ جتنے مرضی الزام لگا دیں کونسا اسنے اٹھ کر ایسے الزامات کی تردید کرنی ہوتی ہے۔ مگر کیا گولی چلائے جانے کے بعد وہ قطرہ قطرہ خون بہاتا جان سے گزر گیا مگر کوئی اسکی مدد کو نہ آیا ۔ کسی ایک وردی پوش کا دل نہ پسیچا کہ وہ باقیوں کو آمادہ کرے کہ اسے ہسپتال لے چلیں۔ اسکا خون بند کردیں۔

اس قتل کی سفاکی سے وہ سارے افسانے درست معلوم ہوتے ہیں۔ جس میں پاکستان کے شمالی علاقوں۔ خیبر پختونخواہ اور ایجنسیوں میں قومی دفاعی اداروں پہ لگائے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں جو ہماری جنگ کبھی نہیں تھی۔ محض غیروں کی سازش اور مشرف کی بزدلی کی وجہ سے پاکستان کے عوام اور دفاعی اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش تھی۔ پاکستانی حکومت اور ملک رحمٰن جو امریکی مفادات کا اسقدر خیال رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بے بسی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور مجبوری کو دوروز پہلے عوام نے براہ راست ٹی وی پہ دیکھا۔ جس میں پشاور میں ایک فور بائی فور گاڑی میں سوار اور جعلی نمبر پلیٹ ہونے کے باوجود چار امریکی پاکستانی پولیس کو تلاشی دینی تو دور کی بات ہے۔ ان سے بات تک کرنے کے روادار نہیں تھے۔ انہوں نے فون ملائے اور بقول اخباری اطلاعات رحمٰن ملک کا فون آگیا۔ کہ انھیں باعزت روانہ کر دیا جائے۔جبکہ اس نام نہاد جنگ میں جس میں پورا پاکستان پور پور خون بہارہا ہے۔ جس میں پاکستان کے دفاعی ادارے بجائے اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کر رہے ہیں۔ جس میں پاکستان کے لوگ کام آرہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا پاکستان ایک مفتوح ملک ہے اور اس کے عوام دشمن ملک کے عوام ہیں۔ گھروں کے گھر اجڑ گئے۔ بستیاں تباہ ہوگئیں۔ گاؤں کے گاؤں کھنڈر ہوگئے۔ ڈرون حملوں سے لیکر اپنی ہی فوج کے توپخانے اور ایف سولہ جہازوں سے پاکستانی قوم ۔ عام عوام لہولہان ہو رہے ہیں۔ اور پاکستان کے دشمن ہماری اپنی ابوالعجمیوں کی وجہ سے ہم پہ قسم قسم کے دہشت گرد مقرر کرتے جارہے ہیں ۔ جو اداروں سے بچ جاتے ہیں دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ مسجدوں پہ پہرے اور چہروں پہ خوف منجمد ہے۔

آج بھی رحمن ملک کے بیان کے مطابق اس لڑکے نے رینجرز سے رائفل چھیننے کی کوشش کی تھی۔ ملک رحمن جو وزیر داخلہ ہونے کے ناطے اس سفاک قتل کی زمہ دار گردانا چاہئیے ۔ کسی مہذب ملک میں یوں ہوتا تو بہت ممکن تھا وزیر داخلہ کے ساتھ وزیر اعظم یعنی پوری حکومت مستعفٰی ہوجاتی۔ مگر نہیں یہ پاکستان ہے ۔ جس میں ہم نے اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے چور ڈاکو اور لٹیرے حکومت کے اعلٰی تریں مناصب پہ اپنے ہاتھوں سے بٹھا رکھے ہیں ۔ انھیں ہم دیوتا سے کم ماننے کو تیار نہیں۔ جب اعلٰی ترین مناصب پہ اسطرح کے لوگ ہوں گے تو اپکی پولیس بھی بدمعاش ہوگی ۔ آپکے ادارے بھی شتر بے مہار ہونگے۔ ڈاکو قاتل بھی کسی قسم کی اخلاقیات کے قائل نہیں ہونگے۔ اور عام شہری بھی اس راز کو پا جائے گا ۔کہ بے وقوف اس دنیا میں وہ ہے جو شرافت سے اپنے حقوق کا انتظار کرے۔

جب دنیا کے غریب ترین۔ ناخواندہ ترین۔ کرپٹ ترین ملکوں میں شمار ہونے والا ایک ملک ۔ اسکے حکمران محض مزید لوٹ مار کے لئیے اقتدار کے سنگھاسن سے ہر صورت میں چمٹے رہیں گے ۔ اور بجائے اپنے عوام، اپنی قوم، اور اپنے ملک کے حالات بدلنے کی بجائے ایک ہشت پہلو اور بے چہرہ جنگ کو جو ہماری کم اور اغیار کی زیادہ ہے ایسی بے ننگ و بے شرم جنگ جس میں پاکستان کا وقار گیا۔ خود مختاری گئی۔ عوام کے دلوں سے اپنے دفاعی اداروں کا احترام گیا۔ جس میں پاکستان کے اداروں کے اہلکار ،فوجی جوان اور افسر اور عوام مارے گئے۔ لہولہان ہوئے۔ جس سے ملک کی معاشی حالت گلی محلے کی کریانے کی دوکان کی طرح زمین سے آلگی۔ جس جنگ کی وجہ سے ملک میں کوئی سرمایہ داری کرنے کوتیار نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی اپنا سرمایہ باہر لے جارہے ہیں ۔ اپنی صنعتیں باہر منتقل کر رہے ہیں۔ جس جنگ کی وجہ سے عوام کو توانائی یعنی تیل۔ بجلی ۔پٹرول اور آٹا ۔چینی۔ چاول ۔الغرض دو وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ جسکے شہری روزی روٹی کی خاطر اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ رہے ہیں یا بچے بیچنے پہ مجبور ہیں اور جب کچھ نہ بن سکے تو خودکشیاں کرلیتے ہیں۔ننگ ملک جنگ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جس میں پاکستان کا کوئی ایک پہلو محفوظ نہیں ۔ جس میں پاکستان کا کوئی مفاد آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جس سے پاکستان کو بجائے فائدہ ہونے کے سراسر ہر قسم کے نقصان ہوئے ہیں۔ جو پچھلی ایک دہائی سے زائد پہ محیط جاری ہے کہ اس دوارن ایک نسل جوان ہوچکی ہے۔ جس جنگ کے دواران ہماری ساری توانائی اور توجہ اس نام نہاد جنگ کی طرف رہی ہے اور اس دروان دشمن نے پاکستان کے اندر اپنے ہر قسم کے مفاد کے لئیے خوب آبیاری کی ہے۔ ہمیں صوبائی۔ لسانی ۔ مسلکی۔ اور علاقائی تعصب میں جکڑ کر رکھ دیا ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں جو پاکستان کی پمپنگ مشین ہے جس پہ اسے بجا طور پہ پاکستان کا دل کہا جاسکتا ہے۔ اسمیں پٹھان مہاجروں ۔ پنجابیوں، سندھیوں ،بلوچیوں کو مار رہے ہیں۔ مہاجر پٹھانوں کو پنجابیوں کو، سندھیوں کو ، بلوچیوں یعنی ہر غیر مہاجروں کو زمین برد کر رہے ہیں اور پنجابی۔ مہاجروں کو پٹھانوں کو بلوچیوں سندھیوں کو اور بلوچی۔ پنجابیوں کو پٹھانوں کو مہاجروں کوسندھیوں کو مار رہے ہیں۔ جبکہ یہ سارے پاکستانی پاکستانیوں کو مار رہے ہیں۔ مسلمان مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ کیا انہیں سوچنا نہیں چاہئیے کہ دشمن کا کام ہم نے کسقدر آسان کر دیا۔ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے عیار دشمن نے ہمیں اسکی جنگ لڑنے پہ مجبور کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے اندر کئی طرح کے ناسور کاشت کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ تو کیا وہ وقت ابھی بھی نہیں آیا کہ اس جنگ جس میں ہمارا سب کچھ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور باقی کا بچا کچا تباہ ہونے کو ہے ۔ ہم اس جنگ سے ہاتھ کینھچتے ہوئے اپنے ان معاملات جیسے تعلیم ۔صحت ۔روزگار ۔ توانائی کی بحالی اور اسطرح کے ان اہم امور پہ توجہ دیں جس سے ملک بنتے ہیں۔ شخصیتوں کی بجائے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ امن اور روزگار کی وجہ سے عام عوام مایوسی سے نکل کر مثبت سوچ اپناتے ہیں۔ انکی سیاسی بالیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سارے وسائل پاکستان کے عوام پہ استعمال کریں۔ انہیں شعور بخشیں۔انکے مسائل حل کریں۔ اور گھر گھر کے سامنے بندوق تانے اہلکاروں اور فوج کو سرحدوں کی نگرانی پہ بیجھا جائے۔ قانون ساز ادارےاپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو اولیت دے کر انکی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔سکون ہو ۔ اور پورے ملک کے طول وعرض میں لگی آگ بجھے۔ بہت ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے معذرت کرنے کی وجہ سے اگر پھر باہر سے ۔ سرحدوں کی طرف سے ہم پہ جنگ مسلط کی جاتی ہے ۔ تو عوام بھی اداروں کے۔ فوج کے شانہ بشانہ ہونگے، اور دوبدو جنگوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ۔جیسے جاپان اور جرمنی جنگ ہار کر پھر سے سب سے اگلی صحفوں پہ کھڑے ہیں۔ اسلئیے اگر خداہ نخواستہ ہم باہر سے مسلط کی گئی دوبدو جنگ ہار بھی گئے۔ تو پھر سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے،

اور دل میں یہ صدمہ نہیں ہوگا کہ ہم نے غیروں کی جنگ میں خوار ہو کر اپنے ہی کم عمر نہتے نوجوانوں کو سفاکی سے قتل کرڈالا۔

 

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,

خدا ، مناظرہ اور گھمنڈ۔


خدا ، مناظرہ   اور  گھمنڈ۔

جیسے کہ آجکل انٹرنیٹ پہ ایک صاحب کچھ موضوعات پہ بڑے دھڑلے اور سرعت سے اپنے تئیں عالم فاضل سمجھتے ہوئے اسلام، قرآن کریم ، نبوت، احادیث  یعنی جن امور پہ روئے زمین کے مسلمان اتفاق کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان ان امور پہ طنز یا  لایعنی بحث  کو اپنے عقائد،  پہ اپنے دین پہ  حملہ تصور کرتے ہیں۔ اس پہ ہاتھ صاف کئیے جارہے ہیں۔اورہر اگلی پوسٹ پہ قلابازی کھاتے ہوئے ایک نیا شوشہ  چھور کر سمجھتے ہیں کہ اپنے تئیں اپنی فہم فراست کے سامنے سب کو کوتاہ قامت قرار دے ڈالا ہے۔ سبحان اللہ ۔جبکہ کہ ایسی عقل پہ سبھی خندہ زن ہیں۔

 ایک بات نوٹ کی گئی ہے۔ کہ پاکستان کے نام نہاد روشن خیالوں کو اور اپنے آپ کو “کچھ” سمجھنے والوں کو درحقیقت یہ وہم سا ہوجاتا ہے کہ جی بس!اب ہم ہیں ناں۔ کوئی نکتہ ملے سہی معقولیت کی بات کرنے والوں کی ایسی تیسی کردیں گے۔

دوسرا مسئلہ ان کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ اسی زعم میں یہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور یہ دونوں طبقے یعنی نام نہاد روش روشن خیال اور “میں کے مارے ہوئے نام نہاد عالم فاضل” دونوں میں ایک شئے مشترک ہے کہ دونوں حد سے زیادہ خود پسند ، جعلی تفاخرکا شکاراور اپنے آپ کو توپ قسم کی چیز سمجھتے ہیں۔ اورایک دوسرے کو مکھن لگاتے ہیں۔ پالش کرتے ہیں اورایسے مضحکہ خیز دلائل دیتے ہیں کہ بقول شخصے “ہاسہ” نکل آتا ہے۔ دوسروں کو اپنے زعم میں وہاں چوٹ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں اسے تکلیف زیادہ سے زیادہ ہو۔ مثلا ۔ اسلام۔ نظریہ پاکستان۔ پاکستان۔ اسلام پسندی۔ معقولیت پسندی۔  وغیرہ

ایسی حرکات پہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا معرکہ مارا ہے۔ دراصل یہ ایک طرح کے  احساس کمتری کی ایک شکل ہے۔ جس کا آغاز شروع میں دوسروں پہ اپنی نام نہاد علمیت کا رعب ڈالنے سے، اور  دھاک بٹھانے کی لایعنی کوشش سے شروع ہوتا ہے اوررفتہ رفتہ یہ مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔اوربالا آخر مریض اسی گمان میں دین و دنیا حتٰی کے اپنے رفقاء تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن نہیں جانتے عین اسوقت جب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا۔ پاکستانیوں کا۔ پاکستان کا۔اسلام کا۔ استہزاء اڑا نے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان بے چاروں کو پتہ نہیں ہوتا کہ عین اسوقت ان کی ان حرکات کی وجہ سے انکا اپنا مذاق اڑایا جارہا ہوتاہے۔ اور خدا جانتا ہے کہ کتنی بار انکا استہزاء اڑایا جائے گا۔

جس طرح کسی کھیل کے کچھ اصولوں پہ کھیل شروع کرنے سے پہلے اتفاق کرنا ضروری ہے اسی طرح مباحثے اورمناظرے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ فریقین واضح طور پہ آگاہ کریں کہ وہ بنیادی اصولوں کو مانتے ہوئے اپنے دلائل میں آگے بڑھیں گے۔ یعنی جس موضوع پہ مباحثہ کرنا مقصود ہے اس  پہ ہردونوں فریقوں کو اپنا نقطعہ نظرواضح  کرنا لازمی ہوتا ہے کہ کہ کونسا فریق موضوع کے حق میں یا مخالفت میں اپنے دلائل دے گا۔ اور فریق مخالف انہیں رد کرتے ہوئے اپنے موقف کی حمایت میں دلائل دے گا۔ مثلا اگر ایک فریق خدا پہ یقین رکھتا  ہے تو وہ خدا کے وجود پہ دلائل دے گا اور اگر دوسرا فریق اگرخدا پہ یقین نہیں رکھتا  تو وہ خدا کےعدم وجود پہ اپنے دلائل دے گا یوں خدا کے وجود یا عدم وجود سے متعلق موضوع آگے بڑھے گا۔ لی جئیے اس موضوع پہ مناظرے و مباحثے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک لازمی اصول طے ہوگیا ہے۔

اب یہ نہیں ہو سکتا  کہ  ان اصولوں کو جسے تسلیم کرتے ہوئے ایک فریق تو ہر اصول کا پابند ہو کر نہائت سلجھے طریقے سے دلائل دیتے ہوئے ہر ممکنہ سنجیدگی سے خدا کے وجود پہ دلائل دیتے ہوئے اس موضوع پہ آگے بڑھے جبکہ فریق مخالف انکے دلائل کے جواب میں غیر سنجیدگی سے انکا ٹھٹھ اڑا دے۔ اور جب کہ وہ خود جس نے خدا کے وجود پہ بحث کی دعوت دی ہو وہ خدا کے منکر ہونے سے انکار کرتے ہوئے  حضرت عیسٰی ابن مریم علیہ والسلام پہ بحث شروع کردے۔ وہاں سے  سے اگلی جست میں کمپیوٹر تیکنالوجی پہ اترانے لگے۔ اورمصرہو کہ اس کے موقف کو درست تسلیم کرلیا جائے۔

یہ یونہی ہے کہ کوئی ہاکی کھیلنے کی خواہش رکھنے والا جب وہ یہ محسوس کرے کہ کھیل پہ اسکی گرفت کمزور ہورہی ہے اوروہ ہار جائے گا تو ہاکی  کی اسٹک کو ایک طرف پھینک کر گیند کو پاؤں سے  کھیلنا شروع کردے ۔ اعتراض کریں تو وہ فٹ بال کے اصولوں پہ بحث شروع کردے۔ اوراگلی قلابازی میں اسی اصول کے تحت ہاکی کے میدان میں ہاکی کی اسٹک سے کرکٹ کھیلنے پہ اصرار  کرے۔ جب اتنی تیزی سے یکطرفہ طورپہ ضوابط تبدیل کئیے جائیں گے تواسے کھیل نہیں بے ہودگی تصور کیا جائے گا۔

اس لئیے اس طرح کے کسی معقول اورسنجیدہ مناظرے کے لئیے ۔ جب آپ ایک بحث چھیڑتے ہیں تو آپ پہ لازم ہے کہ پہلے آپ اپنا کردارواضح کریں۔ اگرموضوع ادیان یا مذاہب سے متعلق ہے تو آیا آپ مسلمان۔ عیسائی۔ کافر۔ دہریہ۔ میں سے کس سے تعلق رکھتے ہیں؟۔ آپکا واضح موقف کیا ہے؟۔ تانکہ آپکی بات سمجھنے میں آسانی ہواورآپ کو کوئی دلیل دی جاسکے۔ مثال کے طورپہ اگردہریہ ہیں تو دہریت کی بنیادوں پہ خدا کے وجود کے سے انکار کر رہے ہیں تو ایسا ہونے سے فریق اؤل یعنی خدا پہ یقین رکھنے والے آپکی سرے سے خدا کو تسلیم ہی نہ کرنے کو جانتے ہوئے اس نظر سے آپ کو خدا کے وجود پہ دلیل دیں گے۔ اوراگرآپ ہر دفعہ قلابازی کھاتے ہوئے۔ کبھی خدا کے وجود پہ دلیل دیں گے اور کبھی خدا کے عدم وجود پہ ۔ کبھی مادے اورعقل کو خدا بیان کریں گے ۔ اور کبھی  کسی کمپیوٹر یا سرچ انجن کا کلمہ پڑھنے لگیں ۔ تو آپ کا مقصد سنجیدہ بحث نہیں بلکہ اپنی دانست میں خدا پہ یقین رکھنے والوں کا  استہزاء اڑانا ہے۔ اپنی نام نہاد علمیت کی دوسروں پہ دھاک بٹھانے کی بچگانہ خواہش ہے۔ اپنے نفس کی تسکین مقصود ہے۔ واہ واہ کے ڈونگروں سے غرض ہے۔ ایک جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔اسے آپکے فہم و فراست پہ نہیں بلکہ آپکی کم علمی اورغیر سنجیدگی پہ محمول کیا جائے گا۔اور خدا الگ سے ناراض ہوگا۔

اسلئیے یہ طریقہ درست نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ والسلام کے موضوع پہ بات ہو رہی ہو تو اگلی جست میں خدا کے وجود پہ قلابازی کھا گئے۔  خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی بات شروع ہوئی تو کسی سرچ انجن کا کلمہ پڑھنا شروع ہوگئے۔ اب پھر قلابازی کھائی اور اسے ایک جوک  قرار دیتے ہوئے۔ قرآن کریم پہ چڑھائی کر دی۔ نہ کسی اصول کو بنیاد بنایا نہ کسی زمین پہ اتفاق کرتے ہوئے بحث کو اگے بڑہایا۔

یہ محض کم علمی اور حد سے بڑھے ہوئے اور کم عقلی کی حدوں کو چھوتا عالم فاضل ہونے کا گھمنڈ ہے۔ جس کا علم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ  جو صاحب علم ہوتے ہیں وہ نہائت منکسر المزاج ہوجاتے ہیں۔ وہ بہترجانتے ہیں کہ ایمان کا معاملہ عقل سے نہیں  دل سے ہوتا ہے اوراسے محض عقلی استدلال سے نہ سوچا اور سمجھا جاسکتا ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ اتنی  بنیادی سی بات جاننے کے لئیے فلسفے میں ماہرہونا ضروری نہیں۔ اتنے چھوٹے سے نکتے کو ایک چار جماعت پاس گلی محلے کا ایک عام ساانسان بھی جانتا ہے۔

 

Tags: , , , , , , , , , ,

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.